پیر, نومبر 21, 2011

ہر طرف اک تماشا ہے کھیل جاری ہے



ہر طرف اک تماشا ہے    کھیل جاری ہے
میدان سجا ہے جنگوں کا   کھیل جاری ہے

سروں کی فصل کاٹ کر    ظالم یہ کہتا ہے
قیام امن کا ارادہ ہے        کھیل جاری ہے

بارود کے ڈھیر برسا کر    رہے وہ پاک دامن
حقوق انساں کا پھر نعرہ ہے     کھیل جاری ہے

ہنستے بستے شہروں کو بنا دیا جنہوں نے کھنڈر
تعمیر کا انہیں ہی دعوی ہے       کھیل جاری ہے

ہر ستم کی حد      اب اس دنیا نے تمام کر دی
تہذیب پر بھی انکا گزارہ ہے  کھیل جاری ہے

یہ  گرم   گرم   سرخ لہو     چلا کے کہتا ہے
تمہارا مظلوم نے کیا بگاڑا ہے کھیل جاری ہے

تم    بےگناہوں    کا ذرا    کچھ  قصور بھی    بتا دو
نہ دلیل پراثر   نہ آہ میں شرارہ ہے   کھیل جاری ہے

یہ رات لمبی سہی     اک دن  اختتام پذیر ہوگی
بس قدرت کا ایک ہی اشارہ ہے  کھیل جاری ہے

خورشید ابھی جاگا تو نہیں کہ     دھند چھٹ جائے
کچھ سحر کا لیکن نظارہ ہے     کھیل جاری ہے

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔