سوموار، 29 اپریل، 2013

نظام خلافت کے متعلق چند غلط فہمیاں

 ہمارے ملک کے سیاستدانوں نے ان ساٹھ سالوں میں   قوم کو جس بری طرح سے  مایوس کیا ہے اس کے بعد ہر شخص تبدیلی  کی آواز لگا رہا ہے ، کچھ  لوگ اس الیکشن میں  تحریک انصاف سے امید لگا ئے  بیٹھے ہیں کہ یہ جماعت آزمائی نہیں گئی  شاید یہ  کچھ بہتر کرجائے ، بہت سے حساس  لوگ اس نظام کو ہی برائی کی جڑ سمجھتے ہوئے  سیاسی نظام کی تبدیلی  کو ضروری  قرار دے رہے ہیں ، بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے سروے میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ پاکستانیوں کی اکثریت اسلامی نظام   چاہتی ہے  اور عوامی جگہوں پر بھی  جہاں جہاں  جمہوریت کے مقابلہ میں خلافت  پر بات چیت ہوتی ہے  لوگ   اسلام کے سیاسی نظام کی  تعریف کرتے اوراسلامی تاریخ سے مثالیں  دیتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ   عوام کے سامنے   آج تک خلافت  کے متعلق گہرائی میں بات نہیں کی گئی ،  اس وجہ سے بہت سے لوگوں خلافت کے نظام، ،  سٹرکچر، طریق سے ناواقف ہیں اور عام طور پر نظام خلافت اور نظام جمہوریت  میں فرق صرف  دونوں کے ثمرات  کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے اس کے علاوہ   ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں اسلامی جمہوریت کا جو تصور پیش کیا گیا ہے   اس کی وجہ سے بہت سے لوگ    جمہوریت اور خلافت کو مکس کرجاتے اور اک ہی  نظام سمجھنے لگتے ہیں، (حالانکہ اسلامی جمہوریت کا تصور  پیش کرنے والوں نے بھی  اسکو بالکل خلافت کے قائم مقام قرار نہیں دیا بلکہ انہوں نے  جمہوریت  کی چند شقوں میں تبدیلی ،    تاویل یا تشریخ اسلامی انداز میں کرتے  ہوئے مجبوری  اور چند حکمتوں  کے تحت اس نظام  کو قبول کیا ہے۔ وہ بھی اپنا اصل ہدف خلافتی نظام کو ہی سمجھتے ہیں)۔ چنانچہ  انٹرنیٹ فورمز، بلاگز، سائیٹس پر جہاں جہاں خلافت اور جمہوریت کی بحث ہورہی ہے، وہاں سیکولراور  لبرل طبقہ تو   اپنے مخصوص مقاصد کی وجہ سے  ان کو ایک  قرار دیتا نظر آتا ہے،عام لوگ بھی   کوئی واضح فرق بیان کرنے سے قاصر ہیں اور خلافت اور جمہوریت کے صرف ظاہر کو سامنے رکھ کر دونوں کو ناصرف   ایک ہی نظام  کہا جارہا ہے بلکہ جمہوریت کو بالکل جائز بھی  قرار دیا جارہا ہے۔ہمارے ایک  پیارے دوست اورمخلص  بلاگر محترم ایم  بلال محمود صاحب نے چند دن پہلے اسی انداز میں  ایک تحریر خلافت اور جمہوریت – ایک تصویر کے دو رخ ؟“ اپنے بلاگ پر پوسٹ کی ، میں   صرف  مسئلہ کی وضاحت کی غرض سےان   کی تحریر سے اقتباس پیش       کرتے ہوئے  چند  باتیں عرض کروں گا۔

جب کسی کو خلافت کے حق میں، جمہوریت کی مخالفت کرتے ہوئے اور اسی طرح جمہوریت کے حق میں، خلافت کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو حیرانی ہوتی ہے۔ حیرانی اس لئے ہوتی ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ دونوں (خلافت اور جمہوریت) ایک دوسرے سے ملتے جلتے طرزِ حکومت ہیں اور دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ اگر کہیں فرق ہے تو دونوں کے ناموں میں، دونوں کے حامیوں کی ایک دوسرے کی مخالفت میں اور اپنی اپنی عینک لگا کر دونوں نظاموں کو دیکھنے والوں کی سوچ میں۔۔۔۔تھوڑا سا غور کیجئے کہ جمہوریت میں صدر یا وزیراعظم یا دونوں ہوتے ہیں۔ جنہیں پارلیمنٹ یا قومی اسمبلی کے نمائندگان منتخب کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح خلافت میں خلیفہ ہوتا ہے، جس کو مجلس شوریٰ منتخب کرتی ہے۔ غور کریں! یہاں تک فرق صرف اپنے اپنے رکھے ہوئے ناموں کا ہے۔ کوئی اسے قومی اسمبلی کہتا ہے تو کوئی مجلس شوری کہتا ہے جبکہ صدر، وزیراعظم یا خلیفہ کو چند ”بڑے لوگوں“ کا ایک گروہ ہی منتخب کرتا ہے۔

 اس بات سےقطع نظر کہ جمہوریت کی اصطلاح کے پیچھے جو  پوری تاریخ   ہے وہ خلافت کی اصطلاح والی سے  بالکل مختلف ہے  اور  جب  بیک  گراؤنڈ مختلف   ہوں  تو  معنی خود بخود مختلف ہوتے ہیں' اگر صرف ظاہر کو ہی دیکھ کر فیصلہ کیا جائے تو  مجلس شوری اور  پارلیمنٹ میں واقعی  کوئی فرق نظر نہیں آتا، لیکن اگر   تھوڑا سا غور کیا جائے  تو دونوں  کے راستے جدا ہوتے نظر آتے  ہیں  ،  مثلا دونوں کے اراکین کے انتخاب کے طریقہ کار میں ایک بہت بڑا فرق پایا جاتا  ہے ، ایک کے اراکین       کے انتخاب کا معیار امیدوار کا تقوی،  دیانت داری اور سمجھ و حکمت ہوتی ہے اورانکو        ایک  شفاف طریقہ سے صاحب الرائے اور  عقل مند لوگ  منتخب کرتے ہیں جبکہ  دوسرے کے انتخاب  میں ایسی کوئی شرط موجود  نہیں لازمی نہیں ہوتی ، کوئی بھی چور ، ڈاکو  پیسےاور برادری  کی بنیاد پر اکثریتی ووٹ لے کر  اسمبلی میں آسکتا ہے۔ پھر  خودبخود یہی فرق خلیفہ اور صدر، وزیراعظم  کے انتخاب   اور ان کے اختیارات میں بھی   آجاتا ہے، جمہوریت میں رائے دینے کے اس  نام نہاد عوامی حق   کو   نظام کے اوپر اتنا سوار کرلیا  گیا ہے کہ  خود اسلامی جمہوریہ پاکستان کی  پارلیمنٹ میں جو  قانون منظور ہوتا ہے اس میں بھی  یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس سے ملک  اور اسلام کو کتنا فاعدہ  ہوگا بلکہ معیار  صرف اور صرف اکثریت ہوتی ہے ، یہاں  اسلام کی بات کو  بھی  انسان کی منظوری ملنے کے بعدہی مانا جاتا ہے ، جو واضح  اللہ کی اطاعت  نہیں بلکہ انسان کی اطاعت ہے  یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ جمہوریت کو کفر وشرک کہتے  نظر آتے ،  وجہ یہی اختیارات ہوتے  ہیں ۔۔    ایسے نظام کا اسلام میں کیا حکم ہونا چاہیے، یہ کوئی دقیق اور پیچیدہ سوال نہیں رہ جاتا۔واپس موضوع کی طرف آتے ہیں   ان اسمبلیوں میں  قانون منظور کرنے کی بنیادی شرط چونکہ صرف اکثریت ہوتی ہے اس لیے  کوئی بھی اس اکثریت کی بنیاد پر کچھ بھی منظور کروا سکتا ہے اور یہ ہوا بھی ہے کہ  ان  مسلمانوں کی اسمبلیوں سے ہی زنا بالرضا ، کچھ طبقوں کے لیے شراب کی  حلت اور چوروں، ڈاکوؤں،لٹیروں، قاتلوں کو چھوٹ دینے کے  قانون بھی  منظور ہوئے ہیں ۔ چونکہ معیار اکثریت ہے اس لیے  ضروری  اکثریت کو حاصل کرنے کے لیے بعض اوقات   اراکین کی بولیاں لگتی ہیں،  کروڑوں روپے لگا کر امیدواروں کو خریدا جاتا ہے،  ایک دوسرے کو  بلیک میل کیا جاتا ہے اور بعض اوقات انتشار اور لڑائی جھگڑے کی  ایسی  صورتحال پیدا ہوجاتی ہے کہ عوام کے یہ  معتبر نمائندے ایک دوسرے کو جوتے ، کرسیاں مارتے اور گالیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ ۔  جبکہ خلافتی نظام میں ایسا کچھ نہیں ہے، یہاں قانون کی منظوری کا معیار  اسلامی، ملکی اور عوامی  مفاد  ہوتا ہے،  پرامن ماحول میں چند بندے  کسی مسجد یا کمرے میں بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں، ہر رکن  اپنی رائے اور دلیل دیتا ہے پھر جو  رائے خلیفہ کو  ذیادہ بہتراور فائدہ مند لگتی ہے اس کو  وہ منظور کرلیتا ہے اور اسکو  نافد کرلیا جاتا ہے، کوئی لمبے چوڑےپرتکلف اجلاس، تقاریر ،  لڑائیاں،جھگڑے  نہیں ہوتے اور نہ فیصلوں میں بلاوجہ کی تاخیر ہوتی ہے۔

جمہوریت والے کہتے ہیں قومی اسمبلی کے نمائندے عوام منتخب کرتے ہیں جبکہ خلافت والے کہتے ہیں کہ مجلس شوری پرہیزگار، اچھے، ایماندار، معزز اور صاحب رائے وغیرہ لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہاں قومی اسمبلی والا کھاتا تو صاف ہوا کہ انہیں عوام منتخب کرتے ہیں، مگر مجلس شوری والے معتبر اور صاحب رائے لوگوں کے معاملے پر شاید کچھ لوگ غور نہیں کرتے کہ یہ ”معتبر“ کی وضاحت کون کرے گا اور یہ کیسے منتخب ہوں گے۔ ۔۔۔ اب ایسا تو نہیں ہو سکتا ہے کہ لوگ گواہی دیں کہ زید برا انسان ہے مگر زید خود کہے کہ میں اچھا ہوں تو اسے معتبر مان لیا جائے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ لوگ جس کو اپنا معتبر بنائیں وہی اس معاشرے میں معتبر ہو گا۔ یوں ایک طرف قومی اسمبلی عوام منتخب کرتے ہیں تو دوسری طرف میرے خیال مجلس شوری بھی عوام ہی منتخب کریں گے۔ بس پرانے زمانے میں زبانی زبانی کسی کے معزز ہونے کا اعتراف ہو جاتا تھا یعنی کسی کی اچھائی کے بارے میں عوام میں ایک رائے قائم ہو جاتی تھی اور وہ بندہ معزز قرار پاتا تھا جبکہ آج حالات ایسے ہیں کہ عوام میں کسی کی اچھائی کی صرف مشہوری سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لئے تحریری رائے درکار ہے۔ لہٰذا پرانا طریقہ کارآمد نہیں رہا تو تحریری ووٹ کے ذریعے کسی کی اچھائی/معتبری کی گواہی لی جاتی ہے۔ یہ تو عوام پر ہے کہ وہ چور ڈاکو کو معتبر بناتی ہے یا اچھے لوگوں کو۔ آسان الفاظ میں یہ کہ کوئی خود سے معتبر نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کی رائے (ووٹ) سے ہی کوئی معتبر بنتا ہے۔ جو بھی ہو لیکن عوام کی رائے سے ہی سب کچھ ہو گا۔ لوگوں کی رائے سے منتخب ہونے والے کو معتبر کہو یا عوام کا نمائندہ، معتبر لوگوں کی مجلس شوری بناؤ یا نمائندوں کی قومی اسمبلی، مجلس شوری خلیفہ منتخب کرے یا قومی اسمبلی وزیر اعظم، بات ایک ہی ہے بس ہر کسی نے اپنا اپنا نام دے رکھا ہے۔

خلافت راشدہ کے دور میں مجلس شوری کے اراکین کے لیے سابقون الاولون اور دوسرے جید اصحاب رسول موجود ہوتے   تھے، آج کے دور میں بھی معزز اور معتبر لوگوں کو ڈھونڈنا انکا انتخاب کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہے، یہ بات ماننی چاہئے کہ معزز اور صاحب رائے لوگ لاکھوں کی آبادی میں کم از کم  سینکڑوں  کی تعداد میں ضرور موجودہوتے ہیں ، جنکی  شرافت ، امانت، صداقت ، کردار کی اس علاقہ کے لوگ گواہی دیتے ہیں اور ان کا  کردار ملک و ملت کے لیے واقعی قابل تعریف ہوتا  ہے ان  کے بارے میں عام طور پر ایک اچھی رائے پائی جاتی ہے ،  وہ علمائے کرام،نیک اور  اچھی شہرت کے حامل سیاست دان ، صحافی ، جرنیل ، ڈاکٹر، انجنئیر ، تاجر اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ لوگ بھی  ہو سکتے ہیں، ان کے  لیے چند شرائط رکھی جاتی ہیں اور اگرانکے متعلق عوام سے رائے  لینے کی ضرورت پڑے تو رائے دینے والی عوام   کے لیے بھی یہی شرائط ہوتی ہیں۔مثلا اگر بہت سے غیر معزز اور بے عقل  لوگوں  نے ایک شخص کو مشورے سے معزز قرار دے  دیا تو دین کی شرط کے مطابق وہ معزز نہیں ٹھہرا۔ ۔ دوسری  بات   ہمارے  موجودہ نظام میں  سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عموما  عوام کے سامنے متبادل موجود نہیں ہوتا انہیں دو، تین کرپٹ  امیدوارں میں سے سب سے کم کرپٹ آدمی  کو منتخب کرنا ہوتا ہے، ان میں سے بھی  انکے انتخاب کا معیار وہ  بندہ ٹھہرتا ہے   جو صحیح معنوں میں معتبر، پرہیزگار یا تقوی والا نہیں ہوتا  بلکہ وہ جو انہیں انکی  گلیاں پکی کروا دے،  سڑکیں بنوا دے ، انکے علاقے میں ٹیوب ویل لگادے ۔ ۔ ۔اب جب یہ انتخاب کا معیار ہوگا تو یہ  لوگ منتخب ہوکر جب  اسمبلی میں جائیں گے تو عوام کی کیا خدمت کریں گے ،   اسلام کے مطابق  کیسے قوانین بنا سکیں گے؟  حال یہ ہے کہ  اسمبلی کے بہت سےسابقہ منتخب اراکین کے نزدیک قرآن کے چالیس سپارے بھی تھے  اور بہت سو ں کو خود  بسم اللہ تک  نہیں آتی تھی۔ ۔ پھر عوام یہ شکوہ کرتی ہے کہ سارے جاگیردار اور نا اہل قسم کے لوگ اسمبلیوں میں بھرے ہوئے ہیں، سادہ سی بات ہے آپ    کے انتخابی نظام میں اگر معیار قابلیت   ہوتا تو  کسی     اہل اور مدبر  آدمی کے مقابلے میں ایک جاہل آدمی محض جہلاء کے ووٹوں کی کثرت کی بنیاد پر اسمبلی میں نہ جاسکتا،  اچھے لوگوں کے انتخاب میں دوسرا بڑا مسئلہ جمہوریت کا یہ پہلو  بھی ہے کہ  یہ  سب سے ذیادہ مناسبت سرمایہ داروں  سے ہی رکھتی  ہےاور یہ ان لوگوں کے لیے سونے کی  چڑیا کی مانند ہے،ہمارے ملک کے ساتھ شروع میں  ٹریجڈی  یہ ہوئی  کہ  جو لوگ اس کے ساتھ مخلص تھے  یا جن لوگوں نے اسے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا وہ  اس کے بننے کے دو تین سالوں کے اندر ہی  دنیا سے چلے گئے اور اقتدار کا پکا پکایا پھل  حکومت کے ساتھ جڑے ہوئے ان  جاگیرداروں،  انگریز پرست،عیاش اور  سیکولر  لوگوں کی گود میں جاگرا، ان  لوگوں نےبہت مجبور ہوکراور محض خانہ پری کے لئے  آئین میں چند شقیں تو  خلافتی نظام والی  ضرور شامل کروا دیں لیکن انکے مطابق نہ  یہاں کوئی قانون بننے دیا  اور نا     پہلے دن سےیہاں کے  سیاسی نظام کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب ہونے دیا،وجہ یہی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ  ایسے نظام کے   پاکستان میں نافد ہونے میں انکی  موت ہے    کیونکہ خلافتی نظام میں تو انتخاب کا  معیار صرف اخلاص، تقوی اور قابلیت ہے،  ایسے نظام کی موجودگی میں تو  ان بدمعاشوں،  شرابیوں ،  زانیوں کو  کوئی ملکی  عہدہ دینے کے بجائے  انکی چھترول کی جاتی۔جمہوری نظام کی بقاء  ابھی بھی  ان لوگوں کی  زندگی موت کا مسئلہ  ہے ، یہ  اس کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں گے۔ مزید جمہوری انتخابی عمل  بذات خود ایک مشینی عمل ہے اور اس میں زر کے استعمال کے ذریعے لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہونے کے بے شمار مواقع ہیں لہذا اس عمل کے ذریعے صرف سرمایہ دار ہی آگے آتے ہیں یا وہی لوگ جو اکثریت کی رائے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کیوں نیک دینی علماء الیکشن نہیں جیت پاتے؟؟وجہ یہی  ہے کہ  کوئی دماغ موجود نہیں ہوتا جو فیصلہ کرے کہ اقتدار کس کے حوالے کیا جانا چاہئے ۔۔!!
ہے یہ جمہوریت، پھر عجب کیا  اگر
اکثریت ہی کہہ دے کہ شر چاہیے
 جہاں تک دوسری بات'صرف  مشہوری ہی سب کچھ نہیں ہوتی' کا تعلق ہے ،  یہ بات اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ نئے امیدوار کے لیے واقعی  صرف مشہوری  سب کچھ نہیں، لیکن پرانا آدمی دھوکہ، فراڈ ، دھاندلی، فریق مخالف پر جھوٹے الزامات، خلاف حقیقت پراپیگنڈہ، ووٹروں سے جھوٹے وعدے کرکے، اپنی کارناموں کی مبالغہ آرائی کیساتھ تشہیر کروا   کے ہی معتبر  بنتا ہے،  یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ یہ امیدوار جو الیکشن کمپین میں کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں وہ کس پر خرچ ہوتے ہیں  اور جو اسمبلیوں میں نامی گرامی  حرامی اور بدمعاش جا بیٹھتے ہیں وہ کس اہلیت کی بنیاد پر منتخب ہو کر اسمبلیوں میں  جاتے ہیں  ۔ ۔ دوسری طرف خلافتی نظام میں امیدوار کا تشہیری مہم چلانا اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنا تو دور کی بات کوئی  معزز سے معزز آدمی اپنے آپ کو کسی عہدہ کے لیے  امیدوارتک  نہیں  شو کرسکتا ۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت نظریاتی طور پر ہی کامیاب لگتی ہے عملی طور پر اسکے نتائج ہمیشہ خوفناک رہے ہیں،  جہاں کامیاب نظر آتی ہے وہاں تحقیق  کرنے پر  اس جمہوریت پر ایک زبردست آمرانہ گرفت آپ ڈھونڈ لیں گے،  انکے پیچھے  چند ہاتھ ہیں  جو میڈیا اور دیگر ذرائع سے ان جمہوریتوں کنٹرول کرتے ہیں اور دنیا میں انکی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، وہ لوگ آزاد جمہوریت کے نقصانات سے واقف ہیں کہ یہ کس طرح  انتشار پیدا کرسکتی اور ملک کو نقصان پہنچا سکتی ہے اس لیے  حقیقت میں وہاں آزاد  جمہوریت نہیں ہے بلکہ  صرف جمہوری ڈراما ہوتا ہےجیسے امریکہ کے اکثر فیصلے امریکہ کے عوام نہیں امریکی سی آئی اے، پینٹاگون،  راک فیلر جیسے خاندان ،   کونسل آف  فارن ریلیشن ، ملٹی نیشنلز اور امریکہ کے ذرائع ابلاغ کرتے ہیں۔ ۔ یہ الگ بات ہے کہ میڈیا کی بھرپور سپورٹ کے ساتھ ان کے فیصلوں کو کسی نہ کسی حوالے سے عوام کے فیصلے قرار دے دیا جاتا ہے۔ اقبال نے اس بات کو اپنے ایک شعر میں بیان کیا ہے۔ 
ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردے میں غیراز نوائے قیصری
  چلیں  اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے  کہ انكا جمہوری نظام بھی  پاکستان جیسا آزاد ہے تو  ہمیں دونوں کے  اراکین اسمبلی کو منتخب کرنے والے لوگوں کا بھی موازنہ کرنا  ہوگا  ، لوگ  کتنے تعلیم یافتہ اور میچور  ہیں اور  فہم رکھنے والے ہیں، دونوں کی عوام کی تہذیب و تعلیم  کا لیول کیا ہے ۔۔ ؟؟ اب  ایک ایسے ملک میں جہاں  لٹریسی ریٹ بیس بائیس فیصد ہو وہاں جمہوریت جیسا  ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے  رائے لینے والا نظام کیسے فاعدہ  مند ثابت ہوسکتا ہے ؟ !!۔

کہتے ہیں کہ خلافت میں اسلامی قانون رائج ہوتا ہے اور خلیفہ اللہ کو جواب دہ ہوتا ہے۔ جبکہ جمہوریت میں عوام کی اکثریت کی مرضی کا قانون رائج ہوتا ہے اور صدر یا وزیراعظم عوام کو جوابدہ ہوتا ہے۔ میں یہ بات تو تفصیل سے کر چکا ہوں کہ خلافت ایک جمہوری طریقہ ہے۔ اب اس قانون کی بات یوں سمجھیں کہ جب عوام مسلمان ہو گی تو ظاہر ہے کہ وہ اسلامی قانون رائج کرنے کے حق میں ہو گی تو ایسے بندے کو منتخب کرے گی جو اسلامی قانون رائج کرے گا، بالکل اسی طرح اگر عوام اسلامی قانون کے حق میں نہیں ہو گی تو اسلامی قانون رائج نہیں ہو گا بلکہ جو عوام کہے گی وہی قانون ہو گا۔ رہی بات اللہ یا عوام کو جوابدہ کی تو ایک اچھا مسلمان ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ ساتھ اللہ کو بھی جوابدہ ہے۔ اب کئی لوگوں کو عوام کو جوابدہ ہونے پر اعتراض ہو گا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ والا وہ واقعہ یاد کریں جس میں ایک بندے نے خلیفہ وقت سے فقط اک کپڑے کے ٹکڑے کا جواب مانگ لیا تھا۔ آسان الفاظ میں یہ کہ طریقہ جمہوری ہی ہو گا۔ اب ملک مسلمانوں کا ہوا تو خودبخود اسلامی قانون رائج ہو جائے گا اور اگر غیرمسلموں کا ہے تو وہ اپنی مرضی کا قانون رائج کر لیں گے۔ اگر حکمران (خلیفہ یا صدر وغیرہ) مسلمان ہو گا تو وہ اللہ کو جوابدہ ہو گا اور اگر حکمران غیر مسلم ہوا تو اس کی مرضی۔

مسئلہ چونکہ ایک ایسے ملک کا ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے  اور اس کے نظام و نسق کا ہے، ایک قوم  کی خوشحالی اور ترقی کا ہے ،  اس لیے اس انتظار میں بیٹھے رہنا کہ سوفیصد عوام  بالکل دیانتدار اور مومن اور تعلیم یافتہ ہوجائیں پھر خود ہی اچھے لوگ اسمبلیوں میں منتخب ہوکر آجائیں گے  ایک بے وقوفی ہوگی ، یہ نظام ہی ایسا ہے ۔۔  جیسے کار لائل نے کہا تھا:
” جمہوریت احمقوں کا قانون ہے’ یہاں ہر عقل مند آدمی کے مقابلے میں نو بے وقوف ہیں “۔
جب ہمارا مقصد اصلاح ہے تو اس اصلاح کے لیے اتنے اہم مسئلہ  میں ہر جاہل، بے وقوف اور نااہل بندے سے  رائے لینا  اور پھر اکثریت کی بنیاد پر نمائندگان کو منتخب کرنا ضروری نہیں، جمہوریت نظام معیار Quality کو نہیں بلکہ  مقدارQuantity   كو دیکھتاہے  جبکہ کسی کے معتبر ہونے کے لیے رائے دینے والوں  کی   مقدار کے بجائےرائے کا  معیار  اہم ہوتا ہے۔ اگر  آپ اس قدر اہم قوم معاملات میں    علم و عقل والوں کے ساتھ  ہر جاہل، بیوقوف اور شرابی کو  رائے دینے کا   برابر حق دے رہےہیں، تو کم از کم اس  زمانہ جس میں شر خیر پر غالب ہے ' قیامت تک  معقول ، مخلص اور دیانتدار لوگوں  کو اکثریت نہیں مل سکتی  اور یہ بات تجربہ میں بھی ہے مثلا علامہ اقبال جنکی نیکی شرافت اور دانائی کی ایک دنیا معترف تھی 1937 کے الیکشن میں اپنی سیٹ ہار گئے تھے ۔ ۔  ایک  الیکشن میں  معراج خالد اور ایک اور صاحب کے درمیان مقابلہ ہوا۔ معراج خالد صاحب اتنے شریف اور ایماندار تھے کہ مخالف کے پاس بھی  انکے خلاف کہنے کے لیے کچھ نہیں  تھا چنانچہ مخالف نے یہ کہا  کہ "  معراج صاحب اتنے شریف ہیں کہ اتنے عرصہ اختیار ہاتھ میں ہونے کے باوجود اپنے لیے کچھ نہ کر سکے آپ کے لیے کیا کر لیں گے؟  " معراج خالد صاحب بھی  الیکشن ہار گئے، موجودہ الیکشن میں  ڈاکٹر عبدالقدیر  جنکی حب الوطنی کی پوری قوم گواہی دیتی ہے اور سارا پاکستان انکا احسان مند ہے کے متعلق بھی غالب گمان یہی ہے کہ وہ اپنی سیٹ بھی نہیں جیت پائیں گے!!! یہ تو عام تجربہ کی باتیں ہیں ، قرآن بھی  بتلاتا ہے  کہ :
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ (سورہٴ انعام)
ترجمہ:”اور اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ "۔
یہ طریقہ انتخاب  خود امیدوار کو بھی منافق اور دوغلا  بنا دیتا ہے ،  وہ سیٹ   جیتنے کی اس دور میں  عوام کا دل جیتنے کے لیے    ضرورت پڑنے پر انتہائی غلط طریقہ بھی اختیار کرجاتا ہے، جیسے آج بھی   کئی سیاستدان محض ووٹ کے چکر میں قادیانیوں کے ساتھ  ہمدردی جتاتے نظر آتے ہیں   اس کے علاوہ کئی  جگہ امیدواروں نے   عیاش  لوگوں کا ووٹ لینے کے لیے ان کے ہاں زنا اور شراب کی محفلیں  بھی کروائیں، ہمارے   ایک قریبی  علاقے میں ایک بڑی برادری کا ووٹ لینے کے لیے انکے  ایک قاتل کو رہائی دلوائی گئی، ایک بستی کے متعلق سنا وہاں  ووٹ کے بدلے فی  کس ہزار روپیہ دیا گیا، اب یہاں چند دیندار لوگ  ایک  غریب لیکن مخلص ، تعلیم یافتہ اور متقی آدمی کو کیسے منتخب کروا سکتے ہیں۔ ؟  اور ایک شریف  آدمی جس کا تعلق سرمایہ دار طبقہ سے نہ ہو  ،   اسکے گھر کا نان نفقہ ہی مشکل سے پورا ہوتا ہو ا وہ انتخابات میں کیسے حصہ لے سکتا ہے؟؟ یہی حال آگے جاکر پھر صدر وزیراعظم کے انتخاب کا بھی ہوتا ہے کہ محض اکثریت کی بنیاد پرزرداری جیسے کرپٹ اور  راجہ رینٹل جیسے کمینے لوگ بھی صدر وزیراعظم بن جاتے ہیں۔
یہ کچھ باتیں میرے ذہن میں تھیں جو میں نے عرض کیں اگلی تحریر میں انشاء اللہ" عصر حاضر میں  خلافتی نظام کیسے" کے موضوع پر  کچھ عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔

13 comments:

گمنام نے لکھا ہے کہ

بھرپور تبصرہ ـــــــــــ اگلی قسط کا انتظار

گمنام نے لکھا ہے کہ

سوری نام لکھنا بھول گیا

سعید

سید آصف جلال نے لکھا ہے کہ

خلافت اور جمہوریت ۔۔ ایک تصویر کے دو رخ۔ ہمارے محترم بلاگ نگار نے اپنے خیالات کو اپنی دانست کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ قطع نظر اس کے مذکورہ مشاہدات حقائق سے متصادم تھے اور ایک ذاتی ’’اجتہاد‘‘ پر مبنی تھے۔اس نوع کی ابہامات کو رفع کرنا صاحب علم و دانست کی ذمہ داری ہے، اس ذمہ داری کا احساس سعد صاحب نے خوب کیا۔ پورا مضمون پڑھا، حقائق کو بہت عدمگی سے زیر قلم لایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔ باہمی اصلاح کا یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیے۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

Very nice behtreen tehrer dalail k sath.Allah kary zor-e-qalam aur ziada
M.Awais

ڈاکٹر جواد احمد خان نے لکھا ہے کہ

بہت عمدہ۔۔۔ جزاک اللہ خیر

م بلال م نے لکھا ہے کہ

ویسے آپس کی بات ہے کہ اگر آپ کے معیار پر چلیں تو پھر آپ نے معاشرے کے جن معزز افراد کی فہرست گنوائی ہے وہ بھی شوریٰ کے اہل نہیں ہو سکتے۔ مثلاً ڈاکٹر اچھا علاج تو کر سکتا ہے مگر لازمی نہیں کہ نظامِ سلطنت چلانے کا ماہر ہو۔ اسی طرح باقی شعبہ جات کے لوگ بھی اپنے اپنے شعبے کے ماہر تو ہو سکتے ہیں مگر لازمی نہیں کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں قانون سازی کر سکیں۔ لہٰذا یہ ”اہلِ رائے“ نہیں ہو سکتے کیونکہ اہل رائے تو وہی ہو گا جو اس معاملے کا ”ماسٹر“ ہو گا۔ اس لئے کوئی اور طریقہ دریافت کریں۔ ویسے آپ نے جو طریقہ بیان کیا ہے وہ تو چند شرائط کے ساتھ عین جمہوری طریقہ ہے اور اسی کو ہی ”اسلامی جمہوریت“ کہا جاتا ہے۔
خیر بھائی جان ہم اتنے میں ہی خوش ہیں کہ چلو کسی بہانے سہی مگر لوگ اتفاق رائے پر تو آئے ورنہ یہاں تو لوگ بزورِ تلوار اسلام نافذ کرنے کو ہی عین اسلام سمجھتے ہیں۔
آپ کی باتیں دل کو لگیں خاص طور پر درج ذیل باتیں جو کمنٹ کے آخر پر پیسٹ کر رہا ہوں کیونکہ یہ باتیں چیخ چیخ کر وہی مدعا بیان کر رہی ہیں جو میں سمجھانا چاہ رہا تھا فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اسے جمہوری طریقہ ماننے کو تیار نہیں جبکہ میں نے اسے دوٹوک جمہوری طریقہ کہا۔ خیر کوئی بات نہیں ہم آپ کی بات مان لیتے ہیں اور اسے جمہوری طریقہ نہیں کہتے مگر اتنے میں ہی خوش ہیں کہ آپ بھی اتفاق رائے کی ہی ایک شکل کو پسند کرتے ہیں۔

”خلافت راشدہ کے دور میں مجلس شوری کے اراکین کے لیے سابقون الاولون اور دوسرے جید اصحاب رسول موجود ہوتے تھے، آج کے دور میں بھی معزز اور معتبر لوگوں کو ڈھونڈنا انکا انتخاب کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہے، یہ بات ماننی چاہئے کہ معزز اور صاحب رائے لوگ لاکھوں کی آبادی میں کم از کم سینکڑوں کی تعداد میں ضرور موجودہوتے ہیں ، جنکی شرافت ، امانت، صداقت ، کردار کی اس علاقہ کے لوگ گواہی دیتے ہیں اور ان کا کردار ملک و ملت کے لیے واقعی قابل تعریف ہوتا ہے ان کے بارے میں عام طور پر ایک اچھی رائے پائی جاتی ہے ، وہ علمائے کرام،نیک اور اچھی شہرت کے حامل سیاست دان ، صحافی ، جرنیل ، ڈاکٹر، انجنئیر ، تاجر اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں، ان کے لیے چند شرائط رکھی جاتی ہیں اور اگرانکے متعلق عوام سے رائے لینے کی ضرورت پڑے تو رائے دینے والی عوام کے لیے بھی یہی شرائط ہوتی ہیں۔مثلا اگر بہت سے غیر معزز اور بے عقل لوگوں نے ایک شخص کو مشورے سے معزز قرار دے دیا تو دین کی شرط کے مطابق وہ معزز نہیں ٹھہرا۔“

ایک نظر ادھر بھی ہو جائے۔
http://www.mbilalm.com/blog/please-tell-us-what-we-do/

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

سعید ، آصف جلال، اویس اور جواد بھائی آپ سب کا تحریر پڑھنے اور حوصلہ افزائی کرنے کا شکریہ۔
بلال بھائی میں پہلے سے جانتا تھا کہ آپ نے یہ سوال اٹھانا ہے لیکن اگر میں اس متعلق بھی اسی تحریر میں ہی بات کرتا تو پھر یہ تحریر کوئی نہ پڑھتا، بات بہت لمبی ہوجاتی اس لیے آخر میں لکھ دیا کہ اگلی قسط میں اس پر بات کروں گا۔۔ ۔ جمہوریت و خلافت کی لغت، اصطلاح اور پس منظر میں جو فرق موجود ہے اس پر بھی ریفرینسیز کے ساتھ بہت لمبی بحث کی جاسکتی تھی لیکن وہ بھی ذیادہ ہی علمی ہوجاتی اور اس طرح کی علمی ابحاث سے بھی عوام بھاگتی ہے اس لیےمیں نے چند بنیادی پوائنٹس پر مثالوں سے بات کردی ، باقی جو بات آپ نے اصحاب الرائے کے متعلق کی کہ موجودہ زمانے میں ان کو کیسے منتخب کیا جائے گا؟ آپ دراصل اس انتخاب کو خلافت کے لیے جو محنت ہوگی اور تبدیلی آئے گی، اس سے پہلے دیکھ رہے ہیں اس لیے اس دور انتشار میں یہ سب کچھ مشکل لگ رہا ہے، موجودہ دور میں یہ واقعی مشکل ہے، میں اگلی تحریر میں اس پوائنٹ کو کلئیر کرنے کی کوشش کروں گا۔ انشاء اللہ۔ ۔ یہاں تک آپ کی بات پڑھنے سے میں تو سمجھ رہا تھا کہ آپ کو جمہوریت اور خلافت میں فرق سمجھ آگیا ہے اور اب آپ کو صرف نمائندگان کے موجودہ دور میں انتخاب پر اعتراض ہے، لیکن جب آپ کی تحریر پڑھی تو ایسے لگا کہ کچھ بھی سمجھ نہیں آیا، آپ ابھی بھی جمہوریت اور خلافت کو ایک ہی نظام قرار دے رہے ہیں، حالانکہ جو بنیادی فرق ہے اس پر آپ شروع میں خود بھی بات کررہے ہیں۔ آپ نے جو میرا پیرا کوٹ کیا اور اسکو جمہوری طریقہ کہا، مجھے سمجھ نہیں آئی یہ کیسے جمہوری طریقہ ہوگیا، لفظ جمہور اکثریت کو کہتے ہیں اور جمہوریت اصطلاحی طور پر اکثریت سے رائے لینے اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کرنے والے نظام کو کہتے ہے، جبکہ خلافت میں تو صرف مشاورت ہے اور صرف عقل و فہم رکھنے والے چند لوگوں سے ہی رائے لی جاتی ہے، میرے پیراگراف میں بھی اسی پر بات کی گئی ہے۔ معذرت کہ اب آپ اگر صرف اس بنیاد پر کہ خلافت میں بھی رائے لینے کا ذکر ہے خلافت کو جمہوریت قرار دے دیں ' سینس والی بات نہ ہوگی۔۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے پہلے بھی عرض کیا کہ کوئی کہے کہ مرغی بھی دانا کھاتی ہے اور کوا بھی اس لیے کوا بھی مرغی ہے یا سور کی بھی چار ٹانگیں ہیں اور بکرے کی بھی، اس لیے بکرے اور سور میں کوئی فرق نہیں۔ ۔ ۔یہاں دونوں میں جس بنیاد پر فرق کیا گیا ہے اسی بنیاد پر اگر جمہوریت اور خلافت میں فرق کرلیا جائے تو یہ پھر بھی یہ کیسے ایک ہوگئے حالانکہ دونوں کےطریقہ کار اور اثرات میں بھی واضح فرق موجودہے ؟؟ ایک اور بات میرا آپ کی تحریر پر یہ لکھنے کا مقصد اپنے آپ کو عالم اور آپ کو جاہل ثابت کرنا نہیں تھا اور نہ میں نے آپ کو ایسا سمجھ کر یہ لکھا، غلط فہمی اور اختلاف کسی کو بھی ہوسکتا ہے، مجھے خوشی ہے کہ آپ کی وجہ سے خلافت اور جمہوریت پر پہلی دفعہ اتنی گہرائی سے بات ہوئی ہے اور بہت سے پہلو کھلے ہیں ، میں نے بھی کوشش کی ہے کہ نقطہ اعتراض پر ایسے طریقے سے لکھ سکوں کہ انا کا مسئلہ نہ بن پائے ، امید ہے بات چیت آئندہ بھی سیکھنے سکھانے کے انداز میں ہوگی ۔

فراز نے لکھا ہے کہ

ہم دراصل اس قدر احساس کمتری کا شکار ہو چکے ہیں کہ جو چیز مغرب کہہ دے کہ درست ہے تو اسے درست ثابت کرنے کے لیے تاویلیں دینے لگتے ہیں، مغرب نے کہا کہ جمہوریت اچھی چیز ہے تو ہم نے بھی راگ الاپنا شروع کر دیا جمہوریت تو عین اسلام ہے۔ اسلام میں بھی شوریٰ ہے۔۔ حالانکہ اسمبلی اسمبلی ہے اور شوریٰ شوریٰ۔
یہ ایسے ہی ہے کہ اگر مغرب یہ کہہ دے کہ عصمت فروشی (prostitution) اچھی چیز ہے۔ اس سے خواتین کا روزگار لگا ہے، وہ کام کرتی ہیں انھیں پیسے ملتے ہیں۔ اور اس نظریہ کو باقی دنیا قبول کر لے تو ہمارے ہاں چند حضرات یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ اسلام میں بھی عصمت فروشی ہے، ہم اسے نکاح کہتے ہیں، مرد پیسے(مہر) دیتا ہے اور خاتون کی خدمات حاصل کرتا ہے، عصمت فروشی تو عین اسلام ہے۔۔۔ عصمت فروشی اور نکاح کتنے ملتے جلتے ہیں۔ دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ اگر کہیں فرق ہے تو دونوں کے ناموں میں
اگر عصمت فروشی اور نکاح ایک چیز نہی تو اسمبلی اور شوریٰ بھی ایک چیز نہی ہو سکتی۔
------------------------
جمہوریت اور خلافت میں طریقہ انتخاب اور عمل نا صرف یہ کہ مختلف ہے بلکہ ایک دوسرے سے متصادم ہے۔ اس سے ہٹ کر میں نظریاتی بنیادوں پر ایک بات کہنا چاہوں گا۔
جمہوریت کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ لوگوں کی حکمرانی
“ Rule of the people۔
یا
”عوام کی حاکمیت،عوام کے ذریعے،عوام پر"
(Goverment of the poeple by the people,for the people

جبکہ خلافت میں حکمت صرف الله کی ہوتی ہے، اور خلافت کوئی قانون سازی نہی کر سکتی سوائے اس کے کہ جس کی اجازت اسلام نے دی ہے۔ خلافت میں نا تو خلیفہ کو کوئی استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے (یہ ممکن نہی کیونکہ اسلام نے اجازت نہی دی )، نا ہی خلیفہ یا شوریٰ شراب کو جائز قرار دے سکتے ہیں، نا سود ہو حلال قرار دے سکتے ہیں۔ جمہوریت میں ہو سکتا ہے۔ اگر اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے کوئی (بل مثال کے طور پر ہم جنس پرستی کا) پاس ہو جاتا ہے تو وہی قانون ہو گا۔ کیونکہ ان کے پاس حاکمیت ہے۔ جبکہ خلافت میں ایسا نہی ہو سکتا۔۔۔

جمہوریت اور خلافت ملتے جلتے ہیں لیکن الفاظ کے ہیر پھیر سے کتنا فرق پڑھ گیا۔۔
بنیادی طور پر شوریٰ کوئی قانون سازی نہی کر سکتی سوائے اس جگہ کہ جہاں کا کہہ دیا گیا کہ امرھم شوریٰ بینھم۔

یہ چھوٹا سا نظریاتی فرق ہے، اتنا ہی چھوٹا جتنا نکاح اور عصمت فروشی میں ہے۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

فراز صاحب آپ نے بہترین تبصرہ کیا ہے ۔ اللہ آپ کو جزا دے۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

ایک وضاحت کردوں کہ اسلام میں انعقادِ خلافت کے چار طریقے ہیں
(۱)بیعت (اہلِ حل و عقد) (۲) استخلاف (۳) شوریٰ (۴) استیلاء
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں کہ : ’’چوتھا طریقہ (انعقاد خلافت کا) استیلاء ہے اس کی صورت یہ ہے کہ جب خلیفہ کی وفات ہوجائے او رکوئی شخص بغیر (اہلِ حل و عقد کے) بیعت کیے ہوئے اور بغیر (سابق خلیفہ کے) استخلاف کے، خلافت کو لے لے اور سب لوگوں کو تالیف قلوب یا جنگ وجبر سے اپنے ساتھ کرلے تو (یہ شخص )خلیفہ ہوجائے گا اور اس کا جو فرمان شریعت کے موافق ہوگا، اس کی بجاآوری سب لوگوں پر لازم ہوگی۔ اور اس چوتھے طریقے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم یہ ہے کہ استیلاء کرنے والا (خلافت کی) شرطوں کو جامع ہو اور بغیر ارتکاب کسی ناجائز امر کے (صرف) صلح اور تدبیر سے مخالفوں کو (مزاحمت سے) باز رکھے۔ یہ قسم عند الضرورت جائز ہے۔
(ازالۃ الخفاء ،جلداوّل ص ۲۴،۲۵)

گمنام نے لکھا ہے کہ

خلافت کوئی شے نہیں ہے ما سوا اس کے کہ مسلمانوں کا کوئی امیر ہو۔ امیر کو خلیفہ کہو یا خلافت کو امارت اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خلافت علیحدہ سے کسی نظام کا نام نہیں ہے۔ اگر خلافت کسی نظام کا نام ہوتا تو اس نظام کے مبادیات ہمیں قرآن و حدیث میں ملتے۔ خلیفہ نائب کو کہتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کے امیر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بنے تو انہیں خلیفۃ الرسول کہا گیا۔ یعنی رسول اللہ کا نائب۔ انکے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ امیر بنے تو انہیں امیر المومنین کہا گیا۔ یعنی مسلمانوں کا امیر۔ ایک لفظ خلیفہ کو لیکر ہم خواہ مخواہ کے من گھڑت نظاموں کی تشکیل میں فلسفے گھاڑنا شروع ہوگئے ہیں جس کی درحقیقت کوئی اصل ہی نہیں۔
زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ دین بحیثیت مسلمان ہم سے اس بات کی متقضی ہے کہ ہم قرآن و سنت کے موافق ایک حکومت تشکیل دیں اور بس۔
خلافت کو کوئی خاص نظام باور کرنے والوں کی یہ بودی باتیں کہ اہل عقد و حل کے مشورے سے جس کا انتخاب ہوگا اس امیر کو خلیفہ کہا جائے گا۔ بزات خود ایک افسانہ ہے۔ اور ایسی بے اصل بات ہے جس کی قرآن و حدیث سے تائید نہیں ہوتی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مفروضہ عقد و حل کا انتخاب کون کریگا جنہوں نے آگے چل کر امیر کو چننا (خلیفہ )ہے؟
از: حقیقت پسند

گمنام نے لکھا ہے کہ

مسلمانوں کے اسٹرٹیجک معاملات میں فیصلہ مسلمانوں کی باہمی مشاورت سے ہوگا یہ ایسا حکم ہے جو قرآن ہمیں بتاتا ہے۔ موجودہ طریق انتحاب جس میں ووٹنگ ہوتی ہے بڑی حد تک اس قرآنی اصول کی پاسداری کرتا ہے۔ اس لئے میرے نزدیک اس طریق انتخاب سے منتخب کوئی امیر جب قرآن و سنت کے قوانین کے مطابق ملکی نظم و نسق چلاتا ہے تو وہ حقیقی معنوں میں شریعت کو مطلوب امیر ہوتا ہے۔
بنیادی باتیں دو سامنے آتی ہیں۔
قرآن و سنت کی پاسداری قائم رکھنے والا امیر ہو۔
امیر کا انتخاب لوگون کی تائید سے ہو۔
اس لئے جہاں یہ دو باتیں پوری ہونگی وہاں آپ اس طرز حکمرانی کو جمہوریت کہو ، خلافت کہو یا کوئی بھی نام دیدو اپنی بنیاد میں وہ اسلامی حکو مت ہوگی۔
از: حقیقت پسند

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

حقیقت پسند صاحب آپ نے فرمایا" موجودہ طریق انتحاب جس میں ووٹنگ ہوتی ہے بڑی حد تک اس قرآنی اصول کی پاسداری کرتا ہے" جناب ہمیں بھی وہ اصول دکھا دیں جس میں ایک شرابی، چور ڈاکو اور عالم کی رائے برابر ہو۔!!! کیا اسلام نے ہر شخص کو اتنے حساس معاملے رائے کا برابر حق دیا ہے ؟ دوسری بات اسمبلی کے منتخب ارکان تو اسلام کے مطابق حکومت کو اس وقت چلائیں گے جب وہ اکثریت کے ساتھ اسمبلی میں آسکیں گے اس کے لیے تو روک جمہوریت میں ممبران کے طریقہ انتخاب میں ہی لگادگئی ہے اگر فرض کرلیا جائے وہ تھوڑی سی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آبھی جاتے ہیں تو انکو کیسے پریشان کیا جائے گا، انکے ساتھ کیا ہوگا سوڈان اور مصر کی مثال سامنے ہے۔ ۔ ۔ اب جب تک اقتدار نہیں ملتا وہ اسی نظام کو سپورٹ کرتے رہیں گے جس میں انسانوں کو اکثریت کی بنیاد پر اتنا حق دیا گیا ہے وہ حدود پر بھی اللہ رسول کے حکم کے خلاف قانون بنا سکیں، جب چاہیں کسی شرعی قانون کو بدل کر رکھ دیں۔ ۔ ۔اتنی کیا مصیبت ہے کہ ہم اس نظام سے ہی چمٹے رہیں، کیا ساٹھ سال کسی کوٹیسٹ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ صاحب آپ کے کمنٹس سے ایسا لگ رہا ہے آپ نے پوسٹ پوری پڑھے بغیر کمنٹ کیا ہے۔ اس موضوع پر اسی بلاگ پر تین تحریروں میں کافی سیر حاصل بحث ہوچکی ہے۔ آپ کمنٹ کرنے سے پہلے خلافت و جمہوریت کا سیکشن ملاحظہ فرما لیں۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔