سوموار، 1 جولائی، 2013

موجود ہ دور میں نظام خلافت کا راستہ

الیكشن كے دنوں  میں ہمارے ہاں انقلاب  کی ایسی ایسی تعریفیں  اور قسمیں سامنے آئیں کہ عقل  دنگ   ہے۔ ہر سیاسی پارٹی اور اس کے لیڈران نے عوام کے شدید مطالبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک عدد انقلاب کا انتظام کیا اور کوشش کی گئی کہ علاقہ کی عوام کی پسند، ذائقہ کو مدنظر رکھ کر  انقلاب کے لوازمات  ترتیب دیے جائیں، یوں  ہر سو کلومیٹر بعد انقلاب کی ڈیفینیشن کوئی اور سننے کو ملتی ۔ سوشل میڈیا، گلی محلوں، دفاتر غرض ہر جگہ  اس پر بحث و مناظرے دیکھنے کو ملے کہ اصل اورخالص  انقلاب اس وقت کس  پارٹی کے پاس  پایا جاتا ہے اور وہی اصل کیسے ہیں ۔۔ دیکھا جائے تو ہمارے ہاں  انقلاب بھی  ایک سیاسی نعرہ  اور  مذاق بن گیا  ہے ،حالانکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ   انقلاب جو حقیقت میں انقلاب کہلانے کا مستحق  ہے  وہ  بغیر کسی جانی و مالی قربانی کے نہیں  آتا،   یہ ممکن ہی  نہیں کہ قطرہ خون کا نہ بہے اور انقلاب آجائے۔ جس ملک میں   ابتری، بدحالی  جتنی ذیادہ ہوگی وہاں اسے ٹھیک کرنے کے لیے جدوجہد  اور قربانی بھی اتنی ذیادہ دینی پڑے گی ، رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہر ظالم  کے خلاف لڑنا پڑے گا۔اگر  سیکولر  کے بجائے  انقلاب اسلامی  طرز کا ہے تو پھر  صرف اندرونی نہیں بلکہ بیرونی  طاغوت کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گا،   اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے  دس پندرہ سالوں میں اسلام کی  نشاۃ ثانیہ  کے لیے دنیا میں جہاں کہیں کوئی تحریک  اٹھی  اسکو  میڈیا پراپیگنڈہ  کے ذریعے  متشدد ،  انتہاء  پسند،  جہادی، ریڈیکل اسلام اور القائدہ جیسے مختلف الزام لگا کر  یا تو وہاں کی حکومت کے ذریعہ کچل دیا گیا  یا  ان  کو  ڈائریکٹ ہٹ کیا گیا۔ یمن، افغانستان، سوڈان وغیرہ میں یہی ہوا۔ آج کل   ترکی  اور مصر کا  انقلاب   بھی عالمی استعماری قوتوں کو کھٹک رہا ہے۔  حالانکہ دونوں کے انقلاب خالص اسلامی طرزکے  بھی نہیں،  ابھی تک وہ ڈھکے چھپے انداز میں  چند  اصلاحات  کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ان قوتوں کے پاس  ان  پرعراق افغانستان کی طرح مختلف الزامات لگا کر چڑھ دوڑنے کا  کوئی بہانہ  نہیں اور   نہ عراق و افغانستان میں  انہیں جتنی مار پڑ رہی ہے  یہ فی الحال  کسی ایسے ملک پر ڈائریکٹ حملہ کرنا پسند کریں گے، اس لیے  دونوں ممالک  کو غیر مستحکم   کرنے کے لیے  مختلف چالوں، پابندیوں کے علاوہ   ہر معاشرے کے ناسور   ،  ننگ دین ، ننگ ملت نام نہاد روشن خیال   لوگوں اور انکی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو چند بچگانہ  نعرے اور مطالبات پکڑا کر   حکومت کے خلاف  احتجاج پر لگادیا گیا ہے، ملک کےان  ایک فیصد لوگوں کو  مساجد سے بلند ہونے والی اذان کی آوازوں ، زنا اور شراب پر جزوی پابندی ، پورے ملک کو چھوڑ کر  صرف ایک  بے حیائی کے پارک سے  چند درخت کاٹنے  پر اعتراض  ہے۔ تمام دشمنان اسلام الکفر ملۃ واحدہ کی عملی تصویر پیش کررہے  ہیں ،  ہمیشہ کی طرح مغربی میڈیا بھی  کرائے پر لائے گئے چند ہزار  کے احتجاج کو لاکھوں کا احتجاج کہہ کر پیش کررہا ہےاور  جو حقیقت میں لاکھوں لوگ حکومتی موقف کی تائید کررہے ہیں ان کا میڈیا میں کوئی تذکرہ نہیں ۔۔موضوع کی طرف واپس آتے ہیں اگر پاکستان میں اسلامی انقلاب یا  خلافت طرز کی حکومت کے لیے  کوئی کوشش کی جاتی ہے یا اسلامی  شریعت کونافد کیا جاتا ہے تو یہاں  عوام ،    ان کرائے کے ٹٹوؤں اور انٹرنیشنل میڈیا کے علاوہ خود ہمارا اپنا میڈیا  بھی  ملک مفاد  کے خلاف    پہلے سے ایسی کسی بھی " خدمت " کے لیے تیار ہوچکا ہے ،  ضروری ہے کہ اگر کوئی پارٹی ، جماعت   ملک میں  خلافتی نظام یا اسلامی انقلاب کی بات کرتی ہے تو  اسے پہلے اپنے ملک کی عوام کو  ان حالات سے نپٹنے  کے لیےذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا۔۔ اس سلسلے کا کوئی بھی قدم  عوام کی تربیت کے بغیر نافع ثابت نہیں ہوگا  اوراگر عوام کی تربیت اور  ذہن سازی نبوی طریقہ پر نہ کی گئی ،  انکو صحابہ کی طرح ہر قسم  کی قربانی کے لیے تیار نہ کیا گیا تو ملکی  معاشی  مسائل،  داخلی    شورش،  افراتفری ،  بیرونی   معاشی پابندیوں یا کسی جنگی صورتحال  کی وجہ سے  چند ماہ  بعد  ہی  ملک کے اندر سے    اس نظام کے خلاف  آوازیں بلند ہونا شروع ہوجائیں گیں اور حکومت کو  اصل کام کے بجائے ان بغاوتوں میں الجھا  دیا جائے گا ۔حقیقت یہ ہے کہ اسوقت   دنیا میں کوئی بھی اسلامی  ملک ایسا نہیں ہے جس کی عوام  خلافت راشدہ کےنظام کے بعد پیش آنے والے   اندرونی اور بیرونی  حالات  کا سامنا کرنے کی سکت رکھتی ہو اور ہر حالت میں  اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی   رہ سکتی ہو۔



نیابت براستہ جمہوریت :۔
اس وقت دنیا میں بہت سی مذہبی جماعتیں  اسلامی انقلاب  اور خلافت کے لیے مختلف انداز میں محنت کررہی ہیں ،   ان میں جمہوریت کے راستے سے  اسلامی نظام لانے کی کوششیں  کرنے والا طبقہ تقریبا مسلمانوں کے ہر  ملک  میں موجود ہے، خود پاکستان میں اس راستے سےپچھلے ساٹھ سالوں سے  اسلا می انقلاب کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں ۔ سب کے سامنے ہے  اتنے عرصے  کی  محنت کے بعد  کیا تبدیلی آئی  ؟ شریعت کے نفاذکی طرف تھوڑی سی بھی عملی پیش قدمی ہوئی  ؟اسلام کوکوئی حقیقی فائدہ ملا ؟   غور کیا جائے تو  صاف نظر آتا ہے کہ یہ لوگ  اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے  اور ٹائم ضائع کررہے ہیں، انکو چند سیٹیں لالی پاپ کی صورت میں  پکڑا کر نہ  صرف  پریشان  اور بدنام کیا گیا   بلکہ  عوام کو بھی  ان سے اور ساری دینی قوتوں سے بددل کیا گیا ہے۔ یہ لوگ خود بھی جانتے ہیں کہ  اس نظام میں ذات ، خوبیوں، اصولو ں، جو کچھ ان کے پاس ہے  علم و فہم    اسکی کوئی قیمت نہیں  ،   اس لیےانکے اپنے  بہت سے لوگ  خود اس مشینی  اور سرمایہ دارانہ  نظام   کے ذریعے بہتری کے  آنے  سے ناامید اور  مایوس نظر آتے  ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اسلامی  انقلاب  کی راہ ہموار کرنے  کے لیے  نبوی راستہ  کیوں نہیں اختیار کیا گیا اور کیا جارہا؟    اس کی ایک  وجہ  تو یہ ہے کہ  ان لوگوں نے شروع میں کچھ مصلحتوں کے تحت اس نظام میں شمولیت اختیار کی   تھی لیکن اب  یہ   نظام اور اس  راستے سے اقتدار  انکا مقصد بن چکا ہے ،  اسکو چھوڑنا   یہ  پچاس سال ضائع کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں ، دوسری وجہ شاید یہ ہے کہ نبوی   راستہ سےمحنت جان ، مال  اور نفسانی خواہشات کی قربانی   مانگتی  ہے اس لیے بہت سے اسلام پسند انقلابی موجودہ دور میں اس طریقہ  سے انقلاب آنے کو ہی ناممکن سمجھ رہے ہیں اور    دوسرے   چور  راستوں  سے  انقلاب لانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ان لوگون کے سامنے اسلامی تاریخ سے   مثالیں پیش کی جائیں تو کہتے ہیں  وہ اور دور تھا جی آج کل ایسے کیسے ہوسکتا ہے ، سو  طرح کے اشکالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ  اس  کے لیے کون اجتماعی طور پر  اتنی محنت کرے گا ؟  یہ عوام کیسے اتنی جلدی سدھرے گی ؟   کون اتنا  انتظار کرے گا  ؟    پہلے قربانیوں سے بھرپور دعوت ،ضرورت پڑنے پر  جہاد اور پھر  خلافت کا قیام اور خلافت کے ذریعے سلطنت میں پورے اسلام کا   نفاذ  ایک محال عمل   ہے  ۔ ۔ شارٹ اور  آسان حل یہ ہے کہ اسلامی انقلاب  کے لیے جمہوریت کو  مشرف بااسلام کردیا جائے ، ہینگ لگے گی   نہ پھٹکری، نہ  دعوتی لائن سے کوئی جان توڑ   محنت کرنی پڑے گی، نہ انقلاب کے لیے کوئی جانی مالی قربانی دینی پڑے گی اور   نہ   نظام کو تبدیل کرنا پڑے گا ، بس  اختیارات مل جائیں تو سب  ٹھیک  کردیں گے ، ہم  جیسا چاہیں  گے انقلاب لے آئیں ، اس لیے کسی  طریقے سے حکومت حاصل کر لو۔۔ حقیقت  میں  یہ محض سہل پسندی کی باتیں  اور حقائق سے نظریں چرانےکے علاوہ  کچھ نہیں ۔

خلافت علی المنہاج النبوۃ :۔
اہل سنت والجماعت  کے  تقریبا تمام علماء اور سکالرز کا اس بات پر اتفاق ہے  کہ خلافت علی منہاج النبوۃ   کا واحد راستہ دعوت  الی اللہ ہے یعنی اسلامی انقلاب یا  نظام لانے  کا ایک ہی راستہ ہے  وہ 'جس راستےسے  حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے خود لا کر دکھایا۔جہاں تک  عوامی حالات، معاشرتی تنزلی اور  انتشار کی  بات ہے تاریخ   گواہ ہے  داعی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں  اور جس معاشرہ میں محنت کی وہ  ذیادہ تنزلی کا شکار تھا  شاید آج کی دنیا میں بھی اسکی  مثال نہ ملے،سارا عرب شدید اخلاقی گراوٹ، عصبیت  ، لاقانونیت، سودخوری، شراب نوشی، خدافراموشی، عیش پرستی وعیاشی، مال وزر کی ہوس، سنگ دلی اور سفاکی وبے رحمی سے متاثر تھا۔ یہی حال باقی  دنیا کا بھی  تھا  ،ہر طرف ضلالت  کے اندھیرے ہی اندھیرے تھے،ایسے معاشرہ کی اصلاح کرنا  کس قدر مشکل  تھی    اور   اگر کرنے والا شخص اکیلا ہو اور مخلوق میں کوئی  اسکا مددگار بھی  نہ  ہو تو  کام اور مشکل مزید بڑھ جاتی  ہے۔ان تمام مشکلات کے باوجود بھی چند سالوں میں سارے عرب  وعجم کے لوگوں کی کایا پلٹ  گئی  اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  جس راستے سے یہ  محنت کی گئی  وہ کس قد ر نافع اور پریکٹیکل ہے  ۔  آپ نے اس ماحول میں اسلامی حکومت کے قیام کی دعوت دی نہ خاندانی  اثر کو استعمال کرتے ہوئے کسی  سیاسی انقلا ب  کی آواز لگائی، جس طرح آج ہمارے ذہنوں میں یہ وسوسہ ہے کہ  جب حکومت ہاتھ میں ہوگی تو     جو شریعت پیش کی جائیگی اس پر لوگوں کو کھڑا کرنا بھی  آسان ہوگا،  کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی،  دعوت کی راہ میں کوئی روڑے بھی نہیں اٹکا سکے گا ۔۔ ۔  ایسی تعلیم سیرت سے بالکل نہیں ملتی، آ پ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی  ہر بات    اللہ کی بندگی  کی دعوت سے شروع ہوتی  اور   اسی پر ختم ہوتی ، جہاں لوگوں کو متوجہ کیا تو اللہ کی طرف بلایا، کسی جگہ لوگوں کو اکٹھا کیا تو  اللہ کی پہچان کروانے کے لیے، کسی جگہ     چل کر گئے تو   دعوت الی اللہ کے لیے ۔دعوت کیا  تھی  صرف یہ یا ایھاالناس  قولو لا  الہ الا اللہ تفلحوں: اے لوگو اللہ  کے علاوہ تمام الہٰوں کوچھوڑ دو اور صرف اسی ایک الٰہ کی بندگی قبول کرلو، کامیاب ہوجاؤ گے ۔آج کا کوئی  سکالر ہوتا تو اس وقت بھی اعتراض کرتا کہ  حضور   ہر طرف جہالت  ہے، بے روزگاری ہے، لوٹ مار ہے ، زنا وفحاشی  عام ہے، حکومت  اور ادارے کرپٹ ہوچکے ہیں  آپ  اللہ اللہ  کی آوازیں لگانے اور مصلے سنبھالنے  کی دعوت دے رہے ہیں،  جیسے ایک جگہ بات چیت کے دوران  بیرون ملک مقیم  اک صاحب نے لکھا "میرے پاس چند تبلیغی ساتھی تشریف لائے وہ صاحب میرے گھر سے کوئی لگ بھک 3000 کلومیٹر دوری سے آئے تھے اور مدعا حسب معمول دعوت دین کی محنت ، خیر انہوں نے گھنٹہ بھر اپنی بات سنائی اور مجھے کہنے لگے کہ آپ سہ روزہ کی نیت کر لیں۔۔۔ میں نے کہا آپ نے بات کر لی؟ اب صرف پانچ منٹ میری بات سنیں گے؟ اجازت کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا جذبہ اور خلوص اللہ کے ہاں بہت زیادہ وزن رکھتا ہے آپ اتنی دور سے گھر بار چھوڑ کر ، بیوی بچوں سے جدا ہوکر اور اپنے کاروبار کو بند کر کے صرف اللہ کی رضا اور دعوت دین کے لیے میرے پاس حاضر ہوئے ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ آپ اکیسویں صدی میں اتنی سختیاں جھیلنے کے بجائے میرے گھر کے ایک ڈبے کو ہی سیدھا کر دیں اگر وہ ڈبہ اسلام کی اس دعوت کو سمجھ لے تو آپ کا کام آسان ہو سکتا ہے آپ میرے پاس ہفتوں اور مہینوں بعد آتے ہیں لیکن یہ ڈبہ میرے گھر میں چوبیس گھنٹے بولتا اور بہت کچھ دکھاتا رہتا ہے سوال یہ ہے کہ مسجد سےصرف پانچ مرتبہ اللہ کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور یہ ڈبہ چوبیس گھنٹے مجھے شیطان کی طرف صرف بلاتا نہیں دھکیلتا رہتا ہے۔اس کا کوئی جواب ان کے پاس موجود نہیں تھا کیوں کہ اس کا حل صرف زمام کار کے حصول سے ہی ممکن ہے وہ یہ کہہ کر رخصت ہو گئے کہ آپ کسی اور طرف نکل گئے ہیں کیونکہ انہیں نظام دین کے بجائے اپنی جنت کی فکر لاحق تھی اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ جنت کا حصول اقامت دین سے ہی منسلک ہے"۔۔۔ شاید  یہاں غلط فہمی یہی ہے کہ   نظام  دین اور اقامت دین صر ف چند سال کی انفرادی محنت کے بعداقتدار کے حصول کی کوشش کا نام ہے،  لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی   تیرہ سالہ مکی زندگی  اور مدنی زندگی کے  پہلے پانچ سالوں کی تربیتی محنت  کو سکپ  کرکے   ڈائریکٹ اس کے ثمرات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔۔ موضوع کی طرف واپس آتے ہیں  یہ طریق دعوت  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایجاد کردہ نہیں تھا  بلکہ پہلے بھی   جتنے  انبیاء آئے انکا طریق  بھی یہی تھا اور ہمارے لوگوں کی طرح ہرزمانے  کی     عوام کے لئے بھی یہ   ایک عجیب بات ہوتی تھی ۔انبیاء کی  اس دعوت کے جواب میں   انکا مذاق اڑایا جاتا، کوئی کہتا دیوانہ ہوگیا ہے بہکی بہکی باتیں کررہا ہے،   کوئی  کہتا پاگل    ہے  اتنے مسائل کا حل  صرف کلمہ نماز  میں سمجھتا  ہے، کئی  قوموں کے لوگ  دن رات   کا یہ اللہ کی طرف بلاوا سن  کر گستاخی پر اتر آئے اورچیلنج کرنے لگے  کہ  اس عذاب کو لے کیوں نہیں آتے جس سے تم  ہمیں ڈراتے ہو ، بہت سے انبیا ء کو انکی قوم نے انتہائی  سفاک انداز میں قتل کردیا۔ قصص القرآن میں تفصیل موجود ہے کہ  ہر نبی کو دعوت کے میدان میں کیسی کیسی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔   ایسا نہیں تھا  کہ معاشرے کے مسائل  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر نہیں آرہے تھے یا آپ کی توجہ کے لائق نہیں تھے  بلکہ آپ     اس طریق  سے ان مسائل کو حل کرنا چاہ رہے تھے جو آپ کو      وحی کے ذریعے بتلایا گیا تھا  ۔  اور اس  محنت کے بعد  جس آسانی سے وہ تمام مسائل  حل   ہوگئے، ایسے لگتا ہے کہ شایدیہ محنت انہی مسائل کے حل کے لیے تھی، صرف   عام آدمی  کا ذہن   اس تک  پہنچ نہیں  پارہا تھا اور  جو انقلاب آیا اس  کا بھی   کوئی نمونہ نہیں پیش کرسکتا ،  مغربی مستشرقین  اور  آج کی جدید  اور مہذب دنیا  کے   غیر جانبدار سکالرز بھی  آپ کو دنیا کا سب سے بڑا انقلابی تسلیم کرتے ہیں  ۔ اس انقلاب کی بنیاد یہی کلمہ   کی دعوت  تھی  اس کے پیچھے حکمت یہ تھی کہ   جس خدا کی طرف بلایا جارہا  ہے وہ رحیم و کریم  و حکیم ہے ، جب لوگ دنیا جہاں کے خداؤں سے بے نیاز ہوکر اپنے اس اصل مالک  کو  ہی الہ مان لیں گے  ، اپنی مرضی خواہش اسی کے حکم کے مطابق کر لیں گے، معاشرے کی ساری  برائیاں ، بیماریاں خودبخود  جڑوں سے ختم ہوجائیں گی  کیونکہ  اسکے احکام سراسر  ہدایت ، امن اور انسانی خوشحالی و نجات  کے لیے ہیں۔ اگر  آپ اس کے بجائے دوسرے کسی طریق سے  ایک مسئلہ کو ختم کرنے کی کوشش  کرتے   تو کچھ وقت کے  لیےبظاہر مسئلہ تو ختم ہوجاتا  اسکی    جڑ ختم  نہ ہوتی ۔  وہ  چند عرصہ بعد  دوبارہ  وہیں نمودار ہوجاتا یا    کسی    دوسری  جگہ سے سر اٹھا لیتا ۔
زندہ قوت تھی جہاں میں توحید کبھی
آج کیا ہے فقط ایک مسئلہ علم الکلام
 دعوت کی تکالیف سے بھرپور  محنت میں نبی خاتم کو   تیرہ سال لگ گئے  اور اس عرصہ میں  تقریبا  سوا  تین سو جان نثاروں کی ایک  جماعت تیار ہوئی ،  ان میں  تبدیلی  کیا  آئی   ؟ انکا صرف مذہب نہیں بدلا،   دل بدل گئے  ، طرز زندگی اور سوچنے کا انداز بد ل گیا  ، مقاصد بدل گئے ،        قربانیوں کی بھٹی نے انہیں کندن کردیا  ،  یہ لوگ خود عکس  رسول بن گئے، داعی ایک کے بجائے تین سو تیرہ ہوگئے ، سرکش طبیعتوں کا یہ زبردست انقلاب تاریخ کا ایک عجیب واقعہ اور معجزہ  ہے ۔
دُرفشانی نے تیری، قطروں کو دریا کردیا دل کو روشن کردیا، آنکھوں کو بینا کردیا
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے کیا نظر تھی، جس نے مُردوں کو مسیحا کردیا
اب جب بنیاد تیار  ہوگئی تو عمارت کو قائم کرنے میں  ٹائم لگا نہ حکومت اور اقتدار کے لیے علیحدہ سے کوئی جان توڑ  اور طویل محنت کرنا پڑی  ،    مدینہ کی  چھوٹی سی سلطنت کی حدود تیس سالوں میں آدھی دنیا تک پہنچ گئیں۔۔ اگر آج اسی راستے کی طرف رجوع نہیں کیا  جاتا  اور اسوہ حسنہ کو مشعل راہ نہیں بنایا تو اسلامی نظام اور خلافت کے قیام کی منزل تک پہنچنا ناممکن ہے ۔

خلافت اور جہاد :۔
بعض لوگ یہ  سمجھتے ہیں کہ جب دعوت عمومی طور پر پھیل جائے ، عوام اور خواص کی ایک معقول تعداد اس کو قبول کرکے اس میں شامل ہوجائے۔  مسلمانوں کو قدرت و  طاقت حاصل ہوجائے  تو شاید یہ شرعی حکم ہے کہ  تلوار  لے کر تمام غیر مسلم ملکوں اور لوگوں  پر چڑھ دوڑا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں ۔ مقصد چونکہ اعلا کلمۃ اللہ اور غلبہ دین ہے نہ کہ قتل و غارت اس لیےحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے  دور  اور بعد میں خلفاء کے دور میں بھی   ہر جگہ یہی کوشش کی گئی کہ  تصادم ، ٹکراؤ اور قتل و غارت کی نوبت ہی نہ آئے اور اللہ کا  پیغام اس   کے بندوں تک  بغیر کسی  رکاوٹ  کے پہنچ جائے۔   خیر القرون سے  اسکی تین مثالیں اور صورتیں  نظر آتی  ہیں۔ 
1.     پہلی صورت یہ  ہے کہ     انصار مدینہ کی طرح معاشرے کے تمام طبقات  مجموعی طور پر اسلام کی دعوت ، حاکمیت اور نظام کو قبول کر لیں۔
2.       دوسری صورت یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ  مخالفین  اک عرصے تک مشرکین مکہ کی طرح مخالفت اور تصادم کی راہ اختیار کیے رکھیں  لیکن دعوت و تحریک کے زور پکڑنے اور  ارباب دعوت کے پوری طاقت  و قوت کےحاصل ہوجانے کے   بعد بھی اگر   مخالفین اپنی شکست تسلیم کرلیں تو  کوئی قتل وغارت یا لوٹ مار نہ کی جائے بلکہ  فتح مکہ  کی طرح  بغیر لڑائی اور تصادم کے  اسلامی نظام  نافد کردیاجائے ۔
3.     تیسری صورت یہ ہے کہ مخالف قوتیں دعوت و انقلاب کے راستے میں نہ صرف رکاوٹ بنیں بلکہ  اپنی پوری حربی اور عسکری قوت کے ساتھ میدان میں آجائیں، جیسا کہ روم و فارس کی طاقتیں  صحابہ کے مقابلے میں  صف آراء ہوئی تھیں، یہاں بھی عوامی  قتل عام  یا بستیاں تباہ برباد کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ صرف رکاوٹ کو ہٹانا مقصود ہے۔

دورحاضر میں نبوی  طرز پر محنت  کا طریقہ کار :۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی ماضی قریب کی ایک بہت بڑی علمی  شخصیت گزرے ہیں آپ ناظم دارلعلوم ندوۃ العلماء لکھنو، رکن مجلس تاسیس رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ، رکن مجلس عاملہ موتمر عالم اسلامی بیروت، وزٹینگ پروفیسر دمشق  یونیورسٹی  و مدینہ یونیورسٹی ، صدر اسلامک سینٹر آکسفورڈ ،رکن مجلس شوری جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ،  رکن عربی اکادمی دمشق، اور کئی دوسرے  عالمی اداروں سے منسلک تھے۔۔۔۔انکی  اس موضوع پر ایک طویل تحریر کا خلاصہ پیش کرتا ہوں۔ :
"ہم اس سے بالکل مایوس نہیں ہیں کہ اس زمانہ میں حقیقتِ اسلام پیدا نہیں ہو سکتی، بلکہ ہم کسی ایسے زمانہ کے قائل نہیں جس میں حقیقت اسلام دوبارہ پیدا نہیں کی جاسکتی ، آپ پیچھے مڑ کر دیکھیے ، تاریخ کے سمندر میں آپ کو حقیقت اسلام کے جزیرے بکھرے ہوئے نظر آئیں گے، بارہا حقیقت اسلام ابھری اور ایمانی کیفیات پیدا ہوئیں، وہی الله اور رسول پر یقین واعتماد، وہی شہادت کا ذوق ، جنت کا شوق ، وہی دنیا پر آخرت کی ترجیح۔ جب کبھی او رجہاں کہیں حقیقتِ اسلام پیدا ہو گئی اس نے ظاہری قرائن وقیاسات کے خلاف حالات پر اور مخالف طاقتوں پر فتح پائی ہے، تمام گزرے ہوئے واقعات کو دہرادیا ہے اور قرن اول کی یاد تازہ کر دی ہے۔حقیقتِ اسلام اور حقیقت ایمان میں آج بھی وہی طاقت ہے جو ابتدائے اسلام میں تھی، آج بھی اس سے وہ تمام واقعات ظاہر ہوسکتے ہیں جو اس سے پہلے ظاہر ہوئے ہیں۔آج بھی اس کے سامنے دریا پایاب ہو سکتے ہیں۔۔ اس گئی گزری حالت میں بھی اس امت کا الله اور اس کے رسول سے جو تعلق ہے وہ دوسری قوموں کے خواص کو بھی نصیب نہیں، اس انحطاط کے زمانہ میں بھی جتنی حقیقت اس میں پائی جاتی ہے وہ دوسری قوموں میں مفقود ہے ، اس کی کتاب آسمانی ( قرآن مجید) محفوظ ہے اور اس کے ہاتھوں میں ہے ، اس کے پیغمبر کی سیرت اور زندگی جو آج بھی ہزاروں لاکھوں دلوں کو گرمادینے اور ہر باطل  کے خلاف لڑا دینے کی طاقت رکھتی ہے مکمل طریقہ پر موجود ہے اور آنکھوں کے سامنے ہے ۔ صحابہٴ کرام کی زندگی اور ان کی زندگی کا انقلاب اور ان کی کوششوں سے دنیا کا انقلاب نظر کے سامنے موجود ہے۔ یہ سب زندگی کے سرچشمے ہیں ، یہ سب حرارت اور روشنی کے مرکز ہیں۔ صرف اس کی ضرورت ہے کہ اس امت میں صورت سے حقیقت کی طرف ترقی کی ضرورت کا عام احساس پیدا ہو  ۔ ۔ ہر آبادی میں ایسے مرکز قائم ہوں جہاں مسلمان جمع ہو کر اپنی زندگی کا بھولا ہوا سبق یاد کریں ، جہاں سے انہیں حقیقت اسلام کا پیغام ملے، جہاں سے ان کو اپنی کھوئی ہوئی زندگی کا سراغ لگے، جہاں سیرت نبوی صلی الله علیہ وسلم اور اصلی اسلامی زندگی کے واقعات اور دین کی بنیادی واصولی دعوت کے ذریعہ ان میں دینی جذبات واحساسات بیدار ہوں اوران میں دینی انقلاب کی خواہش پیدا ہو ،، زندگی کے ان مرکزوں سے تعلق پیدا ہو اورمادی ومعاشی انہماک سے اس کو ان مرکزوں سے اکتساب فیض کی فرصت ملے اور کچھ دن حقیقت اسلام کو حاصل کرنے اور اس کو اپنے میں راسخ کرنے کے لیے اپنے اوقات فارغ کریں اور اس ماحول سے نکل کر جس میں حقیقت اسلام پنپنے اور ایمانی کیفیات ابھرنے نہیں پاتیں، ایک ایسے ماحول میں وقت گزاریں جہاں اصلی زندگی کی جھلک موجود ہو، جہاں علم وذکر، دعوت وتبلیغ، خدمت وایثار، تواضع وخلق، محنت وجفاکشی کی زندگی ہو، ہم اس وقت مسلمانوں کو اس مقصد کے لیے جماعتوں کی شکل میں نکلنے کی دعوت دیتے ہیں،
دعوت صرف یہ ہے کہ :﴿ یا ایھا الذین اٰمنوآ اٰمنوا﴾ اے مسلمانو! صورت اسلام سے حقیقت ایمان کی طرف ترقی کرو۔
اگر مسلمانوں کی بڑی تعداد اس کو جزو زندگی بنا لے اور اس کا رواج پڑ جائے تو ہم کو الله کی ذات سے امید ہے کہ کروڑوں مسلمانوں تک حقیقت اسلام کا یہ پیغام پہنچ جائے گا اور لاکھوں مسلمانوں کی زندگی میں دینی روح، ایمان واسلام کی حقیقت اوراس کی صفات وکیفیات پیدا ہو جائیں گی۔اگر یہ مراکز اور اس طرح کے اجتماعات نہ ہوئے تو بڑے پیمانے پر اور طاقت ور اور مؤثر طریقہ پر امت کی اکثریت میں حقیقت اسلام اور روح اسلام پیدا ہونے کی توقع  کیسے ہے؟

7 comments:

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

باتیں تو کام کی لکھی ہیں لیکن اتنا لمبا مضمون وہی پڑھے گا جو پہلے سے آپ کا ہم خیال ہے یا پھر آنے والی نسلوں کے کام آئے گا

ڈاکٹر جواد احمد خان نے لکھا ہے کہ

جزاک اللہ خیر۔۔۔۔
آپ کے مضمون اگرچہ احاطہ تو خوب کرتا ہے مگر اس میں ابہام بھی ہیں۔
مثلاً یہ کہ نبی کریم ﷺ کی ذات کو تائید حق حاصل تھی اور وہ بھی اس طرح کہ ایک مخصوص عرصہ میں اسلامی سلطنت کو قائم ہونا مشیت الہٰی کا حصہ تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ کی ذات مقدسہ اس مشن میں شامل تھی اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسے اصحاب انہیں میسر تھے جو سمع و اطاعت کا ایسا نمونہ تھے کہ جسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
پھر بھی آج کے دور میں اقامت دین کے لیے کامیابی سے تحریک چلانا نا ممکن نہیں ۔
لیکن بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کو دیگر اسلامی ممالک سے مختلف اور پیچیدہ بنادیتی ہیں۔
سب سے پہلی بات جسے بھلانا نہیں چاہیے وہ یہ کہ پاکستان کی عوام بحیثیت مجموعی دین کو اپنی زندگیوں میں ایک حد سے زیادہ مداخلت کی اجازت نہیں دیتی۔ وہ سب کچھ کرلیتی ہے نماز، روزہ حج زکواۃ لیکن جہاں معاملات درست کرنے کی بات آتی ہے وہیں وہ بڑی سفاکی سے اپنے دل و دماغ کو بند کر لیتے ہیں۔
عوام الناس کی بڑی اکثریت تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔
عوام الناس کی سیاسی وابستگیاں دینی وابستگیوں سے کہیں زیادہ قوی ہے۔
عوام الناس مہنگائی ، بدعنوانی ، امن و امان کی دگرگوں صورتحال اور ضروریات زندگی سے محرومی کی وجہ سے بوکھلائے ہوئے مجمع سے زیادہ کچھ نہیں۔
دین کے نام پر جو لوگ موجود ہیں وہ کچھ زیادہ اچھی مثالیں پیش کرنے میں قطعی ناکام ہیں۔
اسکے علاوہ پیچیدگیوں کی ایک نا ختم ہونے والی فہرست ہے۔
پھر سوال یہ ہے کہ خلافت علی المنہاج النبوۃ کے لیے آپ کے پاس پروگرام کیا ہے۔
آپ کونسی نئی بات کرنے جا رہے ہیں جو عوام الناس کو آپکی طرف متوجہ کراسکے؟
کچھ لوگ اگر آپکے ساتھ آ بھی گئے تو اس دجالی نظام کو کیسے ختم کرسکیں گے؟
کیا یہ نظام ٹھنڈے پیٹوں اپنی شکست برداشت کرلے گا؟
مسلح جدوجہد کے بارے میں بھی آپ نے وضاحت نہیں فرمائی۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

اے لوگو اللہ کے علاوہ تمام الہٰوں کوچھوڑ دو اور صرف اسی ایک الٰلہ کی بندگی قبول کرلو، کامیاب ہوجاؤ گے۔۔
*****
محترم ایمان کی امان پاؤں تو عرض خدمت ہے۔کہ اصل خرابی ہماری مندرجہ بالا آیت کو دل سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔یہ گستاخی میں "خواص" کی خدمت میں عرض کر رہا ہوں ۔عوام کے متعلق میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب سے متفق ہوں۔آپ کی تحریر بے شک ایما افروز ہے۔لیکن ایک مخصوص سوچ یا مسلک کی "تبلیغ"کرتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔"خواص
مسلمان اپنی معاشرتی اصلاح اسی لئے نہیں کر سکے۔کہ اللہ کے بجائے"الہوں"کو ترجیع دیتے ہیں۔صرف پاکستان کی مثال دی جائے تو اسلامی اصلاحی تحریکوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔اگر ایک اللہ کیلئے ہی مقصد انسانیت کی فلاح و اصلاح ہو تو میرا نہیں خیال کے معاشرہ پر امن وپر سکوں نہ ہو۔کیا وجہ ہے کہ اسلامی اور جناب عرض کردوں کہ "انسانی" نقطہ نظر سے بھی مادر پدر آزاد بے حیاملحد معاشرے پرامن کیوں ہیں؟
ہم مسلمان عوام خواص مسلمانوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ کہ شاید وہ ہمارے اذہان قلوب کا انتشار دور کریں۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔مزید کہنے کی گستاخی نہیں کر سکتا کہ آپ کا خلوص مجھے معلوم ہے۔اللہ ہم سب کیلئے بہتری فرمائے آمین

‎یاسر خوامخواہ جاپانی‎

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

ڈاکٹر صاحب بلاگ پر تشریف لانے کا شکریہ ۔ عرض ہے کہ حضور اور صحابہ کے ساتھ اللہ کی خصوصی مدد صرف ان تک محدود نہیں تھی، ایسا نہیں کہ اللہ نے صرف انکی مدد کرکے انکی امت کو اسکے حال پر چھوڑ دیا ہے ، بلکہ مسلمانوں کی جو جماعت ، قوم انکے طریقے پر محنت کرے گی اللہ کی مدد ان کے ساتھ بھی ہوگی۔آپ کی یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم لوگ اجتماعی طور پر افراتفری، انتشار اور افراط وتفریط کا شکار ہیں لیکن مذہبی رنگ بھی اس قوم پر باقی سب قوموں سے ذیادہ غالب ہے، یہاں دین پر چلنے کے مواقع، لوگ، علماء، مدارس اور دوسرے دینی تربیتی ادارے سب سے ذیادہ ہیں، ہمیں یہاں کچھ بھی نیا نہیں پیش کرنا صرف ایک رخ پر محنت کی ضرورت ہے جیسا کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے لکھا کہ صورت اسلام سے حقیقت اسلام کی طرف سفر کی محنت۔ میری یہ تحریر صرف خلافت سے پہلے کی محنت کے متعلق تھی ۔خلافت کے لیے لائحہ عمل کیا ہوگا اس متعلق جو ادارے محنت کررہے ہیں انکے علماء ذیادہ بہتر بتاسکتے ہیں ، جتنا میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ تبلیغی کام کے ذریعے عوام کی تربیت کے علاوہ علماء و خواص کو لیڈر شپ کے لیے جامعۃ الرشید جیسے ادارے تیار کررہے اور اس حساب سے تربیت دے رہے ہیں ، مختلف شعبہ جات میں بڑی خاموشی سے کام جاری ہے ، آپ نے انکے مختلف پروگراموں کی تفصیل پڑھی ہوگی، اسکے علاوہ ، اسکے علاوہ پڑوسی ملک میں جہادی میدان میں بھی دی جانے والی قربانیاں قربانیاں رنگ لارہی ہیں ، یہ سب دین کے شعبے ہیں جو بظاہر مختلف نظر آتے ہیں لیکن مقصد سب کا ایک ہی ہے، یہ کھل کر سامنے نہیں لیکن ایک دوسرے کی بھرپور سپورٹ کرتے ہوئے بڑی خاموشی کے ساتھ اس دجالی نظام کا مقابلہ کررہے اور اسکی جڑیں کاٹ رہے ہیں، صرف تبلیغ کے کام کی ہی مثال لے لیں، باطل کی تمام کوششوں کے باوجود برے ترین ماحول سے بھی لوگ اسلامی بنیادپرستی کی طرف واپس آرہے ہیں ، پاکستان، امریکہ ، یورپ کی یونیورسٹیوں میں سنت پر چلنے والے نوجوان کی ایک بڑی تعداد نظر آرہی ہے یہ سب اسی محنت کا نتیجہ ہے ، اس سے بڑی دجالی قوتوں کو شکست کیا ہوگی کہ انکے تعلیمی اداروں کے اندر اسلام کی تبلیغی محنت ہورہی ہے ، نوجوان جب وہاں داخل ہوتے ہیں تو یورپی ہوتے ہیں جب نکلتے ہیں تو دہریہ بننے کے بجائے مومن بن کر نکل رہے ہوتے ہیں۔ اس کام کی وجہ سے باقی دو شعبوں کو بھی افرادی قوت مل رہی ہے ، دوسرے مدارس کے علاوہ جامعۃ الرشید کے کلیہ الشریعہ کورس میں شمولیت کے لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی نوجوان بیرون ممالک سے اچھی اچھی جاب چھوڑ کر آئے ہیں ، ہر دفعہ ہزار سے زائد درخواستیں آتی ہیں اور انکو پچیس کا بیج لینا ہوتا ہے۔۔ابھی شاید انکے اس جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کو عالم بنانے کے چار سالہ کورس کا پانچواں بیج فارغ ہو رہا ہے۔۔ خلاصہ یہ کہ دینی طبقہ غافل نہیں ہے ۔۔فی الحال ان کا مسلح ہو کر سامنے آجانا اور چند لوگوں کو لے کر خلافت کا اعلان کردینا ایک جذباتی اور بے وقوفانہ قدم ہی ہوگا، جس سے اجتماعی طور پر بہت بڑا نقصان ہوگا ،عالمی لیول پر بھی اللہ جو ان لوگوں سے کام لے رہا ہے ، سب رک جائے ۔۔ ۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

:-)
یاسر بھائی ہمارے معاشرے میں ہر فیلڈ میں انتشارموجود ہے دینی میدان میں بھی یہی حال ہے، یہ پیدا کی گئ ہے یا ہم نے پیدا کی ہے بحرحال اک مسئلہ ضرور ہے.. یہ مسئلہ یہاں آکر اور شدید ہوجاتا ہے کہ عوام بھی مختلف جگہ پر الجھی ہوئی ہے ان کے پاس دین اور مختلف نظریات کی تحقیق کا ٹائم ہی نہیں، مغربی ممالک کی عوام پہلے مسئلے میں تو ہم سے ذیادہ کنفیوز ہیں لیکن دوسرے میں وہ بہتر ہیں،... باقی میری تحریر شاید کسی اک مسلک کی نمائندگی بالکل نہیں کررہی، میں نے خلافت، جہاد، تبلیغ پر جو بات کی ہے وہ منہاج النبوہ کو دیکھ کر کی ہے... میں سمجھتا ہوں کہ اگر خلافت ، نفاذ شریعت اور دعوت و جہاد کو لوگ صحیح طریقے سے سمجھ لیں تو صرف اسی کی بدولت مسلمانوں کے اندر جاری اکثر فساد ختم ہو جائیں.. فرقہ باطلہ کے سارے اور ہمارے کم یا ذیادہ علماء دوبارہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر لیں اور شائد حقیقی معنوں میں ایک اسلامی نظام کی طرف پیش قدمی ممکن ہو جائے..میری جمہوریت پر تنقید میں بھی کوئی ایک فرقہ یا جماعت ہدف نہیں صرف نظام ہے، جو دینی جماعتیں اس میں شامل ہیں اس میں مخالف مسلک سے ذیادہ اپنی جماعتیں ہٹ ہوئی ہیں،... تبلیغ پر بات جو میں نے کی وہ حضور کی سیرت سے تھی، مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے جو لکھا اس میں تبلیغی جماعت فوکس ضرور ہورہی ، پھر بھی میں نے صرف اسی میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی بلکہ طریقہ کار پر بات کی ہے، اس میں تبلیغ کے کسی اور طریقہ کی مخالفت سے بچنے کی بھی بھرپور کوشش کی ہے، باقی رہی جہاد کی بات اگر میں اپنے پیش کیے گۓ تین پوائنٹس میں غلطی پر ہوں تو اصلاح کر دیں.. مجھے تو سیرت سے یہی سمجھ آئی ہے کہ دعوت مقصد ہے اور جہاد ذریعہ ہے جو ضرورت کے وقت اور ہی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ دعوت کو عام کرنے میں کوئی مشکل نہ رہے ۔۔۔ اور خلافت پھل ہے دعوت اور جہاد میں کامیابی کا ۔۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

خلافت کے متعلق اپکی یہ باتیں ٹهیک ہے
کچھ سوال زہین میں سر اٹها رہے ہے کہ میں اگر تبلیغ کے کام کو سپورٹ کرنا چاہو تو کس مسلک کا تبلیغ کرو ؟
اور کب تک کرنا ہوگا یہ تبلیغ ؟
پہلے تو 313 کافی ہوئے تهے اج کتنے لوگوں کا گروہ کافی ہوجائیگا ؟ کتنے لوگوں کو ایماندار بنا کر ارض پاکستان پر خلافت قائم ہو سکتی ہے ؟ محمد ص نے 23 سال تبلیغ جہاد کیا تها اپ جس گروپ سے تعلق رکهتے ہو وہ کتنے سالوں سے یہ کام کر آراہی ہے ؟ اور کتنے لوگ 100% ایماندار بن گئے ؟

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

جب بات سمجھ آگئی ہے تو اس طریقے کے مطابق محنت شروع کر دیجئے.
آپ بھی اسی مسلک کی تبلیغ کیجئے جس کی حضور صلعم نے کی.
وہاں تین سو تیرہ کہاں کافی ہوگئے تھے وہ تو جنگ بدر میں موجود صحابہ کی تعداد تھی کام تو یہ سب مرتے دم تک کام کرتے رہے،
اپنے اردگرد اپنے معاشرے کے بگاڑ کو دیکھیے آپ کو اپنے اگلے سوالوں کا جواب مل جائے گا.

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔