منگل، 9 جولائی، 2013

نظام خلافت۔ چند ضروری باتیں

دوستوں کے ساتھ خلافت کے موضوع پر   بلاگز پر  ہونے والی اختلافی  ابحاث   میں  موضوع پر بہت سے اہم نقاط سامنے آئے اور ان پر تحقیق کرنے اور لکھنے کا موقع ملا ، سچ بات ہے کہ اختلا ف کے پیچھے جب اخلاص   ہو تو اس سے فائدہ  بھی  ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر اصولی اختلاف  کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے ہر جگہ بحث برائے بحث ،  میں نہ مانوں کی رٹ   اور تنقید بلکہ تنقیص برائے تنقیص  کا  فیشن  ہے  ، چاہے کسی مسئلہ کی حقیقت کا علم ہو یا نہ ہو ہر شخص اس میں بھی   اپنی رائے  دینا ضروری سمجھتا ہے  اور  عموما اختلاف  رائے   کی وجہ  بھی کوئی علمی  غلطی یا کنفیوزین    نہیں بلکہ  ذاتی خواہش اور پسند نا پسند ہوتی ہے  ۔ ایک طبقہ کا  ذہن یہ بھی ہے  کہ ہر قسم کی  تنقید  اور اختلاف فساد  کی جڑ ہے ہے، اختلافِ فکر   ہی   اتحاد عمل میں مانع ہے، اس کو باہمی توقیر واحترام  کے خلاف سمجھا جاتا ہے بلکہ  رینڈکارپوریشن  نے  تو رواداری  اور اتفاق کا نیا نسخہ  یہ دیا  ہے کہ دراصل اس وقت دنیا میں خرابی، بدامنی اور کشمکش کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسلام یہ کہتا ہے کہ وہی صحیح ہے  ، اس لیے  مسلمانوں  سے مطالبہ ہے کہ آپ یہ نہ کہیں۔ بلکہ یہ کہیں کہ سب صحیح ہیں جو چاہے اپنا لو۔اس کے لیے بھی مسلمانوں میں ایک تحریک  اور بحث شروع کی گئی ہے ۔۔حقیقت یہ ہے کہ  اختلاف اورتنقید اپنی اصل میں  کوئی معیوب شے نہیں ہے اسی لیے  شرعی  اختلاف رائے  کو  حدیث میں رحمت بھی  کہا گیا  ہے کہ اس سے مسئلہ کا ہر پہلو نمایاں ہوتا اور ہر زاویہ سے اسکی تحقیق سامنے آتی ہے۔  ویسے بھی جہاں کوئی قطعی بات نہیں ہو گی، بلکہ مختلف طرح کے احتمالات ہوں گے او رکئی آدمی اس پر غور وخوض کر رہے ہوں گے تو وہاں اختلاف رائے کا ہونا ناگزیر ہے۔مجھے خوشی ہے کہ خلافت کے موضوع پر   ہمارے اختلافات  میں ذات کو نشانہ بنانے کے بجائے صرف موضوع پر    اپنا موقف پیش کیا گیا  اسی وجہ سے  بات چیت کا تسلسل قائم ہے ، احقر نے   خلافت کے متعلق    كچھ  اشکالات پر پچھلی چند تحاریر میں بات کی تھی مزید کچھ اشکالات   ہمارے  ایک دوست بلاگر  نے اپنی دو تحریروں خلافت اور سوالات میں   پیش کیے ہیں ،  ان کی وضاحت کے لیے میں خلافت   کی بنیادی باتوں پر  بات   کرنا  ضروری سمجھتا ہوں، کوشش کروں گا کہ   بات آسان الفاظ میں  ہو اور صرف ضروری باتیں ہی کی جائیں۔

خلافت کا   لغوی مفہوم
خلافت کے معنی نیابت  اور قائم مقامی کے ہیں ۔  لسان العرب میں ہے " خلافت کے معنی امارت کے ہیں  اور خلیفہ کا لفظ  حدیث عمر میں آیا ہے کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا (  یعنی مجھ پر خلافت و امارت کی ذمہ داریاں  نہ ہوتیں) تو میں خود اذان دیتا۔ ( لسان العرب جلد 9  صفحہ 83
خلافت کی اصطلاحی تعریف 
مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں  " اصطلاح شریعت میں  " خلافت  اس اسلامی سلطنت اور بادشاہت کو کہتے ہیں  جس کے ذریعے بطریق نیابت آنحضرت کی شریعت نبویہ کو قائم اور مستحکم کیا  جائے، اور جو شخص نائب نبی ہونے کی حیثیت سے دین  کے قائم رکھنے کا انتظام کرے وہ خلیفہ ہے۔ خلافت راشدہ صفحہ 6  .
علامہ شامی رحمہ اللہ  لکھتے ہیں " وہ عمومی ریاست جو دینی  اور دنیوی امور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور نیابت  کام کرتی ہو"  مجموعہ شامی باب الامامۃ
خلافت کی ضرورت و اہمیت 
 چونکہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی  تھے اور وحی و رسالت کا سلسلہ آپ پر منقطع ہوگیا تھا  اس لیے آپ کی رحلت کے بعد ایک انتظامی سربراہ کی ضرورت تھی جو شیرازہ امت  کو بکھرنے سے بچائے ، اللہ اور اسکے رسول کے اوامر و نواہی کو نافد کرے ، غلبہ دین  اور اقامت دین کا فریضہ سرانجام دے ، اس کام کے لیے صحابہ نے بالاتفاق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آنحضرت کا جانشین یعنی خلیفہ منتخب کیا   اور آپ کو خلیفہ الرسول کہا جانے لگا، اس طرح خلافت اسلامیہ کا ادارہ وجود میں آگیا۔
مسئلہ خلافت  اسلامی نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے ،  کتاب و سنت، اجماع    امت کے مطابق خلافت اسلامیہ کا قیام واجب ہے۔  واجب ہونے کی وجوہات اور دلائل  بہت سے ہیں ،  ان کو پیش کیا گیا تو تحریر بہت طویل ہوجائے گی ، صرف شیخ الاسلام  امام ابن تیمیہ  رحمہ  اللہ  کا  ایک قول پیش کرتا ہوں : " خلافت اسلامیہ کا قیام دین کے سب سے بڑے واجبات میں سے ہے، بلکہ اس کے بغیر دین قائم ہی نہیں رہ سکتا"  السیاسۃ الشریعہ صفحہ  141
 جہاں تک خلافت کے متعلق احکام کی بات ہے طرز حکومت تو  سنت رسول و خلفاء سے واضح ہے ،  قرآن و  احادیث میں بھی تفصیل موجود ہے،  باقی خلیفہ کے تعین وتقرر کی نسبت حضور نے   خود کوئی حکم نہیں دیا، قرآن کریم نےبھی  یہ تو  بتلا یا کہ  ایک خلیفہ کی ذمہ داریاں کیا ہیں ، کن باتوں سے بچنا اور ڈرنا چاہئے،یہ بھی کہ خلافت کا وعدہ کن کے ساتھ ہے اور  کون کون سے اعمال صالح ہیں جولوگوں اور قوموں کو مستحق خلافت بناتے ہیں، اس کے علاوہ  خلیفہ کے تقرر کے سلسلے  میں شورائیت  کے متعلق آثار بھی  موجود ہیں لیکن خلیفہ کے  تعین  و تقررمتعلق باقاعدہ شرائط نہیں رکھی  گئیں،  اس میں ایک  حکمت  تو  یہ  تھی   کہ خدائے تعالی جس کو چاہتا ہے خلافت عطا فرماتا ہے واللہ یوتی ملکہ من یشاء، دوسری مسلمانوں کو حالات کے مطابق  اپنا خلیفہ چننے اور خلافتی نظام  یا اس جیسے کسی نظام کے تحت  بننے  والے کسی حاکم کی بیعت کرنے کی  آزادی دی گئی، مسلمانوں کو اس بات کا پابند نہیں بنایا گیا کہ جب تک وہ خلافت راشدہ کے طرز پر حکومت کرنے والا کوئی حکمران  نہ دیکھیں اسے خلیفہ تسلیم نہ کریں !!
کیا خلافت صرف خلافت راشدہ تک محدود ہے ؟ 
شاکر صاحب نے لکھا"شاکر کے لیے خلافتِ راشدہ کے بعد کوئی خلافت نہیں۔ جس کو یہ عوام خلافت کہتی ہے وہ شاکر کے لیے ملوکیت ہے، خلاف کے نام پر بادشاہت" ایک اور صاحب  لکھتے ہیں   " ایک نظام جو پچھلے چودہ سو سالوں میں محض چالیس برس تک نافظ رہا ہو وہ جمہوریت جیسے نظام جو کہ ساٹھ ستر سال سے دنیا بھر میں بہترین رزلٹ دے رہا ہے کا مقابلہ کیسے کرے گا؟
  یہ حقیقت ہے کہ اس ادارہ کو ہر زمانہ میں یکساں مقام و مرتبہ حاصل نہیں رہا،  بلکہ اسے قوت و ضعف کے دور سے بھی گزرنا پڑا، اسے صالح اور غیر صالح افراد سے بھی واسطہ پڑا  لیکن اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  اس کو ہر دور میں ملت اسلامیہ کے مرکز اور اتحاد اسلامی کیلئے نشان کی حیثیت حاصل رہی ۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ   جنہوں نے مختلف اختلافات کی وجہ سے  اپنی علیحدہ سے حکومت  قائم کی انہوں  نے بھی خلیفہ وقت سے حکمرانی کی سند اور خلعت ضرور حاصل کی  اور اپنا روحانی رشتہ مضبوط یا برائے نام خلافت سے بحال رکھتے ہوئے اسے ہمیشہ مسلمانوں کا مرکز خیال کیا۔عہد خلافت کو تاریخی کتابوں  میں  مختلف ادوار میں تقسیم  کیا گیا ہے ۔
عہد خلافت راشدہ 11 ہجری تا 41 ہجری۔
عہد خلافت بنی امیہ ۔41 ہجری تا 132 ہجری ۔
عہد خلافت بنی عباس 132 ہجری تا 923 ہجری۔
عہدخلافت  بنی امیہ اندلس 139 ہجری  تا 442 ہجری۔
عہد خلافت عثمانیہ  923 ہجری تا 1342 ہجری۔
خلافت انہی ادوار میں  مختلف صورتوں میں    تقریبا ساڑھے تیرہ  سوسال تک قائم رہی ، جس طرح آج دنیا میں جمہوریت مختلف رنگوں میں  نظر آتی  ہے بلکہ شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں   جمہوری نظام   اپنی اصل    کے مطابق  کام  کررہا  ہو، لیکن پھر بھی ہم اسے جمہوریت ہی کہتے ہیں ۔ ۔ اسی طرح خلافت راشدہ کے بعد کے   ان ادوار میں  اسلامی    سیاسی نظام میں  صاحب اقتدار لوگوں کے ذاتی  حالات،   اسلامی سلطنت کا نظام و نسق دینی لحاظ سے  ضعیف، کمزورضرور تھا ،شاہانہ طرز حکومت کی وجہ سے بادشاہت کا رنگ  بھی ضرور موجود تھا،  لیکن ان  تمام تر خرابیوں کے باوجود اس تیرہ سو سالہ دور میں قضاء کے  نظام کا ریکارڈ شاندار رہا،اس طرح جہاد کا تسلسل بھی ہر دور میں قائم رہا ہے جو دنیا میں مسلمانوں کے رعب ودبدبہ کا ذریعہ بنارہا، اس کے علاوہ  حکومتی  نظام ،حکومتی ادارے اور  محکمے، مسلمانوں کو دینی ، دنیوی اور  مذہبی سہولیات، اسلامی  علوم کی تحقیق وتبلیغ کے شعبہ جات وغیرہ خلافت راشدہ  کے دور کے  مطابق ہی   چلتے رہے ۔ جو  ان ادوار میں مسلمان قوم دینی و دنیاوی ترقی کے عروج پر پہنچی اور مسلمانوں کو ہر میدان میں جو عروج حاصل ہوا، وہ اسی نظام کے مرہون منت تھا ۔ ہم  ان مختلف ادوار کے خلفاء  کی کمزوری یا دین سے دوری کی وجہ سے خلافتی نظام  کا  صریح انکار نہیں کرسکتے ،محقق علماء نے مختلف  ادوار  کی  خلافت کی اپنی  اصل سے مشابہت کے لحاظ سے  بھی  درجہ بندی  کی ہے: 
درجہ اول  : خلافت راشدہ  خاصہ  :جسکو خلافت علی منہاج النبوت  بھی کہتے ہیں ۔  یہ درجہ خلفاء ثلاثہ کو حاصل تھا، ان میں شیخین رضوان اللہ  کا درجہ بہت عالی ہے۔
درجہ دوئم خلافت راشدہ مطلقہ : یہ درجہ اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے  گو کہ پہلے درجہ سے رتبہ میں کم  ہے مگر پھر بھی اسکی شان نہایت ارفع و اعلی ہے۔  اس میں حضرت علی و حسن رضوان  اللہ  علیہم کی خلافت   شامل ہے ، بعض علماء نے درجہ صحابیت اور   مشکوۃ شریف کی مشہور حدیث  میرے بعد اسلام  37 سال  قوت پر ہوگا   ' کو دیکھ کر   حضرت معاویہ رضی اللہ  عنہ کی خلافت کو  بھی اسی میں شامل کیا ہے۔
درجہ سوئم: خلافت عادلہ :  یہ درجہ پہلے دونوں سے گھٹا ہوا ہے ، لیکن خلافت کی شرائط اس میں پائی جاتی ہیں ، بعض نے حضرت معاویہ رضی اللہ کی خلافت کو اس میں شامل کیا ہے ۔ اس قسم میں بعض خلافتیں ایسی کامل ہیں کہ خلافت راشدہ سے مشابہت رکھتی ہیں جیسے عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خلافت۔
درجہ چہارم: خلافت عامہ :  خلافت و نیابت کا یہ درجہ بادشاہت و سلطنت  سے مشابہت رکھتا ہے۔
قرآن  کی مختلف آیات میں آنے والے  خلیفہ، خلفاء، امام آئمہ، ملک و ملوک، سلطان و سلاطین، امیر و امراء، استخلاف فی الارض ، وراثت ارضی  اور تمکین فی الارض وغیرہ  الفاظ اپنے  مصداق میں مترادف اور  ہم معنی ہیں ، ان میں کوئی لفظ کافر و فاسق و ظالم کے لیے خاص نہیں  بلکہ ہر طرح کے  حکمرانوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ احادیث   اور محاورات عرب میں بھی ایسے ہی آئے ہیں   ہیں ، بعض لوگ بادشاہت کو خلاف اسلام یا غیر دینی سمجھتے ہیں ، حقیقت میں یہ کوئی بری چیز نہیں ہے۔ دنیا  کا شروع سے  اصل طرز حکومت  بادشا ہی  نظام ہی رہاہے  قرآن میں بھی  پچھلی قوموں  کے جو بڑے بڑے  حکمرانوں کا تذکرہ ہے  وہ اور خود  نبی سلیمان علیہ السلام اور  یوسف علیہ السلام  بھی بادشاہی نظام سے منسلک تھے ۔  جیسا کہ خلافت کی اصطلاحی تعریف میں آیا  کہ بادشاہت اگر  شرعیت  اور مسلمانوں کے عقائدو نظریات، حقوق   و  ضروریات کا خیال رکھتی ہو تو اس  طرز حکومت میں کوئی  خرابی نہیں۔ مزید  احادیث میں بعد کے مسلم حکمرانوں کی  دینی لحاظ سے کمزوری کی پہلے سے پیش گوئی بھی کی گئی ہے  ۔ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے خلیفہ مسلط ہوں گے جو اچھے اور برے کام کریں گے ، تو جس نے برے کاموں کو پہچان لیا وہ بری ہوگیا اور جس نے برے کاموں کو مسترد کیا وہ سلامت رہا ، لیکن جس آدمی نے برے کاموں کو پسند کیا اور ان کی پیروی کی (وہ سلامت نہیں رہے گا) صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۔(4800 کِتَا بِ ا لْاِ مَا رَ ۃِ مسلم شریف 
 ا س حدیث اس کے بعد بھی اگر  ہمارا اصرار اس پر ہے  کہ اسلامی تاریخ میں  صرف چار خلیفہ ہی گزرے ہیں تو پھر ان چاروں ہی میں سے ہی ہمیں   اچھے اور برے منتخب کرنا ہونگے !!!!
 ایک اور  حدیث    مزید وضاحت کرتی ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’بنی اسرائیل  کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے،جب ایک نبی کا انتقال ہوجاتا تو وسرا نبی اس کا خلیفہ ہوجاتا اور بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور عنقریب میرے بعد بکثرت خلفا ء ہوں گے"
 (515 کِتَا بِ ا لْاِ مَا رَ ۃِ  اِمارت کا بیان "مسلم شریف) "
ان  خلافتی  ادوار میں مسلمانوں کی اجتماعیت  ،  طاقت  اور  خوشحالی کیسے قائم رہی اور  مسلمانوں  کس کس میدان میں  عروج پر پہنچے  ، اس کا تذکرہ تو میں اوپر کرچکا ، تفصیل تاریخی کتابوں میں موجود ہے ۔  جہاں تک جمہوریت اور اس   کے ثمرات جس کی طرف ان صاحب نے اشارہ کیا  'کے متعلق عرض ہے کہ  جمہوریت جیسا نام نہاد آزادی  اور عوامی حقوق کے نعرے لگانے   والا یہودی  سرمایہ دارانہ ذہن   کی پیداوار  نظام کہیں  اور کبھی ان ادوار کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ بلکہ   مجموعی طور پر دیکھا جائے تو  جب سے دنیا میں   یہ  نظام متعارف ہوا  ہے اس سے  دنیا میں جو تباہی و بربادی آئی  ہے اور انسانیت کے لیے جو   مسائل پیدا  ہوئے ہیں وہ  مسلمانوں کی کمزور ترین خلافت یا کسی علاقے کے باغی حاکم  کے دور میں پیدا ہونے والے مسائل   سے بھی بدتر ہیں ۔  اس نظام  کو متعارف کروانے والوں نے اسکے ذریعے دنیا جہاں کی دولت کو سمیٹا،  انسانوں کے حقوق ضبط کیے ،    اپنی مرضی  کے حکمران اور پالیسیاں ان پر مسلط  کیے اور ان کے وسائل پر قبضہ کیا ۔  ۔ ابھی بھی  اس سرمایہ دارانہ  نظام کے ذریعے یہ لوگ جسکا اور  جیسے چاہتے ہیں استحصال کرتے ہیں ،کوئی انکو روک نہیں سکتا۔ ۔ اس موضوع پر میں پچھلی تحاریر میں  اظہار خیال کرچکا ہوں ابھی مزید تفصیل  کی ضرورت نہیں  ویسے بھی  جمہوریت کے ثمرات   سے جو استفادہ پوری دنیا خصوصا پاکستانیوں نے کیا ہے وہ  کسی دلیل یا تفصیل  کا محتاج نہیں ۔۔
آخری بات  
ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح باقی جدید فقہی معاملات و مسائل میں علماء نے  موجودہ دور   کے مسلمانوں  کی رہنمائی کی ، موجودہ حالات و ضروریات  کے مطابق ملکی سطح پر   بھی  خلافت کے نظا م کی تشکیل وتدوین کی جائے، جب تک ایک عالمی  خلافت  کے لیے  راہ ہموار نہیں ہوتی   مسلم دنیا کے لیے مغربی جمہوریت اور ویسٹرن سولائزیشن  کے مقابلے میں خیرالقرون  کے سیاسی نظام کو  معیار بناتے ہوئے  موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق  ملکی سطح پر ایک   خلافت  کے قریب تر طرز حکومت کی تشکیل  کا خاکہ  پیش کیا جائے۔ اس  طرح   ہم آج کی دنیا کو مغربی جمہوریت سے بہتر نظام  حکومت دے سکیں گے اور وقت کے چیلنج کا سامنا  بھی  کرسکیں گے ۔



یہ اردو نسخ کے لیے ہے

10 comments:

گمنام نے لکھا ہے کہ

" ہم آج کی دنیا کو مغربی جمہوریت سے بہتر نظام حکومت دے سکیں گے"

دنيا کو کچھ دينے کے شيخ چلی کے خواب ديکھنے کی بجائے اپنے آپ کو کچھ دے لو-

Muhammad Shakir Aziz نے لکھا ہے کہ

میں تو سمجھا جملہ بہ جمل تحریر کا رد لکھیں گے آپ بس چند پرانے علماء کے اقوال پیش کرنے اور بادشاہت کو اچھی چیز بتانے تک ہی محدود رہ گئے۔
میرا آج بھی یہ ایمان ہے کہ خلافت کا نعرہ لگانے والے پہیہ دوبارہ ایجاد کرنا چاہتے ہیں، یہ صرف خلافت کو اس لیے قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کی بنیاد پر آج کے دور میں جب ساری بادشاہتیں آؤٹ آف آرڈر ہو گئیں، ایک بادشاہت قائم کرنا چاہتے ہیں، چونکہ ساڑھے تیرہ سو سال پہلے بادشاہت چلتی تھی۔ بادشاہت بری ہو یا اچھی، میں کسی ناقص العقل گدھے کو ساری عمر اپنے سر پر بطور حکمران ڈھول بجانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ حکومت ایک ملازمت ہے، باقی ملازمتوں کی طرح اور عوام کا حق ہے کہ وہ اپنا حکمران منتخب کریں۔ اور ہر حکمران باقی ملازموں کی طرح ایک ریٹائرمنٹ ایج رکھتا ہے۔ جب تک گوڈوں میں پانی نہ رہے اور دماغ سٹھیا نا جائے تب تک اسے گھسیٹتے رہنا عوام پر بھی ظلم ہے اور اُس کی جان پر بھی۔ اس لیے بادشاہت نا منظور۔ نہ قرآن نے خلافت کے احکامات دئیے، نہ حدیثِ نبوی ﷺ میں خلافت کا طریقہ کار بتایا گیا۔ مسلمانوں کو وصالِ نبوی ﷺ کے بعد جس طرح مناسب لگا انہوں نے ایک جانشین چنا۔ صرف ایک حکم تھا کہ میرے بعد خلیفہ قریش میں سے ہو گا، وہ بھی ایک سیاسی فیصلہ تھا اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بعد جس کا دل کیا، جس کے ہاتھ میں ڈنڈا آیا، جو اتنے خونی اکٹھے کر سکا کہ اقتدار پر قبضہ کر لے اس نے قبضہ کیا اور پھر اس کی اولاد پھر اسکی اولاد کی اولاد اور پھر اس کی اولاد کی اولاد کی اولاد اور یہ سلسلہ تب تک چلتا رہا جب تک یہ ادارہ اتنا گل سڑ نہیں گیا کہ زمانے کا تغیر بھی برداشت نہ کر سکا، اور ان لوگوں پر بھی بوجھ بن گیا جن پر یہ مسلط تھا۔
دین پر عمل ہو تو کوئی بھی نظامِ حکومت اسلامی ہو سکتا ہے۔ ایران میں محدود جمہوریت اس کی مثال ہے، اگرچہ اس پر بہت سے تحفظات ہو سکتے ہیں لیکن وہ ایک اچھا تجربہ رہا ہے اور پچھلے تیس برس سے جاری ہے۔ معذرت کے ساتھ میں شیعوں کو مسلمان سمجھتا ہوں۔
وما علینا الا البلاغ

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

Anonymous @
نامعلوم صاحب اپنا نام بهی لكھ لیتے تو بہتر ہوتا ، اتنا پرده كیا ہے، سخت جملہ کہنے کے لیے نامعلوم رہنا ضروری تو نہیں

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ


Muhammad Shakir Aziz@
شاکر صاحب معذرت کے ساتھ آپ پہلے سے ایک اپنا ایک ذہن بنا چکے ہیں اس لیے آپ کو خلافت کی لغوی اور اصطلاحی تعریف ،پرانے علماء کے اقوال لگ رہے اور خلافت کے درجات اور بادشاہت کے متعلق قرآن وغیرہ سے اصولی باتیں بھی کچھ فائدہ نہیں دے سکیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ مسلمانوں کا اپنا طرز حکومت ہے چاہے خلافت کہیں یا بادشاہت، اسکا تجربہ جمہوریت کی پیدائش سے بھی پرانا ہے، یہ ادارہ تیرہ سو سال کامیابی سے چلتا رہا ہے، اسکے فوائد سے اہل نظر واقف ہیں ، اسکی ایک دلیل اسکی مسلم دنیا میں اتنے لمبے عرصے تک مقبولیت ہے، آج اسکی ضرورت و اہمیت کیا ہے ؟ اہل علم جانتے ہیں ۔ ۔ اسکو دوبارہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں اور وہ بھی جنہوں نے اسےپورے پلان کے تحت توڑااور لارنس آف عریبیہ جیسے لوگوں کی سالوں کی محنت لگی اور عربوں کے اندر علاقائی ، لسانی عصبیت پیدا کرکے مسلمانوں کی اجتماعیت کو پاش پاش کیا گیا، اس میں مصطفی کمال پاشا جیسے آستین کے سانپ بھی کام آئے ، ترک قوم کی اپنی مرضی اس میں شامل نہیں تھی، ترک لٹریچر اسکا گواہ ہے۔ ۔باقی ایک آدمی ذاتی طور پر یہ چاہ رہا ہو کہ نظام خلافت نہیں آنا چاہیے، چاہے جمہوریت کے راستےزرداری جیسے بدنسل نصف صدی سےاور نسل در نسل حکمران بنتے رہیں اور ہماری چمڑی ادھیڑ کر رکھ دیں ، اس نظام کو برقرار رہنا چاہیے۔۔ یہ ہماری شرعیت کی مخالفت کرتا ہے یا ہمارے قومی حقوق کو دباتا اور نا اہل لوگوں کو ہم پر مسلط کرتا ہے ، اسکو ہمیشہ قائم رہنا چاہے کیونکہ یہ عوام کو ووٹ کی پرچی پر انگوٹھا لگانے کی اجازت دیتا ہے ، اتنا بڑا حق اگر بادشاہ نظام نہیں دیتا تو ہمیں بالکل منظور نہیں ، چاہے ہمارے لیے جتنا مرضی نافع ثابت ہوجائے یا ساری دنیا کیا قرآن بھی اسکی مثالیں پیش کرے۔ ۔ ۔ جناب شریعت ایک عام آدمی کی ذاتی خواہش اور چاہت کے بجائے اجتماعی فائدہ کو سامنے رکھتی ہے ، اس لیے کسی کی ایسی خواہش کی کوئی اہمیت بھی نہیں۔
قرآن و حدیث میں خلافت کا تذکرہ کیسے او ر کیوں آیا اسکے متعلق میں اوپر لکھ چکا آپ اسکا جواب دے دیتے تو بہتر رہتا، شاید آپ نے پوری تحریر پر سرسری نگاہ ڈال کر اپنا تبصرہ پوسٹ کردیا ہے۔۔ جہاں تک ایران کی بات ہے آپ پچھلی تحریر میں اس پر تنقید بھی کرچکے ہیں، آپ نے مصر، ترکی وغیرہ مسلم ممالک میں دینی قوتوں کے اقتدار پر بھی تبصرہ کیا تھا ، پوسٹ کی طوالت کی وجہ سے اس پر کچھ لکھ نہیں سکا، اگلی تحریر میں اس پر تبصرہ کروں گا۔ انشاء اللہ

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

اب مجھے دو گھنٹے کی تقریر کرنے کی ضرورت نہیں رہی (یہ مذاق ہے) ۔ اصل تبصرہ ۔ خوش کِیتا ای شناء ۔ لگا رَے ۔ ویسے میں نے لڑکپن میں سُنا تھا ”بھینس کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا“۔ آجکل سائنس کے پُجاری کہتے ہیں بھینس بھی موسیقی کی رسیا ہوتی ہے ۔ اپنے ہموطنوں کا المیہ تاریخی کُتب کی بجائے تاریخی ناول پڑھنا ہے ۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ فرنگیوں نے مسلم دنیا کو تباہ کرنے کیلئے مسلمانوں کی لکھی تحقیقی کُتب کو غرناطہ ۔ اشبیلیہ بغداد ( 2 بار ۔ ایک بار ماضی قریب میں امریکیوں نے)اور ہندوستان میں تباہ کیا اور علم والوں کو قتل کیا پھر پرانا نظامِ تعلیم ختم کر کے سرماداروں کا بنایا ہوا نظامِ تعلیم رائج کیا ۔ ان سے پوچھیئے کہ جان ایف کنیڈی کو کیوں قتل کیا گیا؟ اُس کا قصور تھا کہ وہ کیتھولک تھا یعنی مذہبی تھا

Muhammad Shakir Aziz نے لکھا ہے کہ

ادشاہت کا ختم ہونا مقدر تھا ایسے ہوئی یا ویسے۔ اس میں بھی اندرونی بے غیرتی کا ہی ہاتھ تھا کہ میر جعفر اور میر صادق ہاتھ آتے رہے۔
حیرت کی بات ہے کہ فرنگیوں کے ہاں ولی عہدی کے لیے مستقل قوانین نتے رہے پہلا بچہ بادشاہ ہو گا باقی جو مرضی کرتے پھریں۔ اور برصغیر کے "دیندار" ٹوپیاں سینے والے بادشاہ بھی سانپ بن کر اپنے اہلخانہ کو اقتدار کے لیے نگل گئے۔ بادشاہت میں جب اختلاف رائے ہوا تو فیصلہ تلوار کرتی تھی آج تلوار کی گنجائش نہیں اختلافِ رائے ختم کرنے کے اور بھی زبانی طریقے موجود ہیں۔
فرنگیوں اور سرمایہ داروں کا نظام کئی صدیوں کی کاوش کے بعد اس سطح پر پہنچا ہے۔ نام نہاد خلافت کی مخالفت کرنے والا ضروری نہیں کہ اس ناقص نظام کا حامی ہی ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مایوسی اور نفرت بڑھ رہی ہے اور اس میں ایسی تبدیلیاں یقیناً آئندہ عشروں میں آئیں گی جو کچھ بہتری کا باعث ہوں گی۔ سو فیصد اکملیت صرف اللہ کی ذات کے پاس ہے،اس دنیا میں مسائل چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خلافت کی رومانویت ہر مسئلے کا حل ہے۔ پچھلے ایک سو سال سے یہی بین سارے برِ صغیر کی بھینسوں کے آگے بج رہی ہے اور ہر انتخابات پر یہ بین فُل والیوم پر چلی جاتی ہے۔ نہ سو برسوں میں القاعدہ کے جنونیوں جیسے خارجی عناصر کے علاوہ عوام نے اس پر کان دھرا اور نہ انشاءاللہ تعالی آئندہ دھریں گے۔
خلافت اور اس جیسی لا تعداد فروعات کو اللہ کے دین میں گھسیٹر کر اسے "نظام" بنانے کی شدید خواہش رکھنے والے، جس میں شلوار کی لمبائی اور بالوں کی کٹنگ کا اسٹائل بھی بتایا گیا ہو، کئی آئے اور گئے۔ اسلام اگر ایسا ہی نظام ہوتا تو قرآن شلوار کی لمبائی بھی گِٹھوں میں بتاتا اور خلاف ورزی کی سزا بھی سناتا۔ لیکن یہاں تو گِٹے ننگے کرنے والے بھی سلفیوں اور سنیوں میں پائے جاتے ہیں، شیعہ کی صورت میں ایک بڑا گروہ ایسے کسے حکم پر عمل نہیں کرتا۔ جو اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ کا دین اتنا رِجِڈ ہوتا تو چودہ سو برس نہ چل پاتا۔ خلافت صرف ایک برانڈ نیم ہے۔ اور برانڈ نیم کا چُوسا ہر قوم میں پایا جاتا ہے، جو حکمران اور طاقتور طبقات عوام کے منہ میں دئیے رکھتے ہیں انہیں خوش رکھنے کے لیے۔ تاکہ وہ اپنا کام کرتے رہیں اور یہ اپنا کام کرتے رہیں۔
میرا خیال ہے اس تحریر پر کافی سے زیادہ توجہ اور وقت صرف کر چکا ہوں، مزید آگے بھینس اور بین والی بات ہی آئے گی۔ جب آپ مزید کسی تحریر کا رد لکھیں گے تب کی تب دیکھی جائے گی۔
وما علینا الا البلاغ

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

میں نے پہلا تبصرہ ایک یونیورسٹی طالب علم سعد کی تحریر سمجھ کر کیا تھا ۔ گستاخی ہو گئی ہو تو معذرت خواہ ہوں ۔ بہر کیف اچھا لکھا ہے ۔ لکھتے رہیئے ۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کی یہ تحریر (خلافت کا لغوی مفہوم سے آخر تک) نقل کر کے کچھ احباب کو بذریعہ ای میل بھیج دوں

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

افتخار اجمل بھوپال @
چچا جی اتنے عرصے بعد بلاگ پر تشریف لائے ہیں، ہماری سرپرستی اور اصلاح فرماتے رہا کریں۔ آپ یہ کیا اس بلاگ کی کوئی بھی تحریر کہیں بھی پوسٹ کرسکتے ہیں۔
حوصلہ افزائی کا شکریہ۔

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

اجازت کا شکریہ

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ



شاکر صاحب آپ نے اب تک جو کچھ لکھا ہیں اس سب کو اکٹھا کرکے پڑھا جائے تو وہ واضح تضاد نظر آتا ہے، ایک طرف آپ ایک مسئلہ، چیز کی حمایت کرتے ہیں اگلے ہی لمحے پھر اسکی مخالفت بھی کرجاتے ہیں، آپ نے خلافت کی بحث شروع کی خلافت راشدہ کو آئیڈیل قرار دیا پھر اگلی پوسٹ میں اسے بھی رگڑ گئے، ایران کے مسئلے پر بات کی اور لکھا کہ دعوت کے لیے تو ایسی ریاست کی ضرورت ہی نہیں، پھر تعریف بھی کرگئے، ابھی جمہوریت کی مخالفت میں ایک لفظ اور حمایت میں چار لائنیں لکھ گئے اور بات بڑھاتے بڑھاتے خلافتی نظام کو کیا سے کیا کہہ گئے ۔ ۔ ۔ خیر خلافت کی میں نے جتنی وضاحت کردی ہے اس کے بعد مزید بحث کی ضرورت بھی نہیں ، آپ نے ماننا ہی نہیں، ہم چاہے جس طریق سے کہہ لیں کہ مسلمانوں نے دنیا پر تیرہ سو سال حکومت دعوت کی لائن سے نہیں سیاست کی لائن سے کی ہے اور جس طریق سے کی ہے وہ اسلام کا اپنا سیاسی نظام ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کو ہر لحاظ سے پوری سپورٹ دیتا ہے۔ ۔ عجیب بات ہے آپ پھر بھی ہمارے لیے ہی بھینس کے آگے بین بجانا لکھ گئے ، خیر آپ کی مرضی ہے ، بات کو لیں یا نہیں ۔ ۔ اس مسئلہ پر مزید بحث نہیں کرتا ، بحث اک حد سے نکل جائے تو دلوں میں نفرت اور کدورت پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے۔ ۔ آپ نے اوپر دو اور مسئلوں کو بھی ساتھ چھیڑا ، شلوار کاٹخنوں سے نیچے کرنا اور اورنگ زیب عالمگیر۔ اورنگ زیب عالمگیر پر پہلے بھی ایک بلاگر نے ایسا اعتراض کیا تھا، یہ محض سیاق سباق کو نظر انداز کرتے ہوئے کی گئی ایک تنقید ہے، اس کی وضاحت کے لیے ایک تحریر درکار ہوگی،، شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا جسکو کسی وہابی کی سنت سمجھا جاتا ہے ، اور آپ نے بھی وہی بات کرکے رافضیوں کے دین سے اسکو غلط ثابت کیا، حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ رافضیت سنت کے خلاف ہی بنایا گیا ہے ایک مذہب ہے، آپ جس مذہب پر چل رہے ہیں اسکے ہر عقیدہ عمل کی مخالفت میں نے انہوں نے اپنا عمل گڑھا ہوا ہے، آپ جس طریق سے انہیں ہر مسئلے میں کوٹ کرتے جاتے ہیں ، لگتا ہے کہ کسی دن کلمہ، نماز بھی انہی کی طرح پڑھنا شروع کردیں گے۔۔۔ ناراض نہ ہوئیے گا۔۔۔ جہاں تک شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی بات ہے تو عرض ہے کہ اس پر صحیح احادیث موجود ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نظر بھی نہیں فرمائیں گے جو ازراہ تکبر اپنی چادر گھسیٹتا ہوا چلے۔۔( اپنے قصد و اِختیار اور اِرادے سے ٹخنے سے نیچے لٹکانے کا منشاء یہی ہوتا ہے، بلاقصد ایسا ہوجائے تو گناہ نہیں)۔” (صحیح بخاری و مسلم، مشکوٰة ص:۳۷۳)۔

اس پر دس کے قریب احادیث ہیں اور متفقہ علیہ بھی ہیں، ان کی بنیاد پر علمائے امت نے اس کو گناہ کبیرہ کہا ہے۔ ۔ ۔ سنتِ نبوی کو حقارت کی نظر سے دیکھنے میں تو گناہ سے بڑھ کر سلبِ ایمان کا اندیشہ ہے۔ اس لیے اس بارے بغیر تحقیق کے بات کرنے سے ڈرنا چاہیے۔۔ آپ کو ڈیٹیل درکار ہوئی تو بتائیے گا پیش کردوں گا۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔