اتوار، 8 ستمبر، 2013

غامدی صاحب اور انکے اساتذہ

 جاوید احمد غامدی صاحب  کا آج کل بڑا غلغلہ ہے, وطن عزیز کا کوئی درخت ایسا نہیں جس کی شاخوں پر ان کا طوطی نہ بولتا ہو۔ بہت سے  جدید تعلیم یافتہ نوجوان انکے لیکچر  سنتے  اور پڑھتے ہیں  اور غامدی صاحب  کی چرب زبانی معاف کیجیے گا طاقت لسانی   و دلائل سے  قائل بلکہ گائل ہوتے جاتے  ہیں ۔ ہمیں  پچھلے دو تین سالوں  سے  فورم، ویب سائیٹس، فیس بک  وغیرہ پر  غامدی صاحب کے شئیر ہونے والے آرٹیکلز، ویڈیو میں   انکے فرمودات سننے کو ملتے رہے،   ان ابحاث  میں جہاں ضرورت محسوس ہوتی تھوڑی بہت  بات کرلیتے ،   کافی عرصے سے یہ ارادہ  کیے ہوئے تھے  کہ   موصوف کے قرآن، و سنت، اجماع امت اور چودہ سو سالہ تعامل کے خلاف انوکھے اور جدید نظریات پر باقاعدہ کوئی تحریر لکھی جائے، لیکن جناب  کےمتعلق  تحریر کا جو خاکہ ہمارے ذہن میں بنتا تھا  اس کو  تحریر ی  شکل  میں منتقل کرنے کے لیے  کافی ٹائم   درکار تھا ،  آخر رمضان اور پھر عید کی چھٹیوں  میں موقع ملا اور  جناب کے متعلق کچھ  لکھنا شروع کیا ۔  وہی ہوا جس کا ہمیں ڈر تھا ، تحریر اتنی طویل ہوگئی کہ ہم اب اسے تین حصوں میں شائع کرنے پر مجبور ہیں۔
 ہمیں احساس ہے کہ دورِ حاضر کے ”مجتہدین“ و ”محققین“ اور ان کا حلقہ ہماری اس سعی و کوشش کو دیوانے کی بڑ سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں دے گا، لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ  سادہ لوح  یا  ذیادہ دینی علم نہ رکھنے  والے  مسلمان، جو دین کے نام پر ایسے لوگوں کی طلاقت لسانی، چرب زبانی اور الٹے سیدھے فلسفے سے متاثر ہوکر، دین و شریعت کے متعلق غلط فہمی کا شکار ہورہے ہیں، ان کے سامنے جب تصویر کا دوسرا رخ آئے گا تو کم از کم وہ اس پر غور و فکر کئے بغیر بھی نہیں رہیں گے۔ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ غلط فہمی کے شکار ایسے مخلصین کے سامنے جب یہ حقیقت کھلے گی کہ غامدی صاحب دین، شریعت، مذہب اور ملت کے خلاف اسی فکر و فلسفہ کے علمبردار ہیں، جس کے داعی مرزا غلام احمد قادیانی اور چوہدری غلام احمد پرویز تھے اور یہ صاحب در حقیقت ان کی فکر و فلسفہ کو تحفظ دینے اور اس کو پروان چڑھانے کے لئے میدان میں اترے ہیں اور ان کے پیچھے بھی وہی قوتیں ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی، چوہدری غلام احمد پرویز اور ڈاکٹر فضل الرحمن کے پیچھے تھیں، تو یقینا وہ اس کی اقتداء سے نہ صرف باز آجائیں گے بلکہ ممکنہ حد تک دوسروں کو بھی اس فتنہ سے بچانے کی سعی و کوشش کریں گے۔ جاوید احمد غامدی پچھلے دس سالوں سے سرکاری سرپرستی، اسلامی نظریاتی کونسل کی بیساکھیوں اور ٹی وی مذاکروں اور پروگراموں کی ”برکت“ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے  ہیں،  عین ممکن ہے کہ میرے جیسے کم علم ”کٹھ ملا“ ”تنگ نظر“ ”شدت پسند“ ”بنیاد پرست“ اور ”انتہا پسند“ کی بات کا، غامدی صاحب جیسے: ”تجدد پسند“ ”کھلے دماغ“ اور ”مجتہدانہ صلاحیتوں کے مالک“ ”حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرا ر دینے کے منصب پر فائز“ ”جدید دین و شریعت کے موجد“دورِ حاضر کے تقاضوں سے میل نہ کھانے والے دین سے آزادی دلانے اور اس کی دورِ حاضر کے تقاضوں سے میل کھاتی جدید تعبیر و تشریح کرنے والے روشن دماغ اسکالرکے مقابلہ میں کوئی وزن نہ ہو، یا اس کو سننے، سمجھنے یا اس پر غوروفکر کے لئے کوئی تیار نہ ہو، تاہم ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے احقاق حق کریں اور قرآن و سنت اور دین و شریعت کی روشنی میں جو بات صحیح ہو، اس کو صحیح اور جو غلط ہو، اس کو غلط کہیں اور لکھیں، ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں اور نہ ہی گمراہی سے بچاسکتے ہیں، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت و ایمان کو اسباب کے ساتھ جوڑا ہے، اس لئے ہم ان اسباب کو اپنانے اور اختیار کرنے کے مکلف ہیں اور یہ کہ قیامت کے دن ہم سے پوچھا جائے گا کہ فلاں دور میں فلاں، فلاں لوگوں نے امت کو گمراہ کرنے کی سازشیں کی تھیں تو آپ لوگوں نے ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کے دین و ایمان کو بچانے کے لئے کہاں تک اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا تھا؟ یا اس کے سدباب کے لئے کیا کیا تھا؟
جناب جاوید احمد غامدی صاحب کون ہیں؟ ان کا علمی پس منظر کیا ہے؟ انہوں نے کہاں پڑھا؟ کیا پڑھا؟ ان کے پاس دینی و عصری علوم کی کوئی سند یا ڈگری ہے یا نہیں؟ وہ کس کے تربیت یافتہ ہیں؟ وہ کن کے علوم و افکار سے متاثر ہیں؟ ان کے اساتذہ کون تھے؟ وہ ایک دم کہاں سے نمودار ہوئے؟ اور دیکھتے ہی دیکھتے کیسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے؟ ان کو ٹی وی پر کون لایا؟ وہ اسلامی نظریاتی کونسل میں کیسے داخل ہوئے؟ ؟ انہیں اپنی فکر و فلسفہ کے پروان چڑھانے میں کن لوگوں نے تعاون کیا؟ یہ وہ  سوالات ہیں جن سے غامدی صاحب کے بہت سے سامعین ، قارئین  و عاشقین بے خبر ہیں  !۔ کہتے ہیں کہ انسان اپنے استاذوں سے اور استاذ اپنے شاگردوں سے پہچانا جاتا ہے۔ آیئے! اس حوالے سے ایک شاگرد، استاذ اور استاذ الاساتذہ کی سوانح اور کردار وعمل کا جائزہ لیتے ہیں ۔
 :حمیدالدین فراہی 
یہ 1900ء کا ذکر ہے۔ ہندوستان پر برطانوی سامراج کی دوسری صدی چل رہی تھی۔ ہندوستان کا وائسرائے مشہور ذہین اور شاطر دماغ یہودی ''لارڈ کرزن'' تھا۔ ان صاحب کو مسلمانوں سے خدا واسطے کا بیر اور صہیونی مقاصد کی تکمیل کا شیطانی شغف تھا۔ انگریز نے برصغیر کی زمین پاؤں تلے سے کھسکتے دیکھ لی تھی۔ سونے کی ہندوستانی چڑیا کے پر وہ نوچ چکا تھا۔ اب مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی دریافت اور ارض اسلام کو اپنے گماشتوں میں تقسیم کرنے کا مرحلہ درپیش تھا۔ لارڈ کرزن کو انگریز سرکار کی جانب سے حکم ملا تھا کہ وہ خلیج عرب کے ساحلی علاقوں میں مقیم عرب سرداروں سے ملاقات کرے اور مطلب کے لوگوں کی فہرست بنائے۔ خلیج عرب کے ساحلی علاقوں سے مراد کویت، سعودی عرب کا تیل سے لبالب مشرقی حصہ جو اس وقت آل سعود کے زیرنگیں تھا، نیز بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات میں شامل سات مختلف ریاستیں اور عمان ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل اور امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ ریت پر لکیریں کھینچ کر ''جتنا کم اتنا لذیذ'' کے اُصول پر عمل کرتے ہوئے جس طرح کیک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے ہیں اسی طرح ''جتنا مالدار اتنا چھوٹا'' کے اصول پر عرب ریاستیں اپنے دوست عرب سرداروں میں تقسیم کرچکے تھے۔ اب اس تقسیم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فیلڈ ورک کی ضرورت تھی اور لارڈ کرزن اپنے مخصوص یہودی پس منظر کے سبب یہ کام بخوبی کرسکتا تھا۔
لارڈ کرزن خلیج عرب کے خفیہ دورے پر فوری روانہ ہونا چاہتا تھا اور اسے کسی معتمد اور رازدار عربی ترجمان کی ضرورت تھی۔ برصغیر میں عربی اس وقت دو جگہ تھی۔ یا تو دارالعلوم دیوبند اور اس سے ملحقہ دینی مدارس، یا پھر علی گڑھ کا شعبہ عربی۔ اول الذکر سے تو ظاہر ہے کوئی ایسا ٹاؤٹ ملنا دشوار تھا۔ لارڈ کرزن کی نظر انتخاب اسی طرح کی مشکلات کے حل کے لیے قائم کیے گئے ادارہ علی گڑھ پر پڑی وہاں ایک مانگو تو چار ملتے تھے۔ مسئلہ چونکہ وائسرائے ہند کے ساتھ خفیہ ترین دورے پر جانے کا تھا جس کے مقاصد اور کارروائی کو انتہائی خفیہ قرار دیا گیا تھا اس لیے کسی معتمد ترین شخص کی ضرورت تھی جو عقل کا کورا اور ضمیر کا مارا ہوا ہو۔ سفارشوں پر سفارشیں اور عرضیوں پر عرضیاں چل رہی تھیں کہ خفیہ ہاتھ نے کارروائی دکھائی اور علی گڑھ کے سر پرستان اعلیٰ کی جانب سے ایک نوجوان فاضل کا انتخاب کرلیا گیا۔ لارڈ کرزن صاحب کو ان کی عربی دانی سے زیادہ سرکار سے وفاداری کی غیرمشروط یقین دہانی کرادی گئی اور یوں یہ عجمی عربی دان مسلمان ہوکر بھی اس تاریخی سفر پر انگریز وائسرائے کا خادم اور ترجمان بننے پر راضی ہوگیا جس کے نتیجے میں آج خلیجی ریاستوں میں استعمار کے مفادات کے محافظ حکمران  کلا گاڑے بیٹھے ہیں اور امریکی وبرطانوی افواج کو تحفظ اور خدمات فراہم کررہے ہیں۔
یہ نوجوان فاضل حمید الدین فراہی تھے۔ جو اُترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں ایک گاؤں ''فراہا'' میں پیدا ہوئے۔ آپ مشہور مؤرخ علامہ شبلی نعمانی (1858-1914) کے کزن تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں تعلیم پائی اور MAO کالج میں عربی پڑھاتے رہے۔ لارڈ کرزن کی ہم راہی کے لیے ان کے انتخاب میں علی گڑھ میں موجود ایک جرمنی پروفیسر ''جوزف ہوروز'' کی سفارش کا بڑا دخل تھا جو یہودی النسل تھا اور آپ پر اس کی خاص نظر تھی۔ آپ نے اس سے عبرانی زبان سیکھی تھی تاکہ تورات کا مطالعہ اس کی اصل زبان میں کرسکیں۔ 
لارڈ کرزن صاحب جناب فراہی کی صلاحیت اور کارکردگی سے بہت خوش تھے چنانچہ واپسی پر انہیں انگریزوں کی منظور نظر ریاست حیدر آباد میں سب سے بڑے سرکاری مدرسہ میں اعلیٰ مشاہرے پر رکھ لیا گیا اور آپ نے وہاں سے اس کام کا آغاز کیا جو قسمت کا مارا یہودیوں کا پروردہ ہر وہ شخص کرتا ہے جسے عربی آتی ہو۔ آپ نے اپنے آپ کو قرآن کریم کی ''مخصوص انداز'' میں خدمت کے لیے وقف کرلیا۔ مخصوص انداز سے مراد یہ ہے کہ تمام مفسرین سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کی کہ قرآن کریم کو محض لغت کی مدد سے سمجھا جائے۔ یہ لغت پرست مفسرین دراصل اس راستے سے قرآنی آیات کو وہ معنی پہنانا چاہتے تھے جس کی ان کو ضرورت محسوس ہو اگرچہ دوسری آیات یا احادیث، مفسرین صحابہ وتابعین کے اقوال اس کی قطعی نفی کرتے ہوں۔ درحقیقت قرآن سے ان حضرات کا تعلق، انکار حدیث پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہوتا ہے جیسا کہ تمام منکرین حدیث کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے اس عیب کو چھپانے کے لیے قرآن کریم سے بڑھ چڑھ کر تعلق اور شغف کا اظہار کسی نہ کسی بہانے کرتے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہی حیدر آباد ہے جہاں شاعرِ مشرق علامہ اقبال جیسے فاضل شخص کو محض اس لیے ملازمت نہ مل سکی کہ وہ مغرب دشمن شاعری کے مرتکب تھے لیکن فراہی صاحب پر لارڈ کرزن کا دست کرم تھا کہ حیدر آباد کی آغوش ان کے لیے خود بخود وا ہوگئی اور انہیں ایک بڑے ''علمی منصوبے'' کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ اس منصوبے نے جو برگ وبار لائے انہیں مسلمانان برصغیر بالخصوص آج کے دور کے اہالیان پاکستان خوب خوب بھگت رہے ہیں۔ فراہی صاحب نے ''تفسیر نظام القرآن'' لکھی جس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ کتب خانوں میں تلاش کرنے سے بھی مل کے نہیں دیتی۔ علامہ شبلی نعمانی، فراہی صاحب کے بارے میں اس وقت شدید تحفظات کا شکار ہوگئے تھے جب ان کی بعض غیر مطبوعہ تحریر ''دارالمصنفین'' میں شائع ہونے کے لیے آئیں لیکن ان کی طباعت سے انکار کردیا گیا کہ زبردست فتنہ پھیلنے کا خطرہ تھا۔ فراہی صاحب اپنے پیچھے چند شاگرد، چند کتابیں اور بے شمار شکوک وشبہات چھوڑ کر 1930ء میں دنیا سے رُخصت ہوگئے۔
 :امین احسن اصلاحی 
فراہی صاحب نے حیدر آباد سے منتقل ہونے کے بعد اعظم گڑھ کے ایک قصبے ''سرائے میر'' میں ''مدرسۃ الاصلاح'' نامی ادارہ قائم کیا۔ نام سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ تفسیر کے مسلّمہ اُصولوں کی اصلاح کرکے نئی جہتیں پیدا کرنا چاہتے تھے۔ آپ کے اس مدرسے میں 1922ء میں ایک نوجوان فارغ ہوا جو اساتذہ کا منظور نظر اور چہیتا تھا۔ فراہی صاحب نے اسے دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ مل کر ''قرآن کریم کا مطالعہ'' کرے۔ یہ نوجوان آگے چل کر فراہی صاحب کا ممتازترین شاگرد اور ان کے نظریات وافکار کی اشاعت کا سب سے بڑا ذریعہ بنا۔ یہ جب مدرسۃ الاصلاح میں داخل ہوا تو امین احسن تھا، فارغ ہوا تو ''امین احسن اصلاحی'' (1904-1997) بن چکا تھا۔ اس نے فراہی صاحب کی وفات کے بعد آپ کی یاد میں رسالہ ''الاصلاح'' جاری اور ''دائرہ حمیدیہ'' قائم کیا۔ اصلاحی صاحب انکار حدیث اور اجماع امت کا منکر ہونے کے علی الرغم جماعت اسلامی کے بانیوں میں سے تھے۔ قیام کے دوران مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ 1958ء میں مودودی صاحب سے اختلافات کی بنا پر جماعت سے علیحدہ ہوئے اور وہی کام شروع کیا جو ان کے استاذ نے آخری عمر میں کیا تھا۔ آپ نے ''حلقہء تدبر قرآن'' قائم کیا جس میں کالج کے طلبہ کو قرآن کریم اور عربی پڑھائی جاتی تھی۔ ساتھ ساتھ ''تدبر قرآن'' کے نام سے تفسیر لکھنے میں بھی کامیابی حاصل کی لیکن اسے مقبول کروانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ فراہی صاحب بہرحال عالم فاضل شخص تھے لیکن اصلاحی صاحب اس پائے کے عالم نہ تھے۔ مغربی علوم تو کیا وہ شرعی علوم سے بھی کماحقہ، واقف نہ تھے۔ ان کی تفسیر میں کئی بچگانہ غلطیاں ہیں جن میں سے کچھ اگلے  مضمون میں قارئین کے سامنے پیش کی  جائیں گی ۔ اصلاحی صاحب ہفتہ وار درس بھی دیتے تھے لیکن انکار حدیث، تجدد پسندی اور لغت پرستی نے انہیں اپنے پیش رو استاذ کی طرح کہیں کا بھی نہ چھوڑا  تھا۔آخر خالد سعود اور جاوید غامدی جیسے شاگرد تیار کرکے 1997ء میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔
:(محمد شفیق(جاوید احمد غامدی
قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں پاک پتن کے گاؤں میں ایک پیرپرست اور مزار گرویدہ قسم کا شخص رہتا تھا۔ مزاروں والا خصوصی لباس، گلے میں مالائیں ڈالنا، ہاتھ میں کئی انگوٹھیاں پہننا اور لمبی لمبی زلفیں بغیر دھوئے تیل لگائے رکھنا اس کی پہچان تھی۔ 18 اپریل 1951ء کو اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ نام تو اس کا محمد شفیق تھا لیکن باپ کے مخصوص مزاج کی وجہ سے اس کا عرف کاکوشاہ پڑگیا۔ یہ خاندان ککّے زئی کہلاتا تھا۔ اس طرح اس کا پورا عرفی نام ''کاکوشاہ ککّے زئی'' بنا۔ محمد شفیق عرف کاکوشاہ ککّے زئی جب گاؤں کی تعلیم کے بعد لاہور آیا تو اسے اپ ٹوڈیٹ قسم کا نام رکھنے کی فکر لاحق ہوئی۔ اس نام کے ساتھ تو وہ ''لہوریوں'' کا سامنا نہ کرسکتا تھا۔ سوچ سوچ کر اسے ''جاوید احمد'' نام اچھا معلوم ہوا کہ ماڈرن بھی تھا اور رعب دار بھی۔ اس نے محمد شفیق سے تو جان چھڑالی اب ''کاکو شاہ ککے زئی'' کے لاحقے کا مسئلہ تھا جو کافی سنگین اور مضحکہ خیز تھا۔ لیکن فی الحال اسے اس کی خاص فکر نہ تھی۔ اس زمانے میں اس کا ایک قریبی دوست ہوتا تھا۔"جناب رفیق احمد چوہدری"۔ وہ ان دنوں اور اس روئیداد کے عینی گواہ ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد 1972ء کا دور تھا۔ کاکوشاہ لاہور گورنمنٹ کالج سے بی اے آنرز کرنے کے بعد معاشرے میں مقام بنانے کی جدوجہد کررہا تھا۔ اس کی انگریزی تو یوں ہی سی تھی لیکن قدرت نے اسے ایک صلاحیت سے خوب خوب نوازا تھا۔۔ وہ تھی طاقت لسانی۔ اس کے بل بوتے پر وہ تعلقات بنانے اور آگے بڑھنے کی سعی میں مصروف تھا۔ آخر کار اس کی جدوجہد رنگ لائی اور وہ اپنی چرب زبانی سے پنجاب کے ایڈمنسٹریٹر اوقاف جناب مختار گوندل کو متاثر کرکے اوقاف کے خرچ پر 29جے ماڈل ٹاؤن لاہور میں ''دائرۃ الفکر'' کے نام سے ایک تربیتی اور تحقیقی ادارہ کی داغ بیل ڈالنے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر جلد ہی قدرت نے اسے  مولانا مودودی مرحوم کے سایہ عاطفت میں ڈال دیا تو جاوید احمد کو فوری طورپر جماعتِ اسلامی میں پذیرائی ملی۔ رکنیت مجلس شوریٰ تو چھوٹی شے ہے، اس کے حواری اسے  مولانا مودودی کا ''جانشین'' بتانے لگے ۔ آخرکار جب جاوید احمد کو جماعت اسلامی سے 1957ء میں الگ ہونے والے مولانا امین اصلاحی سے روابط کا شوق مولانا کے قریب تر اور جماعت اسلامی سے مزید دور لے جانے کا باعث بنا۔ آہستہ آہستہ وہ جاوید احمد سے جاوید احمد غامدی ہوگیا۔ اس لقب کی جناب 'جاوید احمد غامد ی صاحب ' دو چار وجوہات بیان کرتے ہیں اور صحیح ایک کو بھی ثابت نہیں کرسکتے۔ حال ہی میں ان کے ایک شاگرد خاص نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ ''اصل میں وہ اصلاحی صاحب سے عقیدت کی وجہ سے اصلاحی لقب رکھنا چاہتے تھے لیکن ''مدرسۃ الاصلاح'' سے فارغ نہ تھے۔ اس لیے غامدی نام رکھ لیا۔'' سبحان اللہ! چھوٹے میاں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ غامدی نہ اصلاحی کے ہم وزن ہے نہ ہم معنی! آخر کس طرح سے اصلاحی سے غامدی تک چھلانگ لگادی گئی؟؟؟ گویا یہ پانچویں وجہ بھی عار ہی عار ہے اور پورا مکتب فکر مل کر اپنے بانی کے نام کی درست توجیہ کرنے سے قاصر ہے۔
2001ء سے قبل غامدی صاحب کی تحریک پروان چڑھ رہی تھی لیکن اسے کسی لارڈ کرزن کی سرپرستی دستیاب نہ تھی۔ 2001ء میں یہ کمی بھی پوری ہوگئی اور ان کے سرپر عصر حاضر کے لارڈ کرزن کا دست شفقت کچھ ایسا جم کرٹکا کہ وہ شخص جو  دینی اور مذہبی علم کسی باقاعدہ مسلمہ دینی درس گاہ کا مرہون منت نہیں، بلکہ اس کا علم جنگلی گھاس کی طرح خود رو ہے، اور ان کی عقل و فہم کسی مسلمہ ضابطہ کی پابند نہیں ہے، جو  عربی کی دوسطریں سیدھی نہیں لکھ سکتا، جو انگریزی کی چار نظموں اور 4مصرعوں کی پونجی میں آدھے سے زیادہ مصرع چوری کرکے ٹانکتا ہے، جس کی اکثر اردو تحریریں سرقہ بازی کا نتیجہ ہے(ان باتوں کی  تفصیل اگلی تحریر میں  آئے گی )، وہ آج ملک کا مشہور ومعروف اسکالر ہے اور اس کا فرمایا ہوا مستند سمجھا جاتا ہے۔ ''ککّے زئی سے غامدی تک'' کے سفر کی روداد عبرت ناک بھی اور الم ناک بھی۔ سچ ہے استاذ اپنے شاگردوں سے ہی پہچانا جاتا ہے اور شاگرد اپنے استاذ کی پہچان کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ''فراہی سے اصلاحی اور اصلاحی سے غامدی تک'' استاذی شاگردی کا سلسلہ اس مقولے کی صداقت کے لیے کافی سے زیادہ شافی، اور درکار ضرورت سے زیادہ پکی سچی گواہی ہے۔
 غامدی صاحب کے متعلق اوپر جو باتیں لکھی گئیں یقینا  یہ   ان کے بہت سے محبین کے لئے نئی ہونگی ،  ایسا  ہوتا ہے جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات، قرآن و سنت، اجماع امت اور دین و مذہب کو بگاڑنے، اکابر و اسلافِ امت کے خلاف بغاوت کرنے اور ان کے خلاف زبان درازی کرنے کی ہمت رکھتے ہوں، وہ دنیا بھر کی اسلام دشمن قوتوں اور مذہب بیزار لابیوں کے منظور نظر بن جاتے ہیں،  ان کے تمام عیوب ونقائص نہ صرف چھپ جاتے ہیں بلکہ اعدائے اسلام ان کی سرپرستی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو اپنا فرض اور اعزاز سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت و سرپرستی کے لئے اپنے اسباب، وسائل، مال و دولت اور خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ نظری، بصری میڈیا کے ذریعے ان کا ایسا تعارف کرایا جاتا ہے کہ دنیا ان کے ”قدوقامت“ اور نام نہاد علمی شوکت و صولت کے سامنے ڈھیر ہوجاتی ہے۔جس طرح آج سے ایک صدی پیشتر ضلع گورداس پور کی بستی قادیان کے میٹرک فیل اور مخبوط الحواس انسان غلام احمد قادیانی کو استعمار نے اٹھایا، اس کی سرپرستی کی اور اس سے دعویٰ نبوت کرایا، ٹھیک اسی طرح دورِ حاضر کے نام نہاد اسکالر جاوید احمد غامدی کا قضیہ ہے، جس طرح غلام احمد قادیانی کا کوئی پس منظر نہیں تھا اور اس میں اس کے سوا کوئی کمال نہیں تھا کہ اس نے مسلمانوں کے قرآن کے مقابلہ میں نیا قرآن، مسلمانوں کے دین کے مقابلہ میں نیا دین اور مسلمانوں کے نبی کے مقابلہ میں نئی نبوت کا اعلان کیا، جہاد جیسے دائمی فریضہ کو حرام قرار دیا اور حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی عقیدہ کا انکار کیا، ٹھیک اسی طرح جناب جاوید احمد غامدی صاحب بھی دین اسلام کے مقابلہ میں نئے ترمیم شدہ دین اور مذہب کی ایجاد کی کوشش میں ہیں اور انہوں نے بھی اپنے پیش روؤں کی طرح منصوص دینی مسلمات کے انکار پر کمر ہمت باندھی ہوئی ہے۔ 
(جاری ہے)

34 comments:

منیر عباسی نے لکھا ہے کہ

مجھے اس تحریر میں علمی سے زیادہ ذاتی پرخاش والا سلسلہ نظر آرہا ہے۔ اللہ کرے میراے یہ خیال بد گما نی ہی ثابت ہو۔ مگر آپ عربی لغت اور الفاظ اور ان کے سیاق و سباق کے علم کے بغیر قرآن مجید کی تفسیر کر بھی نہیں سکتے۔

مثلا قرآن مجید میں یوسف علیہ السلام کی زبان سے ادا کئے گئے کچھ الفاظ یوں ہیں کہ "اکن من الجاہلین"۔ اب ڈائی ہارڈ قسم کے محبان قرآن اٹھ کر اس جملے کی بہت سے تاویلیں کریں گے مگر کیا آپ کو علم ہے وربی میں لفظ جہل کا اصل معنیٰ کیا ہے؟

اسی طرح امہات المومنین کے سلسلہ میں ایک جگہ، غالبا سورۃ نور، اب مجھے یاد نہیں، ہو سکتا ہے کوئی اورسورۃ ہو، ف حشۃ مبینۃ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

اب بتاؤ آپ؟

تیسری بات یہ کہ ہر علام دین کی ایک خصوصیت اس کے تفردات ہوتے ہیں۔ مثلا شریعت کے بنیادی اصولوں پہ سب متفق تھے۔ ابو حنیفہ ہوں یا سافعی، یا مالک یا احمد بن حنبل، یا جعفر صادق۔ ان سب پر اللہ اپنی رحمت نازل کرے۔ ان سب کے عقائد ایک تھے، کوئی فرق نہ تھا۔

باقی جو مسائل تھے، ان کے سمجھنے میں، فقہ کے مدون کرنے میں ان سب میں اختلافات تھے۔ ان سب میں میں نے جعفر صادق رح کو شامل نہیں کیا۔ میرے علم میں انھوں نے کوئی فقہ نہیں مدون کی۔ وہ ابو حنیفہ رح کے استاد تھے۔ اور یہ سب اختلافات فقہی تھے۔ شرعی نہ تھے۔

ان سب تفردت کے باوجود، ان سب نے ایک دوسرے کو برا بھلا کبھی نہیں کہا۔ کیونکہ ان کی بنیاد درست تھی۔

اب آپ دیکھیں کہ اگر جاوید احمد کی بنیاد درست ہے، شرعی حوالوں سے اس کے عقائد اللہ اور اس کے رسول کی بیان کردی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں تو فقہی معاملات میں اس کی باتوں سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے اور اس اختلاف کو گوارا کرنا چاہئے نہ کہ کفریہ فتاویٰ کا اجرا۔۔

امید ہے آپ میری بات سمجھ گئے ہوں گے۔ بعض معاملات شریعت ہیں، اور بعض فقہ۔ شریعت پر کوئی کمپرومائز نہیں، اور فقہ پر آپ اپنی مرضی سے عمل کر سکتے ہیں، اور میراخیال یہ ہے کہ آپ ضرور کریں، اگر آپ اللہ سے ڈرتے ہوں، اور ظلم نہ کریں اور حق دار کا حق اس تک پہنچائیں۔

اگر جاوید احمد غامدی نے شریعت کے بنیادی اصولوں سے اختلاف کیا ہے تو اگلی اقساط میں اس کو سامنے لائیں۔ فقہی معاملات پر اس کی اختلافی رائے پر اس کو مصلوب کرنا اچھا نہیں لگتا۔

والسلام

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

اللہ ہمت دے اور زیادہ ۔ مجھے بہت سی معلومات حاصل ہوئی ہیں اور مزید کا انتظار رہے گا اللہ نے مہلت اور ہمت دی تو ۔ امین احسن اصلاحی کے متعلق مجھے صرف یہ معلوم تھا کہ جماعتَ اسلامی کو سیاست میں لانے کے فیصلے کے سبب الگ ہوئے مگر مجھے یقین نہیں آیا تھا مگر اعتراض نہ کیا کہ مجھے مودودی صاحب کے بارے بھی کوئی خاص علم نہ تھا ۔ یہ بات ہے 1950ء کی دہائی کے اواخر کی ۔ اوید احمد کے نام کے ساتھ غامدی دیکھتے ہی میرے ذہن نے کہا تھا کہ یہ شخص دھوکے باز ہے ۔ غامد سعودی عرب کا ایک قبیلہ ہے ۔ اس قبیلے کے لوگ اپنے نام کے ساتھ غامدی یا الغامدی لکھتے ہیں ۔ جاوید احمد روزی کمانے کیلئے 10 سال سے زائد سعوودی عرب میں رہا ۔ جہاں سے یہ لاحقہ اس نے اپنے لئے پسند کر لیا ہو گا

یاسر خوامخواہ جاپانی نے لکھا ہے کہ

اگلی اقساط کے آنے کا انتظار ہے۔
اگر جاوید احمد ارکان دین سے منع کرتے ہیں تو باطل ہوں گے ۔
اگر حدیث کا انکار کرتے ہیں تو ایک کثیر التعداد فرقہ فی الحال مسلمان ہی کہلاتاہے۔اور حدیث کا انکار نہ کرنے والا فرقہ کافر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہہ رہا ہے۔
کیوں کہ ہمارے پاس جاوید احمد کی کوئی تحریرنہیں ہے۔آپ کی تحریر ہی پڑھ کر کچھ سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

ڈاکٹر منیر عباسی صاحب غامدی مکتبہ فکر کا یہ دعوی کہ ھم اسلاف کے ساتھ اسی طرح اختلاف کررھے ھیں جس طرح اسلاف آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے رھے ہیں، یہ دعوی بالکل جھوٹ ہے انکا اہلسنت و الجماعت کیساتھ اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے اور شیعہ اثنا عشریہ کی طرح ہے... یہی حال انکی عربی دانی اور تراجم و تفاسیر کا بھی ہے، یہ قرآن کریم کو محض لغت کی مدد سے سمجھاتے ہیں، حالانکہ دوسری آیات، احادیث، مفسرین، صحابہ وتابعین کے اقوال و تشریحات کے بغیر قرآن کے اصل مفہوم کو سمجھنا ہی گمراہی ہے۔ میں اگلی تحاریر میں انہی دو موضوعات پر بات کروں گا. انشاءاللہ
‏‎ ‎آپ لوگوں کا موضوع میں دلچسپی ظاہر کرنے کا شکریہ.

منیر عباسی نے لکھا ہے کہ

چند گزارشات:

ایک تو یہ کہ میں "غامدی مکتبہ فکر کا یہ دعویٰ " ۔۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ میں نے اپنے تبصرے میں جو کچھ لکھا تھا وہ میرے ذاتی خیالات تھے۔ اگر غامدی سوچ کے حامل ایسا سوچتے ہیں تو ہم ان کو منع نہیں کر سکتے۔

دوسرا یہ کہ میرے اُس تبصرے کی بنیاد پر میرے غامدی ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ لگانے سے گریز کریں۔


تیسرا یہ کہ ضروری نہیں اہلسنت والجماعت کا مؤقف ہر حال میں درست ہو۔ میں آج کل مصروف ہوں، دوسرا اس قسم کی متنازعہ ابحاث سے دور رہنا چاہتا ہوں مگر میں، وقت ملنے پر مولانا اشرف علی تھانوی رح سے منقول ایسے اقوال بھی پیش کر سکتا ہوں کہ آپ لوگ اہل تشیع بارے اپنے خیالات سے رجوع کرنے کا سوچنے لگیں۔

جہاں تک قرآن عربی کی سمجھ کے بغیرسمجھنے کی بات ہے تو جب ہم لوگ محمد علی مکی کے ساتھ بحث میں لگے ہوئے تھے تو ان دنوں میں نے این عربی مسودہ "اہلسنت والجماعت " کے کچھ علما کو دکھایا۔ ان میں سے کوئی بھی عربی سے اردو ترجمہ نہ کرسکتا تھا۔ سعید پالن پوری صاحب کی صحبت کی وجہ سے میں اتنا قابل ہو چکا تھا کہ خود سے کچھ ترجمہ کر سکوں اور ان علما سے بہتر ترجمہ کر سکوں۔

یہ علما اپنے اپنے علاقے کے مدرسوں کے اہتمام کی نگرانی کر رہے تھے۔ دیگ کے چند دانوں سے آپ دیگ کا اندازہ لگا لیں۔

آخری بات یہ کہ اب اہلسنت والجماعت میں اکابر پرستی آچکی ہے۔ آج کل تحقیق کا زمانہ ہے، جتنی سہولیات آج کل موجود ہیں اتنی پہلے کبھی موجود نہ تھیں۔ قرآن اور حدیث کی کسوٹی موجود ہے بسم اللہ کیجئے۔

مگر جیسا کہ میں نے کہا، اگر فقہی معاملات میں جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر مختلف ہے تو خدارا اس کی بنیاد ہر ان پر کفر کا فتوٰی مت دائر کیجئے۔ مولانا مودودی رح پر دائر کیا گیا ایک ایسا فتویٰ بھی میں پڑھ چکا ہوں جو کہ مولاناذکریا کی طرف سے منسوب ایک کتاب میں شامل تھا۔ مولانا ذکریا رح کی تالیف کردہ فضائل اعمال سے تو آپ واقف ہی ہوں گے۔
مجھے آپ کی اگلی دو تحاریر کا انتظار رہے گا۔

مجھے یہ تبصرہ ختم کرنے سے پہلے اجازت دیجئے کہ میں کچھ لنک آپ کے بلاگ کے ذریعے قارئین تک پہنچا سکوں۔

پہلی متنازعہ تحریر:
http://www.al-mawrid.org/pages/questions_urdu_detail.php?qid=505&cid=413

اسی سے ملتی جلتی دوسری تحریر میرے بلاگ سے :

http://inspire.org.pk/blog/%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%AF-%D8%A7%D8%AC%D8%AA%DB%81%D8%A7%D8%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B7%D9%81%D9%84-%D9%85%DA%A9%D8%AA%D8%A8/

اس موضوع پر میرے بلاگ سے ہی فریق ثانی کے دلائل:

http://inspire.org.pk/blog/%D9%82%D8%AA%D9%84-%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D9%82-%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%A4%D9%82%D9%81/

اگر آپ تسلی سے ان تحاریر کا مطالعہ کریں تو آپ محسوس کریں گے کہ غامدی صاحب نے المورد کے ژریوے کوئی غلط بات نہیں کی۔ وہ دل کو لگتی بات کہہ رہے ہیں اور یہ کہ مرتد کاقتل کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ اس کی بنیاد پر ان کے گمراہ ہونے کا فتویٰ دے دیا جائے۔

اگر آپ کے پاس وقت ہو تو براہ مہربانی متذکرہ بالا تحاریر میں دی گئی قرآن مجید کی آیات کی تفسیر دوسری آیات، احادیث، مفسرین، صحابہ وتابعین کے اقوال و تشریحات کے مطاق کر دیں اور ثابت کر دیں کہ غامدی صاحب اصولی طور پر گمراہ ہیں اور چونکہ گمراہ ہیں اس لئے ان کو راہ راست پر آنے کے لئے تین دن کا الٹی میٹم دیا جائے ورنہ پھر قتل کر دیا جائے۔


بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

ڈاکٹر صاحب آپ کی باتوں کو میں سمجھ رہا ہوں، ہمارے لوگوں کے اندر بھی کمیاں موجود ہیں، لیکن اسکی وجہ سے میں عمومی طور پر کسی فتنے کو جنم لیتا نہیں دیکھ رہا، مثلا اگر ہمارے کسی عالم کی عربی ٹھیک نہیں ہے تو اس سے میں مسلک یا مذہب پر کوئی حرف نہیں آرہا. ایسے اور ہزاروں موجود ہیں جو اہل ہیں اورعلم والے ہیں، میں ذوق مطالعہ اور تحقیق کا بھی مخالف نہیں، مجھے بھی ہے میں اس کا رد نہیں کررہا، ہان حق تنقید اور عامی کی ایسی تحقیق جس میں اکابر کے موقف پر زد لگتی ہو اسکا رد ضرور کرتا ہوں، میں اکابر علمائے دیوبند کی رائے پر اعتماد کرتا ہوں، میرا ان سے حسن ظن، اعتماد، مسلکی نسبت اور عقیدت سے ذیادہ میرا ذاتی مطالعہ کی بنیاد پر ہے، انکی تحریرات، تشریحات جتنی میں نے پڑھی ہیں ، اس میں ان کو رائے اعتدال پر پایا ہے، کہیں کجی یا مکر نظر نہیں آیا. . جہاں تک شیعت کی بات ہے اس میں زمانے، حالات اورعلاقہ کے لحاظ سے علماء کے درمیان شیعت کے متعلق مختلف رائے رہی ہے اور ہوسکتی ہیں، جیسے مولانا منظور نعمانی صاحب رحمہ اللہ نے اپنی کتاب 'ایرانی انقلاب' میں مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ جیسے علماء کے متعلق بھی لکھا کہ ان کی نظر سے شیعہ کی اصل نہیں گزیریں اس لیے یہ لوگ انکے متعلق مکمل گہرائی میں نہیں جاسکے، موجودہ علماء میں سے مولانا سرفرازخان صفدر، عبدالشکور لکھنوی وغیرہ نے شیعہ اثنا عشری کو جس بنیاد پر کافر قرار دیا ہے وہ اصول اور حقائق کی بنیاد پر ہے اس کے خلاف اگر کسی اکابر کی رائے موجود ہے تو انکی رائے کی انکی دوسری متعلقہ تحریروں کے مطالعہ کے بعد انکی رائے پر کچھ لکھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں لکھا، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے، غامدی صاحب کی طرف واپس آتا ہوں، میری تحاریر کا مقصد تحقیق، مطالعہ کی حوصلہ شکنی کرنا اور اکابر کی اندھی تقلید پر کاربند رہنے پر زور دینا نہیں ہوتا، جیسا کہ میری مختلف فرقوں کے متعلق دوسری تحاریر سے بھی ظاہر ہے،ان میں صرف ان کا صراط مستقیم سے ہٹنا دکھایا ہے، غامدی صاحب پر میرا فتوے لگانے انکو بھی میرا کافر قرار دینے کا کوئی ارادہ نہیں، نہ میں انکو لازمی صراط مستقیم پر لانا چاہتا ہوں، میرا ارادہ صرف انکے علم، حق تحقیق و تنقید، انکے عجیب وغریب فرمودات اورمذہبی تشریحات کو موضوع بحث بنانے کا ہے.. ان سے جس قسم کا فتنہ پیدا ہورہا ہے، وہ جس طرح عام بندے کو تحقیق کی آڑ میں اسلاف سے کاٹنے کی کوشش میں ہیں اور کس طرح اپنے فلسفہ کے تعلیم کی بنیاد پر انہوں نے اصولی مسائل میں اپنی ذاتی رائے کو داخل کیا اور دلائل قائم کیے ہین اور پھر انہی کے اصل دین ہونے پر اصرار کیا ہے وغیرہ وغیرہ.
آپ نے جو کچھ لکھا اسکی بنیاد پر میں نے اپنے ذہن میں آپکے متعلق کوئی منفی رائے قائم نہیں کی، آپ ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور آپ جس لحاظ سے مسئلہ کولیتے اور بات کرتے ہیں وہ کوئی ایسا مشکوک بھی نہیں.مجھے آپ کی باتوں سے بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ اسی طرح تبصرہ کرتے اور راہنمائی فرماتے رہیں۔
اللھم ثبت قلبی علی دینک.

Charagh نے لکھا ہے کہ

منیر عباسی صاحب سے اتفاق ہے۔
کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، اس وقت تمام علوم کا مرکز مغرب ہے اور جدید ذہن کے تمام سوالات جن کی بنیاد فلسفے، سائنس اور جدید تحقیق پر ہے اور جن کا مذہب کو سامنا ہے، مغرب سے آ رہے ہیں۔ ہمارے علماء اور اکابرین عوام الناس اور بالخصوص نئی نسل کو ان سوالات اور اشکالات پر کماحقہ مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تو لامحالہ یہ تمام لوگ اسی طرف رجوع کریں گے جہاں سے ان کو تسلی بخش جواب ملے گا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے علماء مسالک اور اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر اس بات پر غور فرماتے کہ لوگ ان سے متنفر کیوں ہو رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنے تئیں اس کے لیے بہت آسان اور کارگر نسخہ استعمال کیا یعنی مقابل کی شخصیت کو ہی متنازعہ بنا دیا جائے اور اس کے لیے سب سے مفید الزام انکار حدیث اور سلف کی مخالفت ہے۔ یہی حربہ ماضی میں مولانا مودودی کے ساتھ استعمال کیا جا چکا ہے۔
ہمارے علماء میڈیا کے ذریعے بھی بہت مؤثر کردار ادا کرسکتے تھے اور اپنے نکتۂ نظر کو احسن انداز میں لوگوں تک پہنچا کر ان کو مائل کر سکتے تھے لیکن یہ مواقع بھی آپس کے اختلافات اور ذرائع ابلاغ کی چکاچوند کی نذر ہو گئے۔
بہت افسوس ہوتا ہے جب کسی مباحثہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ غامدی صاحب کے مقابلے میں ہمارے چوٹی کے علماء بھی دلیل اور تحقیق کے میدان میں کمزور نظر آتے ہیں، خود اپنے آئمہ کرام کے دیے گئے حوالوں کا جواب نہیں دے سکتے اور بالآخر تان اسی پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ "کیا اسلاف نے غلط کہا تھا" اور "یہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں"۔ ہمارے ان علماء کو یہ ادراک کر لینا چاہیے کہ اب مدارس میں بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث وغیرہ کو ایک دوسرے کے توڑ کے لیے تیار کرنے کی بجائے صرف دین کی بنیاد پر تحقیق کا مزاج پیدا کرنا ہو گا۔ اب اس طرح کے فتاوی سے کام نہیں چلے گا کہ "فلاں کی بات نہ سنیں، فلاں کی تحریر نہ پڑھیں، فلاں کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے" وغیرہ۔
اگر آپ برا نہ مانیں تو میں عرض کروں کہ منفی ردعمل میں جو کچھ لکھا جاتا ہے وہ اپنے مقام اور حیثیت سے پہلے ہی کافی حد تک ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ جاوید احمد غامدی کے بارے میں کی گئی بیشتر تنقید کا مسئلہ بھی ہی ہے کہ تحریر کا موضوع پڑھتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس تحریر کا مزاج کیا ہے اور اس کے اندر سے کوئی علمی بحث برآمد کرنے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ اس کے مقابلے میں جاوید احمد غامدی کی کوئی ایسی تحریر میری نظر سے نہیں گزری جس میں کسی بھی مسلک کی کسی علمی شخصیت کو اس طرح نشانۂ مشق بنایا گیا ہو۔ دعووں کے برعکس کردار کا یہ فرق تو عوام کو واضح نظر آتا ہی ہے۔

آپ نے حمیدالدین فراہی کے بارے میں جو واقعات درج کیے ہیں، بہتر ہو گا کہ ان کے حوالہ جات بھی فراہم کر دیں تاکہ ان کے ماخذ کے بارے میں واضح ہو جائے۔

منیر عباسی نے لکھا ہے کہ

اور میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ بر صغیر کی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو علما کا اپنے ایک خول میں بند ہوجانا ایک اچھی بات بھی ہے اور بُری بھی۔

اور اس کے برے نتائج زیادہ ہیں۔ انگریزوں کے آنے کے بعد نظام تعلیم بدلا اور اس تبدیلی کے ساتھ ہی وہ لوگ جو کہ نظام تعلیم کی سربراہی کر رہے تھے اب اچھوت سمجھے جانے لگے۔ ظاہر ہے جب آپ کو کلرکی کرنے اور ڈبل روتی کھا کر پھول جانے کے لئے ، جیسا کہ اکبر الہ آبادی مرحوم نے ذکر کیا تھا، سکول جانا پڑے تو مدرسہ کو کون دیکھے گا۔

یہ اور بہت سے دوسرے معاشرتی عوامل تھے جنھوں نے علما کو ایک خول میں بند ہوجانے پر مجبور کر دیا۔ اس میں کوئ شک نہیں کہ آج اگر ہم مسلمان ہیں تو انھی ملاؤں کی کوششوں سے ہیں کہ انھوں نے مدارس میں کتب کو محفوظ رکھا۔

ہم ان سب علما کے ممنون ہیں۔ ان کا احسان ہم تا قیامت نہیں اتار سکتے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ علما ہر ایک پر شک کرنے میں جائز تھے۔

جمال الدین افغانی جیسا مشکوک شخص ایک ایجنڈا لے کر سامنے آیا اور اس کا واحد مقصد مسلمان حکومتوں میں انتشار پھیلانا تھا۔ غلام احمد قادیانی جیسا شخص سامنے آیا اور جس طرح اس نے بتدریج مہدیت تک رسائی حاصل کی، سب کے سامنے ہے۔ علما کو اپنی حفاظت کے لئے اس خوف میں مبتلا ہونا ہی تھا۔ اور اس خوف کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب ہر اس شخص پر تنقید کی جاتی ہے جو کہ کوئ ایسی بات کرے جو نئی ہو۔ کوئی نئی بات ماننے سے انکار ہی کر دیا جاتا ہے اس خوف سے کہ کہیں یہ بھی کوئی گمراہ ایجنٹ نہ ہو۔ اگر یہی صورت حال رہی تو مثبت تنقید و تنقیص کب ہو پائے گی؟

میں اپنے والد کے اس نکتہ نظر سے متفق ہوں کہ پاکستان کے قیام کے بعد مدارس کے لئے ایک تعلیمی نصاب و نظام جو کہ وفاق المدارس پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے، نے فائدے سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

ہمیں بہت کچھ درست کرنے کی ضرورت ہے اور ہم ہیں کہ لوگوں کی ذاتی زندگیوں کا کھوج لگا کر ذاتیات میں پھنسے ہوئے ہیں۔

کہنے کو بہت کچھ ہے مگر اگر ترتیب سے کہا جائے تو پڑھنے اور سننے میں لطف بھی آتا ہے۔

یار زندہ صحبت باقی۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ


@منیر عباسی صاحب
ڈاکٹر صاحب انٹرنیٹ كا مسئلہ تھا جسکی وجہ سے کوئی تبصرہ نہیں کرسکا، آپ کی شروع کی ساری باتوں سے اتفاق ہے ، جہاں تک ہر نئی تحقیق پر تنقید کی بات ہے تو میری نظر میں اپنےعلماء کیطرف سے کوئی ایسی تنقید نہیں گزری جو بلاوجہ اور تحقیقی ذہن کی حوصلہ شکنی کے لیے ہو، سوال یہ ہے کہ کیا غلام احمد پرویز ، ڈاکٹر فضل الرحمان، ڈاکٹر عثمانی وغیرہ اور اب غامدی پر تنقید ناجائز اور بلاوجہ کی گئی ہے؟ کیا تحقیق کے لیے اپنی دینی بنیادوں پر تیشہ رکھنا ضروری ہوتا ہے؟کیا تحقیق صرف متفقہ مسائل میں کنفیوزین پیدا کرنے کو ہی کہتے ہیں؟کیا پردہ، داڑھی، حدیث، عقائد ہی تحقیق کے موضوعات ہیں؟ جو تحقیق مثبت ہوئی ہے اس پر تنقید نہیں کی گئی اسی لیے شاید وہ کسی کو نظر بھی نہیں آرہی۔ باقی جہاں تک وفاق المدارس کی بات ہے تو اس کے طریقہ کار میں کمیاں ضرور ہونگی لیکن انکا نظام اپنی مدد آپ کے تحت اور کوئی مستقل آمدن کا ذریعہ نہ ہونے کے باوجود کالج یونیورسٹیوں سے ذیادہ بہتر اور پائیدار ہے جو کڑوڑوں روپے بجٹ کھاتے ہیں، یہاں کے علماء میں تعلیمی استعداد کی کمی کی بات ہے تو میرے خیال میں اسکا انحصار مدرسے سے ذیادہ طلباء پر ہوتا ہے، کیونکہ نصاب تو وہ وہی ہے جو انڈیا کے بڑے مدارس کا ہے، اور ایک ہی مدرسے کے طلباء کی علمی استعداد میں بھی فرق نطر آجاتا ہے۔جہاں تک مدارس کے نصاب میں جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی کتابیں داخل کرنے کی بات ہے تو جو کوئی بھی مدرسے کے موجودہ نصاب کا خود حقیقت کی نظر سے جائز ہ لے گا وہ اس بات سے قائل ہوجائے گا کہ موجودہ نصاب میں جو کتابیں موجود ہیں وہ ضرورت کے مطابق ہیں اور دونوں علوم کو ساتھ ساتھ پڑھانا ناممکن نہیں تو بے فائدہ ضرورہے، طلباء کی دینی علوم میں رہی سہی استعداد بھی ختم ہوجائے گی، یہ ساتھ پڑھانا کوئی ایسا ضروری بھی نہیں ، اسلامی تاریخ کے ان ادوار میں بھی درس نظامی ایسے ہی چلتا رہا ہے جب مسلم ممالک سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں عروج پر تھے۔ ۔ ان علوم کا انکار نہیں اسی لیے جامعۃ الرشید جیسے اداروں نے فارغ التحصیل علماء کے لیے ایسے کورسز شروع کیے ہوئے ہیں،تفصیل انکی سائیٹ سے چیک کی جاسکتی ہے

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

@ Charagh
مغرب جدید سائنسی علوم وغیره كا مركز ضرور ہے جہاں تک مذہب کی بات ہے وہ لوگ خود اپنے مذہب سے بدظن ہوچکے ہیں دوسرے کو کیا مذہبی علم سکھائیں گے، پتا نہیں آپ کو دینی علوم وہاں سے آتے کیسے نظر آرہے، شاید آپ وہاں کی یونیورسٹیوں سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر فرحت ہاشمی جیسے سکالرز کی بات کررہے ہیں، اگر انہی کی طرف اشارہ ہے تو اس پر بات کی جاسکتی ہے کہ انکی علمی استعداد کتنی ہوتی ہے اور انکے علم سے کیا کیا فائدے پہنچ رہے ہیں۔ مغربی آ قاوٴں مستشرقین کے اسلوب واندازمیں حدیث وعلوم حدیث پر لمبے چوڑے مقالے اورتھیسز تیارکرنے سے کوئی دینی عالم نہیں بن جاتا ۔ شکل وصورت ، لباس وپوشاک ، وضع قطع ، چال ڈھال، نشست وبرخاست ،کردار واخلاق، سوچ، فکر ، اہداف ومقاصدہرچیز میں مغرب کی نقالی، ان کی سی زندگی اور لگے ہیں حدیث نبوی پر تحقیق کرنے ، علوم حدیث کی گتھیاں سلجھانے ۔۔۔چندسال دائیں بائیں سے کچھ کتابیں اکھٹی کرلینے ،انہیں الٹنے پلٹنے سے دوسری وتیسری صدی کے مسلمہ ائمہ فن کے آپس میں فیصلے صادر کرنے کاسرٹیفیکیٹ مل جاتا ہے ، بلکہ ایسے ڈاكٹروں کی بھی کمی نہیں جو ائمہ فن کوبھی اپنے پیچھے چلنے پر مجبور کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، . بیسیوں مقالوں میں کوئی خاص چیز نظرنہیں آتی ، بڑے بڑے مسحورکن عنوانات ، القاب و آداب وتفصیل پرمشتمل لمبے چوڑے خاکے، رسمی طریقہ کار کے علاوہ کسی کام کے نہیں ہوتے ، چوری وخیانت کے عجیب وغریب قصے، کہانیاں ہیں، جوپوری ”الف لیلہ ولیلہ “کی داستاں ہے۔ جہاں تک علماء کی بات ہے تو ہمیں اس بات سے اتفاق ہیں کہ اس شعبہ میں بھی دونمبری بھی آئی ہے، علماء کے رنگ میں لوگوں نے اپنی دکانیں چمکائی ہیں، لیکن اچھے اور علم والے لوگ بھی موجود ہیں، تبھی دین اور اسکے ماخذ ابھی تک اپنی اسی حالت میں ہیں جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے تھے، کمی ہمارے اندر ہے کہ ہم نے دین کو اتنی اہمیت ہی نہیں دی ، اچھے لوگوں اور تحقیقات کو تلاش ہی نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر دینی علم سیکھنا چاہتے ہیں اور میڈیا جہاں اور معاملات میں ہماری برین واشنگ کررہا ہے اس نے ایسے لوگ بھی تلاش کر لیے ہیں جو مذہبی لائن سے بھی لوگوں کی ذہن سازی کرسکیں اور وہ یہی غامدی جیسے لوگ ہیں۔ جہاں تک غامدی صاحب کے علم، دلیل اور تحقیق کا تعلق ہے اس پر آپ میری اگلی تحریر ملاحظہ فرمائیے گا، انشاء اللہ کافی باتیں کلئیر ہوجائیں گی۔ آپ نے فرمایا غامدی صاحب پر تنقید میں صرف انکی شخصیت کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ غامدی صاحب صرف علمی بات کرتے ہیں، شاید آپ نے غامدی صاحب کو صرف ٹی وی پر ہی سنا ہے، آپ غامدی صاحب کی کتاب 'برھان' ملاحظہ فرمائیں، پھر بتائیے گا ، کون تنقید اخلاقیات کی حد میں رہ کرکرتا ہے، جہاں تک غامدی صاحب کے مخالفین کی بات ہے تو گوگل پر چیک کر لیں ، آپ کو انکے خلاف لکھے گئے بیسوں آرٹیکل ملیں گے ، ذاتیات پر بات شاید کسی ایک میں ہی نظر آئے گی وہ بھی جوابی ہوگی۔
حمید الدین فراہی صاحب کے بارے میں ہم آپ کو حوالہ جات ضرور دیں گے ، آپ انکے متعلق اپنا موقف و مسلک واضح فرمائیں اور یہ بھی کہ اگرہمارے حوالے قابل اعتبار ہوئے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا۔

fikrepakistan نے لکھا ہے کہ

سبحان اللہ چراغ صاحب، جو جیا دلیل سے جو مرا دلیل سے، اللہ خود اپنے اللہ ہونے کی دلیل قرآن میں دیتے ہیں، لوگ تبصروں میں مسلک پر فرق پڑنے یا نہ پڑنے کی بات کر رہے ہیں، یہ مسلک ہوتا کیا ہے؟ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کونسا مسلک تھا؟ خلفہء راشدین کا کونسا مسلک تھا؟ تو یہ کون لوگ ہیں جو آج کے دور میں بھی خود کو کسی مسلک جیسی چیز سے وابسطہ کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں؟ اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ جنکے اکابرین ٹیلیویژن اسکرین پر غامدی صاحب کے دلائل کے سامنے بغلیں جھانک رہے ہوتے ہیں وہ لوگ غامدی صاحب جیسے جلیل القدر عالمِ دین پر تنقید بھی کرتے ہیں۔

بہت افسوس ہوتا ہے جب کسی مباحثہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ غامدی صاحب کے مقابلے میں ہمارے چوٹی کے علماء بھی دلیل اور تحقیق کے میدان میں کمزور نظر آتے ہیں، خود اپنے آئمہ کرام کے دیے گئے حوالوں کا جواب نہیں دے سکتے اور بالآخر تان اسی پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ "کیا اسلاف نے غلط کہا تھا" اور "یہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں"۔ ہمارے ان علماء کو یہ ادراک کر لینا چاہیے کہ اب مدارس میں بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث وغیرہ کو ایک دوسرے کے توڑ کے لیے تیار کرنے کی بجائے صرف دین کی بنیاد پر تحقیق کا مزاج پیدا کرنا ہو گا۔ اب اس طرح کے فتاوی سے کام نہیں چلے گا کہ "فلاں کی بات نہ سنیں، فلاں کی تحریر نہ پڑھیں، فلاں کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے" وغیرہ۔
اگر آپ برا نہ مانیں تو میں عرض کروں کہ منفی ردعمل میں جو کچھ لکھا جاتا ہے وہ اپنے مقام اور حیثیت سے پہلے ہی کافی حد تک ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ جاوید احمد غامدی کے بارے میں کی گئی بیشتر تنقید کا مسئلہ بھی ہی ہے کہ تحریر کا موضوع پڑھتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس تحریر کا مزاج کیا ہے اور اس کے اندر سے کوئی علمی بحث برآمد کرنے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ اس کے مقابلے میں جاوید احمد غامدی کی کوئی ایسی تحریر میری نظر سے نہیں گزری جس میں کسی بھی مسلک کی کسی علمی شخصیت کو اس طرح نشانۂ مشق بنایا گیا ہو۔ دعووں کے برعکس کردار کا یہ فرق تو عوام کو واضح نظر آتا ہی ہے۔

fikrepakistan نے لکھا ہے کہ

http://aamir-the-observer.blogspot.com/2013/09/blog-post.html

منیر عباسی نے لکھا ہے کہ

آپ کی جذباتی سوچ اچھی لگی۔ مگر ذرا سا زہن کو وسعت دینا سیکھیں۔ آپ ذہین بندے ہو۔ قفس سے نکلو گے تو اندازہ ہوگا کہ آسمان کتنا وسیع ہے۔ :-ڈ

باقی تنقید کی اتنی پرواہ نہ کیا کریں۔ لوگوں کا کیا ہے؟ تنقید برائے تنقید۔ آج کل دین پر، دین کے نام لیواؤں پر تنقید ایک فیسن ہی تو ہے۔ غیر مقلد لوگوں نے کتنا بڑا فتنہ کھڑا کر دیا۔ ایک علیٰحدہ فرقہ بنا بیٹھے۔ صرف اس لئے کہ وہ تقلید نہیں کرتے؟؟
جماعت المسلمین کو دیکھیں، مسلک اور فرقہ واریت سے بالاتر ہونے کا دعویٰ کیا اور فرقہ بنا بیٹھے۔

مگر سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ قران و حدیش پر عمل کرتے ہیں تو انھی فرقوں میں سے آپ کو ایک فرقہ کا انتخاب کرنا ہوگا۔ مجبوری ہے۔ اس کے بغیر آپ کچھ نہیں۔

اور یہ بات آپ اور میں اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس انتخاب کی بنیاد کونسے عقائد ہوں گے۔

Muhammad Hanif نے لکھا ہے کہ

میرے خیال میں آپ مواد پر توجہ دیں، اور ذاتیات پر بحث نہ کریں،، غامدی صاحب نے غامدی اپنے لئے کیوں پسند کیا یہ ان کا ذاتی ذوق یا پسند نا پسند کا معاملہ ھے، وہ بھی یہ سوال اٹھا سکتے ھیں کہ یہ جو عثمانی کہلاتے ھیں کیا یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اولاد ھیں،، یا جامعہ عثمانیہ حیدر آباد سے فارغ ھیں،،، تیسری بات قوم کا انتخاب انسان خود نہیں کرتا ،، اللہ فیصلہ فرماتا ھے کہ کس کو کس کے گھر اور قبیلے میں پیدا کرنا ھے،، اپکی اگلی قسط کا بے چینی سے انتظار ھے !

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

Muhammad Hanif Sb @
جاوید احمد صاحب نے ایک جگہ اپنے نام کی ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ درحقیقت ان کے ایام طفولت میں یمن (شاید سعودی عرب) سے کوئی عرب صاحب ان کے والد سے ملنے آئے تھے جن کے نام کا آخری حصہ ’’غامدی‘‘ تھا، جاوید صاحب کے والد صاحب کو یہ نام اچھا لگا اور انھوں نے اس کو اپنے بیٹے جاوید کے نام کا حصّہ بنا دیا۔
درحقیقت یہ ایک عرب قبیلے ’’بنی غامد‘‘ کی طرف نسبت ہے، اور یہ قبیلہ سعودی عرب کے جنوب میں نجران کے علاقے میں آباد ہے، اِس قبیلے کے لوگ یمن میں بھی آباد ہیں، ہمیں نام پر اعتراض یہ ہے کہ ایک شخص جو خود کو اتنا بڑا مذہبی عالم کہتا ہے وہ اس حدیث کو نہیں جانتاکہ ’’من انتسب الی غیرابیہ۔۔۔‘‘ کوئی شخص اپنے آباء و اجداد یا اپنے قبیلے کے سوا کسی دوسرے قبیلے یا آباء و اجداد کے ساتھ اپنی نسبت جوڑے: فعلیہ لعنۃ اللّٰہ و الملائکۃ و الناس اجمعین (تو ایسے شخص پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے (ابن ماجہ، کتاب الحدود، باب: ۳۶) اسی باب کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ’’ایسے شخص پر جنت کی خوشبو حرام ہے‘‘، ہوسکتا ہے کہ جاوید صاحب کے والد اِس حدیث سے واقف نہ ہوں، لیکن یقین ہے کہ وہ خود تو اس حدیث سے واقف ہوں گے، اور تعجب اس بات پر ہے کہ حصول علم کے بعد بھی انھوں نے اس نسبت کو اپنے نام کے ساتھ باقی رکھا ہوا ہے۔ باقی آپ نے جو تاویل پیش کی اس کے لیے میں یہی کہوں گا کہ جو عثمانی کہلاتے ہیں یہ تو وہ ہی بتاسکتے ہیں کہ یہ نام انہوں نے کیوں اپنے نام کے ساتھ لگایا ہوا ہے، عموما حضرت عثمان رضی اللہ کی محبت کی وجہ سے لوگ اسے اپنے نام کیساتھ جوڑتے ہیں، اسی طرح دوسرے خلفاء سے دینی تعلق کی وجہ سے بھی جیسے فاروقی، صدیقی۔ یہ قبیلوں کے نام نہیں اس لیے اس میں مذائقہ بھی نہیں ہے ۔ دوسری بات ہم نے اس پر اعتراض نہیں کیا کہ وہ ایک ملنگ کے گھر کیوں پیدا ہوئے ، ہم نے صرف انکے نام، ابتدائی زندگی، تعلیمی زندگی وغیرہ پر تبصرہ کیا ہے۔ اگلی تحریر پوسٹ ہوچکی ہے۔ آپ بلاگ کے ہوم پیج پر جاکر اسے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

Charagh نے لکھا ہے کہ

میرے بھائی، میں نے لکھا
"کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، اس وقت تمام علوم کا مرکز مغرب ہے اور جدید ذہن کے تمام سوالات جن کی بنیاد فلسفے، سائنس اور جدید تحقیق پر ہے اور جن کا مذہب کو سامنا ہے، مغرب سے آ رہے ہیں۔"

اور آپ نے اس کے جواب میں لکھا،
"مغرب جدید سائنسی علوم وغیره كا مركز ضرور ہے جہاں تک مذہب کی بات ہے وہ لوگ خود اپنے مذہب سے بدظن ہوچکے ہیں دوسرے کو کیا مذہبی علم سکھائیں گے، پتا نہیں آپ کو دینی علوم وہاں سے آتے کیسے نظر آرہے، شاید آپ وہاں کی یونیورسٹیوں سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر فرحت ہاشمی جیسے سکالرز کی بات کررہے ہیں،"

آپ خود دیکھ لیجیے، میری بات بالکل واضح تھی لیکن میں تو نہیں سمجھ سکا کہ کن الفاظ کی بنیاد پر آّپ نے میری درج بالا تحریر سے یہ مفہوم کشید کیا ہے کہ دینی علوم مغرب سے آ رہے ہیں اور پھر اسی تاثر پر پوری تحریر لکھ دی۔ ہم میں سے اکثر تحقیق و تنقید میں بلکہ عام زندگی میں بھی اس رویے کا شکار ہو جاتے ہیں کہ مخاطب کا اصل مفہوم اور مدعا سمجھے بغیر ہی اس پر بات شروع کر دیتے ہیں۔

اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کے لیے بالکل آسان اور کھلے الفاظ میں اگر کہوں تو یہ کہ آپ ہمارے کسی اچھے بھلے عالم کو مغرب کے کسی اوسط درجے کے دہریے کے سامنے بٹھا دیں تو ہمارے عالم الحادی دلیلوں اور سوالات کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکیں گے۔ یہ دلائل اور یہ سوالات مغربی علوم یعنی جدید فلسفے اور سائنس کی ترقی سے پیدا ہوئے ہیں جن کا مقصد دین کے تصور اور خدا کے وجود کو ہی مشکوک بنا دینا ہے۔ اب چونکہ ہمارے دنیاوی علمی ذرائع تمام کے تمام مغرب سے ماخوذ ہیں اس لیے مغرب کے پیدا کردہ یہ سارے سوالات، اشکال اور ابہام ہماری نوجوان نسل تک بھی پہنچے ہیں اور یہ نسل ایسے موضوعات اور سوالات کو سامنے لا رہی ہے جو یا تو ماضی میں متنازع اور قابل گرفت سمجھے جاتے تھے یا دنیا کی روز افزوں ترقی اور بدلتے ہوئے حالات کی بنا پر پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ بدنیت بھی ہوں لیکن اکثریت واقعتا ان سوالات کا جواب حاصل کرنے اور ان اشکالات کو دور کرنے کی جستجو میں ایسا کر رہی ہے اور یہی موقع تھا جب علمائے دین کو آگے بڑھ کر اس تشنگی اور خلا کو پورا کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے وہی زجر و توبیخ کا روایتی رویہ اختیار کیا اور ایسے موضوعات پر نئی تحقیق اور مکالمہ سے گریز کیا۔
غامدی صاحب کی بات سننے اور سمجھنے والوں میں اکثریت نوجوان اور اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی اسی لیے ہے کہ انہوں نے اسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور بظاہر تحقیق اور دلیل کو اپنا بنیادی موضوع بنا کر فروغ دیا۔ اس سے یہ مطلب کہیں نہیں نکلتا کہ ان کی تمام تر تحقیق درست ہے اور ان کی کسی رائے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔ علم کے میدان میں تو وہی شہسوار ٹھہرا رہے گا جس کی دلیل مضبوط ہو گی۔ آج نہیں تو کل، کمزور دلیل اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔

میں نہ تو غامدی صاحب کے عقیدت مندوں میں سے ہوں اور نہ مجھے ان سے کوئی ذاتی پرخاش ہے۔ لیکن میں نے ان پر ہونے والی بیشتر تنقید میں جس کمی کا مشاہدہ کیا وہ گوش گزار کر دی۔ فراہی صاحب کے ذکر میں حوالوں کی درخواست محض تحقیق کے ایک تقاضے کے طور پر کی ہے۔ بظاہر ایسا کوئی مضمون کسی بھی شخصیت کے متعلق لکھا جا سکتا ہے۔ کسی بھی عالم کی پوری زندگی کی چھان پھٹک کریں تو اس کی تحاریر و تقاریر اور معاملات زندگی سے کچھ نہ کچھ نکات تو ایسے ضرور مل جائیں گے جس کو بنیاد بنا کر ان کی شخصیت کو متنازعہ بنایا جا سکتا ہے۔
معذرت کہ یہاں اس وقت تبصرہ کر رہا ہوں جب آپ کی نئی تحریر آ چکی ہے لیکن چونکہ جس نکتہ کی وضاحت درکار تھی اس کا تعلق آپ کے یہاں کیے گئے جوابی تبصرے سے تھا اس لیے مناسب یہی سمجھا کہ یہیں اپنی گزارشات پیش کر دوں۔ شکریہ۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

بھائی اگر جدید ذہن کے سوالات(جوابات نہیں )مغرب سے آرہے ہیں تو اسکا یہ مطلب کیسے ہوگیا کہ تمام علوم کا مرکز مغرب ہے، میں نے آپ کے سارے کمنٹ کو سامنے رکھ کر اس کا جواب لکھا تھا، آپ نے اچھا کیا اب وضاحت کردی، آپ کے موجودہ کمنٹس کی کافی باتوں کا جواب میں پچھلے کمنٹ میں دے چکا اور کچھ نئی تحریر میں بھی جنکا تعلق غامدی صاحب سے ہے۔ باقی میں اپنی اس بات پر قائم ہوں کہ علماء کا مستشرقین، جدید سائنس اور فلسفیوں کے مذہب کے بارے میں اشکالات اور وساوس کے جوابات پر کام غامدی صاحب سے ذیادہ ہے اور انکی دلیل بھی مضبوط ہے، انکی طرف صرف کمی یہ ہے کہ انکے پاس میڈیا کی طاقت نہیں ہے اور ان کا ذیادہ تر کام کتابوں میں محفوظ ہے ۔۔ہمارا میڈیا پہلے تو اچھے علماء کو بلاتا ہی نہیں، اپنی مرضی کے لوگوں کو چنتا ہے اور ان سے اپنی مرضی کی بات کہلواتا ہے، ذیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ انکو بس خانہ پری کے لیے بٹھایا گیا ، ذیادہ بات کا موقع فریق مخالف کو ہی دیا گیا، اگر کوئی اچھا عالم آبھی جائے تو اسکی بات میں سے صرف اپنی مرضی کی بات کو کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے، اس سلسلے میں مفتی تقی عثمانی صاحب کا جیو کو حدود آرڈینس کے مسئلے پر دیا گیا انٹرویو گواہ ہے۔جیو نے انکی صرف ان باتوں کو پیش کیا جو انکی حدود آرڈینس کی کمپین سے میچ کرتی تھیں اس سےجو نقصان ہوا تقی صاحب اگر انٹرویو نہ دیتے تو اتنا نہ ہوتا ، بہت سے لوگوں کا ذہن ذیادہ خراب ہوا، اس وجہ سے اچھے علماء نے میڈیا پر آنا ہی چھوڑ دیا۔علماء کی جدید سائنس اور فلسفہ پر چند کتابیں ملاحظہ فرمائیں اور انکے اندر دلائل کو بھی چیک کریں۔
http://bunyadparast.blogspot.com/2012/04/blog-post_24.html
اصل میں غامدی صاحب جدید سہل پسند اور نفس پرست ذہن کی خواہش کے مطابق ہیں، اس لیے انکی بات ان لوگوں کوذیادہ پسند بھی آتی ہے ورنہ انکا جدید سائنس اور فلسفہ کے متعلق کوئی بھی قابل ذکر کام موجود نہیں۔ جدید ذہن مذہب کے بارے میں عبادات، شعائر داڑھی، پردہ، دینی روایات اور دینی مراکز سے تعلق کی پابندی سے بھاگنا چاہتا ہے اور غامدی صاحب کا دین انکی بھرپور سپورٹ کرتا ہے، اسی طرح اور مسائل بھی ہیں جن میں غامدی صاحب جیسی شخصیت کی طرف مذہب بیزار اور مغرب سے احساس کمتری کا شکار لوگ کھنچے چلے جاتے ہیں۔۔ ۔

Charagh نے لکھا ہے کہ

شکریہ، آپ کے لنک سے بہت اچھی کتب مل گئی ہیں۔ لیکن مسئلہ وہی ہے جس کا کچھ ذکر آپ نے بھی کیا ہے کہ عوام الناس اور جدید ذہن تک علماء اور ان کی علمی خدمات کی رسائی بہت مشکل ہے۔ میں اس میں مزید اضافہ یہ کروں گا کہ علماء نے بھی بہت حد تک اپنے آپ کو محدود کیا ہے۔ امت کی خیرخواہی کے جذبے میں ان کو صحیح رستے پر لانے اور ادھر ادھر بھٹکنے سے بچانے کے لیے علماء کا کردار اس سے بڑھ کر ہونا چاہیے تھا۔ دین کے ایک داعی کے حیثیت سے تو لوگوں کو پکڑ پکڑ کر آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچانا پڑتا ہے۔ اس کام کے لیے سارے تعصبات بالائے طاق رکھ کر لوگوں تک جانا پڑے گا۔ لیکن ہمارے علماء منبر پر سے اترنے کو تیار نہیں ہیں۔ آپ نے صحیح فرمایا کہ جدید نسل سہل پسند اور نفس پرست ذہن رکھتی ہے لیکن اس صورتحال میں علماء کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ بہرحال علمی قیادت کا ایک خلاء ہے جس کو ہر حال میں پر ہونا ہے۔ اگر علماء اس کو پر نہیں کریں گے تو کوئی اور کر دے گا۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

آپکی بات بجا ہے۔مستند علماء میں سے ایک بڑا طبقہ روایتی انداز میں ہی اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن سب ایسا نہیں کررہے، بہت سے مدارس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق علماء کی تربیت کی طرف آئے ہیں اور اس سلسلے میں بہت زبردست محنت کی جارہی ہے، آپ نے جامعۃ الرشید کا نام تو سنا ہوگا، ان لوگوں نے جہاں علماء کے لیے پروفیشنل کورسسز ایم بی اے وغیرہ کا اہتمام کیا ہے، اسی طرح تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے بھی دینی کورسسز شروع کروائے ہوئے ہیں، ان میں ایک سب سے مشہور کورس انکا کلیۃ الشریعہ ہے، جو گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلباء کے لیے ترتیب دیا گیا، یہ چار سال میں انہیں عالم دین بنانے کا کورس ہے، انکا ابھی گیارواں بیج فارغ ہوا ہے، حال یہ ہے کہ ہر دفعہ انکے پاس اس کورس کے لیے ہزار کے قریب درخواستیں آتی ہیں جن میں سے ان کو صرف پچیس لڑکے منتخب کرنے ہوتے ہیں ، ٹیسٹ ایسا ہے کہ بہت ہی ذہین لڑکے منتخب ہوتے ہیں ۔ بہت سے دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے ہائی کوالیفائیڈ لڑکے فارن ممالک سے اچھی اچھی جاب چھوڑ کر آکر یہاں پڑھ رہے ہیں سٹوڈنت کا سارا خرچہ برداشت کرنےکے ساتھ ساتھ مدرسہ انہیں ہر ماہ پانچ ہزار روپیہ سکالرشب بھی دیتا ہے۔ مدرسہ نے انکو جدید سہولیات کیساتھ پڑھنے اور تحقیق کرنے کا اک زبردست ماحول فراہم کیا ہوا ہے اور اس کے لیے بہترین اساتذہ ہائر کیے ہوئے ہیں، بہت ترتیب کیساتھ انکو جدید دور کی ہر دینی تعلیمی ضرورت سے فلی ایکویپڈ کیا جاتا ہے، انکی سائیٹ سے معلومات لے سکتے ہیں۔
http://www.kulyatushariah.edu.pk/index.php/en/
اس طرح انہی علماء کا ایک شعبہ سوشل میڈیا پر بھی خدمات سرانجام دے رہا ہے، انکا پیج ملاحظہ فرمائیں۔ https://www.facebook.com/majlisEilmi
یہ لوگ کیا اور کیسے کام کررہے ہیں، اگر آپ کے پاس ٹائم ہوتو اسکی جھلک دیکھنے کے لیے انکی یہ چند ویڈیو ملاحظہ فرمائیے گا۔
https://www.facebook.com/media/set/?set=vb.229738743831061&type=2
یہ جامعۃ الرشید کے اس کلیۃ الشریعہ کورس کے فضلاء کی تقریب سے سلیم صافی کا خطاب تھا۔
https://www.youtube.com/watch?v=Bd1gHXFw7hw

یہ سب تو واضح ہے کہ علماء کا طبقہ اتنا نفس پرست ، بیک ورڈ یا کام چور نہیں ہے، وہ اپنی وسعت سے بڑھ کر اپنے طور پر کام کررہے ہیں اور سب کے سامنے یہ کام ہورہے ہیں، لیکن پھر بھی بہت سے جدید تعلیم یافتہ نوجوان ان پر اعتراض کرنے اور ان کو طعنہ دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔۔۔ ۔ اس میں اب قصور كس كا ہے۔؟ اللہ ہمیں ہدایت دے۔

wajdan Alkhairi نے لکھا ہے کہ

اسلام علیکم
غامدی صاحب کی گمراہی اور گمراہ عقائد پہ میں ذاتی تور پہ لکھنا ثاہ رہا تھا ، کتب تو بہت ہیں ان کے خلاف ہر مکتبہ فکر کی مگر انٹر نیٹ پہ کام نہیں تھا خیر اس تحریر کا تو شکریہ مگر ساتھ ہی یہ واضع کرنا ضروری ہے کہ صاحبِ تحریر اس تحیر یر کی آڑ میں باقی مسئالک اور اداروں کو بھی رگڑ رہے ہیں ، ان سے گذراش ہے کہ اصل موضوّ پہ توجہ دیں ورنہ یہاں کون کس سے چھپا ہوا ہی ؟؟؟ فروعی مثال کے اختلاب مدِنظر رکھ کر دوسروں کو طنز کا نشانہ نہ بنائے یا کھل کے اپنے مسئلک کا اظہا کیجئیے وابستگی ظاہر کیجیے :) یقین جانیئے آپ کوئی کمی نہیں پائیں گے یہاں بھی :) ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔ اچھے مصنف کو اچھا منصف ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

الخیری صاحب تحریر میں تو صرف غامدی صاحب پر ہی بات ہوئی ہے، ہاں آخر میں قادیانیوں کی طرف اشارہ موجود ہے۔ آپ کن فروعی مسائل کی بات کررہے ہیں جن کو مدنظر رکھ کر ہم نے دوسروں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ ۔ میرا مسلک میری تحریروں سے ظاہر ہورہا ہے۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

بنیاد پرست صاحب، بلاگر کے کومینٹس میں اردو کی بوڈ کیسے ڈالا جاتا ہے؟ جیسے آپ کےبلاگ میں ہے

گمنام نے لکھا ہے کہ

جاوید احمد غامدی صاحب کے متعلق تحریر کردہ اس مضمون میں تحقیق سے زیادہ ہرزہ سرائی اور استہزاء نظر آیا جو کہ ایک عالم دین اور اچھے اور مہذب مصنف کے شایان شان نہیں ہے۔ اسی طرح قادیانیوں سے ہزار اختلاف کے باوجود آپ کی اس ویب سائٹ پر میں نے ان کا ذکر بار بار پڑھا ہے مگر ہر بار استہزاء اور ہنسی کے ساتھ ذکر کیا ہے اور میں نے ایک غیر جانبدار قاری ہونے کے ناطے یہ محسوس کیا ہے کہ اگر وہ تحریرں ایک قادیانی بھی پڑھے تو شاید اس کا منہ بند ہو جائے مگر آپ اس طرح کی ہرزہ سرائی اور استہزاء سے آپ اس کا دل نہیں جیت پائیں گے اور اس کو صحیح اسلام کی طرف راغب نہیں کر پائیں گے۔
لہٰذا خدا را اپنے انداز تحریر کو خالص ملانوں والا نہ بنائیں کیونکہ ہمیں آپ کے علم و فضل کو دیکھتے ہوئے آپ سے سنت نبوی و اسوہ محمدی اور احکام وآداب قرآنی پر چلنے کی توقع ہے۔
امید ہے آپ کرمفرمائی کریں گے۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

بھئی ہمارا انداز ہی ایسا ہے، علمی بات ہم ان سے کرتے ہیں جو اہل علم ہوں، غامدی صاحب صحابہ و فقہاء کے فہم کو غلط قرار دیتے ہیں حالانکہ انکی علمی حیثیت ایک عالم کی بھی نہیں ہے، اب ایسے بندے پر بندہ کیا ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اعتراض کرے۔ ؟ لیکن ہم نے پھر بھی کوشش کی ہے کہ تنقید بلاوجہ نہ ہو اور استہزاء کی بھی کوئی وجہ ہو۔ باقی قادیانیوں سے متعلق ہماری تحریر میں جو انداز اختیار کیا گیا ہے وہ انکے نبی کے انداز سے کہیں ذیادہ مہذب ہے، قادیانی اپنے نبی کی سنت پر چلتے ہوئے گالی دینے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح گستاخی کرنے سے بھی پرہیز نہیں کرتے، آپ سوشل میڈیا پر انکی حضور کی گستاخی پر مبنی شاعری عام ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ۔ ۔ آپ قادیانوں سے متعلق اس تحریر کو ایک علمی لطیفہ قرار دے سکتے ہیں۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

محترم بنیاد پرست صاحب۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ازراہ کرم مجھے یہ بات کہنے دیجیے کہ اگر غامدی صاحب یا قادیانی صاحبوں نے کوئی بات یا فعل خلاف شریعت کیا ہو اور انبیاء یا اولیاء کی شان میں گستاخی بھی کی ہو تو بھی ان کو برا بھلا کہنادرست نہیں۔ اور یہ بات سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی ہے کہ بہت زیادہ بد زبانی کرنے والوںپر حتی کہ آپ پر ہلاکت کی بد دعا کرنے والوں پر بھی جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ غصہ ہوئیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو روکااور فرمایا کہ دیکھو ان کے اس فعل پریہ رد عمل درست نہیں اورجب حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے ایمانی غیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیں وہ بھی تو آپ کو کتنی بد دعائیں دے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ دیکھو میں نے بھی تو ان کو جواب میں علیکم کہا ہے ۔ گویا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اسی قدر جواب دیا اور ان کے جواب میں ان کو گالیاں یا بد دعائیں نہیں دیں۔ اور بڑے ادب سے درخواست ہے کہ آپ کا طرز عمل اس کے سراسر خلاف ہے ۔
اسی طرح احادیٹ میں آیا ہے کہ بعض اعرابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو آپ کے سامنے منہ پر بر بھلا کہتے مگر آپ خاموشی سے سنتے اور جب حضرت عمر کی تلوار غصے سے باہر آتی تو اس کو روک دیتے اور فرماتے کہ تمہیں ہم دونوں کو نصیحت کرتے ہوئے اس سے بہتر بات یعنی اچھے اخلاق کے مظاہرہ کی صرف نصیحت کرنا چاہیے تھی۔

ایک اور آیت قرآنی سنیے
کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مشرکین کے بتوں کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرما دیا تا کہ کہیں وہ بھی جواب میں آپ کے بتوں کو برا بھلا نہ کہیں ۔
مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو بنیا پرست کہا ہے اور یہی اصل اسلام ہے مگر عاجزانہ درخواست ہے کہ بنیادی پرست کا مطلب ہے صرف اور صرف قرآن اور سنت پر عمل کرنے والا اور براہ کرم اس پر غور بھی فرمائیے گا۔
جوا ب کا انتظار رہے گا۔
والسلام

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

بھائی آپ نے بد زبانی پر احادیث اور قرآن کی آیات سنادیں ذرا ہمیں بھی تو ہماری وہ لائن دکھائیں جو بدزبانی کے زمرے میں آتی ہیں، پتا نہیں آپ کو ہماری بازاری زبان کہاں نظر آگئی ہے۔ ۔ ہم نے جو کچھ لکھا ہے وہ بالکل اخلاق کے دائرے میں ہے اور موضوع کے حساب سے جائز طنز ہے۔ باقی آپ نے لکھا جو حضور صحابہ و اولیاء کی چاہے گستاخی کرتا رہے اسکو برا بھلا کہنا درست نہیں ۔ ۔ بھائی میں آپ کو ایسے لوگوں کے لیے حدیث میں وارد ہونے والے لعنت کے الفاظ دکھا سکتا ہوں۔ ۔
آپ کی نصیحت کا شکریہ۔

Muhammad Hanif نے لکھا ہے کہ

میرا خیال ھے یہ بنیاد پرست صاحب کی اپنی تحریر نہیں ھے بلکہ میں نے کسی اور کے نام سے پڑھی ھے اور محفوظ بھی کی ھوئی ھے،، البتہ نفس مضمون پر گزارش ھے کہ نام سے کسی کے موقف پر کیا اثر پڑھتا ھے اور قوم یا رنگ و نسل حق پر کیسے اثر انداز ھو سکتی ھے،، مجھے افسوس ھے ،میں بات کھل کر کرنے کا عادی ھوں،، ایمانیات میں سے اللہ پر ایمان اسکی تمام صفات کے ساتھ،رسول ﷺ پر ایمان ان کے تمام اختیارات کے ساتھ،، فرشتوں اور کتابوں پر ایمان مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان،، حساب کتاب پر ایمان،، جنت اور جہنم پر ایمان،، ان سب پر غامدی صاحب کا کسی سے کوئی اختلاف نہیں اور یہ ھی بنیاد ھے ،،، پھر کون سی بنیاد غامدی صاحب نے ڈھا دی ؟ اب آیئے عمارت کی طرف جسے اسلام کہا جاتا ھے " بُنی الاسلام علی خمسٍ،، اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پر کھڑی ھے،، شہادتین،، نماز ، روزہ ،حج اور زکوۃ ،،ان تمام باتوں میں غامدی صاحب کا کسی سے کوئی اختلاف نہیں،، معجزات کو وہ مانتے ھیں اور عیسی علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش اور ان کے ھاتھوں مردہ کے زندہ ھونے، اور مٹی کے پرندے کا گوشت میں تبدیل ھو کر اڑ جانا تسلیم کرتے ھیں جیسا کہ قرآن کہتا ھے،، یہ تھی اسلام کی بنیاد اور عمارت،، اس میں کوئی مائی کا لعل ان کے ایمان و اسلام پر انگلی نہیں اٹھا سکتا ! اب رہ گئے باقی فقہی اختلاف تو وہ صحابہؓ میں بھی آپس میں ھوتے آئے ھیں اور بقیہ اکابر میں بھی ،، ان اختلافات پر بات بھی ھو سکتی ھے اور اپنے اپنے نظریئے پر قائم رھتے ھوئے پیار محبت سے زندگی بھی گزاری جا سکتی ھے،، اگر ان آختلافات کی تفصیل دیکھنی ھے کہ صحابہؓ میں آپس کے فقہی اختلافات کس حد تک تھے ،،مگر پھر بھی وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، اس کے لئے پہلی فرصت میں علامہ عامر عثمانی کی کتاب " تجلیاتِ صحابہ" خرید لیجئے ،، اور بھی جو یہ کتاب خرید کر پڑھ سکتا ھے وہ پہلی فرصت میں اسے خرید کر پڑے تا کہ آپ کو پتہ چلے کہ صحابہ بعض اعتقادی امور میں بھی اختلاف رکھنے کے باوجود کس طرح ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے تھے،، اور اس کتاب سے علم کی نئ دنیا بھی آپکے سامنے منکشف ھو گی،، پھر علماء کے مغالطے اور دغا بازیاں آپ کی سمجھ میں آئیں گی !

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ


حنیف صاحب اس تحریر کے کچھ حوالے مجھے مفتی ابولبابہ شاہ صاحب نے فراہم کیے تھے اور وہ انہی کی اجازت سے میں نے تحریر میں دیے۔ باقی جو آپ نے تبصرہ کیا ہے میرا خیال ہے اگر آپ وہ اسی بلاگ پر غامدی صاحب کے نظریات پر لکھی گئی تحاریر کےکمنٹس میں پوسٹ کر دیتے یا ان تحاریر پر کوئی تبصرہ کردیتے تو ذیادہ بہتر رہتا۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

Salam. You mentioned Amin Ahsan Islahi sab with the word "Munkare Hadees" This sounds pretty strange to me as he was a an important companion of Maududi saab and used to actively take part in Tarjuman ul quran. How come Madudui saab had a companion who was a Munakre Hadees in the first place. If my memory doesn't fool me, he (Maudud )had good debates with Pervez on topic of inkare hadees. Kindly share reference material in this regard.

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

گمنام صاحب بلاگ پر تشریف لانے کا شلریہ. اپ یہ دو لنک ملاحظہ فرمالیں.
http://magazine.mohaddis.com/shumara/89-aug2001/1469-molana-ameen-ahsan-islahi-nazaria-hadees
http://kitabosunnat.com/kutub-library/article/urdu-islami-kutub/3-hadees-aur-uloom-ul-hadees/466-inkar-e-hadees-ka-niya-roop.html

Ahmad Nuaman نے لکھا ہے کہ

السلام علیکم
از راہ کرم مجھے اس مضمون کا حوالہ ضرور دیں کہ یہ ساری معلومات کہاں سے لیں آپ نے۔
جزاک اللہ

Muhammad Shakir Aziz نے لکھا ہے کہ

اللہ آپ کو جزائے خیر دے. آج تین برس بعد بھی اس تحریر میں استہزا، ذاتی پرخاش اور ان دیکھی جھنجھلاہٹ ہی محسوس ہوئی ہے علمی نقطہ کوئی برآمد نہیں ہوا. جزاک اللہ خیر.

Muhammad Shakir Aziz نے لکھا ہے کہ

اللہ آپ کو جزائے خیر دے. آج تین برس بعد بھی اس تحریر میں استہزا، ذاتی پرخاش اور ان دیکھی جھنجھلاہٹ ہی محسوس ہوئی ہے علمی نقطہ کوئی برآمد نہیں ہوا. جزاک اللہ خیر.

M Saleem نے لکھا ہے کہ

اس بلاگ پر کی گئی بنیاد پرست صاحب کی تنقید میں سوایے تعصب کے کوئی ایک بھی علمی و عقلی دلیل دکھائی نہیں دیتی لیکن اس سے ایک سبق ضرور ملتا ہے کہ ایک بخار زدہ ذہن جس میں تعصب بھر جایے کس قدر خطرناک ہوتا ہے . چراغ صاحب اور عباسی صاحب نے قابل قدر آرا دی ہیں

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔