<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907</id><updated>2012-03-10T23:23:24.303-08:00</updated><title type='text'>بنیاد پرست</title><subtitle type='html'></subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>34</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-1676850973432369436</id><published>2012-03-08T02:46:00.000-08:00</published><updated>2012-03-08T03:31:14.702-08:00</updated><title type='text'>آسکر ایوارڈ برائے تذلیل مسلماں</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;پچھلے دو ہفتوں سے ہر طرف ایک &amp;nbsp;ہی شور سن رہے ہیں کہ ایک &amp;nbsp;پاکستانی عورت نے آسکر ایوارڈ جیت &amp;nbsp;کر پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا ہے، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آسکر ایوارڈ جیتنے پر شرمین عبید چنائے کو اس کارنامے کی وجہ سے سو ل ایوارڈ دینے کا کہا ہے، سارا میڈیا رٹے لگا رہا ہے &amp;nbsp;کہ یہ اعزاز ہمارے ملک و قوم کے لئے &amp;nbsp;ایک بہت ہی فخر کی بات ہے ، &amp;nbsp;اخبارات میں رنگین سپلیمنٹس شائع ہورہے ہیں ، میگزین اس کی تصویریں اپنے &amp;nbsp;فرنٹ پیج پر لگارہے کہ &amp;nbsp;اس عورت نے اپنی محنت سے پاکستان &amp;nbsp;کو ایک بہت بڑے اعزاز سے نوازا ہے.۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ہم &amp;nbsp;انگشت بدنداں ہے کہ یاالہی اس عورت نے &amp;nbsp;آخر ایسا کیا &amp;nbsp; ہمالیائی کارنامہ سرانجام دے دیا ہے &amp;nbsp;جسکی اتنی تعریف کی جارہی ہے ؟ کیا &amp;nbsp;دنیا میں دو عورتوں کے چہرے پر تیزاب &amp;nbsp;گرانے سے &amp;nbsp;بڑا ظلم عورتوں کے ساتھ کہیں نہیں ہوا &amp;nbsp;اورکیا &amp;nbsp;اس ظلم پر کوئی ڈاکومینڑی موجود نہیں۔۔؟ کیا اس موضوع پر &amp;nbsp;شرمین سے بڑا &amp;nbsp;کارنامہ کوئی &amp;nbsp;اور فلمساز آج تک نہیں سرانجام دے سکا۔ ۔ &amp;nbsp;؟ &amp;nbsp;ہمارے ناقص علم کے مطابق صرف امریکہ محکمہ انصا ف کی رپورٹ &amp;nbsp;ہے کہ &amp;nbsp;امریکہ میں ہر پانچ منٹ میں &amp;nbsp;ایک عورت کے ساتھ ریپ کی واردات ہوتی ہے، یورپ میں ہزاروں لڑکیاں ریپ کے بعد قتل کردی جاتیں ہیں، یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ &amp;nbsp;فلسطین میں اسرائیلی ، کشمیر میں انڈین ، عراق &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;افغانستان &amp;nbsp;نیٹو فوجوں نے &amp;nbsp;عورتوں کے ساتھ کیا &amp;nbsp;سلوک کیا اور کررہے ہیں &amp;nbsp; &amp;nbsp;؟ &amp;nbsp;امریکی حکومت نے پندرہ لاکھ سے ذیادہ عراقی اور افغانی معصوم شہریوں کے خون میں ہاتھ رنگے ، &amp;nbsp; افغانستان اور عراق &amp;nbsp;کی &amp;nbsp;ہزاروں &amp;nbsp;جوان لڑکیاں انہی یورپ ، امریکہ کے بازار حسن میں بک گئیں ، &amp;nbsp; بھائیوں کی آنکھوں کے سامنے ان کی بہنوں کے ساتھ ریپ کیے گئے، بمباری سے &amp;nbsp; لاکھوں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم اور معذور &amp;nbsp; ہوگئے اور ہورہے ہیں، خود &amp;nbsp;اسی پاکستان میں ہزاروں بچے، عورتیں ،بوڑھے ڈرون حملوں میں جل کر راکھ ہوگئے ہیں ، &amp;nbsp;'انسانوں کا غم رکھنے والے ان منافقوں نے یہود &amp;nbsp;کے ایک ہولوکاسٹ کے واقعے پر کئی سو ڈاکو منٹریاں &amp;nbsp;تو بنا لیں &amp;nbsp;ان &amp;nbsp;پر کوئی فلم کیوں نہیں بنائی، &amp;nbsp;ویت نام پر امریکہ &amp;nbsp;نے &amp;nbsp;تاریخی مظالم &amp;nbsp;کیے &amp;nbsp;تھے اس پر کوئی ڈاکو مینٹری نہیں بنی۔ اس آسکر &amp;nbsp;ایوارڈ دینے والی تنظیم کی منافقت اور &amp;nbsp;تعصب سے خود انکے اپنے لوگ آگاہ ہیں &amp;nbsp; ۔یہی وجہ تھی کہ فلم دی گاڈ فادر &amp;nbsp;کے ہیرو مارلن برانڈو نے &amp;nbsp;اپنا آسکر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا وہ جانتا تھا کہ یورپ اور امریکہ کے لوگوں نے &amp;nbsp;یہاں کے اصلی باشندوں ریڈ اندین پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں &amp;nbsp; &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;ہالی وڈ کی فلمیں &amp;nbsp;الٹا انہی مظلوموں کو &amp;nbsp;ظالم شو کررہی &amp;nbsp;ہیں &amp;nbsp; ۔ ادارکار جارج سکاٹ &amp;nbsp;نے اپنی فلم پر یہ کہہ کر آسکر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا کہ یہ انتہائی بدیانت تنظیم ہے۔دنیا کے کئی اہم موضوعات اور مظالم پر &amp;nbsp;کئی &amp;nbsp;حساس دل لوگوں نے &amp;nbsp;دستاویزی فلمیں بنائیں ہیں &amp;nbsp; ان کو آسکر ایوارڈ دینا تو دور کی بات ان کو فلموں کی لسٹ میں ہی نہیں رکھا جاتا۔خود شرمین کی فلموں پر نظرڈالیں تو &amp;nbsp;کئی فلمیں ایسی ہیں جن میں &amp;nbsp;انسانی کرائسز دو عورتوں کے چہرے پر تیزاب گرائے جانے کے واقعہ سے بھی ذیادہ شدید ہیں ۔ &amp;nbsp;اسکی ایک فلم ‘ عراق دی لاسٹ جنریشن &amp;nbsp;ہے &amp;nbsp;جس &amp;nbsp;میں انہی &amp;nbsp;آسکر ایوارڈ دینے والوں کے ملک اور انکی &amp;nbsp; اتحادی فوجوں کے &amp;nbsp; محض عراق کے ذخائر &amp;nbsp;پر قبضہ کے لیے کئے گئے حملوں سے عراق میں آنے والے تباہی &amp;nbsp;اور ساری عوام خصوصا مہاجرین کی &amp;nbsp;افسوسناک حالت کو دکھایا گیا ہے &amp;nbsp;, شرمین نے تو اس &amp;nbsp;مغربی دہشت گردی پر ایک لفظ نہیں بولا بلکہ الٹا دفاع کرتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ فسادا ت کانتیجہ قرار دیا ۔ یہ چیز &amp;nbsp;دیکھنے والا اپنے طور پر &amp;nbsp;محسوس کرسکتا ہے کہ مغربی &amp;nbsp;اتحادی &amp;nbsp;فوجوں نے اس قدر درندگی کا مظاہر ہ کیا ہے &amp;nbsp;کہ نہتی عوام کو بھی نہیں بخشا ۔ &amp;nbsp;ایک اور فلم جس کا نام ہائی وے آف ٹئیررز ہے۔ اس میں کینڈا &amp;nbsp;میں گمشدہ ہونے والی درجنوں عورتوں اور انکے گھرانوں کا تذکرہ ہے۔ آسکر ایوارڈ والوں کو دوپاکستانی مسلم عورتوں کے چہروں پر گرائےگئے &amp;nbsp; تیزاب &amp;nbsp;پر بننے والی ڈاکومینڑی اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اسے آسکر ایوارڈ کا حق دار سمجھ لیا، &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;انہیں &amp;nbsp;اسی ڈائریکٹر کی عراق میں بننے والی فلم نظر کیوں نہیں آرہی جس میں &amp;nbsp;انہی کی فوجوں کی بمباری سے بچوں &amp;nbsp;، عورتوں، &amp;nbsp;بوڑھوں &amp;nbsp;کے صرف چہرے نہیں پورے پورے جسم &amp;nbsp;جلے &amp;nbsp;، &amp;nbsp;مسخ &amp;nbsp;اور معذور &amp;nbsp;ہوئے دکھائی دیتے &amp;nbsp;ہیں &amp;nbsp; &amp;nbsp;اور وہ &amp;nbsp;مہاجر کیمپوں میں سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہےجہاں سیونگ فیس کا نہیں سیونگ لائف کا مسئلہ ہے۔ &amp;nbsp;؟ اگر ان لوگوں کو دنیا کی عورتوں کا اتنا ہی احساس ہے تو یہ &amp;nbsp; کینیڈا میں &amp;nbsp;اغوا ہونے والی درجنوں عورتوں پر بننے والی ڈاکومینڑی کو کیوں اگنور کررہے ہیں ۔ ۔ ۔ ؟ &amp;nbsp;دنیا میں مختلف انتہائی اہم ٹاپک پر ہزاروں فلمیں بن چکیں ہیں &amp;nbsp;، آخر وہ فلمیں آسکر ایوارڈ کی حق دار کیوں نہیں ٹھہرتیں ۔ ۔ ؟ شرمین کی &amp;nbsp;اس سیونگ فیس &amp;nbsp;فلم سے پہلے 2002میں اس &amp;nbsp;کی فلم ٹیررز چلڈرن پر اسے &amp;nbsp;کئی بین الاقوامی ایوارڈ دیے گئے۔۔ 2003 میں اس کی دستاویزی فلم &amp;nbsp; ری انوینٹنگ &amp;nbsp;دی طالبان کو &amp;nbsp;چار مختلف بین الاقوامی ایوارڈز ملے ۔ &amp;nbsp;2010 &amp;nbsp;میں پاکستانی طالبان/ جنریشن &amp;nbsp;چلڈرن آف دی طالبان پر &amp;nbsp;اسے &amp;nbsp;ایمی ایوارڈ &amp;nbsp;دیا گیا ۔ ان تین فلموں &amp;nbsp;میں کیا دکھایا گیا ہوگا وہ ان کے نام سے ہی ظاہر &amp;nbsp;ہورہا ہے ۔ ۔ ۔؟ &amp;nbsp;آخر کیا وجہ ہے کہ ایوار ڈ کے لیے ہمیشہ &amp;nbsp;مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ فلمز &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;مسلم معاشرے کے منفی پہلو کو اجاگر کرنے والی ڈاکومینڑی &amp;nbsp;ہی منتخب ہوتیں ہیں۔ ۔ ؟اسکا جواب یہی ہے &amp;nbsp;کہ یہ لوگ اپنے ہی لوگوں کے کیے گئے &amp;nbsp;ان انسانیت کش کارناموں پر &amp;nbsp;بننے والی فلموں پر ایوارڈ &amp;nbsp; دے کر دنیا کے سامنے اپنے لوگوں کو ذلیل کیوں کروائیں &amp;nbsp;۔ ۔ ؟ ان &amp;nbsp;فلسطین ، عراق، افغانستان میں &amp;nbsp;پر بننے والی فلموں &amp;nbsp;میں تو ان &amp;nbsp;مسیحاؤں کی اپنی فوجیں یہ &amp;nbsp;سب &amp;nbsp;کارنامے کررہی ہیں ۔ ۔۔ ؟ &amp;nbsp;اس &amp;nbsp;سے تو &amp;nbsp;خود ان &amp;nbsp; انسانی حقوق کے عالمی چیمپئنوں کے چہروں سےخوشنما نقاب اتر جائیں گے ۔ ۔ ۔ &amp;nbsp;ان منافقوں کی اپنی &amp;nbsp;حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ ۔ ۔ &amp;nbsp;اس ایوارڈ کی ذیادہ حقدار تو &amp;nbsp;وہ فلمیں ہیں جن میں ظالم مسلمانوں کو شو کیا گیا ہے ۔ &amp;nbsp;۔ ۔ یہ &amp;nbsp; ایوارڈ تو &amp;nbsp;انہوں نے &amp;nbsp;مسلمانوں کے معاشرے کے منفی پہلو اجاگر کرنے والے اپنے پسندید ہ فلمسازوں کو دینا ہے &amp;nbsp; ، جیسے انہوں نے شرمین کی چند عورتوں کے تیزاب سے جلنے والی فلم پر ایوارڈ دیا، تاکہ دنیا کو پتا چلے کہ &amp;nbsp;انہیں مسلمان عورتوں کی کتنی &amp;nbsp;فکر ہے۔ ۔ ۔ ? وہ ظالموں کے خلاف اور &amp;nbsp;ان مظلوم عورتوں کے ساتھ ہیں۔ ۔ ۔ &amp;nbsp;اس سے ان کے &amp;nbsp;چہرے پر شرمندگی بھی نہیں ہوگی &amp;nbsp;اور انہیں دنیا میں انسانوں کا خیر خواہ بھی کہا جائے گا۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آسکر ایوار ڈ والوں کی &amp;nbsp;طرح کی یہی منافقت مغرب کے ہر شعبہ میں نظر آتی ہے۔ &amp;nbsp; انکا میڈیا &amp;nbsp;اپنے &amp;nbsp;مسلمان ملکوں پر حملہ آور ظالم فوجیوں کو &amp;nbsp;مظلوم اور شہید ہونے والے معصوم مسلمانوں کو دہشت گرد اور ظالم بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ۔ ۔ انکے نيشنل چينل پر نشر ہونے والي &amp;nbsp;اسلام اور مسلمانوں كے متعلق ۸۵ فيصد خبريں مسلمانوں كے خلاف اور منفي ہوتي ہيں۔فلسطين و عراق ميں ناجائز قبضہ ، وحشيانہ حملوں اور مسلمانوں كے اپني سر زمين كے حق دفاع سے چشم پوشي كرتے ہوئے ، حملہ آور &amp;nbsp;دشمنوں كے مقابلہ میں مسلمانوں كي طرف سے ہونے والي مزاحمت كے مناظر كو دہشت گردی كے عنوان سے نشر كيا جاتا ہے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;غیر وں سے متعلق تو ہماری مذہبی کتابوں نے بھی پہلے سے &amp;nbsp;گواہی دے رکھی تھی &amp;nbsp;کہ یہ یہود ونصاری مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے، ہماری &amp;nbsp;انسانی حقوق کی ملکی تنظیموں کا کردار بھی ان یہودیوں سے مختلف نہیں ہے، ہماری اس &amp;nbsp;نام نہاد معمار پاکستان، دخترپاکستان ، بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ &amp;nbsp;عورت &amp;nbsp;شرمین &amp;nbsp;نے &amp;nbsp;تین &amp;nbsp;سے زائد فلمیں &amp;nbsp;طالبان کے حملوں اور انکے بچوں پر &amp;nbsp;تو بنا دیں ، جن &amp;nbsp;میں &amp;nbsp;دکھایا گیا ہے کہ اس نے &amp;nbsp;وہاں کےمہاجر کیمپوں &amp;nbsp;کے &amp;nbsp;دورے کیے ، وہاں کے بچوں سے انٹرویو لیے اور &amp;nbsp;ایک پلاننگ کے تحت مدارس کو خود کش حملہ آوروں کی ٹریننگ کے مراکز شو کیا &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;طالبان کے حملوں سے چند تباہ شدہ سکولوں کی ویڈیو دکھائیں( ملکی اخبارات میں شایع شدہ رپورٹس کے مطابق کئی جگہوں پر ٹھیکیداروں نے خود سکول تباہ کروائے تاکہ بعد میں انہیں تعمیرات کیلئے ٹینڈر مل سکیں) ۔ &amp;nbsp;اسکو &amp;nbsp;انہی علاقوں میں ڈرون اٹیک سے زخمی ہونے والے بچوں ، عورتوں کا انٹرویو کرنے کا خیال کیوں نہیں آیا، &amp;nbsp;ڈرون حملوں سے تباہ شدہ گھروں کی ویڈیو بنانے سے اسے کس نے روکا۔ ہماری نظر میں ایک &amp;nbsp;مستند رپورٹ کے مطابق ان &amp;nbsp;ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والوں کی تعداد 2711 ہے۔ ہلاک شدگان میں سیکڑوں عورتیں ہیں اور 178 معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔ ان &amp;nbsp;جل کر راکھ ہونے والے ان ہزاروں بچوں، عورتوں کے متعلق &amp;nbsp; اس عورت نے یا کسی اور نے کوئی فلم کیوں نہیں بنائی ۔ ?? یہاں ان &amp;nbsp;معماروں ، پاکستان کا درد رکھنے والوں کی زبانیں، قلم ، کیمرے کیوں رک جاتے ہیں ؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;جنگ کے معروف کالم نگار عرفان صدیقی صاحب &amp;nbsp; &amp;nbsp;مغرب اور انکے پسند یدہ لوگوں &amp;nbsp;کی اسی مخصوص مکروہ ذہنیت اور کام کے طریقہ کار &amp;nbsp;کے &amp;nbsp;متعلق تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں &amp;nbsp;لکھتے ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ایک تاثر تو یہ ہے کہ آسکر ہو یا کوئی اور عالمی اعزاز صرف اسی صورت میں کسی پاکستانی شخصیت، ادارے، تنظیم یا این جی او کا مقدر بنتا ہے جب زیر نظر فلم، تخلیق، کارنامے یا ادب پارے میں پاکستانی معاشرے کی کوئی گھناؤنی، متعفن اور نفرت انگیز تصویر پیش کی گئی ہو۔ یوں پاکستان کی کسی شخصیت ادارے، تنظیم یا این جی او کے سینے پر ایک تمغہ سجا کر بظاہر پاکستان کو شاباش دی جاتی ہے لیکن درحقیقت پاکستان کا تیزاب زدہ مسخ چہرہ ساری دنیا کو دکھا کر ، یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان، درندوں کی کمین گاہ ہے جہاں اس نوع کے بھیانک جرائم معمولات حیات کا درجہ رکھتے ہیں۔ عزتیں بانٹنے والے یہ بڑے بڑے ادارے، کسی تخلیق کو جانچنے کی اپنی کسوٹی رکھتے ہیں۔ ان کے کچھ من پسند موضوعات اور پرکشش نعرے بھی ہیں۔ لازم ہے کہ تخلیق کا نفس مضمون ان موضوعات اور ان نعروں سے ہم آہنگ ہو اور اُن وسیع تر مقاصد کی آبیاری کرتا ہو جو اعزازت کے عالمی تقسیم کاروں کے پیش نظر ہوتے ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-1676850973432369436?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/1676850973432369436/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/03/blog-post_08.html#comment-form' title='11 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/1676850973432369436'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/1676850973432369436'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/03/blog-post_08.html' title='آسکر ایوارڈ برائے تذلیل مسلماں'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>11</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-495191429969323858</id><published>2012-03-02T23:26:00.001-08:00</published><updated>2012-03-02T23:31:55.458-08:00</updated><title type='text'>کیا مسلمانوں کی علمی پسماندگی کے ذمہ دار امام غزالی ہی ہیں؟</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;چند ہی دن پہلے ایک جگہ کسی کا اعتراض پڑھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے علمی زوال میں امام غزالی کا اہم کردار ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;دو وجوہات نے مجھے اس معاملے کی تہہ میں جانے پر اکسایا۔ ایک تو یہ کہ اس طرح مجھے تاریخ کے متعلق کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ دوم یہ کہ اتنی بڑی بات کو بغیر تحقیق قبول کر لینا کوئی علم دوست رویہ نہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;پہلا مرحلہ تھا دعوے کا تجزیہ کرنا جس کے نتیجے میں اپنی آسانی کے لیے میں نے اسے ان دو حصوں میں تقسیم کیا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اول یہ کہ امام غزالی نے ریاضی کو ایک شیطانی کھیل قرار دیا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;دوم یہ کہ امام غزالی کی وجہ سے مسلمان سائنس سے دور ہو گئے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;مکمل تحریر پڑھنے کے لیے&lt;span style="font-size: large;"&gt; &lt;u&gt;&lt;a href="http://tezabiat.blogspot.com/2012/03/blog-post.html" target="_blank"&gt;&amp;nbsp;اس لنک&lt;/a&gt;&lt;/u&gt; &lt;/span&gt;پر کلک کریں&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-495191429969323858?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/495191429969323858/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/03/blog-post.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/495191429969323858'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/495191429969323858'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/03/blog-post.html' title='کیا مسلمانوں کی علمی پسماندگی کے ذمہ دار امام غزالی ہی ہیں؟'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-9000040600059018301</id><published>2012-02-19T02:47:00.000-08:00</published><updated>2012-02-22T23:15:53.531-08:00</updated><title type='text'>مُلا ہی ہر برائی اور فتنہ کا ذمہ دار کیوں ؟</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;a href="http://columns.izharulhaq.net/" target="_blank"&gt;اظہار الحق&lt;/a&gt; صاحب ہمارے بلاگستان کے ایک قابل اور عوام کا درد رکھنے والے قلم کار ہیں، انکی باتیں &amp;nbsp;چونکہ دل سے نکلتیں ہیں اس لیے جو جو پڑھتا ہے اس کے دل پر اثر کرتیں جاتیں ہیں، ، ہر ٹاپک پر بڑی سنجیدگی اور وقار سے بات کرتے ہیں ۔ &amp;nbsp; چند دن پہلے انہوں نے &amp;nbsp;ایک کالم لکھا " اسے مسجد کے دروازے پر جوتے مارے جائینگے" کالم کیا ہے عوام کا درد رکھنے والے ایک حساس آدمی کی پکار ہے، اس کالم میں انہوں نے &amp;nbsp; ان (عوامی بیماریوں منافقت، جھوٹ، کرپشن &amp;nbsp;) &amp;nbsp;کا تذکرہ کیا جنکی وجہ سے &amp;nbsp;ہمارا معاشرہ اور ملک &amp;nbsp;تنزل کا شکار ہے ۔ &amp;nbsp;ہمارے معاشرے میں واعظین اور ناصح چونکہ علما ہیں ا س لیے انہوں نے علما سے بھی شکوہ کیا &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;انکے اس طبقہ &amp;nbsp;میں شامل کالی بھیڑوں کا ذکر بھی کیا۔ &amp;nbsp;کالم ہر لحاظ سے مکمل تھا لیکن ایک &lt;a href="http://fikrepakistan.wordpress.com/2012/02/15/%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1-%DB%8C%DA%A9%D8%AC%DB%81%D8%AA%DB%8C/" target="_blank"&gt;صاحب &lt;/a&gt;جنہیں علماء دشمنی کا فوبیا ہے &amp;nbsp; &amp;nbsp;انہیں &amp;nbsp;شاک گزار کہ اظہار صاحب نے &amp;nbsp;علما کے متعلق اتنی کم بات کیوں کی۔اس پر انہوں نے اپنے طور پر " اظہار الحق سے اظہار یکجہتی "کے نام پر علما و مدارس کے خلاف پورا ایک &amp;nbsp;آرٹیکل لکھ مارا اور &amp;nbsp;جی &amp;nbsp;بھر &amp;nbsp;کرمدارس اور علمائے کرام پر طعن وتشنیع کے نشتر برسائے &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;گالیاں دیں ۔ &amp;nbsp;ایسی معاشرتی برائیاں جن کے علما ذمہ دار نہیں انہیں &amp;nbsp;بھی &amp;nbsp;علما کے &amp;nbsp;سر تھونپ کر &amp;nbsp;اپنے قلب و جگر کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اظہار صاحب میرے &amp;nbsp;بزرگ ہیں اور میرے اساتذہ کی جگہ ہیں، میں یہ تو نہیں لکھ سکتا کہ انہوں نے غلط لکھا ہے، نہ ان کے کوٹ کیے گئے ایک &amp;nbsp; مولوی کی کرپشن کے واقعہ کا انکار کرتا ہوں &amp;nbsp;۔ &amp;nbsp;میں تو ایک ادنی &amp;nbsp;، نا &amp;nbsp;تجربہ کار طالب &amp;nbsp;علم ہوں جسے &amp;nbsp;اردو بھی صحیح نہیں لکھنی آتی ، &amp;nbsp;میں بس اس مسئلہ کو ایک الگ &amp;nbsp;زاویہ سے دیکھتا ہوں &amp;nbsp;اس کے متعلق سوال و جواب کی شکل میں &amp;nbsp;کچھ بات کروں گا.&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;کیا مسجد کا &amp;nbsp;مولوی حقیقی معنوں میں عالم بھی ہے ؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;میرے خیال میں اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں اور مسئلے کی تحت تک پہنچنا چاہتے ہیں &amp;nbsp;تو &amp;nbsp;سب سے پہلے ہمیں &amp;nbsp;یہ تحقیق کرنا &amp;nbsp;ہوگی &amp;nbsp;کہ جن لوگوں &amp;nbsp;کو ہم مولوی کہہ رہے ہیں کیا وہ حقیقت میں &amp;nbsp; عالم بھی &amp;nbsp; ہیں &amp;nbsp; ۔؟&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;حدیث میں آتا &amp;nbsp;ہے&amp;nbsp;العلماء و رثۃ الانبیاء ۔&amp;nbsp;علما انبیا &amp;nbsp;کے وارث ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ جو انبیا کے حقیقی وارث ہیں وہ کرپٹ نہیں ہوسکتےاورجہاں کرپشن ہوئی &amp;nbsp;وہاں حقیقت میں &amp;nbsp;علم کو منبر تک پہنچنے ہی نہیں دیا گیا ۔ &amp;nbsp;منبر رسول جب &amp;nbsp;نااہل لوگوں کے حوالے کردیا &amp;nbsp;گیا، تو پھر &amp;nbsp;وہ ان مقاصد کے لیے استعمال ہوا جن کے لیے نہیں ہونا چاہیے تھا ، لازم ہے اس کے ذمہ دار &amp;nbsp;علما اور دینی مدارس قطعا نہیں.&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;اگر مسجد کا ملا &amp;nbsp;ٹھیک نہیں تو اسکا ذمہ دار کون ہے ؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;مساجد میں محض چندہ کی باتوں، کافر کافر کے &amp;nbsp;کھیل، فرقہ پرستی کی باتوں، کرپشن، &amp;nbsp; غیر ضروری مسائل پر تقریروں کے &amp;nbsp;ذمہ دار &amp;nbsp;اگر علما &amp;nbsp;و مدارس بھی نہیں تو پھر کون &amp;nbsp;ذمہ داراہے؟&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; اس &amp;nbsp;کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ &amp;nbsp;ان مولویوں کا انتخاب &amp;nbsp;کون کرتا ہے &amp;nbsp;؟ کون یہ طے &amp;nbsp;کرتا ہے کہ اس منبر پر کون بیٹھے گا ؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;ہم میں سے ہر بندہ جانتا ہے کہ یہ انتخاب &amp;nbsp;اس علاقے کی مسجد کے وہ ریٹائرڈ سرکاری بابو &amp;nbsp;کرتے ہیں ، جنکو سرکاری دفتروں سےیہ کہہ کر فارغ کردیا جاتا ہے کہ آپ &amp;nbsp;اب ایکسپائر ہوگئے اور مزید کام کے نہیں رہے ،وہ &amp;nbsp;پھر مسجد کی کمیٹیوں کی صدارت پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ہمارے ایک دوست کے &amp;nbsp;مطابق انکے علاقہ کی ایک &amp;nbsp;مسجد &amp;nbsp;میں &amp;nbsp;امام وخطیب کے لیے &amp;nbsp; تین مہینے تک &amp;nbsp;اماموں کے انٹرویو ہوتے رہے ۔ پانچ چھے ریٹائرڈ حضرات بیٹھ کر ایک امام کو بلاتے &amp;nbsp;دوسرے &amp;nbsp;کو بلاتے،تین مہینہ بعد &amp;nbsp;آخر میں &amp;nbsp;امامت و خطابت کے لیے ایک بائیس &amp;nbsp;سال کے لڑکے کا انتخاب کیا گیا &amp;nbsp; اور &amp;nbsp;وجہ انتخاب یہ بتائی &amp;nbsp;گئی کہ اس کی آواز بہت اچھی ہے ۔ اب &amp;nbsp;ہمیں &amp;nbsp;اس نوعمر سے کیا توقع رکھنی چاہیے کہ جب وہ &amp;nbsp;ممبر &amp;nbsp;پر بیٹھے گا تو کیا &amp;nbsp;گفتگو کرے گا ؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;ہمارے لوگوں کا &amp;nbsp; معیار انتخاب &amp;nbsp;ہی یہی ہے کہ انہیں &amp;nbsp;صرف &amp;nbsp; اچھی آواز سننی ہے، انہیں وہ &amp;nbsp;مولوی چاہیے جو &amp;nbsp;نعتیں اچھی پڑھ سکتا ہوں، &amp;nbsp; تھوڑے سر لگا سکتا ہو ۔ ۔ ۔ &amp;nbsp;جب یہ &amp;nbsp;اچھے سر لگانے والے گویے &amp;nbsp; &amp;nbsp;مولوی بن کر &amp;nbsp;منبرپر بیٹھیں گے تو &amp;nbsp;پھر منبر &amp;nbsp;ومحراب کا تقدس اسی طرح ہی پامال ہوگا جس طرح ہمارے &amp;nbsp;گلی &amp;nbsp;محلے کی مسجد میں ہوتا نظر آتا ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;طریقہ کار یہ ہونا چاہیے &amp;nbsp;کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ جو لوگ انتخاب کررہے ہیں &amp;nbsp; &amp;nbsp;ا ن کے اندر انتخاب کرنے کی &amp;nbsp;اہلیت &amp;nbsp;بھی ہے یا نہیں۔ ؟ &amp;nbsp;جب ایک پرائمری پاس آدمی یونیورسٹیوں کے پروفیسر منتخب کرنا شروع کردے گا تو اس یونیورسٹی کی &amp;nbsp;تعلیم کا کیا &amp;nbsp;حال ہوگا ؟ &amp;nbsp;جب &amp;nbsp;ایک کمپوڈر ڈاکٹروں کا انتخاب کرنا شروع کردے گا &amp;nbsp;کہ کس آپریشن کے لیے کونسا ڈاکٹر مناسب ہے &amp;nbsp;اس ہسپتال کے مریض کا حال کیا ہوگا ؟ &amp;nbsp;جب &amp;nbsp;کچہریوں کے اندر بیٹھے ہوئے منشی سپریم کورٹ کے ججوں کا انتخاب کرنا شروع کردیں گے تو &amp;nbsp; مقدمات کا حال کیا ہوگا ؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;جہاں پر انتخاب ٹھیک ہوا ، منبر اہل افراد کو سپرد کیا گیا ان کی برکت سے &amp;nbsp;بہتری بھی آئی &amp;nbsp;ہے &amp;nbsp;، &amp;nbsp;وہاں &amp;nbsp;کے نمازی سلجھے ہوے اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، معاشرے میں ہمیں جو تھوڑی بہت دین کی جھلک نظر آتی ہے یہ انہی کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ اس کےلیے ہمیں اپنی &amp;nbsp;قوم &amp;nbsp;میں شعور &amp;nbsp;پیدا کرنا ہوگا کہ وہ اس فیلڈ کے ماہر حضرات کی نگرانی میں &amp;nbsp;اپنے منبر و محراب کیلئے &amp;nbsp; واعظ امام &amp;nbsp;کا انتخاب کریں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;حقیقی عالم کی موجودگی اور وعظ و نصیحت کے باوجود &amp;nbsp;معاشرے میں برائی کیوں ہے &amp;nbsp;؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاشرے میں ہمیں جو برائیاں نظر آرہی &amp;nbsp;ہیں &amp;nbsp;ان کے ذمہ دار علما اور واعظین ہیں &amp;nbsp;۔ دلیل میں مسلمانو ں کے پہلے دور کی مثالیں دیتے ہیں &amp;nbsp; کہ اس دور میں مساجد &amp;nbsp;سے حکومتیں چلائی جاتیں تھیں، عوام کے فیصلے مساجد میں ہوتے تھے &amp;nbsp;، اظہار صاحب نے &amp;nbsp;بھی اپنی تحریر کے &amp;nbsp;آخر میں کچھ تجاویز دیں ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;میں اس متعلق یہ کہو ں گا کہ &amp;nbsp;علما کا &amp;nbsp;منصب صرف تلقین کا ہے وہ صرف &amp;nbsp;نصیحت &amp;nbsp;کرسکتے ہیں ، نصیحت پر &amp;nbsp;عمل درآمد کرانے &amp;nbsp;کے ادارے دوسرے ہیں۔ &amp;nbsp; &amp;nbsp;اسلامی نظام نہ ہونے کی وجہ سے آج ایک اچھے سے اچھے عالم &amp;nbsp;کی اتھارٹی &amp;nbsp;بھی صرف اتنی ہے کہ وہ صرف اپنی مسجد میں آنے والے چند بندوں کے سامنے &amp;nbsp;وعظ کرسکتا ہے ۔ &amp;nbsp;بعض مساجد میں تو &amp;nbsp;اسے کھل کر بات کرنے پر مساجد سے ہی نکال دیا جاتا ہے۔گستاخی معاف جب اسکی اتھارٹی کا یہ حال ہے تو &amp;nbsp; پھر ہم &amp;nbsp;کیسے توقع رکھتے &amp;nbsp;ہیں کہ &amp;nbsp;وہ &amp;nbsp;ٹیکس چوری کرنے والوں کو ذلیل کرے گا، &amp;nbsp;تجاوزات &amp;nbsp;قائم کرنے والوں کو جوتے مارے گا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;رہی یہ بات &amp;nbsp;کہ اسے عوام سے مخاطب ہونے کا سب سے ذیادہ موقع ملتا ہے &amp;nbsp;پھر اس کی وعظ ونصیحت کے باوجود معاشرے میں برائی کیوں ہے ؟ &amp;nbsp;اس سوال کے جواب میں میں بھی ایک سوال پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں &amp;nbsp;کہ &amp;nbsp;اقبال &amp;nbsp;ہمارا قومی شاعر &amp;nbsp;ہیں &amp;nbsp;، انکی شاعری ہمارے سکولوں کالجوں میں ایک لازمی مضمون &amp;nbsp;اردو میں &amp;nbsp;باقاعدہ پڑھائی جاتی ہے، اقبال نے خودی کی تعلیم سب سے ذیادہ دی ، آپ مجھے بتائیں &amp;nbsp;ہمارے ملک میں خودی کتنے لوگوں میں ہے۔؟ &amp;nbsp;اگر پیغام کے اتنے &amp;nbsp;ویلڈ طریقے سے پہنچنے کے باوجود &amp;nbsp;خودی لوگوں میں موجود نہیں ہے تو &amp;nbsp;اس میں اقبال کا کیا قصور ہے ؟ &amp;nbsp; قائد اعظم کے اقوال ہمارے سامنے ہیں، آئین &amp;nbsp;کی دفعات ہمارے سامنے ہیں ، &amp;nbsp;ہمارے سیاست دانوں اور قوم نے ان پر کتنا عمل کیا ؟&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; &amp;nbsp;نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سوسال تبلیغ کی صرف اسی لوگ ایمان لے کر آئے ، کیوں &amp;nbsp;؟ کیا انہوں نے وعظ و نصیحت میں کوئی کمی کی ؟کیا وہ فرقہ واریت کی تعلیم دیتے تھے ؟ &amp;nbsp; نبی سے ذیادہ اچھے طریقہ سے وعظ کون کرسکتا ہے ؟کیا &amp;nbsp;وہ باقی لوگوں کی گمراہی کے ذمہ دار ہیں؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;میں اپنی بات پھر دہراؤں گا کہ &amp;nbsp;جو صحیح معنوں &amp;nbsp;میں عالم اور مولوی &amp;nbsp; ہیں انہوں نے بات پہنچانے میں &amp;nbsp;کوئی کوتاہی نہیں کی، &amp;nbsp;جو وراثت نبوت &amp;nbsp;ان تک نسل درنسل چلتی ہوئی پہنچی تھی اس وراثت کا پورا خیال رکھتے ہوئے کمال ایمانداری کے ساتھ اسے مزید آسان کرکے &amp;nbsp;عوام تک پہنچایا ہے۔ &amp;nbsp;پچھلے سو سالوں میں &amp;nbsp;قرآن وحدیث کے مسائل &amp;nbsp;پر جو تحقیق ہوئی ہے اسکی مثال پچھلی تین صدیوں میں نہیں ملتی ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;فکر پاکستان&lt;/b&gt; صاحب &amp;nbsp;کی تحریر پر تبصرہ کرنے کا دل تو نہیں کررہا کیوں کہ وہ محض ضد اور تعصب میں علما کے خلاف لکھتے &amp;nbsp;ہیں ۔ ملاحظہ کریں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: #990000;"&gt;یہ (مولوی)بیچارے کبھی یہ تک نہیں بتانے کے صفائی نصف ایمان ہے، کیوں کے وہ خود جانتے ہیں کے وہ خود گندگی کے ڈھیر پر چوری کی جگہ پر قبضے کی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ خود مسجد کے بیت الخلا میں ناک پر ہاتھہ رکھے بغیر نہیں جاسکتے تو وہ کس منہ سے لوگوں کے بتائیں گے کے صفائی نصف ایمان ہےِ؟۔۔۔ ۔ ۔ تمام لوگ اپنے اپنے علاقے کی مساجد کا جائزہ لیں انہیں خود اندازہ ہوجائے گا کے پاکستان میں ستر فیصد مساجد چوری اور قبضے کی زمین پر بنی ہوئی ہیں، اب چوری کی مسجد میں نماز ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اسکا فیصلہ قاری خود کرلیں۔۔۔۔۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حد ہوگئی &amp;nbsp;مبالغہ آرائی اور نفرت &amp;nbsp;کی ۔ انکی &amp;nbsp;بددیانتی اور جھوٹ کا یہ عالم ہے اور اظہار یکجہتی کس کے ساتھ کرنے &amp;nbsp;نکلے ہیں ۔ پنجابی میں کہتے ہیں ذات دی کرکلی تے شہتیراں نال جپھے۔جناب آپ کا اظہار الحق صاحب کے ساتھ کسی قسم کا &amp;nbsp;کوئی جوڑ نہیں &amp;nbsp;ہے ۔ آپ کا &amp;nbsp;مسئلہ ہی کچھ اور ہے۔ &amp;nbsp;انکے دل میں درد ہے اور &amp;nbsp; آپ کے دل میں علما اور مدارس کے خلاف سخت نفرت اور غصہ ہے اس لیے جب بھی &amp;nbsp;آپ کو موقع ملتا ہے آپ &amp;nbsp;علما اور مدارس کے بارے میں اپنے اندر &amp;nbsp;جمع کیا &amp;nbsp;گند اور زہر باہر نکال پھینکتے ہیں ۔ اظہار صاحب &amp;nbsp;نے تو لکھا ہے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: #990000;"&gt;" اچھے بُرے عناصر ہر شعبے میں ہیں۔ مدارس چلانے والے بھی اسی معاشرے سے ہیں۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور خراب بھی‘ جو بات یہاں سمجھ میں آتی ہے یہ ہے کہ ناظم مدرسہ‘ سابق کونسلر اور پولیس.... کوئی بھی جھوٹ اور فریب دہی کو برا نہیں سمجھ رہا۔ "&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;انہوں نے اس واقعہ میں تینوں کو قصور وار ٹھہرایا &amp;nbsp;اور آپ &amp;nbsp;صرف &amp;nbsp;علما کے پیچھے ڈنڈا لے کر دوڑ پڑے &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;ایسی برائیوں کا ذمہ دار بھی علما کو ٹھہرا دیا جنکے وہ ذمہ دار نہیں &amp;nbsp;۔ جناب مجھے بتائیں۔کیا مسجد کے باتھ روموں میں گند مولوی مچاتا ہے؟ مساجد سے جوتیاں اور &amp;nbsp;باتھ روموں سے ٹوٹیاں علما چوری کرتے ہیں ؟ کس بندے سے اسکی زمین زبردستی چھین کر یا چوری کرکے ستر فیصد مساجد بنائی گئی ہیں ؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ہم مانتے ہیں کہ &amp;nbsp;عوام اور انتظامیہ کی اجتماعی غفلت سے پیدا ہونے والی اس فرقہ پرستی کی نحوست نے &amp;nbsp;کچھ شہروں میں &amp;nbsp;یہ پھول بھی کھلائے ہیں &amp;nbsp;کہ کچھ جگہ مساجد پر قبضہ بھی کیا گیا &amp;nbsp;لیکن جس کو آپ غیر قانونی &amp;nbsp;اور چوری کی زمین کہہ رہے ہیں وہ &amp;nbsp;جگہ &amp;nbsp; شملات دہ تھی &amp;nbsp;۔ &amp;nbsp;وہ بھی &amp;nbsp;اکا دکا کیس ہیں &amp;nbsp;ستر فیصد مساجد نہیں ۔۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;جہاں &amp;nbsp;مساجد پر قبضے ہوئے ہیں وہ بھی عوام کی سپورٹ سے ہوتے ہیں۔ جہاں تک بات شملات دہ رقبہ پر مسجد کی تعمیر کی ہے &amp;nbsp;اس کے لیے عرض ہے کہ &amp;nbsp; ایک مسلم ملک میں عوام &amp;nbsp;کی جہاں &amp;nbsp;مسلمانوں کی جسمانی &amp;nbsp;ضرورت کے لیے &amp;nbsp;سکول کالج ،سرائے، روڈ ، ہسپتال ، پارک بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے وہیں انکی روحانی اور دینی ضرورت کے لیے &amp;nbsp;مسجد &amp;nbsp;و مدرسہ بنا نا بھی حکومت کے ہی ذمہ ہوتا ہے، &amp;nbsp;عوام کو دینی معاملات میں سہولت دینے کے متعلق آئین &amp;nbsp;پاکستان میں بھی لکھا ہے ۔ اب جہاں حکومت نے &amp;nbsp;عوام کی دینی ضرورت پوری کرنے میں غفلت کی &amp;nbsp;وہاں چند دین دار مسلمانوں نے عوام کی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے &amp;nbsp;اپنے طور پر شملات دے جگہوں پرمساجد بنادیں ۔ &amp;nbsp;آپ کو ان &amp;nbsp;جگہوں پر بننے والی مساجد و مدارس پر اعتراض ہے سکولوں ، کالجوں &amp;nbsp;اور سراؤں پر اعتراض کیوں نہیں ؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;ہم کیا سمجھیں آپ کو اصل میں تکلیف &amp;nbsp;کس سے ہے ؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آگے&amp;nbsp;&amp;nbsp;فرماتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: #990000;"&gt;پہلی بات تو یہ ہے کے ان بیچاروں کے خود کچھ نہیں پتہ ہوتا، جو کچھ انہیں درس نظامی میں پڑھایا جاتا ہے اس کے باہر انہیں ایک لفظ کی بھی معلومات نہیں ہوتیں۔ ۔ کبھی کسی بڑے سے بڑے مولوی مفتی عالم کے منہ سے نہیں سنا کے قرآن میں سینکڑوں آیات مبارکہ کا تعلق تسخیر کائینات سے ہے، غور و فکر کرنے سے ہے، اللہ کی اس کائینات کے اسرار و رموز جاننے سے ہے، زمین کے اوپر زمین کے اندر سمندر کی تہہ میں چھپی اللہ کی نشانیوں سے ہے ان سب میں چھپے قدرت کے خزانوں سے ہے،۔۔یہ اسلئیے نہیں بتاتے کے انکی خود کوئی اوقات نہیں کے یہ سب کر سکیں&lt;b&gt; اسکے لئیے پڑھنا پڑتا ہے یہ سب سینکڑوں سال پرانے درس نظامی پڑھنے سے نہیں ملنے والا&lt;/b&gt;۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;فَکر پاکستان کچھ تو خدا کا خوف کیجئے! کچھ تو عقل و شعور کے ناخن لیجئے! درس نظامی میں قرآن و حدیث پڑھایا جاتا ہے یا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;فزکس، کیمسٹری کی کتابیں پڑھائی جاتیں ہیں ؟ آپ کے کہنے کا مطلب یہی ہے کہ جو قرآن و حدیث پڑھائے جاتے ہیں وہ محض ٹائم کا ضیاع ہے اور ان میں کام کی کوئی چیز نہیں ۔!! جناب &amp;nbsp;سے میں پہلے &amp;nbsp;بھی &amp;nbsp;ایک دفعہ درس نظامی میں شامل کتابوں پر کافی لمبی بات کرچکا ہوں کہ درس نظامی میں کیا اور کیوں پڑھایا جاتا ہے &amp;nbsp;۔ ابھی دینی مدارس کے نظام تعلیم &amp;nbsp;کے معیار &amp;nbsp;کی دلیل &amp;nbsp;کے &amp;nbsp;متعلق صرف ایک &amp;nbsp;بات &amp;nbsp;کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ ہم دیکھتے ہیں &amp;nbsp;کہ آج ہمارے پاکستان میں &amp;nbsp; ایک &amp;nbsp;گلی محلے کے پرائمری سکول سے لے کر شہر کی بڑی یونیورسٹی تک کو چلانے کے &amp;nbsp;لیے فنڈ ، اساتذہ کی تنخواہیں ، کرسیاں، میزیں &amp;nbsp; تک حکومت دیتی ہے لیکن پھر بھی انکی کیا حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے ، &amp;nbsp;دوسری طرف &amp;nbsp;مدارس کے متعلق حکومتی رویہ کیا ہے وہ &amp;nbsp;بھی ہم جانتے ہیں ، انکی مدد کے بجائے ان کے خلاف &amp;nbsp;بیانات روز اخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ &amp;nbsp;لیکن پھر بھی &amp;nbsp; اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والے ان &amp;nbsp; &amp;nbsp;مدارس &amp;nbsp;کے تعلیمی نظام کا معیار دیکھیں &amp;nbsp;کہ &amp;nbsp; دوسرے ممالک سے طلبا یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں ۔ حکومت کی &amp;nbsp;سخت شرائط اور پابندیوں کے باوجود اس وقت صرف &amp;nbsp;کراچی کے چار مدارس کے اندر چالیس کے قریب ممالک کے &amp;nbsp;طلبا &amp;nbsp;دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اگر مدارس کا تعلیمی نظام &amp;nbsp;(درس نظامی)اتنا ہی خراب اور بے فاعدہ اور فرسودہ ہوتا تو &amp;nbsp; &amp;nbsp;دوسرے &amp;nbsp;اسلامی ممالک &amp;nbsp;کو چھوڑ کر &amp;nbsp;غیر ملکی طلبا پاکستان کے مدارس میں &amp;nbsp; آکر &amp;nbsp;فرش پر بیٹھ کر &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;دال روٹی کھا کر &amp;nbsp;گزارہ کرکے اسکی &amp;nbsp; تعلیم حاصل &amp;nbsp;نہ &amp;nbsp;کرتے &amp;nbsp;۔ &amp;nbsp;دوسری طرف ہماری یونیورسٹیوں کی کیا حالت ہے یہاں &amp;nbsp;باہر سے کسی نہ آکر کیا پڑھنا ، ہمارے اپنے طلبا یہاں پڑھنا نہیں چاہتے اور &amp;nbsp;باہر کی یونیورسٹیوں کی طرف سفر کرتے ہیں۔ آخری بات &amp;nbsp;اظہار صاحب نے &amp;nbsp;بھی اپنے کالم میں یہ بات کی آج یونیورسٹیوں ، کالجوں میں بھی جو باریش نوجوان اور &amp;nbsp;باپردہ لڑکیاں نظر آتیں ہیں وہ درس نظامی پڑھنے والے انہی &amp;nbsp;علما کی اسی وعظ ونصیحت کا اثر &amp;nbsp;ہیں ۔ &amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;قدرت اللہ شہاب کی زبان میں&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; بقول &amp;nbsp;قدرت اللہ شہاب یہ مولوی &amp;nbsp;ہی ہے جس نے &amp;nbsp;گاؤں کی ٹوٹی مسجد میں بیٹھ کر چند ٹکڑوں کے حوض عوام کا رشتہ اسلام سے جوڑا ہوا ہے۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم ہے، نہ کوئی فنڈ ہے اور &amp;nbsp;نہ کوئی تحریک ۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔۔ دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد،ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد ہیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا رہتا ہے اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھاہے۔ کوئی شخص وفات پا جاتا ہے ، تو یہ &amp;nbsp;اسکا جنازہ پڑھا دیتا ہے ، نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دے دیتا ہے ، کوئی شادی طے ہوتی ہے تو نکاح پڑھوا دیتا ہے۔اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی اسے جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درودی &amp;nbsp;کہتاہے، &amp;nbsp;یہ ملّا ہی کا فیض ہے &amp;nbsp;کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار ہیں &amp;nbsp;،برصغیر کے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اعتراض کرنے والے یہ کیوں نہیں سوچنے کہ &amp;nbsp; لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں محلے کی تنگ &amp;nbsp;مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;b&gt;:علما اور &amp;nbsp;دینی مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ کی اصل &amp;nbsp;وجہ&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;دینی مدارس کا سلسلہ صدیوں سے قائم ہے اور گزشتہ صدی میں ہندوستان میں انہی دینی مدارس کے دم سے علوم نبوت زندہ و تابندہ ہیں‘ انہی کی وجہ سے استعمار کے جبر و استبداد کا خاتمہ ہوا‘ یہی وہ قلعے تھے جن سے دین اسلام کا دفاع ہوا‘ یہی وہ نظریاتی چھاؤنیاں تھیں‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ کی حفاظت کی‘ دینی مدارس ہی آب حیات کے وہ پاکیزہ چشمے تھے‘ جنہوں نے مسلمانوں میں دینی زندگی باقی رکھی۔اسلام دشمن اور عالمی دہشت گرد امریکا کے خلاف دنیا بھر میں جہاں کہیں امت مسلمہ نے مزاحمت کی‘ اس کی قیادت و سیادت دینی مدارس سے وابستہ علمأ کرام کے حصہ میں آئی‘ اسی لیے &amp;nbsp;گزشتہ کئی دہائیوں سے دینی مدارس کا خالص علمی‘ تحقیقی ماحول اور آزاد نظامِ تعلیم اربابِ اقتدار کی نگاہوں میں بُری طرح کھٹک رہا ہے&amp;nbsp;۔ جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے قائم ہونے والا مدرسہ کفر کی نگاہ میں کھٹکتا تھا‘ اسی طرح آج بھی پاکستان اور دنیا بھر کے دینی مدارس اسلام دشمنوں کی نگاہوں میں خار بنے ہوئے ہیں‘ چنانچہ بے سروسامانی کے عالم میں دین حق کی شمع کو روشن کرنے والے مدارس کو دین دشمن اپنے لئے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں‘ اس لئے دین دشمن قوتیں اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ان مدارس کو ختم کرنے‘ انہیں کمزور کرنے‘ ۔مسلمانوں کا ان سے تعلق توڑنے اور ان کی حریت و آزادی کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں‘ ۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;ان &amp;nbsp;لوگوں کا خیال ہے کہ جب تک یہ مدارس اور ان کا آزاد تعلیمی نظام حکومتی تحویل میں نہیں آجاتا‘ اس وقت تک اس سے فارغ ہونے والے علمأ کو نکیل نہیں ڈالی جاسکتی‘ اور نہ ہی ان سے اپنی منشا کے مطابق دین و مذہب میں تحریف اور کتروبیونت کرائی جاسکتی ہے۔ اس لیے امریکا‘ مغرب اور یہودی لابی نے &amp;nbsp;دینی مدارس &amp;nbsp;کے خلاف مذموم پراپیگنڈا مہم شروع &amp;nbsp;کی ہوئی ہے &amp;nbsp;اور&amp;nbsp;انہیں بدنام کرنے اور دنیا کو ان سے متنفر کرنے کے لیے باقاعدہ مہم اور منصوبے کے تحت مختلف ہتھکنڈے اور حربے استعمال کیے جاتے &amp;nbsp;رہے ہیں ۔۔ &amp;nbsp;ہر حکومت کو دینی مدارس کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ امریکی ہدایات پر ہر حکومت نے مدارس میں مداخلت کا کی ‘ ہر موقع پر اربابِ اقتدار نے مدارس کے خلاف زہر اگلا‘ رجسٹریشن کے نام پر مدارس کو اپنے جال میں پھنسانا چاہا‘ غیر ملکی طلبہ کے خلاف ملک بدری کا ظالمانہ فیصلہ کیا‘ مدارس کی اسناد کو بے وقعت کرنے کی کوششیں بھی &amp;nbsp;اسی ایجنڈے کا تسلسل تھیں‘۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;اس مکروع پراپیگنڈے میں &amp;nbsp;صرف حکومتی ارکان ملوث نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا میں خصوصی طور پر منافقین کی ایک جماعت کو امریکن سفارتخانہ سے سور کے بدلے &amp;nbsp;ہائر کیا گیا ہے(میرے مخاطب اظہار الحق جیسے مصلح قوم صحافی نہیں) یہ بیروپیے کبھی کہتے ہیں&amp;nbsp;&amp;nbsp; موجودہ دینی مدارس سے صرف علمأ پیدا ہورہے ہیں‘ جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ان سے جس طرح علمأ پیدا ہوتے ہیں‘ ویسے ہی ڈاکٹر‘ انجینئر اور وکلاء بھی پیدا ہوں اور ہماری خواہش و کوشش ہے کہ دینی مدارس سے نکلنے والے علمأ ہر شعبہٴ زندگی میں خدمات انجام دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں ‘ جب ان عقل بندوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے &amp;nbsp;کہ: اگر میڈیکل کالج اور یونیورسٹیوں سے انجینئر اور وکلاء پیدا کرنے کی فرمائش نہیں کی جاتی تو دینی مدارس سے یہ توقع کیوں کی جاتی ہے؟ پھر کہتے ہیں : دینی مدارس میں انگلش‘ سائنس اور دوسرے مضامین کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟ &amp;nbsp;حالانکہ یہ خود بھی جانتے ہیں &amp;nbsp;کہ دینی مدارس میں پہلے سے ہی میٹرک کا نصاب زیر تعلیم ہے اور کسی دینی مدرسہ کا نظامِ تعلیم کسی بھی عصری اور سرکاری اسکول کے معیارِ تعلیم سے کم نہیں‘ بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔ &amp;nbsp;اس کے علاوہ &amp;nbsp;پراپیگنڈہ بازی کی قسطیں چلاتے نظر آتے ہیں۔ کبھی &amp;nbsp;انہیں ملکی ترقی کی راہ میں حارج قراردیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گرد ، کبھی انہیں فسادی کہا جاتا ہے &amp;nbsp;تو کبھی &amp;nbsp;تشدد پسند ، &amp;nbsp;کبھی &amp;nbsp;کسی داڑھی والے کے &amp;nbsp;برے عمل کو اچھا ل کر اسے علما کا نمائندہ بناتے ہوئے &amp;nbsp;سارے علما پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے، &amp;nbsp;تو کبھی جعلی مولویوں، قاریوں اور پیرو ں کے مکروع اعمال اور حرکتوں &amp;nbsp; کی میڈیا کے ذریعہ تشہیر کرکے &amp;nbsp;علما او ر صوفیا سے نفرت عوام کے دلو ں میں بٹھائی جاتی ہے۔ غرض اس وقت طعن وتشنیع اور توہین وتضحیک کی تمام توپوں کا رخ ملا، مولوی، دینی مدارس اور طالبان ( طلبہ) کی طرف ہے ، صرف یہی نہیں ! بلکہ اب تو حکومتی امریکی ایجنٹ اور یہ منافق بیروپیے &amp;nbsp;پوری قوم کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کررہے ہیں &amp;nbsp;کہ اگر ملکی سلامتی اور امن وامان درکار ہے تو ان ” مولویوں“ سے جان چھڑانی ہو گی او ران کے خلاف منظم جدوجہد کرنی ہو گی ، چناں چہ اس ناپاک منصوبہ کو پروان چڑھانے کے لیے&amp;nbsp;علمأ کی گرفتاریاں اور مدارس پر چھاپے مارے جاتے ہیں ،&amp;nbsp;کسی مسجد، مدرسہ اور علمی مرکز پر بمباری کرکے ان معصوموں کو خاک وخون میں تڑپایا جاتا ہے اور اس کے بعد بیان جاری کر دیا جاتا ہے کہ : ” اس جگہ مظلوم انسانوں کو ذبح کیا جاتا تھا، یایہاں جہادی تربیت کا مرکز اور اسلحہ کا ذخیرہ تھا وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح کہیں دھماکا کرکے یہ کہانی گھڑ لی جاتی ہے کہ: &amp;nbsp;یہ طالبان کا اڈہ تھا اور یہاں بارود کا ذخیرہ تھا، جو قبل از وقت پھٹ گیا۔&amp;nbsp;&amp;nbsp;اور ابھی چند دن پہلے رحمان ملک کا اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے تاریخی جھوٹ بولنا کہ بینظر کے قاتلین مدرسہ حقانیہ میں رہے تھے اسی گیم کا حصہ ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-9000040600059018301?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/9000040600059018301/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/02/blog-post_19.html#comment-form' title='26 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/9000040600059018301'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/9000040600059018301'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/02/blog-post_19.html' title='مُلا ہی ہر برائی اور فتنہ کا ذمہ دار کیوں ؟'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>26</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-2147293713855233717</id><published>2012-02-09T05:38:00.000-08:00</published><updated>2012-02-09T23:34:15.539-08:00</updated><title type='text'>وحی غیر متلو اور مستشرقین و ملحدین کا جھوٹا پراپیگنڈہ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یہود ونصاری پہلے دن سے اسلام سے حسد کرتے آرہے ہیں، &amp;nbsp;دونوں قوموں کو شروع سے &amp;nbsp; "اہلِ کتاب" ہونے کا زعم تھا، یہود بنی اسرائیل میں آخری نبی کی آرزو لیے بیٹھے تھے؛ لیکن بنی اسماعیل میں آخری نبی کے &amp;nbsp;ظہور نے انہیں اسلام کا بدترین دشمن بنادیا ، مدینہ میں انہوں نے غزوہ خندق میں &amp;nbsp;معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئےمسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے نکال دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ نے &amp;nbsp;انکو انکی &amp;nbsp;سازشوں &amp;nbsp;کی وجہ سے آخر جزیرۃ العرب سےہی &amp;nbsp;نکال باہرکیا ۔ آپ &amp;nbsp; نے &amp;nbsp;ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp;کا جملہ اچھی طرح یاد ہے:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;جزیرۃ العرب سے یہود ونصاریٰ کو نکال دو۔ &lt;b&gt;(ابوداؤد، باب فی إخراج الیہود من جزیرۃ العرب، حدیث نمبر:۲۶۳۵)۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ان &amp;nbsp;دونوں قوموں &amp;nbsp;نے بعد میں باہر سے بھی اپنی سازشیں جاریں رکھیں اور مسلمانوں کو بڑا نقصان پہچانے کی کوششوں میں رہے اورمسلمانوں کو &amp;nbsp;ان سے بعد میں &amp;nbsp; بہت سی جنگیں لڑنی پڑیں۔ ڈاکٹرحمیداللہ صلیبی جنگوں کے بارےمیں لکھتے ہیں:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;“یورپ کی متحدہ عیسائی طاقتوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کیا، یسوع مسیح کے دین اور صلیب مقدس کی حفاظت کے نام پر یورپ کے ان وحشی اور غیرمہذب دیوانوں نے جس سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ کیا نصرانیت کی تاریخ میں اسے "مقدس لڑائی" کے نام سے پکارا جاتا ہے عیسائیوں اور مسلمانوں کی یہ المناک کشمکش جو تقریباً دوصدی تک جاری رہی، تاریخ میں صلیبی جنگوں کے نام سے مشہور ہے"۔&amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;b&gt;(تاریخِ اسلام: ۴۳۵، مؤلف: ڈاکٹر حمید اللہ)۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;انکے ان سب تخریبی کاموں کے باوجود &amp;nbsp;مسلم اقوام میں کبھی تذبذب، اضطراب اور جذبہ شکستگی کا احساس تک نہ پیدا ہوا؛ بلکہ انہوں نے ہر میدان میں ثابت قدمی کا ثبوت پیش کیا، جس کی وجہ سے اسلامی قوت ان علاقوں میں ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے لگی ۔اسلام نے &amp;nbsp;میدان جہاد کے علاوہ &amp;nbsp; یہودونصاری کے مسخ شدہ عقیدے پر بھی &amp;nbsp;ضرب کاری لگائی تھی جس &amp;nbsp;کی وجہ سے ان کے کمزور عقیدے والے ہی نہیں، راسخ العقیدہ حضرات بھی رفتہ رفتہ اسلام کو گلے لگاتے جارہے تھے، یہودونصاری نے ان حالات کو دیکھ کر &amp;nbsp;پالیسی بدلی &amp;nbsp;اور تیروتلوار پھینک کر اسلامی کے علمی ماخذ ین، &amp;nbsp; تہذیب وثقافت اور اقدار پر حملہ کرنے کا سوچا ، مقصد &amp;nbsp;یہ تھا کہ ناصرف اسلام کے فکری حملہ کی روک تھام کی جائے &amp;nbsp;بلکہ اپنے لوگوں کو &amp;nbsp;اسلام سے نکال کر اپنا ہم نوابنالیا جائے یا کم ازکم اپنے مذہب پر ثابت قدم رکھا جاسکے؛ اس کے لیے انہوں نے پوری جانفشانی سے اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا۔ ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ عربی زبان تھی ۔ چنانچہ ۱۳۱۲ء کو جینوا کی کلیسا نے عربی زبان کو مختلف یونیورسٹیوں میں داخلِ نصاب کرنے کا فیصلہ کیا اور ۱۷۸۳ء میں اس کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اصل مقصد کی یاد دہانی کرواکر اصل کام کا آغاز کیا گیا اوراس تحریک کا نام اورئینٹلزم ( استشراق) رکھا گیا &lt;b&gt;۔(ترات الاسلام:۱/۷۸، بحوالہ من افتراءات المستشرقین) ۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;احمد عبدالحمید غراب لکھتے ہیں&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;"استشراق، یورپ کے اہل کتاب کفار کی ان تحقیقات کا نام ہے جو اسلام کی صورت بگاڑنے، مسلمانوں کے ذہن میں اس کی جانب سے شک پیدا کرنے اور اس سے برگشتہ کرنے کے لیے خاص طور پر اسلامی عقیدہ وشریعت، تہذیب وتمدن، تاریخ نیززبان وبیان اور نظم وانتظام کے تئیں کی جائیں"&lt;b&gt;۔(رویۃ اسلامیہ للاستشراق:۷، مؤلف: احمد عبدالحمید غراب)۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;مستشرقین اور &amp;nbsp;حدیث:۔&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ان دشمنانِ اسلام نے دین کے ہرشعبہ کو نشانہ بنایا اور ہرگوشے کو مشکوک کرنے کی کوشش کی ۔ حدیث پاک، قرآن پاک کے بعد سب سے اہم مصدر ہے اور دین کی صحیح فہم اور اسلام کی حقیقی تصویر کشی، حدیث کے بغیر نامکمل رہتی ہے، اس لیے &amp;nbsp;مستشرقین &amp;nbsp; نےاس اہم مصدر کی طرف کچھ زیادہ توجہ دی &amp;nbsp;اور آزاد تحقیق وریسرچ کے نام پر زہراگلی۔اس سلسلے میں انکی &amp;nbsp;سب سے نمایاں دو شخصیات نظر آتی ہیں،سب سے پہلی شخصیت گولڈزیہر &amp;nbsp; ہے، جس کو عربی کتابوں میں "جولدتسھر"سے جانا جاتا ہے یہ شخص جرمنی یہودی &amp;nbsp;تھا، اس نے تمام اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا اور ۱۸۹۰ء میں پہلی تحقیق شائع کی ۔دوسری شخصیت "جوزف شاخت" کی ہے&lt;b&gt; (موسوعۃ المستشرقین، تالیف عبدالرحمن بدوی)&lt;/b&gt;۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حدیث کے متعلق "گولڈزیہر" نے زیادہ توجہ متن پر مرکوز کی، جب کہ "شاخت" نے سند اور تاریخ سند کو مشکوک بنانے کی کوشش کی۔ انکے بعد &amp;nbsp; اس موضوع پر بڑی بڑی کتابیں لکھیں گئیں ۔ اسلامی دنیا میں روشن خیالی کے علمبردار ملحدین انہی &amp;nbsp;کی باتوں کو کاپی کرکے نت نئے انداز میں پیش کرتے ہیں &amp;nbsp;،یہ &amp;nbsp;نام نہا د محقق &amp;nbsp;مغربی آ قاوٴں کے اسلوب واندازمیں حدیث وعلوم حدیث پر لمبے چوڑے مقالے اورتھیسز تیارکرتے ہیں ۔انہی لوگوں میں &amp;nbsp;ہمارے اردو بلاگر &amp;nbsp;بھی ہیں جو &amp;nbsp;بڑے عرصے سے اسلام کے خلاف محاذ سنبھالے ہوئے ہیں ، پہلے انہوں نے &amp;nbsp; دہریوں کا مواد چوری کرکے صفات باری تعالی اور قرآن &amp;nbsp;کے خلاف &amp;nbsp;جھوٹا پراپیگنڈہ کیا &amp;nbsp;، &amp;nbsp; ہمارے دوستوں نے انکے ہر آرٹیکل کا مدلل و معقول جواب دیا، بجائے اسکے کہ وہ انکا جواب &amp;nbsp;الجواب دیتے انہوں نے اپنی ٹرٹراہٹ جاری رکھی، &amp;nbsp;آج کل مستشرقین اور &amp;nbsp;منکریں حدیث کا مواد &amp;nbsp;ان کے ہاتھ لگ گیا ہے۔یہ اعتراضات انہوں نے مستشرقین و ملحدین کی تحریروں سے چوری کیے ہیں &amp;nbsp; اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ &amp;nbsp;موصوف نے &amp;nbsp;ابھی &amp;nbsp;تک اسلام کے خلاف جو &amp;nbsp;آرٹیکل لکھے ان میں انکا لب ولہجہ، طرز واسلوب ، اثر وتاثیر اور &amp;nbsp;سوچنے کاانداز &amp;nbsp;انہی مستشرقین جیسا ہے ، ان کے مواد کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ &amp;nbsp; یہ &amp;nbsp;براہ راست مستشرقین کی کتابوں سے ، یا ایسے ثانوی مراجع سے لیا گیا &amp;nbsp;ہے، جن کے بنیادی مصادرومراجع مستشرقین کا تیار کردہ لٹریچرہیں ۔ میرے کئی دوست اسکا جواب دینے سے مجھے منع کرتے آرہے ہیں کہ &amp;nbsp;کہ &amp;nbsp;اس نے سمجھنا ہوتا تو ہمارے جوابی آرٹیکل &amp;nbsp;پڑھ کر ہی سمجھ جاتا ، اس لیے اس کی پوسٹ کے جواب لکھنے میں ٹائم ضائع نہ کرو۔ میں &amp;nbsp;صرف اپنے ان &amp;nbsp;بھائیوں جو کہ اسکی &amp;nbsp;کنفیوز کردینے والی &amp;nbsp;تحریروں سے وساوس کا شکار ہوسکتے ہیں’ &amp;nbsp;کے لیے &amp;nbsp;اسکے ان &amp;nbsp;وساوس کا جواب لکھ &amp;nbsp;رہا ہوں۔ مکی کے اعترضات سرخ رنگ میں شو کیے ہیں ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;blockquote class="tr_bq  " style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: #cc0000;"&gt;احادیث کا انتخاب اور ان کی تدوین کس طرح کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ کیا دو سو سال بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے یا ان سے منسوب باتیں درست ہوسکتی ہیں؟؟ خاص طور سے جبکہ انہیں نقل کرنے والے لوگ جنہیں راوی کہا جاتا ہے عام انسان ہی تھے چنانچہ بھولنا، مختلف باتوں کا گڈمڈ ہونا، کسی بات کا اضافہ ہوجانا، اپنی مرضی کی بات کہنا یا سیاسی مفاد کی خاطر کوئی بات شامل کرنا یا گھڑنا سب ممکن ہے&lt;/span&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b style="color: blue; font-size: x-large;"&gt;احادیث&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آں حضرت صلی الله علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی وہ دوقسم کی تھی۔ ایک تو قرآنی آیات جن کو ”کلام الله“ کہا جاتا ہے، اس وحی کے الفاظ او رمعنی دونوں الله تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ اس وحی کو اہل علم کی اصطلاح میں ” وحی متلو“ کہتے ہیں، یعنی وہ وحی جس کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ دوسری قسم وحی کی وہ ہے جو قرآن مجید کا جز تو نہیں ہے لیکن اس کے ذریعہ بھی الله تعالیٰ نے حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو بہت سے احکام عطا فرمائے ہیں ، اس کو ” وحی غیر متلو“ کہا جاتا ہے، یعنی وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی یہ وحی صحیح احادیث کی شکل میں محفوظ ہے اور اس میں عموماً ایسا ہوا ہے کہ مضامین آں حضرت صلی الله علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے نازل کیے گئے، لیکن ان مضامین کی تعبیر کے لیے الفاظ کا انتخاب آپ نے خود فرمایا ہے۔ &lt;b&gt;(الاتقان ج1 ص:45)&amp;nbsp;۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حدیث کی حفاظت نے اور کتنے پیرائے اختیار کیئے اورعمل وقول &amp;nbsp;رسول کن کن راہوں سے امت کے لیے پکھڈ نڈی بنتا رہا اور امت کے قافلے کس طرح سے اس راہ پر چلتے آئے ،اس &amp;nbsp;کا &amp;nbsp;مکمل تذکرہ &amp;nbsp;تو یہاں ممکن نہیں، اس موضوع پر &amp;nbsp;علما کی کئی ضحیم کتابیں موجود ہیں، میں کوشش کروں گا کم سے کم الفاظ میں کچھ تفصیل بیان کرسکوں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;حدیث کی حفا ظت و تدوین کا پہلا دور :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، اعمال اور تقریرات واحوال، کامیابی کازینہ،بارگاہ الہی میں تقرب کاذریعہ ،شریعت مطہرة کابنیادی حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس عظیم امانت کی حفاظت ،نقل روایت میں احتیاط اور عمومی اشاعت وابلاغ کے لیے غیرمعمولی اہتمام کیاگیا، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اسی لیے احادیث نبوی کوخوب توجہ سے سننے، یاد کرنے ،لکھنے اور سمجھنے کے ساتھ دوسروں تک پہنچانے کا بھی اہتمام کیا ، جن صحابہ کرام علیہم الرضوان سے یہ حدیثیں سب سے زیادہ تعداد میں مل سکی ہیں ان میں حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر بن خطاب، انس بن مالک، ام المومنین حضرت عائشہ، عبداللہ بن عباس، جابر بن عبداللہ، ابوسعید خدری، عبداللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمرو بن عاص، علی المرتضی، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کی شخصیات بہت نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے صحابہ سے احادیث مروی ہیں ۔بعض صحابہ نے ذاتی طور پر احادیث کو لکھ کر محفوظ کرنے کا کام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں شروع کر دیا تھا۔اس سلسلہ میں &amp;nbsp;الصحیفہ الصادقہ، کتاب الصدقہ،صحیفہ علی،صحیفہ عمروبن حزم،صحیفہ جابر،صحیفہ سمرہ بن جندب، کتاب معاذ بن جبل، کتاب ابن عمر، کتاب ابن عباس، کتاب سعد بن عبادہ اور &amp;nbsp;ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ،حضرت ابو ہریرہ &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ اورحضرت انس بن مالک &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مجموعے &amp;nbsp;پہلے دور کی حدیثی تحریرات ہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خود بھی احادیث لکھوائیں آپ نے عبداﷲ بن عمر سے فرمایا :’’احادیث لکھا کرو قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا کوئی بات نہیں نکلتی ‘&lt;b&gt;‘۔(ابو داؤد جلد 1صفحہ 158&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس کوئی چیز نہیں سوائے کتاب اﷲ کے اور اس صحیفہ کے جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں ۔(بخاری و مسلم کتاب الحج )&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;حدیث کی حفا ظت و تدوین کا دوسرا دور:۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;خلیفہ ثالث حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے تک کے اسلامی معاشرہ میں اس بات کا اندیشہ کرنے کی حاجت نہ تھی کہ کوئی بدبخت اپنی طرف سے باتیں بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب کرتارہے ، اور اس کی باتیں یوں ہی چلتی رہیں ۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات واعمال ، تقریرات واحوال، ذوق ومزاج ، طرزواداء اور اسلوب وانداز سے اچھی طرح باخبرجانثار صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین &amp;nbsp;کی ایک بڑی جماعت ہروقت موجودتھی ، اس دور کے بعد &amp;nbsp;اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی طرف منسوب کرنے کا فتنہ پیدا ہوا جو دین میں پیدا کئے جانے والے فتنوں میں سب سے زیادہ شدید تھا ، اسلام کے دشمنو &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;ں نے پچھلے آسمانی مذاہب کی طرح مسلمانوں میں کچھ گمراہ کن افکار داخل کرنے کی کوشش میں تھے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اس موقع پر ہمارے &amp;nbsp;محدث صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین (اللہ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے) نے ایک نہایت ہی اعلیٰ نوعیت کا اہتمام فرمایا۔، امانت کا بارِعظیم أٹھانے والی اولین جماعت نے اس عمل ِبدکے سد باب کے لیے احادیث نبویہ ، اسلامی تاریخ وعلوم کی حفاظت کے لیے اس زمانہ کے اہل علم کے قول وفعل اور علمی وعملی رویوں کی سے راویان و روایات کی چھان بین ، تحقیق وتدقیق کے لیے ایک نئے فن اور بے نظیرعلمی کسوٹی کی داغ بیل ڈالی ، &amp;nbsp;انہوں نے اپنی دن رات کی محنت سے احادیث بیان کرنے والوں کی عمومی شہرت کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا۔ ان کی ان کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا وہ فن وجود میں آیا جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;حدیث کی حفا ظت و تدوین کا تیسرا دور :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تیسرے دور میں جب صحاح ستہ جیسی گرانقدر تالیفات مرتب ہوگئیں،توحدیث اس وقت ایک ایسے دور حفاظت میں داخل ہوچکی تھی کہ اس پر قطعی حفاظت کا لفظ بغیر کسی تاویل کے پورا اترتا تھا۔ایک متواتر اور مشہور حدیث کے مطابق اگرکوئی آپ سے جھوٹی بات منسوب کر دے تو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا۔احادیث کے معاملے کی اسی حساسیت کی وجہ سے محدیثین نے یہ اہتمام کیا کہ ہر حدیث ان تک جس جس شخص سے گزر کر پہنچی، انہوں نے اس کا پورا ریکارڈ رکھا ۔محدیثین نے علم حدیث حاصل کرنے کے لئے دور دراز ممالک کے پا پیاہ سفر کئے ، بے پناہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھائیں ۔ پھر حاصل کرنے کے بعد تبلیغ میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ اسکے علاوہ &amp;nbsp;صحیح اور موضوع حدیث کو پرکھنےکے لئے محدثین نے اسماء الرجال کے فن ذریعے &amp;nbsp;اسناد کی پوری تنقیح اور تنقید کی ، حدیث کی صحت اور سقم کو پرکھنے کے لئے ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا ۔ جس حدیث میں ذرا بھی ضعف معلوم ہوا یا شک پیدا ہوا اس حدیث کو کتاب میں درج ہی نہیں کیا اگر کسی محدث نے کیا بھی تو اس ضعف کو واضح کردیا ۔ ان محدثین کے تقوی اور پرہیز گاری کی حالت اگر بیان کر دی جائے تو اس کے لئے دفاتر بھی کافی نہیں ہو سکتے ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;امام بخاری کی مشقتیں اور &amp;nbsp;اہتمام :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;چنانچہ امام بخاری نے علم حدیث کی خاطر مکہ ،مدینہ ، شام ، بخارہ ، مرو ،ہرات ، مصر ، بعداد ،کوفہ ،بصرہ ، بلخ نیشا پور اور دیگر بہت سے جزائر کا ایسے زمانہ میں سفر کیا جب کہ ریل ، موٹر وغیرہ سواری کا کوئی بندوبست نہ تھا ۔جہاں حدیث کا پتہ چلتا پا پیادہ وہاں پہنچ جاتے ۔ ایک ہزار اسی شیوخ سے علم حدیث حاصل کیا ۔ امام بخاری سے روبرو بلا واسطہ علم حدیث حاصل کرنے والے شاگردوں کی تعداد نوے ہزار ہے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;امام بخاری رحمہ اللہ ہر حدیث لکھنے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنے کا التزام فرماتے تھے ۔ پھر اسناد میں یہاں تک اختیاط کی کہ روای اور مروی عنہ ایک ہی زمانہ میں گزرے ہوں ، ان کا اپس میں لقا بھی ممکن ہو ۔ جب تک ان کا لقا ثابت نہ ہوجائے امام بخاری اس کی روایت کو قبول نہیں کرتے ۔ اگر چہ یہ راوی کتنا ہی عادل اور ثقہ کیوں نہ ہو ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;فنون حدیث فن اسماء الرجال و فن جرح وتعدیل کا اجمالی تذکرہ :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اسماء الرجال وہ علم ہے کہ جو راویانِ حدیث کے احوال اوراُن کے ثقہ اور غیر ثقہ ہونے اور سن پیدائش وسنِ وفات اور رحلات واسفار علمیہ او رعلم حدیث میں اُن کے مقام ومراتب اساتذہ، تلامذہ، عادات واخلاق وطبائع اور ہر اس وصف سے بحث کرنا ہے کہ جس کا ان کی ثقاہت یا مجروح وعادل ہونے سے تعلق ہو ۔ راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے.&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ان فنون &amp;nbsp;کے ماہرین نے اپنی پوری زندگیاں وقف کر کے ان تمام معلومات کا کو جمع کیا۔ انہوں نے ان راویوں کے شہروں کا سفر کیا اور ان راویوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ چونکہ یہ راوی عموما حدیث بیان کرنے کی وجہ سے اپنے اپنے شہروں میں مشہور افراد تھے، اس لئے ان کے بارے میں معلومات نسبتاً آسانی سے مل گئیں۔ یہ تمام معلوما ت فن رجال کی کتابوں میں محفوظ کردی گئی ہیں۔ ان حضرات نے اپنی کتابوں میں &amp;nbsp;ہر راوی کے حالات کا ازاول تا آخر پورا احصاء کیا کہ کب پیدا ہوا تھا؟ کب اس نے طلب حدیث کی ابتدا کی کب سنا؟ کیسے سنا؟ کس کے ساتھ سنا؟ کب سفر کیا؟ اور کہاں کا سفر اختیار کیا ؟ اس طرح ان کے اساتذہ کا ذکر، ان کے علاقوں کا ذکر او رتاریخ وفات کا ذکر کیا اور بعض راویوں کے حالات میں تو ان کی زندگی کے جزئی حالات بھی خوب تحقیق وتدقیق سے تلاش کیے او ران کی زندگی کے تمام حوادث ذکر کر دیے ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;blockquote class="tr_bq  " style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;احادیث کو اتنی مقدس حیثیت حاصل رہی ہے کہ یہ قرآن کے احامات تک کو منسوخ کردیتی ہیں.&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;منکرین قرآن وحدیث کی جانب کی طرف سے احادیث صحیحہ کو رد کرنے کے لیے کے عموما یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ بعض صحیح احادیث قرآن کے خلاف ہیں , جن میں سے انکے زعم کے مطابق کچھ متفق علیہ احادیث جو صحت کے اعلى ترین معیار پر ہیں وہ بھی قرآن کے خلاف ہیں ۔حالانکہ ایسا قطعا نہیں , کبھی بھی کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہوتی کیونکہ حدیث بھی وحی الہی اور کتاب اللہ ہی ہے جسطرح قرآن وحی الہی اور کتاب اللہ ہے &amp;nbsp;اور وحی الہی میں تضاد وتناقض قطعا نہیں ہوتا ہے ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگوں کی کوتاہ فہمی کی بناء پر ظاہرا انہیں احادیث اور آیات کے مابین تناقض وتضاد معلوم ہو ۔ وہ تناقض اور تضاد &amp;nbsp; بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے عقل وفہم میں پیدا ہوتا ہے۔، &amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;blockquote class="tr_bq"&gt;&lt;span style="color: #cc0000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style="color: #cc0000;"&gt;سارے قدیم وجدید علمائے حدیث جانتے ہیں کہ 99% احادیث “ظنیہ الثبوت” (قیاساً ثابت شدہ) ہیں ۔&lt;/span&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;لفظ ظن تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;. اٹکل یعنی بلا دلیل محض گمان اور تخمین&lt;br /&gt;. شواہد وقرائن سے ظن غالب&lt;br /&gt;&amp;nbsp;ظن بمعنی نظری و استدلالی علم جو دلیل و برہان سے حاصل ہوا ہو ۔ مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ میں لفظ ظن اسی علم یقینی کے معنی میں ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( 2 ۔ 46 )۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&amp;nbsp;وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ( 38 ۔۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&amp;nbsp;كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ ( 75 ۔ 26،27، 28 ) ۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;قرآن نے ظن بمعنی محض اٹکل و تخمین کی پیروی سے منع کیا ہے ۔ احادیث کا سلسلہ نعوذ باللہ محض اٹکل اور تخمین نہیں ہے ۔ پس احادیث کو ظن کے معنی ثانی ( ظن غالب ) اور معنی ثالث ( علم یقینی استدلالی ) کے لحاظ سے ظنی کہا جاتا ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;علم یقینی استدلالی تو ظاہر ہے کہ واجب الاتباع ہے ۔ باقی رہیں وہ حدیثیں جو ظن غالب کا فائدہ دیتی ہیں ۔ سو شریعت مطہرہ نےظن غالب کویقین کا حکم دےکر واجب الاتباع قرار دیا ہے ۔ &lt;b&gt;(شرح نخبۃ الفکر )&lt;/b&gt;۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;شرعی یقین کے لئے ثقہ عادل کی شہادت کافی ہوتی &amp;nbsp;ہے &amp;nbsp;سو وہ احادیث میں موجود ہے ۔ اس لحاظ سے احادیث سب یقینی ہیں ۔ ظنی اس لئے کہا جاتا ہےکہ احادیث میں عقلاً احتمالِ خطا موجود ہے لیکن شرعاً نہیں اور اکثر احادیث مفید ظن غالب ہیں اور دنیا میں &amp;nbsp;ظن غالب پر &amp;nbsp;عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ ہم رات دن اپنے جمیع معاملات میں ظن غالب ہی پر عمل کرتے ہیں ۔ دوا پیتےوقت شفا کا یقین نہیں ہوتا بلکہ زیادہ مضرت کا خدشہ موجود ہوتا ہے ۔ موٹر ، ریل ،طیارہ ، اور بحری جہاز وغیرہ پر سوار ہوتے وقت ہمیں ان کی مشنرری کےپرزہ جات کی درستی کا کوئی یقین نہیں ہوتا ۔ راستہ کے حوادث سے محفوظ رہنے کا یقین نہیں ، طیارہ کے گرنے ، ریل کے پٹری سے اتر جانے، بحری جہاز کے غرق ہوجانے کا احتمال موجود ہے ۔ پھر بھی ہم دن رات ان ذریعوں سے سفر کرتے ہیں ۔ بازار سے گوشت خریدتے وقت اس کی حلت کا ، دودھ ، گھی ، اناج، شکر وغیرہ کی پاکیزگی کا اور پانی پیتے اور غسل کرتے وقت اس کی طہارت کا ہر گز ہر گز کامل یقین نہیں ہوتا ۔ اور نہ ہی ہوسکتا ہے ۔. بات کو واضح کرنے کے لیے ایک اورآسان سی مثال ہے۔ &amp;nbsp;حدیث یقینی شرعی ہے جیسا کہ ماں &amp;nbsp;اور باپ کا علم۔ ماں کے متعلق تو &amp;nbsp;قطعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص کی ماں ہے، مگر باپ کے بارےمیں اس یقین کے ساتھ حکم نہیں لگایا جاسکتا ۔ اسی لیے باپ کا علم یقینی شرعی ہے ۔ یہی باپ والا معاملہ حدیث کا ہے۔جب ہم شب وروز ہر معاملہ میں ظن غالب ہی پر عمل کرتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حدیث کو اسی ظن &amp;nbsp;کی وجہ سے ترک کردیا جائے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;blockquote class="tr_bq  " style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;مختلف اسلامی فرقوں کی بنیاد اور ان کے آپس کے اختلافات بھی انہی احادیث کی وجہ سے ہیں&lt;/span&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;آئمہ و فقہا میں اختلاف &amp;nbsp; کی بڑی وجوہات&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;اختلاف صحابہ :&lt;/span&gt;۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;قرآن وحدیث کے اولین مخاطب حضرات صحابہ تھے، وہ براہِ راست حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp;سے فیض یافتہ تھے؛ اس لیے وہی حضرات قرآن وحدیث کی مراد کوصحیح طور پرسمجھ سکتے ہیں؛ لہٰذا ان حضرات نے جوسمجھا ہے وہ ہمارے لیے معیار اور مشعلِ راہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ &amp;nbsp;قرآن ورسول کے ایک ہوتے ہوئے حضراتِ صحابہ &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ کے مابین بے شمار مسائل میں اختلاف تھا، ائمہ اربعہ &amp;nbsp;نے چونکہ ان ہی حضرات اور ان سے فیض یافتہ حضرات (تابعین) کی فہم وبصیرت پراعتماد کیا ہے اور ان ہی کے اقوال ومذاہب کواختیار کیا ہے؛ اس لیے ائمہ اربعہ &amp;nbsp;کے درمیان جن مسائل میں اختلاف واقع ہوا وہ دراصل صحابہ &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ کے اختلاف کی وجہ سے ہوا ہے اور صحابہ &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ کے باہمی اختلاف کے متعلق حدیث میں ہے &amp;nbsp;حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رب سے اپنے بعد صحابہ &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ کے اختلاف کے متعلق پوچھا، اللہ نے بذریعہ وحی بتلایا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے صحابہ &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے آسمان کے ستارے کہ ان میں بعض کی روشنی بعض سے زیادہ ہے، جوشخص آپ کے صحابہ &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ کے مسالکِ مختلفہ میں سے کسی مسلک کواختیار کرے گا وہ میرے نزدیک ہدایت پرہوگا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;۔&lt;b&gt;(کنز العمال، حدیث نمبر:۹۱۷۔)۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;فقہی مسائل میں پیدا ہونے والا &amp;nbsp;یہ اختلاف عہدِ صحابہ &amp;nbsp;سے ہے اور جواختلاف صحابہ کے دور میں رہا ہے اس کے باقی&lt;br /&gt;رہنے میں خیر ہی ہے نہ کہ شر،&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;احادیث میں اختلاف :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;احادیث کی روایت عموماً بالمعنی ہوتی ہے؛ نیزان میں ناسخ ومنسوخ بھی ہوتا ہے، بعض دفعہ کسی حدیث کا تعلق بعض اشخاص واوقات کے ساتھ ہوتا ہے؛ اسی طرح حدیث کے الفاظ بعض دفعہ مختلف معانی کے متحمل ہوتے ہیں، معانی کے اس اختلاف سے عمل کی مختلف شکلیں وجود میں آتی ہیں، چونکہ احکام ومسائل میں یہ اختلاف اجتہاد، اخلاص وللّٰہیت، تلاشِ حق، منشائے خداوندی کوسمجھنے اور مرادِ نبوی کی حقیقت کوجاننے کے لیے ہوا ہے اس لیے اس کومذموم اوربُرا نہیں کہا جاسکتا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اختلاف کو باقی رکھنا خود الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا منشا ہے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;یہ بات ادنیٰ غور وتامل سے معلوم ہو سکتی ہے، مثلاً الله تعالیٰ نے وضو میں سر کا مسح کرنے کا حکم ان الفاظ میں دیا ہے ﴿وامسحوا برؤسکم﴾ یہاں لفظ ”ب“ استعمال کیا گیا ہے، ”ب“ کے معنی عربی زبان میں بعض یعنی کچھ حصہ کے بھی ہوتے ہیں اور ”ب“ زائد بھی ہوتی ہے ، پہلی صورت میں معنی ہو گا سر کے بعض حصہ کا مسح کر لو اور دوسری صورت میں معنی ہو گا کہ پورے سرکا مسح کرو، چناں چہ بعض فقہاء پورے سر کے مسح کو ضروری قرارا دیتے ہیں اور دوسری رائے کے مطابق سر کے کچھ حصہ کا مسح کافی ہو گا، ظاہر ہے کہ الله تعالیٰ کے علم میں”ب“ کے یہ دونوں معنی پہلے سے موجود ہیں ، اگر الله چاہتے تو بعض کا لفظ استعمال فرماتے اورمتعین ہو جاتا کہ پورے سر کا مسح ضروری نہیں ، یا ”کل“ کا لفظ ارشاد فرماتے اور یہ بات پوری طرح بے غبار ہو جاتی کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے، لیکن خدائے علیم وخبیر نے اس صراحت کے بجائے اپنی کتاب میں ایک ایسا لفظ ذکر فرمایا جس میں دو معنوں کا احتمال ہے ، اس سے ظاہر ہے کہ ایسے &lt;b&gt;مسائل میں اختلاف رائے کا باقی رہنا خود منشائے ربانی ہے&lt;/b&gt;۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اسی طرح قرآن مجید میں عورت کی عدت کے لیے تین”قرء“ گزارنے کا حکم دیا گیا ہے ،” قرء“ کے معنی حیض کے بھی ہیں او رزمانہ پاکی کے بھی ، اسی لیے بعض فقہاء نے تین حیض مدت قراردی ہے او ربعض نے تین پاکی ، ظاہر ہے کہ ” قرء“ کے دونوں معانی الله تعالی کے علم محکم میں پہلے سے تھے ، اگر الله تعالیٰ کا یہ منشا ہوتا کہ احکام شرعیہ میں کوئی اختلاف رائے نہ ہو تو قرآن میں بجائے ” قرء“ کے صریحاً حیض یا طہر کا لفظ استعمال کیا جاتا،&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یہی صورت حال احادیث نبویہ میں بھی ہے ، مثلا آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حالت اغلاق کی طلاق واقع نہیں ہوتی ، اغلاق کے معنی جنون وپاگل پن کے بھی ہیں اور اکراہ ومجبور کے بھی ، چناں چہ اپنے اپنے فہم کے مطابق بعضوں نے ایک معنی کو ترجیح دی ہے او ربعضوں نے دوسرے معنی کو ، حالاں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم افصح العرب یعنی عرب کے سب سے زیادہ فصیح شخص تھے ، اگر آپ صلی الله علیہ وسلم چاہتے تو ایسی واضح تعبیر اختیار فرماتے کہ ایک ہی معنی متعین ہو جاتا، دوسرے معنی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;اختلاف منشا خداوندی اور رحمت کیوں :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; ائمہ کے درمیان جزوی مسائل میں اسطرح کا اختلاف رونماہونا &amp;nbsp;رحمت ہے تاکہ &amp;nbsp;زمانے کے حالات وضروریات اوراس کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اس عمل کومختلف طریقے سے انجام دیا جاسکے، اور مختلف فقہی مسالک کی شکل میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp; کی متفرق سنتیں اور طریقے زندہ ہوں اور سماج ومعاشرے میں رواج پائیں، تنگی کے وقت سہولت کا باعث بنیں۔اسی لیے شریعت نے اپنے ایک بڑے حصے میں جزوی اور متعینہ احکام دینے کے بجائے محض اصولی ہدایات دی ہیں تاکہ ہردور کے حالات اور ضروریات اور عرف ورواج کے مطابق عمل کی مختلف شکلیں وجود میں آسکیں اور اس نے اپنے احکام میں ایسی گنجائش اور کشائش رکھی ہے کہ ایک ہی عمل کومختلف شکل میں انجام دیا جاسکے۔&lt;/div&gt;&lt;blockquote class="tr_bq  " style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: #cc0000;"&gt;پتہ نہیں ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عباس کو راویوں کی فہرست میں کیوں شامل کیا گیا جبکہ حدیث کو قبول کرنے کی اولین شرط یہ ہے کہ راوی کی ساکھ اچھی ہونی چاہیے، تاریخ کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ابو ہریرہ نے بحرین کے مال میں کرپشن کی اور بن عباس نے بصرہ کے مال میں کرپشن کی (7) کیا عوام کا مال کھا کر بھی انسان کی ساکھ باقی رہتی ہے؟ کیا کرپٹ لوگوںسے حدیث لی جاسکتی ہے&lt;/span&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;اعتراض کرنے والے کی دورخی دیکھیں ، جناب صحابہ پر اعتراض کرنے کے لیے &amp;nbsp; خود تاریخ سے استدلال کررہے ہیں &amp;nbsp;جس کی &amp;nbsp;کوئی سند موجود &amp;nbsp;ہی &amp;nbsp;نہیں ۔ جناب ایک طرف احادیث &amp;nbsp;جنکی سند اور متن کی درستگی کے یقینی ثبوت &amp;nbsp;موجود ہیں' کو چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہیں ، دوسری طرف اپنی بات کی دلیل میں تاریخ سے &amp;nbsp;ایک ایسی بات پیش کررہے ہیں جسکا ان کے &amp;nbsp;پاس &amp;nbsp;نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ اس &amp;nbsp;معیار کا حوالہ ہے جو وہ حدیث کے صحیح ہونے کے لیے مانگ رہے ہیں ، &amp;nbsp;جب سبب تنقید ضد اور تعصب ہو، پھر اعتراض گھڑنے کے لیے &amp;nbsp;اسی طرح کی منافقت کا سہار ا لینا پڑتا ہے۔یہی حال ان مغربی &amp;nbsp;معترضین ، مشر &amp;nbsp;قین ، پراپیگنڈہ بازوں کا &amp;nbsp;بھی ہے جنکی کتابوں ، سائیٹس سے جناب &amp;nbsp;میٹریل چوری کرتے ہیں ۔ وہ قرآن وحدیث کی حفاظت کے اتنے پائیدار اور &amp;nbsp;زبردست انتظام کے باوجود اس &amp;nbsp;پر برسوں سے اعتراض کرتے آرہے ہیں لیکن ان لوگوں کی اپنی &amp;nbsp;مذہبی کتابوں کا کیا حال ہے وہ سب کے سامنے ہیں ، انکی کتابیں کلام الہی کے بجائے کلام انسانی میں تبدیل ہوچکی ہیں &amp;nbsp;اور اپنے اندر &amp;nbsp;انتہائی تضادات کا شکار ہیں۔ خود انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مصنفین کے مطابق &amp;nbsp;توراۃ حضرت موسی علیہ السلام کے صد ہا سال کے بعد کتابی شکل میں مدون ہوئی ہے، عیسائی دنیا چار انجیلوں کو تسلیم کرتی ہے ، ان چار انجیلوں میں سے ایک کے لکھنے والے نے بھی عیسی علیہ السلام کو خود نہیں دیکھا ، بلکہ اب تو یہ بھی مشکوک سمجھا جا رہا ہے کہ جن چار آدمیوں کی طرف انکی نسبت کی جای ہے &amp;nbsp;(یعنی متی ،مرقس، یوحنا ، لوقا &amp;nbsp;)ان کی &amp;nbsp;طرف یہ نسبت صحیح بھی ہے یا نہیں ؟ مطلب یہ کہ ان &amp;nbsp;کے لیے جس درجہ کا علمی ثبوت ہونا چاہیے واقعتا وہ موجود نہیں ہے، &amp;nbsp; جبکہ &amp;nbsp;ہمارے ہاں تو ضعیف حدیثوں تک کی سند موجود ہے، اور اس سند کے ضعف اور عدم ضعف پر دلائل قائم ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;دھن رے دھنیے اپنی دھن، پرائی دھنی کا پاپ نہ پن&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تیری روئی میں چار بنولےسب سے پہلے ان کو چن&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;گریٹ بک آف ویسٹرن ورلڈ مغرب کی &amp;nbsp;ایک کتاب ہے &amp;nbsp;جسے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا &amp;nbsp;کمپنی نے&amp;nbsp;&amp;nbsp;شائع کیا ہےیہ کتاب مغربی دنیا کے علمی و فکری خزانے کی مکمل تاریخ ہے جتنی اہم ترین کتب مختلف زمانوں میں‌ مغربی مورخین فلاسفہ ،ادبا اور سائنسدانوں وغیرہ نے لکھیں وہ مختلف عنوانات کے تحت یکجا کر کے شائع کردی گئیں۔ اس کتاب میں نہ حدیث کی طرح کا کوئی سند کا سلسلہ ہے اور نہ متن کے گواہوں کا کہیں تذکرہ &amp;nbsp;ہے &amp;nbsp;پھر بھی جد ید ترقی یافتہ مغربی دنیا اور &amp;nbsp;جنوبی ایشیا کے &amp;nbsp;خود کو پڑھا لکھا کہنے والے &amp;nbsp; دانشور، پروفیسر، ڈاکٹر &amp;nbsp;اسے تاریخی اقتباس اپنی کتابوں اور آرٹیکلز میں کاپی کرتے ہیں &amp;nbsp;، کبھی کسی نے &amp;nbsp;ان کے حوالہ پر اعتراض نہیں کیا، &amp;nbsp;بخلاف حدیث کے &amp;nbsp;جس پر اعتراض ہے جسکا ہر جزسند اور دلیل سے ثابت ہے ۔ پھر سند کی بھی پوری تنقیح اور تنقید اور ہر ممکن ذریعہ سے جانچ پڑتال کی گئی ہے اور ٹھوس علمی شہادت کے بعد قبول کی گئی ہے۔۔۔اگر موازنہ کیا جائے تو احادیث سچائی اور اعتماد میں اہل مغرب کی ایسی کسی بھی علمی کاوش سے ہزار درجے بہتر ہیں۔ لیکن پھر بھی اس پر اعتراض ہے اور &amp;nbsp;اسکو چھوڑنے کی نصیحتیں ہیں ۔ ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;blockquote class="tr_bq  " style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: #cc0000;"&gt;&lt;br /&gt;ابو ہریرہ &amp;nbsp; محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت میں سب پر سبقت لے گئے اور کوئی 5374 احادیث روایت کیں، حالانکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محض تین سال رہے!! جبکہ عبد اللہ بن عباس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی 1660 احادیث روایت کیں حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر محض 13 سال تھی!! قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایک کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے رفاقت محض 3 سال رہی جبکہ دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت محض بچہ تھا تو کیا ان دونوں میں اتنی قدرت تھی کہ وہ ایک طویل عرصے تک اتنا سارا ڈیٹا اپنے دماغ میں لے کر گھومتے رہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسے محض یادداشت پر انحصار کرتے ہوئے “ری سٹور” کر سکیں؟؟&lt;/span&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یہ حقیقت ہے کہ عربوں میں زبانی یاد داشتوں کاقدیم زمانے سے &amp;nbsp;رواج تھا، ان میں حفظ کی زبردست صلاحیت موجود تھی،صدیوں سے یہ لوگ اپنے قبائل کی تاریخ اوراپنے خاندانوں کے انساب &amp;nbsp;یاد رکھتے &amp;nbsp;آرہےتھے &amp;nbsp;اور راوی کا لفظ ان کے ہاں پہلے سے موجود تھا۔ عربوں میں حافظہ کی قوت میں بہت سے لوگ مشہور تھے ۔تابعی کبیر حضرت قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ &amp;nbsp;(۱۱۸ھ) کا حافظہ حیرت ناک تھا، جو بات ایک مرتبہ سن لیتے ہمیشہ کے لیے یاد ہوجاتی(تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۶۔تہذیب التہذیب:۴/۳۵۷) ، &amp;nbsp;امام زہری اورامام بخاری رحمہ اللہ &amp;nbsp;کے حافظے تاریخ اسلام میں شہرہ آفاق ہیں۔ہشام بن عبدالملک نے ایک موقع پر &amp;nbsp;اما م زہری کے حافظے کا امتحان لینا چاہا؛ چنانچہ آپ سے درخواست کی کہ ان کے بعض صاحبزادے کو حدیثیں املاء کروائیں؛ لہٰذا ابن شہاب نے ایک مجلس میں چار سو حدیثیں املاءکروائیں، ایک ماہ کے بعد ہشام نے کہا کہ وہ صحیفہ ضائع ہوگیا؛ اس لیے دوبارہ حدیثیں لکھوادیں؛ چنانچہ ابن شہاب نے دوبارہ چارسو حدیثیں لکھوائیں، جب مقابلہ کیا گیا توایک لفظ کا بھی فرق نہ تھا۔ &amp;nbsp;(تہذیب الکمال:۶/۵۱۲)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حضرت ابو ہریرہ کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ آپ &amp;nbsp;نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنی یاداشت کی شکایت کی تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp; نے فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ، آپ نے باذن الہٰی اس میں روحانی توجہ فرمائی اور حضرت ابوہریرہ &amp;nbsp; رضی اللہ عنہ &amp;nbsp; &amp;nbsp;بے نظیر حفظ کی دولت سے مالا مال ہوگئے؛ پھر اللہ تعالی نے آپ سے حدیث کی وہ خدمت لی کہ جو سنا پھر کبھی نہ بھولے اورجو دیکھا وہ ہمیشہ کی یاد بن گیا، خود فرماتے ہیں:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;"فضممتہ فما نسیت شیئا بعدہ"۔ &amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ترجمہ: پس! میں نے وہ چادر سمیٹ لی،اس کے بعد میں کبھی کچھ نہ بھولا۔&lt;b&gt;(صحیح بخاری: ۴۱)۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اس کے علاوہ ایک سادہ سی بات ہے جب تلاوت وقرأت میں بھول چوک حفاظت قرآن کو مجروح نہیں کرتی تو نقل روایت کی کسی غلطی سے یا راوی کی بھول چوک سے حفاظت حدیث مجروح کیسے ہوسکتی ہے ، جس طرح غلط تلاوت پر ٹوکنے اور لقمہ دینے والے ہر جگہ اور ہر دور میں ملتے ہیں، ضعیف اورنامکمل روایات پر راویوں کی بھول چوک کو نمایاں کرنے والے محدثین بھی ہر دور میں اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: #0b5394; font-size: large;"&gt;خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں ایک زندیق کو قتل کے لیے لایا &amp;nbsp; گیا ، وہ کہنے لگا کہ تم مجھے تو قتل کردوں گے لیکن ان ایک ہزار حدیثوں کا کیا کرو گے جو میں نے وضع کرکے چالو کردی ہیں، ہارون الرشید نے فورا جواب دیا :&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: #0b5394; font-size: large;"&gt;اے دشمن خدا &amp;nbsp; &amp;nbsp;! تو ابو اسحق فزاری اور ابن مبارک سے بچ کر کہا ں جاسکتا ہے &amp;nbsp;وہ ان کو چھلنی کی طرح چھان کر ایک ایک حروف نکال پھینکیں گے۔&lt;/span&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: #0b5394; font-size: large;"&gt;(علوم الحدیث 32)&lt;/span&gt;&lt;span style="color: #274e13;"&gt;۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;جو شخص ضعیف ومنکر روایات کے سہارے کل ذخیرہ احادیث کو مشکوک سمجھتا ہے،وہ اسی شخص کی طرح کا جاہل ہے &amp;nbsp;جو تلاوت اورقرات کی بعض عام غلطیوں کے باعث حفاظت قرآن ہی سے منکر ہو یا اس میں شک کرنے لگے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;قابل افسوس ہیں یہ لوگ جو علوم حدیث کی ابجد تک نہیں جانتے ، ائمہ رحمہم اللہ کے وضع کردہ قوانین کی الف ، ب تک نہیں جانتے ، خود ان کی علم حدیث سے معرفت جہالت کے درجے سے بھی کم ہے &amp;nbsp;،اپنی ذاتی سوچوں اور اِدھر اُدھر کی سنی سنائی حکاتیوں اور فلسفیانہ "نظریات "کو علم سمجھتے ہیں اور اس کی بنا پر علمی حقائق کو جُھٹلاتے ہیں اور محض سنت دشمنی کے لیے ، حدیث کا تحفظ کرنے والوں اور &amp;nbsp;علمی قوانین اور تحقیق کو غلط کہتے ہیں ۔۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ &amp;nbsp;جو &amp;nbsp;صرف اپنی عقل ، اپنی سوچ کے مطابق اور اپنے اختیار کردہ فلسفوں کے مطابق جو پسند نہ آئے &amp;nbsp;اسی کو &amp;nbsp;رد کرے ، &amp;nbsp;اپنی ضد اور تعصب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت کے خلاف صف آراء رہے، اپنی جانوں کو گلا گلا کر سُنّتء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جمع کرنے ، اور اس سے متعلق روایات کی تطہیر کرنے والے عُلماء &amp;nbsp;کے خلاف زہر افشانی کرتا رہے ، اس کو اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ &amp;nbsp;شخص شقی اور بدبخت &amp;nbsp; &amp;nbsp;ہے۔ &amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; کس قدر لائقِ شرم ہے کہ یہ حرماں نصیب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کی بجائے اپنے گلے میں ان کفار و ملحد ین &amp;nbsp;کی غلامی کا پٹہ سجانے میں “فخر” محسوس کرتے ہیں۔ حیف ہے اس عقل و دانش اور دین و مذہب پر! جس کی بنیاد الحاد و زندقہ پر ہو، جس میں قرآن و سنت کی بجائے جاہلین &amp;nbsp;کے کفریہ نظریات و عقائد کو درجہ استناد حاصل ہو، سچ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں تو عقل و خرد چھین لیتے ہیں، جھوٹ سچ کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور ہدایت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔اللہ ہمیں بدبختی سے بچائے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-2147293713855233717?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/2147293713855233717/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/02/blog-post.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/2147293713855233717'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/2147293713855233717'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/02/blog-post.html' title='وحی غیر متلو اور مستشرقین و ملحدین کا جھوٹا پراپیگنڈہ'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-7215720180783337320</id><published>2012-01-07T23:48:00.000-08:00</published><updated>2012-01-08T00:01:31.472-08:00</updated><title type='text'>زندگیاں بدلنے والی کتاب " الکیمسٹ اردوترجمہ کیمیا گری" ڈاؤنلوڈ کریں</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/-AEzQddMrVVc/TwlKAdgACaI/AAAAAAAAAR0/om--yjr9v0I/s1600/kemya+gari.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="640" src="http://1.bp.blogspot.com/-AEzQddMrVVc/TwlKAdgACaI/AAAAAAAAAR0/om--yjr9v0I/s640/kemya+gari.jpg" width="368" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;اس کتاب کے عنوان سے لگتا ہے جیسے یہ کوئی مہماتی قسم کا ناول ہوگا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس میں یہ دونوں خوبیاں ہیں &amp;nbsp;مگر اس کے باوجود یہ اپنی طرز کی ایک بہت مختلف ، شاندار اور غیر معمولی کتاب ہے۔ یہ دنیا کی چالیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوکر کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہوچکی ہے۔ مصنف نے انسانی زندگی کے چند بہت ہی اہم امور سے متعلق پائی جانے والی کم علمی بلکہ غلط فہمی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہےاور وہ اس کوشش میں کس حد تک کامیاب بھی رہا ہے ۔ ان امور سے متعلق مصنف کا نقطہ نظر کم وپیش وہی ہے جو اسلام کا ہے، حقیقت میں &amp;nbsp;یہ بہت حد تک اسلام کے فلسفہ حیات سے ہی اخذ شدہ ہے۔ ہم بالعموم اپنے بارے میں احساس کمتری کا شکار ہیں۔ مغرب کی صنعتی ترقی کی چکا چوند چاندنی &amp;nbsp;ہماری نظر اپنے اسلاف کے کارناموں تک بھی نہیں جانے دیتی، یہ ایک حقیقت بن چکی ہے کہ &amp;nbsp;ہمارے ہاں تیار ہونے والی اشیا جب بین الاقوامی لیبل کے ساتھ واپس ہمارے ہاں فروخت ہوتی ہیں تو ہمارے اعتماد پر پوری اترتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے اپنے نظریات جب مغربی لبادہ اوڑھ کر ہمارے پاس آتے ہیں تو وہ ہمارے لیے معتبر اور قابل عمل بن جاتے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ &amp;nbsp;:&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;ol dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;li&gt;مغرب کی کامیابی کے پیچھے وہ نظریات اور اصول ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آج سے چودہ سو سال قبل لائے تھے۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;کیا اس دنیا میں کامیاب زندگی کے لیے اس نظریہ حیات پر صرف ایمان لانا ہی کافی ہے یا ایمان کے بعد عمل بھی بنیادی شرط ہے۔&lt;/li&gt;&lt;li&gt;اسلام کے فلسفہ حیات پر ایمان لائے بغیر اس کے اصولوں پر عمل اس دنیا میں &amp;nbsp;تو کامیابی کی ضمانت ہے، اس کی مثال ہمیں مغرب سے مل سکتی ہے ، جبکہ ان لازوال اصولوں پر محض ایمان جو کہ عمل سے خالی ہو ، ایمان لانے والے کو اس دنیا میں کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس کی گواہی ہماری بے سکون معاشرتی زندگی دیتی ہے۔&lt;/li&gt;&lt;/ol&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;اس کاوش کا مقصد یہ ہے کہ ہم زندگی کی حقیقت کو جانیں اور ایک بامقصد زندگی گزارنے اور اس مقصد کے حصول کے لیے درکار محنت کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھیں۔ مطالعہ کا آغاز کتاب کے تعارف سے کریں اور اس میں اٹھائے جانے والے نقاط کو لیکر کتاب کا مطالعہ کریں اور ان کا جواب تلاش کریں۔&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-small;"&gt;( کتاب کے متعلق نقطہ نظر سے اقتباس)&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://www.archive.org/download/AlChemistTarjuma/KEMIYA_GARI.pdf" target="_blank"&gt;&lt;img border="0" height="60" src="http://2.bp.blogspot.com/-vT_JsHwQQ7U/TwlNJ9S41sI/AAAAAAAAAR8/-bP-HZth1Vc/s200/download_button.png" width="200" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;(&lt;b&gt;right click + Save As)&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-7215720180783337320?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/7215720180783337320/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/01/blog-post_07.html#comment-form' title='9 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/7215720180783337320'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/7215720180783337320'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/01/blog-post_07.html' title='زندگیاں بدلنے والی کتاب &quot; الکیمسٹ اردوترجمہ کیمیا گری&quot; ڈاؤنلوڈ کریں'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><media:thumbnail xmlns:media='http://search.yahoo.com/mrss/' url='http://1.bp.blogspot.com/-AEzQddMrVVc/TwlKAdgACaI/AAAAAAAAAR0/om--yjr9v0I/s72-c/kemya+gari.jpg' height='72' width='72'/><thr:total>9</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-5816289134895302842</id><published>2012-01-06T23:59:00.000-08:00</published><updated>2012-01-07T00:16:22.410-08:00</updated><title type='text'>اتنا تضاد اور دورخی  کیوں   ۔ ۔ ۔ ؟</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;ہم برابر ناجائز کاموں میں مبتلا ہیں ، ہمیں اس کا اعتراف بھی ہے ، لیکن اپنے &amp;nbsp;مقابل ساتھی کا مکروہ عمل ہماری آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;مجھے سامنے والے کی ایک چھوٹی غلطی بھی &amp;nbsp;پہاڑ کے مانند نظر آنے لگتی ہے اور میں اس کا چرچا کرنے لگتا ہوں &amp;nbsp;، &amp;nbsp;خود چاہے سو دفعہ وہی کام کرجا ؤں مجھے اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ۔ ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;مجھے زرداری سے تو شکوہ ہے کہ &amp;nbsp;وہ کرپٹ ہے لیکن میں اپنی کمائی کو &amp;nbsp;کتنا حلال کرکے کھاتا ہوں ، اسکا کبھی مجھے خیال بھی نہیں آیا۔۔۔۔۔۔ &amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;میں اس بات پر گلی میں کھڑے ہوکر بحثین کرتا ہوں کہ پولیس، کچہری والے رشوت کے بغیر کام ہی نہیں کرتے ، لیکن کوئی مجھے اپنے کام کےلیے ایک پیٹی فروٹ کی بجھوا دے تو تحفہ سمجھ کر قبول کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;کہیں لائن &amp;nbsp;میں لگ کر بل جمع کرواتے ہوئے کسی اور بندے کا اندر کے آدمی &amp;nbsp;کی &amp;nbsp;سفارش سے &amp;nbsp;پہلے جا کر جمع کروا دینا تو &amp;nbsp;مجھے ناگوار گزرتا ہے ، لیکن اگر مجھے اس طرح موقع مل جائے تو دوڑ کر جا کر جمع کرواآتا ہوں اور بعد میں سب کے سامنے تذکرہ بھی کرتاہوں کہ میرا محکمہ میں دوست تھا جس کی وجہ سے جلد کام ہوگیا۔ ۔ ۔ ۔۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;اشارے پر ٹریفک &amp;nbsp;پولیس والا کھڑا نہ ہوتو میں اشاروں کی پرواہ ہی نہیں کرتا ، کوئی میرے سامنے اشارہ توڑ جائے تو میں منہ میں بڑبڑانا شروع ہوجاتا ہوں ۔۔۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;مجھے اس بات پر تو شکوہ ہے کہ میرا فلاں رشتہ دار &amp;nbsp;اپنے والدین &amp;nbsp;کی عزت و خدمت نہیں کرتا، لیکن میں خود غصہ میں &amp;nbsp;اپنے ماں باپ کو کتنے سخت الفاظ بول جاتا ہوں اسکا کبھی مجھے خیال بھی نہیں آیا۔ ۔ ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;میرے گھر اور آفس میں پنکھا بھی نہیں صحیح چلتا اور آفس اور مسجد میں اے سی کے نہ چلنے پر چلانا شروع ہوجاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;میرے بچہ رو رہا ہو تو میرے دل میں درد ہوتا ہے ، دوسرے کا بچہ رو رہا ہو تو سر میں ۔ ۔ ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;میں دن بھر غیر لڑکیوں کے ساتھ ہلڑ بازی کرتا اور گپیں لگاتا اور دوستوں کےساتھ مل کر بے حیا فلمیں دیکھتا ہوں لیکن اپنی بہنوں، بیٹیوں &amp;nbsp;سے مجھے یہ توقع رہتی ہے کہ وہ کسی غیر لڑکے سے بات نہیں کریں گی اور بے حیائی کے کاموں سے بچیں رہیں گی ۔ ۔ ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;میں اپنی ساس اور سسر کی طبیعت وصحت &amp;nbsp;کا مہینوں نہیں &amp;nbsp;پوچھتا لیکن مجھے اپنی بیوی سے یہ شکوہ رہتا ہے کہ میری ماں کی ٹانگیں کیوں نہیں دباتی ۔ ۔ ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;مجھے اس بات پر تو شکوہ ہے کہ میری &amp;nbsp;مسجد کا مولوی اپنے پیٹ کے لیے حق بات کہتے ہوئے ڈرتا ہے لیکن کبھی مجھے اسکی توفیق نہیں ہوئی کہ &amp;nbsp;اسکی تھوڑی مالی مدد ہی کرلو کہ وہ آزادی سے بات کرسکے۔۔۔ ۔ ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;میں &amp;nbsp;خود فرائض وواجبات میں کوتاہی کرتا ہوں،، کئی کئی وقت کی نمازیں قضا کرجاتا ہوں،، زکوۃ کبھی دی ہی نہیں، &amp;nbsp;، لیکن اپنے حریف کو &amp;nbsp;نمازہ جنازہ میں شرکت نہ کرنے اور صدقہ نہ دینے پر بھی طعنہ دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;مجھے شکوہ رہتا ہے کہ میرے آفس میں سیاست بہت ہے &amp;nbsp;ایک دوسرے کی جڑیں کاٹی جاتیں ہیں &amp;nbsp;لیکن میرے علاوہ میرے کسی کولیگ کی پروموشن ہوجائے تو میرے دل میں جلن ہونے لگتی ہے اور میں اسکے پیٹ پیچھےاسکی غیبتیں شروع کردیتا ہوں ۔ ۔&amp;nbsp;۔ ۔ ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; میں روزانہ بد زبانی کروں اس کی شدت کا مجھے کبھی احساس نہیں ہوتا، لیکن دوسرے &amp;nbsp;کی زبان سے خلاف مروت وخلاف ادب نکلنے والا &amp;nbsp;ایک جملہ بھی میرے لیے بھاری &amp;nbsp;ہوتاہے &amp;nbsp;۔ ۔ ۔ ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; میں کسی کا دل دکھاؤں، کسی کو طعنہ دوں، کسی کو سب کے سامنے رسوا کروں، کسی &amp;nbsp;کو عار دلاؤں، جائز ہے ، &amp;nbsp;میرا والد یا میرا کوئی ساتھی اصلاح کی نیت سے ہی مجھے میری &amp;nbsp;غلطی پر ٹوک دے ، مجھے سمجھانے کی کوشش کرے تو میں چراغ پا ہو جاتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;میں فضول خرچی کروں تو یہ سخاوت ، میرا مقابل یہی کرے تو اسراف &amp;nbsp;۔ ۔ ۔ ۔۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;میں کسی کو سب کے سامنے ڈانٹوں تو یہ حق گوئی اور سامنے والا کرے تو یہ طعنہ زنی وتوہین۔۔ ۔ ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;آخر اتنی &amp;nbsp;دورخی اور منافقت کیوں ہے &amp;nbsp;۔۔۔ ؟&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;ایک طرف &amp;nbsp;ہم لوگ اپنے دین کو ساری دنیا کے ادیان سے ہر لحاظ سے بہترین اور قابل عمل سمجھتے ہیں ،فخر سے نعرے لگاتے ہیں کہ اسلام از دی بیسٹ اور &amp;nbsp;یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ ساری دنیا کے لوگ اسلام قبول کرلیں دوسری طرف اس حقیقت سے نظریں چرائے بیٹھے ہیں &amp;nbsp;کہ کوئی دین اور اسکی دعوتی تحریک محض اپنے عقائد وافکار او ر مخصوص آئیڈیالوجی کی بنیاد پر دلوں کو نہیں جیت سکتی ، غیروں کے &amp;nbsp;دلوں &amp;nbsp;پر اثر اس دین کے ماننے والے &amp;nbsp;فرد &amp;nbsp;کا کردار، اخلاق، معاشرتی زندگی &amp;nbsp;کرے گی۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;ہمارے سامنے ہے کہ ہمارے اکابر ین &amp;nbsp;اور آبا &amp;nbsp;کے پاس اگرچہ اس قدر میڈیائی اسباب ووسائل نہ تھے لیکن پھر بھی لوگ انکے آگے بچھتے چلے گئے اور &amp;nbsp;اسلام پوری دنیا پر پھیلتا چلا گیا او راسلامی تعلیمات نے دلوں کو جیت لیا اسکی وجہ یہ تھی &amp;nbsp;کہ اس وقت &amp;nbsp;اسلامی دعوتی عمل کی بنیاد &amp;nbsp;مسلمان کی زندگی پر تھی جس میں اسلام اپنی تمام تعلیمات کے ساتھ جلوہ افروز نظر آتا تھا، اور انکی &amp;nbsp;انفرادی اور اجتماعی اصلاح پہلو بہ پہلو چل رہی ہوتی تھی ۔ مبلغ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک فرد سے محنت شروع کرکے &amp;nbsp;اپنے &amp;nbsp;نمائندوں کو اپنے عمل سے یہ &amp;nbsp;سمجھایا تھا &amp;nbsp;کہ &amp;nbsp;معاشرہ کی اصلاح فرد کی اصلاح کے بغیر مفید اور دیرپا نہیں ہوتی ، اس لیے انکے ہاں &amp;nbsp;اصلاح فرد سے شروع ہوتی اور پھر &amp;nbsp;انکا تربیت یافتہ ایک تنہا فرد &amp;nbsp;شہروں ،بستیوں میں انقلاب برپا کردیتا ۔ ۔ ۔ ماضی کا دنیاد ارمسلمان تاجر اور بکریاں چرانے والا بھی ہزاروں لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;ہمارے ہاں &amp;nbsp;آج فرد کی اصلاح بے توجہی کا شکار ہے، لوگ کہتے ہیں میرے یا &amp;nbsp;ایک بندے کے ٹھیک ہونے سے کیا ہوجائے گا &amp;nbsp;اس لیے وسائل کی کثرت کے باوجود ہمارے معاشرے میں فساد ہے اور دعوتی عمل میں تاثیر نہیں، ہم لوگ غیر مسلموں کو دین کےقریب لانے کے &amp;nbsp;بجائے انکی &amp;nbsp;اس دین حق سے دوری کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ حقیقت میں ہم &amp;nbsp;نے کبھی اپنی اصلاح کی کوشش ہی &amp;nbsp;نہیں کی، &amp;nbsp;ہر آدمی &amp;nbsp; اچھے عمل کی ابتدا دوسرے سے کروانا چاہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔اگر آج ہم سے ہر بندہ &amp;nbsp;اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرلے اور یہ &amp;nbsp;عہد کرلے &amp;nbsp;کہ میرے سے &amp;nbsp;آئندہ انشااللہ &amp;nbsp;غلط اور &amp;nbsp;خلاف اصول و قانون کام نہیں ہو گا تو ایک ٹائم آئے گا کہ &amp;nbsp;ہمارا معاشرہ ایک &amp;nbsp;آئیڈیل معاشرہ بن جائےگا۔ &amp;nbsp;۔ ۔ &amp;nbsp;فی الحال &amp;nbsp;ہم ہر دن میں &amp;nbsp;دسیوں گناہوں سے تو بچ جائیں گے یا &amp;nbsp;کم از کم معاشرے سے ایک غلط آدمی کی تو کمی ہوجائے گی۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;اللہ &amp;nbsp;ہمیں توفیق &amp;nbsp;عطا فرمادے۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-5816289134895302842?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/5816289134895302842/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/01/blog-post_06.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/5816289134895302842'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/5816289134895302842'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/01/blog-post_06.html' title='اتنا تضاد اور دورخی  کیوں   ۔ ۔ ۔ ؟'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-8540791269249653197</id><published>2012-01-05T14:23:00.000-08:00</published><updated>2012-01-05T14:49:14.237-08:00</updated><title type='text'>جو حکم سرکار دا</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;نیا عیسوی &amp;nbsp;سال شروع ہوا ہے، عجیب عجیب رنگ وتماشے &amp;nbsp;دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پہلے &amp;nbsp;میڈیا نے دکھایا کہ مغربی ممالک &amp;nbsp; کے لوگ اور انکے پیروکار &amp;nbsp; ناچ گاکر نئے سال کا جشن منارہے ہیں ( مجھے آج تک اسکی &amp;nbsp;کوئی معقول وجہ سمجھ نہیں آئی &amp;nbsp;کہ &amp;nbsp;یہ &amp;nbsp;لوگ اتنی خوشی کا اظہار آخر کس اجتماعی کارنامے پر کرتے &amp;nbsp;ہیں)، &amp;nbsp;اخباراور میگزین &amp;nbsp;سپیشل فیچر &amp;nbsp;اور آرٹیکل چھاپتے نظر آ رہے ہیں ، کچھ نے تو مختلف اشتہارات اور رنگ و نور کی باقاعدہ محفل سجائی ہوئی ہے ۔ &amp;nbsp;کل ایک میگزین پر نظر پڑی نام تھا 'کیسا ہوگا 2012 ' نیچے لکھا تھا &amp;nbsp;'کل سے آج ہی ملیے' &amp;nbsp;، فٹے منہ پاکستانیوں کا آج نہیں گزر رہا کل کی مصیبتیں بھی آج پر ڈالنا چاہ رہے ہیں ، &amp;nbsp;اوپر سے &amp;nbsp;تین سو روپے &amp;nbsp;دے کر ۔ ۔ ۔ ۔ ٹائٹل بتا رہا تھا کہ &amp;nbsp; کچھ لکھاری جو اپنے &amp;nbsp;دانت گرا چکے ہیں ' نے شیخ رشید کی طرح نجومیوں &amp;nbsp;کی سیٹ سنبھال لی ہےاس میگزین میں&amp;nbsp;انہوں نے پاکستان کے مختلف شعبوں کی نبض دیکھ کر &amp;nbsp;انکے مستقبل کے متعلق لفاظی &amp;nbsp;کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔عجیب ۔ ۔ بھئی &amp;nbsp;یہ باتیں کس کو نہیں پتا ، ہمارے حکمرانوں کی کرپا سے اب &amp;nbsp;ہر پاکستانی &amp;nbsp;حتی کہ موچی بھی کسی بھی شعبے کے متعلق پورے وثوق کے ساتھ &amp;nbsp;پیشن گوہی کرسکتا ہے &amp;nbsp;کہ آج نہیں تو کل تباہی اسکا مقدر ہے &amp;nbsp;۔ ۔ ۔۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی &amp;nbsp;۔ ۔ ۔ پرامیس نو مور سیریس گل۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;آج سیارہ چیک کیا تو پتا چلا کہ &amp;nbsp;ہمارے &amp;nbsp;بلاگروں نے بھی اپنی &amp;nbsp;بلاگیوں میں جدت لائی ہے، &amp;nbsp; بلاگستان پر نئے سال کے متعلق &amp;nbsp; دوستوں کے &amp;nbsp;کوئز کی شکل میں &amp;nbsp;انٹرویو دیکھنے کو ملے ، &amp;nbsp;عمران &amp;nbsp; ، انکل ٹام اور &amp;nbsp;ضیا بھائی &amp;nbsp; کی حل شدہ کوئز نما &amp;nbsp;تحریریں دیکھیں ، &amp;nbsp; انہیں دیکھ کر مجھے &amp;nbsp;تو یہ سمجھ آئی کہ یہ ایک چین پراسیس چل رہا ہے ، ہربندہ اپنی تحریر کے آخر میں کسی نئے بلاگر کو ٹیگ یا ریفر کردیتا ہے &amp;nbsp;کہ اب اسکی باری ہے، ابھی انکل ٹام بھائی &amp;nbsp;کا بلاگ دیکھ رہا تھا &amp;nbsp;تو انہوں نے اپنی تحریر کے آخر میں مجھے ٹیگ کیا ہوا تھا ، &amp;nbsp; لوجی پھسا دتا،۔ ۔ سوال دیکھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی &amp;nbsp;کہ &amp;nbsp;میں ان کے کیا جواب دوں گا، &amp;nbsp;کیونکہ &amp;nbsp;میں تو اپنے معاملات میں ہوا کے رخ پر چلنے والا آدمی ہو ، &amp;nbsp;کم ہی &amp;nbsp;کبھی مستقبل کے بارے میں کوئی منصوبہ بنایا ہے ، یہی ذہن میں ہوتا ہے کہ جدو وقت آسی تے ویکھی جاسی، &amp;nbsp; یہ عادت سکول کے زمانے سے پڑھی اور آج تک یہی حال ہے &amp;nbsp;، &amp;nbsp;پھر سوچا &amp;nbsp; کڑے سو وچو سو نمبر لینے ضروری نے ، جو ذہن وچ آیا لکھ دیسا ، &amp;nbsp; جس طرح ابو &amp;nbsp;کی خواہش پر ایک &amp;nbsp;غیر متعلقہ ، نا پسندید ہ جاب کے لیے ٹیسٹ &amp;nbsp;میں سوالوں کے &amp;nbsp;بے تکے جواب لکھ کر آیا تھا اسی طرح دوستوں کے سوالوں کے جواب بھی لکھ دیتا ہوں ۔ تو حاضر ہیں جی پسند آئیں تو ٹھیک ہیں ورنہ &amp;nbsp;۔ ۔ ۔ خود لکھ ماریں۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;سوال نمبر 1 : &amp;nbsp;2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;پہلے سوال پر ہی پھنس گئے :) آگے کیا کریں گے۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;میں تو کچھ نہیں کرنا چاہتا جی لوگ ہی پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ &amp;nbsp;کچھ دن پہلے &amp;nbsp;ابا جی فرما رہے تھے &amp;nbsp;پتر &amp;nbsp;تبلیغ کے ساتھ وقت کچھ لگا آؤ، &amp;nbsp;مسجد کے مولوی صاحب کہہ رہے تھے ، اس سال تم نے رمضان میں &amp;nbsp;لازمی قرآن سنانا ہے، ایک دوست &amp;nbsp;مشورہ دے رہے تھے کہ &amp;nbsp; مارکیٹنگ میں ایم ایس کرلو، ماموں کا فون آیا &amp;nbsp;اپنے &amp;nbsp;ڈاکو منٹ بھیجو &amp;nbsp;تمہیں سعودیہ بلاتا ہو۔ میں بس ہر جگہ "جی جی" &amp;nbsp;کے چار لفظ بولتا رہا ہوں ، اب &amp;nbsp;دیکھو کیا خاص کرتا ہوں۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;سوال نمبر &amp;nbsp;2 : ۔ 2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;ہر نئے سا ل کی اٌ مد پہ یہ کیو ں سو چتا ہو ں&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;ا ب بد ل جا ئیں گے حالات..ضر وری تو نہی&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;اتنے کام ہیں کس کس کا انتظار کیا جائے۔ مجھے &amp;nbsp;کسی کا بھی انتظار نہیں &amp;nbsp;ہے جی۔ &amp;nbsp;اللہ اللہ خیر صلا۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;یوں ہوتا ہے تنہائی کے سخت سفر میں&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;پیچھے اک آہٹ، آگے سا یا ملتا ہے&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;کیسے گھنے جنگل سے گزرتی ہیں یہ نیندیں&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;کس مشکل سے خوابوں کو رستہ ملتا ہے&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;دور زمیں سے ایک نئی منزل کا بلاوا&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;دور افق پر کوئی ستارہ سا ملتا ہے&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;ہم ناداں ہر روز نئی امید لگائیں&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;اور اُدھر سے روز نیا دھوکا ملتا ہے&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;پہلے ہم دنیا سے ہاتھ چھُڑا لیتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;پھر دروازۂ شہرِ کمال کھُلا ملتا ہے&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;سوال نمبر 3: سال 2011 کی کوئی کامیابی؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;پچھلے سال میں شادی کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا :)۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;سوال نمبر 4 &amp;nbsp;؛ سال 2011 کی کوئی ناکامی؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;حالِ ماضی &amp;nbsp;قریب میر تقی میر سے معذرت کے ساتھ&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کا م کیا&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;دیکھا اِس &amp;nbsp;سستی کی بیماری &amp;nbsp;نے آخر کام تمام کیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;فر وی شکر اے &amp;nbsp;جی رب دا کہ عافیت سے ہوں&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;سوال نمبر 5 : سال 2011 کی کوئی ایسی بات جو بہت یادگار یا دلچسپ ہو؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;مجھے تو &amp;nbsp;طاغوتی طاقوں اور انکے میڈیا کے تماشے &amp;nbsp;ہی عجیب لگے ہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;سوال نمبر 6 : سال کے شروع میں کیسا محسوس کر رہے ہیں؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;جیسا سال کے آخر میں محسوس کررہا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;سوال نمبر 7 : کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;چاہتا تو بہت کچھ ہوں &amp;nbsp;لیکن دن وسال کبھی متعین نہیں کیے۔:( اہم &amp;nbsp;دینی موضوعات پر اچھی &amp;nbsp;اچھی کتابیں اکٹھی کرنے کا شوق ہے، &amp;nbsp; &amp;nbsp;غیر ملکی زبانیں خصوصا عربی زبان سیکھنا چاہتا ہوں ، &amp;nbsp;والدین کو حج کرانے کا شوق ہے، پتا نہیں اس سال &amp;nbsp;میرے یہ شوق ہوں گے یا عزرائیل کے &amp;nbsp;، روز آتا ہے ارد گرد وار کرجاتا ہے ، جدھر جاتا ہوں منادی اس کے آنے کی گواہی دے رہا ہوتا ہے۔، کہیں میری واری ہی نہ آجاوے۔ &amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;دوستوں نے &amp;nbsp;اپنی تحریروں کے آخر میں ٹیگ بھی کیے ہوئے کہ فلاں کے سر یہ اب یہ &amp;nbsp;فٹیک ہے ،اب وہ ان سوالوں کے جواب دے گا ، &amp;nbsp;ہمارے &amp;nbsp;دوست &lt;a href="http://inspire.org.pk/blog/" target="_blank"&gt;منیر عباسی&lt;/a&gt;&amp;nbsp;صاحب کے بلاگ پر کافی عرصے سے کوئی تحریر نہیں دیکھی &amp;nbsp;میں انکو ٹیگ کرتا &amp;nbsp;ہوں، مصروف آدمی ہیں &amp;nbsp;شاید ہی کچھ &amp;nbsp;لکھ دیں ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-8540791269249653197?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/8540791269249653197/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/01/blog-post.html#comment-form' title='10 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/8540791269249653197'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/8540791269249653197'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2012/01/blog-post.html' title='جو حکم سرکار دا'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>10</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-631762646859488169</id><published>2011-12-02T22:07:00.001-08:00</published><updated>2011-12-02T22:21:41.399-08:00</updated><title type='text'>سنت نبوی اور ہمارے مغرب پرست دانشوروں کی  بیہودہ تاویلیں</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;لارڈ میکالے کے نظام تعلیم &amp;nbsp; اور جدید تہذیب &amp;nbsp;نے &amp;nbsp; مسلمانوں کے ذہنوں پر جو اثرات مرتب کیے ہیں ، اس کی عجیب عجیب مثالیں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں، &amp;nbsp;یہود ونصاری نے ہمارے جوانوں کی اس حد تک برین واشنگ کردی ہے کہ &amp;nbsp;یہ &amp;nbsp; &amp;nbsp;نہ صرف جدید تہذیب و ثقافت &amp;nbsp;کو اپنی بنیادی ضرورت سمجھ چکے ہیں بلکہ کچھ &amp;nbsp; نے تو اس تہذیب و ثقافت کو اس حد تک مقدس جان لیا &amp;nbsp; کہ اس کو &amp;nbsp;انبیا &amp;nbsp; کے لیے بھی لازمی قرار دینے پر اتر آئے ہیں ۔ ایک صاحب لکھتے ہیں &amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #073763;"&gt;" اگر نبی پاک یورپ میں پیدا ہوتے تو کیا ان کا لباس اس ثقافت جیسا نہ ہوتا. . . . . . . . .جناب ثقافت سے بچنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ موجودہ بڑے بڑے مشاہیر اور علمائے پاک و ہند کو لے لیجئے کیا وہ نبی پاک والا لباس پہنتے ہیں؟ نہیں۔ یہی وجہ ہے مسلمانوں کے زوال کی۔ ہم نے اسلام کو موجودہ دور کے مطابق ڈھالا ہی نہیں۔ وہی پرانی باتیں اور پرانے قصے "&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اپنی ثقافت و لباس کو شاید اتنا مقدس تو یورپ والوں نے خود نہیں جانا ہوگا جتنا یہ لوگ سمجھنے لگ گئے ہیں، صاحب &amp;nbsp;نے کس دیدہ دلیری سے &amp;nbsp;اس ننگ دھڑنگ اور بے حیا &amp;nbsp;ثقافت کوانبیا کے لیے واجب قراردے دیا (اللہ انہیں معاف فرمائے)، &amp;nbsp; ثقافت نہ ہوئی آسمانی شریعت ہوگئی۔ &amp;nbsp;جب سے &amp;nbsp;مغرب &amp;nbsp;نے &amp;nbsp; مذہب کو سیاست و معاشرت سے علیحدہ کرکے ذاتی مسئلہ بنایا ، انکا دین عبادت گاہوں تک محدود ہوگیا ، ان کی دیکھا دیکھی ہمارے &amp;nbsp;کچھ لوگوں &amp;nbsp;نے بھی یہ سوچنا شروع کردیا ہے &amp;nbsp;کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس صرف عبادات میں اسوئہ حسنہ ہے‘ باقی حیات طیبہ کے احوال‘ عادات‘ معاملات‘ معاشرت اسوہ حسنہ نہیں ‘ یعنی ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمونہ عمل نہیں ہیں‘ اپنے باطل دعوے کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ معاشرتی امور میں‘ عادات و ماحول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے تابع تھے‘ عرب کا جو عرف و عادت اور رسم و رواج تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی رعایت کرتے تھے‘ مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی رکھی‘ چونکہ وہاں کا ماحول تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹوپی پہنتے تھے‘ چونکہ ٹوپی کا رواج تھا‘ یعنی یہ امور ماحول و رواج کے طور پر تھے‘ اس لئے ان امور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع باعث ِ ثواب نہیں۔ یہی بات ہمارے دوست &amp;nbsp; کے ذہن میں ہے انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ &amp;nbsp;اگر حضور یورپ میں پیدا ہوتے تو وہ بھی ان جیسا لباس نعوذبااللہ پینٹ شرٹ ، ٹائی &amp;nbsp;پہن کرپھرتے ان جیسے انہوں نے &amp;nbsp;بھی شیو کروائی ہوتی ۔ استغفراللہ۔ ایسے لوگوں کو اگر نظر صحیح اور نور بصیرت سے کچھ حصہ ملا ہوتا اور انہوں نے اخبار ، ناول ، پوئٹری کی کتابوں کے علاوہ کبھی اپنے نبی کی سیرت کی کتابوں کو کھول کر &amp;nbsp;بھی دیکھا ہوتاتو ان کو نظر آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اپنی زندگی میں ماحول اور رواج کی مخالفت کی ہے۔ آپ کا &amp;nbsp;ماحول تو کفر‘ شرک‘ ظلم‘ تشدد لوٹ مار کا تھا‘ زنا اور بے حیائی کا رواج تھا‘ شعروشاعری اور قمار بازی کا دور دورہ تھا‘ ننگے اور برہنہ طواف کرنے کا عام رواج تھا تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ماحول کی موافقت اور اسی جاہلیت کے طور طریقہ پر اپنے آپ کو اور صحابہ کرام رضوان اللہ کو ڈھالا؟ یا ان خرافات اور واہیات سے بچنے اور ان سے علیحدہ رہنے کی راہ دکھائی؟ &amp;nbsp;کیا اس زمانے کی سپر پاور &amp;nbsp;قیصر وکسری کی سلطنتین &amp;nbsp;نہیں تھیں ، کیا آپ نے ان کے طور طریقوں کو اپنایا ؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حقیقت میں ہمارا نظری‘بصری میڈیا‘ قومی اخبارات اور لادین رسائل و مجلات بھی نہایت عیاری‘ ہوشیاری اور غیر محسوس انداز میں نئی نسل کو الحاد‘ زندقہ‘ اور لادینیت و دہریت کے گہرے غاروں میں دھکیلنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں، بلکہ سادہ لوح عوام اور نئی نسل کے قلوب میں دین ومذہب سے نفرت وبیزاری کا بیچ بوکر انہیں قرآن وسنت اور دین وملت سے متنفر کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہیں،میں نے خود &amp;nbsp;ایک مشہور &amp;nbsp;دانشور کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ &amp;nbsp; اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں ہے‘ یہ مولویوں کی فکر تھی‘ اسلام صرف مکمل دین ہے‘ اسلام میں چہرے کا پردہ ہے نہ سرکا‘ یہ محض معاشرتی رواج ہے‘ حجاب صرف نبی کی ازواج کے لئے تھا‘اگرچہ داڑھی سنت ہے‘ لیکن حضور کے دور میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں داڑھی رکھتے تھے۔ حدود اللہ کا کوئی تصور قرآن میں موجود نہیں‘ یہ تصور فقہاء حضرات کا ہے “۔یہی باتیں بی اے ، ایم اے کرکے دینی مسائل پر بحثین کرنے والے تمام &amp;nbsp;نام نہاد &amp;nbsp;پروفیسر، ڈاکٹر، دانشور حضرات &amp;nbsp;کررہے ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;اگر انکی بات کو مان لیا جائے کہ &amp;nbsp; &amp;nbsp;بالفرض اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ &amp;nbsp;کیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض نہ تھا کہ وہ اپنی امت کو بتلاتے کہ اسلام میں فلاں فلاں جگہ نقص اور کمی ہے، اور اس کی تکمیل کے لئے فلاں فلاں دین و مذہب اور قانون و دستور سے مدد لی جائے؟ مگر دنیائے اسلام جانتی ہے کہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کسی قسم کی کوئی نشاندہی نہیں فرمائی، تو کیا کہا جائے کہ نعوذباللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے ساتھ خیانت کی ہے؟ کیا ایسا کہنا سمجھنا یا سوچنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کے انکار کے مترادف نہیں؟ اور جو شخص اسلام، پیغمبرِ اسلام، قرآن اور سنت کے خلاف ایسی فکر و سوچ رکھتا ہو وہ کیا کہلانے کا مستحق ہے؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;ایک طرف حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ &amp;nbsp;کی یہ گواہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو پیدائش سے موت اور مابعد الموت تک کے ہر ہر مرحلہ میں پیش آنے والے تمام معاملات کی نشاندہی فرمائی تھی، حتی کہ پیشاب ،پاخانہ استنجا اور وضو کا طریقہ بھی آپ نے سکھلایا اور بتلایا ہے، دوسری طرف ہمارے دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو ناقص و نامکمل ضابطہٴ حیات دے گئے۔ کیا کہا جائے کہ اسلام کی تکمیل کے سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثاروں کی گواہی معتبر ہے یا پندرھویں صدی کے ایک نام نہاد ملحد کی ثولیدہ فکری؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;دراصل &amp;nbsp;یہ لوگ زندگی بھر مغربی تعلیم گاہوں اور ملحد اساتذہ کے زیر تربیت رہے جن کے الحاد و زندقہ نے ان کے قلب و دماغ میں جگہ پکڑلی ہے، اس لئے اب &amp;nbsp;یہ ان کی اسی ملحدانہ فکر سے سوچتے، ان کی آنکھوں سے دیکھتے اور انہیں کی زبان سے بولتے ہیں۔ اس لیےان کو مسلمانوں کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی بلکہ ان کی مغربی عینک میں ہر چیز ناقص و نامکمل نظر آتی ہے، حتی کہ ان کو اسلام بھی نامکمل و ناقص دکھائی دیتا ہے، وہ نہیں چاہتے کہ کوئی مسلمان خالص قرآن و سنت پر عمل کرکے پکا سچا مسلمان کہلائے، بلکہ ان کے نزدیک اسلام اور اسلامی دستور اور قانون وہی معتبر ہے، جس پر مغرب اور مغربی آقاؤں کی مہر تصدیق ثبت ہو۔ اس کے برعکس جس دین، مذہب کی تکمیل و تتمیم پر اللہ، رسول، قرآن، حدیث ، صحابہ کرام&amp;nbsp;رضوان اللہ، تابعین رحمہ اللہ، ائمہ مجتہدین رحمہہ اللہ، اجماع امت اور پوری امت مسلمہ کے عملی تواتر کی سند موجود ہو، وہ ان کے نزدیک ناقص و نامکمل ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; باطل کی یہ محنتیں رنگ لائیں &amp;nbsp;آج ہمارے معاشرے کے عام لوگوں &amp;nbsp;کی بھی یہی &amp;nbsp;سوچ بنتی جارہی ہے؟ اکثریت اپنے روزمرہ کے معمولات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے طریقے پر عمل نہیں کرتی‘ کھانا‘ پینا‘ اٹھنا‘ بیٹھنا‘ سونا‘ جاگنا‘ چلنا‘ پھرنا‘ شادی‘ بیاہ‘ خوشی‘ غمی‘ سیرت‘ صورت‘ وضع قطع ‘ لباس‘ پوشاک ہر چیز میں نفس اور خواہش کی اتباع ہوتی ہے۔ خود کو مسلمان کہنے والے حضرات &amp;nbsp; &amp;nbsp;اسلامی تعلیم حاصل کرنے والوں کو بے وقوف ، گھٹیا &amp;nbsp;اور ڈانس سیکھنے والوں کو تعریف کے لائق ․ دھوکے باز کو ذہین ، &amp;nbsp; &amp;nbsp;سنت پر چلنے والوں کو بے وقوف اور کم تر &amp;nbsp;اور خلافِ سنت کام کرنے والوں کو معزز &amp;nbsp;سمجھتے ہیں ،یہود و نصاریٰ کے طریقوں &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;لباس کی مشابہت &amp;nbsp;کرنے والوں اور &amp;nbsp;داڑھی مونڈنے والوں کو معزز اور خوبصورت سمجھا جاتا ہے، باریک لباس تنگ یا چست لباس پہننے والیوں کو معاشرے کی معزز خواتین اور باپردہ اور سادہ باحیا لباس پہننے والیوں کو بے وقوف اور قدامت پسند &amp;nbsp;کہا &amp;nbsp;جاتا ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;سنت لباس&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;ہمارے نبی کا لباس کیا تھا ؟ کیا وہ اسی جاہلیت کے زمانے کی ثقافت کے مطابق تھا؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حقیقت یہ ہے کہ &amp;nbsp;حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص وضع قطع کے کپڑے کے پابند نہ تھے بلکہ ہر وہ کپڑا جو ستر کو پوری طرح ڈھانک سکے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے استعمال فرمایا ہے۔ آپ نے اچھے سے اچھے کپڑے بھی پہنے ہیں اور معمولی سے معمولی بھی ، یہاں تک کہ پیوند لگے کپڑے بھی پہنے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوپی، عمامہ، کرتا یا جبہ، اور تہبند ، پائجامہ کو پسند فرمایا ہے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر بدن پر بجائے جبہ وغیرہ کے ایک چادر استعمال فرماتے تھے اور کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کندھے پر ایک چادر مزید رکھتے تھے۔اس کے علاوہ کبھی ٹیک لگا کر کھانا نہیں تناول فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہ کھانے اور سونے کیلئے زمین ہی استعمال فرماتے تھے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یہ بات ٹھیک ہے کہ شریعت مطہرہ نے لباس کی کوئی خاص شکل یا ہیت متعین نہیں کی کہ فلاں لباس، فلاں ڈیزائن کا اور فلا چیز سے بنے ہوئے کپڑے کا استعمال کریں،بلکہ &amp;nbsp;ہر مقام، ماحول کی ضروریات، ثقافت اور روایات کے مطابق شرعی اصولوں کی روشنی میں تقویٰ کا لباس مسلمان خود اختیار کرلیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عرب وعجم میں مسلمانوں کا لباس مختلف ہے۔البتہ شرعیت نے &amp;nbsp;کچھ حدود ایسی ضرور مقرر کی ہیں جنکی پابندی ضروری ہے &amp;nbsp;اور ان حدود میں رہتے ہوئے آدمی جو وضع چاہے اختیار کرسکتا ہے۔ مثلا &amp;nbsp;اس میں کافروں اور فاسقوں کی مشابہت نہ کی جائے، لباس اتنا چھوٹا، باریک یا چست نہ ہو کہ وہ اعضاء ظاہر ہوجائیں جن کا چھپانا واجب ہے، مردوں کا لباس عورتوں کے، اور عورتوں کا مردوں کے مشابہ نہ ہو، فخر و تکبر اور دِکھلاوا مقصود نہ ہو، &amp;nbsp;مردوں اصلی ریشم نہ پہنیں وغیرہ ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;(مجبوری کی حالت کے علاوہ) اس بات میں شک نہیں &amp;nbsp;ہے &amp;nbsp;کہ آدمی کے دِل میں جس کی عظمت ہوتی ہے اس کی وضع قطع کو اپنانا پسند کرتا &amp;nbsp;ہے، &amp;nbsp; یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جو &amp;nbsp;اسلامی لباس کے بجائے انگریزی لباس اور وضع قطع کی پابندی &amp;nbsp;کی جاتی ہے وہ یہود و نصاریٰ رہن سہن، طور طریقوں کی عظمت &amp;nbsp;کی وجہ سے ہے۔ ہمارے اسلاف صحابہ کے جذبات &amp;nbsp;تو یہ تھے کہ جو چیزحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو &amp;nbsp;محبوب ہوتی وہ آپ کی محبت کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی محبوب ہوجاتی، کدو آپ کو نہایت مرغوب تھا، اس لئے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی اس کو نہایت پسند فرماتے تھے؛ چنانچہ ایک روز کدو کھارہے تھے تو بول اُٹھے،اے درخت اس بنا پر کہ رسول اللہ &amp;nbsp;صلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp;سے محبت تھی ،تو مجھے کس قدر محبوب ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; (ترمذی ،کتاب الاطعمہ ،بَاب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ،حدیث نمبر:۱۷۷۲)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آپ صلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp;نے ایک صحابی کو ایک رنگین چادر اوڑھے ہوئے دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے؟ وہ سمجھ گئے کہ آپ نے ناپسند فرمایا،فوراً گھر میں آئے اوراس کو چولہے میں ڈال دیا۔ &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; (ابوداؤد، کتاب اللباس ،باب فی الحمرۃ)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp;سےایسی محبت تھی کہ اگر کسی وجہ سے آپ کو رنج ہوتا تو تمام صحابہ کو بھی رنج ہوتا، آپ کو خوشی ہوتی تو تمام صحابہ رضوان اللہ بھی اس میں شریک ہوتے، آپ نے ایک مہینے کے لئے ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار کرلی تو تمام صحابہ رضوان اللہ نے مسجد میں آکر گریہ وزاری شروع کردی۔ &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; (مسلم، بَاب فِي الْإِيلَاءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ،حدیث نمبر:۲۷۰۴)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp;پر عمل &amp;nbsp;کامیابی کا &amp;nbsp;زینہ&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;لوگوں کے ذہن میں یہ سوال بھی آسکتا ہے کہ حضور اور صحابہ کے پاس پیسہ ہے ہی نہیں تھا وہ &amp;nbsp;قیصر کسری جیسے مہنگے &amp;nbsp;لباس کیسے پہنتے ، اعلی کھانے کیسے کھاتے، اعلی سواریوں پر کیسے گھومتے ، جدید ٹیکنالوجی سے کیسے فاعدہ اٹھاتے۔؟ یہ کہنا بھی غلط ہےکیوں کہ الله تعالیٰ کی طرف سے تو &amp;nbsp;رسول پاک کو پیش کش تھی &amp;nbsp;کہ مکہ کے پہاڑ کو سونا چاندی اور ہیرے بنا دیں ، لیکن رسول پاک صلی الله علیہ وسلم نے یہ منظور نہیں کیا اور فرمایا کہ ایک دن کھانا ملے گا تو کھا کر شکر کروں گا دوسرے دن اگر کھانا نہ ملے تو صبر کر لوں گا ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ایک ایسا زمانہ بھی آیا جب اسلام اور مسلمانوں کو شوکت عطا ہوئی اور چہار اطراف سے مالِ غنیمت کے انبار چلے آنے لگے۔ اس حال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ لاکھوں دینار آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چند گھنٹوں میں ضرورت مندوں کو عطا کردیتے اور خود ہاتھ جھاڑ کر اٹھ جاتے۔ اس زمانے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں دو دو تین تین ماہ تک چولہا نہ جلتا۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آپ عموماً فقر وفاقہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے، ایک بار حضرت عمررضی اللہ عنہ کا شانۂ نبوت میں تشریف لے گئے، تو دیکھا کہ آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں جس پر کوئی بستر نہیں ہے، جسم مبارک پر تہبند کے سوا کچھ نہیں پہلو میں بدھیاں پڑ گئی ہیں، توشہ ٔخانہ میں مٹھی بھر جو کے سوا اورکچھ نہیں، آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل آئے، ارشاد ہوا کہ عمررضی اللہ عنہ کیوں روتے ہو؟ عرض کیا &amp;nbsp;کیوں نہ رؤں آپ کی یہ حالت ہے، اور قیصروکسریٰ دنیا کے مزے اُڑارہے ہیں، فرمایا کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ہمارے لئے آخرت اوران کے لئے دنیا ہو۔ &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; &amp;nbsp;(مسلم، بَاب فِي الْإِيلَاءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ،حدیث نمبر:۲۷۰۴)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حضرت عمر کے زمانے میں باوجود کہ مال بے انتہا آیا لیکن حضرت عمر نے سادگی پر سب کچھ باقی رکھا۔ پیسہ کتنا ہی ہو، لیکن زندگی سادہ اور جب عمر نے انتقال فرمایا تو چھیاسی ہزار کا قرضہ ان پر تھا اور بیٹے کو ادا کرنے کی وصیت کی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ &amp;nbsp;کے سامنے ایک بچی آئی تو پوچھا یہ کس کی بچی ہے جو اتنی کمزور ہے ؟ صاحبزادوں نے کہا حضرت! آپ کی بچی ہے ۔ فرمایا کیوں اتنی کمزور ہو گئی؟ کہنے لگے آپ کی وجہ سے ، آپ زیادہ تنگی کرتے ہیں ۔ فرمایا اپنی کمائی سے اس کا علاج کرو۔ اس انتظار میں مت رہنا کہ اجتماعی مال سے دوں گا، منع کر دیا۔حضرت عثمان&amp;nbsp;رضی اللہ عنہ&amp;nbsp;اور حضرت علی&amp;nbsp;رضی اللہ عنہ&amp;nbsp;کے زمانے میں مکانات پکے بن گئے ، مسجد نبوی پکی بن گئی ۔ کھانا لوگوں کا بڑھیا بن گیا، مگر ان کی اپنی زندگی خود سیدھی سادی تھی۔ حضرت علی کوفے میں ہیں او رایک چادر میں ہیں اور سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں ۔ کسی نے کہا کہ حضرت بڑے بڑے کمبل آئے ہیں اوران میں سے ایک لے لیں۔ فرمایا جو چادرمیں نے لی ہے وہ مدینہ سے آئی ہے ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سلطان صلاح الدین ایوبی اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیت ہیں۔ وہ فاتح بیت المقدس ہیں۔ لیکن جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا۔ اورنگ زیب عالمگیر پورے جنوبی ایشیا کے حکمران تھے اور ان کا دورِ حکومت پچاس سال پر محیط ہی، لیکن وہ ذاتی گزربسر کے لیے ٹوپیاں سیتے تھے اور طغرے بناتے تھے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp;کی سادہ زندگی اور بے تکلف زندگی ان لوگوں کے سامنے تھی، &amp;nbsp;حقیقت میں جب تک یہ امت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن نقوش اور پاکیزہ سنتوں پر عمل کرتی رہی‘ کامیابیاں اور کامرانیاں اس کا مقدر بنیں اور جب سے آپ کی سنتوں کی اتباع اور پیروی میں سستی اور کاہلی در آئی‘ اس وقت سے امت فتنہ و فساد اور ظلم کی لپیٹ میں آگئی ، آج اگر کوئی &amp;nbsp;یہ کہے کہ مسلما ن تعلیم اور ٹیکنا لوجی &amp;nbsp;حاصل نہ کرنے کی وجہ سے یا مال ودولت کی کمی کی وجہ سے قیادت وسیادت سے ہاتھ کھو بیٹھا ہے تو یہ اس کی حماقت اور بے وقوفی ہے، کیا &amp;nbsp; جن مسلم ممالک &amp;nbsp;نے تعلیم وٹیکنالوجی حاصل کی وہ آج تک ترقی کو پہنچ سکے ہیں ؟، کیا ہم نے تر کی اور ایران، ملیشیا، ترکستان، پاکستان، لیبیا،شام کونہیں دیکھا، کیا انہوں نے ٹیکنالوجی حاصل کرکے دنیا میں اپنا مقام بنایا؟ کیا روشن خیالی اورمغربیت کے نعرے نے ترکی&amp;nbsp;کو کسی بھی میدان میں عزت سے ہم کنار کیا&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;امام مالک رحمہ اللہ کا ارشاد ہےاس &amp;nbsp;امت کے آخری دور کے افراد کی فلاح وصلاح اسی چیز سے ہو سکتی ہے، جس سے پہلے لوگو ں کی ہوئی ۔ ذراصحابہ اور اسلاف کی تاریخ کی ورق گردانی کرکے دیکھیں تو معلوم ہوجائے گا کہ ان کی کامیابی کاراز سنت نبوی کے علاوہ اوراسوہٴ نبوی کے علاوہ کوئی چیز تھی ؟کیا ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پاس کوئی ٹیکنالوجی تھی؟ نہیں نہیں! و ہ اس زمانے کے صحیح ہتھیاروں سے بھی عاری تھے، مگر سنت پر چل کر ا ن کی دو سو کی جماعت بھی ہزار کو، دس ہزارکی جماعت اس زمانہ کی سُپر پاور قیصر وکسریٰ کی مسلح فوجوں کو شکست وہزیمت سے دوچار کر دیتی تھی۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;فتح بیت المقدس کے بعد جب حضرت عمرضی اللہ عنہ شہر کے قریب &amp;nbsp;پہنچے اور حضرت ابو عبیدہ&amp;nbsp;رضی اللہ عنہ&amp;nbsp;اور سرداران فوج استقبال کو نکلے تو دیکھا کہ مسلمانوں کا بادشاہ جن کے نام کے غلغلہ سے روم و شام کانپ رہے تھے، بالکل معمولی لباس پہنے یا پیادہ آرہے ہیں تو ان کو محض اس خیال سے شرم معلوم ہوئی کہ ہمارے بادشاہ کو دیکھ کر عیسائی اپنے دل میں کیا کہیں گے۔ چنانچہ ایک اعلیٰ ترکی گھوڑا اور قیمتی پوشاک حاضر کی گئی۔ آپ نے فرمایا:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;b&gt;’’خدا نے ہم کو جو عزت دی ہے، وہ صرف اسلام کی وجہ سے دی ہے اور وہی عزت ہمارے لئے کافی ہے۔‘‘&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-631762646859488169?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/631762646859488169/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/12/blog-post.html#comment-form' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/631762646859488169'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/631762646859488169'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/12/blog-post.html' title='سنت نبوی اور ہمارے مغرب پرست دانشوروں کی  بیہودہ تاویلیں'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-7300579526478038817</id><published>2011-11-30T02:44:00.001-08:00</published><updated>2011-11-30T21:17:47.105-08:00</updated><title type='text'>ایک تحقیقی و نادر کتاب "احکام اسلام عقل کی نظر میں"</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/-Wn9ywJs5av4/TtYJSTI2KjI/AAAAAAAAAP8/_MGubVPHsZ4/s1600/1_Page_001.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="640" src="http://1.bp.blogspot.com/-Wn9ywJs5av4/TtYJSTI2KjI/AAAAAAAAAP8/_MGubVPHsZ4/s640/1_Page_001.jpg" width="403" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large;"&gt;&lt;u&gt;&lt;a href="http://www.archive.org/download/AHKAAM_E_ISLAAM_AQAL_KI_NAZAR_MEN/AHKAM_O_MASAIL/AHKAM_O_MASAIL_AHKAAM_E_ISLAAM_AQAL_KI_NAZAR_MEN.pdf" target="_blank"&gt;&lt;b&gt;Download&lt;/b&gt;&lt;/a&gt;&lt;/u&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;( رائٹ کلک + سیو ایز)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;یہود ونصاریٰ &amp;nbsp;اور روشن خیال و تجدد نواز طبقہ اسلامی احکام &amp;nbsp;کو سخت ، انسانی حقوق &amp;nbsp;اور عقل کے خلاف کہہ کر اسلام کو بدنام کرتے ہیں اور اسلام کو سختی اور تنگ نظری کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ مسلمانوں کا مغرب زدہ دیندار طبقہ بھی اس دھوکہ میں ہے کہ اسلام چند مخصوص عبادات کا نام ہے اور دنیا وی معلومات کے طے کرنے کے لئے ہمیں ایک عقلی طریقہ کار یا نظام کی ضرورت ہے، اس &amp;nbsp;کی وجہ سے یہ لوگ اسلام کو مسجد تک محدود رکھتے ہیں اور مسجد سے باہر اپنی عقل لڑاتے ہیں، گویا نعوذ باللہ! خدا صرف مسجد میں ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اسلام پوری زندگی پر محیط تو ہے مگر چودہ سوسال پرانا ہونے کی وجہ سے اس کے تقاضے بھی بدل گئے ہیں، آج کی دنیا سائنسی دنیا ہے، لہذا اسلام کی عام زندگی پر من وعن عمل کرنا ممکن نہیں رہا ہے، لہذااسلام کو انکی اور زمانے کی &amp;nbsp;خواہش کے مطابق ڈھالا جائے.&amp;nbsp;حقیقت میں&amp;nbsp;اسلام &amp;nbsp; ایک آفاقی وبین الاقوامی مذہب ہے، اس کے احکام وتصورات کی بنیاد نہ تو محض چند مشترک مادی اغراض پر ہے اور نہ ہنگامی اور عارضی حالات نے انہیں جنم دیا ہے اور نہ اس میں کسی خاص گروہ یا قوم ہی کی سیاسی برتری یا معاشی بہبود پوشیدہ ہے، بلکہ اس کے واضع اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت وساخت ہی ایسی بنائی ہے کہ وہ ہرانسان کے لئے، ہر وقت اور ہر زمانہ میں قابل عمل ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی دی ہے تو اسے زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے ۔شریعت کے احکام کا جائزہ لینے سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ مختلف نظاموں میں یہ بات تو مشترک ہے کہ وہ زندگی کے ایک شعبے یا ایک شعبے کے چند مسائل پر تو بحث کرسکتے ہیں اور وقتی حل نکال سکتے ہیں مگر مجموعی طور پر کوئی بھی انسانی نظام اس قابل نہیں کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں پر احاطہ کرسکے اور اس کے مسائل کو بخوبی حل کرسکے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;زیر&amp;nbsp;نظر کتاب میں &amp;nbsp; اسلامی شرعیت اور اسکے احکام کا جائزہ عقلی زاویہ سے پیش کیا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ &amp;nbsp;اسلام بلا مبالغہ &amp;nbsp;دین فطرت ہے ،اس کے احکام میں کوئی حکم ایسا نہیں جو فی نفسہ ناقابل برداشت ہو اور عقل اور فطرت کے خلاف ہو یا &amp;nbsp;اس سے انسان کو کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہو۔ عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں اسلامی احکام میں سے کچھ &amp;nbsp;کے متعلق سوالات رہتے ہیں کہ ان احکام کے پیچھے &amp;nbsp;کیا حکمت ہوگی ؟، اس کتاب میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے &amp;nbsp;شرعیت کے تمام بڑے &amp;nbsp;احکام &amp;nbsp;کی عقلی حکمتوں اور مصلحتوں اور اسرار و فلاسفی کو مدلل انداز میں بیا ن کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے &amp;nbsp;کہ تمام احکام شریعت عین عقل &amp;nbsp;کے مطابق ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;فہرست عنوانات&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://3.bp.blogspot.com/-VB7crpLEXO4/TtYJTRUURtI/AAAAAAAAAQE/vOPrIr79HE8/s1600/1_Page_005.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="640" src="http://3.bp.blogspot.com/-VB7crpLEXO4/TtYJTRUURtI/AAAAAAAAAQE/vOPrIr79HE8/s640/1_Page_005.jpg" width="393" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://4.bp.blogspot.com/-aO7SlT8lpnU/TtYJUXX0BKI/AAAAAAAAAQM/nftvv-aQkiQ/s1600/1_Page_006.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="640" src="http://4.bp.blogspot.com/-aO7SlT8lpnU/TtYJUXX0BKI/AAAAAAAAAQM/nftvv-aQkiQ/s640/1_Page_006.jpg" width="394" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/-m-TWuTF2Tck/TtYJVQWCHXI/AAAAAAAAAQU/PztDLVmY-tM/s1600/1_Page_007.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="640" src="http://1.bp.blogspot.com/-m-TWuTF2Tck/TtYJVQWCHXI/AAAAAAAAAQU/PztDLVmY-tM/s640/1_Page_007.jpg" width="394" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://3.bp.blogspot.com/-LILac5avKWY/TtYJWPPQu8I/AAAAAAAAAQc/yqbCtyJonZo/s1600/1_Page_008.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="640" src="http://3.bp.blogspot.com/-LILac5avKWY/TtYJWPPQu8I/AAAAAAAAAQc/yqbCtyJonZo/s640/1_Page_008.jpg" width="395" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/-2HR07Akd-9c/TtYJXQ6l07I/AAAAAAAAAQk/gZTD-x8vBh4/s1600/1_Page_009.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="640" src="http://1.bp.blogspot.com/-2HR07Akd-9c/TtYJXQ6l07I/AAAAAAAAAQk/gZTD-x8vBh4/s640/1_Page_009.jpg" width="393" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://3.bp.blogspot.com/-EKPnl2ybXT8/TtYJY_w7E2I/AAAAAAAAAQs/X9xayOd6PiQ/s1600/1_Page_010.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="640" src="http://3.bp.blogspot.com/-EKPnl2ybXT8/TtYJY_w7E2I/AAAAAAAAAQs/X9xayOd6PiQ/s640/1_Page_010.jpg" width="394" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/-axZn4oHeOZo/TtYJZ9M-hcI/AAAAAAAAAQ0/j-7Z7As1UrI/s1600/1_Page_011.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="640" src="http://1.bp.blogspot.com/-axZn4oHeOZo/TtYJZ9M-hcI/AAAAAAAAAQ0/j-7Z7As1UrI/s640/1_Page_011.jpg" width="394" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-7300579526478038817?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/7300579526478038817/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/11/blog-post_30.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/7300579526478038817'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/7300579526478038817'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/11/blog-post_30.html' title='ایک تحقیقی و نادر کتاب &quot;احکام اسلام عقل کی نظر میں&quot;'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><media:thumbnail xmlns:media='http://search.yahoo.com/mrss/' url='http://1.bp.blogspot.com/-Wn9ywJs5av4/TtYJSTI2KjI/AAAAAAAAAP8/_MGubVPHsZ4/s72-c/1_Page_001.jpg' height='72' width='72'/><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-7421980842999854748</id><published>2011-11-21T04:44:00.001-08:00</published><updated>2011-11-21T04:57:36.485-08:00</updated><title type='text'>ہر طرف اک تماشا ہے   کھیل جاری ہے</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;ہر طرف اک تماشا ہے &amp;nbsp; &amp;nbsp;کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;میدان سجا ہے جنگوں کا &amp;nbsp; کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;سروں کی فصل کاٹ کر &amp;nbsp; &amp;nbsp;ظالم یہ کہتا ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;قیام امن کا ارادہ ہے &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;بارود کے ڈھیر برسا کر &amp;nbsp; &amp;nbsp;رہے وہ پاک دامن&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;حقوق انساں کا پھر نعرہ ہے &amp;nbsp; &amp;nbsp; کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;ہنستے بستے شہروں کو بنا دیا جنہوں نے کھنڈر&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;تعمیر کا انہیں ہی دعوی ہے &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;ہر ستم کی حد &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;اب اس دنیا نے تمام کر دی&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;تہذیب پر بھی انکا گزارہ ہے &amp;nbsp;کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;یہ &amp;nbsp;گرم &amp;nbsp; گرم &amp;nbsp; سرخ لہو &amp;nbsp; &amp;nbsp; چلا کے کہتا ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;تمہارا مظلوم نے کیا بگاڑا ہے کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;تم &amp;nbsp; &amp;nbsp;بےگناہوں &amp;nbsp; &amp;nbsp;کا ذرا &amp;nbsp; &amp;nbsp;کچھ &amp;nbsp;قصور بھی &amp;nbsp; &amp;nbsp;بتا دو&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;نہ دلیل پراثر &amp;nbsp; نہ آہ میں شرارہ ہے &amp;nbsp; کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;یہ رات لمبی سہی &amp;nbsp; &amp;nbsp; اک دن &amp;nbsp;اختتام پذیر ہوگی&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;بس قدرت کا ایک ہی اشارہ ہے &amp;nbsp;کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;خورشید ابھی جاگا تو نہیں کہ &amp;nbsp; &amp;nbsp; دھند چھٹ جائے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;کچھ سحر کا لیکن نظارہ ہے &amp;nbsp; &amp;nbsp; کھیل جاری ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-7421980842999854748?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/7421980842999854748/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/11/blog-post_21.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/7421980842999854748'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/7421980842999854748'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/11/blog-post_21.html' title='ہر طرف اک تماشا ہے   کھیل جاری ہے'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-3234350455277388156</id><published>2011-11-08T21:23:00.000-08:00</published><updated>2011-11-10T03:56:17.573-08:00</updated><title type='text'>اسلامی ذخائر کتب میں باطل نظریات کی ملاوٹ پر ایک تحقیق</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;قرآن پاک نے علمائے یہود کی ایک نشانی یہ بتلائی ہے کہ (من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ) یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کلام کو اس کے موقعوں سے پھیرتے رہتے ہیں۔ یہود نےاپنی اسی عادت پرنا صرف اپنی &amp;nbsp;مذہبی کتابوں کو بدل ڈالا، بلکہ اپنے ایجنٹ دوسرے مذاہب میں داخل کرکے ان کی مذہبی کتابوں کو بھی بدلنے کی کوشش کی ۔ چنانچہ &amp;nbsp;پولس جسے عیسائیت کا بانی کہا جاتا ہے حقیقت میں یہودی تھا، اس نےخود کو عیسائی مخلص باور کروا کر &amp;nbsp;بائبل اور عیسائی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا، عیسائیت &amp;nbsp;میں تثلیت کا عقیدہ ڈال کر اسے مشرک مذہب بنادیا ، اسی روش پر &amp;nbsp;یہودیوں نے اسلام کا تاروپودبھی &amp;nbsp;بکھیرنے کے لئے پہلی صدی ہجری میں ہی سازش کی ۔ اسلام جب اپنے محسنین تلامذہ نبوت (ص)، خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم کی وجہ سے بام عروج پر پہنچا اور معلوم کرہ ارضی کے چپہ چپہ پر چھا گیا۔ بڑی بڑی متمدن فارس و روم کی حکومتیں پیوند خاک ہوگئیں تو یہود و مجوس منافقانہ انداز میں &amp;nbsp;اسلام میں داخل ہوئے اور حسد و نفاق کی وجہ سے اسلام سے انتقام کی ٹھانی۔ ان کا سرغنہ صنعأ، یمن کا عبد اللہ بن سباء یہودی عالم تھا ۔عبداللہ بن سباء اور اس کی پیروکار ذریت کے اسلام سوز مسلم کش کارنامے تاریخ کی سب سے معتبر کتابوں کے علاوہ شیعہ کی علم اسماء الرجال کی کتابوں میں صراحت سے موجود ہیں۔ اس نے اپنی پرتقیہ ، خفیہ تحریک سے صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ کے قتل کا ہی کام نہ لیا بلکہ اسلام کے اساسی عقائد پر تیشہ چلایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رب باور کرایا۔ ۔ امامت کا عقیدہ ایجاد کرکے ختم نبوت کا صفایا کیا۔ قرآن میں تحریف اور کمی و بیشی کا نظریہ ایجاد کرکے اسلام کی جڑ کاٹ دی۔ سرمایہ نبوت ، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو معاذ اللہ منافق ، غاصب اور بے ایمان کہہ کر پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی ناکامی اور اسلام کے جھٹلانے کا برملا اعلان کیا۔ امہات المومنین&amp;nbsp;&lt;span class="Apple-style-span" style="border-collapse: collapse; color: #333333; font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif; font-size: 11px; line-height: 14px; white-space: pre-wrap;"&gt;رضوان اللہ علیہن اجمعات&lt;/span&gt;، بنات طاہرات&amp;nbsp;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #222222; font-family: arial, sans-serif; font-size: x-small; line-height: 16px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="border-collapse: collapse; color: #333333; font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif; font-size: 11px; line-height: 14px; white-space: pre-wrap;"&gt;رضوان اللہ علیہن اجمعات&lt;/span&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;اور آپ&amp;nbsp;صلی اللہ علیہ وسلم&amp;nbsp;کے سب سسرالی اور خاندانی رشتوں کی عظمت کا انکار کرکے ’’مقام اہل بیت‘‘ کے نظریہ کو بھی تہس نہس کردیا۔عبداللہ بن سباء نے عوام کو &amp;nbsp;وہی سبق پڑھایا جو پولوس نے عیسائیوں کو پڑھایا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس دنیا میں خدا کا روپ ہیں اور ان کے قالب میں خداوندی روح ہے اور گویا وہی خدا ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;شیعیت &amp;nbsp;حقیقت میں مجوسیت &amp;nbsp;تھی اس لیے &amp;nbsp;شیعیت کو مجوسیوں کے ملک &amp;nbsp;ایران میں جو عروج و ترقی حاصل ہوئی وہ انہیں کسی دوسرے ملک میں نہیں مل سکی اور وہ ابھی تک چلی آرہی ہے ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;اسماعیلیہ قرامطہ&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;حضرت جعفر رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد شیعہ کے &amp;nbsp;دو گروہ پیدا ہوئے ۔جس نے ان کے چھوٹے بیٹے حضرت موسی کاظم کو ان کا جانشین تسلیم کیا وہ آگے چل کر امامیہ اثنا عشریہ کے نام سے مشہور ہوا۔جنہوں نے ان کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کو ان کا جانشین تسلیم کیا وہ آگے چل کر اسمعیلیہ کے نام سے مشہور ہوا ۔ یہ اگرچہ شیعت ہی کی شاخ تھی لیکن &amp;nbsp;بعد میں یہ تحریک اپنے معتقدات اور اعمال کے لحاظ سے شیعت سے بھی کوسوں دور نکل گئی ، تاریخ میں اسے ملاحدہ، باطنیہ، تعلیمیہ اور قرامطہ جیسے رسوائے عالم القاب سے یاد کیا گیا۔ حمدان قرمط ایک عراقی کاشتکار تھا ، چونکہ اس کی ٹانگیں چھوٹیں تھیں اس لیے اسے قرمط کہتےتھے۔ ا س نے اسمعیلی مذہب کو باطنی تحریک میں تبدیل کردیا، اسی کے نام سے اسماعیلی فرقہ قرامطہ کے نام سے موسوم ہوگیا۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;اس باطنیہ اسمٰعیلیہ فرقہ کے ذریعے یہود نے ملت اسلامیہ کے اندرجہاں بغض و عداوت اور نفاق و تفریق کے بیج بوئے ، وہیں شیعہ آئیڈیالوجی کو کو بالواسطہ طور پر بھی عامۃ المسلمین کے مختلف طبقات و عناصر میں پوری قوت کے ساتھ پیوست کرنے کی اپنی شیطانی کوشش &amp;nbsp;میں کوئی کسر نہ چھوڑی، چنانچہ انہوں نےمسلمانوں کے تہذیب، تمدن، معیشت، سیاست، معاشرت، عبادات، تفسیر، احادیث، اسلامی علوم و فنون غرض ہر شعبہ زندگی میں &amp;nbsp;اپنا اثر ڈالا ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;اس فرقہ نے اپنی &amp;nbsp;عیاری اور معاندانہ سرگرمیوں &amp;nbsp;سے اسلامی کتابوں میں جو گمراہ کن تدسیس (اپنی باتوں کو دوسروں کی باتوں میں ملا کر چھپانا) کرنے کی کوشش &amp;nbsp;کی اگر ان سب &amp;nbsp;کو جمع کیا جائے تو اس موضوع پر ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے ، مگر ہم مضمون کو طوالت سے بچانے کے لیے صرف چند بڑی مثالوں پر اکتفا کریں گے۔&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;قرآن میں تدسیس کی کوششیں&lt;/span&gt;&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;یہود نے بائبل &amp;nbsp;کی طرح قرآن میں &amp;nbsp;بھی تبدیلی کی بھرپور کوششیں کیں لیکن قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری چونکہ &amp;nbsp;اس کے اتارنے والے نے خود اٹھائی تھی اس لیے ان کو منہ کی کھانی پڑی، قرآن کی حفاظت کے لیے حضرات تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں یہ &amp;nbsp;سلسلہ رہا کہ ایک ہی شخص حافظ قرآن، مفسر قرآن اور علم قراء ت کا ماہر ہوتا تھا۔ پھر جیسے جیسے صلاحیتوں میں کمزوری آتی گئی ویسے ویسے حفاظت قرآن کی خدمت امت مسلمہ کے مختلف طبقوں میں تقسیم ہوتی رہی ، چناں چہ حضرات علمائے مفسرین نے قرآن کریم کے معانی ومطالب، تفسیر وتشریح او رمراد خداوندی کی حفاظت فرمائی۔ حضرات قراء ومجودین نے اس کی مختلف &amp;nbsp;قراءت ، ادائیگی حروف او رمخارج وصفات کی حفاظت کی او رحضرات حفاظ نے اس کے الفاظ کو اپنے سینوں میں محفوظ کرکے یہ خدمت انجام دی ۔ یوں متن کی حفاظت، &amp;nbsp;معنی ومفہوم کی حفاظت، زبان کی حفاظت، &amp;nbsp;الفاظ و معانی کی عملی صورت کی حفاظت، شانِ نزول کی حفاظت، سیرت نبوی کی حفاظت ، قرآن کے اولین مخاطب کے حالات کی حفاظت ، تابعین کے حالات کی حفاظت وغیرہ وہ چیزیں &amp;nbsp;ہیں جن کو قرآن کی حفاظت کی خاطر اللہ رب العزت نے حیرت انگیز انداز میں تحفظ بخشا، اوراپنی کامل قدرت کا مظاہرہ کیا۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;اسلام کے دشمنوں نے اپنے تمام وسائل استعمال کرنے کے بعد یہ جان لیا کہ اللہ کی اس کتاب میں وہ لوگ کسی طرح کی لفظی تبدیلی نہیں کر سکتے ، پھر انہوں نے قران کے فہم میں معنوی تحریف کا راستہ اپنایا اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے ، اور ہیں ، قران کو سمجھنے کے لیے اپنی عقل اور رائے ، منطق اور فلسفہ کا استعمال رائج کیا گیا &amp;nbsp;اوراُمت مسلمہ کے ہر کس و ناکس کو بظاہر قران کا محب اور قران پر عمل پیرا ہونے کےزعم میں مبتلا کرکے یہ کج روی سُجھائی جانےلگی کہ احادیث کو چھوڑ کر اپنی سوچ و فکر کی بنا پر قرآن کو سمجھے اور سمجھائے ، &amp;nbsp;چنانچہ آج ہم ایسے کئی لوگوں کو دیکھتے ہیں جو قران کریم میں مذکور اللہ تبارک و تعالی کے الفاظ مبارک میں سے چند ایک کے بھی لفظی و لغوی معانی نہیں جانتے چہ جائیکہ ان کے احکام اور اللہ کی مراد جانتے ہوں ، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو رد کرتے ہیں ، اور قران کی معنوی تحریف کرتے ہیں ۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;احادیث میں ملاوٹ کی کوششیں&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;قرآن کے بعد شیعہ نما یہود کا دوسرا بڑا وار &amp;nbsp;احادیث &amp;nbsp; میں تدسیس کی کوششیں تھیں، چنانچہ ملا علی قاری کے ایک قول کے مطابق &amp;nbsp;باطنیہ نے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں تین &amp;nbsp;لاکھ کے قریب روایات گھڑ کے پھیلائی ہیں۔ کچھ گھڑی گئی روایتوں کی مثالیں دیتا ہوں جنہیں قرامطہ نے ذخیرہ احادیث میں داخل کرنے کی کوشش کی اور علما &amp;nbsp;نے انکی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;u&gt;&lt;b&gt;روایت "انا مدینۃ العلم" یا " انا دادالحکمۃ وعلی بابھا"&lt;/b&gt;&lt;/u&gt; :۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;قرامطہ اور ان کے ہم خیالوں نے &amp;nbsp;اس قدر جسارت کی کہ اپنے &amp;nbsp;مزعوماتِ باطلہ احادیث نبوی کے لباس میں &amp;nbsp;حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردیے، منجملہ &amp;nbsp;ان کے یہ حدیث ہے جو ترمذ ی میں بھی موجود ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;&amp;nbsp;قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أنا دار الحكمة وعلي بابها " . رواه الترمذي&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : میں حکمت ودانائی کا گھر ہوں اورعلی اس گھر کا دروازہ ہیں ''&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ &amp;nbsp; &amp;nbsp;اپنے مکتوب &amp;nbsp;میں &amp;nbsp;صفحہ ۷۵، ۱۷۹،۱۸۰ پر تحریر فرماتے ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;" یہ روایت &amp;nbsp;نہ تو صحیحین میں ہے اور نہ روایت کا ذکر کرنیوالے اس کی تصحیح فرماتے ہیں۔ تر مذی نے بھی روایت کے بعد کلام کیا ہے کہ بعض علما نے یہ حدیث &amp;nbsp;شریک تابعی سے روایت کی ہے مگر علمائے حدیث اس کو ثقات میں سے نہیں پہچانتے۔ سوائے شریک کے علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے موضوعات &amp;nbsp;میں اس کے جملہ طرق پر یقین کے ساتھ باطل ہونے کا حکم دیا ہے ۔ ایک جماعت محدثین کی اس کے موضوع ہونے کی قائل ہے۔امام الجرح والتعدیل یحیی بن معین رحمہ اللہ صاف فرماتے ہیں &amp;nbsp;کہ اس روایت کی سرے سے کوئی اصل نہیں ہے۔ طاہر پٹنی نے بھی اس کی صحت کا انکار کیا ہے۔ ۔ ۔ امام العصر علامہ انور شاہ &amp;nbsp;کشمیری &amp;nbsp;بھی روایت &amp;nbsp;کی صحت کو تسلیم نہیں &amp;nbsp;فرماتے"۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;( مکتوبات شیخ الاسلام حصہ اول، اردو بک سٹال لاہور) ( حاشیہ از مولانا نجم الدین صاحب اصلاحی مرتب مکتوبات شیخ الاسلام) ۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;u&gt;ناد علی کی روایت :۔&lt;/u&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;قرامطہ کے سلسلے میں یہ روایت بہت مقبول ہے اور کم علم صوفیا کے ہاں بھی نقل ہوتی آرہی ہے ۔ جب جنگ احد میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp;زخمی ہوگئے اور جسم سے خون بہنے لگا تو جبریل نے آکر آپ سے کہا کہ نادِ علیاَ &amp;nbsp;والی دعا پڑھو یعنی علی کو پکارو، جب آپ نےیہ دعا پڑھی تو علی رضی اللہ عنہ فورا آپ کی مدد کے لئے آئے اور کفار کو قتل کرکے آپ کو اور تمام مسلمانوں کو قتل ہونے سے بچا لیا۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;( درویشوں کا بیکتاشی سلسلہ مصنفہ ڈاکٹر برج صفحہ ۱۳۸)&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;اہل علم جانتے ہیں کہ حضور نے ایسی کوئی دعا نہیں پڑھی اور نہ &amp;nbsp;تاریخ یا سیرت کی کسی کتاب میں یہ دعا مرقوم ہے، پھر بھی یہ روایت اہل سنت کی کتابوں میں راہ پاگئی اور ایک سنی صوفی سید مظفر علی شاہ چشتی نے اپنی کتاب جواہر غیبی میں اسے ذکر کیا۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;اس کے علاوہ بھی بہت سی گھڑی ہوئی احادیث ہے جن کی ہمارے علما نے تحقیق کے بعد نشاندہی کی ہے لیکن یہ روایات پھر بھی اس تحقیق سے لا علم لوگوں کی تحریرات میں نقل ہوتی آرہی ہیں۔ حدیث چونکہ وحی کی ایک قسم تھی &amp;nbsp;اس لیے اللہ نے اس کی حفاظت &amp;nbsp;کا ایک نظام بنایا ۔جھوٹی احادیث وضع کرنے کا سلسلہ &amp;nbsp; صحابہ کے دور سے سبائیوں نے شروع کردیا تھا اس لیے اہل علم صحابہ کرام نے روایت کو قبول کرنے کے لئے تحقیق کو لازم قرار دیا اور حدیث کے قبول کرنے کا ایک معیار مقرر کیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف من گھڑت بات منسوب نہ ہوجائے۔ بعد میں باقاعدہ علم حدیث میں اسناد و متن کی تحقیق کے اصول &amp;nbsp;مرتب &amp;nbsp;ہوئے اور &amp;nbsp;اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا وہ فن وجود میں آیا &amp;nbsp; جس سے ہر حدیث &amp;nbsp;کی سند اور متن کی تحقیق با آسانی ہوجاتی ہے۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;تاریخ اسلام میں ملاوٹ&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;دشمنان اسلام نے قرآن و حدیث کے بعد تاریخ اسلام کو خصوصی طور پر تدسیس وتحریف کا ہدف بنایا اور اسکا خاص مقصد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کی تنقیص و توہین وتحقیر ہے۔ &amp;nbsp;سیرۃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ مولفہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ سے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ مولانا لکھتے ہیں :۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;" بعض شیعہ مورخوں نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کچھ سپاہیوں کے ساتھ ایک سپید خچر پر سوار ہوکر &amp;nbsp;اما م حسن رضی اللہ عنہ کے جنازے کو روکنے کے لیے نکلیں، یہ روایت &amp;nbsp;تاریخ طبری کے ایک پرانے(نسخے) فارسی ترجمے میں، جو ہندوستان میں بھی چھپ گیا ہے، &amp;nbsp;میں نظر سے گذری، لیکن جب اصل متن عربی مطبوعہ یورپ کی طرف رجوع کیا تو جلد ہفتم کا ایک ایک لفظ پڑھنے کے بعد بھی یہ واقعہ نہ ملا، طبری کے اس فارسی ترجمہ میں درحقیقت بہت سے حذف و اضافے ہیں "۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;قرآنِ کریم کی نصوصِ قطعیہ‘ احادیثِ ثابتہ اور اہل حق کا اجماع صحابہ کی عیب چینی کی ممانعت پر متفق ہیں‘ ان قطعیات کے مقابلہ میں تاریخی قصہ کہانیوں کا سرے سے کوئی وزن ہی نہیں‘ تاریخ کا موضوع ہی ایسا ہے کہ اس میں تمام رطب ویابس اور صحیح وسقیم چیزیں جمع کی جاتی ہیں‘ اس لیے ہر کسی نے اپنی سمجھ &amp;nbsp;کے مطابق تاریخ کو بیان کیا۔ چنانچہ صحت کا جو معیار ”حدیث“ میں قائم رکھا گیا ہے‘ تاریخ میں وہ معیار نہ قائم رہ سکتا تھا‘ نہ اسے قائم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے‘ اس لئے حضرات محدثین نے ان کی صحت کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا ہے‘ حافظ عراقی فرماتے ہیں:&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;ولیعلم &amp;nbsp; الطالب &amp;nbsp; ان السیر&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;یجمع ما قد صح وما قد انکرا&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;یعنی علم تاریخ وسیر صحیح اور منکر سب کو جمع کرلیتا ہے۔ اب جو شخص کسی خاص مدعا کو ثابت کرنے کے لئے تاریخی مواد کو کھنگال کر تاریخی روایات &amp;nbsp;سے استدلال کرنا چاہتا ہے اسے عقل وشرع کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہ دیکھ لینا کافی نہیں ہے کہ یہ روایت فلاں فلاں تاریخ میں لکھی ہے‘ بلکہ جس طرح وہ یہ سوچتا ہے کہ یہ روایت اس کے مقصد ومدعا کے لئے مفید ہے یا نہیں؟ اسی طرح اسے اس پر بھی غور کرلینا چاہئے کہ کیا یہ روایت شریعت یا عقل سے متصادم تو نہیں؟ &amp;nbsp;رسول اللہ کا یہ ارشاد یاد رکھیں۔&lt;/div&gt;&lt;div&gt;”اذا رایتم الذین یسبون اصحابی فقولوا لعنة اللہ علی شرکم“ &amp;nbsp;(ترمذی)&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;div&gt;ترجمہ:”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتے اور انہیں ہدفِ تنقید بناتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سے یعنی صحابہ اور ناقدین صحابہ میں سے جو برا ہے اس پر اللہ کی لعنت&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;اکابر علما، اولیا سے منسوب کتابیں اور انکے ملفوظات میں تدسیس&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;امام عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ &amp;nbsp; الیواقیت والجواہر صفحہ ۷ میں لکھتے ہیں&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;" باطنیہ ، ملاحطہ اور زنداقہ نے سب سے پہلے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ &amp;nbsp;پھر امام غزالی رحمہ اللہ کی تصانیف میں اپنی طرف سے تدسیس کی ، نیز اس فرقہ باطنیہ نے ایک کتاب جس میں اپنے عقائد کی تبلیغ &amp;nbsp;کی تھی، میری زندگی میں میری طرف منسوب &amp;nbsp;کردی اور میری انتہائی کوشش کے باوجود یہ کتاب تین سال تک متداول رہی"&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;b&gt;&lt;u&gt;امام غزالی سے منسوب &amp;nbsp;ایک کتاب :۔&lt;/u&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;مولانا سعید احمد جلالپوری شہید جو کہ روزنامہ جنگ کے اقرا صفحہ پر اسلامی سوالات کا جواب دیتے تھےْ &amp;nbsp;کو &amp;nbsp;ایک ڈاکٹر صاحب نے اپنے سوالہ نامہ میں&amp;nbsp;یہ تحریر بھیجی جس میں &amp;nbsp;شیعی موقف کو امام غزالی &amp;nbsp;رحمة الله عليہ کی کتاب اور ان کی جانب منسوب کیا &amp;nbsp;گیا تھا۔&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;امام غزالی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”سر العالمین“ کے صفحہ :۹ پر لکھتے ہیں کہ:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;” غدیر خم میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ”من کنت مولاہ“ فرمانے کے بعد اور اس موقع پر مبارک باد دینے کے بعد جب لوگوں پر خلافت کی ہوأ و ہوس غالب آگئی تو انہوں نے غدیر خم کی تمام باتیں بھلادیں۔“&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;اس پر مولانا &amp;nbsp;سعید احمد جلالپوری رحمہ اللہ نے ایک تحقیق، &amp;nbsp;تفصیلی و وقیع علمی مقالہ لکھا &amp;nbsp;جو ماہنامہ بینات میں چھپا۔ مولانا نے &amp;nbsp;تحقیق کے لئے اکابر متأخرین اور اربابِ تحقیق کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو پتا چلا کہ غدیر خم میں خلافت ِعلی رضى الله عنه (بلافصل) سے متعلق امام غزالی رحمہ اللہ کی جانب منسوب یہ کتاب”سر العالمین“ &amp;nbsp;سرے سے امام صاحب کی ہیں ہی نہیں اور روافض نے خود لکھ کر بعد میں ان سے منسوب کی۔اور تحریر امام صاحب پر جھوٹ اور بہتانِ عظیم ہے اور &amp;nbsp;امام رحمہ اللہ کی دوسری کتابیں اس &amp;nbsp;تحریر کے موقف کو بری طرح رد کرتیں ہیں۔ مولانا &amp;nbsp;نے اس سلسلہ میں مسند الہندحضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی شہرئہ آفاق تصنیف ”تحفہ اثنا عشریہ“ کا حوالہ بھی دیا ۔شاہ صاحب لکھتے ہیں :۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ترجمہ : روافض کوئی کتاب لکھ کر اس کو اکابر اہل سنت کی طرف منسوب کردیتے ہیں، اور اس میں حضرات صحابہ کرام کے خلاف مطاعن اور مذہب اہل سنت کے بطلان کو درج کرتے ہیں اور اس کے خطبہ یا دیباچہ میں اپنے بھید اور راز کے چھپانے اور امانت کی حفاظت کی وصیت کرتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ اس کتاب میں لکھا ہے، یہی ہمارا دلی اور پوشیدہ عقیدہ ہے، اور ہم نے اپنی دوسری کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے وہ محض پردہ داری اور زمانہ سازی تھا، جیسا کہ کتاب ”سرالعالمین“ خود سے لکھ کر انہوں نے اس کی نسبت حضرت امام غزالی رحمہ اللہ کی طرف کردی ہے، علیٰ ہذا القیاس انہوں ...اہل تشیع ... نے بھی بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں اور ان پر اکابر اہل سنت اور قابل اعتماد بزرگوں کا نام لکھ دیا ہے، ظاہر ہے کہ ایسے افراد بہت کم ہیں جو کسی بزرگ کے کلام سے واقف و آشنا ہوں اور اس کے مذاق سخن یا اس کے اور دوسروں کے کلام میں فرق وامتیاز کرسکتے ہوں، لہٰذا ناچار سیدھے سادے لوگ ان کے اس مکر سے متاثر ہوتے ہیں اور بہت سے حیران و پریشان ہوتے ہیں․․․․ بلکہ بہت سے لوگ اس کو ایک مستند بزرگ یا اہل سنت کے امام کا کلام سمجھ کر اس کو اپناکر اپنا ایمان و عقیدہ غارت کر تے ہیں․․․․۔“ (تحفہ اثنا عشریہ فارسی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی متوفیٰ ۱۲۳۹ھ)&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;مولانا جلالپوری شہید کا وہ مقالہ جامعہ العلوم الااسلامیہ، بنوری ٹاؤں ، کراچی کی سائیٹ پریہاں اب بھی موجود ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div&gt;http://banuri.edu.pk/ur/node/971&lt;br /&gt;&lt;b&gt;&lt;u&gt;&lt;br /&gt;&lt;/u&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;b&gt;&lt;u&gt;&amp;nbsp;امام شعرانی کی تصنیف الطبقات الکبری :۔&lt;/u&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;اس کتاب کے اردو ترجمہ صفحہ 468 پر روایت ہے :&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;بضمن ظاہروباطن عارف۔ علی ابن ابی طالب اسی طرح اٹھائے گئے ہیں جس طرح عیسی اور عیسی کی طرح عنقریب نازل ہوں گے۔ میں کہتا ہوں &amp;nbsp;کہ سید علی خواص بھی اس کے قائل تھے ۔ چنانچہ میں نے &amp;nbsp;ان کو کہتے سنا کہ نوح نے کشتی میں سے ایک تختہ علی کے نام اٹھا کر رکھا، وہ تختہ محفوظ رہا، چنانچہ علی اسی تختہ پر اٹھائے گئے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;اس روایت کا مضمون بتا &amp;nbsp;رہا ہےکہ یہ کسی ایسے شخص کی گھڑی ہوئی ہے جو حضرت علی رضی اللہ کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا عقیدہ رکھتا تھا اور تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ عقیدہ سب سے پہلے عبداللہ ابن سبا نے شائع &amp;nbsp;کیا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;b&gt;&lt;u&gt;رومی کے ملفوظات میں الحاق :۔&lt;/u&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;رومی کے ملفوظات فیہ مافیہ سے صفحہ نمبر ۹۹ &amp;nbsp;پر یہ روایت رومی سے منسوب ہے، پڑھیے سر دھنیے :&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;" ایک شب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ &amp;nbsp;کے ساتھ کسی غزوے سے واپس آئے تو آپ نے فرمایا :ببانگ دہل اعلان کردو کہ آج کی رات ہم &amp;nbsp;ثہر کے دروازے کے پاس بسر کریں گے اور کل صبح شہر میں داخل ہوں گے، یہ سن کر صحابہ نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ہوسکتا ہے کہ تم اجنبی لوگوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ مباثرت میں مشغول پاؤ اور یہ دیکھ کر تمہیں بہت صدمہ ہوگا اور ایک ہنگامہ برپا ہوجائے گا، لیکن ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل نہ کیا اور گھر چلا گیا، چنانچہ &amp;nbsp;اس نے اپنی بیوی کو ایک غیر مرد کے ساتھ مشغول پایا"۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;اس لغوروایت پر تنقید کرنے کو دل نہیں چاہتا &amp;nbsp;تا ہم دل پر جبر کرکے اتنا لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ روایت کسی سبائی کے خبث باطنی کا مظہر ہے۔ &amp;nbsp;غور کریں اس خبیث سبائی نے ایک تیر سے کتنے شکار کیے ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div&gt;1 - &amp;nbsp;حضور کو علم غیب سے &amp;nbsp;معلوم ہوچکا تھا کہ صحابہ &amp;nbsp;کی بیویا ں نعوذ بااللہ زنا کروارہی ہیں لیکن آپ نے جان بوجھ کر چشم پوشی کی، اور اس زنا کو روکنے سے صحابہ کو منع کیا۔ نعوذباللہ&lt;/div&gt;&lt;div&gt;2 - بعض صحابہ حضور کے نافرمان تھے ، حضور کے منع کرنے کے باجود نہیں سنی اور گھر چلے گئے۔ نعوذباللہ&lt;/div&gt;&lt;div&gt;3 - &amp;nbsp;صحابہ کی بیویاں زنا کار تھیں۔ نعوذباللہ&lt;/div&gt;&lt;div&gt;کیا مولانا روم یہ روایت بیان کرسکتے ہیں ؟&lt;br /&gt;&lt;u&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/u&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;u&gt;&lt;b&gt;شیخ محی الدین ابن عربی کی فتوحات مکیہ :۔&lt;/b&gt;&lt;/u&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;شیخ جیسا کہ فتوحات مکیہ کے مطالعے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ نہایت راسخ العقیدہ اور متبع شریعت بزرگ تھے، اسی کتاب کی پہلی فصل میں انہوں نے اپنا عقیدہ بیان کیا ہے اسے غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ عقائد نسفی کی شرح پڑھ رہے ہیں۔ انکی &amp;nbsp;تصانیف میں بھی &amp;nbsp;سبائیہ قرامطہ نے تدسیس کی ۔ چنانچہ &amp;nbsp;امام شعرانی اپنی تصنیف الیواقیت والجواہر صفحہ 7 پر لکھتے ہیں :&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;" انکی تصنیف میں جو عبارتیں ظاہر شریعت سے متعارض(ٹکرانے والی) ہیں &amp;nbsp;وہ سب مدسوس(گھسائی ہوئی) ہیں۔ مجھے اس حقیقت سے &amp;nbsp;ابو طاہر المغربی نے آگاہ کیا جو اس وقت مکہ معظمہ میں مقیم تھے۔ انہوں نے مجھے فتوحات کا وہ نسخہ دکھایا جس کا مقابلہ انہوں نے قونیہ میں شیخ اکبر کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخے سے کیا تھا، اس نسخے میں وہ فقرے نہیں تھے جو میرے نسخے میں تھے اور میں نے ان فقروں کی صحت پر شک کیا تھا جب میں فتوحات کا اختصار کررہا تھا۔"&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;پھر لکھتے ہیں کہ زناوقہ نے امام احمد بن حنبل کے مرض الموت کے زمانے میں ایک کتاب جس میں اپنے باطنی عقائد بیان کیے تھے، پوشیدہ طور پر ( ان کا شاگرد بن کر) ان کے سرہانے تکیے کے نیچے رکھ دی تھی اور اگر امام مرحوم کے تلامذہ ان کے عقائد سے بخوبی واقف نہ ہوتے تو جو کچھ انہوں نے تکیے کے نیچے پایاتھا اسکی وجہ سے وہ لوگ بہت بڑے فتنے میں مبتلا ہوجاتے۔&lt;br /&gt;&lt;u&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/u&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;u&gt;&lt;b&gt;حضرت فرید الدین عطار نیشاپوری رحمہ اللہ سےمنسوب کتابیں :۔&lt;/b&gt;&lt;/u&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&amp;nbsp;شیخ عطار سنی عالم اور سلسلہ کبیرویہ سے متعلق تھے اور شیخ نجم الدین کبری کے متعقد &amp;nbsp;تھے، ان سے بائیس کتابیں منسوب ہیں حالانکہ وہ صرف &amp;nbsp;دس کتابوں کے مصنف تھے۔ ان سے منسوب کتابوں میں بڑی کتابین جواہرالذات، حلاج نامہ، لسان الغیب وغیرہ ہیں ، ان کتابوں میں مصنف نے جگہ جگہ اظہار تشیع کیا ہے۔ مشہور ایرانی محقق پروفیسر سعید نفیسی نے بھی فرید الدین عطار کی زندگی اور کتابوں پر تحقیق " جستجو دراحوال و آثار ِفریدالدین عطار نیشاپوری" میں پیش کی ہے۔ہم &amp;nbsp;نسخہ جواہر الذات سے دو شعر پیش کرتے ہیں جن سے پوری کتاب کا اندازہ ہوجائے گا اور یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ شعر شیخ فریدالدین عطار نیشاپوری رحمہ اللہ اپنے قلم سے ہرگز نہیں لکھ سکتے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;محمد راشناس ایں &amp;nbsp;جا خدا تو &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;وگرنہ اوفتی &amp;nbsp; &amp;nbsp; اندر بلا تو&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;علی &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;بامصطفی ہردو خدا &amp;nbsp;یند &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;کہ دم دم راز برمامی کشانید&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&amp;nbsp;ان شعروں کے مضمون &amp;nbsp;سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے کہنے والا عبد اللہ ابن سبا کا مخلص پیرو اور باطنیہ یا قرامطہ سے تعلق رکھتا تھا۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;اسلامی تصوف میں آمیزش کی کوششیں&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;جس زمانہ میں قرامطہ نے اپنی تبلیغی سرگرمیاں شروع کیں، مسلمانوں میں تصوف کا آغاز ہوچکا تھا اور مختلف سلسلے قائم ہوچکے تھے۔قرامطہ نے تقیہ کرتے ہوئے " جیسا دیس ویسا بھیس" کے اصول پر عمل کیا اور &amp;nbsp;صوفیوں کے حلقوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو صوفی ظاہر کیا اور تصوف کے لباس میں صوفیوں کو گمراہ کرنا شروع کیا اور اسلامی تصوف میں غیر اسلامی عقائد کی اس طرح آمیزش کی کہ اسلامی اور غیر اسلامی تصوف میں امتیاز عوام کے لیے ناممکن ہوگیا۔ جب یہ لوگ ہندوستان آئے تو انہوں نے ہندو صوفیوں اور جوگیوں &amp;nbsp;اور پیروں کے طور طریقے اختیار کیے اور ہندوؤں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وشنو کے دسویں اوتار کے روپ میں پیش کیا۔ عوام میں ہر دلعزیزی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اپنے ناموں سے پہلے " پیر" کے لقب کا اضافہ کیا۔&lt;br /&gt;پیر صدرالدین نے گجرات اور پیر شمس الدین نے ملتان میں تصوف کے پردے میں اپنے عقائد کی تبلیغ کی۔ اس بات کی تصدیق ڈاکٹر جے این ہالسٹر کی تالیف " شیعان ہند" سے بھی بخوبی ہوسکتی ہے۔ مولف اسی کتاب کے صفحہ ۳۳۳ پر لکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;" اسمعیلی سیدوں کا قافلہ قاہرہ سے چل کر سبزوار آیا۔ &amp;nbsp;پیر شمس الدین سبزواری یہیں سے ملتان آیا تھا، اور اس نے صوفیوں کے لباس میں اسمعیلیت کی تبلیغ کی۔ بعض لوگوں نے شمس الدین سبزواری کو غلطی سے شمس تبریز سمجھ لیاہے جو جلال الدین رومی کے مرشد تھے، جبکہ یہ ملتان کا پیر شمس الدین اسمعیلیہ نزار فرقہ کا داعی تھا"&lt;br /&gt;&lt;u&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/u&gt;&lt;br /&gt;&lt;u&gt;&lt;b&gt;رباعی ازخواجہ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ :۔&lt;/b&gt;&lt;/u&gt;&lt;br /&gt;قرامطہ نے &amp;nbsp;فصوص الحکم، فتوحات مکیہ، مثنوی مولانا روم، احیا ءالعلوم اور دوسری بہت سی کتابوں میں عبارتیں اور اشعار داخل کیے &amp;nbsp;اور بہت سی کتابیں خود لکھ کر بعض سنی بزرگوں کے نام منسوب کیں، بہت سی رباعیات مختلف صوفیوں سے منسوب کردیں ، مثلا یہ مشہور رباعی خواجہ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ سے منسوب کی جو آج تک سنی اور کتابوں میں بھی نقل ہوتی چلی آرہی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;شاہ است حسین &amp;nbsp;بادشاہ &amp;nbsp;ہست حسین &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; دین است حسین &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; دیں پناہ ہست حسین&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;سردادنداو &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;دست &amp;nbsp;در دست یزید &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; حقا کہ بنائے &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; لا &amp;nbsp; الہ &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;ہست حسین&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;b&gt;&lt;u&gt;دیوان شمس تبریز :۔&lt;/u&gt;&lt;/b&gt;&lt;br /&gt;&amp;nbsp;قرامطہ نے بہت سے اشعار مولانا رومی کی کتابوں میں داخل &amp;nbsp;کئے، دیوان شمس تبریز &amp;nbsp;میں داخل کی گئی ایک &amp;nbsp;پوری غزل سے چند اشعار پیش کرتا ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;ہم اول و ہم آخر وہم ظاہر وباطن &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;ہم موعد و ہم وعدہ &amp;nbsp; و موعود علی بود &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;جبریل کہ &amp;nbsp;آمد &amp;nbsp;زبرِ خالقِ &amp;nbsp; &amp;nbsp;بیچوں &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;درپیش محمد &amp;nbsp; &amp;nbsp; شدوتابود &amp;nbsp;علی بود &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&lt;/span&gt; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اور&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;اے رہنمائے مومناں، اللہ مولا علی &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; اے عیب پوش و غیب دان اللہ مولانا علی&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;فارسی سمجھنے والے &amp;nbsp;باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ مولان روم جیسا سنی عالم &amp;nbsp; یہ مصرے نہیں لکھ سکتا۔ کیونکہ یہ اشعار تو واضح شیعہ ذہن کی عکاسی کررہے ہیں اور &amp;nbsp;نص قرآنی کے خلاف ہیں &amp;nbsp;جیسا کہ پہلے شعر &amp;nbsp;کےپہلے مصرع میں &amp;nbsp; قرآنی آیت میں مذکور اللہ کی صفات &amp;nbsp;" ہو &amp;nbsp;الاول والاخر والظاہر والباطن" کو علی رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت کیا گیا ہے۔ دیوان &amp;nbsp;شمس تبریز پر جلا ل ہمائی &amp;nbsp;نے جو مقدمہ لکھا اس میں &amp;nbsp;ان اشعار کو الحاقی قرار دیا۔&lt;br /&gt;&lt;u&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/u&gt;&lt;br /&gt;&lt;u&gt;&lt;b&gt;سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیا رحمہ اللہ کے ملفوظات:۔&lt;/b&gt;&lt;/u&gt;&lt;br /&gt;سلطان المشائخ &amp;nbsp;نے اپنے مرشد شیخ فرید الدین گنج شکر کے ملفوظات کو راحتہ القلوب کے نام سے مرتب کیا تھا، اس کے صفحہ ۸۵ &amp;nbsp;سے ایک واقعہ نقل کرتا ہوں :&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;" ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم باجمیع صحابہ کبار بیٹھے ہوئے تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ &amp;nbsp;یزید پلید کو اپنے کاندھے پر بٹھائے سامنے سے گذرے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور کہا سبحان اللہ، ایک دوزخی ایک جنتی کے کاندھے پر سوار ہو کرجارہا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن کر کہا، یارسول اللہ یہ تو معاویہ کا بیٹا ہے۔ دوزخی کجا است ؟ حضور نے فرمایا: &amp;nbsp; یا علی یہ یزید بدبخت وہ ہے &amp;nbsp;جو حسن حسین اور میری تمام آل کو شہید کرے گا۔ یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے تلوار نیام سے نکالی کہ ایشاں را بُکُشَد مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مانع ہوئے کہ اے علی ایسا مت کر کہ اللہ کی تقدیر یہی فیصلہ کرچکی ہے، یہ سن کر علی رونے لگے۔"&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بلاشک وشبہ گیارہ ہجری میں ہوگئی تھی جبکہ یزید کی ولادت پندرہ سال بعد &amp;nbsp;۲۶ ہجری میں ہوئی تھی، ثابت ہوا کہ یہ افسانہ سراسر جھوٹا ہے اور کسی سبائی نے &amp;nbsp;یہ لغو اور من گھڑت داستان ملفوظات میں شامل کردی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;b&gt;سوال :&lt;/b&gt;کوئی یہاں یہ &amp;nbsp;سوال کر سکتا ہے &amp;nbsp;کہ قرامطہ ، باطنیہ، روافض کو &amp;nbsp;اسکی جرات کیسے ہوتی تھی کہ وہ اپنی باتیں ان بزرگوں کی کتابوں میں ملا دیا کرتے تھے&lt;br /&gt;&amp;nbsp;&lt;b&gt;جواب :&lt;/b&gt;در اصل تمام صوفی سلسلے اور انکے افراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہایت مکرم اور لائق توقیر سمجھتے ہیں اور تین سلسلے تو حضرت علی رضی اللہ پر ختم ہوتے ہیں۔ صوفی شعرا نے جہا ں خلفائے ثلاثہ کی منقبت میں زور قلم صرف کیا ہے وہاں علی رضی اللہ عنہ کی منقبت میں &amp;nbsp;بھی اپنی عقیدت کا مظاہر ہ کیا ہے،اس لیے روافض اور قرامطہ کو مبالغہ آمیز اور شرکیہ اشعار کو شامل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔باطنیہ، قرامطہ اور اسمعیلیہ حضرات نے تصوف کا لبادہ اوڑھ کر اپنے عقائد مسلمانوں میں شائع کردیے ، بعد میں آنے والے &amp;nbsp;صوفیوں نے اسلاف پر تنقید کو سو ادب سمجھا اس لیے قرامطہ کے عقائد کو من وعن تسلیم کرلیا اور رفتہ رفتہ ان باطنیہ کے ہم عقیدہ بن گئے۔، یہ انہی روایات کا کرشمہ ہے کہ آج چودھویں صدی ہجری میں حیدرآباد دکن ، &amp;nbsp;بریلی، دہلی، اجمیر، داتا دربار، پاک پتن، ملتان، اچ، سیہون اور تمام بڑے بڑے مزارات سبائیت اور باطنیت کے فروغ و شیوع کے مرکز بن گئے ہیں۔ &lt;br /&gt;اسلامی تصوف جو دین اسلام کی روح اور جان ہے، میں غیر اسلامی عقائد کی آمیزش سے نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ نفس تصوف ہی سے بدظن ہوگیا دوسری طرف خود یہ غیر اسلامی تصوف اپنی ساری افادیت کھو بیٹھا بلکہ جہلا کے حق میں تو افیون بن گیا اور اہل خانقا کے حق میں بے عملی کا بہانہ بن گیا ۔ یہ اسی آمیزش کا نتیجہ ہے کہ وہ خانقائیں جہاں مسلمانوں کو ایزد پرستی کا درس دیا جاتا تھا ان کی روحانی اصلاح ہوتی تھی آج شخصیت پرستی بلکہ قبر پرستی کا مرکز بنی ہوئی ہیں اور جہاں ہر طرف اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوے نظر آتے تھے آج وہ خانقاہیں قوالی کی محفلوں میں تبدیل ہوگئی ہیں بلکہ شرک و بدعت کا مرکز بن گئیں شاید اقبال نے اسی حالت کو دیکھ کر فرمایا تھا&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی&lt;/div&gt;اس &amp;nbsp;غیر اسلامی نظریات کی آمیز ش سے تصوف کو نقصان ضرور پہنچا &amp;nbsp;، &amp;nbsp; &amp;nbsp;لیکن اسلامی تصوف بالکل ختم نہیں ہوا۔علمائے حق کےتصوف &amp;nbsp;کے ایسے مراکز اب بھی موجو د ہیں جہاں &amp;nbsp;صوفیا &amp;nbsp; بالکل اسلامی طریقہ پر لوگوں کو اصلاح فرمارہے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ان چند مثالوں سے یہ دکھلانا مقصود تھا &amp;nbsp; کہ زمانہ قدیم سے روافض اور اہل تشیع کی یہی عیاری، مکاری اوررَوِشِ بد رہی ہے کہ وہ اپنے فاسد و باطل عقائد اور نظریات کی ترویج کی خاطر اپنی جانب سے کوئی کتاب لکھ کر اہل سنت کے کسی نامی گرامی بزرگ، بڑے عالم دین اورمحقق کی وفات کے بعد اس کی طرف نسبت کرکے شائع کردیتے ہیں اور سیدھے سادے مسلمانوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ اہل سنت کا فلاں بڑا عالم اور محقق بھی وہی عقیدہ رکھتا تھا جو ہمارا ہے۔اللہ ہمارے &amp;nbsp;علما کو جزائے خیر دے انہوں &amp;nbsp;نے ہر دور میں انکے حملوں کو ناکام بنا کر امت کو گمراہی سے بچایا ہے۔&lt;br /&gt;اوپر دی گئی مثالوں سے یہ بات واضح &amp;nbsp;ہے کہ کس مکاری کے ساتھ باطل نے ہماری دینی کتابوں میں اپنے گمراہ نظریات کو داخل کیا اور بڑے بڑے علما کی زندگی میں انکی کتابوں میں آمیزش کردی ، آج کل تو ا ن کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ کسی پرانے عالم کی کتاب کو اٹھا کر اس میں جگہ جگہ اپنے نظریات کو داخل کرکے خوبصورت سٹائل اور پرنٹ میں &amp;nbsp;چھاپ کر &amp;nbsp;مارکیٹ میں دے &amp;nbsp;دیں۔یہ حقیقت ہے کہ آج کل کئی ایسےگمنام &amp;nbsp;کتب خانے موجو د ہیں جو کہ مختلف اسلامی &amp;nbsp;موضوعات پرعلما کی &amp;nbsp;کتابیں چھاپ رہے ہیں انکی کتابیں اصل پبلشر کے مقابلے میں ذیادہ جاذب نظر ، کوالٹی پیپر لیکن &amp;nbsp; کم قیمت پر دستیاب ہوتیں ہیں۔ &amp;nbsp;اب &amp;nbsp;اسلامی کتابوں باطل نظریات کی آمیزش کے شر سے وہی قاری بچ سکتا ہے جس کا علما ئے حق کے ساتھ تعلق ہو۔&lt;br /&gt;ممتاز عالم دین مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : &lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;” مطالعہ کووسیع کیجیے اور اس کے لیے اساتدہ سے ، خاص طور پر مربی اصلاح سے اور ان اساتذہ سے جن سے آپ کا رابطہ ہے ، ان سے مشورہ لیجیے۔“ مولانا ندوی مزید فرماتے ہیں :&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;یہ ایک پل صراط ہے، اس پر سبک روی اور بہت احتیاط کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمررضی اللہ جیسے عظیم شخص کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے توریت جیسی عظیم المرتبت آسمانی کتاب کے مطالعہ سے منع فرما دیا تھا۔&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-3234350455277388156?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/3234350455277388156/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/11/blog-post_08.html#comment-form' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/3234350455277388156'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/3234350455277388156'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/11/blog-post_08.html' title='اسلامی ذخائر کتب میں باطل نظریات کی ملاوٹ پر ایک تحقیق'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-3731071936884869374</id><published>2011-11-04T05:27:00.000-07:00</published><updated>2011-11-04T22:08:38.768-07:00</updated><title type='text'>سرسید احمد خان کے دینی کارنامے</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;صحابہ کے عہد اور خیر القرون کے بابرکت زمانے تک سیدھا سادہ مطابق فطرت دین تھا۔ واضح &amp;nbsp;عقائد اور خلوص اور بے ریائی کی عبادت تھی، اصول و اعتقادی مسائل میں کبھی کوئی شخص عقلی شک و شبہ ظاہر کرتا &amp;nbsp;بھی تو قرآن و حدیث کے احکام و نصوص بتا کر خاموش کردیا جاتا، نہ کسی کا عقیدہ بدلتا &amp;nbsp;اور نہ کسی کے زہد و تقوی میں فرق آتا۔ مگر تعلیمات نبوت کا اثر جس قدر کمزور ہوتاگیا۔ اسی قدر وسوسہ ہائے شیطانی نے قیل و قال اور چون و چراکے شبہے پیدا &amp;nbsp;کرنا شروع کر دیے۔ چنانچہ &amp;nbsp;واصل بن عطا ، ، عمرو بن عبید جیسے عقل پرست لوگ سامنے آئے۔ یہ لوگ معتزلہ کے نام سے مشہور ہوئے۔جب ہارون و مامون کے عہد میں فلسفہ یونان کی کتابیں بہ کثرت ترجمہ &amp;nbsp;ہوئیں تو معتزلہ کو اپنے خیالات و شبہات کے لیے فلسفی دلیلیں مل گئیں اور انہوں نے ایک نیا عقلی اسلامی فن ایجاد کیا جس کا نام علم " کلام" قرار دیا۔۔ &amp;nbsp;ان لوگوں نے دینی عقائد واحکام میں عقل کو معیار بنایا اور مبہا &amp;nbsp;ت اور مخفی علوم میں اپنی عقل لڑا کر تشریحات اور تاویلیں کرنی شروع کردیں۔معتزلہ کی اس &amp;nbsp;عقلیت پسندی سے قرآنی ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کااعتمادزائل ہونے لگا، جن مسائل کا حل صرف وحی سے میسر آسکتا تھاان کا حل انسانی شعور اور عقل &amp;nbsp;سے &amp;nbsp;تلاش کرنے سے وہ وحی کی ہدایت سے &amp;nbsp;محروم ہوگئے۔یوں &amp;nbsp;وحی کے ساتھ نبوت کی احتیاج بھی ختم ہوتی ہوئی نظر آئی ،تاویل کا فن حیلہ طرازیوں میں تبدیل ہونے لگا،ذات باری سے متعلق مجرد تصور توحید نے جنم لیا،ظاہر شریعت اورمسلک سلف کی علمی بے توقیری اور ان پر بے اعتمادی پیدا ہونے لگی،قرآن مجید کی تفسیراورعقائداسلام،ان فلسفی نمامناظرین کے لیے بازیچہٴ اطفال بنے جارہے تھے،مسلمانوں میں ایک خام عقلیت اورسطحی فلسفیت مقبول ہورہی تھی، یہ صورت حال دینی وقاراورسنت کے اقتدار کے لیے سخت خطرناک تھی ۔شروع میں علما نے وہی طریقہ تعلیم رکھا کہ علوم وحی سمجھ آئیں یا نہ آئیں ہم نے ان پر غیبی ایمان اور اعتقاد رکناا ہے۔ لیکن جب فسا د ذیادہ بڑھنے لگا اور &amp;nbsp;معتزلہ کی &amp;nbsp; عقلی دلیلوں اور وساوس &amp;nbsp;نے عوام کے ساتھ حکمران طبقہ کو بھی متاثر کر لیا اور مامون رشید، معتصم بااللہ، متوکل علی اللہ، واثق بااللہ &amp;nbsp;جیسے حکمران بھی معتزلہ کے مسلک کو اختیار کرگئے تو علما نے مجبورا ان معتزلہ کے &amp;nbsp;ساتھ عقلی مباحثے اور مناظرے شروع کیے۔ چنانچہ امام احمد بن حنبل، امام ابوالحسن اشعری، &amp;nbsp;ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ &amp;nbsp;جیسے لوگ سامنے آئے اور معتزلہ کی ہر دلیل کا جواب دیا ، امام احمد بن حنبل کے &amp;nbsp;فتنہ &amp;nbsp;خلق قرآن کے مناظرے مشہور ہیں جن میں معتزلہ کو بری طرح شکست ہوئی &amp;nbsp;۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;بعد میں معتزلہ مختلف فرقوں اور ناموں سے مشہور ہوئے مثلاواصلیہ، ہذیلیہ ، نظامیہ وغیرہ ۔انگریز برصغیر میں آئے تو &amp;nbsp;مختلف &amp;nbsp;خوشنما &amp;nbsp; اصطلاحیں &amp;nbsp;اور نام متعارف کروائے گئے، اعتزال نےبھی &amp;nbsp;ایک نئے خوبصورت &amp;nbsp;نام سے دنیا کو اپنی صورت دکھائی ،چنانچہ بے دینی، الحاد اور &amp;nbsp; عقل پرستی کو روشن خیالی کا نام دیا گیا اور اسکے &amp;nbsp;نام پر تاریک ضمیری‘ ضمیر فروشی اور جمہور علماء کی راہ سے انحراف کیا جانے لگا ۔ آج بھی روشن خیال سارا زور اس پر خرچ کررہے ہیں &amp;nbsp;کہ دینی عقائد واعمال کو &amp;nbsp;یا عقل کے ترازو میں پیش کردیں‘ ورنہ کوئی توجیہ اپنی طرف سے کرکے اصل حکم کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیں۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;برصغیر میں انگریزوں کے دو منتخب احمد &amp;nbsp;:۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;انگریزوں کو &amp;nbsp;برصغیر میں اپنا قبضہ جمانے کے دوران &amp;nbsp;سب ذیادہ علما اور دیندار طبقے کی طرف سےمزاحمت کا سامنا &amp;nbsp;کرنا پڑا، اس لیے انہوں نے &amp;nbsp;عوام میں دین &amp;nbsp;اسلام کے بارے میں کنفیوزین پیدا کرنے والے لوگوں کی بھرپور سپورٹ کی &amp;nbsp;۔ اور چند لوگوں کو خصوصی طور پر منتخب کیا گیا۔ ایک &amp;nbsp;مرزا احمد کو کچہری سے اٹھایا منصب نبوت پر بٹھا دیا، ایک اور سید احمد کو کلرکی کے درجے سے ترقی دی &amp;nbsp;اور سرسید احمدخان بنا دیا۔ مرزا غلام قادیانی نے جھوٹی نبوت کا سہارا لے کر جہاد کا انکار کیا اور سر سید احمد خان &amp;nbsp;نے نا صرف &amp;nbsp;احادیث، &amp;nbsp;معجزات‘ جنت‘ دوزخ اور فرشتوں کے انکار پر گمراہ کن تفسیر اور کتابیں &amp;nbsp;لکھیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کو دینی تعلیم کے مقابلے میں فرنگی نظام تعلیم سے متعارف کروایا۔ دونوں انگریزوں سے خوب دادِ شجاعت لے کر دنیاوی مفاد حاصل کئے اور اپنی آخرت کو تباہ وبرباد کرگئے &amp;nbsp;۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;مرز ا قادیانی &amp;nbsp;کی " مذہبی"خدمات اور سرسید کی تعلیمی &amp;nbsp;اور سیاسی خدمات &amp;nbsp;کا تذکرہ تو ہم چند پچھلی تحریروں میں کرچکے ۔ہمارا آج کا موضوع سرسید احمد خان کی روشن خیال فرنگی اسلام کے لیے دی گئی خدمات ہیں۔موضوع تفصیل مانگتا ہے لیکن ہم کوشش کریں گہ کہ ضرورت کی ہی بات کی جائے۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;سرسید کے مذہب پر ایک نظر&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: left;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تاریخی واقعات شاہد ہیں کہ انگریزوں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان سے وہ کام لئے جو وہ اپنے ملکوں کی ساری دولت خرچ کر کے بھی نہیں کر سکتے تھے۔ &amp;nbsp;سرسید کا عقیدہ کیا تھا ؟ &amp;nbsp; مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ سرسید احمد &amp;nbsp;تین باتوں میں مجھ سے متفق ہے۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: left;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;•&lt;span class="Apple-style-span" style="white-space: pre;"&gt;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;ایک یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے‘ بلکہ معمول کے مطابق ان کا باپ تھا۔ (واضح رہے کہ عیسائیوں کے ایک فرقے کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ مریم علیہا السلام کے یوسف نامی ایک شخص سے تعلقات تھے جس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام شادی سے قبل پیدا ہوئے۔ (نعوذ باللہ من ذلک)&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: left;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;•&lt;span class="Apple-style-span" style="white-space: pre;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;دوسرے یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا بلکہ اس سے ان کے درجات بلند کرنا مراد ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: left;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;•&lt;span class="Apple-style-span" style="white-space: pre;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;تیسرے یہ کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد کو روح مع الجسد معراج نہیں ہوئی‘ بلکہ صرف ان کی روح کو معراج ہوئی ہے۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;سرسید کو موجودہ دور کا روشن خیال طبقہ نئے دور کا مجدّد اور مسلمانوں کی ترقی کا راہنما سمجھتے ہیں، ذیل میں سرسید کے افکار پر &amp;nbsp;کچھ تفصیل پیش خدمت ہے۔ یہ پڑھنے کے بعد آپ کےلیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ سرسید بھی حقیقت میں &amp;nbsp;معتزلہ کے اسی سلسلہ کا فرد تھا اوراور اس کے روحانی شاگرد’ روشن خیال مذہب کے موجودہ داعی ڈاکٹر، فلاسفر، دانشور، پروفیسر ٹائپ لوگ &amp;nbsp;بھی معتزلہ کے اسی مقصد &amp;nbsp;یعنی دین میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور لوگوں کا ایمان چوسنے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور ہمارے معاشرہ کا تھوڑا پڑھا لکھا اور آزاد خیال طبقہ ان کو اسلام کا اصل داعی سمجھ کر انہی کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہا ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;1 - سرسید کی چند تصنیفات :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;b style="text-align: right;"&gt;۔&lt;/b&gt;سرسید نے اسلام کے نام پر بہت سارے مضامین‘ مقالات اور کتب تحریر کیں۔ ایک &lt;span class="Apple-style-span" style="color: #073763;"&gt;خلق الانسان&lt;/span&gt;( انسانی پیدائش سے متعلق لکھی ‘ جس میں ڈارون کے اس نظریہ کی تصدیق وتوثیق کی گئی ہے کہ انسان پہلے بندر تھا پھر بتدریج انسان بنا‘ یوں قرآن وسنت کی نصوص کا منکر ہوا)، &amp;nbsp;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #073763;"&gt;اسباب بغاوت ہند&amp;nbsp;&lt;/span&gt;(۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کے انگریزوں کے خلاف جہاد کو بغاوت کا نام دیا‘ اور انگریز سامراج کے مخالف علما اور مجاہدین پر کھلی تنقید کی)، &lt;span class="Apple-style-span" style="color: #073763;"&gt;تفسیر القرآن&amp;nbsp;&lt;/span&gt;(پندرہ پاروں کی تفسیر لکھی ہے جو درحقیقت تحریف القرآن ہے۔ &amp;nbsp;سرسید لکھتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”میں نے بقدر اپنی طاقت کے خود قرآن کریم پر غور کیا اور چاہا کہ قرآن کو خود ہی سمجھنا چاہئے“۔&amp;nbsp;(تفسیر القرآن: ۱۹ ص:۲)&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;چنانچہ سرسید نے اسلام کے متوارث ذوق اور نہج سے اتر کر خود قرآن پر غور کیا اور اسلام کے نام پر اپنے ملحدانہ نظریات سے فرنگیانہ اسلام کی عمارت تیار کرنا شروع کی‘ جس میں نہ ملائکہ کے وجود کی گنجائش ہے‘ نہ ہی جنت ودوزخ کا کہیں نشان ہے اور نہ جنات اور ابلیس کے وجود کا اعتراف ہے اور معجزات وکرامات تو ان کے نزدیک مجنونہ باتیں ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;خود سرسید کے پیرو کار ومعتقد مولانا الطاف حسین حالی‘ مؤلف مسدس (وفات دسمبر ۱۹۱۴ء) تحریر فرماتے ہیں کہ:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #134f5c;"&gt;” سرسید نے اس تفسیر میں جابجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور ان سے رکیک لغزشیں سرزد ہوئی ہیں“۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #134f5c;"&gt;&amp;nbsp;(حیات جاوید مطبوعہ آگرہ ص:۱۸۴)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;2 - سرسید کی عربی شناسی:۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;غزوہٴ احد میں نبی اکرم ا کے سامنے کا ایک دانت مبارک شہید ہوا تھا‘ چنانچہ علامہ ابن کثیررحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:۔&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;”وان الرباعیة التی کسرت لہ علیہ السلام ہی الیمنیٰ السفلیٰ“ (السیرة النبویة ج:۳‘ ص:۵۷)&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;ترجمہ:․․․”نبی علیہ السلام کے سامنے کا داہنا نچلا دانت مبارک شہید ہوا تھا“۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;فن تجوید وقرأت کے لحاظ سے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک کو رباعی کہتے ہیں‘ جیسے لغت کے امام ابن منظور افریقی لکھتے ہیں:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;رباعی کا لفظ ثمانی کی طرح ہے یعنی سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک۔(لسان العرب ج:۸‘ ص:۱۰۸)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سرسید نے رباعی کا لفظ دیکھ کر اسے اربع (چار) سمجھ لیا ہے اور حکم لگا دیا کہ آپ کے چار دانت شہید ہوئے تھے“۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”آنحضرت کے چار دانت پتھر کے صدمہ سے ٹوٹ گئے“۔ (تفسیر القرآن ج:۴‘ص:۶۴)&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ جو شخص رباعی اور اربعہ میں فرق نہیں کرسکا اس نے &amp;nbsp;قرآن کی تفسیر لکھنے میں کیا گل کھلائے ہوں گے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;3 - قرآن کی من مانی تشریحات :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سرسید نے معتزلی سوچ کے مطابق &amp;nbsp;دین اسلام کو عقل کی ترازو میں تول کر مسلماتِ دین کا انکار کیا اور قرآن کریم میں جہاں معجزات یا مظاہر قدرت خداوندی کا ذکر ہے‘ اس کی تاویل فاسدہ کرکے من مانی تشریح کی ہے۔&lt;br /&gt;پہلے پارے میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے کہ:” یہود سے جب عہد وپیماں لیا جارہا تھا تو اس وقت کوہِ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر لاکھڑا کردیا تھا“۔ جسے سارے مفسرین نے بیان کیا ہے‘ سرسید اس واقعہ کا انکار کرتاہے اور لکھتاہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”پہاڑ کو اٹھاکر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں رکھا تھا‘ آتش فشانی سے پہاڑ ہل رہا تھا اور وہ اس کے نیچے کھڑے رہے تھے کہ وہ ان کے سروں پر گر پڑے گا“۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سرسید نہ صرف آیت کی غلط تاویل کرتا ہے بلکہ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ مفسرین کا مذاق بھی اڑاتاہے۔ وہ لکھتاہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”مفسرین نے اپنی تفسیروں میں اس واقعہ کو عجیب وغریب واقعہ بنادیا ہے اور ہمارے مسلمان مفسر عجائباتِ دور ازکار کا ہونا مذہب کا فخر اور اس کی عمدگی سمجھتے تھے‘ اس لئے انہوں نے تفسیروں میں لغو اور بیہودہ عجائبات (یعنی معجزات) بھر دی ہیں‘ بعضوں نے لکھا ہے کہ کوہِ سینا کو خدا ان کے سروں پر اٹھا لایا تھا کہ مجھ سے اقرار کرو نہیں تو اسی پہاڑ کے تلے کچل دیتاہوں‘ یہ تمام خرافات اور لغو اور بیہودہ باتیں ہیں“۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ص۹۷تا۹۹)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;کوئی سر سید سے یہ پوچھے کہ آتش فشانی اور پہاڑ کے لرزنے کا بیان اس نے کس آیت اور کس حدیث کی بناء پر کیا ہے۔ &amp;nbsp;اس کے پاس کوئی نقلی ثبوت نہیں ہے یہ اس کی اپنی عقلی اختراع ہے ہم اس کے جمہور مفسرین کے مقابلے میں ایسی عقل پر دس حرف بھیجتے ہیں۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;بریں عقل ودانش بباید گریست&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;4 - &amp;nbsp;جنت ودوزخ کا انکار :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ جنت ودوزخ حق ہیں اور دونوں پیدا کی جاچکی ہیں۔ خود قرآن پاک سے یہ ثابت ہے ارشاد خداوندی ہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”وسارعوا الی مغفرة من ربکم وجنة عرضہا السموات والارض اعدت للمتقین“ (آل عمران:۱۳۳)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;ترجمہ:․․․”اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے اور پرہیزگاروں کے لئے تیار کی جاچکی ہے“ ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;دوزخ کے پیدا کئے جانے بارے میں ارشاد خداوندی ہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”فاتقوا النار التی وقود ہا الناس والحجارة اعدت للکافرین“ (البقرہ:۲۴)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;ترجمہ:․․․”پس ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے جو کافروں کے لئے تیار کی جاچکی ہے“۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سرسید جنت ودوزخ دونوں کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ لکھتا ہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&amp;nbsp;”پس یہ مسئلہ کہ بہشت اور دوزخ دونوں بالفعل مخلوق وموجود ہیں‘ قرآن سے ثابت نہیں ۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۳۰)&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;وہ مزید لکھتاہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”یہ سمجھنا کہ جنت مثل باغ کے پیدا کی ہوئی ہے‘ اس میں سنگ مرمر کے اور موتی کے جڑاؤ محل ہیں۔ باغ میں سرسبز وشاداب درخت ہیں‘ دودھ وشراب وشہد کی نالیاں بہہ رہی ہیں‘ ہرقسم کا میوہ کھانے کو موجود ہے․․․ایسا بیہودہ پن ہے جس پر تعجب ہوتا ہے‘ اگر بہشت یہی ہو تو بے مبالغہ ہمارے خرابات (شراب خانے) اس سے ہزار درجہ بہتر ہیں“۔ (نعوذ باللہ) ایضاً ج:۱‘ص:۲۳)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;قرآن میں جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کسی قرآن پڑھنے والے سے مخفی نہیں، مگر سرسید نے &amp;nbsp;نا صرف ان کا &amp;nbsp;صاف &amp;nbsp;انکار کیا &amp;nbsp;بلکہ مذاق بھی اڑایا اور شراب خانوں کو جنت سے ہزار درجے بہتر قرار دیا۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;5 - بیت اللہ شریف کے متعلق موقف :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;بیت اللہ شریف بارے کی عظمت کے بارے میں قرآن وحدیث میں کافی تذکرہ موجود ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;یعنی سب سے پہلا گھرجو لوگوں کے لئے وضع کیا گیا ہے یہ وہ ہے جو مکہ میں ہے۔ بابرکت ہے اور جہاں والوں کے لئے راہنما ہے۔ &amp;nbsp;(آل عمران:۹۶)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;ترجمہ:․․․” اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ گھر ہے بزرگی اور تعظیم والا‘ لوگوں کے لئے قیام کا باعث بنایاہے“ ۔ (المائدہ:۹۷)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;علامہ اقبال نے اسی کی تشریح میں فرمایا ہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اب ذرا کلیجہ تھام کر سرسید کی ہرزہ سرائی کعبۃ اللہ کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں۔ نقل کفر کفر نباشد ۔ اپنی تحریف القرآن میں لکھتاہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر کے بنے ہوئے چوکھونٹے گھر میں ایسی متعدی برکت ہے کہ جہاں سات دفعہ اس کے گرد پھرے اور بہشت میں چلے گئے یہ ان کی خام خیالی ہے․․․ اس چوکھونٹے گھر کے گرد پھر نے سے کیا ہوتا ہے‘ اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھر تے ہیں تو وہ کبھی حاجی نہیں ہوئے“۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۲۱۱و۲۵۱)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;مزید لکھتاہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا اسلام کا کوئی اصلی حکم نہیں ہے “۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۱۵۷)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;خانہ کعبہ کے گرد طواف کے مقدس عمل کو سرسید &amp;nbsp;کا ”سات دفعہ اس کے گرد پھرنا“ پھر خدا کے اس عظیم اور مقدس گھر کو انتہائی ڈھٹائی اور بے غیرتی کے ساتھ ”چوکھونٹا گھر“ کہنا اور آگے خباثت کی انتہا کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھر تے ہیں‘ کیا وہ حاجی بن گئے؟ پھر &amp;nbsp;نماز میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے خلاف یہ زہر افشانی کرنا کہ یہ اسلام کا اصلی حکم نہیں ہے‘ &amp;nbsp;کیا &amp;nbsp;یہ بکواسات &amp;nbsp;کیا کوئی صاحب ایمان کرسکتا ہے ؟&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;دوسرے پارہ کے شروع میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایاہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&amp;nbsp;”سیقول السفہاء الخ“&lt;/span&gt; &lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”اب بہت سارے بیوقوف کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم کیوں دیا؟“&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;اس آیت کی رو سے جو لوگ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نہیں مانتے وہ بیوقوف ہیں اور سرسید تمام بیوقوفوں کا سردار۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;6 - سرسید فرشتوں کے وجود کا منکر&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;فرشتوں کا مستقل خارجی وجود قرآن وحدیث سے صراحۃ ثابت ہے اور فرشتوں کا اس طرح وجود ماننا اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے‘ ان کے وجود کو مانے بغیر کوئی مسلمان نہیں کہلا سکتا۔قرآن پاک میں ہے کہ:&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;فرشتے خدا کی ایسی مخلوق ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے اور جس کام کا حکم دیا جاتاہے اس کو بجالاتے ہیں (التحریم:۶)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;دوسری جگہ مذکور ہے&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;پھر یہی فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے اور قوم لوط پر عذاب ڈھانے لگے۔ (الحجر:۵۸تا۷۷)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ان تمام آیات اور روایات سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کا مستقل خارجی وجود ہے‘ مگر سرسید اس کے منکر ہیں وہ لکھتے ہیں کہ:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;” قرآن مجید سے فرشتوں کا ایسا وجود جیسا مسلمانوں نے اعتقاد کررکھا ہے ثابت نہیں ہوتا“۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۴۲)&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آگے لکھتا ہے&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”اس میں شک نہیں کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے‘ انسان تھے اور قوم لوط کے پاس بھیجے گئے تھے۔علماء مفسرین نے قبل اس کے کہ الفاظ قرآن پر غور کریں یہودیوں کی روایتوں کے موافق ان کا فرشتہ ہونا تسلیم کرلیا ہے‘ حالانکہ وہ خاصے بھلے چنگے انسان تھے۔ (ایضاً ج:۵‘ص:۶۱)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اس طرح قرآن پاک اور احادیث طیبہ یہ بات موجود ہے کہ &amp;nbsp;مختلف غزوات کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا ہے جیسا کہ آیت &lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلة“ (آل عمران:۱۲۳)&lt;/span&gt; میں مذکور ہے۔ سرسید اس کا منکر ہے وہ اس آیت کے تحت لکھتاہے۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;” بڑا بحث طلب مسئلہ اس آیت میں فرشتوں کا لڑائی میں دشمنوں سے لڑنے کے لئے اترناہے‘ میں اس بات کا بالکل منکر ہوں‘ مجھے یقین ہے کہ کوئی فرشتہ لڑنے کو سپاہی بن کریا گھوڑے پر چڑھ کر نہیں آیا‘ مجھ کو یہ بھی یقین ہے کہ قرآن سے بھی ان جنگجو فرشتوں کا اترنا ثابت نہیں“۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&amp;nbsp;(تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ص:۵۲)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;7 - سرسید جبرائیل امین کا &amp;nbsp;منکر :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;قرآن پاک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر ہے‘ &lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;ترجمہ:․․․”جو کوئی مخالف ہو اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبرائیل کا اور میکائیل کاتو اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کا مخالف ہے“۔(البقرہ:۹۸)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اسی طرح &amp;nbsp;کئ احادیث &amp;nbsp;میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کبھی انسانی شکل میِں بار گاہ نبوی میں تشریف لاتے ‘چنانچہ مشکوٰة کی پہلی حدیث ”حدیث جبرائیل“ میں جب سوالات کرنے کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لے گئے تو آپ ا نے فرمایا :”فانہ جبرئیل اتاکم یعلمکم دینکم“ (یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے‘ تم کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے) (مشکوٰة: کتاب الایمان)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سرسید حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وجود کا منکر ہے۔ وہ لکھتاہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;ہم بھی جبرائیل اور روح القدس کو شئ واحد تجویز کرتے ہیں‘ مگر اس کو خارج از خلقتِ انبیاء جداگانہ مخلوق تسلیم نہیں کرتے‘ بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ خود انبیاء علیہم السلام میں جو ملکہ نبوت ہے اور ذریعہ مبدء فیاض سے ان امورکے اقتباس کا ہے جو نبوت یعنی رسالت سے علاقہ رکھتے ہیں‘ وہی روح القدس ہے اور وہی جبرائیل ہے“۔ (تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ ص:۱۵۶‘ ج:۱‘ ص:۱۸۱‘ ۱۲۲‘ ۱۲۹‘ ۱۷۰)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اس عبارت میں سرسید نے اس بات کا انکار کیا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کوئی خارجی وجود ہے ‘ بلکہ ان کے نزدیک یہ رسول اکرم &amp;nbsp;کی طبیعت میں ودیعت کردہ ایک ملکہٴ نبوت کا نام ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;8 - سرسید کا واقعہٴ معراج سے انکار:۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;رسول اللہ &amp;nbsp;کے معجزات میں سے ایک معجزہ واقعہٴ معراج ہے ۔سرسید &amp;nbsp;نےیہاں بھی عقل لڑائی مشکرکین مکہ کی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے جسم مبار کے ساتھ سات آسمانوں پر جانا اسکی عقل میں نہ آسکا اور وہ انکار کرگیا ۔ اپنی تفسیرالقرآن ج :۲ ص: ۱۳۰ پرلکھتا ہے:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”ہماری تحقیق میں واقعہ معراج ایک خواب تھا جو رسول اللہ نے دیکھا تھا"&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;حقیقت میں معجزہ کہتے ہی اسکو ہیں جسکو سمجھنے سے عقل عاجز ہو۔ اگر اسے خواب یا تصور کا واقعہ قرار دیں تو معجزہ نہیں کہلا یا جاسکتا‘ کیونکہ خواب اور تصور میں کوئی بھی شخص اس قسم کا واقعہ دیکھ سکتاہے۔ &amp;nbsp;اس لیے آنحضرت کا واقعہ معراج تب معجزہ بنے گا جب ہم یہ تسلیم کرلیں کہ آنحضرت کو معراج روح مع الجسد ہوئی تھی یعنی جسم اور روح دونوں کو معراج ہوئی تھی‘ اور اسی بات پر امت کا اجماع چلا آرہا ہے۔ روایات میں آتاہے کہ واقعہ معراج کا سن کر کفار ومشرکین مکہ آپ کے ساتھ حجت بازی کرنے لگے۔ اگر واقعہ معراج خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار ومشرکین کبھی آپ &amp;nbsp;کے ساتھ حجت بازی نہ کرتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;9 - جنات وشیاطین کے وجود کا انکار :۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;جنات وشیاطین کا وجود قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور ایک راسخ العقیدہ مسلمان کے لئے اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں‘ مگر سرسید اس کا انکار کرتا ہے‘ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کے ماتحت جنات کے کام کرنے کے قرآنی واقعہ پر تبصرہ کرتا ہے:&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;”ان آیتوں میں ”جن“ کا لفظ آیا ہے‘ اس سے وہ پہاڑی اور جنگلی آدمی مراد ہے‘ جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاں بیت المقدس بنانے کا کام کرتے تھے اور جن پر بسبب وحشی اور جنگلی ہونے کے جو انسانوں سے جنگلوں میں چھپے رہتے تھے اور نیز بسبب قوی اور طاقتور اور محنتی ہونے کے ”جن“ کا اطلاق ہوا ہے پس اس سے وہ جن مراد نہیں جن کو مشرکین نے اپنے خیال میں ایک مخلوق مع ان اوصاف کے جو ان کے ساتھ منسوب کئے ہیں‘ ماناہے اور جن پر مسلمان بھی یقین کرتے ہیں۔ (تفسیر القرآن ج: ۳‘ ص: ۶۷)&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اس طرح سرسید &amp;nbsp;شیطان کا الگ مستقل وجود تسلیم نہیں کرتا‘ بلکہ انسان کے اندر موجود شرانگیز صفت کو شیطان قرار دیتاہے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آگے &amp;nbsp;لکھتاہے: ”&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;انہی قویٰ کو جو انسان میں ہے اور جن کو نفس امارہ یا قوائے بہیمیہ سے تعبیر کرتے ہیں‘ یہی شیطان ہے“۔ (ج ۳ ص۴۵ پ)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;سرسید کے اعتزالی عقائد و نظریات کا مکمل احاطہ کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے ، ہم نے اس کے چند گمراہ افکار پر روشنی ڈالی ہے۔ حقیقت میں سرسید اور ان جیسے دیگر روشن خیالوں کی فکری جولانیوں کودیکھ کر یہی کہا جاسکتاہے کہ:&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;ناطقہ بگریباں ہے اسے کیا کہئے؟&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے؟&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ موجودہ دور کے ان معتزلہ کے افکار ونظریات کو پہچان کر اپنے ایمان وعمل کو ان کی فریب کاری سے بچائیں اور جو سادہ لوح مسلمان ان کے شکنجہ میں آچکے ہیں ان کے بارے میں فکر مند ہوکر ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں.&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-small;"&gt;(’سرسید احمد خان کے مذہب پر نظر‘ والے حصہ کا بیشتر حصہ معروف دینی درسگاہ جامعہ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤں کی سائیٹ پر دی گیے آرٹیکل سے لیا گیا ہے اللہ انکی تحقیق کو قبول فرمائے۔ )&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-3731071936884869374?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/3731071936884869374/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/11/blog-post.html#comment-form' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/3731071936884869374'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/3731071936884869374'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/11/blog-post.html' title='سرسید احمد خان کے دینی کارنامے'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-5848696995311872445</id><published>2011-10-31T06:10:00.000-07:00</published><updated>2011-10-31T06:13:23.872-07:00</updated><title type='text'>چھوڑو فساد کو بس تم الله الله کرو</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایماں کو بسا لو دل میں کچھ غور تم کرو&lt;br /&gt;نبی کا جو طریقہ ہے&amp;nbsp;&amp;nbsp; اسی پر&amp;nbsp;&amp;nbsp; تم&amp;nbsp; چلو&lt;br /&gt;جو ہٹ کر دکھے اس سے فورا پرے کرو&lt;br /&gt;چھوڑو فساد کو &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp; بس تم &amp;nbsp; الله الله&amp;nbsp;&amp;nbsp; کرو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;قرآن کو سر پہ رکھو دجل و فریب سے تم بچو&lt;br /&gt;راستہ جو&amp;nbsp; اصحاب&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; کا ہے &amp;nbsp;&amp;nbsp; اسی پر تم چلو&lt;br /&gt;آسرے اپنے سارے &amp;nbsp; &amp;nbsp; رحمان پر&amp;nbsp;&amp;nbsp; تم رکھو&lt;br /&gt;چھوڑو فساد کو &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp; بس تم الله الله کرو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ادھر ادھر دیکھو گے سرے سے بھٹک جاؤگے&lt;br /&gt;گرو گے اس طرح &amp;nbsp; &amp;nbsp; پھر الٹے لٹک جاؤگے&lt;br /&gt;رب کا جو حکم ہے &amp;nbsp; صرف&amp;nbsp; اسی پر تم چلو&lt;br /&gt;چھوڑو فساد کو&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; بس تم &amp;nbsp;&amp;nbsp; الله الله کرو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ دور کم نہیں کسی طرح بھی قیامت سے&lt;br /&gt;جہنم کا راستہ مت لینا تم اپنی قیادت سے&lt;br /&gt;چاہت و نفرت کا اپنی&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; قبلہ درست کرو&lt;br /&gt;چھوڑو فساد کو &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp; بس تم&amp;nbsp;&amp;nbsp; الله الله&amp;nbsp;&amp;nbsp; کرو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شرک سے بچو نہ ملاوٹ دین میں کچھ کرو&lt;br /&gt;مت بناؤ یہ بت&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; روح کو تم تندرست کرو&lt;br /&gt;صراط مستقیم پر جما کے قدم آگے تم بڑھو&lt;br /&gt;چھوڑو&amp;nbsp;&amp;nbsp; فساد&amp;nbsp; کو &amp;nbsp; &amp;nbsp; بس تم&amp;nbsp; الله الله&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; کرو&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-5848696995311872445?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/5848696995311872445/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/10/blog-post_31.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/5848696995311872445'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/5848696995311872445'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/10/blog-post_31.html' title='چھوڑو فساد کو بس تم الله الله کرو'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-7652337364988861050</id><published>2011-10-28T23:50:00.000-07:00</published><updated>2011-10-29T00:21:33.076-07:00</updated><title type='text'>سرسید احمد خان قومی رہنما یا انگریز کا زر خرید ایجنٹ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سرسید احمد خان &amp;nbsp;ہمارے ملک کے بہت سے لوگوں کے لیےانتہائی محترم ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک وہ دنیا کی ایک مخصوص "برادری" کے متحرک فرد تھے، &amp;nbsp;خود &amp;nbsp;ہمارے سامنے سکولوں کالجوں میں سرسید احمدخان کو ایک عظیم قائدکے طور پر پیش کیا گیا، آج بھی &amp;nbsp;انکی تصویر ہر سکول کالج میں لٹکی نظر آتی ہے، &amp;nbsp; جسے ہماری قوم کا ہر بچہ آتے جاتے دیکھتا ہے اور صبح شام ان کی عظمت کا قائل ہوتا جاتا ہے ۔کئی دفعہ ان کی معتبر شخصیت اور تاریخی کارناموں &amp;nbsp;پر لکھنے کا ارادہ کیا &amp;nbsp;لیکن &amp;nbsp;توفیق نہ ہوسکی ۔ چند دن پہلے &amp;nbsp;خان صاحب کی ایک کتاب پڑھنے کو ملی جس میں خود خان صاحب نے اپنا نظریہ، اپنے خیالات و افکار نہایت خوبی سے بیان فرمائے ہیں۔ اس کتاب کی مدد سے ان پر کچھ لکھنے کا ارادہ &amp;nbsp;اس لیے پختہ ہوتا گیا کہ ایک متنازع شخصیت کے متعلق فیصلہ کرنا &amp;nbsp;عام طور پر کافی مشکل ہوتا ہے لیکن یہاں &amp;nbsp;انکی اپنی تحریر جو بدست خود بقلم خود تھی ’ ہاتھ آگئی تھی۔ آئیے دیکھتے ہیں خود وہ اپنی تحریروں کے بین السطور میں اپنا تعارف کس انداز میں کرواتے ہیں۔ جناب کی تحریر کردہ کتاب " مقالات سرسید" کے مندرجات اس مخمصے سے نکلنے میں یقینا ہماری مدد کریں گے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;۔1857 کی جنگ آزادی مسلمانان برصغیر کی طرف سے فرنگی سامراج کے خلاف جہاد کی شاندار تاریخ ہے۔ مسلمانان برصغیر اس پر جتنا فخر کریں کم ہے کہ انہوں نے بے سروسامانی کے عالم میں دنیا کے سب سے مضبوط ترین اور ظالم ترین استعمار سے ٹکر لی اور اسے ہلا کررکھ دیا۔ ایسی &amp;nbsp;قربانیوں کے تسلسل سے ہی ہم نے آزادی کا سورج طلوع ہوتے دیکھا، لیکن سرسید صاحب اس جدوجہد پر خاصے ناراض اور برہم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;" جن مسلمانوں نے&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: red;"&gt;ہماری سرکار کی نمک حرامی اور بدخواہی&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt; کی، میں ان کا طرف دار نہیں۔ میں ان سے بہت ذیادہ ناراض ہوں اور حد سے ذیادہ برا جانتا ہوں، کیونکہ یہ ہنگامہ ایسا تھا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کے بموجب عیسائیوں کے ساتھ رہنا تھا، جو اہل کتاب اور ہمارے مذہبی بھائی بند ہیں، نبیوں پر ایمان لائے ہوں ہیں ، خدا کے دیے ہوئے احکام اور خدا کی دی ہوئی کتاب اپنے &amp;nbsp;پاس رکھتے ہیں، جس کا تصدیق کرنا اور جس پر ایمان لانا ہمارا عین ایمان ہے۔ پھر اس ہنگامے میں جہاں عیسائیوں کا خون گرتا، وہیں &amp;nbsp;مسلمانوں کا خون گرنا چاہیے تھا۔ پھر جس نے ایسا نہیں کیا، اس نے علاوہ &lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: red;"&gt;نمک حرامی اور گورنمنٹ کی ناشکری&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt; جو کہ ہر ایک رعیت پر واجب ہے ’کی ، اپنے مذہب کے بھی خلاف کیا۔ پھر بلاشبہ وہ اس لائق ہیں کہ ذیادہ تر ان سے ناراض ہواجائے:&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;۔(&lt;a href="https://k.minus.com/jXQa69mfknEdB.jpg"&gt;مقالات سرسید&lt;/a&gt;، &lt;a href="https://k.minus.com/jjQZuuG9xxb9K.jpg"&gt;صفحہ 41&lt;/a&gt;)۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;انگریز سرکار کے متعلق &amp;nbsp;سرسید صاحب کے&amp;nbsp;&amp;nbsp;دلی خیالات خود انکی زبانی سنتے ہیں :۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;" میرا ارادہ تھا کہ میں اپنا حال اس کتاب میں کچھ نہ لکھوں کیونکہ میں اپنی ناچیز اور مسکین خدمتوں کو اس لائق نہیں جانتا کہ ان کو گورنامنٹ &amp;nbsp;(فرنگی)کی خیر خواہی میں پیش کروں۔ علاوہ اس کے جو گورنامنٹ نے میرے ساتھ سلوک کیا وہ درحقیقت میری مسکین خدمت کے مقابل میں بہت ذیادہ ہے اور جب میں اپنی گورنمنٹ کے انعام و اکرام کو دیکھتا ہوں اور پھر اپنی ناچیز خدمتوں پر خیال کرتا ہوں تو نہایت شرمندہ ہوتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ نے مجھ پر اسے سے ذیاہ احسان کیا ہے جس لائق میں تھا، مگر &amp;nbsp;مجبوری ہے کہ اس کتاب کے مصنف کو ضرور ہے کہ اپنا حال اور اپنے خیالات کو لوگون پر ظاہر کرے ، تاکہ سب لوگ جانیں کہ اس کتاب کے مصنف کا کیا حال ہے ؟ اور اس نےاس ہنگامے میں کس طرح اپنی دلی محبت گورنمنٹ کی خیر خواہی میں صرف کی ہے ؟" ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;(&lt;a href="https://k.minus.com/jXQa69mfknEdB.jpg"&gt;مقالات سرسید&lt;/a&gt;، &lt;a href="https://k.minus.com/jUiVM4ntK7eJo.jpg"&gt;صفحہ 44&lt;/a&gt;)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #073763;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اس کے عوض میں جناب کو کیا ملا، پڑھیے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://3.bp.blogspot.com/-73A0TTG-_90/TqubjPK_wVI/AAAAAAAAAPE/uREjIlN6N_o/s1600/TITLE.JPG" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="400" src="http://3.bp.blogspot.com/-73A0TTG-_90/TqubjPK_wVI/AAAAAAAAAPE/uREjIlN6N_o/s400/TITLE.JPG" width="303" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://1.bp.blogspot.com/-cRg6kH9F0o8/TqubkAPsuXI/AAAAAAAAAPI/VmJv4_9BsCQ/s1600/PAGE+1.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="400" src="http://1.bp.blogspot.com/-cRg6kH9F0o8/TqubkAPsuXI/AAAAAAAAAPI/VmJv4_9BsCQ/s400/PAGE+1.jpg" width="358" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;مسکین خدمت کے مقابلے میں حد سے ذیادہ انعام و اکرام کے اقرار کی روداد تو آپ نے " بقلم خود" سن لی۔ انگلش گورنمنٹ سے محبت و یگانگت اور رفاقت و خیر خواہی کا سلسلہ قائم کروانے کے لیے خاں صاحب عمر بھر کوشاں رہے۔ 1857 کا یادگار واقعہ رونما ہوا &amp;nbsp;جس میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کیے بغیر &amp;nbsp;تمام &amp;nbsp; محب وطن ہندوستانیوں نے ملی فریضہ سمجھ کر جوش وخروش سے حصہ لیا۔ اس موقع پر خاں صاحب کا رویہ لائق مطالعہ ہے۔ ادھر مجاہدین &amp;nbsp;مسلط &amp;nbsp;سامراج کے خلاف زندگی موت کی جنگ لڑ رہے تھے اور ہندوستان کی آزادی کے لیے سردھڑ کی بازی لگائے تھے، ادھر ہمارے مصلح قوم اس کو " غدر" قرار دیتے ہوئے کیا کارگزاری سنا تے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;" جب &lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: red;"&gt;غدر &lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;ہوا، میں بجنور میں صدر امین تھا کہ دفعتا سرکشی میرٹھ &amp;nbsp;کی خبر &amp;nbsp;بخنور میں پہنچی۔ اول تو ہم نے جھوٹ جانا، مگر یقین ہو اتو اسی وقت سے میں نے گورنمنٹ کی خیر خواہی اور سرکار کی وفاداری پر چست کمر باندھی ۔ ہر حال اور ہر امر میں مسٹر الیگزینڈر شیکسپیئر کلکٹر و مجسٹریٹ بجنور کے شریک رہا۔ یہاں تک کہ ہم نے اپنے مکان پر رہنا موقوف کردیا"۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سبحان اللہ ! یہ تو تھا جذبہ جاں سپاری۔ &amp;nbsp;اس سے بھی آگے بڑھ کر حال یہ تھا کہ خاں صاحب اپنی جان کو اتنا ہلکا اور &amp;nbsp;گوری چمڑی والے گماشتے فرنگیوں کو اتنا قیمتی سمجھتے تھے کہ خود کو ان پر بے دریغ نچھاور کرنے کے لیے تیار تھے۔ ارشاد فرماتے ہیں :&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;" جب دفعتا 29 نمبر کی کمپنی سہارن پور سے بجنور میں آگئی ۔ میں اس وقت ممدوح کے پاس نہ تھا۔ دفعتا &amp;nbsp;میں نے سنا کہ باغی فوج آگئی اور صاحب کے بنگلہ پر چڑھ گئی۔ میں نے یقین جان لیا کہ سب صاحبوں کا کام تمام ہوگیا۔ مگر میں نے نہایت بری بات سمجھی کہ میں اس حادثہ سے الگ رہوں۔ میں ہتھیار سنبھال کر روانہ ہوا اور میرے ساتھ جو لڑکا صغیر سن تھا ، میں نے اپنے آدمی کو وصیت کی : " میں &amp;nbsp;تو مرنے جاتا ہوں۔، مگر جب تو میرے مرنے کی خبر سن لے تب اس لڑکے کو کسی امن کی جگہ پہنچا دینا"۔ مگر ہماری خوش نصیبی اور نیک نیتی کا یہ پھل ہوا کہ اس آفت سے ہم بھی اور ہمارے حکام بھی سب محفوظ رہے ، مگر مجھ کو ان کے ساتھ اپنی جان دینے میں کچھ دریغ نہ تھا" ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;(&lt;a href="https://k.minus.com/jXQa69mfknEdB.jpg"&gt;مقالات سرسید&lt;/a&gt;، &lt;a href="https://k.minus.com/jbnGmbEO0SGLkj.jpg"&gt;صفحہ 47&lt;/a&gt;)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #0b5394;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;انگریز حکام کی طرف سے خاں صاحب &amp;nbsp;پر یہ کرم نوازیاں محض وقتی نہ تھیں، انہیں باقاعدہ پنشن کا مستحق سمجھا گیا اور یوں وہ ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی خدمت اور خیر خواہی کا صلہ دشمنان &amp;nbsp;ملت سے پاتے رہے۔ ثبوت حاضر ہیں:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;" دفعہ پنجم رپورٹ میں ہم لکھ چکے ہیں کہ ایام غدر میں کارگذاری سید احمد خان صاحب صدر امین کی بہت عمدہ ہوئی، لہذا ہم نے ان کے واسطے دوسو روپیہ ماہواری کی پنشن کی تجویز کی ہے۔ اگرچہ یہ رقم ان کی نصف تنخواہ سے ذیادہ ہے، مگر ہمارے نزدیک اس قدر روپیہ ان کے استحقاق سے ذیادہ نہیں ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی ہماری تجویز کو مسلم رکھیں۔ اس واسطے کہ یہ افسر بہت لائق اور قابل نظر عنایت ہے۔ دستخط شیکسپیئر صاحب، مجسٹریٹ کلکٹر"&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;۔(&lt;a href="https://k.minus.com/jXQa69mfknEdB.jpg"&gt;مقالات&lt;/a&gt; &lt;a href="https://k.minus.com/jXQa69mfknEdB.jpg"&gt;سرسید&lt;/a&gt;، &lt;a href="https://k.minus.com/jb1clgesD881P9.jpg"&gt;صفحہ 54&lt;/a&gt;)۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ہماری روشن خیال" برادری" کے ہم خیال افراد &amp;nbsp;کی ایک بڑی علامت جہاد کا انکار ہے۔ کیونکہ جہاد یا اس سے متعلق کوئی چیز انگریز سرکار کو کسی قیمت گوارہ نہیں ۔ خان صاحب اسی مشن پر &amp;nbsp;اس فریضہ عادلہ کی تردید میں اپنے ہم عصر کذاب اکبر مرزا قادیانی کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔ فرماتے ہیں :۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;" ایک بڑا الزام جو ان لوگوں نے مسلمانوں کی طرف نہایت بے جا لگایا، وہ مسئلہ جہاد کا ہے حالانکہ کجا جہاد اور کجا بغاوت۔ میں نہیں دیکھتا کہ اس تمام ہنگامہ میں کوئی خدا پرست آدمی یا کوئی سچ مچ کا مولوی شریک ہوا ہو۔ بجز ایک شخص کے۔ اور میں نہیں جانتا کہ اس پر کیا آفت پڑی ؟ &amp;nbsp;شاید اس کی سمجھ میں غلطی پڑی کیونکہ خطا ہونا انسان سے کچھ بعید نہیں۔ جہاد کا مسئلہ مسلمانوں میں دغا اور بے ایمانی اور غدر اور بے رحمی نہیں ہے۔ جیسے کہ اس ہنگامہ میں ہوا۔ کوئی شخص بھی اس ہنگامہ مفسدی اور بے ایمانی اور بے رحمی اور خدا کے رسول کے احکام کی نافرمانی کو جہاد نہیں کہہ سکتا"۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;(&lt;a href="https://k.minus.com/jXQa69mfknEdB.jpg"&gt;مقالات سرسید&lt;/a&gt;، صفحہ &lt;a href="https://k.minus.com/jCLYockSxV9YR.jpg"&gt;93&lt;/a&gt;، &lt;a href="https://k.minus.com/jJWBGpTi9KUZj.jpg"&gt;94&lt;/a&gt;)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;جہاد اور مجاہدین کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے، جہاد آزادی میں علمائے کرام اور مجاہدعوام کی قربانیوں کی نفی کرنے اور جہاد کے فلسفے کو داغدار کرنے کے بعد وہ مسلمانان ہند کو انگریز کی وفاداری کا دم بھرنے کی تلقین کرتے &amp;nbsp; ہیں۔ فرماتے ہیں :۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;" ہماری گورنمنٹ انگلشیہ نے تمام ہندوستان پر دو طرح حکومت پائی ۔ یا یہ سبب غلبہ اور فتح یابموجب عہدوپیمان تمام مسلمان ہندوستان کے ان کی رعیت ہوئے۔ ہماری گورنمنٹ نے انکو امن دیا اور تمام مسلمان ہماری گورنمنٹ کے امن میں آئے۔ تمام مسلمان ہماری گورنمنٹ سے اور ہماری گورنمنٹ بھی تمام مسلمانوں سے مطمئن ہوئی کہ وہ ہماری رعیت اور تابعدار ہوکر رہتے ہیں۔ پھر کس طرح مذہب کے بموجب ہندوستان مسلمان گورنمنٹ انگلشیہ کے ساتھ غدر اور بغاوت کرسکتے تھے کیونکہ شرائط جہاد میں سے پہلی ہی شرط ہے کہ جن لوگوں پر جہاد کیا جائے ان میں اور جہاد کرنے والوں میں امن اور کوئی عہد نہ ہو " &amp;nbsp; (&lt;a href="https://k.minus.com/jXQa69mfknEdB.jpg"&gt;مقالات سرسید&lt;/a&gt;، &lt;a href="https://k.minus.com/jJWBGpTi9KUZj.jpg"&gt;صفحہ 94&lt;/a&gt;)۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آہستہ آہستہ وہ اپنی رو میں بہتے ہوئے اتنے آگے چلے جاتے ہیں کہ مفتی اور مصلح کا منصب سنبھال لیتے ہیں۔ تمام علما اور مجاہدین، تمام محب وطن ہندوستانی انگریز کے خلاف سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے، جان مال لٹا رہے تھے اور خان صاحب انہیں مبلغ اعظم اور مصلح وقت بن کر سمجھا رہے تھے:۔&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://3.bp.blogspot.com/-73A0TTG-_90/TqubjPK_wVI/AAAAAAAAAPE/uREjIlN6N_o/s1600/TITLE.JPG" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="320" src="http://3.bp.blogspot.com/-73A0TTG-_90/TqubjPK_wVI/AAAAAAAAAPE/uREjIlN6N_o/s320/TITLE.JPG" width="243" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://4.bp.blogspot.com/-OhjqTht4IS8/TqubkhYMrjI/AAAAAAAAAPQ/th3ZNynT3rE/s1600/page+2.JPG" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="200" src="http://4.bp.blogspot.com/-OhjqTht4IS8/TqubkhYMrjI/AAAAAAAAAPQ/th3ZNynT3rE/s400/page+2.JPG" width="400" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یعنی انگریز کی بدعہدی کے باوجود اس سے بغاوت جائز &amp;nbsp; نہیں۔ مسلمان &amp;nbsp; انگریز کی وفاداری واطاعت کریں ورنہ اپنا ملک چھوڑ دیں، اپنے حق کے لیے انگریز سے لڑنا حرام ہے۔ اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ جو تعلیمی تحریک انہوں نے برپا کی وہ انگریز ی حکومت کے لیے بابو پیدا کرنے کی کوشش تھی یا مسلمان قوم کو دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی " عظیم خدمت" تھی؟؟؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس کے بعد جنگ آزادی کے مجاہدین اور علمائے کرام پر &amp;nbsp;نام نہاد وفا اور خودساختہ عہد کی پاسداری &amp;nbsp;نہ کرنے کاغصہ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں:۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;" اس ہنگامہ میں برابر بدعہدی ہوتی رہی۔ سپا نمک حرام عہد کر کر پھر گئی۔ بدمعاشوں نے عہد کرکر دغا سے توڑ ڈالا اور پھر ہمارے مہربان متکلمین اور مصنفین کتب بغاوت &amp;nbsp;فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے مذہب میں یوں ہی تھا۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;a href="https://k.minus.com/jXQa69mfknEdB.jpg"&gt;مقالات سرسید&lt;/a&gt;، &lt;a href="https://k.minus.com/jbvCOEcaFsUJln.jpg"&gt;صفحہ 99&lt;/a&gt;)۔)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp;خان صاحب نے اس یادواشت نما کتابچے میں اور بہت کچھ لکھا ہے کہاں تک پیش کیا جائے۔ اس ڈر سے کہ مضمون کی طوالت عموما قارئین میں بددلی پیدا کرتی ہے،آخری پیرگراف پیش کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں سرسید مسلمانوں کو تہذیب سکھلا رہے ہیں:۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;" اور ایک بات سنو کہ یہ تمام بغاوت جو ہوئی وجہ اسکی کارتوس تھا۔ کارتوس میں کاٹنے سے &amp;nbsp;مسلمانوں کے مذہب کا کیا نقصان تھا ؟ہمارے مذہب میں اہل کتاب کاکھانا درست ہے، انکا ذبیحہ ہم پر حلال ہیں (چاہیں سور کھلادیں: راقم) ہم فرض کرتے ہیں کہ اس میں سور کی چری ہوگی۔ تو پھر بھی ہمارا کیا نقصان تھا۔ ہمارے ہاں شرع میں ثابت ہوچکا ہے کہ جس چیز کی حرمت اور ناپاکی معلوم نہ ہو، وہ چیز حلال اور پاک کا حکم رکھتی ہے( کارتوس میں تو معلوم تھی جناب: راقم) اگر یہ بھی فرض کرلیں کہ اس میں یقینا سور کی چربی تھی تو اس کے کاٹنے سے بھی مسلمانوں کا دین نہیں جاتا۔ صرف اتنی بات تھی کہ گناہ ہوتا، سو وہ گناہ شرعا بہت درجہ کم تھا، ان گناہوں سے جو اس غدر میں بدذات مفسدوں نے کیے"۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;(&lt;a href="https://k.minus.com/jXQa69mfknEdB.jpg"&gt;مقالات سرسید&lt;/a&gt;، &lt;a href="https://k.minus.com/j6T5Qoo05tDsh.jpg"&gt;صفحہ 105&lt;/a&gt;)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;گویا سور جیسی ناپاک چیز کا استعمال اتنا ذیادہ گناہ نہیں جتنا انگریز جیسے غمخوار حاکم کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ اس قسم کی تحریروں سے خان صاحب کی تعلیمی تحریکوں کا ہدف اور اصلاحی تحریروں کا اصل مشن سامنے آجاتا ہے اور اس میں شک وشبہ نہیں رہتا کہ مسلمانان برصغیر کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کرنے کا ہدف اور انہیں جدید تعلیم کے نام پر انگریز کی لامذہب تہذیب میں رنگنے کا مشن انہوں نے کس لگن سے انجام دیا۔ انکی " تحریک علی گڑھ" میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے نام پر یورپ کے فرسودہ اور ناکارہ نظریات ہندوستان کے آزادی پسندوں کو پڑھائے جاتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان ہو یا پاکستان دونوں ممالک کے باشندے آج تک تعلیمی ترقی کے نام پر یورپ کا تعاقب کرتے کرتے نڈھال ہوچکے ہیں، لیکن ترقی ابھی تک سراب ہی ہے۔ یہ تو برصغیر کے باشندوں کی ذاتی ذہانت و قابلیت ہے کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرلیں ورنہ &amp;nbsp; جدید تعلیم یافتہ حضرات تو &amp;nbsp;محض بابو گیری سیکھ کر یورپ کی نقالی تک محدود رہے۔اس جدید ترقی سے ہمیں بس اتنا حصہ ملا ہے کہ ہمارے ذہین دماغ اور قابل نوجوان امریکا و یورپ کی جامعات اور تحقیقی اداروں سے پڑھ کر مغربی زندگی کی چکا چوند کے سحر میں ایسے آئے کہ وہیں کے ہوکے رہ گئے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سرسید کی تعلیمی تحریک کے سیل رواں میں خس و خاشاک کی طرح مشرق کے باسیوں کے بہنے کے باوجود &amp;nbsp;انکے حصے میں وہی پرانا مٹکا آیا، بلوریں جام تو ان کی پہنچ سے دور ہی رہے۔ مغربی محققین کے لیے جو تعلیم وتحقیق فرسودہ ہوجاتی ہے تو وہ ڈسٹ بن میں پھینکنے سے بچانے کے لیے ہمارے ہاں بھجوادیتے ہیں اور اصل ٹیکنالوجی اور اس کے حصول کے ذرائع کی ہوا نہیں لگنے دیتے، لہذا ہمارے ہاں سائنس نے کبھی رواج پایا &amp;nbsp;نہ ہی ہمارے تعلیمی اداروں میں تحقیق کا مزاج بنا۔ البتہ ہماری نسل کی نسل &amp;nbsp;"ہمٹی ڈمٹی" ٹائپ کے نیم مشرقی نیم مغربی ہندوستانیوں میں تبدیل ہوگئی اور بابوؤں کی کھیپ کی کھیپ پیدا ہوکر شکل وصورت کے ہندوستانی اور فکرو طرز زندگی کے لحاظ سے انگلستانی بنتے گئے۔ اس &amp;nbsp;سارے کارنامہ کا کریڈٹ &amp;nbsp;خاں صاحب کو جاتا ہے جن کی دلی خواہش پوری ہوئی ان کے تعلیمی اداروں نے &amp;nbsp;انگریز کی حکومت کے لیے وفادار کلرک اور بابو &amp;nbsp;تیار کر کر کے فراہم کیے ، یہ وفادار ملازم انگریز کی غلامانہ اطاعت تو کرسکتے تھے، اس سے ٹکرانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تحریکات سیاسی ہوں یا تعلیمی۔۔۔۔ ان کو ان شخصیات کے نظریات کے تناظر میں پرکھا جاتا ہے جنہوں نے انہیں برپا کیا اور کسی شخصیت کے نظریات کی &amp;nbsp;ترجمانی اس کی اپنی تحریرات سے ذیادہ بہتر کوئی نہیں کرسکتا۔ اسی اصول کو سامنے رکھ کر ہم نے خاں صاحب کی برپا کردہ تحریک کو اس مضمون میں جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی &amp;nbsp;، شاید کہ ہماری قوم حقیقت اور سراب کا فرق سمجھ لے، جدید تعلیم کو جدید تہذیب سے الگ کرکے دیکھنا شروع کردے اور ترقی کی خواہش میں مغرب کی ایسی نقالی نہ کرے کہ اپنی چال بھول جائے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-7652337364988861050?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/7652337364988861050/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/10/blog-post_28.html#comment-form' title='15 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/7652337364988861050'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/7652337364988861050'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/10/blog-post_28.html' title='سرسید احمد خان قومی رہنما یا انگریز کا زر خرید ایجنٹ'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><media:thumbnail xmlns:media='http://search.yahoo.com/mrss/' url='http://3.bp.blogspot.com/-73A0TTG-_90/TqubjPK_wVI/AAAAAAAAAPE/uREjIlN6N_o/s72-c/TITLE.JPG' height='72' width='72'/><thr:total>15</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-1754462575461366213</id><published>2011-10-16T23:35:00.000-07:00</published><updated>2011-10-16T23:35:07.672-07:00</updated><title type='text'>فکر بالغ نہیں تو عزم جواں کو کیا کرنا</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;فکر بالغ نہیں تو عزم جواں کو کیا کرنا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;کردار و عمل نہ ہو تو زور بیاں کو کیا کرنا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;پہچان کے بغیر علم کا سمندر بھی لاحاصل ہے&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;اپنا آشیاں ہی بکھر جاتے تو کہکشاں کو کیا کرنا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;گر قدم ہی ڈگمگانے لگیں تلاش منزل میں&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;پھر آہ و زاری کو اور لب پہ فغاں کو کیا کرنا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;گریبان اوروں کے مت دیکھ تلاش اپنا گوہر کر&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;جو دشمن بنے خود اپنا تو پاسباں کو کیا کرنا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;زندگی کا مقصد ہی جو گنوا بیٹھے اپنے ہاتھوں سے&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;بلند پرواز ہی نہ ہو تو اونچے آسماں کو کیا کرنا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;تاریخ کے یہ اوراق ہیں واسطے نصیحت کو تیری&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;راہ جس سے نہ ملے اس داستاں کو کیا کرنا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;جب تڑپ ہی نہ رہے جو مطلوب تھی دل و جگر کو&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;جو لاتعلق امت سے رہے اس مسلماں کو کیا کرنا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-1754462575461366213?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/1754462575461366213/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/10/blog-post.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/1754462575461366213'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/1754462575461366213'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/10/blog-post.html' title='فکر بالغ نہیں تو عزم جواں کو کیا کرنا'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-6904970421015377558</id><published>2011-09-30T15:15:00.000-07:00</published><updated>2011-09-30T22:17:25.059-07:00</updated><title type='text'>ایم کیو ایم کا مکروہ چہرہ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&amp;nbsp; ہمارے ہمسائے میں ہفتے پہلے نئے کرایہ دار آئے، نہایت شریف اور سلجھے ہوئے لوگ ہیں ان کے ایک بیٹے کا نام کاشف ہے ، کاشف سے کل پہلی دفعہ میری ملاقات ہوئی۔ اس سے میں نے کاروبار کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں کپڑے کی دوکان ہے، پہلے کراچی میں رہتے تھے وہاں بھی ہمارا کپڑے کا بہت اچھا کاروبار تھا، تین سال پہلے یہاں شفٹ ہوئے ہیں۔ میں نے تفصیل پوچھی تو پتا چلا کہ ان کا گھرانہ بھی &amp;nbsp;اس دہشت گرد تنظیم کا ڈسا ہوا ہے، اس نے بتایا کہ ہم بیس سال کراچی میں رہے ہیں، وہاں والد صاحب کی اس کاروبار سے اچھی آمدن تھی، چند سالوں سے &amp;nbsp;ایم کیو ایم والوں نے بہت تنگ کرنا شروع &amp;nbsp;کیا ہوا تھا، &amp;nbsp;ہم مجبورا انہیں ہر مہینے &amp;nbsp;بھتہ بھی دیتے تھے اور قربانی کی کھالیں، فطرانہ وہ ہم سے زبردستی لے جاتے تھے، جو واقعہ &amp;nbsp;اسلام آباد شفٹ ہونے کی وجہ بنا وہ یہ ہے &amp;nbsp;ایک دن میں &amp;nbsp;گھر آیا تو میرے چھوٹے دونوں بھائی غائب تھے، آگے پیچھے پتا کیا کچھ معلوم نہیں ہوا، میں سخت پریشانی میں تین گھنٹے پھرتا رہا، رات کے بارہ بج گئےاور &amp;nbsp;بھائی گھر نہ آئے، گھر والے بھی سارے پریشان کہ پتا نہیں کہاں چلے گئے، &amp;nbsp;ان کا تعلق کسی سیاسی تنظیم سے بھی نہیں تھا اور نہ انکی رات کو باہر گھومنے پھرنے کی عادت تھی۔ &amp;nbsp;آخر رات کے ایک بجے وہ &amp;nbsp;دونوں &amp;nbsp;خود گھر آگئے، اور بتایا کہ ایم کیو ایم والے اپنے جلسے میں زبردستی لے گئے تھے اور جلسہ میں بٹھائے رکھا، آتے ہوئے &amp;nbsp;انہوں نے ہمیں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ آئندہ &amp;nbsp;تم دونوں کو اس طرح ایم کیو ایم کے جلسوں میں لانا نہ پڑے اگر خود جلسوں میں نہ پہنچے تو پھر تمہیں دوبارہ گھر جانا نصیب نہ ہوگا۔۔۔۔۔&amp;nbsp;والد صاحب نے اسی دن فیصلہ کرلیا کہ &amp;nbsp;ہم نے اب یہاں نہیں رہنا اور دو مہینے میں وہاں سے کاروبار کی کلوزنگ کی اور اسلاآباد شفٹ ہوگئے ، &amp;nbsp;یہاں بھی کپڑے کا کاروبار شروع کیا ہے ، شروع میں پریشانی رہی ، اب اللہ کا شکر ہے کہ گزارہ&amp;nbsp;چل&amp;nbsp;رہا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;مجھے یقین ہے کہ ایم کیو ایم کے جلسوں میں رش اور انگلینڈ میں بیٹھے مسخرے کے ٹیلی فونک خطاب میں معزز لوگوں &amp;nbsp;کی &amp;nbsp;موجودگی &amp;nbsp;کا بھی &amp;nbsp;یہی راز ہے، &amp;nbsp;انہیں بھی اپنے اور اپنے گھر والوں کی جان عزیز ہوگی۔&lt;br /&gt;اس جماعت &amp;nbsp;کی بدمعاشیوں کے متعلق ویسے بھی &amp;nbsp;تقریبا روز ہی اخبارات اور ٹیلی ویژن پر چلنے والی خبریں نظر سے گزرتیں رہتیں ہیں کہ کس طرح یہ &amp;nbsp;غنڈہ گرد جماعت بھتہ خوری، بدمعاشی اور قتل و غارت &amp;nbsp;سے کراچی &amp;nbsp;کے لوگوں کا جینا دوبھر کیے ہوئے۔ &amp;nbsp;اب تو یہ بات مشاہدہ میں بھی ہے کہ &amp;nbsp;اس جماعت کا وجود صرف لوگوں کے غصب کیے ہوئے مال کی وجہ سے قائم ہے اور یہ جماعت &amp;nbsp;اقتدار میں رہے بغیر &amp;nbsp;چل ہی نہیں سکتی، مشرف دور کی اور موجودہ &amp;nbsp;استعفوں کی سیاست اس بات کی گواہ ہے۔&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-6904970421015377558?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/6904970421015377558/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/09/blog-post_30.html#comment-form' title='10 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/6904970421015377558'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/6904970421015377558'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/09/blog-post_30.html' title='ایم کیو ایم کا مکروہ چہرہ'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>10</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-3624910430313316156</id><published>2011-09-16T04:54:00.000-07:00</published><updated>2011-09-25T22:44:46.456-07:00</updated><title type='text'>نبوت کا جھوٹا دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ہی فتوی سے کافر</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://3.bp.blogspot.com/-UPEQ-JENvG0/TnM42DBc80I/AAAAAAAAANo/AuEbQMDrZG4/s1600/mirza+apny+hi+fatway+sy+kafir.JPG" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" height="400" src="http://3.bp.blogspot.com/-UPEQ-JENvG0/TnM42DBc80I/AAAAAAAAANo/AuEbQMDrZG4/s400/mirza+apny+hi+fatway+sy+kafir.JPG" width="211" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-3624910430313316156?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/3624910430313316156/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/09/blog-post.html#comment-form' title='28 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/3624910430313316156'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/3624910430313316156'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/09/blog-post.html' title='نبوت کا جھوٹا دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ہی فتوی سے کافر'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><media:thumbnail xmlns:media='http://search.yahoo.com/mrss/' url='http://3.bp.blogspot.com/-UPEQ-JENvG0/TnM42DBc80I/AAAAAAAAANo/AuEbQMDrZG4/s72-c/mirza+apny+hi+fatway+sy+kafir.JPG' height='72' width='72'/><thr:total>28</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-8908195592314680767</id><published>2011-08-21T03:59:00.000-07:00</published><updated>2011-08-21T06:03:57.267-07:00</updated><title type='text'>جیو ٹی وی کی ایک اور ناپاک اور شرانگیز حرکت</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جیو ٹی وی شروع سے &amp;nbsp;پاکستان میں انتہائی منافقانہ کردار ادا کرتا چلا آرہاہے۔ اس کی اجمل قصاب کے والدین اور گاؤں کے متعلق &amp;nbsp; خود ساختہ اور بے بنیاد کہانی پر مشتمل &amp;nbsp; ڈاکو مینٹری فلم، امن کی آشا کے نام پر &amp;nbsp;ہندوانہ &amp;nbsp;کلچر &amp;nbsp;اور &amp;nbsp;انڈین فحاشی کے سیلاب کی پاکستان درآمد، اسکی ننگی فلموں ڈراموں کی اپنے چینلز سے اوپن نشریات &amp;nbsp; جیسی بہت سی مثالیں پچھلے چند سالوں میں سامنے آئیں ہیں، &amp;nbsp; اس کے علاوہ غیر وں کا ایجنٹ یہ &amp;nbsp;مافیا گروپ پچھلے چند سالوں سے اسلام پر بھی &amp;nbsp;انتہائی غیر محسوس طریقے سے ڈائریکٹ &amp;nbsp;وار کرتا چلا آرہا ہے۔ شروع میں اس &amp;nbsp;کا نا اہل لوگوں کو اکٹھا کرکے اسلام پر تبصرے کرانے والا &amp;nbsp;پروگرام جاہل &amp;nbsp;آن لائن ، &amp;nbsp;حدود آرڈینینس کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ مہم، ’خدا کے لیے ’ جیسی عوام میں دینی &amp;nbsp;آزادی اور بے راہروی پھیلانی والی فلموں کی تشہیر اور &amp;nbsp; چند سال پہلےرمضان میں &amp;nbsp;توہین رسالت پر مشتمل فلم ”دی میسج" &amp;nbsp; اور اب اس رمضان میں اسی فلم کے &amp;nbsp;طرز پر ایک ڈرامہ سیریل &amp;nbsp;" تمثیل حیات طیبہ " نشر کرنا چند مثالیں ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;پہلے فلم &amp;nbsp;"دی میسج"اور اب اسی طرز کے &amp;nbsp;ڈرامہ "تمثیل حیات طیبہ" کی تشہیر &amp;nbsp;میں میڈیا کے ذریعے یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ یہ حقیقی واقعات پر مبنی &amp;nbsp;ہیں۔لوگ &amp;nbsp;انہیں ثواب کی نیت سے اور مقدس سمجھ کردیکھ رہے ۔ جن لوگوں نے یہ فلم دیکھی &amp;nbsp;ہے یا یہ نیا ڈرامہ دیکھ رہے ہیں ‘ وہ اس کو بُرا سمجھنے پر بھی تیار نہیں ہیں‘ اگر سمجھاؤ‘ تو کہتے ہیں: ”اس میں تو سچے مناظر دکھائے جارہے &amp;nbsp;ہیں۔“ بعض کا کہنا ہے کہ : ”اگر کسی کو پڑھنا نہ آتا ہو‘ تو وہ انہیں &amp;nbsp;دیکھ کر ہی اسلام کے ابتدائی حالات و واقعات کا مطالعہ کرسکتا ہے۔کچھ کا کہنا ہے کہ: "بے شک ان میں سیّدنا ابوبکرصدیق‘ ابو سفیان‘ حضرت بلال‘ حضرت ابو ایوب انصاری اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا کردار ادا کیا گیا ہے‘ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں بھی بولتے ہوئے نہیں دکھایا گیا اور نہ ہی واضح شکل دکھائی گئی ہے۔" گویا ان لوگوں کے نزدیک اس فلم میں کوئی قابل ممانعت بات ہی نہیں پائی جاتی‘انہیں اس کا کچھ احساس ہی نہیں ہے &amp;nbsp; کہ وہ &amp;nbsp;اپنے مذہب کی مقدس شخصیات کی &amp;nbsp;اتنی بڑی توہین برداشت کررہے ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;فلم دی میسج جس کو جیو نے اپنے چینل اور اخبارات سے بھرپور تشہیر کے بعد کئی بار چلایا ’ &amp;nbsp;کو بنانے والا مصطفی عکاظ ایک لادین مستشرق تھا اور اس نے اپنے آقاؤں کے اشارہ پر توہینِ رسالت و توہینِ صحابہ پر مبنی یہ بدنام زمانہ فلم بنائی اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات کو دنیا جہان کے کنجروں اور بدمعاشوں کی شکل میں دکھا کر مسلمانوں کے ایمان و عمل کو غارت کرنے اور ان مقدس شخصیات کی توہین و تنقیص کرنے کی کوشش کی۔ اب یہ &amp;nbsp;ڈرامہ سیریل &amp;nbsp;" تمثیل حیات طیبہ " بھی &amp;nbsp;کسی دوسری زبان سے &amp;nbsp;اردو ترجمہ &amp;nbsp;کیا گیا لگتا ہے ۔ ان &amp;nbsp;دونوں میں &amp;nbsp; &amp;nbsp;نہ صرف اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت کے دور کی منظر کشی کی گئی ہے‘ بلکہ بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم‘ مثلاً: حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور دیگر مقدس ہستیوں کا مختلف اداکاروں نے باقاعدہ کردار ادا کیا ہے،حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اذان دینا‘ ان پر کافروں کی جانب سے سختیاں کیا جانا‘ وغیرہ ‘حتی کہ حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کا بھی کسی ملعون اداکار نے کردار ادا کیا ہے‘فلم میں اس آدمی کا چہرہ تو واضح نہیں ہے‘ لیکن اسے چلتے پھرتے دکھایا گیا ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ شریف ہجرت کے واقعہ کی نعوذباللہ منظر کشی کی گئی ہے‘ دکھایا گیا ہے کہ دف بجائے جارہے ہیں‘ لوگ انتظار میں کھڑے ہیں‘ ایک شخص جس کا چہرہ واضح نہیں ہے‘ سفید اونٹ پر سوار آرہا ہے ( استغفراللہ)۔فلم کی ایک اور جھلکی میں دکھایا گیا ہے کہ بت رکھے ہوئے ہیں‘ ایک شخص چھڑی کی مدد سے بتوں کو گراکر توڑ رہا ہے۔جن &amp;nbsp;لوگوں نے فلم" دی میسج" دیکھی &amp;nbsp;‘ ان کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ &amp;nbsp;حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اوپر فلم بنائی گئی ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینے ہجرت کرجانے کے دوران غار میں سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قیام کرنا‘ غار کے منہ پر مکڑی کا جالا بننا‘ کبوتر کا انڈے دینا‘ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اینٹیں اٹھا اٹھا کر لانا‘ حضرت ابو ایوب انصاری &amp;nbsp;رضی اللہ عنہ کے گھر قیام کرنا وغیرہ‘ باقاعدہ ڈائیلاگ کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔ نعوذباللہ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;افسوس صد افسوس ۔اسلام میں تو &amp;nbsp;کسی عام &amp;nbsp;پیغمبر، نبی ، صحابی &amp;nbsp;کی شبہیہ ، تصویر، خاکہ &amp;nbsp;تک بنانا حرام ہے اور یہاں &amp;nbsp;کافروں‘ مشرکوں‘ ملحدوں ، زانیوں ، شرابیوں &amp;nbsp;کو امام الانبیا &amp;nbsp;حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم &amp;nbsp;اور انکے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس جماعت کے طور پر پیش کیا &amp;nbsp;جارہا ہے اور &amp;nbsp;وہ لوگ جو خود کو مسلمان کہتے ہیں &amp;nbsp;وہ نہ صرف اس کو دیکھ رہے ، اسکی &amp;nbsp;تعریف کررہے ہیں بلکہ &amp;nbsp;باقاعدہ اسکا دفاع بھی کررہے ہیں۔کیا کوئی &amp;nbsp;حقیقی مسلمان سوچ سکتا ہے کہ فلم انڈسٹری کے کسی حیا باختہ انسان کو حضرت حمزہ، حضرت بلال، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام د یا جائے؟ &amp;nbsp;ظلم کی انتہا جو کام آج تک اسلام کے ازلی دشمن نہیں کرسکے تھے ۔ وہ اب مسلمانوں کے ہاتھوں‘ مسلمانوں کے ملک میں اور مسلمانوں کے سامنے کیا جارہا ہے‘ اور طرفہ تماشایہ کہ اس کو اشاعتِ اسلام کا نام دے کر اسے دیکھنا ‘دکھانا اور اس کی نشرو اشاعت کو نیکی کا نام دیا جارہا ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;کیا یہی باتیں مسلمانوں پر اجتماعی طور پر &amp;nbsp;آئے ہوئے اللہ کے عذاب کے لیے کافی نہیں۔اللہ ہمیں معاف فرمادیے۔ جن لوگوں نے اس فلم کو صحیح جان کر دیکھا ہے یا اس ڈرامہ کو تحسین کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ‘ ان کو بارگاہ الٰہی میں اس سے توبہ کرنا چاہئے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;جیو ٹی وی کا یہ عمل سراسر غلط‘ ناجائز‘ لائقِ صد نفرت اور گستاخانہ ہے‘ ہمیں &amp;nbsp;اس توہینِ رسالت کی سازش کے خلاف بھرپور احتجاج کرنا چاہیے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے کچھ نمبر :&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;جیو گروپ سے ا حتجاج &amp;nbsp; &amp;nbsp;اس نمبر اور میل پر ریکارڈ کرائیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;111-436-111&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;feedback@aag.tv&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;feedback@geo.tv&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;پی ٹی اے کو کمپلینٹ کریں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;0800-55055&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;complaint@pta.gov.pk&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;باوجود تنبیہ کے بھی اگر یہ ٹی وی چینل &amp;nbsp;اس بدترین کردار سے باز نہ آئے‘ تو اُسے اس حرکت سے باز رکھنے یا سبق سکھانے کے لئے‘ احتجاجا اس کا بائیکاٹ کیا جائے‘ کیونکہ آخری درجہ میں ہم اتنا ہی کرسکتے ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-8908195592314680767?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/8908195592314680767/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/08/blog-post_21.html#comment-form' title='15 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/8908195592314680767'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/8908195592314680767'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/08/blog-post_21.html' title='جیو ٹی وی کی ایک اور ناپاک اور شرانگیز حرکت'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>15</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-4681626342611934854</id><published>2011-07-31T23:49:00.000-07:00</published><updated>2011-08-01T02:19:35.534-07:00</updated><title type='text'>خصائص ماہ رمضان اور اس کی تین قیمتی ترین گھڑیاں</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;الله تعالی کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے مخلوق میں سے&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;بعض کوبعض پرفضیلت دی ہے ، اسی طرح الله تعالی نے بعض اوقات ومقامات کوبعض پرفضیلت ومرتبہ دیا ، اوراوقات وزمانہ میں &amp;nbsp;ماہ رمضان کودیگرمہینوں پرفضیلت دی ، پس &amp;nbsp;رمضان بمنزلہ چاند ہے ستاروں کے درمیان ۔یہ &amp;nbsp;مہینہ&amp;nbsp;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;شهرالعبادات والخیرات&lt;/span&gt;&amp;nbsp;ہے ، ایسا مہینہ جس میں لیلۃ القدر کی عظیم رات ہے ، سیئات ومعاصی سے غسل کا مہینہ ، گناهوں کوحسنات میں بدلنے کا مہینہ ، رحمت وغفران کا مہینہ، جہنم سے آزادی کا مہینہ ، جنت کے حصول کا مہینہ ، بے شمار فضائل وبرکات ورحمات کا مہینہ ،حسنات جمع کرنے کی ایک عظیم ترین فرصت اورغنیمت کبری ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;1&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;. &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;رمضان ارکان اسلام میں سے اہم رکن ہے ، جس بغیرآدمی کا ایمان واسلام پورا نہیں ہوتا ، لہذا اس کی فرضیت کا منکردائره اسلام سے خارج ہے ، اوربلاعذر تارک سخت ترین گناهگار ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;قال تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;span dir="RTL"&gt;&lt;/span&gt;&amp;nbsp;[البقرة:&lt;b&gt;&lt;span lang="FA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;۱۸۳]&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: black; font-size: 11pt;"&gt;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;وقال عليه الصلاة والسلام بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وحج البيت الحرام&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: black; font-size: 11pt;"&gt;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[متفق عليه].&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: black; font-size: 11pt;"&gt;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;2.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان میں جنت کے دروازے کهول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے &amp;nbsp;ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;إذا دخل رمضان فتحت أبواب السماء، وغلقت أبواب جهنم، وسلسلت الشياطين ،&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;وفي رواية: إذا جاء رمضان فتحت أبواب الجنة&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[البخاري]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;3&lt;/span&gt;.&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان میں جس نے کسی روزه دار کوافطارکرایا تواس کوبهی روزه دار جتنا اجرملتا ہے&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;من فطر صائماً فله مثل أجره من غير أن ينقص من أجر الصائم شيء&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;[حسن صحيح رواه الترمذي وغيره]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;4.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;&amp;nbsp;رمضان میں ليلة القدر کی عظیم رات بهی ہے جو ہزار مہینوں سے بہترہے جواس کےاجروثواب سے محروم ره گیا وه خير كثيرسے محروم ره گیا ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" class="MsoNormal" style="line-height: normal; text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span dir="RTL" lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 10pt;"&gt;فيه ليلة خير من ألف شهر، من حرم خيرها فقد حرم&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 10pt;"&gt;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" class="MsoNormal" style="line-height: normal; text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 10pt;"&gt;[&lt;span dir="RTL" lang="AR-SA"&gt;أحمد والنسائي وهو صحيح&lt;/span&gt;&lt;span dir="LTR"&gt;&lt;/span&gt;&lt;span dir="LTR"&gt;&lt;/span&gt;]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&amp;nbsp;اور جس نے ایمان اورثواب کی نیت سے اس رات میں عبادت کی تواس کے اگلے پچهلے سب گناه معاف ہوجائیں گے ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;من قام ليلة القدر إيماناً واحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[متفق عليه]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;5.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان میں فرشتوں کا بکثرت نزول ہوتا ہے &amp;nbsp;اور خصوصا ليلۃ القدر کی عظیم رات میں۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;قال تعالى: تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;[القدر:۴]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;6.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان میں سحری ایک عظیم برکت والا عمل ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="color: #38761d; direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;وقال عليه الصلاة والسلام: تسحروا فإن في السحور بركة&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="color: #38761d; direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[متفق عليه]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;7.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان میں غزوة بدر اور &amp;nbsp;مکہ فتح &amp;nbsp;ہوا ان میں الله تعالی نے اپنے رسول عليه الصلاة والسلام کی نصرت کی اورلوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہوئے ، اور مكہ مكرمہ دار اسلام بنا اوراس کے بعد ہرجگہ فتوحات الإسلاميہ کا دور شروع ہوا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;8.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان میں عمره کا ثواب &amp;nbsp;حج کرنے کے برابرہوجاتا ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="color: #38761d; direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;ففي الصحيحين قال عليه الصلاة والسلام&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="color: #38761d; direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;[ عمرة في رمضان تعدل حجة &amp;nbsp;أو قال حجة معي]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;9&lt;/span&gt;.&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان معاصی وگناهوں کا کفاره ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="color: #38761d; direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان الى رمضان مكفرات لما بينهن إذا اجتنبت الكبائر&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="color: #38761d; direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[مسلم]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;10&lt;/span&gt;.&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان میں فرشتے مومنین صائمين کے لیئے مغفرت کی دعا کرتے ہں ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="color: #38761d; direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;وتستغفر لهم الملائكة حتى يفطروا&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="color: #38761d; direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[رواه الإمام أحمد ]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;11.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;&amp;nbsp;رمضان ذكر ودعاء کا مہینہ ہے ۔ الله تعالی نے آيات الصيام کے بعد فرمایا&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span dir="RTL"&gt;&lt;/span&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&lt;span dir="RTL"&gt;&lt;/span&gt;&amp;nbsp;وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[البقرة، الآية: ۱۸۶]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;جس میں دلالت ہے کہ صيام ودعاء کے مابین خصوصی ربط وتعلق ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;12.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان میں صدقہ کی فضیلت بہ نسبت دیگرایام کے بڑھ جاتی ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span dir="RTL"&gt;&lt;/span&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&lt;span dir="RTL"&gt;&lt;/span&gt;&amp;nbsp;عن النبي ، صلى الله عليه وسلم ، سئل أي الصدقة أفضل ؟ قال صدقة في رمضان وثبت في&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;[الترمذي]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;13&lt;/span&gt;.&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان شهر القرآن ہے&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;شَهْرُ رمضان الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[البقرة، الآية: ۱۸۵]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;14.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;صائمین مخلصین کے لیئے جنت کا خصوصی دروازه تیارکیا گیا هے جس کو باب الريان کہتے ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; font-weight: bold; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( من كان من أهل الصيام دعي من باب الريان)&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;15.&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;/span&gt;رمضان میں سرکش شیاطین کوقید کرلیاجاتا ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( إذا دخل رمضان فتحت أبواب الجنة وغلقت أبواب النار وسلسلت الشياطين )&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;[متفق عليه]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;16.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان کا أول حصہ رحمہ اورأوسط مغفرة اورآخری عشره جہنم سے آزادی کا ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار.)&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[رواه ابن خزيمة في صحيحه وقال صحيح ورواه البيهقي وابن حبان] .&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;.&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;17.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان دعاوں کی قبولیت کا مہینہ ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;و فى الحديث الصحيح عنه عليه الصلاة والسلام انه قال لكل مسلم دعوة مستجابة يدعوا بها فى رمضان )...&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[رواه الأمام أحمد بسند صحيح]&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;18&lt;/span&gt;.&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;&amp;nbsp;رمضان کے تمام لمحات دعاوں کی قبولیت کا وقت هے لیکن خصوصی طور پر افطارسے تهوڑا پہلے قبولیت دعا کا خصوصی وقت ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;حيث قال صلى الله عليه وسلم ثلاثة لا ترد دعوتهم الإمام العادل ، والصائم حتى يفطر ودعوة المظلوم يرفعها الله فوق الغمام وتفتح لها أبواب السماء ويقول الرب وعزتي وجلالي لأنصر نكى ولو بعد حين ).يقول النبى صلى الله عليه وسلم كما&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;[فى حديث ابن ماجه بسند صحيح]&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;19.&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;رمضان بکثرت قراءة القرآنِ کا مہینہ ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="color: #38761d; direction: rtl; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: x-large; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;كان جبريلُ يُعارضُ النبيَّ صلى الله عليه وسلّم القُرْآنَ في رمضان كلَّ سنةٍ مرّةً. فَلَمَّا كان العامُ الَّذي تُوُفِّي فيه عارضَه مرَّتين تأكيداً وتثبيتاً&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue; font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;رمضان المبارک میں تین قیمتی ترین ساعات&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;یقینا رمضان کا ہرلمحہ انتہائ برکات وفضائل کا حامل ہے لیکن کچھ لمحات کوان میں سے خصوصی ومزید فضیلت حاصل ہے۔ ان لمحات کی روحانیت ونورانیت مزید بڑھ جاتی ہے لہذا یہ لمحات ضائع نہیں ہونے چائیے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: red; font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;1.&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;سحری کا وقت&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;سحری کا وقت فجر سے تهوڑا پہلے کا وقت ہے ، اللہ نے قرآن میں اس وقت کی فضیلت بیان کی ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span dir="RTL"&gt;&lt;/span&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&lt;span dir="RTL"&gt;&lt;/span&gt;&amp;nbsp;قال تعالى ( والمستغفرين بالأسحار ).&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;اور وه لوگ جوسحری کے وقت استغفارکرتے ہیں ۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;ایک مومن روزه دار کو ضروری ہے کہ اس قیمتی ترین وقت کو کثرت استغفار ودعا میں صرف کرے یہاں تک فجرکی اذان ہوجائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہوتو کم ازکم تہجد کا اہتمام کرلیا جائے جو رمضان میں پڑھنا ویسے بھی بہت آسان ہوجاتا، سحری کے لیے تو اٹھنا ہوتا ہی ہے، بندہ دس منٹ پہلے اٹھ جائے اور آرام سے تہجد پڑھ لے۔ الله تعالی نے انہی قیمتی لمحات کوتسحیٹ وتحليل میں صرف کرنے کی تاکید کی ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; display: inline !important; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&amp;nbsp;وقال تعالى : &amp;nbsp;وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها ومن آناء الليل فسبح وأطراف النهار لعلك ترضى۔&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; font-weight: bold; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;وقال تعالى : &amp;nbsp;وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها ومن الليل فسبحه وأدبار السجود۔&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; font-weight: bold; margin-bottom: 0.0001pt; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #073763; font-size: large;"&gt;حضرت حسن بصری رحمہ الله کا ارشاد ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #073763; font-size: large;"&gt;دنیا صرف تین دن ہیں۔ ایک توکل گذشتہ کا دن وه توگذر گیا ہے ، ایک آنے والا دن ہے شاید کہ تواس کونہ پاسکے ، ایک آج کا دن ہے پس یہی تیرا دن ہے اسی میں عمل کرو ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: red; font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;2.&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;دن کا ابتدائی وقت یعنی صلاة الفجر کے بعد کا وقت&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000; font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;الإمام النووي رحمه الله اپنی ( كتاب الأذكار ) میں فرماتے ہیں&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;&lt;span dir="RTL"&gt;&lt;/span&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&lt;span dir="RTL"&gt;&lt;/span&gt;&amp;nbsp;اعلم أن أشرف أوقات الذكر في النهار الذكر بعد صلاة الصبح۔&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&amp;nbsp;خوب جان لوکہ دن میں ذکرکے بہترین اوقات میں سے سب سے بہتروقت صبح کی نمازکے بعد کا وقت ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;وأخرج الترمذي عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (من صلى الفجر في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ثم صلى ركعتين كانت له كآجر حجة وعمرة تامة تامة تامة [رواه الترمذي وقال حديث حسن ]&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;اور الإمام الترمذي رحہر الله نے حضرت أنس رضي الله عنہ سے روایت نقل کی کہ حضور صلى الله عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے فجرکی نماز باجماعت پڑھی ، پهربیھذ کرطلوع شمس تک الله کا ذکرکرتا رہا ، پهردو رکعت نمازپڑهی ، تواس ایک کوکامل حج وعمره کا اجروثواب ملے گا ۔ یہ کلمہ حدیث میں تین مرتبہ فرمایا&amp;nbsp;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;(تامة تامة تامة )&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;&amp;nbsp;حضور صلى الله عليه وسلم صبح کی نمازکے بعد اپنی نمازکی جگہ پربیٹهے رہتے یہاں تک کہ سورج خوب طلوع ہوجائے ۔فقاوء نے یہ تصریح کی ہے کہ اس ساعت کوذكر الله کے ساتھ مُزین کیا جائے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;ایک &amp;nbsp;اورحدیث میں ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="center" dir="RTL" style="direction: rtl; margin-bottom: 0in; margin-left: 0in; margin-right: 0in; margin-top: 0in; text-align: center; unicode-bidi: embed;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;&lt;b&gt;&lt;span lang="AR-SA" style="color: #38761d; font-family: Arial, sans-serif; font-size: 11pt;"&gt;اللهم بارك لأمتي في بكورها&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;اے الله میری امت کو اس کے پہلے پہرمیں برکت عطا فرما ۔&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;صبح کی نمازکے بعد نیند مکروه ہے کیونکہ اس وقت میں رزق تقسیم کیا جاتا ہے ۔ یہ خامی ہم میں &amp;nbsp;سے اکثر &amp;nbsp;مسلمانوں میں پائی جاتی ہے کہ یا تو وہ صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھتے ہی نہیں ، سحری کھا کر نماز گھر میں ہی پڑھ کر سوجاتے ہیں یا نماز پڑھ کر آکر فورا سوجاتے ہیں۔ اس وقت میں نیند مناسب نہیں ، بلکہ ذكر ودعاء ( وغیره اعمال صالحہ ) سے اس وقت کومشغول کرنا چائیے ، اور خاص کر رمضان میں تو اجر وثواب بھی دوگنا ہوجاتا ہے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: red; font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;3.&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt; &lt;/span&gt;دن کا آخری وقت یعنی غروب سے پہلے کا وقت&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #660000; font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: large;"&gt;حدیث میں اس وقت میں دعا کی قبولیت کی بشارت وارد ہوئی ہے ۔لہذا افطارسے پہلے کا یہ وقت ذکرودعا میں صرف کرنا چائیے اور پورے رمضان میں بمع اہل وعیال اس وقت میں دعا کوایک خاص وظیفہ کے طورپرکرنا چائیے ، اورسلف صالحین بهی اس قیمتی وقت کوانتہائی اہتمام کے ساتھ ذکرودعا میں مشغول کرتے تهے ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;div style="margin-bottom: 0px; margin-left: 0px; margin-right: 0px; margin-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;( ثلاث مستجابات :دعوة الصائم ،ودعوة المظلوم ، ودعوة المسافر ) [رواه الترمذي ]&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d; font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-4681626342611934854?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/4681626342611934854/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/07/blog-post_31.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/4681626342611934854'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/4681626342611934854'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/07/blog-post_31.html' title='خصائص ماہ رمضان اور اس کی تین قیمتی ترین گھڑیاں'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-4481361518953891733</id><published>2011-07-30T04:42:00.000-07:00</published><updated>2011-07-30T09:05:28.623-07:00</updated><title type='text'>خواب میں زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;ایک &lt;a href="http://anqasha.blogspot.com/2011/07/blog-post_27.html"&gt;بلاگر &lt;/a&gt;نے ایک مجہول بندے کی کتاب کے کچھ سکین پیج &amp;nbsp;اپنے بلاگ پر لگائے ’جن میں اس جاہل و کذاب مصنف &amp;nbsp;نے خواب میں زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جید علمائے کرام پر تبرا کیا تھا’ بلاگر نے &amp;nbsp;ہمارے &amp;nbsp;تبصرہ کے جواب میں لکھا کہ&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;blockquote class="" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #134f5c;"&gt;عنیقہ ناز said...&lt;br /&gt;بنیاد پرست صاحب، میرا بھی یہی سوال ہے کہ آپکو کیسسے پتہ چلا کہ کتاب کے مصنف کھسرے ہیں۔ یہ مہارت کافی لوگ حاصل کرنا چاہیں گے کہ تحریر پڑھ کر انسان کے کھسرے ہونے کا اندازہ لگا سکیں۔&lt;br /&gt;میں نے اپنی منافقت کا پردہ چاک کرنے کے لئے آپکا تبصرہ ڈال دیا ہے۔ دیکھ لیں یہ حوصلہ بھی کسی کسی میں ہوتا ہے۔&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #134f5c;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;blockquote class="" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #134f5c;"&gt;آپ نے شاہ ولی اللہ کے بارے میں میری رائے کا تذکرہ کیا ہے۔ یہاں اس بات کا دوہرانا معقول معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئ انسان مکمل نہیں۔ معصوم تو انبیاء کی ذات ہوتی ہے ان سے بھی ہمارے بعض علماء ظلطیاں منسوب کر چکے ہیں۔ شاہ ولی اللہ ایک انسان ہی تھے۔ ماورائے انسان نہیں۔ ظلطی ان سے بھی ہو سکتی ہے یا نہیں۔&lt;br /&gt;یہ بھی بالکل ضروری نہیں کہ اگر کسی انسان کی ایک خوبی کو بیان کیا جائے تو اسکی ایسی کوئ بات نہ کی جائے جس سے اسکی کوئ کمزوری سامنے آتی ہو۔ اسے شخصیت پرستی کہتے ہیں۔ شخصیت پرستی بت پرستی سے کم نہیں۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #134f5c;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;blockquote class="" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #134f5c;"&gt;کتاب کے مندرجات میں یہ پوچھا گیا ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ صحابہ ء کرام میں سے تو کسی کے خواب میں بعد از زندگی نہیں آئے لیکن یہاں ہر شخص جو ذرا دینداری قائم کرتا ہے اس کا دعوی کرتا نظر آتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ بھی پوچھنا چاہونگی کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خواب میں زیارت رسول کا دعوی کس نے کیا اور یہ کس عہد کی بات ہے؟&lt;/span&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;br /&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;میں نے انکے جواب میں لکھنا شروع کیا ، لیکن &amp;nbsp;بات لمبی ہوجانے کی وجہ سےاسے &amp;nbsp;اپنے فورم پر ہی پوسٹ کررہا ہوں۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;میں نے اس بندے کے لیے کھسرے کا لفظ طنزا استعمال کیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح آپ نے طنزا میرے سے پوچھا ۔ اس سے حقیقی کھسرا مراد نہیں تھا ۔ میرا مطلب یہی تھا کہ &amp;nbsp;یہ لوگ بجائے اسکے کہ کوئی اصلاحی بات کریں’ &amp;nbsp;باتوں کو توڑ موڑ کر &amp;nbsp;عوام کو گمراہ کرتےرہتے &amp;nbsp;اور فضول باتیں پکڑ کر کھسروں کی طرح &amp;nbsp;ناچتے رہتے ہیں۔ ویسے کھسروں پر آپ سے ذیادہ &amp;nbsp;تحقیق کس &amp;nbsp;کی &amp;nbsp;ہوگی ، آپ تو &amp;nbsp;باقاعدہ ان پر مضمون &lt;b&gt;&lt;a href="http://anqasha.blogspot.com/2011/07/blog-post_24.html"&gt;"ایبنارمل تفریح اور ایبنارمل مذاق&lt;/a&gt;&lt;/b&gt;" لکھ چکیں ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp; آپ نے شاہ ولی اللہ کا نام ایسے لیا ہے جیسے لوگ اپنے کسی ہمجولی اورساتھی کو مخاطب کرتے ہیں ۔اگرنام کے ساتھ حضرت اوررحمتہ اللہ علیہ لگادیں تواس سے آپ کا &amp;nbsp;کچھ نہ بگڑے گااورنہ یہ شخصیت پرستی &amp;nbsp;کے زمرہ میں آتا ہے بلکہ یہ حقدارکو اس کاحق دیناہے۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;یہ بات حقیقت ہے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدس سرہ، سرزمین ہند کے ان اکابر میں سے ہیں جن کی نظیر نہ اپنے زمانے میں یا &amp;nbsp;ہندوستان میں، بلکہ بہت سے قرون اور ممالکِ اسلامیہ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ حضرت موصوف کیا تھے؟ خدائے تعالیٰ کی ایک حجت قاطعہ تھی جو بارہویں صدی میں ہندوستان میں ظاہر ہوئی۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;حضرت شاہ صاحب کی زندگی اور علمی و عملی کمالات کے اتنے گوشے ہیں کہ ہرایک مستقل تصنیف کا محتاج ہے۔ مثلاً حضرت کی تصنیف و تالیف، ترجمہ قرآن کی بنیاد، نصابِ حدیث کی تاسیس، درس کی اصلاح، اسرارِ شریعت کی دل نشین اور موثر تشریح، کلام، تصوف، فلسفہ، اخلاق اور نظام حکومت میں ان کے خاص خاص قابل قدر نظریات، اصول تفسیر و اصول حدیث میں خاص خاص تحقیقات ،جہاد کا جوش، حکومت اسلامیہ کی خلافت راشدہ کے اصولوں پر تشکیل و تاسیس، ظاہری و باطنی علو م کا حیرت انگیز اجتماع وغیرہ وغیرہ اتنے کمالات و خصائص ہیں جو اہلِ نظر و فکر کے لئے اور اہلِ دل و اہلِ ذوق اربابِ قلم کے لئے تحقیق و تدقیق &amp;nbsp;کا ایک میدان ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ایک &amp;nbsp; جاہل مجہو ل شخص ،جسکے علمی اور عملی شجرہ نصب کو آپ خود بھی نہیں جانتیں ، نہ آپ &amp;nbsp;نے یہ &amp;nbsp;تحقیق کی کہ کیا &amp;nbsp;یہ بندہ اس قابل بھی ہے کہ اتنے بڑے علمائے زمانہ &amp;nbsp;پر تنقید کررہا ہے، چلیں &amp;nbsp;آپ نے اگر &amp;nbsp;اسکی علمی حیثیت کے متعلق تحقیق &amp;nbsp;&amp;nbsp;نہیں کی تو &amp;nbsp;کیا کم از کم &amp;nbsp;کسی عالم سے ہی پوچھ لیتیں &amp;nbsp;کہ جوا س نے لکھا ہے اسکے متعلق صحابہ، &amp;nbsp; فقہا، آئمہ &amp;nbsp;بزرگان دین کی کیا رائے ہے ؟ یا خود ہی دیکھ لیتیں کہ کیا اس نے &amp;nbsp;اپنے موقف پر قرآ ن وحدیث سے بھی کوئی دلیل پیش &amp;nbsp; کی ہے ؟ &amp;nbsp;اس بندے کا علمی کمال تو &amp;nbsp;صرف یہ ہے کہ اس نے مختلف علما کی کتابوں میں سے واقعات آگے پیچھے سے کاٹ کرمنافقانہ انداز میں &amp;nbsp;پیش کرتے ہوئے صرف لفاظی کی ہے اور آپ نے اسکی تحریر وحی الہی مان لیا، اور اس کے مقابلے میں ایک ایسی&amp;nbsp;&amp;nbsp;نابغہ روزگار ہستی ہے جس کے علم و حکمت، تقوی و اخلاص &amp;nbsp;پر امت کی کثیر تعداد کا اجماع ہے &amp;nbsp;’ کے &amp;nbsp;دفاع کو شخصیت پرستی کہنا &amp;nbsp;شروع کردیا۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #274e13;"&gt;ایک بات یاد رکھیں دین کے معاملے میں‘&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt; کلمواالناس علی قدرعقولھم &lt;/span&gt;’کی رعائت بہت ضروری ہےاور کی جاتی ہے۔ انسان کو انہی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے جن کو سمجھنے کی اس کے اندر صلاحیت ہو ۔ ورنہ گمراہی کا خطرہ ہے کیونکہ قاعدہ ہے‘&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt; الناس أعداء ما جهلو’&lt;/span&gt;۔ &amp;nbsp;لوگ جس چیز سے جاہل &amp;nbsp;ہوں اس کے دشمن بن جانتے ہیں۔&amp;nbsp;امام بخاری رحمہ الله نے صحیح بخاری (کتاب العلم ) میں ایک &amp;nbsp;باب قائم کیا هے۔(&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;باب من خص بالعلم قوما دون قوم كراهية أن لا يفهموا)&lt;/span&gt;یعنی جس نے بعض قوم کوعلم کے ساتهہ خاص کیا اوربعض کواس ڈرسے نہیں پڑهایا کہ وه اس کو نہیں سمجهیں گے ۔یہی مسئلہ آپ کے ساتھ بھی پیش آیا اور آپ کے اس پسندیدہ رائٹر کے ساتھ بھی ۔اس &amp;nbsp;کی &amp;nbsp;اور آپ کی ناقص عقل میں جو بات نہیں آسکی ، آپ &amp;nbsp;نے بجائے علم والوں کی طرف رجوع کرنے کے’ &amp;nbsp;اس پر فتوے لگانے شروع کردیے۔ محترمہ کسی ایسی شخصیت پر جس کے علم وفضل پرامت کے ایک بڑے طبقے نے اعتماد &amp;nbsp;کیاہو،اس کے متعلق کسی شخص کا &amp;nbsp;جلد بدگمانی میں مبتلاہونا صرف اس بات کا ثبوت ہوتاہے کہ وہ شخص اعجاب رائے میں مبتلاہے ۔ &amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;اس موضوع پر ہمارے دوست بلاگر انکل ٹام نے بھی&lt;a href="http://uncletom2.blogspot.com/2011/06/blog-post_24.html"&gt; ایک جگہ&amp;nbsp;&lt;/a&gt;&lt;u&gt;&lt;a href="http://uncletom2.blogspot.com/2011/06/blog-post_24.html"&gt;&amp;nbsp;&lt;/a&gt;&lt;/u&gt;اچھا &amp;nbsp;لکھا ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ اس طرف زور لگانے پر تُلا ہوا ہے کہ اسلام ہماری مرضی کے مطابق ہو ، یعنی انکو اللہ کے بناے ہوے پر عمل نہ کرنا پڑے بلکہ جو انکا عمل ہو اسکو اسلام کا نام دے دیا جائے ۔ وہ ہر جگہ اپنی عقل سے دین کو پرکھتے اور علما پر طعن کرتے نظر آتے ہیں ، ان لوگوں کا حال &amp;nbsp;بلکل ایسے ہی جیسے ایک موچی کسی ٹاپ سرجن پر اعتراض کردے کہ آپ ٹانکے صحیح نہیں لگاتے، میں جوتوں کو دس سال سے سی رہا ہوں مجھے زیادہ تجربہ ہے۔ لہذا مریض کو ٹانکے لگانے کے معاملے میں آپ سے بہتر میں جانوں گا ۔ تو اس موچی کو سکیورٹی والے لاتیں مار کر باہر نکال دیں گے کہ صاحب آپ موچی ہیں یہ بات آپ کسی موچی سے جا کر کر سکتے ہیں سرجن پر اعتراض سرجن ہی کرے گا ۔ بلکل اسی طرح چاہے آپ نے لینکس یا ونڈوز کے اردو ترجمے کر دیے یا پھر کیمیسٹری یا بیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی ، آپ کی مہارت اسی فن میں ہے &amp;nbsp; لہذا آپ اپنی چولیاں اسی فن میں ماریں ، اس فن کے ماہر موجود ہیں ، اگر اس فن میں کوی غلطی پر ہے تو اسکو ٹوکنے کا حق بھی اسی فن کے ماہر کو ہے ۔ دین کے معاملے میں اعتراض کرنے کا حق صرف ان کو ہے جو اسکا علم رکھتے ہیں، جس کو قرآن کی ایک آیت دیکھ کر بھی پڑھنی نہ آتی ہواس سے قرآن کی تفسیر &amp;nbsp;پڑھنی شروع کردی جائے گا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;خواب میں زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;خواب میں &amp;nbsp; آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا حق &amp;nbsp;ہے ، صحیح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt; &amp;nbsp; “من راٰنی فی المنام فقد راٰنی، فان الشیطان لا یتمثل فی صورتی۔ متفق علیہ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &lt;b&gt;&amp;nbsp; ترجمہ:&lt;/b&gt;… “جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے سچ مچ مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا۔”&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;(صحیح بخاری و صحیح مسلم)&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو لوگ خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے منکر ہیں، وہ اس حدیث شریف سے ناواقف ہیں۔ خواب میں زیارتِ شریفہ کے واقعات خیرالقرون سے &amp;nbsp;اس قدر بے شمار ہیں کہ اس کا انکار ممکن نہیں۔تاریخ کی کتابوں میں حضرت بلال رضی اللہ علیہ کا ایک مشہور واقعہ تفصیل کے ساتھ &amp;nbsp;مذکور ہے۔ &amp;nbsp;جس میں حضرت &amp;nbsp;بلال رضی اللہ عنہ کا &amp;nbsp;حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد شام ہجرت کر جانا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں آکر &amp;nbsp;شکوہ فرماتے ہوئے کہنا&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;"ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟ &lt;/span&gt;(’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘) اس پر پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا مدینہ آنا اور حسنین رضوان اللہ کی فرمائش پر اذان دینے کا واقعہ مشہو ر ہے۔&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;( السيرة الحلبيه، 2 : 308)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا انکو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ &amp;nbsp;دیکھنا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نویں محرم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا وغیرہ اور بھی &amp;nbsp;کئی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات موجود ہیں، حضرت عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کشف المعجوب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے کا اپنا واقعہ لکھا ہے۔ مطلب خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا ہونا کوئی عجیب بات نہیں۔ اسلاف سے ثابت ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;بعض جہلا اس بارے یہ وسوسہ پھیلاتے ہیں کہ خواب دیکھنے والے نے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بیداری میں نہیں کی تواس کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس کو خواب آتی ہے اسے &amp;nbsp;خواب ہی میں قدرتی طور پر اس کا علم ضروری حاصل ہوجاتا ہے اور اسی علم پر مدار ہے، اس کے سوا کوئی ذریعہ علم نہیں،الا یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ٹھیک اسی شکل و شمائل میں ہو جو وصال سے قبل حیاتِ طیبہ &amp;nbsp;میں تھی، اور اس سے خواب کی تصدیق ہوجائے۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;یہ بات حق ہے &amp;nbsp;کہ خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بڑی برکت و سعادت کی بات ہے، لیکن یہ دیکھنے والے کی عنداللہ مقبولیت و محبوبیت کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس کا مدار بیداری میں اتباعِ سنت پر ہے۔ بالفرض ایک شخص کو روزانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہو، لیکن وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا تارک ہو اور وہ فسق و فجور میں مبتلا ہو تو ایسا شخص مردود ہے۔ اور ایک شخص نہایت نیک اور صالح متبع سنت ہے، مگر اسے کبھی زیارت نہیں ہوئی، وہ عنداللہ مقبول ہے۔ خواب تو خواب ہے، بیداری میں جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی دولت سے محروم رہے وہ مردود ہوئے، اور اس زمانے میں بھی جن حضرات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں ہوئی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نصیب ہوئی وہ مقبول ہوئے۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ &amp;nbsp;کا مصنف جس کی تحریر کو لے کر آپ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا رد کرگئیں ’ &amp;nbsp;بالکل ایک جاہل و اجہل شخص &amp;nbsp;ہے، اس لیے اس نے قرآن وحدیث سے اپنے موقف کے حق میں کوئی شرعی دلیل دینے کے بجائے محض لفاظی کی ہے۔ اگر آپ اب بھی اس کے موقف کو حق سمجھتیں ہیں تو آپ اسکے &amp;nbsp;موقف &amp;nbsp;کے حق میں &amp;nbsp;قرآن وحدیث ، صحابہ رضوان اللہ ، آئمہ کی زندگی میں سے کوئی دلیل لے آئیں یا میری پیش کی گئی دلیلوں کا شرعیت کی روشنی میں رد فرما دیں۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;اللہ ہمیں نفس پرستی کے بجائے حق پرستی عطا فرمادے۔&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-4481361518953891733?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/4481361518953891733/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/07/blog-post_30.html#comment-form' title='21 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/4481361518953891733'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/4481361518953891733'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/07/blog-post_30.html' title='خواب میں زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>21</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-5470834386915015513</id><published>2011-07-25T20:41:00.000-07:00</published><updated>2011-07-26T05:05:13.596-07:00</updated><title type='text'>مغربی دو رخی اور ہمارے سادہ لوح لوگ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d;"&gt;&lt;b&gt;کیا مغربی ممالک اخلاقیات کے اعلی درجے پر فائز ہیں؟&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d;"&gt;&lt;b&gt;کیا مغرب واقعی &amp;nbsp;انسانوں کی قدر کرنا سکھاتا ہے ؟&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d;"&gt;&lt;b&gt;کیا &amp;nbsp;مغرب &amp;nbsp;کا مذہب &amp;nbsp;مساوات و انصاف پسندی &amp;nbsp;ہے؟&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #38761d;"&gt;&lt;b&gt;کیا یورپ امریکہ واقعی مسلمان ممالک سے ذیادہ حوصلہ و برداشت رکھتے ہیں ؟&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;ہمارے ہاں یہ بیماری &amp;nbsp;عام ہے کہ کوئی شخص کسی مغربی ملک میں چند دن رہ کر آجاتا ہے یا کسی سے &amp;nbsp;وہاں کی حکومتوں کی اپنے لوگوں کو دی گئی سہولتوں &amp;nbsp;کے تذکرے سن لیتا ہے تو &amp;nbsp;پھر ہر جگہ &amp;nbsp;اپنے معاشرے اور مسلمانوں پر لعنت بھیجتا &amp;nbsp;اور یورپ و امریکہ &amp;nbsp;کے نظام &amp;nbsp;کے &amp;nbsp;گن گاتا نظرآتا ہے۔حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ یورپ اورامریکہ میں میسر وہ سہولتیں جن کو دیکھ کہ ہمارے لوگ اپنے &amp;nbsp;ملک ومعاشرے کو &amp;nbsp; گالی دیتے ہیں &amp;nbsp;صرف &amp;nbsp; مغرب کے &amp;nbsp;اپنے &amp;nbsp;لوگوں کے لیے ہیں یا وہ جو ان جیسا ہوکر رہنا چاہے ۔ مبصرین اس بات کے قائل ہیں &amp;nbsp;کہ یورپی حکومتیں اب ان خطوط پر سوچ رہی ہیں کہ یا تو مسلمان ہمارے ملکوں میں رہتے ہوئے ہمارے رسم و رواج اور طرز زندگی کے مطابق زندگي گزاریں یا پھر اپنا کوئی اور بند و بست کرلیں ۔افسوس کا مقام ہے کہ مغرب کے منہ سے آج بھی خون مسلم ٹپک رہا ہے اور اس کے ہاتھوں سےآج بھی ایک ایک دن میں ہزاروں مسلمان جل بھن کر راکھ بن جاتے ہیں لیکن پھر ہمارے دانشور &amp;nbsp;انہیں اعلی اخلاقیات کا مالک، &amp;nbsp;انصاف پسند، انسانوں کی قدر کرنے والا کہتے ہیں ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;میں مغر ب کے اصلی چہرے کو بے نقاب کرتے &amp;nbsp;ہوئے اس کے چند &amp;nbsp;اعمال &amp;nbsp;کا تذکرہ کرنااور اپنے ان مغربی احساس کمتری کا شکار دوستوں کو دعوت فکر دینا چاہتا ہوں ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;مغرب کا سب سے بڑا ہتھیار :&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;مغرب کا اس وقت سب سے بڑا ہتھیار اس کا ذرائع ابلاغ ہے۔ مغربی میڈیا &amp;nbsp;اس وقت اسلام اور مسلمانوں کےخلاف جنگ میں اسلام مخالف لشکر کے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے اور مسلمانوں کے بارے میں اس کا متعصبانہ رویہ اور مکروہ چہرہ کھل کر سامنے آچکا ہے۔ &amp;nbsp;انکے نيشنل چينل پر نشر ہونے والي ، اسلام اور مسلمانوں كے متعلق ۸۵ فيصد خبريں مسلمانوں كے خلاف ہوتي ہيں اور منفي ہوتي ہيں۔فلسطين و عراق ميں ناجائز قبضہ ، وحشيانہ حملوں اور مسلمانوں كے اپني سر زمين كے حق دفاع سے چشم پوشي كرتے ہوئے ، دشمنوں كے مقابل مسلمانوں كي طرف سے ہونے والي مزاحمت كے مناظر كو دہشت گردی كے عنوان سے نشر كيا جاتا ہے۔ مغرب میں اسلام کے متعلق انگریزی مقولہ”کتے کو مارنے سے پہلے اسے پاگل مشہور کردو“ &amp;nbsp;پرعمل ہورہا ہے &amp;nbsp; اور مغربی ممالک ایک ”گینگ“ کی صورت میں اپنے اپنے حصہ کا رول ادا کررہے ہیں اور ”سردار“ ان کو حرکت میں رکھ رہا ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;مغرب کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی تاریخ :&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;یہ مغربی میڈیا کے اس پراپیگنڈے کا ہی اثر ہے &amp;nbsp;کہ &amp;nbsp;ہمارے مسلمان انہیں &amp;nbsp;مغرب کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے، انہیں انسانیت دوست ، روشن خیال اور اعتدال پسند کہتے ہیں۔کوئی ان سے پوچھے کہ انسانی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرنے والے کون تھے ؟وہ کون لوگ تھے جنہوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران ہیروشیما اور ناگاساکی پرایٹم بم گرا کر آن واحد میں۶ لاکھ بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ،&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;کوئی پوچھے ان نام نہاد روشن خیالوں سے کہ آخر ان لوگوں کا جرم کیا تھا، جنہیں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد توپ کے دھانوں پر باندھ کر ہوا میں تحلیل کر دیا گیا ،خود انگریز موٴرخ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دہلی کے مضافات میں کوئی درخت ایسا نہیں تھا جہاں کسی مسلمان عالم دین کی لاش نہ لٹکی ہو ،یہی نہیں بلکہ ان مسلمانوں کو ابلتے ہوئے تیل میں ڈال کر کوئلہ بنادیا گیا ،ان کوسوٴروں کی کھال میں بند کر کے ان پر کتے چھوڑ دئیے گئے ۔تحریک ریشمی رومال کے دوران مسلمانوں کو کالے پانی اور جزیرہٴ انڈمان میں قید کرکے طرح طرح کی اذیتیں دینے والے کون لو گ تھے؟&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;چلئے زیادہ دور نہ جائیے عصر قریب میں بوسنیا کے اندر سرب عیسائیوں نے مسلمانو ں کا جو قتل عام کیا جس کے نتیجے میں ایک مختصر سی مدت میں ۱۴، لاکھ مسلما ن موت کی نیند سلا دئیے گئے۔ 1982ء میں اسرائیل کے لبنا ن پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں 17500بے گناہ شہری شہید ہوگئے ،&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;30 سال سے جنگ سے نبرد آزما افغانستان کے بھوکے اور ننگے افغان شہریوں کو ”دہشت گرد“ قرار دے کر ان پر حملہ کردیا گیا اور ٹنوں وزنی ڈیزی کٹر بموں سے ان کا بھرکس نکال دیا ، ابھی امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ممالک کی اسلام دشمنی کی آگ ماند نہیں پڑی تھی کہ عراق پر حملہ کردیا اور ہنستے بستے ملک کو تہس نہس کردیا۔ امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ممالک نے انسانوں سے آباد شہروں کابل، قندھار، بغداد، فلوجہ، کربلا اور نجف اشرف کو قبرستان میں بدل دیا ۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;فلسطین پر اسرائیل عرصہ درازسے اپنی جارحیت مسلط کیے ہوئے ہے اس دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کو کسی نے ”یہودی دہشت گردی“ کا نام نہیں دیا حالانکہ پوری دنیا میں اسرائیلی جارحیت مسلّم ہے اور اس ملک کی وجہ سے پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہے۔ مگر اس کے باوجود امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اسرائیل کے محافظ ہیں اور اس کی دہشت گردی میں برابر کے شریک ہیں۔ ۵/جون ۲۰۰۸ء اخبارات میں &amp;nbsp;ایک خبر چھپی‘ اس کا خلاصہ ہے:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;”امریکی صدارتی امیدوار بارک اوبامانے کہا ہے کہ دہشت گرد گروپ اسرائیل کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاہم وہ اسرائیل کے سچے دوست ہیں اور اسرائیل کو در پیش خطروں کو امریکا کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں ․․․․“&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;"&gt;قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ․․&lt;/span&gt;․&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دشمنی ان کی زبان سے نکلی پڑتی ہے اور جو کچھ مخفی ہے ان کے جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔“&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;مغرب کے قوانین اخلاقیات، مساوات و رواداری&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;مغرب نے ہمیشہ سے اسلام، پیغمبر ِ اسلام اور مسلمانوں کو اپنا حریف اور دشمن جانا اور سمجھا ہے۔ اسلام، پیغمبر اسلام، شعائر اسلام، مسلمان اور ان کی مقدس ترین شخصیات کی توہین، تنقیص، تحقیر اور تذلیل کرنے والا کوئی ملعون ومردود ہو، وہ ان کا حلیف و دوست، ان کی مدد و نصرت کا حق دار اور حقوق انسانی و آزادی کا مستحق ہے۔ دنیا بھر کے یہودی اور عیسائی کم از کم اس ایک نکتے پر متفق و متحد نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی لعین، سلمان رشدی ملعون، تسلیمہ نسرین مردود اور مرتد عبدالرحمن تک ہر ایک پر انہوں نے اپنی نوازشات کی بارش کی ہے۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;سیاسی طور پر دیکھیں تو ہر ملک کے انتہائی کرپٹ حکمرانوں کو انہیں وواصلاح پسندوں“ کے در پر جائے امان ملتی ہے ،تمام مسلم دنیا کے کرپٹ حکمراں اور سیاست داں یہیں پناہ گزیں ہیں۔ سلمان رشدی اور فتنہٴ امامت خواتین کی بانی اسریٰ نعمانی اور مغرب کے ایجنٹ لندن سے ہی کارو بار قتل وخون چلا رہے ہیں، ایک طرف تو یہ مغربی شاطر مسلم دنیا کی غریبی اور ابتر حالت پر گھڑیالی آنسو بہاتے ہیں ،دوسری جانب جو لٹیرے اس ابتر صورت حال کے لئے ذمہ دار ہیں انہیں اپنے گھروں میں امان دیتے ہیں ،ان کی لوٹی ہوئی دولت کو اپنے یہاں بینکوں میں جمع کرکے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، صومالیہ کی مثال بالکل تازہ ہے، جہاں پڑوسی عیسائی ملک کی فوج کو اپنے ایمان فروش ایجنٹوں کے ساتھ صومالیہ پر قبضہ کرادیا اور وہاں کشت وخون جاری ہے ،مغرب کا اسلحہ بھی فروخت ہورہا ہے اور مسلمان آپسی انتشار میں بھی مبتلا ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;کہیں پیغمبر اسلام (ص) کے توہین آمیز خاکے شائع جاتے ہیں &amp;nbsp;تو کبھی آزادی کے نام پر &amp;nbsp;توہین آمیز خاکےچھپوا کر سوا ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا &amp;nbsp;جاتا ہے پھر اسی اپنی اسی نام نہاد &amp;nbsp;آزادی کو خود ہی &amp;nbsp;کچلتے ہوئے سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کی &amp;nbsp;اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے پر پابندی لگادی جاتی ہے، کہیں پردہ کرنے کی بنا پر بچیوں کو اسکولوں سے اور خواتین کو نوکریوں سے نکال دیا جاتا ہے اور کہیں اسلام کے مینارے کھٹک رہے ہیں ۔ جرمنی کے شہر ڈریسڈن کی عدالت میں جج اور پولیس اہلکاروں کے سامنے ایک باپردہ مسلمان مصری خاتون مروہ الشربینی کو قتل کردیا جاتا ہے۔ &amp;nbsp;پوپ بینی ڈکٹ شانِ رسالت کی توہین کرکے صہیونیوں سے تھپکیاں وصول کرتا ہے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جن باتوں یعنی قدامت پرستی، بنیاد پرستی، عدم رواداری وغیرہ پر عالم اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے، وہی تمام خصوصیات یورپ، امریکا اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ لڑنے والے ہر ملک میں بڑھائی جارہی ہیں۔آزادی اظہار رائے کے دعویدارکومسلمانوں کی توہین و تنقیص‘ ان کے دین و مذہب اوران کے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے وقت تو آزادی اظہار رائے کا شدت سے احساس و خیال آتا ہے‘ لیکن یہ احساس‘ خیال اور جنون”ہولو کاسٹ“ کے قانون کے خلاف زبان کھولنے اور لکھنے کی جرأت کیوں نہیں دیتا‘ وہاں انکے آزادی اظہار رائے کے جذبہ کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟” مغربی ممالک میں مسلمانوں کی اذان پر پابندی، مساجد کے میناروں پر پابندی، مسلمان خواتین کے حجاب پر پابندی، کیا یہ پابندیاں مذہبی آزادی اور رواداری کا ثبوت ہیں یا تنگ نظری اور تعصب پر مبنی اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;خلاصہ یہ کہ&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اس وقت مغربی اقوام کی اولین ترجیح دولت کو ہرممکنہ ذرائع سے حاصل کرنا‘ اسے اپنی نفسانی خواہشات پر خرچ کرنا اور اس کے لئے دوسری اقوام کے مادی وسائل پر قبضہ کرنا ہی رہ گیا تھا‘ تاکہ اپنے عیش وعشرت کا گراف مزید بلند کیا جاسکے جو آج تک جاری ہے‘ وہ پرندوں کی طرح تیز رفتاری سے اڑنا‘ سمندر کی گہرائیوں میں مچھلی کی طرح تیرنا تو سیکھ چکے تھے مگر زمین پر انسانوں کی طرح چلنا بھول گئے تھے‘ دوسری قوموں پر ڈر‘ خوف اور نفرت بٹھانے‘ ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کے لئے پوری عقل‘ قوت اور لامحدود وسائل صرف آلاتِ حرب کو مہلک سے مہلک تر بنانے میں خرچ کئے جانے لگے‘ ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;ان روشن خیالوں اور اعتدال پسند وں کے&amp;nbsp;یہ سب&amp;nbsp;سیا ہ کارنامے پڑھ کے اور سن کے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتاہے،حیرت کی بات ہے، اپنے آپ کو روشن خیال اور اعتدال پسند کہلانے والے لو گ وہ ہیں جن کی اپنی تاریخ ظلم و تشدد سے لبریز ہے ،آج وہی انسانیت کے علمبردار گنے جاتے ہیں، مسلمانوں کو اخلاقیات سے محروم &amp;nbsp;اور انتہاء پسند کہنے والے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے کچھ ناعقبت اندیش مسلمان یا توحقیقت سے بے خبر ہیں یا پھر جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ،یقینا جو کوئی بھی ان حقائق کو جاننے کی کوشش کرے گا وہ کبھی بھی اغیار کے ان بے بنیا د پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوگا ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;کیا یہ مغربی "صفات " ہمارے ملکوں اور لوگوں میں بھی پائی جاتیں ہیں ؟&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اوپر دی گئی تفصیل سے &amp;nbsp;’ مغربی ممالک &amp;nbsp;میں &amp;nbsp; نام نہاد سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کا جس طرح اخلاقی، مذہبی، ذہنی &amp;nbsp;اور جسمانی استحصال کیا جاتا ہے &amp;nbsp;وہ بالکل &amp;nbsp;واضح ہے۔ انصاف تو یہ تھا کہ مسلم ملک بھی اپنی کلچر، مذہب کے مطابق اپنے یہاں آنے والے مغربی لوگوں کو پابند کرتے، لیکن اسے &amp;nbsp;ہماری بدقسمتی کہیں یا &amp;nbsp;وسعت ظرفی کہ &amp;nbsp;مغربی ممالک کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف انتہائی تعصب &amp;nbsp;وحسد کے اظہار کے باوجود کبھی &amp;nbsp;پاکستان یا کسی عرب ملک میں اسلام کے نام پر &amp;nbsp;کسی گورے کو ننگے پھرنے ، سور کھانے، شراب پینے سے نہیں &amp;nbsp;روکا گیا ۔ یہ بات ثبوت کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو یورپ &amp;nbsp;کے مسلمانوں سے ذیادہ آزادی حاصل ہے &amp;nbsp;؟ پاکستان میں کہاں کسی عیسائی کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے سے روکا گیا ہے ؟ ،یہاں &amp;nbsp;تمام اقلیتیں محفوظ بھی ہیں اور خوش بھی، انہیں پاکستان میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔شومئی قسمت کہ آج کا مسلمان ان بنیادی اسباب سے محروم ہے جو اس کے دشمن کے پاس ہیں، جن کے ذریعے سے وہ جو چاہتے ہیں ان کی جانب منسوب کر دیتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں انہیں بدنام کرتے رہتے ہیں۔ کبھی انتہاء پسند ی کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو کبھی تنگ نظر کہا جاتاہے،اور اس پر مستزاد یہ کہ عام فہم مسلمان بھی دشمن کے اس پروپیگنڈے میں آکر دشمن کے ان تمام پراپیگنڈوں کو حقیقت جان لیتے ہیں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کردیتے ہیں ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جہاں تک ہمارے معاشرے میں &amp;nbsp; زناکاری ، حرام کاری، شراب نوشی، ناچ گانا کے عام ہونے کی &amp;nbsp;بات ہے تو &amp;nbsp; یہ انہی غیر قوموں خصوصا مغرب سے امپورٹ شدہ ہے۔، اسکا تازہ ترین ثبوت امریکی سفارتخانے کا پاکستان میں اپنے ہاں ہم جنس پرستوں &amp;nbsp;کا فکنکشن کرانا اور اس دنیا کے گندھے ترین فعل کو اپنی سرپرستی میں رائج کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پاکستان کو مغربی معاشرہ کی &amp;nbsp;طرح برائیوں، گمراہیوں کی آماجگاہ بنانے کی مہم کا آغاز کرنا &amp;nbsp;ہے ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;میں &amp;nbsp;پاکستانی معاشر ے کو پرفیکٹ اور قابل تقلید معاشرہ نہیں کہتا &amp;nbsp;، یہ کہنے کی جسارت ضرور &amp;nbsp;کرتا ہوں کہ پاکستانی معاشرہ میں &amp;nbsp;ابھی تک &amp;nbsp;لوگوں کی اکثریت &amp;nbsp; صبر ، برداشت، &amp;nbsp;اخلاقیات، رواداری میں یورپی لوگوں سے ذیادہ &amp;nbsp;آگے ہے۔ &amp;nbsp;یہاں کا &amp;nbsp;فرد &amp;nbsp;بنیادی طور پر قاتل نہیں رحم دل ہے ،وہ ڈاکو نہیں ایثار پسند ہے،وہ عزتوں کا لٹیرہ نہیں عصمتوں کا پاسبان ہے،وہ تنگ نظر نہیں روشن خیال ہے،وہ انتہاء پسند نہیں اعتدال پسند ہے۔ اسکے دل میں ابھی بھی &amp;nbsp;وہ &amp;nbsp;چیز موجود ہے جو ساری دنیا کے کافروں &amp;nbsp;کے پاس نہیں ۔ اسکو بس ایک &amp;nbsp;نظام اور &amp;nbsp;ہادی کی ضرورت ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;میں نے اوپر جو کچھ لکھا &amp;nbsp;مکمل غیر جانبدار رہتے ہوئے لکھا &amp;nbsp;اسی غیر جانبداری کو جاری رکھتے ہوئے میں آخر میں &amp;nbsp; اس بات کا اعتراف &amp;nbsp;ضرور کروں گا کہ مغربی ممالک کے لوگوں میں ایک ایسی صفت پائی جاتی ہے &amp;nbsp;جوکہ ہمارے لوگوں &amp;nbsp;میں نہیں ہے اور وہی صفت انکی کامیابی کا راز ہے۔ وہ صفت ہے احساس ذمہ داری &amp;nbsp;۔ وہ لوگ اپنے لوگوں اور ملک کے ساتھ مخلص ہیں، جبکہ ہم میں اس کا فقدان ہے، ہمیں نہ کسی فرد کا احساس ہے اور نہ اپنے ملک کا اور یہی ہماری تنزلی کی ایک وجہ ہے۔ ہم میں &amp;nbsp;ہر کوئی اپنی ذات &amp;nbsp; میں مگن &amp;nbsp;ہے۔ … الله تعالیٰ ہماری اصلاح فرما دے اور ہمیں عقل سلیم عطافر مائے، تاکہ ہم حق اور باطل میں تمیز کر سکیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-5470834386915015513?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/5470834386915015513/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/07/blog-post_25.html#comment-form' title='10 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/5470834386915015513'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/5470834386915015513'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/07/blog-post_25.html' title='مغربی دو رخی اور ہمارے سادہ لوح لوگ'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>10</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-5680866373005743089</id><published>2011-07-20T03:40:00.000-07:00</published><updated>2011-07-20T03:48:40.825-07:00</updated><title type='text'>مسلمانوں تیاری پکڑ لو : نیکیوں کی لوٹ سیل لگنے والی ہے</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;ol&gt;&lt;li style="text-align: right;"&gt;رمضان میں عبادت کے لیے کیسے ٹائم نکالا جائے ؟&lt;/li&gt;&lt;li style="text-align: right;"&gt;کن اعمال پر ذیادہ ٹائم لگایا جائے ؟&lt;/li&gt;&lt;li style="text-align: right;"&gt;رمضان کی برکات سے کیسے ذیادہ سے ذیادہ فاعدہ اٹھا یا جاسکتاہے ؟&lt;/li&gt;&lt;li style="text-align: right;"&gt;حرام آمدنی والے کیا کریں ؟&lt;/li&gt;&lt;/ol&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;اللہ اپنی صفت رحیمی کا اظہار کرتے ہوئے ہمیں بار بار ایسے مواقع فراہم کرتا رہتا &amp;nbsp;ہے کہ ہم اپنے گناہوں اور معصیتوں کی معافی تلافی &amp;nbsp;کرکے اور اپنے گناہوں کا بوجھ اتار کر جنت کے &amp;nbsp;مستحق اور جہنم سے بچ &amp;nbsp;جائیں ۔رمضان اور مضان کی عبادات اور &amp;nbsp;اس کی ساعتوں کی برکات سے انسان کے گناہوں کی غلاظت کا کس طرح صفایا ہوتا ہے؟ &amp;nbsp;حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;”اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور مبارک مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، ایسا مہینہ جس میں ایک ایسی رات ...شب ِ قدر... ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے...یعنی اس ایک رات میں عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ملتا ہے... اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کے دنوں کا روزہ فرض اور راتوں کی عبادت نفل قرار دی ہے، جو شخص اس مہینہ میں ایک نیک عمل کے ذریعہ قربِ خداوندی کا طالب ہو، وہ ایسا ہی ہے جیسے دیگر مہینہ میں فرض ادا کرے ...یعنی نفل کا ثواب فرض کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے... اور جو شخص کوئی فریضہ بجالائے ،وہ ایسا ہے جیسے دیگر مہینوں میں ستر فرض ادا کرے...یعنی رمضان میں ایک فرض کا ثواب ستر گنا ہوتا ہے (مشکوٰة ۱/۱۷۴، البیہقی فی شعب الایمان ۳/۳۰۵&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معصوم ذات، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رشک ملائک شخصیات اور اکابر صلحا رمضان کا بہت &amp;nbsp;اہتمام فرماتے تھے، ہمارے جیسے غرق عصیاں لوگوں کو تو اس کی زیادہ &amp;nbsp;ضرورت ہے کہ یہ مارے گناہوں کی غلاطت دھونے اور مغفرت الٰہیہ حاصل کرنے کا نادر و انمول تحفہ اور گوہر نایاب ہے۔اسی بنا پر فرمایا&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&amp;nbsp;حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے خود سنا ہے کہ: “یہ رمضان آچکا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، اور شیاطین کو طوق پہنادئیے جاتے ہیں، ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی بخشش نہ ہو۔” جب اس مہینے میں بخشش نہ ہوئی تو کب ہوگی؟&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;(رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ الفضل بن عیسیٰ الرقاشی وھو ضعیف کما فی مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۴۳)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue; font-size: x-large;"&gt;کیا سب کام چھوڑ کر مسجد سے جڑ جائیں &amp;nbsp;؟&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;رمضان آنے سے پہلے اپنے نظام الاوقات بدل کر ایسا بنانے کی کوشش کریں کہ اس میں زیادہ سے زیادہ وقت اللہ جل شانہ کی عبادت میں صرف ہو۔ &amp;nbsp;طریقہ نہایت آسان ہے، رمضان کا مہینہ آنے سے پہلے یہ سوچو کہ مقدس مہینہ آرہا ہے، کس طرح میں اپنی مصروفیات کم کر سکتا ہوں۔ اس مہینے میں اگر کوئی شخص اپنے آپ کو بالکلیہ عبادت کے لئے فارغ کر لے تو سبحان اللہ، اور اگر کوئی شخص بالکلیہ اپنے &amp;nbsp;آپ کوفارغ نہیں کر سکتا تو پھر یہ دیکھے کہ کون کون سے کام ایک ماہ کے لئے چھوڑ سکتا ہوں،ان کو چھوڑے۔ اور کن مصروفیات کو کم کر سکتا ہوں، &amp;nbsp;ان کو کم کرے، اور جن کاموں کو رمضان کے بعد تک مئوخر کر سکتا ہے۔ ان مئوخر کرے۔اور رمضان کے زیادہ سے زیادہ اوقات کو عبادت میں لگانے کی فکر کرے ۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue; font-size: x-large;"&gt;رمضان کی برکات سےکیسے ذیادہ سے ذیادہ فاعدہ اٹھا یا جاسکتاہے ؟&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt;  &lt;/span&gt;جب رمضان المبارک کو دوسرے مشاغل سے فارغ کر لیا، تواب اس فارغ وقت کو کس کام میں صرف کرے؟ جیسا کہ اوپر حدیث میں ذکر ہوا کہ اس ماہ میں &amp;nbsp;اعمال کاثواب ستر گناہ تک بڑھ جاتا ہے، اسی لیے خود کو ذیادہ سے ذیادہ عبادت میں، نماز میں، ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن اور توبہ استغفار میں مشغول کرلے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;تلاوت قرآن کو اس مہینے سے خاص مناسبت ہے چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ پورے قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے۔ اس لئے جتنا زیادہ سے زیادہ ہو سکے، اس مہینہ میں تلاوت کریں اور اس کے علاوہ چلتے پھرتے،اٹھتے بیٹھتے زبان سے اللہ کا ذکر کریں۔ تیسرا کلمہ: سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الااللہ و اللہ اکبر اور درود شریف اور استغفار کا چلتے پھرتے، اس کی کثرت کا اہتمام کریں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;نوافل کی جتنی کثرت ہو سکے کریں۔ عام دنوں میں رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن رمضان المبارک میں چونکہ انسان سحری کے لئے اٹھتا ہے، تھوڑا پہلے اٹھ جائے اور سحری سے پہلے تہجد پڑھنے کا معمول بنا لے۔ اور &amp;nbsp;نماز خشوع کے ساتھ اور با جماعت پڑھنے کا تو لازمی اہتمام ہو۔&amp;nbsp;&lt;u&gt;&lt;b&gt;&lt;a href="http://www.farooqia.com/node/406"&gt;مزید تفصیل&lt;/a&gt;&lt;/b&gt;&lt;/u&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue; font-size: x-large;"&gt;سب سے بڑا مجاہدہ&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt;  &lt;/span&gt;ان سب نفلی نمازوں، نفلی عبادات، نفلی ذکر و اذکار، اور نفلی تلاوت قرآن کریم سے زیادہ مقدم ایک اور چیز ہے۔ جس کی طرف توجہ نہیں &amp;nbsp;دی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس مہینے کو گناہوں سے پاک کرکے گزارنا کہ اس ماہ میں ہم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔ ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ کم از کم اس ماہ میں تو جھوٹ نہ بولو۔ اس میں تو غیبت نہ کرو۔ اس میں تو بد نگاہی کے اندر مبتلا نہ ہو۔ اس مبارک مہینہ میں تو کانوں کو غلط جگہ پر استعمال نہ کرو۔ اس میں تو رشوت نہ کھائو، اس میں تو سود نہ کھائو، کم از کم یہ ایک مہینہ اس طرح گزار لو۔اگر &amp;nbsp;گناہوں سے بچتے ہوئے اللہ کی معصیت اور نافرمانی سے بچتے &amp;nbsp;ہوئے یہ مہینہ گزار دیا پھر چاہے ایک نفلی رکعت نہ پڑھی ہو اور تلاوت زیادہ نہ کی ہو اور نہ ذکر و اذکار کیا ہو لیکن تو آپ قابل مبارک باد ہیں۔ اور یہ مہینہ آپ کے لئے مبارک ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue; font-size: x-large;"&gt;یہ کیسا روزہ ہوا؟&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space: pre;"&gt;  &lt;/span&gt;روزے میں جن تینوں چیزوں سے اجتناب ضروری ہوتا ہےیہ تینوں چیزیں ایسی ہیں جو فی نفسہ حلال ہیں، کھانا حلال، پینا حلال اور جائزطریقے سے زوجین کا نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا حلال، اب روزنے کے دوران ہم ان حلال چیزوں سے تو پرہیز کررہے ہیں ، نہ کھارہے ہیں ، نہ پی رہے ہیں ۔ لیکن جو چیزیں پہلے سے حرام تھیں، مثلا جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بد نگاہی کرنا، جو ہر حال میں حرام تھیں، روزے میں یہ سب چیزیں ہو رہی ہیں۔ اب روزہ رکھا ہوا ہے اور جھوٹ بول رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے اور غیبت کر رہے ہیں۔ &amp;nbsp;روزہ رکھا ہوا ہے اور بد نگاہی کر رہے ہیں۔روزہ رکھا ہوا ہے لیکن وقت پاس کرنے کے لئے گندی فلمیں دیکھ رہے ہیں، یہ کیا روزہ ہوا؟ کہ حلال چیز تو چھوڑ دی اور حرام چیز نہیں چھوڑی۔ اس لئے حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا نہ چھوڑے تو مجھے اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ اس لئے جب جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا جو پہلے سے حرام تھا تو کھانا چھوڑ کر اس نے کون سا بڑا عمل کیا۔ &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue; font-size: x-large;"&gt;اس ماہ میں رزق حلال&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;دوسری اہم بات کہ کم از کم اس ایک مہینے میں تو رزق حلال کا اہتمام کر لیا جائے، جو لقمہ آئے،وہ حلال کا آئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ روزہ تو اللہ کے لئے رکھا، اور اس کو حرام چیز سے افطار کر رہے ہیں۔ سود پر افطار ہو رہا ہے یا رشوت پر افطار ہو رہا ہے یا حرام آمدنی پر افطار ہو رہا ہے۔ یہ کیسا روزہ ہوا؟ کہ سحری بھی حرام اور افطاری بھی حرام، اور درمیان میں روزہ۔ اس لئے خاص طور پر اس مہینہ میں حرام روزی &amp;nbsp;سے بچو۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے مانگو کہ یا اللہ! میں رزق حلال کھانا چاہتا ہوں۔ مجھے رزق حرام سے بچا لیجئے۔ &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;بعض حضرات وہ ہیں، جن کا بنیادی ذریعہ معاش.....الحمداللہ......حرام نہیں ہے، بلکہ حلال ہے، البتہ اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے کچھ حرام آمدنی کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ ایسے حضرات کے لئے حرام سے بچنا کوئی دشوار کام نہیں ہے، وہ کم از کم اس ماہ میں تھوڑاسا اہتمام کر لیں، اور حرام آمدنی سے بچیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue; font-size: x-large;"&gt;اگر آمدنی مکمل حرام ہے تو پھر؟ &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;بعض حضرات وہ ہیں جن کا ذریعہ آمدنی مکمل طور پر حرام ہے، مثلا وہ کسی سودی ادارہ میں ملازم ہیں، ایسے حضرات اس &amp;nbsp;ماہ میں کیا کریں؟ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحب قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;میں ایسے آدمی کو جس کی مکمل آمدنی حرام ہے۔ یہ مشورہ دیتا ہوں کہ اگر ہو سکے تو رمضان میں چھٹی لے لے، اور کم از کم اس ماہ کے خرچ کے لئے جائز اور &amp;nbsp;حلال ذریعہ سے انتظام کر لے۔ کوئی جائز آمدنی کا ذریعہ اختیار کر لے۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اس ماہ کے خرچ کے لئے کسی سے قرض لے لے۔ اور یہ سوچے کہ میں اس مہینہ میں حلال آمدنی سے کھائوں گا۔ اور اپنے بچوں کو بھی حلال کھلائوں گا، کم از کم اتنا تو کرلے۔ &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور رمضان المبارک کے انوار و برکات سے صحیح طور پر مستفید ہونے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/4623227663357820907-5680866373005743089?l=bunyadparast.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://bunyadparast.blogspot.com/feeds/5680866373005743089/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/07/blog-post_20.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/5680866373005743089'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/4623227663357820907/posts/default/5680866373005743089'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://bunyadparast.blogspot.com/2011/07/blog-post_20.html' title='مسلمانوں تیاری پکڑ لو : نیکیوں کی لوٹ سیل لگنے والی ہے'/><author><name>بنیاد پرست</name><uri>http://www.blogger.com/profile/01129918784798502573</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='22' src='http://3.bp.blogspot.com/-CEA-Z8euqLU/TaLddO0KhuI/AAAAAAAAAFw/gD-gU91PoTA/s220/download'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-4623227663357820907.post-13876313259190603</id><published>2011-07-19T11:37:00.000-07:00</published><updated>2011-07-22T12:02:18.274-07:00</updated><title type='text'>امت مسلمہ کا انحطاط اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;موجودہ دور میں ملتِ اسلامیہ پورے عالم میں جس دینی و دنیاوی انحطاط واضمحلال کا شکار ہے‘ اس کی مثال پوری تاریخِ اسلامی میں نہیں ملتی ،امت جب زندہ تھی‘ اور اپنے فرائض منصبی دعوت الی اللہ‘ امر بالمعروف ‘ نہی عن المنکر اور ہدایت رسانی خلق کی ادائیگی میں مصروف ومشغول تھی‘یہ لافانی اور جاودانی امت حیات تازہ پاتی تھی‘ بارہا سیاسی فاتحین کو امت کے داعیانہ مزاج اور تبلیغی جہد وہمت اور روحانی تصرفات ومزایانے مفتوح اور دین کا خادم بنادیا‘ جس کی سب سے نمایاں اور مشہور مثال تاتاری ومنگول ہیں‘ جو دولِ اسلامیہ اور خلافتِ عباسیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے کچھ عرصہ بعد اسلام کے داعیانہ اثر سے مسلمان ہوتے ہیں اور ترکانِ عثمانی اور ترکانِ تیموری کے نام سے پانچ سوسال تک اسلام اور مسلمانوں کا پرچم بلند رکھتے ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;جب سے امت کا دعوتی اور ملی شیرازہ بکھرا اور امت اپنے منصب اور اس سے پیدا شدہ تقاضوں اور مسائل کو بھلا بیٹھی‘ اور اپنے آپ کو دنیا کی عام اقوام کی طرح ایک قوم سمجھنے لگی، امت بانجھ ہوگئی‘ اقوام کا داخلہ اسلام میں من حیث الجماعة بند ہوگیا‘ بلکہ پوری امت پر مردنی چھاگئی‘ مسلمان بے یقینی‘ عقائد میں متزلزل اور کردار واعمال کی خرابی کا شکار ہو گئے کہ امت کا نفسِ ناطقہ‘ اس کا ایمانی شعور ‘ اس کا دینی ذمہ داری کا احساس اور اس کا داعیانہ حاسہ تھا‘ جس کی پژمردگی نے اس باغ کو مرجھا کررکھ دیا:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;متاعِ دین ودانش لٹ گئی اللہ والوں کی&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;یہ کس کافر ادا غمزہٴ خون ریز ہے ساقی&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: blue;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;امت کی اس غفلت وکوتاہی اور فرض ناشناسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا عالم اسلامی قیادت وامامت‘ الٰہی رہنمائی اور نبوی تعلیمات سے محروم ہوگیا‘ اور انسان کی عقلی وذہنی‘ روحانی ومادی قیادت‘ خدانا آشنا‘ آخرت فراموش‘ روح ناشناس‘ بے یقین‘ مردہ دل‘ دنیا طلب‘ مادہ پرست مغربی اقوام کے ہاتھ میں آگئی۔ مغرب کے مادی وملحدانہ مزاج کی بناء پروہ تمام علوم وفنون جنہوں نے ان کے دل ودماغ سے فروغ پایا‘ اپنے اندر مادیت والحاد اور لادینیت کے اثرات کو سموئے ہوئے ہیں۔ ۔ آج مغرب کا سیاسی وذہنی اقتدار وسیاسست پورے عالم پر محیط ہے‘ مشکل یہ ہے کہ مغربی افکار وعقائد علوم وفنون‘ تہذیب وتمدن‘ سیاست ومعاشرت‘ اقتصادیات ومعاشیات‘ غرض انسانی زندگی کے ہر پہلو اور اس سے متعلقہ علم کی بنیاد نری مادیت اور ظواہر پر ہے‘ یہاں تک کہ نام نہاد مغربی روحانی اور مابعد الطبیعاتی افکار وتصورات بھی مادی آلائشوں سے پاک نہیں‘ بلکہ انہیں کا ثمرہ ونتیجہ ہیں۔ روحانی اقدار اور غیبی قویٰ سے انکار عصر حاضر کا خلاصہ وامتیاز ہے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;b&gt;بقول حضرت سید الملة سلیمان الندوی قدس سرہ&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;۔”تعلیم جدید کی نئی آب وہوا نے تفرنج وفرنگی مآبی کا وہ زہر پھیلادیا ہے جس سے دین‘ عقائد واعمال کی ہر چیز پر مردنی چھاگئی ہے‘ اور جہاں دین کا کچھ خیال زندہ بھی ہے‘ شکوک وشبہات کی کثرت اور شدت نے اس پر عرصہٴ حیات تنگ کردیا ہے۔ یورپ کے تمدن اور سیاست کی نقالی ہماری اسلامی سلطنتوں کا فخر ہے۔ ہمارے دار السلطنتوں کے سامنے پیرس کے خاکے ہیں۔ ہماری خواتین کے سامنے انگلستان وفرانس کی عریانی ورنگینی وبے حجابی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کی نگاہوں میں رقص وسرود اور ظاہری پوشاک ووضع وطرز ماند وبود میں فرنگی مآبی زندگی کی کامیابی کا سب سے اعلیٰ تخیل ہے۔ علم وفن پر غور کیجئے تو ہماری قدیم تعلیم اب تک یونان کی تقویم پارینہ کی پرستش میں اور تعلیم جدید یورپین ضلالت وگمراہی خیال کی عکاسی میں مصروف ہے اور سوائے تقلید ونقالی کے کوئی مجتہدانہ تصور ہمارے سامنے نہیں ہے۔ ہمارے سامنے جب اعلیٰ تمدن اور اعلیٰ سلطنت داری کا تخیل آتا ہے تو یورپ کی ایک ایک سلطنت اپنی پوری ہوش ربائی اور باطل آرائی کے ساتھ ہمارے سامنے آجاتی ہے اور یہ حقیقت ہمارے سامنے سے گم ہوجاتی ہے کہ اسلام کا تصور سیاست اور تصور تمدن اور تصور علم وفن اپنا خاص ہے‘ اسی کو دوبارہ پیدا کرنا اور دنیا کے سامنے لانا ہماری قومی وملی غرض وغایت ہے“۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #990000;"&gt;&lt;b&gt;حالاتِ حاضرہ پر قناعت موت ہے&lt;/b&gt;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: center;"&gt;حقیقت میں جس طرح امت اپنی معاشرت وتمدن تہذیب وشعائر سے دور ہوتی جا رہی ہے اور جس طرح اسلامی اخلاق ومعاملات مٹ رہے ہیں‘ عبادات تک میں بے اعتنائی عام ہو چکی ہے‘ امہاتِ عقائد تک میں تزلزل آگیا ہے اور جس طرح دنیا طلبی‘ دین سے بے رغبتی‘ الحاد ودہریت غفلت وبدعملی امت پر اپنا سایہ ڈالتی چلی جاتی ہے‘ اگر امت نے کمال چابک دستی‘ سبک رفتاری‘ بلند ہمتی‘ عزم راسخ سے اپنی جملہ استعدادوں‘ توانائیوں ‘ ظاہری وباطنی مادی وروحانی قوتوں کو‘ حفاظتِ دین‘ اعلاء کلمة اللہ اور دعوت وتبلیغ ‘ افراد امت کی شخصی واجت
