منگل, جولائی 9, 2013

نظام خلافت۔ چند ضروری باتیں

دوستوں کے ساتھ خلافت کے موضوع پر   بلاگز پر  ہونے والی اختلافی  ابحاث   میں  موضوع پر بہت سے اہم نقاط سامنے آئے اور ان پر تحقیق کرنے اور لکھنے کا موقع ملا ، سچ بات ہے کہ اختلا ف کے پیچھے جب اخلاص   ہو تو اس سے فائدہ  بھی  ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر اصولی اختلاف  کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے ہر جگہ بحث برائے بحث ،  میں نہ مانوں کی رٹ   اور تنقید بلکہ تنقیص برائے تنقیص  کا  فیشن  ہے  ، چاہے کسی مسئلہ کی حقیقت کا علم ہو یا نہ ہو ہر شخص اس میں بھی   اپنی رائے  دینا ضروری سمجھتا ہے  اور  عموما اختلاف  رائے   کی وجہ  بھی کوئی علمی  غلطی یا کنفیوزین    نہیں بلکہ  ذاتی خواہش اور پسند نا پسند ہوتی ہے  ۔ ایک طبقہ کا  ذہن یہ بھی ہے  کہ ہر قسم کی  تنقید  اور اختلاف فساد  کی جڑ ہے ہے، اختلافِ فکر   ہی   اتحاد عمل میں مانع ہے، اس کو باہمی توقیر واحترام  کے خلاف سمجھا جاتا ہے بلکہ  رینڈکارپوریشن  نے  تو رواداری  اور اتفاق کا نیا نسخہ  یہ دیا  ہے کہ دراصل اس وقت دنیا میں خرابی، بدامنی اور کشمکش کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسلام یہ کہتا ہے کہ وہی صحیح ہے  ، اس لیے  مسلمانوں  سے مطالبہ ہے کہ آپ یہ نہ کہیں۔ بلکہ یہ کہیں کہ سب صحیح ہیں جو چاہے اپنا لو۔اس کے لیے بھی مسلمانوں میں ایک تحریک  اور بحث شروع کی گئی ہے ۔۔حقیقت یہ ہے کہ  اختلاف اورتنقید اپنی اصل میں  کوئی معیوب شے نہیں ہے اسی لیے  شرعی  اختلاف رائے  کو  حدیث میں رحمت بھی  کہا گیا  ہے کہ اس سے مسئلہ کا ہر پہلو نمایاں ہوتا اور ہر زاویہ سے اسکی تحقیق سامنے آتی ہے۔  ویسے بھی جہاں کوئی قطعی بات نہیں ہو گی، بلکہ مختلف طرح کے احتمالات ہوں گے او رکئی آدمی اس پر غور وخوض کر رہے ہوں گے تو وہاں اختلاف رائے کا ہونا ناگزیر ہے۔مجھے خوشی ہے کہ خلافت کے موضوع پر   ہمارے اختلافات  میں ذات کو نشانہ بنانے کے بجائے صرف موضوع پر    اپنا موقف پیش کیا گیا  اسی وجہ سے  بات چیت کا تسلسل قائم ہے ، احقر نے   خلافت کے متعلق    كچھ  اشکالات پر پچھلی چند تحاریر میں بات کی تھی مزید کچھ اشکالات   ہمارے  ایک دوست بلاگر  نے اپنی دو تحریروں خلافت اور سوالات میں   پیش کیے ہیں ،  ان کی وضاحت کے لیے میں خلافت   کی بنیادی باتوں پر  بات   کرنا  ضروری سمجھتا ہوں، کوشش کروں گا کہ   بات آسان الفاظ میں  ہو اور صرف ضروری باتیں ہی کی جائیں۔

مکمل تحریر >>

پیر, جولائی 1, 2013

موجود ہ دور میں نظام خلافت کا راستہ

الیكشن كے دنوں  میں ہمارے ہاں انقلاب  کی ایسی ایسی تعریفیں  اور قسمیں سامنے آئیں کہ عقل  دنگ   ہے۔ ہر سیاسی پارٹی اور اس کے لیڈران نے عوام کے شدید مطالبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک عدد انقلاب کا انتظام کیا اور کوشش کی گئی کہ علاقہ کی عوام کی پسند، ذائقہ کو مدنظر رکھ کر  انقلاب کے لوازمات  ترتیب دیے جائیں، یوں  ہر سو کلومیٹر بعد انقلاب کی ڈیفینیشن کوئی اور سننے کو ملتی ۔ سوشل میڈیا، گلی محلوں، دفاتر غرض ہر جگہ  اس پر بحث و مناظرے دیکھنے کو ملے کہ اصل اورخالص  انقلاب اس وقت کس  پارٹی کے پاس  پایا جاتا ہے اور وہی اصل کیسے ہیں ۔۔ دیکھا جائے تو ہمارے ہاں  انقلاب بھی  ایک سیاسی نعرہ  اور  مذاق بن گیا  ہے ،حالانکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ   انقلاب جو حقیقت میں انقلاب کہلانے کا مستحق  ہے  وہ  بغیر کسی جانی و مالی قربانی کے نہیں  آتا،   یہ ممکن ہی  نہیں کہ قطرہ خون کا نہ بہے اور انقلاب آجائے۔ جس ملک میں   ابتری، بدحالی  جتنی ذیادہ ہوگی وہاں اسے ٹھیک کرنے کے لیے جدوجہد  اور قربانی بھی اتنی ذیادہ دینی پڑے گی ، رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہر ظالم  کے خلاف لڑنا پڑے گا۔اگر  سیکولر  کے بجائے  انقلاب اسلامی  طرز کا ہے تو پھر  صرف اندرونی نہیں بلکہ بیرونی  طاغوت کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گا،   اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے  دس پندرہ سالوں میں اسلام کی  نشاۃ ثانیہ  کے لیے دنیا میں جہاں کہیں کوئی تحریک  اٹھی  اسکو  میڈیا پراپیگنڈہ  کے ذریعے  متشدد ،  انتہاء  پسند،  جہادی، ریڈیکل اسلام اور القائدہ جیسے مختلف الزام لگا کر  یا تو وہاں کی حکومت کے ذریعہ کچل دیا گیا  یا  ان  کو  ڈائریکٹ ہٹ کیا گیا۔ یمن، افغانستان، سوڈان وغیرہ میں یہی ہوا۔ آج کل   ترکی  اور مصر کا  انقلاب   بھی عالمی استعماری قوتوں کو کھٹک رہا ہے۔  حالانکہ دونوں کے انقلاب خالص اسلامی طرزکے  بھی نہیں،  ابھی تک وہ ڈھکے چھپے انداز میں  چند  اصلاحات  کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ان قوتوں کے پاس  ان  پرعراق افغانستان کی طرح مختلف الزامات لگا کر چڑھ دوڑنے کا  کوئی بہانہ  نہیں اور   نہ عراق و افغانستان میں  انہیں جتنی مار پڑ رہی ہے  یہ فی الحال  کسی ایسے ملک پر ڈائریکٹ حملہ کرنا پسند کریں گے، اس لیے  دونوں ممالک  کو غیر مستحکم   کرنے کے لیے  مختلف چالوں، پابندیوں کے علاوہ   ہر معاشرے کے ناسور   ،  ننگ دین ، ننگ ملت نام نہاد روشن خیال   لوگوں اور انکی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو چند بچگانہ  نعرے اور مطالبات پکڑا کر   حکومت کے خلاف  احتجاج پر لگادیا گیا ہے، ملک کےان  ایک فیصد لوگوں کو  مساجد سے بلند ہونے والی اذان کی آوازوں ، زنا اور شراب پر جزوی پابندی ، پورے ملک کو چھوڑ کر  صرف ایک  بے حیائی کے پارک سے  چند درخت کاٹنے  پر اعتراض  ہے۔ تمام دشمنان اسلام الکفر ملۃ واحدہ کی عملی تصویر پیش کررہے  ہیں ،  ہمیشہ کی طرح مغربی میڈیا بھی  کرائے پر لائے گئے چند ہزار  کے احتجاج کو لاکھوں کا احتجاج کہہ کر پیش کررہا ہےاور  جو حقیقت میں لاکھوں لوگ حکومتی موقف کی تائید کررہے ہیں ان کا میڈیا میں کوئی تذکرہ نہیں ۔۔موضوع کی طرف واپس آتے ہیں اگر پاکستان میں اسلامی انقلاب یا  خلافت طرز کی حکومت کے لیے  کوئی کوشش کی جاتی ہے یا اسلامی  شریعت کونافد کیا جاتا ہے تو یہاں  عوام ،    ان کرائے کے ٹٹوؤں اور انٹرنیشنل میڈیا کے علاوہ خود ہمارا اپنا میڈیا  بھی  ملک مفاد  کے خلاف    پہلے سے ایسی کسی بھی " خدمت " کے لیے تیار ہوچکا ہے ،  ضروری ہے کہ اگر کوئی پارٹی ، جماعت   ملک میں  خلافتی نظام یا اسلامی انقلاب کی بات کرتی ہے تو  اسے پہلے اپنے ملک کی عوام کو  ان حالات سے نپٹنے  کے لیےذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا۔۔ اس سلسلے کا کوئی بھی قدم  عوام کی تربیت کے بغیر نافع ثابت نہیں ہوگا  اوراگر عوام کی تربیت اور  ذہن سازی نبوی طریقہ پر نہ کی گئی ،  انکو صحابہ کی طرح ہر قسم  کی قربانی کے لیے تیار نہ کیا گیا تو ملکی  معاشی  مسائل،  داخلی    شورش،  افراتفری ،  بیرونی   معاشی پابندیوں یا کسی جنگی صورتحال  کی وجہ سے  چند ماہ  بعد  ہی  ملک کے اندر سے    اس نظام کے خلاف  آوازیں بلند ہونا شروع ہوجائیں گیں اور حکومت کو  اصل کام کے بجائے ان بغاوتوں میں الجھا  دیا جائے گا ۔حقیقت یہ ہے کہ اسوقت   دنیا میں کوئی بھی اسلامی  ملک ایسا نہیں ہے جس کی عوام  خلافت راشدہ کےنظام کے بعد پیش آنے والے   اندرونی اور بیرونی  حالات  کا سامنا کرنے کی سکت رکھتی ہو اور ہر حالت میں  اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی   رہ سکتی ہو۔

مکمل تحریر >>