ہفتہ، 9 اپریل، 2011

کیا مسلمانوں کی تنزلی کے ذمہ دار دینی مدارس اور علماء ہیں ؟



ایک اردو بلاگر جناب فکر پاکستان نے  ہمیشہ کی  طرح  اپنے بلاگ پر یہاں علماءاور اسلام پر بلاوجہ تنقید کا رستہ نکالتے ہوئے امت کے زوال کا سبب علماءاور مدارس کو ٹھہرایا ۔ میں انکے اٹھائے گئے کچھ پوائنٹس کا جواب دینے چاہتا ہوں۔

میں سمجھتا ہوں کہ فکر پاکستان صاحب جو زبان بول رہے ہیں وہ انکی مجبوری ہے، یہ جس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے متعلق میں بنیاد پرستی یا مذہب پرستی میں بھی لکھ چکا ہوں کہ اس مذہب بیزار طبقہ کا کام ہی ہر جگہ علمائے اسلام کی توہین اور تنقید کی راہ نکالنا ہے۔ آپ ان کی یہ پوسٹ ہی دیکھ لیں جناب فکر پاکستان نے پہلے  فرمایا کہ سقوط بغداد کے وقت علما مناظروں میں مصروف تھے، جب ان سے اس قول مجہول کا ریفرنس مانگا گیا تو انہوں نے ادھر ادھر قلابازیاں مارنی شروع کردیں اور آخر تک اپنی بات کا حوالہ نہیں پیش کرسکتے ۔انکی علمی حیثیت ملاحظہ فرمائیں کہ  علماءکو مسلمانوں کے زوال کا ذمہ دار ٹھہرانے کے دلائل میں مسلم عیاش  حکمرانوں کے حالات گنوانے شروع کردیے۔موصوف نے موضوع سے ہٹ کر جو پوائنٹس اٹھائے انکے متعلق میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

کیا مناظرہ کرنا ناجائز فعل ہے؟

فکر پاکستان صاحب نے علمائے اکرام کا مناظرہ کرنے کو ایسے بیان کیا ہے کہ جیسے یہ کوئی معیوب بات ہے ۔حقیقت میں مناظرہ ایک قرآنی حکم ہے جس کا مقصد گمراہ لوگوں، فرقوں  سے بحث ومباحثہ کر کے انکے غلط نظریات و عقائد کی حقیقت کو  عوام کے سامنے بیان کرنا ہوتا ہے تاکہ عوام بھی گمراہی سے بچ جائیں اور مخالف فرقہ کو بھی ہدایت کی راہ نصیب ہو۔ یہ مناظرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیے اور انکے بعد بھی صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ہر دور کے علمائے حق کرتے آرہے ہیں ۔ امام احمد بن حنبل کا فتنہ خلق القرآن اور مجدد الف ثانی رحمہ کے مسئلہ وحدت الوجوو شہود کےمناظرے  مشہور ہے۔ مطلب مناظرے کرنا کوئی عیب کی بات نہیں۔ 

مدارس سے سائنسدان اور انجنئیر کیوں نہیں تیار ہورہے؟
جناب فکر پاکستان صاحب کو اعتراض ہے کہ علما اور مدارس سائنسدان، انجنیر کیوں نہیں تیار کررہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں آپ کی یونیورسٹیاں علما اور مذہبی سکالر کیوں نہیں  تیار کررہیں۔ جناب  کا سوال ایسے ہی جیسے کوئی کہے کہ IBA, karachi ڈاکٹرز کیوں نہیں تیار کررہی، LUMS , Lahore سے سائنسدان کیوں نہیں تیار ہورہے۔ بھئی جس کا جو شعبہ ہے وہ وہی تیار کرے گی نا۔ مدارس کی ذمہ داری باعلم و عمل مذہبی سکالر تیار کرنے کی تھی، آپ اس پر بات کریں کہ کیا انہوں نے اپنے شعبہ کا حق ادا کیا یا نہیں ؟
جہاں تک مدارس و علما کی جدید تعلیم کا تعلق ہے اس کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مدارس میں جدید تعلیم کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ جامعہ الرشید کراچی جو اپنے شعبہ فلکیات کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور  نے’  علما کے لیے ایم بی اے ڈگری کا سلسلہ شروع کیا ، جس کا تیسرابیج فارغ ہورہا ہے۔ اس طرح اسی مدرسے نے دنیاوی  جدید تعلیم یافتہ  جوانوں کے لیے کلیۃ الشریعہ کے نام سے چار سال میں عالم بنانے کا کورس شروع کیا ۔ اس کا بھی چوتھا بیج چل رہا ہے۔
 کیا یونیورسٹی اور  کالج بھی اپنے جوانوں کو اس طرح کی تعلیم دے رہے ہیں  ؟
 کیا  آج ہمارے ملک کی تباہی کے ذمہ دار سارے طبقے کا تعلق مدارس کے بجائے آپکی کالجوں، یونیورسٹیوں سے نہیں  ہے۔؟

میں سمجھتا ہوں کہ آج اگر ہمارے معاشرے میں اسلام کی تھوڑی سی جھلک نظر آرہی ہے وہ انہی لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنی تمام خواہشوں کو قربان کرتے ہوئے اپنی زندگیاں صرف اسلام کی ترویج و اشاعت و دفاع کے لیے وقف کردیں ہیں۔ میں اپنی بات کی ایک دلیل پیش کرتا ہوں۔ یورپ اور امریکہ میں آج سے ستر، اسی سال پہلے جو مسلمان جا کر آباد ہوئے، آپ آج جا کر انکے حالات دیکھیں، وہاں مدارس و مساجد کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے آج ان میں سے بہت سوں کی  اولادیں مذہب تبدیل کر گئیں ہیں، جو بچے گئے ہیں  ان میں بھی سوائے اسلامی نام کے کوئی مسلمانوں والی علامت نہیں ملتی۔   پچھلے تیس سالوں میں افریقی ممالک میں چالیس فیصد سے زائد مسلمان عیسائی ہوچکے ہیں۔ مسئلہ کیا ہوا ؟ وہاں اسلامی، ایمانی چارجنگ کا نظام میسر نہیں تھا، وہاں علما و مدارس موجود نہیں تھے جو  عیسائی مشنریوں کی اس یلغار کا مقابلہ کرتے۔
علماء کا معاشرے میں کردار
جب سے ذرائع ابلاغ واعلام پر باطل قوتوں اور یہودی دماغوں کا تسلط ہوا،تب سے سچ کو جھوٹ ،جھوٹ کو سچ کہنے ،مکروفریب کو دیانت وامانت کے پیرھن میں پیش کرنے اور نیک کو بد،بدکو نیک کے روپ میں ملفوف کرنے کا گورکھ دھندا روزافزوں ترقی پر ہے۔اس غلط پروپیگنڈے اور تزویری ڈھنڈورے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ”راہنمایان ملت وقوم“ کی کردار کشی اور ان کی خدمات جلیلہ ومفیدہ سے صرف نظر کرکے ان کے وجود مسعود پر انگشت نمائی کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ ان حضرات کی نسبتی کڑیاں اور لڑیاں اس نبی آخرالزماں سے جاملتی ہیں جن کی آمد کی خبر پاکرظلمتوں کواجالوں کی کرن ملی۔جو اپنے بعد نورتوحید کی ضیا پاشی کے لیے ”نفوس قدسیہ“کی ایسی کھیپ وجماعت تیار کرگئے ،جن کے علم کی قندیلوں سے قندیلیں روشن ومنور ہوتی رہیں،جن کے دم سے جہالت کی شب تاریک کے افق پر معرفت کی صبح صادق طلوع ہوتی رہی۔ان کا وجود ہردورمیں ﴿انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون﴾کا مظہر رہا۔”مدینة العلم “صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر علم وآگہی کے” خوشہ چینوں“کو اپنا نائب ووارث قراردے کر امت کے بقیہ طبقات پر ان کی فوقیت وفضیلت کی مہر استناد نقش فرمادی۔

تاریخ سے معمولی شد بد رکھنے والے فرد پر یہ امر مخفی نہیں ہے کہ خلافت بنو امیہ وبنو عباس کے عہد حکمرانی میں ہونے والی اسلامی فتوحات کا سبب جہاں محمدبن قاسم ،عقبہ بن نافع ،موسی بن نصیر اور طارق بن زیادجیسے جرات،بہادری اور غیرت ایمانی کا استعارہ بن جانے والے جرنیل بنے،وہاں ان مفتوحہ ملکوں اور علاقوں میں اسلام کو مکمل نظام حیات کے طور پر منوانے کا سہرا ان مجتہدین اور علمائے ربانیین کے سر جاتاہے ،جن کی نتیجہ خیز کوششوں اور کاوشوں نے دین اسلام کی ابدی ودائمی صداقت پر مہرتصدیق ثبت کی۔ابوحنیفہ ،احمدبن حنبل ،مجدد الف ثانی اور شیخ الہنداسی چمنستان معرفت وآگہی کے وہ گل سرسبد تھے،جنہوں نے اپنے اپنے معاشروں اورادوار میں پائے جانے والے عقائد ورسوم کے مابین حق وباطل ،صدق وکذب اور کھرے وکھوٹے کا فرق وامتیاز لیل ونہار کے تضاد کی طرح دنیاکے سامنے آشکاراکیا۔

آپ صرف برصغیر کے ماضی پر طائرانہ نظر ڈالیں تو اس بت کدہ سرزمین پر اسلام کا پھریرا بلند کرنے والے محمد بن قاسم سے لے کر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تک اور مولانامحمدقاسم نانوتوی سے لے کر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع تک، علماء وصلحاء،مفسرین ومحدثین ،مجاہدین و مبلغین اور فقہاء ومفتیین کی صورت میں ناموں اور کاموں کی ایک ایسی طویل فہرست نظرآئے گی جن کے ایمان وایقان،اخلاص وللہیت،حریت فکراوریقین محکم کی بدولت دنیا بھر میں سینکڑوں مسلمان آج بھی دین و مذہب سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اہل مساجد ومدارس اور ارباب خانقاہ اپنے اوپر عائد ہونے والی پیغمبرانہ نیابت کی ذمہ داریوں کا نہ صرف کما حقہ ادراک رکھتے ہیں، بلکہ اپنی عملی،علمی اور فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر چراغ سے چراغ جلانے کا عمل پو ری آب وتاب سے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اس میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ ”دین قیم“کو تاصبح قیامت اس دھرتی پر قائم ودائم رہناہے۔اس کی نشرواشاعت،حفاظت وصیانت اور موثر دعوت کے لیے ایسے رجال کار کا ہونا ناگزیر وضروری ہے جو معاشرے اور سماج کو شر کے اوہام باطلہ و خیالات فاسدہ کی گلن اور سڑن سے بچاکرخیر کے افکارونظریات صحیحہ کی خوش بواورمٹھاس سے روشناس کراسکیں۔جو باطل کی ملمع سازی کو لباس حق کی شمشیرفاصل سے چاک کرسکیں ۔جن کے کردار میں میانہ روی ،راست بازی اور صداقت شعاری کی شمع فروزاں ہو۔امت کی چودہ سو سالہ نوشتہ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ علوم وحی کے ان وارثوں اور جانشینوں نے زمان ومکان اور حالات کی ادلتی بدلتی اورالٹتی پلٹتی ہواؤں کے دوش بہ دوش چلنے کی بجائے ”قبلہ نما“بن کرملت کی گاڑی کو شاہ راہ ہدایت کی جانب گام زن کرنے کافریضہ مکمل استقامت وعزیمت ،تندہی وجان فشانی اور ہمت وشجاعت کے ساتھ سرانجام دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی جو علامات واخبارات بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک واضح نشانی علم کا اٹھ جانا اور گمراہی کا عام ہوجانا بھی ہے۔

عزیزان من!تھوڑی دیر کے لیے اپنی چشم بیناسے موجودہ زمانے پر نظر عمیق ڈالیے۔دیکھیے،سوچیے اور سمجھیے
․․․․․کیا یہ وہی زمانہ اوردورنہیں ؟جس کے بارے میں مخبرصادق صلی اللہ علیہ وسلم نے آ ج سے چودہ صدیاں بیشترخبردی تھی کہ:”بے شک اللہ تعالی علم کو اپنے قبضہ میں ایسے نہیں لیں گے کہ اسے لوگوں کے سینوں سے نکال لیں ،بلکہ علماء کی موت کی صورت میں علم اٹھایا جائے گا۔یہاں تک کہ کوئی ایک عالم باقی نہیں بچے گا۔پھر لوگ ایسے ”سروں “ کو اپنا پیشوا اور مقتدا بنالیں گے جو نرے جاہل ہوں گے،جن سے سوال کیاجائے گا(دین کے بارے میں)تو عدم علم کی بنیاد پر فتوی دیں گے۔پس وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔“

کیا امریکہ بہادر کو ٹیکنالوجی کے بغیر شکست دینا ناممکن ہے ؟
موصوف فرماتے ہیں کہ امریکہ سے مقابلہ کرنےکے لیے برابر قد کا ہونا لازمی ہے۔ مجھے جناب کی اس بات پر کوئی حیرانگی نہیں ہوئی کیونکہ جناب کے نام نہاد روشن خیال مذہب کے بانی جناب سید پرویزی مشرف صاحب بھی یہی بات کرکے ایک کال پر امریکہ بہادر کے آگے "لمے پیں گئے تھے"۔ انہوں نے بھی یہی باتیں کرنیں ہیں۔ جناب کی اس فلاسفی کو اگر ہمارے نبی بھی حق سمجھتے تو کبھی غزوہ بدر کا معرکہ رونما نہ ہوتا۔ ہمارے سامنے موجودہ دور کی زندہ مثال بھی موجود ہے۔ کل مورخہ 8 اپریل ، 2011 کی پاکستانی اخبارات کی سرخیاں پڑھ لیں ، پاکستانی حکومت کا بیان ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں ناکامی کے ہم ذمہ دار نہیں۔ ۔ ۔ جناب مجھے بتائیں طالبان کے پاس کونسی جدید ٹیکنالوجی ہے ؟، انکے پاس کتنے کروز میزائل ہیں ؟، کتنے جدیدفائڑ طیارے ہیں ؟، وہ کونسی یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے ہیں جو انہوں نے دوسری دفعہ ایک  سپر پاور کو ناکوں چنے چبو ا دیے ہیں، آج اس عالمی دہشت گرد کو وہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا وہ پاکستان کو بیچ میں انوالو کر کے اپنی شرمندگی کو چھپانا چارہا ہے۔

مسلمان حکومتوں  کی تنزلی کے اصل ذمہ دار :
 حقیقت میں مسلمانوں کو ہر دور میں اصل نقصان غداروں نے پہنچایا ہے اس سقوط بغداد کے واقعہ کی وجہ بھی عیاش حکمران اور غدار بنے۔ آج کی طرح اس وقت بھی حکمران سب سے پہلے پاکستان کی نعرہ لگاتے تھے۔ جب بغداد کے ارد گرد کی ریاستیں لٹ رہی تھی تو اس کے حکمران شراب وکباب کی محفلوں میں مصروف تھے اور تاتاریوں کے ساتھ اندر ہی اندر معائدے کرتے ہوئے عوام کو تسلیاں دے رہے تھے کہ ہماری باری نہیں آئے گی۔ آج بھی  تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے ۔ افغانستان کے بعد بغداد دوبارہ لٹ گیا ہے اور ہمارے حکمران بھی وہی رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ اقبال کا ایک شعر پیش کرتاہوں، انہوں نے دو مصروں میں قوموں کے اتارو چڑھاؤ کو بیان کردیا ہے۔

آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر وسناں اول طاؤس ورباب آخر

کہ قومیں جب اٹھتیں ہیں تو انکے ہاں شمشیر و سان کی جھنکار ہوتی ہے اور جب ڈوبتیں ہیں تو ساز ، باجے انکی گٹھی میں پڑ چکے ہوتے ہیں۔تان سین  جیسے مراثی انکےآئیڈیل اور بہادر شاہ اور شاہ رنگلیلا جیسے عیاش انکے  لیڈر  بن چکے ہوتے ہیں۔
آج آپ دیکھ لیں اس قوم کی حالت’  گھر گھر موسیقی ، رقص و لہو و لعب جاری  ہے۔ اب تو ٹیلیویژن ٹاک شو میں اس بات پر اصرار کیا جارہا ہے کہ موسیقی حرام نہیں بلکہ حلال ہے اور محتاط رویہ ہے کہ اسے مباح قرار دیا جائے۔ کچھ منچلوں کا خیال یہ بھی ہے کہ موسیقی اگر عام کردی جائے تو پورے عالم کو دہشت گردی سے نجات مل جائے گی۔ مطلب اب سازندوں اور رقاصاؤں اور اداکاروں کو موقع ملنا چاہیے تاکہ اقوام عالم میں امن قائم ہو سکے۔ آپ ذرا چشم تصور سے دیکھیں کہ بُش کو کسی ملک کو دھمکی دینا ہے تو وہ گٹار ہاتھ میں لئے تھرک رہا ہے۔ فلسطینی اور کشمیری مضراب لئے  اپنے وطن کی یاد میں نغمہ سرا ہیں ، طالبان کے ہاتھ میں کلاشنکوف کے بجائے تنبورہ ہے۔ شہر جل بھی رہا ہو تو کیا’ سیاست دان سارے یا توتالی پیٹ رہے ہیں یا طبلے پر سنگت دے رہے ہیں ۔ ایک طبقہ کے عقیدہ میں ویسے بھی جہاد جیسی اصطلاح خارج از کتاب ہو چکی ہے۔ سو چین کا سانس لیں ، اورناچتے گاتے زندگی گزاریں۔ہر آدمی کم سے کم خونریزی سے تو محفوظ رہے گا۔ موسیقی کے اثرات میں وحشت ہے دہشت تو نہیں۔ امت کو افیم کھلاکے نہ سہی موسیقی کے ذریعہ ہی سلا دیا جائے تاکہ دوسرے آسانی سے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹ ڈالیں۔اور پھر کسی کو کسی کے کاٹنے یا مارنے کی ضرورت بھی کیوں پیش آئے جب کہ وہ پہلے ہی مردہ ہو چکا ہو ، اب مرے ہوئے کو کیا مارنا۔

نہ صورت ہے مسلمانی نہ سیرت ہے مسلمانی
بھلا اس حال میں پھر کیا ہو تم پر فضل یزدانی
رہے ناکام گو تم کر چکے ہر سعی امکانی
مسلمان بن کے دیکھو کامراں پھر ہو بآسانی

مکمل تحریر >>

سوموار، 4 اپریل، 2011

بنیاد پرستی یا مذہب پرستی

ہمارے معاشرے دو قسم کے لوگ اپنی مخصوص نظریہ اور خیالات کی وجہ سے مشہور ہیں ۔
ایک طبقہ اپنی جہالت کی وجہ سے اسلامی نظریہ میں بہت سی خرافات پیدا کیے بیٹھا ہےان کا ایک عقیدہ یہ بھی بن چکا ہے کہ مذہب کے نام پر کسی انسان کا غلاظت میں ڈوب جانا ،ولایت کی نشانی ہے ، چنانچہ ایک کام چور شخص کسی قبر کے قریب بیٹھ جائے اور پورا مہینہ پانی استعمال نہ کرنے کی وجہ سے گندگی میں ڈوب جائے اور حجامت نہ کرنے کی وجہ اسکے داڑھی اور سر کے بال بھی بڑھ جائیں۔وہ کہتے ہیں یہ پیر صاحب ہیں، یہ اللہ کے ملنگ ہیں،پھر  چرس اور افیون کے نشہ میں سارا دن گندگی میں پڑے رہنے کی وجہ سے بالاخر اسکے کپڑے بھی پھٹ کر علیحدہ جائیں ۔ وہ ننگا ہوکر پاگلوں جیسی حرکتے کرنے لگ جائے، وہ لوگ اسے ولایت کی آخری نشانی مانتے ہیں اور کہتے ہیں یہ پہنچی ہوئی سرکار ہے۔ بری امام،داتا دربار،سیہون شریف، اجمیر شریف انہی پہنچی سرکاروں سے بھرے پڑے ہیں۔
دوسرا وہ طبقہ ہے جس کو مذہب سے کوئی سروکار نہیں ، مغرب ہی انکا خدا اور شریعت ہے ۔ یہ مذہب بیزار ، احساس کمتری کا شکار لوگ دن رات انہی کے بھجن گاتے اور ہر جگہ انہی کا درس دیتے نظر آتے ہیں ۔مغرب سے نکلنے والی ہر اصطلاح ، ہر فیشن ، ہر نعرہ ان کے لیے وحی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ لوگ خود کو روشن خیال، موڈریٹ کہتے اور اس پر فخر کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ مغرب کی اداؤں پر ایسے فریفتہ ہیں کہ اگر کوئی ان کے آگے مغرب کے خلاف قرآن وحدیث کا حوالہ دیتے ہوئے بات کردے یا کوئی مسلم فرد یا گروپ کسی بھی اہم مسئلہ، یا نکتہ یا کسی پالیسی پر مغرب کے ساتھ آوازۂ اختلاف بلند کرتا نظر آئے، اُس پر یہ  فورًا ”بنیاد پرست“ کی مہر ثبت کر دیتے ہیں.

آئیے ہم دیکھتے ہیں یہ بنیاد پرستی اصل میں ہے کیا اور اسکی حقیقت کیا ہے۔

”بنیادپرست“ کی اصطلاح سب سے پہلے انیسویں صدی کی ہزاروی (Millenarian) تحریک سے جنم لینے والی امریکی پروٹسٹنٹ تحریک کیلئے استعمال ہونا شروع ہوئی، جوپھر بعد میں علیحدہ طور پر، بیسویں صدی کے آغاز سے ہی امریکہ کی مذہبی و غیر مذہبی زندگی میں دَر آنے والے جدید رحجانات کے بالمقابل استعمال ہونے لگی۔ یہ اصطلاح مذہبی مقالوں کے ایک مجموعہThe Fundamentals سے اخذ کی گئی جو 1909ء کو امریکہ میں شائع ہوا۔
بعد میں یہ اصطلاح کسی مذہب کے بنیادی عقائد سے جمنے اور سیکولرزم سے برأت کی صورت میں دیکھی اور سمجھی جانے لگی۔ دنیا کے تقریباً تمام ہی مذاہب کے پیروکاروں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو سیکولرزم کے سحر سے آزاد ہو کر اپنے اصل مذہب میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ اور سیکولرزم کو محض مسترد کر دینے پر ہی اکتفانہیں کرتے بلکہ اپنے اپنے مذاہب کی روشنی میں اس کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے خود کو منظم کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں، تاکہ اس کے مناسب متبادل تلاش کرسکیں۔ چنانچہ ہر مذہب میں اس کے اپنے اپنے بنیاد پرست پائے جاتے ہیں۔ مثلاً بنیاد پرست یہودی، بنیاد پرست بدھ، بنیاد پرست ہندو، وغیرہ وغیرہ۔ مگر جو بنیاد پرستی ہمیشہ خبروں کی زینت بنی رہتی ہے اور جس کے لیے مغربی دانشور، صحافی اور منصوبہ ساز سب سے زیادہ متفکر و منہمک نظر آتے ہیں وہ صرف اور صرف ”مسلم بنیاد پرستی“ ہے.
”اسلامی بنیاد پرستی“ کی درست تعریف کیا ہونی چاہیے؟ اس کے لیے اب ہم اسے عیسائی بنیادپرستی سے پرکھ کے دیکھتے ہیں:
جو خصوصیات عیسائی بنیاد پرست تحریک کے لیے وجہِ امتیاز قرار دی جاتی ہیں ان میں انجیل کے ایک ایک لفظ کے خدا کی طرف سے نازل ہوا ہونے کا عقیدہ رکھے جانے کے ناتے اس کا ایک قطعی حجت کے طور پر تسلیم کیا جانا، اور اس کے الفاظ کے ظاہری معنی کی پیروی کرنا، نیز مسیح کی بن باپ پیدائش اور قیامت سے پہلے ان کی آمدِ ثانی، (کفار کے) مخلّد فی النار ہونے کا نظریہ، اور (اشاعت مذہب کے لیے) تبلیغی سرگرمیوں کا التزام کیا جانا وغیرہ امور شامل ہیں۔ تقریبا تمام عیسائی اس لحاظ سے بنیاد پرست قرار پاتے ہیں۔
جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے تو ان سب میں قرآن کے بعینہ کلامِ خداوندی ہونے پر کامل اتفاق پایا جاتا ہے۔ قرآنی احکام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی  سنت اور تعلیم پر عمل کو ہی دنیا آخرت کی نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔ اگرچہ عیسائیوں کے ہزاروی نظریے جیسی کوئی خرافات مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی، تاہم یہ سب مسیح کی بن باپ پیدائش کے ساتھ ساتھ ان کے نزولِ ثانی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔یوں بنیاد پرستی کی ”عیسائی شرائط“ پر اگر پرکھا جائے تو تقریباً تمام ہی مسلمان اس طرح لازمی طور پر بنیاد پرست قرار پاتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت پر جمنے قرآن و سنت پر عمل کرنے والے کو بنیاد پرستی کا طعنہ دینے والے کسی کیٹگری میں آتے ہیں۔؟
مکمل تحریر >>