بدھ, ستمبر 12, 2012

مسٹر غلام احمد پرویز- پرانی شراب نئی بوتلوں میں

ہمارے اردگرد منکرین حدیث بنام اہل قرآن  کے فتنے سے  نوتعلیم یافتہ جدید و ماڈرن طبقہ ذیاده متاثر نظرآتا ہے  اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ  لوگ پڑھنے ،  سننے میں خود کو  کسی حد کے پابند نہیں سمجھتے 'مطالعہ کرنے کا ذوق ہوتا ہے، جس کسی کی کتاب بھی ہاتھ لگ جاتی ہے مطالعہ کرلیتے ہیں۔ اہل باطل کی دینی موضوعات پر بھی کتابیں پڑھنے سے دریغ نہیں کرتے، پھر چونکہ انہوں نے نہ  خود دین کو گہرائی میں کسی استاذ سے پڑھا ہوتا   ہے اور نہ مستند علما اور انکی کتابوں سے انکا کوئی تعلق ہوتا   ہے اس لیے  اہل باطل کے مکر کو سمجھ نہیں سکتے اور  ان کی تحریروں سے متاثر ہوجاتے اور آہستہ آہستہ ان کے حامی بن کر انہی کے گروہ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔
اس   فتنہ انکار حدیث کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ اس کے  اصل بانی اور محرک کچھ زنادقہ و ملاحده ، شیعہ و روافض تهے اور کچھ عقل پرست مُعتزلہ ، اسکی تفصیل  ہم پہلے بھی ایک تحریر میں یہاں ذکر کر چکے ہیں ۔ ہندوستان میں اس فتنہ کو پهیلانے اور ابتداء کرنے والے لوگوں میں سرفہرست  سرسید احمد خان ، مولوی چراغ ، عبدالله چکڑالوی ، احمدالدین خواجہ امرتسری ، مولوی اسلم جیراج پوری اور پهر آخر میں اس مشن کا جھنڈا برٹش گورنمنٹ کے محکمہٴ انفارمیشن کے ملازم چوہدری غلام احمد پرویز نے اٹهایا اور کفر وگمراہی کے انتہائ درجات تک اس شیطانی تحریک کو پہنچایا ۔
 غلام احمد پرویز  ایک اعلی پائے کا انشاء پرداز تھا اس  نے بجائے اپنے اس فن سے  اردو ادب کی خدمت کرنے کے  قرآن و حدیث  پر زور آزمائی شروع کی ۔ پہلے حدیث کو عجمی سازش اورتفرقہ کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کا انکار کیا ، خود کو اہل قرآن قرار دے کر لوگوں کو قرآن کی  طرف دعوت دی  اور ولا تفرقو ولا تفرقو کے خوشنما نعرے لگائے  پھر اپنے فن سے قرآن کے ترجمہ کو افسانوی رنگ میں پیش کرنا شروع کیا  ۔ اسکی یہی  ادبی افسانوی زبان میں لکھی گئی اسلامی تحریریں اور نعرے  دین سے دور دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ کی کمزوری بن گئے، ان لوگوں نے قرآن و حدیث کو  خود  گہرائی میں پڑھا نہیں تھااس کے علوم سے واقف نہیں تھے  اس لیے آسانی سے انکے انکار میں اسکے ہم خیال بن گئے  ۔ اس پرویزی مشن کو ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعہ پهیلانے کا ذمہ آج کے دور میں جاوید غامدی اور اس کے ہمنواوں نے اٹهایا ہوا ہے اور بدقسمتی سے دین سے بے خبر ناواقف وجاہل لوگ انہیں بھی دینی واسلامی سکالر کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
پرویزی دین پر ایک نظر
 پرویز اینڈ کمپنی چونکہ اپنے آپ کو اہلِ قرآن کہتے ہیں جس سے یہ تأثر ملتا ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات پر سختی سے کار بند ہیں‘ لہذا عوام الناس کے ذہنوں میں یہ ایک عام تأثر پیدا ہوتا ہے کہ پرویز صرف منکرِ حدیث ہے لیکن وہ قرآنی تعلیمات پر سختی سے کار بند ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے، پرویز جس طرح منکرِ حدیث ہے‘ اسی طرح وہ منکرِ قرآن بھی ہے‘اس نے قرآنی آیات کے اصل ،متعین اور متوارث معانی ومفاہیم کو بدل کر اپنی مرضی کے معانی نکالے ہیں ' اس کے نزدیک اللہ، رسول ،  کلمہ‘ نماز‘ زکوٰة‘ روزہ‘ حج‘قربانی وغیرہ کے بھی وہ معنی نہیں ہیں جوکہ  لغت عرب  اور مسلمانوں میں عہد نبوی سے لے کر تاحال مشہور ومتعارف ہیں ‘  بلکہ اصل معانی وہ ہیں جو تیرہ سو برس بعد صرف اس ایک عجمی مفکر کو سمجھنا  نصیب ہوئے ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں۔

۱- اللہ اور رسول کامطلب :
پرویز صاحب  'لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ' کا ترجمہ کرتے ہیں
 "  قانون صرف خدا کا ہے‘ کسی اور کا نہیں۔ محمد کی پوزیشن اتنی ہے کہ وہ اس قانون کا انسانوں تک پہنچانے والا ہے‘ اسے بھی یہ کوئی حق نہیں کہ وہ کسی پر اپنا حکم چلائے“(سلیم کے نام خط ج:۲‘ص:۳۴)
پرویز کے مطابق عبادت کے لائق تو کسی ہستی کا وجود ہی نہیں‘ ہاں خدا کے نام سے کوئی ہستی ہے جس کا قانون ماننا چاہئے ۔دوسری طرف جناب نبی صلى الله عليہ وسلم سے قرآن کا بیان کردہ ”حق اطاعت وتشریح “ چھین کر ”مرکز ملت“ کے نام سے حکومت وقت کو دے ڈالتے ہیں۔
”قرآن کریم میں جہاں اللہ ورسول کا ذکر آیا ہے‘اس سے مراد مرکز نظامِ حکومت ہے“۔) معارف القرآن جلد 4 صفحہ 263 )
”مرکزِ ملت کو اختیار ہے کہ وہ عبادات ‘نماز‘روزہ‘معاملات‘اخلاق ‘غرض جس چیز میں چاہے رد وبدل کردے“۔ (قرآنی فیصلے ص: ۴۲۴)
پرویز صاحب کا   اصرار ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں ”اللہ ورسول“ کا لفظ دیکھو اس سے مراد صدر مملکت سمجھو، اور سچے خدا اور رسول صلى الله عليہ وسلم کو چھوڑ کر ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرو۔ اسکندر مرزا ہو یا غلام محمد، ناظم الدین ہو یا ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو صدر ضیاء الحق، جونیجو یا بینظیر، جو بھی کرسی نشین اقتدار ہو، اسی کو اللہ اور رسول سمجھو! اسی کے سامنے ڈنڈوت بجالاؤ اور چند ٹکے سیدھے کرنے کے لئے اللہ ورسول سے اطاعت چھین کر برسراقتدار قوت کو دے ڈالوکہ مائی باپ آپ ہی  ہمارے دین کا فیصلہ کریں۔ لا حَولَ ولا قُوة الا باللّٰہِ
ستم یہ کہ اگرایسا نہ کروگے تو نہ ”اسلام طلوع“ ہوگا، نہ قرآنی ربوبیت منظر عام پر آئے گی بلکہ اسلام عجمی سازش کا شکار رہے گا۔ خدا کا غضب ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ و رسول سے مراد ”مرکز ملت“ ہے لیکن ان میں کسی کو بھی اس کے سننے سے قے نہیں آتی۔
پرویز صاحب بڑی چالاکی سے  اطاعت اور تشریح کا حق  رسول سے چھین کر نظام  حکومت یا مرکز ملت کے حوالے کرتے ہیں پھر خود ہی   مرکز ملت یعنی اللہ ورسول   بن بیٹھتے ہیں  اور قرآن کا  اپنی مرضی کے مطابق  ترجمہ و تشریح کرتے جاتے اور اس کی پیروی  نہ کرنے کوقرآن سے دوری،  فرقہ واریت  اور  ظلالت بتلاتے ہیں۔ایک اور جگہ فرماتے ہیں
”رسول کی اطاعت نہیں کیونکہ وہ زندہ نہیں“(اسلامی نظام صفحہ 112)
کوئی اس کے پیروکاروں  سے پوچھے  اگر منتخب رسول کے انتقال کرجانے کے بعد اسکی تعلیمات کی پیروی  نہیں تو پرویز کے مرنے کے بعد اسکی  بکواسات کی پیروی کیوں کرتے ہو ؟

2- دور نبوی  دور وحشت  ہے:
مسلمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام کا سب سے زرین دور عہد مآب  تھا ‘اس زمانہ میں جاہلیت کے اندھیرے چھٹے اور اسلام کا نور چار سو پھیلا‘ خود آنحضرت  نے اپنے زمانہ کو خیر القرون کا لقب دیاہے‘مگر پرویز اس تیرہ سو سال قبل کے زرین عہدکو وحشت کا دور کہتا ہے‘ وہ لکھتاہے:
”آپ (علمأ) اپنی قوم کے دامن پکڑ کر آج سے تیرہ سو سال پہلے کے دورِ وحشت کی طرف گھسیٹ رہے ہیں“(قرآنی فیصلے)

3- انکا ر حدیث
"مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھنے کے لیے جو سازش کی گئی اس کی پہلی کڑی یہ عقیدہ پیدا کرنا تھا کہ رسول اللہ کو اس وحی کے علاوہ جو قرآن میں محفوظ ہے ایک اور وحی بھی دی گئی تھی جو قرآن کے ساتھ بالکل قرآن کے ہم پلہ ہے ۔ یہ وحی روایات میں ملتی ہے"(مقام حدیث جلد 1 صفحہ 421)
" یہ جھوٹ مسلمانوں کا مذہب بن گیا ۔ وحی غیر متلو اس کا نام رکھ کر اسے قرآن کے ساتھ مثل قرآن ٹھہرایا گیا " (مقام  حدیث جلد 2، صفحہ 122)
حالانکہ جس قرآن کی طرف یہ پرویزی اپنی  نسبت کرتے ہیں اسی قرآن میں ہی اتباع اور اطیعوالرسول کے الفاظ پندرہ سے زائد دفعہ آئے ہیں  اور آپ کی اطاعت آپکی  حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ مزید قرآن ہی   حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں  کو وحی(غیر متلو)  قرار دیتا ہے۔
وما ینطق عن الهوی، ان ھو الا وحی یوحی
 آپ صلى الله عليہ وسلم اپنی خواہش سے کوئی بهی بات نہیں کرتے ، یہ (آپ کی باتیں)  تو وحی ہیں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے [53، 3]

4- قرآن  موقف کے خلاف نظریہ ارتقا ء کی تبلیغ اور حضرت آدم علیہ السلام کی ذات کا  انکار
”واذ قال ربک للملائکة انی جاعل فی الارض خلیفة“(البقرہ: ۳۰)
ترجمہ: اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں بنانیوالا ہوں زمین میں ایک نائب۔
پرویزی ترجمہ:․․․” جب زندگی اپنی ارتقائی مناظر طے کرتی ہوئی پیکر انسانی میں پہنچی اور مشیئت کے پروگرام کے مطابق وہ وقت آیا کہ اپنے سے پہلی آبادیوں کی جگہ زمین میں آباد ہو“۔ (مفہوم القرآن ص:۱۲)
یہاں پرویز نے  ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو زبردستی ٹھونسا ہے،پرویز کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کا وجود ہی نہیں تھا‘ انسان مختلف ارتقائی مراحل طے کرکے  بندر سے موجودہ شکل انسانی تک پہنچا ہے۔ایک جگہ لکھتا ہے
”آدم کوئی خاص فرد نہیں تھا‘ بلکہ انسانیت کا تمثیلی نمائندہ تھا‘قصہ آدم کسی خاص فرد کا قصہ نہیں ‘ بلکہ خود آدمی کی داستان ہے‘ جسے قرآن نے تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے الخ“۔(لغات القرآن  جلد 1 صفحہ 214)

5- ملائکہ اور ابلیس کا انکار
”واذ قلنا للملائکة اسجدوا لآدم فسجدو الا ابلیس“ (البقرہ:۳۴)
ترجمہ:․․ اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان۔
پرویزی ترجمہ: ․”اس پر کائناتی قوتیں سب انسان کے آگے جھک گئیں‘ لیکن ایک چیز ایسی بھی تھی جس نے اس کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا‘ اس نے سرکشی اختیار کی‘ یہ تھے انسان کے خود اپنے جذبات‘ جس کے غالب آجانے سے اس کی عقل وفکر ماؤف ہوجاتی ہے“۔ (مفہوم القرآن ص:۱۳)
اگر ابلیس انسان کے اندر کے سرکش جذبات کا نام ہے تو ملائکہ کے سجدہ کے وقت پھر انکار کس نے کیا تھا؟؟؟؟ پرویز نے ملائکہ کا ترجمہ” کائناتی قوتوں“ سے کرکے فرشتوں کے وجود کا انکار کیا ۔دوسری جگہ انہیں نفسیاتی محرکات قرار دیتا ہے۔
”ملائکہ سے مراد وہ نفسیاتی محرکات ہیں جو انسانی قلوب میں اثرات مرتب کرتے ہیں الخ“ (لغات القرآن  جلد 1 صفحہ 244)

6- آخرت، جنت اور دوزخ  کا انکار :
”قرآن ماضی کی طرف نگاہ رکھنے کے بجائے ہمیشہ مستقبل کو سامنے رکھنے کی تاکید کرتا ہے‘ اسی کا نام ایمان بالآخرت ہے“۔(سلیم کے نام اکیسواں خط، جلد 2 صفحہ 124 )
”بہرحال مرنے کے بعد کی جنت اور جہنم مقامات نہیں‘انسانی ذات کی کیفیات ہیں“۔(لغات القرآن جلد1 صفحہ 449 )

7- انکار واقعہ معراج:
جس طرح  مرزا قادیانی کی شیطانی وحی والہام میں عجیب وغریب خرافات وکفریات ہیں اس طرح  پرویز کی تفسیری نکات میں بھی آپ کو اسی طرح کے  لطیفے نظر آئیں گے۔ سورۃ البقرہ کی آیت ( ویسألوُنکَ عن المَحیض )(ترجمہ  :اور تجھ سے پوچھتے ہیں حکم حیض کا) )   پرویز اسکا ترجمہ کرتا ہے'اس کا مطلب ہے سرمایہ دارانہ معاشی نظام جیسے خرافات وضلالات نظرآئیں گے' ۔ اس طرح  سورۃ  بنی اسرائیل  کی پہلی آیت کے حوالے سے لکھتا ہے۔
 ”واقعہٴ اسراء“اگر یہ خواب کا نہیں تو یہ حضور کی شب ہجرت کا بیان ہے‘اس طرح مسجد اقصیٰ سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہوگی‘جسے آپ نے وہاں جاکر تعمیر فرمایا“۔(معارف القرآن جلد 4 صفحہ  732)
دوسروں کو ”ملائیت اور دقیانوسیت کا طعنہ دینے والے پیران نابالغ   بتلاتے ہیں کہ 'مسجد اقصی' سے مراد' مسجد نبوی' ہے۔

8-پرویزی شریعت اور حلا ل حرام
قرآن کی رو سے صرف مردار، بہتا خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام  کی طرف منسوب چیزیں حرام ہیں  ان کے علاوہ کچھ حرام نہیں۔۔ ہمارے مروجہ اسلام میں حرام و حلال کی جو طولانی فہرستیں ہیں وہ سب انسانوں کی خود ساختہ ہیں" (حلال و حرام کی تحقیق ، ماہنامہ طلوع اسلام مئی 1952)
یوں شریعت پرویز میں کتے، بلے،  گدھے،  سانپ، کچھوے، مینڈک، کیڑے سب حلال ہیں۔

9-  نماز کی حقیقت
”وارکعوا مع الراکعین“۔ (البقرة :۴۳)
ترجمہ:․․ ”نماز پڑھو نماز والوں کے ساتھ“   (آیت میں  نماز باجماعت کی تاکید ہے)
پرویزی ترجمہ: ․”اور اسی طرح تم بھی اب ان کے ساتھی بن جاؤ جو قوانینِ خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں“۔ (مفہوم القرآن ص:۱۶)
نماز اور دیگر عبادات کے بارے میں پرویز کی   مزید تعلیمات ملاحظہ فرمائیے۔
”ہماری صلوٰة وہی ہے جو (ہندو) مذہب میں پوجاپاٹ کہلاتی ہے‘ ہمارے روزے وہی ہیں جنہیں مذہب میں برت‘ ہماری زکوٰة وہی شئے ہے جیسے خیرات‘ ہمارا حج مذہب کی یاترا ہے‘ ہمارے ہاں یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے ثواب ہوتا ہے‘ یہ تمام عبادات اس لئے سر انجام دی جاتی ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے‘ ان امور کو نہ افادیت سے کچھ تعلق ہے‘ نہ عقل وبصیرت سے کچھ واسطہ‘ آج ہم اسی مقام پر ہیں جہاں اسلام سے پہلے دنیا تھی“۔ (قرآنی فیصلے ص:۳۰۱ تا ۳۰۲)

10- انکار  زکوٰة
پرویز نے”اقیموا الصلوٰة“ کی باطل اور من گھڑت تشریح کیساتھ اسلام کے دوسرے عظیم الشان حکم ”واتوا الزکوٰة“ کی بھی باطل تاویل کی ہے، زکوٰة کو سرے سے  فرض ہی  نہیں سمجھتا ،اسے ایک ٹیکس قرار دیتاہے:
”زکوٰة اس ٹیکس کے علاوہ کچھ نہیں جو اسلامی حکومت مسلمانوں پر عائد کرے‘اس ٹیکس کی کوئی شرح مقرر نہیں کی گئی“۔ (قرآنی فیصلے ص: ۳۵)

11- انکار معجزات  :
 ”رسول اکرم کو قرآن کے سوا کوئی معجزہ نہیں دیا گیا“۔(معارف القرآن جلد 4 صفحہ  731)

12- قربانی پیسے کا ضیاع ہے:
”قربانی کے لئے مقام ِحج کے علاوہ اور کہیں حکم نہیں اور حج میں بھی اس کی حیثیت شرکائے کانفرنس کے لئے راشن مہیا کرنے سے زیادہ نہیں ہے‘ (پرویز کے ہاں حج کا مفہوم ایک بین الاقوامی کانفرنس ہے)  مقامِ حج کے علاوہ کسی دوسری جگہ قربانی کے لئے کوئی حکم نہیں ہے‘ یہ ساری دنیا میں اپنے اپنے طور پر قربانیاں ایک رسم ہے‘ ذرا حساب لگایئے‘ اس رسم کو پورا کرنے میں اس غریب قوم کا کس قدر روپیہ ہرسال ضائع ہوجاتاہے“۔ (قرآنی فیصلے ص:۶۹)

یہ چند کفریات ”مشتے نمونہ از خروارے“ کے طور پر ذکر کئے گئے، ان میں ہی واضح ہے کہ  پرویز  نے سارا اسلام قرآن ، حدیث، تمام عبادات، تمام احکامِ شرعیہ بیک جنبش قلم ختم کردیئےہیں پھر بھی اصرار ہے کہ اسے اور اسکے ماننے والوں کو مسلمان اور اہل حق کہا جائے ۔تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ  ”ضروریات ِ دین" (جن کا دینِ اسلام سے ہونا قطعی ہے) کا  صریح انکار کرنے والا، ان میں چودہ  سوسال سےراجح  تعبیر کے خلاف تاویل کرنے والایا انکا مذاق اڑانے والا کافر ہوجاتا  ہےجیسے  مرزا غلام احمد قادیانی اپنے  سینکڑوں کفریات کے علاوہ  ختمِ نبوت اور نزولِ مسیح علیہ السلام کے معنی میں تاویل کرنے کی وجہ سے  باتفاق امت کافر ہے اسی  طرح  غلام احمد پرویز  بھی اپنی تحریرات وتالیفات میں کلمہ، نماز، روزہ، حج،   زکوٰة، قربانی ، آخرت وغیرہ کے انکار اور مفہومات بدلنے کی وجہ سے کافر ہوگیااور پاکستان ، سعودی عرب ،کویت‘ بھارت ، جنوبی افریقہ، شام ومصر وغیرہ کے اکابر علماء  پرویزیوں کے عقائد ونظریات کا مطالعہ اور تحقیق کرنے کے بعد ان کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کرچکے ہیں۔

منکرین حدیث دوستوں سے کچھ سوالات :
  1.  آپ احادیث کے ذخیرہ کو عجمی افراد کی کارستانی بتاتے ہوئے آپ امام بخاری  کو ایرانی بتاتے ہیں ،حالاں کہ وہ ایرانی نہیں، بخارا کے باشندے تھے، اگر عجمی ہونا جرم ہے تو آپ کے پرویز سمیت تمام ہندوستانی اکابر بھی ما شا ء الله عجمی ہی ہیں ، پرویز کی تو 'پ' پکار پکار کر ان کے عجمی ہونے کااعلان کر رہی ہے یہ حرف تو عربی حروف میں موجود ہی نہیں۔۔ اب یہ بتائیے کہ عجمی بخاری کی بات ماننا گمراہی کیوں ہے  اور آپ جیسے عجمیوں کی بات ماننا اسلام کیوں  ؟
  2.   آپ ہی بتائیے جن محدثین کی مادری زبان عربی تھی اور ان کی زندگیاں عربوں ہی کے درمیان گزریں، وہ تو بقول آپ کے حدیثیں اکٹھا کرنے کے جرم میں عجمی سارش کے آلہ کار ٹھہرے، لیکن ایک عجمی غلام احمد پرویز جو ساری زندگی زبان عرب سے بھی محروم رہا او رماحول عرب سے بھی محروم رہا ،وہ کیسے مقتدا اور پیشوا بنا دیا گیا؟ کہیں اس کا ظہور اور دعویٰ ہی عجمی سازش تو نہیں؟
  3.  عجیب بات یہ ہے کہ صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے مسلمانوں کا اجماع اور عمل تو آپ کے نزدیک حجت اور درست نہیں اور نہ ہی ان کی اطاعت جائز ہے، چودہویں صدی کے منکرین فقہ وحدیث کی تقلید آپ کے لیے کس وحی کی رو سے جائز ہو گئی؟
  4.  نماز کے طریقہ،  رکعتوں، فرائض و واجبات  کی تعداد کا ذکر قرآن مجید میں نہیں، ان کی تعداد کون اور کیسے مقرر کریں گا؟
  5.  یہ تو انصاف نہیں کہ زکوٰة کی شرح میں تو کمی بیشی کی جاتی رہے اور بے چاری نماز اپنے پرانے طریقے پر رہ جائے۔ کیا آپ یہ حکم دیں گے کہ فارغ مولوی یا صوفی تو فجر کی نماز بیس رکعت فرض پڑھا کریں اور ملازم پیشہ لوگ سائیکل چلاتے ہوئے ہی اشارے سے رکوع سجدہ کر لیا کریں تو ان کی نماز ہو جائے گی؟
  6. آپ کہتے ہیں کہ زکوٰة صرف اسلامی حکومت کو ہی ادا کی جاسکتی ہے، موجودہ حکومتوں کو آپ اسلامی حکومتیں نہیں مانتے۔ اس صورت میں زکوٰة کس کو ادا کی جائے ؟

آخر میں حدیث وسنّت کے بارے میں قرآن مجید سے صرف دو چار آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔
    ﴿وانزل الله علیک الکتب والحکمة﴾
      ترجمہ: اورالله تعالیٰ نے آپ صلی الله علیہ وسلم پر قرآن اورحکمت نازل فرمائی'
     بتائیے حکمت کو کتاب( قرآن) سے الگ کیوں بیان کیا گیا؟ حکمت سے سنت یا حدیث مراد لینا کیوں درست نہیں  ؟
      ﴿یا ایھا الذین آمنوا لا تقدموا بین یدی الله ورسولہ﴾
    'اے مومنوا الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے حکم سے سرتابی نہ کرو'
      رسول صلی الله علیہ وسلم کے حکم کو حدیث کہنا کون سا گناہ ہے؟
منکرین حدیث کے متعلق نبی علیہ السلام کی پیشن گوہی
ترجمہ: ”مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا۔ سن رکھو! مجھے قرآن بھی دیاگیا اور قرآن کے ساتھ اس کے مثل بھی، سن رکھو! قریب ہے کہ کوئی پیٹ بھرا تکیہ لگائے ہوئے یہ کہنے لگے کہ لوگوں! تمہیں یہ قرآن کافی ہے بس جو چیز اس میں حلال ملے اسی کو حلال سمجھو! حالانکہ اللہ کے رسول کی حرام بتلائی ہوئی چیزیں بھی ویسی ہیں جیسی اللہ تعالیٰ کی حرام بتلائی ہوئی۔“
الحدیث. (رواہ ابوداود، دارمی، ابن ماجہ، مشکوٰة ص:۲۹)

اس شہادت کے بعد اہل ایمان کے لئے شک اور تردد کی گنجائش ظاہر باقی نہیں رہتی البتہ جن سے ایمان کی دولت ہی کو سلب کرلیا گیا ہو، کس کے اختیار میں ہے کہ ان کو تشکیک کے روگ سے نجات دلاسکے اور کونسا سامان ہدایت ہے جو ان کیلئے سود مند ہوسکے۔جیسا کہ قرآن خود بتا رہا ہے: ”فَمَا تغنِ الآیات والنُذر عن قومٍ لا یوٴمِنون“ (جن کو ایمان نہیں لانا ہے ان کیلئے نہ کوئی آیت سود مند ہوسکتی ہے نہ کوئی ڈرسنانے والے)۔
الله تعالیٰ ہی سمجھ اور ہدایت نصیب فرمائیں ۔

مکمل تحریر >>

اتوار, ستمبر 9, 2012

تاریخ اسلام میں صحابہ کے کردار کو مجروح کرنے والی روایات پر ایک تحقیق

ہم نے یہاں اپنی تحریر میں  محققین  کی تحقیق اور اسم و رجال کے حوالہ سے لکھا کہ   صحابہ کے اختلافی واقعات کی ایسی تمام روایات  جن سے صحابہ کا کردار مجروح ہوتا نظر آتا ہے اور وہ واضح قرآن وحدیث کی صحابہ کے متعلق گواہی اور تفصیل کا بھی  خلاف ہیں '  سبائی راویوں اور دشمنان صحابہ کی اپنی وضع کردہ ہیں ۔ اس کے  ثبوت  میں ہم  ابو مخنف لوط کی تین روایات پر تجزیہ   پیش کررہے ہیں، جس سے ان لوگوں کا مکر اور طریقہ واردات بھی کھل کر سامنے آجائے گا۔

جنگ صفین اور  واقعہ تحکیم کےمتعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ
واقعہ تحکیم کاپس منظر :۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے کے مسئلے پر  امت دو حصوں میں بٹ گئی  تھی ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان  کے ساتھ صحابہ  کی جماعت کا  یہ موقف تھا کہ  ہم علی رضی اللہ عنہ کی بیعت اس وقت کر یں گے جب  تک عثمان رضی اللہ  عنہ کے خون ناحق کا قصاص  لیا جائے گا ، جب کہ علی رضی اللہ  عنہ کا مطالبہ تھا کہ یہ لوگ بیعت کرلیں پھر بعد میں جب حالات سازگار ہوجائیں گے تو قصاص لے لیا جائے گا۔معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کا موقف یہ تھا  کہ  چونکہ قاتلین عثمان  ہی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت قبول کرنے پر مجبور کرکے سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ملک کے انتظام و تدبیر  اور حضرت علی رضی اللہ  عنہ کے تمام فیصلوں میں وہ پوری طرح دخیل ہیں اسی لئے  حضرت علی رضی اللہ نہ خون عثمان کا قصاص لے پارہے ہیں اور نہ ہی اس صورتحال کے برقرار رہتے ہوئے وہ قصاص لے سکیں گے ، لہذا فتنہ کے سدباب  کی بس یہی صورت ہے کہ یا تو وہ خود قصاص لیکر ان قاتل سبائیوں سے اپنی گلو خلاصی کریں یا پھر ان قاتلوں کو ہمارے حوالہ کردیں تاکہ ہم انکو کیفرکردار تک پہنچا کر پوری ملت اسلامیہ کے زخمی دلوں کو سکون پہنچا سکیں، یہ مطالبات ان بلوائیوں/ سبائیوں/قاتلان عثمان کے لیے انتہائی تباہ کن تھے اس لیے  ان کی ریشہ دوانیوں اور کوششوں سے ان دونوں گروہوں میں اختلاف بڑھتے گئے اور  نہ چاہتے ہوئے بھی ان میں  دو جنگیں  جنگ جمل اور جنگ صفین  ہوگئیں ۔ صفین میں جب جنگ زوروں پر تھی  تو  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نےدونوں طرف ہونے والے مسلمانوں کے اس جانی نقصان سے بچنے  کے لیے  حضرت علی کو قرآن پر مصالحت کی دعوت دی جس کو انہوں نے فورا منظور کرلیا اور دونوں طرف جنگ بندی کا اعلان ہوگیا۔
 اس جگہ ہم نے  تاریخ کی ان مکذوبہ سبائی تفصیلات کو بیان کرنے سے قصدا گریز کیا ہے جن میں بیان کیا گیا ہے  اپنی شکست کو قریب دیکھ کر معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے قرآن  کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے  نیزوں پر بلند کردیا  تاکہ علی کی فوج منتشر ہوجائے اورہم شکست سے بچ جائیں اور یہ کہ علی رضی اللہ عنہ  اس جنگ بندی پر راضی    نہیں تھے ، باربار  اپنی تقریروں   (جن میں معاویہ اور مخالف صحابہ کو منافق اور دھوکے باز کہنے اور   گالیاں دینے کا ذکر ہے )  کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو  جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے اور ابھارتےرہے ، لیکن آپ  رضی اللہ عنہ  کی اپنی جماعت کے سامنے ایک نہ چلی اور آخر بادل  نخواستہ تحکیم  پر رضا مند ہوئے۔ ان روایات  میں  راویوں کا جھوٹ اور بہتان  کئی باتوں سے ظاہر ہے، اسکی تفصیل ان روایات پر تبصرہ میں آگے  آئے گی۔

واقعہ تحکیم :۔
جنگ بندی کے بعد تحکیم ہوئی یعنی کتاب اللہ کے حکم کےمطابق حضرت علی رضی اللہ کی طرف سے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ثالث مقرر ہوئے کہ یہ دونوں کتاب وسنت کے مطابق  نزاعی معاملہ کا جو فیصلہ کریں گے وہ فریقین کے لئے قابل قبول ہوگا۔اس فیصلہ کی شرائط کے متعلق جو ابتدائی دستاویز تیار ہوئیں وہ تاریخ کی سب بڑی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں ہم طوالت سے بچنے کے لیے اس کے بنیادی نکات کو بیان کرتے ہیں۔
1. حضرت علی رضی اللہ اور انکے تمام ساتھیوں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے تمام ساتھیوں کو مساویہ طور پر اہل ایمان تسلیم کیا گیا۔
2. دونوں ثالثوں کی عدالت اور انصاف پر فریقین نے اپنے کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ ایسا فیصلہ کریں  جس سے یہ عارضی جنگ بندی مستقل  اور پائیدار امن کی صورت اختیار کرے اور دوبارہ اختلاف و جنگ کی صورت  پیدا نہ ہونے پائے۔
3. ثالثوں پر  ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ اپنا فیصلہ تحریری طور پر پیش کریں۔
4. شہادت و مشاورت اور دوسرے تمام ضروری مراحل سے گذرنے کے بعد ثالثوں کے فیصلہ سنانے کے لیے  رمضان کا مہینہ مقرر کیا گیا۔

ثالثوں کا فیصلہ :۔
یہ معاہدہ چونکہ خیر القرون  میں نبی کامل کے  تربیت یافتہ   جید اصحاب  کی ان دو جماعتوں کے درمیان ہوا تھا  جن سے پاکیزہ اور لائق تقلید انسانی گروہ کا روئے زمین پر تصور نہیں کیا جاسکتا ،  اس لیے اس  تحکیم کے لیے جس طرح کی بہترین شرائط رکھی گئی  تھیں فیصلہ بھی انہی کے مطابق  آنا یقینی تھا ۔ جبکہ تاریخی روایتوں میں یہاں بات کو بڑے طریقے سے ایک  الگ رخ پر موڑ کر فتنہ کا دروازہ کھول دیا گیا،۔تاریخ اس فیصلہ کی تفصیلات میں ان سبائی راویوں کی روایتوں کی بنیاد پر  کچھ اور ہی کہانیاں سناتی ہے ۔ معاہدہ کی شرائط پرغور کیجیے ان میں کن باتون کو اہمیت دی گئی اور  تاریخ فیصلہ کیا  بتاتی ہے ۔ جنگیں  اور پھرمعاہدہ قاتلان عثمان سے قصاص کےمتعلق ہوا اور  تاریخ میں یہ سبائی روای انتہائی مکاری سے  فیصلہ میں  بالکل الٹ خلافت کا تنازعہ بتاتے ہیں اور پھراپنے غیظ القلب کی تسکین کے لیے اصحاب کا ایک دوسرے کو گالیاں دینا،  برا بھلا کہنا  بتلاتے ہیں   ۔  تاریخ طبری، ان اثیر اور ابن خلدون وغیرہ نے فیصلہ کی جو تفصیلات دیں  ہیں انکا خلاصہ یہ ہے۔
"دونوں ثالث مجمع میں آئےجہاں دونوں طرف چار چار سو اصحاب کرام رضوان اللہ اور  ان کے علاوہ کچھ غیر جانبدار جید صحابہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ  موجود تھے۔حضرت  ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ  تقریر کرنے کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم دونوں اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کو خلافت سے معزول کرلیں، پھر لوگ باہمی مشورہ سے جس کو پسند کریں خلیفہ کی حیثیت سے منتخب کرلیں، لہذا میں علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرکے معاملہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہوں کہ اب آپ جسے چاہیں اپنا نیا امیر بنالیں، اس کے بعد حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ جو کچھ میرے ساتھی نے ابھی کہا اسے آپ لوگوں نے سن لیا کہ انہوں نے اپنے آدمی علی رضی اللہ کو معزول کردیا میں بھی انکی طرح علی رضی اللہ عنہ کو معزول کرتا ہوں اور اپنے آدمی معاویہ رضی اللہ کو خلاف پر قائم رکھتا ہوں۔ یہ سنکر حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو سے کہا  تم نے یہ کیا کیا ؟ خدا تمہیں توفیق نہ دے ، تم نے تو ہمیں دھوکہ دیا ہے  اور گنہگار بنے ، تمہاری مثال تو اس کتے کی ہے جس پر بوجھ لادو تو بھی ہانپے ، اس کے جواب میں حضرت عمرو نے کہا کہ تمہاری مثال اس گدھے کی ہے جو بوجھ ڈھوئے پھرتا ہے۔ دوسرے صحابہ نے حضرت ابوموسی کو طعنے دینے شروع کیے ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ نے کہا کہ ابو موسی تمہارے حال پر افسوس ہے کہ تم عمرو کی چالوں کے مقابلے میں بہت کمزور نکلے، حضرت  عبد الرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابو موسی اگر اس سے پہلے مر گئے ہوتے تو ان کے حق میں ذیادہ اچھا ہوتا "۔ پھر حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ مجمع سے اٹھ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انکو خلافت کی مبارکباد پیش کی ، دوسری طرف حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ اتنے شرمندہ تھے کہ وہ پھر حضرت علی رضی کو منہ بھی نہ دکھا سکے اور سیدھے مکہ چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے کوفہ پہنچ کر  اپنی تقریروں میں مخالف صحابہ کو برا بھلا کہا اور دوبارہ جنگ کی تیاریاں شروع  کردیں۔ لیکن ان کے لوگوں نے انکا ساتھ نہ دیااور خوارج کے فتنے نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے مزید ایک درد سر پیدا کردیا تھا۔

وضا حت طلب امور :۔
1. فیصلہ کی تقریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ  دونوں خلیفہ تھے، پھر حضرت ابو موسی  رضی اللہ عنہ نے دونوں کو معزول کردیا اور عمر و رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو برقرار رکھا،حالانکہ یہ کسی گری پڑی تاریخی روایت سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  نے اس واقعہ سے پہلے یا بعد میں اپنی خلافت کا اعلان کرکے اسکے لیے کسی  ایک شخص  سے بھی  بیعت لی ہو ،  اس کے مقابلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بیعت ہوچکی تھی اور انہیں امیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے تسلیم کیا جا چکا تھا، صرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھ اصحابہ نے فی الحال بیعت نہیں کی تھی ،  وہ بھی اس لیے نہیں کہ وہ خود خلافت کے مدعی تھے بلکہ اس لیے کہ انکا مطالبہ تھا کہ پہلے  قاتلان عثمان غنی سے  قصاص لے لیا جائے پھر ہم بیعت کریں گے،  پھر   معاویہ   رضی اللہ عنہ کو خلافت پر قائم رکھنے اور علی رضی اللہ عنہ کو معزول  کرنے کی داستانیں کس بنیاد پر ؟
2. تحکیم کی دستاویز میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ ثالثوں کا فیصلہ تحریری ہوگا، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ثالثوں نے محض تقریریں کیں ،اگر فیصلہ تحریری شکل میں نہیں تھا تو فریقین کی طرف سے شریک مجلس چار چار سو اصحاب اور ان کے علاوہ دوسرے غیر جانبدار بزرگ  حضرات میں سے کسی نے تحریری فیصلہ کا مطالبہ کیوں نہیں کیا  ؟ روایت   دونوں کا مناظرہ دکھاتی ہے جبکہ  یہاں تحریری فیصلہ پڑھ کر سنایا جانا تھا۔
3.   اس روایت  کے مطابق حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ  کی  (معاذ اللہ) ناسمجھی ،  بیوقوفی  اور  حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی چالاکی  کے باوجود دونوں کا کوئی متفقہ فیصلہ سامنے  نہیں آیا ،  دونوں نے بس ایک دوسرے کو ملامت کی اور کتا گدھا بنایا،   نہ مجمع نے  دونوں کی تقریروں کے بعد  متفقہ طور پر کسی کو منتخب  کیا ۔ پھر وہ کون سا فیصلہ  ہے جس پر حضرت عمرو  رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ کو خلافت کی مبارکباد دی اور حضرت علی رضی اللہ نے اس پر اپنی ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اسے رد کیا ؟
4. اس نام نہاد فیصلہ کے بعد حضرت معاویہ رضی  اللہ نے  اپنی خلافت کی  عام بیعت کیوں نہیں لی ؟ کیا انہوں نے بھی فیصلہ کو رد کردیا تھا ؟۔
5. راوی کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے فیصلہ  کی علی الاعلان مخالفت اور دونوں ثالثوں کو مجرم گردانے کے بعد  شام پر دوبارہ چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع ہوئیں  لیکن خارجیوں کے فتنے نے اپنی طرف متوجہ کردیا۔پھر   حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس کمزوری سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فاعدہ اٹھا کر  کوفہ پر چڑھائی کیوں نہ  کی، اگر وہ خلافت چاہتے تھے تو یہ تو علی رضی اللہ عنہ کو راستے سے ہٹانے کا بہترین موقع تھا، اس ناکام فیصلہ کے بعد جنگ بندی مستقل کیسے ہوگئی،  دوبارہ دونوں میں اختلاف کیوں نہ سامنے آیا ؟
یہ چند امور وضاحت طلب ہیں جو اس وقت تک وضاحت طلب ہی رہیں گے جب تک ان روایتوں کے راوی ابو مخنف لوط بن یحیی کی ان دروغ بافیوں کو صحیح تسلیم کیا جاتا رہے گا  ۔

فیصلہ پر ایک نظر :۔
ان وضاحت طلب امور کے علاوہ  فیصلہ سے پہلے اور فیصلہ کے بعد کے حالات و واقعات کو بنیاد بنا کر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ  اس واقعہ کے متعلق تاریخی کتابوں میں مذکور  ثالثوں کے فیصلے کی یہ تمام تفصیلات قطعا غلط ، گھڑی ہوئی  اور محض اصحاب سے بدظن کرنے کی ایک رافضی سازش ہیں۔اصل فیصلہ مجموعی طور پر انتہائی کامیاب اور فریقین کے لیے قابل قبول اور عام مسلمانوں کے بہترین مفاد میں تھا کیونکہ :
1. دونوں ثالث ناصرف  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  بلکہ بعد کے بھی سارے خلفائے راشدین اور صحابہ کے  قابل اعتماد لوگ تھے اور ان کی فہم فراست، تدبر و سیاست اور فقہ و دیانت  کو دیکھتے ہوئے ان کو ہر دور میں بڑی بڑی ذمہ داریاں اور عہدے عطا کیے گئے تھے ۔یہ بات ناممکن تھی کہ وہ صرف اس ایک مسئلہ میں  فتنہ کا  دروازہ  کھولنے والا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ کرتے ۔
2. اگر ثالثوں  نے اپنی ذمہ داریوں کو قطعا فراموش کرکے اور خدانخواستہ دین و دیانت کو بالائے طاق رکھ کر  یہ غلط فیصلہ دیا ہوتا تو مجلس میں موجود آٹھ سو سے زائد  چیدہ و نمائندہ اصحاب کرام رضوان اللہ  خاموش تماشائی نہ بنے رہتے۔  ایسا تو آج کے گئے گذرے دور میں بھی نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ عہد صحابہ رضی اللہ میں جہاں منبر پر  کھڑے خلیفہ  کو دو چادریں پہننے پر   پوچھ لیا جاتا تھا کہ سب کو  مال غنیمت سے ایک چادر ملی اس نے دو کہاں سے لائیں۔
3. ثالثوں کے تقرر کا مقصد یہی تھا کہ نزاعی مسئلہ ' جنگ کے بجائے امن کے ماحول میں طے ہوجائے اور امت خون خرابہ سے محفوظ ہوجائے، یہ بات واضح ہے کہ ثالثوں کے فیصلہ کے بعد  رفتہ رفتہ کشیدگی کم ہوتی گئی اور پھر  دوبارہ جنگ کی نوبت نہیں آئی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ثالثوں  کے اصل فیصلے (جس کو تاریخ  سے غائب کردیا گیا ) سے فریقین  مطمئن ہوگئے  تھے۔.
4. مزید ابو مخنف لوط  مردود کی ان وضعی داستانوں پر یقین کرنے سے صحابہ کرام جیسی مقدس جماعت کی جو گھناؤنی تصویر ابھرتی ہے وہ تو اپنی جگہ  اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ہوگاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (نعوذ باللہ) وہ بد قسمت انسان تھے  جن کا نہ کوئی سچا ہمدرد اور خیرخواہ تھا  اور نہ   انکی بات کو کوئی تسلیم کرتا تھا  اور  خود  آپ  اس قدر کمزور  قوت فیصلہ  کے مالک تھے  کہ ہر دفعہ  آپ  کو دوسروں کی رائے تسلیم کرنی پڑتی تھی۔آپ  ابو موسی کے بجائے مالک بن اشتر کو ثالث بنانا چاہتے تھے لیکن آپکی  مرضی نہ چلی ، آپ  قرآن کو نیزوں پر اٹھانے کے بعد بھی جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے،  آپ  نے اس کے لیے جوش آور تقریریں کیں اور دین کا واسطہ دیکر بھی جنگ کا حکم دیا اس کے علاوہ تحکیم کے فیصلہ کے   بعد عراق جاکر بھی دوبارہ شام پر چڑھائی کرنے کے لیے اپنے حواریوں کو حکم دیا   لیکن آپ  ایسے کمزور اور مجبور خلیفہ تھے کہ آپ   کے واسطے دینے پر بھی کسی نے آپکی بات نہ ما نی۔
نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات الباطلہ۔

ثالثوں  کی شخصیت
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ  :۔
 واقعہ تحکیم کی بنیاد پر  حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ پر  دو بہتان لگائے جاتے ہیں کہ اول یہ کہ  آپ نہایت مغفل، بیوقوف  اور سفینہ قسم کے آدمی تھے   ، اس لیے  عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آپ کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوگئے ، دوئم حضرت  علی رضی اللہ عنہ کو آپ پر پہلے سے ہی اعتماد نہیں تھا وہ  کسی اور کو ثالث بنانا چاہتے تھے۔
 یہ دونوں باتیں حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کے زندگی کے ریکارڈ کے خلاف ہیں حقیقت میں آپ  وہ شخص تھے جنکی زیرکی ودانائی، تدبر وسیاست، فہم فراست اور فقہ و دیانت داری پر نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ بعد کے سارے خلفا  ئے راشدین نے  بھرپور اعتماد کرتے ہوئے ان کو اہم  علمی ، سیاسی  عہدوں کی ذمہ داری دی تھی ، (انکی تفصیلات تاریخ  اور انکی زندگی پر لکھی گئی کسی کتاب میں پڑھی جاسکتی ہے)۔  پھر  حضرت ابو موسی سے منسوب کوئی ایسا جھوٹا واقعہ  بھی کسی تاریخی کتاب تک میں تحکیم سے پہلے کا نہیں ملتا جس سے انکی سفاہت  پر کچھ روشنی پڑتی ہو بلکہ اس کے برعکس ان کے عبقری صفت ہونے کے ایسے حالات ملتے ہیں  جن سے ان کے صحابہ میں امتیازی مقام کا پتا چلتا ہے۔ پھر اچانک ان  کی بے عقلی اور سفاہت کی باتیں اور ان پر یہ بے اعتمادی  کیسے سامنے آگئی ۔ ؟
سچائی یہ ہے کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ثالثوں کی دستاویز وں میں درج شرائط کی پوری پابندی کرتے ہوئے کتاب وسنت کی ہدایت میں جنگ صفین کے اسباب کا پتا لگایا اور فریقین کے موقف کی خوبیوں  و خامیوں کا جائزہ لیا اور پوری غیر جانبداری کے ساتھ غوروخوض کرنے ، نیز استصواب رائے کےبعد انہوں نے جو فیصلہ دیا   وہ فیصلہ نہ صرف فریقین بلکہ بلا اختلاف تمام مسلمانوں نے تسلیم کیا  ، فیصلہ کی تحریر کا متن تو سبائیوں کی ہاتھ کی صفائی  کی وجہ سے تاریخ میں نہ آسکا ، لیکن فیصلہ کی برکات کو سبائی چھپانے پر قدرت نہیں رکھتے تھے کہ فیصلہ کے بعد نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی  اللہ عنہ کے درمیان کوئی جنگ ہوئی اور نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے خون عثمان کے قصاص کا مطالبہ ہوا اور نہ ہی  حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے انہیں شام کی گورنری سے معزولی کے لیے اصرار  ہوا ۔ اس فتنہ کا پوری طرح سدباب ہوگیا  جس کے لیے ثالثوں کا تقرر ہوا تھا۔
اس شاندار کامیابی کے ہوتے بھلا حضرت ابو موسی کیوں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منہ چھپا کر مکہ جاتے ؟ بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ حضرت ابو موسی کی  یہ بے لوث و مخلصانہ خدمت  اور انکی شاندار کامیابی انکی نسلوں تک  کیلئے سرمایہ افتخار بنی رہی ، چنانچہ   مشہور شاعر ذی الرمہ نے ان کے پوتے  حضرت بلال بن برید بن ابی موسی رضی اللہ عنہ  کی شان میں قصیدہ کہتے ہوئے اس شاندار کارنامہ کا ذکر اس طرح کیا ہے۔
ابوک تلافی الدین و الناس بعد ما
تشاءوا و بیت الدین منقطع الکسر
ترجمہ ؛ آپ کے باپ تو وہ تھے جنہوں نے دین اور اہل دین کی اس وقت شیرازہ بندی کی جب دین کا قصر گرنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔
فشداصارالدین ایام اذرح
وردحروباقد لقحن الی عقرٖ
 انہوں نے اذرح والے دنوں میں دین کے خیمہ کی طنابیں کس دیں اور ان جنگوں کو روک دیا جو اسلام کی نسل منقطع کرنے کا سبب بن رہی تھیں۔

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی ، اسلام کے مایہ ناز جرنیل فاتح مصر اور 'دہاۃ عرب'  میں شمار ہونے والے حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ بھی سبائیوں کی دو طرفہ سازشوں سے تاریخ کی مظلوم شخصیتوں میں شامل ہوگئے۔   جب خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں مصر کی گورنری سے معزول کرکے انکی جگہ حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تو انکے اس فیصلہ پر عمرو رضی اللہ عنہ کی ناراضگی  کولے کر خلیفہ ثالث پر اقرباپروری کا الزام لگانے کے لیے  سبائیوں نے  ان ( حضرت عمرو) کے خوب خوب فضائل بیان کیے، جب یہی  عمر و مسلمانوں کے اختلاف سے پریشان ہو کر افہام تفہیم اور اصلاح کے لیے حضر ت معاویہ  کے پاس شام  گئے اور  انکے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان مصالحت  کے ذریعے  سبائی قاتلان عثمان  سے قصاص لینے کے لیے راہیں ہموار کرنے  کرنے لگئے تو یہی سبائی ان کے دشمن بن گئے ان پر   ناصرف  میدان جنگ میں قرآن نیزوں پر بلند کرانے ، ثالثی کے فیصلے میں عیاری دکھلانے  وغیرہ جیسے بڑے الزام لگا دیے بلکہ ان کواپنی روایتوں میں دوسروں کی زبان سے خوب گالیاں بھی دلوائیں۔ غرضیکہ وہی شخصیت جسے عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہمہ صفات موصوف قرار دیا گیا  اسے ہی  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلاف میں ہمہ عیوب قرار دیدیا گیا۔ یہ ہے سبائیت کا دوہرا معیار  جسے صحیح تاریخی اسلام قرار دیکر جلیل القدر اصحاب رسول کی کردار کشی کی جارہی ہے۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر ثالثی کے فیصلہ میں عیاری دکھلانے کے الزام کی حقیقت اوپر تحکیم اور حضرت موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں بیان کی جاچکی ہے  کہ اس فیصلہ کی دی گئی تفصیلات سب گھڑی ہوئی ہیں۔ آپ  پر سب سے بڑے اعتراض  کا سبب ابو مخنف کی وہ روایت ہے جس میں بتایا گیا ہے  کہ آپ کے مشورہ کے مطابق  ایک جنگی چال کے طور پر جنگ صفین میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  نے لشکر سے قرآن کو نیزوں پر بلند کروایا تاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں پھوٹ پڑ جائے ۔ ابو مخنف کی اس روایت کو لے کر رافضیوں اور نام نہاد سنیوں نے عمر و رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنے دل کی کالک سےکئی کئی صفحے کالے کیے ہیں۔حالانکہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ ابن کثیر میں اس روایت کے ساتھ  اسی واقعہ کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی بھی ایک باسند روایت نقل کی ہے، ان ناقدین اصحاب کواس سبائی کی روایت تو نظر آگئی اسی صفحہ پر یہ روایت نظر نہیں آئی جسے ایک صحابی روایت کررہے ہیں۔
" حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں ہم صفین میں تھے تو جب اہل شام کے ساتھ جنگ خوب زور پکڑ گئی ، شامی ایک ٹیلے پر چڑھ گئے ، پھر حضرت عمر بن العاص  رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ علی رضی اللہ عنہ کی طرف قرآن بھیج کر ان کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دیں، وہ ہرگز انکار نہ کریں  گے، تب قرآن لیکر ایک آدمی  معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے آیا پھر اس نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان  یہ اللہ کی کتاب فیصلہ کرنے والی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں تو اس کا ذیادہ حقدار ہوں ، ٹھیک ہے ہمارے اور تمہارے درمیان یہ کتاب اللہ ہے جو فیصلہ کرے "۔
 حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے جنگ صفین میں شرکت کرنے والے صحابی حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ  کی اس روایت سے پتا چلتا ہے کہ عمر و بن العاص رضی اللہ کے مشورے سے  نہ  تو قرآن کو نیزوں پر بلند  کرکے بے حرمتی کی گئی  ، نہ علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تفرقہ پھیلانے کے لیے اور  شکست سے بچنے کے لیے یہ   ایک جنگی چال تھی  ۔ حضرت عمر و رضی اللہ عنہ کو  اس بات کا احساس تھا کہ   سبائیوں اور قاتلان عثمان نے اپنی جان بچانے کے لیے یہ جنگ  ایک چال کے طور پر  مسلمانوں کے درمیان شروع کروا دی ہے جس سے دونوں طرف مسلمان شہید ہورہے ہیں ،  انہوں نے  مسلمانوں کو  اس بڑے جانی نقصان سے بچانے کے لیے  یہ مخلصانہ کوشش کی اور  ایک آدمی کو قرآن دے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر ان کو یہ پیش کش کی ہم اس فتنہ میں قرآن کو اپنا حکم  بنا لیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کرلیں، جسے  علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر منظور کرلیا کہ میں تو قرآن کے فیصلہ کی طرف دعوت دینے اور اس پر عمل کرنے  کا ذیادہ حقدار ہوں ، چنانچہ بعد میں اسی مشورہ  کے مطابق  واقعہ تحکیم ہوا اور اللہ نے مسلمانوں کو  حضرت عمرہ بن العاص رضی اللہ عنہ کے ذریعے ایک بڑے جانی نقصان اور فتنہ سے بچا لیا۔ 
غور کریں کہ اس واضح  اور ایک صحابی کی مستند روایت کی تاریخ ابن کثیر میں موجودگی کے باوجود  کس طرح ابو مخنف سبائی کی اس داستان  کا انتخاب کرکے گرما گرم سرخیوں کے ساتھ  اسلامی تاریخی کتابوں میں  پیش کیا گیا ہے۔ابو مخنف اپنی گھڑی ہوئی اس روایت میں آگے حضرت علی رضی  اللہ کی ایک تقریر بھی پیش کرتا ہے جو انہوں  حضرت عمر و بن العاص کی اس ' جنگی چال ' کو سمجھ کر  عراق والوں کے  سامنے کی ۔ پڑھیے اور سردھنیے
" یہ معاویہ، یہ عمرو بن العاص، یہ ابن ابی معیط اور حبیب بن مسلمہ اور یہ ابن ابی سرح اور ضحاک بن قیس  نہ اصحاب دین ہیں نہ اصحاب قرآن ، میں انہیں تم سے ذیادہ جانتا ہوں، بچپن سے ان کا میرا ساتھ رہا ہے، یہ بدترین بچے تھے اور بدترین مرد ہیں، انہوں نے قرآن بلند کرنے کی یہ حرکت محض دھوکہ دینے کے لیے کی ہے ، خود انہیں قرآن سے کچھ تعلق نہیں ہے"۔
کیا اس پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ داماد رسول حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے ان جلیل القدر اصحاب  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن ابی معیط رضی اللہ عنہ حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ اور حضرت ضحاک بن قیس  رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتنی بازاری زبان استعمال کی ہو  ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعتماد  یافتہ صحابیوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ دین وایمان سے خارج گردان سکتے تھے ؟ بدترین  بچے اور بدترین مرد کون ہیں   ؟ وہ  کاتب وحی حضرت معاویہ رضی اللہ جن کے لیے حضور نے ھادی ومہدی کی دعا کی ، وہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جنکو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نے غزوہ ذات السلاسل کا کمانڈر مقر ر فرمایا اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ  جیسے اجلہ صحابہ  کو انکی ماتحتی میں جہاد کرنے کے لیے بھیجا اور اپنی وفات تک انہیں عمان کا والی مقرر کیے رکھا  ؟    کیا یہ لوگ اپنے مقصد کے لیے قرآن پھاڑ کر ان کے اوراق نیزوں پر بلند کراسکتے ہیں، کیا ان  کے ساتھ پانچ سو  لوگ اور صحابہ قرآن کی اس طرح بے حرمتی کرسکتے ہیں اور پھر خود حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کے نیزوں پر بلند ہونے کے بعد بھی  ایسی جنگ جاری رکھنے کے لیے تقریر کرسکتے ہیں   جس کے نتیجے میں قرآن کا لوگوں کے پاؤں تلے روندھے جانے کا خدشہ ہو ؟        غور فرمائیں  کہ  یہ سبائی رافضی دروغ گو راوی  صحابہ و اہلبیت کے کردار کو مجروع کرنے کے لیے  کس حد تک گئے ہیں  کہ انہوں نے  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ بھی ایک ایسی تقریر لگادی جو بالکل ان کے شایان شان نہیں۔ اور  پھر حیرت ہے ان سنی مورخین پر جنہوں نے بغیر تحقیق کے ان کہانیوں کو  اسلامی تاریخ کے نام پر اپنی کتابوں میں ذکر کردیا ۔ مزید  حضرت علی رضی اللہ عنہ کیسے  حضرت معاویہ کے خلاف یہ زبان درازی کرسکتے ہیں   حالانکہ تاریخ بتاتی ہے  کہ وہ خودلوگوں کو اس سے روکتے تھے ۔ 
"جنگ صفین کے سلسلے میں جو لوگ حضرت معاویہ کے متعلق زبان درازی کرتے تھے، تو آپ نے انہیں اس سے روک دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے  کہ امارت معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا نہ سمجھو، کیونکہ وہ جس وقت نہ ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے اڑتے ہوئے دیکھو گے ۔
( تاریخ ابن کثیر جلد8 صفحہ 131)
حقیقت میں جنگ صفین کو ختم کروا کر ثالثی کے ذریعے مستقل جنگ بندی کروادینا ہی حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کا وہ کارنامہ تھا جس نے سبائیوں کی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے کی جانے والی ساری محنتوں اور تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا ، اس لیے انہوں نے انہی واقعات کو لے کر انکی کردار کشی کی مہم چلائی ۔افسوس یہ ہے کہ ابو مخنف کے بیانات کو تاریخ طبری کے صفحات میں دیکھ کر بلا تحقیق اسے نقل کرنے والوں نے سبائیوں کے ہاتھ اتنے مضبوط کردیئے ہیں کہ آج یہ روایتیں  ہماری ایف اے ، بی اے، ایم اے کی تاریخ اسلام کی درسی کتابوں میں  بھی بغیر کسی تحقیق و تبصرہ کے اسی طر ح نقل ہوتی آرہی ہیں اور امت کا ایک اچھا خاصہ طبقہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعمد صحابہ حضرت معاویہ، حضرت عمرو بن العاص، حضرت ابو موسی اشعری  رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے سوء ظنی کا شکار ہے۔
اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ یہ ساری داستانیں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ کے کردار کو مجروح کرنے کے لیے وضع کی گئیں ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ہماری اس تفصیل کا مطلب یہ نہیں کہ صحابہ میں اختلاف ہو ا ہی نہیں یا  ان سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی ، ہم اس بات کے  قائل ہیں کہ  صحابہ  معصوم عن الخطا نہیں ہیں ، بعض احادیث   میں بھی انکے اختلاف اور غلطیوں کا ذکر ہے ، ہمارا اختلاف  ان تاریخی روایات پر ہے جن میں  تمام صحابہ  پر کرپشن، اقربا پروری، منافقت،  سیاسی جوڑ توڑ اور کھینچا تانی کے الزامات ہیں۔ قرآن و حدیث تو  تمام صحابہ کے   عادل ہونے پر شاہد ہیں ہی ، تاریخ سے  بھی سیکڑوں مثالیں دیں جاسکتیں ہیں جن سے  یہ واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کا اختلاف شرعیت کے مطابق ہوتا تھا اور ان کا دامن ان گالیوں اور غیر اخلاقی  زبان کے استعمال سے پاک  ہوتا تھاجو  انکے اختلاف کے واقعات میں  سبائیوں راویوں کی  ان روایتوں میں ان کے ذمہ تھونپی گئی ہیں۔ ہمارا یہ موقف ہے کہ   وہ   اختلاف کے اصولوں جو انہیں دین نے سکھائے تھے' کے پوری طرح پابند تھے انکے اختلاف میں بھی امت کے لیے نمونہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ  ہم دیکھتے ہیں  کہ حضرت علی اور معاویہ کے درمیان قاتلان عثمان کے مسئلہ پر اختلاف کے باوجود ادب و احترام کا تعلق تھا ،چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ دینی مسئلے پر فتوی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہی لیتے تھے ۔ مزید شیعہ کی اپنی کتابیں گواہ ہیں کہ حضرت علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہ ، حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ  حضرت معاویہ کا احترام کرتے اور انکے اختلاف کو دینی اختلاف سمجھتے تھے۔ مضمون کی طوالت کے ڈر سے ہم صرف علی رضی  اللہ عنہ کا حوالہ دیتے ہیں۔ شیعہ کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے تمام شہریوں کی طرف گشتی مراسلہ جاری کیا کہ صفین میں ہمارے اور اہل شام کے درمیان جو جنگ ہوئی اس سے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو، ہمارا رب، نبی  اوردعوت ایک ہے ۔ ہم شامیوں  کے مقابلے میں اللہ و رسول  پر ایمان و یقین میں ذیادہ نہیں اور نہ وہ ہم سے ذیادہ ہیں ۔ ہمارا اختلاف صرف قتل عثمان میں ہے ۔( نہج البلاغہ جلد2، صفحہ 114)
اللھم ثبت قلبی علی دینک
مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 5, 2012

تاریخ اسلام میں سبائی روایات کی ملاوٹ کیسے

اسلامی تاریخ  پر لکھی گئی کوئی کتاب  جب کسی مسلمان قاری کے مطالعہ میں آتی ہے تو وہ  قرون اولی اور صحابہ کی زندگی  کے واقعات  کو اسی حسن ظن اور عقیدت کے ساتھ پڑھنا شروع کرتا ہے جو قرآن و حدیث کے ذریعے اس کے ذہن میں  بیٹھی ہوتی ہے، لیکن   آہستہ آہستہ جب تاریخ اپنا رنگ دکھانا شروع کرتی ہے  اور وہ صحابہ کے کردار کو مجروح کرنے والی روایات پڑھتا ہے تو پریشان ہو جاتا کہ   یہ کیسے خیرالقرون کا تذکرہ ہے؟ قرآن نے تو ہمیں بتاتا ہے کہ تم نے   ایمان لانا ہے  تو اس طرح ایمان لاؤ جس طرح یہ صحابہ لائے  تب تمہار ا ایمان قابل قبول ہوگا، اور تاریخ  انہیں بے ایمان ثابت کررہی ہے ۔ ۔ قرآن وحدیث انکی صداقت، شجاعت،  اخلاص، سچاہی،  ہدایت یافتہ ہونے کے سرٹیفکیٹ دیتے نظر  آتے ہیں  (اولئک ھم  الراشدون، مفلحون،  صدیقون  وغیرہ)اور تاریخ ( نعوذ بااللہ)  انہیں چور ، ڈاکو ، مکار،  منافق   اور بد اخلاق ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔  یہ باتیں  اسکے لیے بہت عجیب اوراسکی توقعات کے بالکل برعکس ہوتی ہیں۔ شاید  اس میں قصور  کتاب کے فرنٹ پیج  پرتاریخ کے ساتھ  استعمال کیے گئے لفظ  'اسلام' کا بھی  ہوتا ہے جو قاری کو شروع میں ہی  اعتماد دلا  دیتا ہے اور وہ اسے ایک اسلامی کتاب کے جذبے سے پڑھنا شروع کرتا ہے لیکن پھر سبائی  دروغ گواور کہانی نگاروں  کی تدسیس، واقعہ نگاری اور جذبات نگاری اسے کنفیوز کردیتی  ہے۔ 

تاریخ اسلام کا  گہرائی میں مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ   عبداللہ بن سبا یہودی اور اس کے بد باطن حمایتیوں نےمذہب  عیسائیت کی طرح اسلام کو  بھی ریزہ ریزہ  کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی عقیدت  کے نام پر اتنی خفیہ اور جذباتی تحریک چلائی تھی  کہ اگر اسلام نے قیامت تک قائم نہ رہنا ہوتا اور اس کے ساتھ اللہ کی خاص مدد نہ ہوتی تو یہ بھی اسی اپنے شروع دور میں ختم ہوجاتا۔ ان لوگوں نے خفیہ رہ کر پراپیگنڈہ مہم اس طرز پر چلائی تھی کہ محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے شخص بھی کچھ ہی دیر کے لیے سہی بہرحال ان کے دام میں اس طرح آگئے کہ خلیفۃ المسلمین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قتل کے درپے ہوگئے،  یہ الگ بات ہے کہ توفیق خداوندی انکے معاون رہی اور جلد ہی ان کو اپنے اس شرمناک فعل پر ندامت ہوگئی۔ انہی   افواؤں ،  پراپیگنڈہ  اور مختلف چالوں کے ذریعے مسلمانوں کو بعد  میں   آپس میں لڑوا بھی دیا گیا۔

تاریخ اسلام کی کتابوں میں سبائیوں کی گھڑی ہوئی ان  داستانوں کو کیسے جگہ ملی  ؟
اس اختلافی دور کے واقعات جب بعد میں قلم بندہوئے تو  چونکہ تاریخ اسلامی  میں حدیث کی طرح سند  اور متن کی تحقیق  کا کوئی سلسلہ نا تھا یا جرح و تعدیل کے  کوئی اصول و قوانین لاگو نہ ہوتے  تھے اس لیے  ہر دور اور ہر فرقہ کے لوگوں نے اپنی سمجھ بوجھ اور پسند ناپسند کے معیاروں پر تاریخی  واقعات کو قلم بند کیا جن میں انکی اپنی مرضی و منشا اور حسب دلخواہ تحریف و تبدل کو عمل دخل حاصل تھا،   خصوصا دشمنان اصحاب رسول سبائیوں رافضیوں کو تاریخ میں  انکے بارے میں اپنی  خبث باطنی شو کرنے کابھرپور موقع ملا ، انہوں نے ان ادوار کے بارے  میں اپنی طرف سے کہانیاں ، روایتیں گھڑی کرکے  اور اصل روایتوں میں اپنی پسند کے مطابق  ملاوٹ کرکے اسکی اشاعت کی  ،  انہوں نے   بڑی صفائی کے ساتھ یا تو اصل تاریخی  روایات کو  ہی غائب کردیا   یاان میں  اپنی  مرضی کی باتوں اور خیالات کو اس طرح مکس کیا کہ وہ اصل واقعہ ہی نظر آنے لگیں، پھر جب تاریخ کی بڑی کتابیں مرتب ہوئیں تو مورخین کو  متعلقہ موضوع کے متعلق کوئی روایت کہیں سے ملی انہوں نے مکمل تحقیق کیے بغیر ان کو  اپنی کتابوں میں ذکر کردیا (کیونکہ تاریخ مرتب کرنے میں حدیث کی طرح  راوی اور روایت کی چھان بین  اور تحقیق کی پابندی لازمی نہیں تھی)۔ صحابہ  کےا ختلاف کے متعلق اس قسم کی  روایتیں محمد بن عمر الواقدی ،محمد بن اسحاق،    ابو مخنف لوط بن یحیی، ، محمد بن سائب الکلبی اور اسکے بیٹا ہشام کی وساطت سے تاریخ اسلام کے تمام بڑے مورخین اور مصنفین تک  پہنچی ہیں، پہلے دو کی کتابوں میں کچھ ضعیف روایات موجود ہیں اور باقی تین پرلے درجے کی جھوٹی روایتیں قبول کرنے والے تھے، اسماء و رجال کی  کتابوں میں بھی   ان پر سخت بے اعتمادی کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ لوگ خود روایتیں گھڑتے ہیں ۔ ان راویوں کی تمام روایتوں کو جنکو سب سے پہلے طبری نے اپنی تاریخ میں جگہ دی اور پھر طبری سے نقل در نقل ہو کر تقریبا تما م متداول تاریخی کتابوں میں درج ہوگئیں۔  مطلب صحابہ کے اختلافات کے واقعات کے متعلق تاریخ کی بڑی کتابوں میں موجود ذیادہ تر روایتوں کا ماخذ تاریخ طبری ہے   اور طبری نے  ان واقعات کے متعلق تفصیل خود  ان   پانچ   راویوں  کی کتابوں سے کاپی کی  ہے ۔ آخری تین راویوں نے اپنی کتابوں میں ان واقعات کے سلسلے میں صحابہ کے خلاف مزیدغیر اخلاقی کہانیاں بھی  گھڑ ی ہوئیں  تھیں، خود  طبری  بھی اپنی کتاب میں کئی جگہ لکھتے ہیں  کہ  ابومخنف لوط اور محمد بن عمر  کی کتاب میں اس واقعہ  کے متعلق اور بھی باتیں اور تفصیل  موجود ہیں جو ذکر کے قابل نہیں   ہے۔

ہم  یہ نہیں کہتے  کہ ساری تاریخ اسلام ہی کرپٹ  اور گمراہ کن ہے بلکہ  یہ کہ تاریخ  اسلام میں صحابہ کے واقعات میں جگہ جگہ ذہن کو پراگندہ کرنے والی سبائی  روایات کی ملاوٹ موجودہے جن کو پڑھ کر عام لوگ صحابہ کے بارے میں وساوس کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ان کو پڑھ کربعد کے دور کے کئی سنی محقق بھی سبائیت کی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے حضرت عثمان ،  علی ، معاویہ،  ابوموسی اشعری  اور عمروبن العاص جیسے جلیل قدر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قد ناپنے لگ گئے  ہیں  انہیں اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ محض جھوٹے  سبائی تاریخی حوالوں کی بنیاد پر  وہ کس پر تنقید   کررہے ہیں اور یہ تنقید کتنی خطرناک ہے، اگرصحابہ  کے بارے میں صرف  تاریخ کی بات کو مان لیا جائے توپھر   خمینی کی بات کو بھی ماننا پڑے گا  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن رسالت میں ناکام رہے اانہوں نے تیئس سالہ محنت میں جو لوگوں کی جماعت تیار کی وہ کرپٹ،  منافق، عیار تھے، پھر تو اسلام کے اصلی ماخذ قرآن و حدیث  بھی مشکوک ٹھہریں گے  کیونکہ وہ بھی انہی صحابہ کی وساطت سے ہم تک پہنچے ہیں۔ حقیقت میں سبائیت  ایک ایسا ' معصوم زہر' ہے جو عقیدت کے پردوں سے چھن کر جب ذہن  و دماغ میں سرایت کرتا ہے تو فکرونظر کی تمام صلاحیتوں کو مضمحل بلکہ مفلوج کردیتا ہے اور پھر گل کاریوں کے وہ وہ نمونے سامنے آتے ہیں کہ  حق کے ایک متلاشی کو قدم قدم پر بکھرے  ہوئے کانٹوں سے اپنا دامن  بچانا مشکل ہوجاتا ہے....۔اس قسم کی روایتوں سے پرانی اور نئی ساری تاریخی کتابیں بھری پڑی ہیں،    مثال کے طور پر تاریخ کے موضوع پر سب سے مشہور، مستند اور عام فہم کتاب  اکبر شاہ خان نجیب آبادی کی تاریخ اسلام ہے   ۔وہ بھی اپنی اس کتاب میں     چند ایسی روایتوں کو  بغیر تحقیق  کے نقل  کرگئے ہیں  گو کہ انہوں نے  بعد میں مشاجرات صحابہ پر  جاندار تبصرہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ تاریخ  اسلامی میں سبائی روایات کو جگہ ملنے کی ایک اور وجہ تدسیس بھی ہوسکتی ہے جس پر ایک تفصیلی مضمون ہم پہلے لکھ چکے ہیں ،   جب ان لوگوں نے ہمارے بزرگان دین کی بڑی اسلامی کتابوں میں انکی زندگی میں  اپنے نظریات کی  ملاوٹ کرنے کی جرات کی ہے  تو تاریخ کی کتابوں میں تحریف  و تدسیس کرنا ان کے لیے ذیادہ مشکل کام نہیں تھا۔

سبائی تاریخی روایتوں کی پہچان اور معیار ردوقبول 
  1. جیسا کہ اوپر ذکر کیا کہ   ایسی تمام روایتیں جن سے صحابہ کا کردار مجروح ہورہا ہو وہ ذیادہ تر کذاب راویوں کی روایت کردہ ہوتی ہیں اور  یہ تمام راوی خود روایتیں وضع کرنے اور گھڑی ہوئی روایتوں کو قبول کرنے کے لیے مشہور ہیں اور ابو مخنف لوط بن یحیی کی  تین روایتوں کے تجزیے میں بھی یہ بات بھی   ثابت   ہوچکی کہ اس میں  صحابہ  کے ذمے لگائے جانے والے بہتان اور بد اخلاقیاں، زبان درازیاں اس کی اپنی وضع کردہ ہیں انکی کوئی حقیقت نہیں ، اس لیے ان راویوں کی  کسی روایت پر یقین نہیں کرنا چاہیے
  2.  تاریخ کی   بڑی کتابوں کے اردو تراجم میں عام طور پر راوی کا تذکرہ نہیں کیا گیا   اس لیے ان راویوں  کی روایتوں کو مضمون سے بھی پہچانا جا سکتا ہے۔ ہر تاریخی روایت جس میں صحابہ کی طرف کرپشن، منافقت،  زبان درازی، مکاری  منسوب کی گئی  ہو، وہ ذیادہ تر انہی سبائیوں کی گھڑی ہوئی ہیں  ۔ اس لیے ایسی روایت کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے جس سے صحابہ کرام  کا کردار مجروح ہو رہا ہو کیونکہ یہ لوگ خود مجروح  اور کرپٹ ہیں ۔  
  3.  راوی اور روایت کی  پہچان کےعلاوہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے بیٹے  عطاء المحسن بخاری صاحب   نے روایات کے معیار ردو قبول کا عوام کے لیے   ایک اور بالکل آسان طریقہ لکھا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:۔
" تاریخ کو قبول کرنے کے لیے مجھے قرآن  وحدیث کی طرف رجوع کرنا پڑے گا، اسکی جو روایتیں قرآن وحدیث  کی تعلیم کے مطابق ہونگی میں انہیں بڑی محبت سے قبول کروں گا  اور جو روایتیں، حکایتیں، رذالتیں، قباحتیں قرآن وحدیث سے ٹکرائیں گی میں انہیں نہ صرف رد کروں گا بلکہ اپنے پاؤں میں مسلوں گا ، کیونکہ وہ تاریخ نہیں جھوٹ ہے ، تہمت ہے ، بہتان اور دشنام ہے اور انسانیت سے گری ہوئی باتیں ہیں، تاریخ کے حوالے دے کر صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم پر تبراہ کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بھی محفوظ نہیں ہے  کیا اس سے بہتر نہیں کہ تاریخ کی اندھی (رافضی) عینک سے اصحاب مصطفی کی عیب چینیوں کی بجائے قرآن وحدیث سے انکی فضیلتوں اور قدرومنزلت پر نگاہ کی جائے ۔ (اگر یہ لوگ قرآن وحدیث کی اصحاب کے بارے میں دی گئی شہادتوں کو پس پشت ڈال کر  محض تاریخی روایتوں کے ذریعے ان  پر نکتہ چینی جاری رکھتے ہیں  تو ) ایسے نام نہاد 'تاریخ دان' ہمارے نزدیک 'تھوک دان' کے برابر بھی اہمیت نہیں رکھتے"۔
اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔

مکمل تحریر >>

منگل, جولائی 31, 2012

ڈاکٹر عافیہ کی ایک عجیب تقریر



 مغربی ملک میں جاکر جدید تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی کے  ایسے خیالات  ۔ ۔
 اسلامی تاریخ کا اتنا مطالعہ  ۔ ۔
 نیورو سائنس میں (PhD) کی سند حاصل کرنے والی لڑکی کی  قرآن پر اتنی گہری نظر ۔ ۔
 دین اور صحابہ صحابیات  کے ساتھ اتنی محبت  ۔ ۔ ۔
اپنے دین کے اوپر اور اپنی انفارمیشن کے اوپر  اتنا اعتماد۔۔
 ایسے نپے تلے الفاظ میں  فی البدیع تقریر۔ ۔
عجیب صفات کی مالک تھی یہ بہن۔۔ ۔
 یہ حقوق نسوان پر ہی تقریر نہیں، اسلامی خاندانی زندگی پر ایک بہترین مقالہ ہے۔ ۔

  کیبل کے  فلموں، ڈراموں  کے ماحول میں ایسی پاک بیٹیاں  اب کہاں مائیں جنیں گی ۔۔ ؟
اللہ ہمیں معاف فرمائے ہم بحثیت مجموعی اس عورت کے مجرم ہیں۔

مکمل تحریر >>

جمعرات, جولائی 12, 2012

ایک قادیانی لطیفہ

سورۃ الاحزاب کی آیت  ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبین میں لفظ خاتم النبین  کے  مطلب کے متعلق قادیانی جماعت کا موقف ہے
"خاتم النبین کا معنی "نبیوں کی مہر" یعنی پہلے اللہ تعالی نبوت عنایت فرماتے تھے۔ اب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع سے نبوت ملے گی۔ جو شخص رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مہر لگا دیں گے تو وہ نبی بن جائے گا"۔
(حقیقت الوحی صفحہ 97 حاشیہ صفحہ 28،   خزائن جلد 22 صفحہ 100،30  )

جبکہ قرآن وسنت ، صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم، تابعین رحمہم اللہ اور تمام اسلاف امت  کی تفاسیر کے علاوہ  لغت عرب کی تمام کتابوں کا خاتم النبین کے مطلب   آخری نبی ہونے پر اجماع ہے۔ یہ ایک بہت پرانا چیلنج بھی  ہے کہ قادیانی جماعت  اپنی ایجاد کردہ اس تفسیر کا شاہد اوپر گنائے گئے ماخذین میں سے کہیں سے بھی پیش نہیں کرسکی نہ  کرسکتی ہے۔ 
بلکہ خود مرزا قادیانی کی اپنی کتابیں اس تفسیر کو جھٹلاتی ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب تریاق القلوب میں صفحہ 157، خزائن جلد 15، صفحہ 479 پر اپنے متعلق تحریر کرتا ہے۔

"میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی ، جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا  اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا"۔

جب مرزا قادیانی اور خود اسکی جماعت بھی خاتم الاولاد کا ترجمہ آخری ولد کرتے ہیں اور مرزا کو اپنے والدین کا آخری بیٹا مانتے ہیں کہ اس بعد کسی قسم کا کوئی جھوٹا، بڑا، بہرہ، گونگا بیٹا پیدا نہیں ہوا تو پھر خاتم النبین کا بھی یہی ترجمہ انہیں ماننا پڑے کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد کسی قسم کا کوئی ظلی، بروزی، مستقل، غیر مستقل نبی آنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ورنہ ان کے بنائے گئے  خاتم النبین کے معنی "حضور کی مہر سے نبی بنیں گے" کے مطابق خاتم الاولاد کا ترجمہ بھی مرزائیوں کو یہی کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں اب مرزا قادیانی مہر لگاتے جائیں گے اور مرزا قادیانی  کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔
 ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ۔

دوسری بات قادیانیوں نے لکھا ہے کہ یہ مہر اتباع کرنے کے بعد لگے گی۔ جبکہ مرزا قادیانی لکھتا ہے۔

"خدا تعالی نے مجھے اس تیسرے درجے میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میرے کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے " (حقیقت الوحی صفحہ 67، خزائن جلد 22 صفحہ 70 )

لیجیے مرزا نے خود کہہ دیا کہ میں حضور کی اتباع سے نبی نہیں بنا بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔
 جب خاتم النبین کی مہر سے کوئی بھی یہاں تک کہ خود مرزا بھی نبی نہیں بنا تو یہ ترجمہ کرنے کا فاعدہ ؟۔
ان لوگوں نے جہالت اور بے وقوفی کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ حقیقت یہ   ہے کہ والضحی چہرے کے مالک نبی کامل سردار الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ایک کانے دجال کو نبی ماننے کی سزا میں ان لوگوں کی عقلیں ضبط ہوچکی ہیں۔
مکمل تحریر >>

اتوار, مئی 27, 2012

نورانی جال

 ڈاکٹر سرفراز صاحب  ہمارے کالج میں کے سینئر ٹیچر ہیں ، ان  کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کو کسی بھی موضوع پر گفتگو کرنے کا  سلیقہ  آتا ہے اور انکے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے،عام سی بات بھی اپنی مخصوص انداز میں اس طرح کرتے ہیں کہ سننے والے کو مزا آتا ہے۔  اکثر سٹوڈنٹ فارغ اوقات میں ان کے گرد ہجوم لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور انکی مکس قسم کی  باتوں سے معزوز ہوتے رہتے ہیں ،   ڈاکٹر صاحب   امیر فیملی  سے ہیں اور امریکہ میں ساری تعلیم مکمل کی ہے  اس لیےانکی  تہذیب کا بھی بہت اثر ہے، موسیقی کے بہت شوقین ہیں ،  شراب بھی پیتے ہیں  اور نماز روزے کی پراہ نہیں کرتے. . ایک دن بریک ٹائم ہم بھی ان کے ٹھیے پر جا پہنچے،  وہ  مسلمانوں کی معاشرتی خرابیوں پر گفتگو فرما تے ہوئے کافروں کو مسلمانوں سےہر لحاظ سے  بہترقرار دیتے ہوئے اپنے موقف پر دلیلیں دے رہے تھے کہ انگریز  کتنے انصاف پسند اور سلجھے ہوئے ہیں اور یہ  مسلمان  کس طرح ہر  لحاظ سے تباہی کا شکار ہیں، مسلمانوں کی  ہر برائی کا تذکرہ کیا، مسلمانوں کی مختلف  کمزوریوں پر دل سوز انداز میں تبصرہ کرنے کے بعد انہوں نے سیاست کی طرف رخ کیا اور سب بڑے سیاستدانوں کی مٹی پلید کرنی شروع کردی اور پاکستان کی اسلامی  سیاسی جماعتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے چہرے سے غصہ عیاں تھا۔ ایک باریش  لڑکے نے کہہ دیا کہ ڈاکٹر صاحب یہ سب تو اللہ کا عذاب ہے جو ہمارے اوپر ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ہم  میں سے ہر بندہ اس کا ذمہ دار ہے، ہم لوگ خود سوچیں ہم اللہ کی کتنی اطاعت کرتے ہیں اور اسکے کتنے حقوق پورے کرتے ہیں،    ڈاکٹر صاحب نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکی  بات کو کاٹا  اور بولے   بھئ  اللہ نے اپنے حقوق کے بارے میں فرما دیا ہے کہ میں انہیں  معاف کردو گا ،حقوق العباد  معاف نہیں کرو نگا،  ایک تو  تم مولوی لوگ حقوق اللہ کی ہر جگہ بات کرتے رہتے ہو ، حقوق العباد کے بارے میں بولتے ہی نہیں، بھئی حقوق العباد پورے کرو جنت میں کوئی بھی اپنے  نماز روزے  کی وجہ سے نہیں جائے گا  بلکہ اللہ کی رحمت سے جائے ، پھر  (مشکوۃ کی )حدیث کی طرف اشارہ کیا کہ  کہ  ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو بھی محض اس کا عمل جنت میں نہیں  پہنچا ئے گا۔غرض کیا گیا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے؟ فرمایا  ہاں، میں بھی محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ چلا جاؤں گا جب تک  اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے نہ ڈھانک لے۔۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ذاتی 'اعمال' کا بھی بڑے فخریہ انداز سے تذکرہ کیا  کہ میں یہ یہ گناہ کرتا ہوں لیکن  کسی کا حق نہیں مارتا، کسی کے ساتھ ظلم نہیں  کرتا۔ یہ بات کرکے ڈاکٹر صاحب اٹھ کر کلاس میں چلے گئے  اور مجھے عجیب     حیرانگی کی کیفیت میں  مبتلا کر گئے،   مجھے سارا دن افسوس رہا  کہ مجھے وہاں اس پر بات کرنے کا موقع نہیں ملا ،دن اسی بے چینی میں کٹ گیا کہ کیسے ان لوگوں کو سمجھاؤں ۔ ۔ ۔ ان سے تو بات کرنے کا موقع نہیں ملا  ،  گھر آکر اپنے دل  کا  غبار  بلاگ پر نکال دیا کہ 

نغمہ ہائے غم کو بھی اےدل غنیمت جانئے
بےصد ا ہوجائےگا یہ ساز ہستی ایک دن

   اللہ  یہ باتیں  اپنے فضل سے ان لوگوں تک پہنچا دے جو  اپنے خالق  کی  عفو وکرم  کے وعدوں کو سامنے رکھ کر  ناصرف اس کے  ہر حق کو ترک کیے بیٹھے ہیں بلکہ میری طرح  جرت سے    اس کی نافرمانیاں اور گناہ  بھی   کرتے ہیں،  وہ اس بات  کو بھولے بیٹھے ہیں کہ جہاں  اللہ   کی صفت رحمان  اور رحیم بھی ہے وہاں  قہار و جبار بھی ہے، اس  نے جنت مسلمانوں کے لیے بنائی ہوئی ہے ، ایک مخصوص جہنم ایمان والے گناہگاروں کے لیے  بھی بنائی  ہوئی ہے ۔ جن اعمال    نماز روزہ ، حج ، زکواۃ کو لوگ  حقوق العباد کا نعرہ لگا کر بھول چکے ہیں اگر انہیں   اسلامی شریعت سے نکال دیا جائے  تو باقی  کچھ بھی نہیں بچے گا،  اعمال کے تذکرے اور  جزا و سزا پر قرآن کی ہزاروں آیات   اور  حضور کی ہزاروں حدیثوں کو بھی نکالنا پڑے گا،  یہی نہیں مسلم معاشرے کا وصف،  امتیاز اور پہچان بھی بالکل ختم ہوجائے گی ، کیونکہ حقوق العباد تو کافر بھی پورے کررہے ہیں, ، مسلمانوں کی پوری دنیا میں ظاہری  شناخت  تو  یہی اعمال ہیں ۔  ڈاکٹر صاحب نے  اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے حدیث  کے اس حصے   کو بیان ہی نہیں کیا  کہ اللہ چاہےگا تو اپنا حق معاف کردے  اور یہاں یہ تاثر دے گئے  کہ نعوذ بااللہ اللہ  پابند  ہے کہ  وہ  لازمی اپنے حقوق معاف کردے گا  ،   میری ان باتوں کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ حقوق العباد کی کوئی حیثیت نہیں  یا اللہ مسلمانوں کی   بد اعمالیوں کوکسی صورت  معاف نہیں کرے گا، مسئلہ اعتدال اور ضابطے کا ہے۔ حقیقت میں جو  لوگ حقوق العباد  کو چھوڑ کر صرف حقوق اللہ کے کی ادائیگی پر زور دے رہے  ہیں وہ   بھی   اتنی   ہی  گمراہی اور  افراط وتفریط کا شکار ہیں جتنی حقوق اللہ کو چھوڑ کر حقوق العباد میں لگےہوے لوگ۔۔اسلام نے حقوق العباد کو  اہمیت دی ہے لیکن حقوق اللہ کی قربانی پر نہیں ،   حضور صلی للہ علیہ و علی آلہ وسلم  کی ایک حدیث ہے  کہ  لا طاعة لمخلوق في معصية . (متفق عليه) ،جہاں خالق کی نافرمانی کرنی پڑے، وہاں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ 
اللہ کی عبادت کرنا اللہ  کا سب  سے بڑا حق ہے جو کوئی اللہ کے  علاوہ کسی اور کو معبود بنا لے   اللہ اسے کبھی معاف نہیں فرمائے گا (ِانَّ اللّٰہَ لَا یَغفِرَ اَن یُشرِکَ بِہِ۔۔۔) ۔ ہم لوگ اسی شرک خفی میں پڑے ہوئے ہیں، کسی دوکاندار کو نماز کا کہین تو کہتا ہے بچوں کے لیے رزق کمانا بھی عبادت ہے نہ جی، کسی نوجوان کو داڑھی کا کہیں تو کہتا ہے والدین، بیوی ناراض ہوجائے گی ۔ ۔اسی طرح ہر کسی نے  اپنے ہزاروں خدا بنائے ہوئے ہیں جن  کے حکم کو وہ اپنے اصلی خالق و مالک کے حکم پر فوقیت دیتا ہے ، حالانکہ قرآن میں  عبادت  کے اس حق کو ماں باپ کے حق پر بھی فوقیت دیتے ہوئے پہلے لایا گیا  ہے۔ وقضى ربك الا تعبدوا الا اياه وبالوالدين احسانا
 ڈاکٹر صاحب نے  اللہ کی رحمت پر بھی حدیث پیش کی  کہ حضور نے فرمایا کہ سب لوگ اللہ کی رحمت  سے جنت میں جائیں گے۔  اس  پر ایک آیت پیش کرتا ہوں ۔
  والمؤمنون والمؤمنات بعضهم أولياء بعض يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر ويقيمون الصلاة ويؤتون الزكاة ويطيعون الله ۔ورسوله أولئك سيرحمهم الله إن الله عزيز حكيم ۔(9:71 )۔
 اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحمت نازل کرے گا۔ بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔
اللہ نے اس آیت  میں  رحمت کے حقدار   امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والوں، نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے اور سنت پر چلنے والوں کو ہی  ٹھہرا یا ہے ،سوچنے کی بات ہے  جو لوگ ان اعمال کو چھوڑ کر صرف اپنی مرضی کے حقوق العباد پورے کرنے میں لگے بیٹھے ہیں وہ کیسے اللہ کی اس رحمت سے مستفید ہوں گے جس کا تذکرہ اس حدیث میں ہے ۔ بزرگوں سے سنا کرتے تھے  کہ شیطان کےشیطانی جالوں کے علاوہ  نورانی جال بھی ہوتے  ہیں جن کے ذریعے وہ لوگوں کو عبادت کے رنگ میں  گمراہ کرتا ہے آج ان کا تجربہ ہوا کہ کس طرح لوگوں کو شیطان نے اپنے  ان نوارنی جالوں  میں پھنسایا ہوا ہے اور  وہ اپنی بد اعمالیوں کا حدیث کے ذریعے  دفاع کررہے ہیں  ۔ اللہ ہمیں افراط و تفریط سے بچائے۔     

مکمل تحریر >>

ہفتہ, مئی 12, 2012

کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

آج  سائنس و ٹیکنا لوجی نے جس تیزی سے ترقی کی ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں بے شمار ایجادات کا جس طرح نفوذ ہو گیا ہے، اس بنا پر کچھ ایسی فضا بن گئی ہے کہ  یہ  محسوس ہوتا ہے کہ  آپ کو اگر زندگی گزارنی ہے اور کام کرنا ہے تو آپ کے چاروں جانب  یہ چیزیں لازمی موجود ہوں ۔ جدیدایجادات  میں سے بہت سی کے معاشرتی اور معاشی اثرات اتنے  قبیح ہیں کہ مسلم معاشرے تو کجاغیر مسلم معاشرے کے شریف النفس لوگ بھی پریشان ہیں۔ ان میں سے ایک  کیبل  اور موبائل فون ہے ، کیبل  کا حقیقی فاعدہ تو کچھ نہیں، لیکن موبائل  کے فواعد سے سب  واقف ہیں،  اس نے ہمارے  زندگی میں بہت سی جگہوں پر آسانیاں پیدا کیں ہیں۔ لیکن ان  کے رائج  غیر معتدل استعمال نے ہمارے معاشرے کو گندگی کے جس راستے  پر ڈال دیا ہے اس کا انجام ایٹم بم سے بھی تباہ کن ہے۔ اہل نظر دیکھ رہے ہیں کہ یہ  کیبل ٹی وی چینل اور موبائل  نے آہستہ آہستہ خیر وشر کے پیمانےکس طرح بدل ڈالے ہیں،  موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے ایک نئی زبان ، نئی تہذیب ، خبیث رویے ،گناہ گار طرزِ گفتگو، بے ہودہ اشارے، کنارے اور جملے ایجاد کیے گئے ہیں اور  زبان، وبیان کی نزاکت اور لطافت کو اور طرز گفتگو سے نفاست ، طہارت ، شرافت کو بالکل رخصت کر دیا  گیاہے اور  سہولت کے نام پر زبان کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے ۔ ان  ایجادات نے ہر شخص کو بخوشی آمادہ کر دیا کہ وہ ہمہ وقت دنیا کے آفات وآلام سے پُرہنگاموں، شوں شور، شور وشغب، سازشوں، دنیا پرستی، لذت طلبی، موج مستی، زرپرستی، شہوت انگیزی سے اپنی زندگی کا رشتہ خلوت وجلوت میں مسلسل جوڑے رکھے،  موبائل کی گھنٹیوں اور موسیقی نے تو  خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مساجد، خانقاہوں کی پر سکون فضا کو بھی نہیں چھوڑا ۔اب تو  اس کے لغو اثرات مذہبی لوگوں پر بھی اس قدر حاوی ہو گئے ہیں کہ وہ ان مقدس مقامات کی طرف باربار  آنے کے باوجود اپنے فون کی گھنٹی بندکرنا بھو ل جاتے ہیں، جب لوگ دنیا جہاں کے بکھیڑوں سے خود کو نکال کر  رب کے ساتھ ہم کلام ہوئے  ہوتے ہیں فون کی گھنٹی ان مقدس لمحات کو پرزہ پرزہ کر دیتی ہے اور اب تو لوگ فون آجائے تو  مسجد چھوڑ کر   باہر آ کر  گپیں لگانے لگ جاتے ہیں، پھر ہنستے مسکراتے مسجد میں دوبارہ داخل ہوتے نظر ہیں اور   ان کے چہرے پر   خانہ خدا میں گانے بجنے پر ندامت  کے آثار تک نہیں ہوتے  ۔ ۔

اہم بات یہ ہے کہ اس حادثے کا اثر صرف  عوام پر ہی نہیں ہوا  بلکہ  ان  خبیث شیطانوں نے   بڑے بڑے مذہبی لوگوں کو بھی  خاموشی سے بدل کر رکھ دیا ہے ۔ پہلے دور میں شریف گھرانوں کی لڑکیاں گھروں سے کم باہر نکلتی تھیں اس لیے ان کا کسی شر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہی نہیں ہوتا تھا آج ان  موبائل کی کال، ایس ایم ایس کے ذریعےاور فلموں ڈراموں کے ذریعے  غیر لوگ ان کے کمروں میں داخل ہوگئے ہیں،   موبائل  نے انکی  خلوت تک گناہ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔یہ لوگ جب چاہیں ان سے ہر طرح کی باتیں کرسکتے اور انہیں ڈسٹرب کرسکتے ہیں،  اچھے اچھے شریف گھرانوں کے لڑکیاں، لڑکے خلوت جلوت میں  غیر محرموں سے فون پر باتیں اور  میسج کرتے  نظر آتے ہیں۔ وہ لمحات جو ان کے عبادت ، خدمت، آرام میں گزرتے تھے آج  ان  خرافات اور گناہوں کی نظر ہیں  ،  ماں باپ موبائل فون کی آفتوں سے ناواقف ہیں یا بہت سادہ لوح ہیں، اس کے نتیجے میں ایک عجیب نسل پروان چڑھ رہی ہے ،لڑکے لڑکیوں کو آوارگی، آبروباختگی سکھانے کے لیے راتوں کو سستے سے سستے پیکج فراہم کیے گئے  ہیں اور  سونے جاگنے کے اوقات کو زیر وزبر کر دیا گیا  ہے ،  کم عمر لڑکے اور لڑکیاں اسکول، کالج، یونیورسٹی میں ہمہ وقت موبائل فون پر گفتگو کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، اور انکے   یہ محض انجوائے کرنے کے سلسلے رفتہ رفتہ ناجائز جنسی تعلق میں تبدیل ہو کر  بہت جگہوں پر حرامی نسلوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، اس وجہ سے  نجی ہسپتالوں  میں ناجائز حمل کو گرانے کا وسیع کاروبار  بھی عروج پر ہے، جہاں کالجوں کی لڑکیاں اپنے کالج کے لباس میں اسقاط حمل کے لیے قطار لگاتی ہیں اور اپنے زیورات بُندے چوڑیاں دے کر اس گناہ کی قیمت ادا کرتی ہیں او رپھر گھر جاکر والدین سے تھانوں میں ان چیزوں کی  چوری کی رپورٹ لکھواتی ہیں، دوسری  طرف  اس نشے کی خاطر بچیاں ، بچے ماں باپ کے پیسے چراتے ہیں، امیر رشتہ داروں کے گھر میں چوریاں کرتے ہیں، دوستوں کا مال چوری کرتے ہیں اوراگر یہ راستے بند ہو جائیں تو اپنی عزت کا سودا کرنے پر بخوبی آمادہ ہو جاتے ہیں ۔۔

حقیقت میں  یہ محض اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ پوری پلاننگ کے ساتھ تہذیبی  گندگی کے اس  طوفان کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا  ہے جو خاموشی کیساتھ  شیطانیت کو ہر طرف  غالب کرتا جارہا ہے۔شاید یہی وجہ ان  کے کم قیمت اور آسان حصول کی بھی ہے ،  چند سال پہلے کیبل ٹی وی چینل چند شہروں تک محدود تھے اور ‘شوقین’ لوگ ڈش انٹینا استعمال کرتے تھے ، اب اس کے جال کو دوردراز کے دیہاتوں تک پھیلا دیا گیا ہے اور انتہائی غریب آدمی  بھی روز ایک فلم دیکھ کر سوتا ہے۔ یہی حال موبائل کا بھی ہے  کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے شہر سے امریکا چند منٹ کا فون چھ سو روپے میں ہوتاتھا ،اب صرف دس روپے میں ہو رہا ہے، چند برس پہلے کراچی چند منٹ کی کال چالیس روپے میں ہوتی تھی، اب دو سو روپے میں آپ پانچ ہزار منٹ بات کرسکتے ہیں ۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں آٹھ کروڑ موبائل فون زیر استعمال ہیں۔ پاکستان  اس وقت موبائل فون  کی  دنیا کی  بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے ، قیمتی قومی زر مبادلہ کو صرف بولو، بولتے رہو، جوچاہے بولو، کہو اور خوب کہو ، دل کھول کر بولو جیسے احمقانہ فلسفے کے فروغ کی خاطر تباہ کیا جارہا ہے ، وہ لوگ جن کے گھروں میں پیٹ بھر کر کھانامیسر نہیں ہے وہ بھی مسابقت کی دوڑ میں شرکت کے لیے اشتہارات سے  متاثر ہو کر موبائل فون خرید رہے ہیں اوراپنے پاؤں اپنی چادر سے باہر نکال رہے ہیں ۔موبائل اور کیبل کمپنیوں نے نے صرف چند  ہزار افراد کو روز گار فراہم کیا ، لیکن اربوں روپے کا زر مبادلہ بیرون ملک منتقل کیا اور پاکستان کی مذہبی، تہذیبی ،اخلاقی ،اسلامی اقدار کو چند سالوں میں اس طرح تہس نہس کر دیا کہ اب کھربوں روپے خرچ کرکے بھی ان اقدار روایات رویوں کی بحالی ممکن نہیں۔
سب سے  بڑا المیہ  اور نقصان یہ ہورہا ہے کہ  ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ابھی تک ان  کی تباہی کو سمجھ ہی نہیں رہا کہ ان دونوں چیزوں  نے فرد، معیشت، معاشرت، اخلاقیات، ایمانیات کو کس طرح خاموشی سے تباہ کردیا ہے اور تباہی کے دہانے پر لے کر جارہا ہے ، ، ہم اس بارے  سوچنے، اسکو محسوس کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کررہے۔ ہم  نے بخوشی موبائل  اور کیبل کمپنیوں کو اپنی متاع ، معیشت، اوقات، خلوت، جلوت، غیرت آبرو لوٹنے کی غیر مشروط اجازت دے رکھی ہے ۔

میری اس ساری بحث کا مقصد  ہرگزیہ نہیں کہ میں جدید ٹیکنالوجی کے خلاف ہوں اور اسکو چھوڑنے کا کہہ رہا ہوں ،  میں تو اس کے رائج استعمال کی حدود پر بات کررہا ہوں، ضرورت بلکہ اشد ضرورت اس کی ہے کہ ہم  اس معاملے کو سنجیدگی سے  لیں اور اپنی نسل کو بچانے کے لیے کچھ سنجیدہ ایکشن لیں ۔ یہ بات بظاہر مشکل لگتی ہے لیکن  ان چیزوں  کے نتائج ایسے تباہ کن ہیں کہ  اگر ہمیں اس  آگ  سے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانا ہے تو ہمیں لازمی کچھ نہ کچھ قربانی دینی پڑے گی۔ کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں۔
1.    بیس سال سے کم عمر لڑکے ، لڑکیوں  کو موبائل کی مکمل سہولت نہ دی جائے بلکہ اشد ضرورت (مثلا کہیں  سفر پر جائیں  وغیرہ ) کے وقت  مہیا کیا جائے۔ بڑے  بچے ،بچیوں کی مصروفیت ، سوسائٹی  کو چیک کیا جائے اور ان چیزوں کے استعمال میں انہیں حدود کا پابند بنایا جائے  ،مثلا رات   کو سونے کے متعین ٹائم کے بعد ان کے فون بند ہونے چاہیے  وغیرہ وغیرہ۔
2.    گھر میں عورتوں کی ضرورت کے لیے شیئرڈ موبائل رکھا جائے جسے ضرورت کے ٹائم سب استعمال کریں، اس سے وہ غیر معلوم کالوں کی چھیڑ خانی سے بھی بچی رہیں گیں اور ان کا ٹائم بھی فاعدہ مند کاموں میں لگے گا۔
3.    گھر  میں  اگر ٹی وی رکھنا ضروری ہے تو اس کو ایسے کمرے میں رکھا جائے  جہاں سب کا آنا جانا لگا رہتا ہو۔ انٹرنیٹ کے استعمال کے غلط استعمال کو بھی اسی طریقے سے روکا جاسکتا ہے۔
4.    اگر آپ بھائی ہیں تو اپنی بہنوں پر،، اگر بہن ہیں تو  چھوٹے بھائیوں پر، اگر ماں یا باپ ہیں تو اولاد پر نظررکھیں ، اپنا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے انکی  تربیت کریں اور اپنی اگلی نسلوں کو ذہنی اور فکری سطح پر اس قدر مضبوط سوچ دیں کہ وہ اپنے ارد گرد موجوداعتقاد، فکر او رعمل کے فتنوں اور حربوں کو نہ صرف سمجھ سکیں بلکہ خود کو ان سے بچاتے ہوئے اپنے ارد گرد موجود لوگوں میں بھی اس حقیقی اور مضبوط فکر کو منتقل کر سکیں۔ جو چیزیں شریعتِ مطہّرہ نے حرام قرار دی ہیں، ان کی حرمت کودل و جان سے حرام سمجھیں، ان سے نہ صرف اجتناب برتیں بلکہ ان کے اثرات و رذائل سے نئی نسل کو بھی آگاہ کریں۔

امام شاطبی نے الموافقات میں لکھا ہے کہ شریعت کو دین، عقل، نفس، مال اور نسل کی حفاظت مطلوب ہے۔ ہمارا موبائل فون  اور ٹی وی ان سب کا دشمن ہے، اس کے کچھ فوری فائدے اپنی جگہ ہیں ، مزے کی بات یہ ہے کہ فوائد  اگر نہ بتائیں جائیں  تو انہیں خریدے  کون ؟ ، مزید فائدے تو شراب اورسود میں بھی ہیں، اس کا ذکر قرآن نے واضح الفاظ میں کیا ہے او رکہا ہے کہ اس کے نقصانات اس کے فوائد سے بہت زیادہ ہیں، ؟ شر میں بھی بہت سے فائدے ہوتے ہیں لیکن اسلام میں کسی چیز کو قبول یارد کرنے کا اصول فائدہ نہیں، مقاصد شریعہ کا حصول ہے۔ جو شے اس مقصد سے مطابقت رکھے وہ ٹھیک ہے۔
 کیا کیبل ، ڈش اور  موبائل فون مقاصد شریعت کے لیے ساز گار ماحول فراہم کر رہا ہے؟
 کیا اس کے استعمال سے ہمارے دین، عقل ، نفس ، مال اور نسل کی حفاظت ممکن ہے؟
 اگر مقاصد شریعت کی حفاظت اس فون اور کیبل  کے استعمال سے ممکن نہیں ہے تو  ہم  کیوں محض چند غیر ضروری فواعد کے لیے اپنی نسلوں کی تباہی کی قربانی دینے پر تلے بیٹھے ہیں  ؟
 ہمیں اپنی اولاد  بھائیوں اور بہنوں پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے  انہی کی بہتری کے لیے انہیں  چیک کرنا  اور پابند بنانا ہوگا ورنہ ٹیکنا لوجی اور ترقی کے اس سیلاب میں وہ  یونہی بہتے چلے گے اور ہم نے اس کے آگے مضبوط فکر اور یقین کا بند نہ باندھا  تو ہم انکی تباہی کے بڑے ذمہ دار ہونگے اور پھر  ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

مکمل تحریر >>

منگل, اپریل 24, 2012

عقلیات اور فلسفہ کےموضوع پر چند مشہورترین کتابوں کی کولیکشن

اسلام کا پہلا دور وحی کا تھا اور لوگوں نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا،  ان کے سامنے دن رات قرآن نازل ہوتا تھا  اس لیے وہ  لوگ عقلی  دلائل و براہین کا مطالبہ کے بغیر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو  بغیر چوں و چراں  کیے  پورے یقین سے قبول کرلیتے تھے، دوسرا  دور  تبلیغ کا آیا پوری دنیا میں اسلام پہنچا ، تیسرا دور قرآن و حدیث سے مسائل فقہ اخذ کرنے کا آیا، حدیث اور فقہ پر نا صرف مکمل تحقیق کی گئی بلکہ ان کی  تدوین بھی کی گئی،  چوتھا دور تقریبا ہارون رشید کے زمانے میں شروع ہوا جب یونانی اور دوسرے غیر عربی  علوم کا  عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا گیا، یونانی علوم، منطق وفلسفہ وغیرہ کو عربی زبان میں منتقل کیا گیا، اس دوران یونانی فلاسفروں کی عقلی بحثیں اور شکوک و شبہات سامنے آئے،  انکی عقلی  بحثوں کے سامنے کچھ مسلمان علما بھی پھسلتے گئے ، اس عقلی فتنہ نے کس طرح تباہی مچائے رکھی اس پر کچھ بات میں اپنے بلاگ پر یہاں  تھریڈ کے شروع میں  کرچکا ہوں۔ ان علم الکلام کی بحثوں کے نتیجے میں اسلام میں کئی قسم کے عقلی تشریحی  بنیاد پراعتزالی فرقے بھی بنے، ہر چیز اور مسئلہ  میں عقل کے گھوڑے دوڑائے گئے اور  اس وسیع موضوع  پر کافی کچھ لکھا گیا، جب فتنہ کا زور بڑھا تو   مسلمان علما نے اس موضوع کی طرف بھی  بھر پور توجہ دی اور معتزلہ کے ہرعقلی اشکال کا جواب دیتے گئے، جس کے نتیجے میں  یہ معدود ہوتے گئے، بعد میں انکے اشکالات مغربی فلاسفروں نے اپنی کتابوں میں کاپی کیے اوراب  مسلمان ملکوں میں انکے شاگرد  نام نہاد روشن خیال پروفیسر، ڈاکٹر، ضمیر فروش خود ساختہ علما اور  مکی جیسے بلاگر عوام کو الجھانے کے لیےجاٹ رہے ہیں، ہمارے  لوگ اس یک طرفہ بحث کو سنتے پڑھنے کے بعد اس کا اسی طرز میں عقلی جواب نہ پاکر  کنفیوز رہتے ہیں، اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگوں کو اچھے علما میسر ہی نہیں جو انکی راہنمائی کریں اور بہت سے لوگ سستی کی وجہ سے علما سے نہیں پوچھتے اور بہت سے لوگوں کی اس موضوع پر علما سے تحقیق نہ کرانے کی  وجہ ایک یہ بھی ہے کہ اس دور میں علما سوء کو سامنے رکھ کر  علما کے خلاف ایک مسلسل پراپیگنڈے کے بعد سارے اسلامی علوم اور تحقیق کو ہی مشکوک بنا دیا گیا ہے، آج  اپنے طور پر تحقیق کرنے والا نوخیزمحقق  معتزلہ کی  اس بحث کو پڑھ کر سوچتا ہے کہ  یہ اتنی عقلی، سائنسی باتیں ہیں ان  کا جواب یہ دو ٹکے کے جاہل مولوی  کیسے دے سکتے ہیں ، ان کو تو فرقہ واریت اور فتوے لگانے سے ہی فرصت نہیں ملتی ،  یہی  بے اعتمادی بہت سے لوگوں کو  ان  بحثوں میں نہ صرف الجھائے رکھتی ہے بلکہ وہ ایمان و اعمال کو چھوڑ کر دہریت کی  لائن کی طرف چل پڑھتے ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ  دینی اور دنیاوی احکام اور انکی حکمتوں پر اٹھائے گئے ہر قسم کے اشکالات کا ہر دور کے مسلم علما  نےنا صرف جواب دیا بلکہ   حجت تمام کی ہے۔ آج انکی اس موضوع  پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں ،  میں ان  چند اہم کتابوں کے لنک دوں گا  جن  میں عوام کی  سمجھنے کی صلاحیت  کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف طریقے سے اہم موضوعات پر بات کی گئی ہے ۔

مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ  جنہوں نے تدوین فقہ، تدوین حدیث  اور دوسرے  اہم موضوعات پر  مشہور تحقیقی مقالے اور کتابیں لکھی  ہیں'  کی الدین القیم کے نام سے اس موضوع پر بہترین کتا ب ہے ۔ یہ دراصل مولانا کے عثمانیہ یونیورسٹی  میں دیے گئے لیکچروں کا مجمومہ ہے ، اس میں   مولانا نے ابتدائے کتاب میں فلسفے کے چار مشہور سکولوں کے افکار علمی کا تجزیہ فرمایا، پھر ان حقائق غیبی کی گرہ کشائی میں فلسفہ کےعجز ونارسائی اور درماندگی و بیچارگی کی دل نشین الفاظ میں تفصیل بیان کی اور بتایا کہ مغرب کے وہ فلسفی جو  اب سے تین ہزار سال پیشتر کے حکیم دیم قراطیس کے تھوکے ہوئے لقموں کو پھر سے چبا رہے ہیں اور ان مسائل میں اس کے پیدا کردہ شک وارتیاب اور انکار و بے اطمینانی کے مقلد محض ہیں ، کن کن راہوں اور کتنی چال بازی سے دین و ایمان کی سنگین عمارت میں نقب لگانے کی کوشش کرتے ہیں ، مولانا نے ان تمام تمہیدی امور کو بیان کیا ہے جو اصل مسائل کو سمجھنے اور ان مسائل میں دین و ایمان کے فیصلے  کی اہمیت وعظمت کے آگے سر تسلیم خم کردینے میں پڑھنے والوں کی پوری مدد کرتے ہیں  اور ان ہی صفحات میں علم ووہم کے فرق، انسان کے علمی ذرایع، عقل کا حواس سے تعلق، روح و مادہ کی حقیقت ، ان کے متعلق مختلف ارباب فکر کے اختلافات اور آخر میں اس سلسلے میں اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان الجھے ہوئے مسائل کے حل کی  فطری اور بہترین راہ کیا ہے۔


Read Online  /   Download
  ڈاؤنلوڈ کرنے کیلئے رائیٹ کلک کرکے سیو ایز کردیں


علم الکلام اور فلسفہ  پر  مولانا ادریس کاندھلوی صاحب کی کتاب 'علم الکلام' بہت مدلل اور عام فہم ہے ۔ اس میں  مذہب اسلام،  توحید، حدوث عالم، حدوث مادہ و روح، صفات باری تعالی اور مسئلہ تقدیر پر معتزلہ  کے عقلی  اشکالات، جبر اور اختیار،  رسالت، قیامت ، حیات آخرت، ملائکہ وشیاطین ،  مسئلہ نجات وغیرہ کے متعلق پیدا کیے گئے وساوس اور اشکالات کے عقلی ،  مدلل اور عام فہم جواب دیے ہیں اور سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔


Read Online  /   Download


اسلام کی تعلیمات کی عقلی وجہ اور حکمت کے موضوع پر  مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے بھی ایک  کتاب " احکام اسلام عقل کی نظرمیں " لکھی  ہے،  جو میں پہلے بھی   اپنے بلاگ پر یہاں دے چکا ہوں۔

Read Online  /   Download




مولانا کی ایک اور کتاب اشرف الجواب ہے جس میں مستشرقین ، مغرب زدہ  مسلمان طبقہ اور فرقہ باطلہ کے اسلام کے متعلق سات سو سے زائد  اعتراضات و شبہات کے عقلی و نقلی ، جامع اور دلچسپ جوابات دے گئے ہیں۔

Read Online  /   Download


پچھلے چند صدیوں میں  عقل،  فلسفہ اور اسراردین  کے  موضوع پر سب سے بہترین کتاب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حجتہ اللہ البالغہ ہے ۔ مولانا ابو الحسن علی صاحب ندوی رحمہ اللہ اس کتاب کے متعلق تحریر فرماتے ہیں
۔'' شاہ صاحب کی یہ مایہ ناز تصنیف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان معجزات میں سے ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے امتیوں کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے، اور جن سے اپنے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعجاز نمایاں اور اللہ کی حجت تمام ہوئی''۔

کتاب کے مقدمہ میں بھی  اس طرف اشارہ ہے کہ  شاہ صاحب رحمہ اللہ کو ادراک ہوگیا تھا کہ آگے عقلیت پسندی کا دور شروع ہونے والا ہے، جس میں احکام شریعت کے متعلق اوہام وشکوک کی گرم بازاری ہوگی۔ اسی خطرہ کا سد باب کرنے کے لئے آپ نے یہ بے نظیر کتاب لکھی ہے۔ اس میں آپ نے تعلیمات اسلام کو مطابق فطرت اور احکام دینی کو مبنی برحکمت ثابت کیا ہے۔ ہر حکم الٰہی اور امر شریعت کے اسرار ومصالح نہایت بلیغ اور مدلل انداز میں بیان فرمائے ہیں۔ جس سے ایک طرف تو متشککین اور مترددین کے شکوک وشبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے اور دوسری طرف معترضین کے اسلام پر معاندانہ اعتراضات کا منہ توڑ جواب مل جاتا ہے۔ مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ اپنی سرگذشت میں فرماتے ہیں:
 ۔ '' میں اپنی زندگی میں کسی بشر کی کتاب سے اتنا مستفید نہیں ہوا، جس قدر کہ اس کتاب سے خدا نے مجھے فائدہ پہنچایا۔ میں نے اسلام کو ایک مکمل اور مرتبط الاجزاء نظام حیات کی حیثیت سے اس کتاب ہی سے جانا ہے۔ دین مقدس کی ایسی بہت سی باتیں جن کوپہلے میں صرف تقلیداً مانتا تھا، اس جلیل القدر کتاب کے مطالعہ کے بعد الحمد للہ میں ان پر تحقیقاً اور علی وجہ البصیرت یقین رکھتا ہوں ''۔

 علاوہ ازیں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ  اپنی کتاب 'احکام اسلام: عقل کی روشنی'  جس کا اوپر میں نے لنک دیا  ہے'  میں  شاہ صاحب کی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: 
۔'' اس مبحث میں ( یعنی مصالح عقلیہ کے بیان میں) ہمارے زمانہ سے کسی قدر پہلے زمانہ میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب حجة اللہ البالغہ لکھ چکے ہیں ۔ سنا ہے کہ ترجمہ اس کا بھی ہوچکا ہے۔ مگر عوام کو اس کا مطالعہ مناسب نہیں کہ (اصل کتاب) غامض زیادہ ہے( یعنی صرف ترجمہ سے کتاب سمجھ میں نہیں آسکتی )۔

 اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے  مولانا سعید احمد پالنپوری صاحب  نے اس کتاب کی شرح لکھی ، انہوں نے پہلے  یہ کتاب  دارالعلوم دیوبند میں کئی  سال پڑھائی پھر اس کو سمجھنے سمجھانے میں جو جو نکات انکے سامنے آتے گئے  اسکو جمع کرکے انہوں نے اس کی شرح پر مستقل ایک کتاب ترتیب دی ، اب  یہ عوام کے پڑھنے اور سمجھنے کے قابل ہے اور  بہت مزے دار اور سلیس زبان میں ہے۔ہمارے ایک دوست نے اس کتاب کا مکمل تعارف اور شرح کے  انداز پر  لکھا ہے، انکی تحریر یہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

Read Online  /   Download



مکمل تحریر >>

جمعرات, مارچ 22, 2012

بچوں کی دینی تعلیم کیلئے تحقیق کی ضرورت

دینی تعلیم اور پھر اس کے لیے مدارس کا قیام ،معاشرے کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں ؟ اس سے ہر باشعور انسان آگاہ ہے ۔حقیقت میں مدرسہ ہی  وہ سب سے بڑی کار گاہ ہے،جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے ،جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتےہیں ،مدرسہ عالم اسلام کا بجلی گھر(پاؤر ہاؤس)ہے،جہاں سے اسلامی آبادی بلکہ انسانی آبادی میں ایمانی بجلی تقسیم ہوتی ہے، یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہےکہ اگر یہ مدرسے نہ رہے تو ہماری نسلوں کا دین بدل جائے گا، ان اداروں نے کام چھوڑ دیا  تو ہماری آنے والی نسلوں کا دین کیا ہوگا وہ کس مذہب سے وابستہ ہونگی اس بارے میں کچھ نہیں  کہا جاسکتا، ہندوپاک میں موجودہ دینی فضا اور دیانت داری کی ساری شکلیں انہی مدارس اور علمأ کی مرہونِ منت ہیں۔بحمداللہ! مدارس کی اس کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہاں دینی مراکز قائم ہیں‘مساجد و مدارس آباد ہیں‘ لوگوں کے چہروں پر سنت رسول کی شادابی ہے‘ خواتین ستروحجاب سے مزین ہیں‘ دینی اسکول اور حفظِ قرآن کے مدارس میں لاکھوں مسلمان بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔اسی کو دیکھتے ہوئے  شروع سے  ہمارے  دین کے دشمنوں کی یہی کوشش  رہی ہے کہ  ہر طرف سے پراپیگنڈہ کرکے مسلمانوں کوانکی دینی درسگاہوں ایسے دور کرددیا جائے کہ جس کے بعد ان پر اپنی تعلیم و تہذیب مسلط کرنا آسان ہوجائے گا۔عالمی اور ملکی سطح پردین ِ اسلام ،قرآن کریم اورمدارس دینیہ کے خلاف جس قدر طوفان بدتمیزی برپا ہوتا چلا گیا  ہے یہ شاید اسی کا ردعمل  ہے  کہ اسی  تیزی سے دین سے وابستگی ،مدارس کی طرف رجوع اور حفظ قرآن کریم کے رجحان میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔ صرف بی بی سی کے مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان مدارس میں مجموعی طور پر رواں سال کے لیے ایک لاکھ پچپن ہزار سے زائد طلباء و طالبات کا اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے ہاں پہلے پہل یہ تاثر تھاکہ جو بچے بالکل غریب وناد ار ہوتے ہیں ،جسمانی طور پر کمزور یا معذور ہوتے ہیں انہیں ہی مدارس میں بھیجا جاتا ہے،لیکن اب ایک عرصے سے یہ ”ٹرینڈ“ بالکل تبدیل ہوتا چلا جا رہا ہے اور اب الحمد للہ بہت باصلاحیت ،ذہین وفطین اورکھاتے پیتے گھرانوں کے بچوں کی بڑی تعداد حفظ قرآن کی سعادت حاصل کر رہی ہے  ۔اب تو فكر آخرت ركھنے والے باشعورلوگوں كى اكثريت اپنے بچوں كو دونوں طرح كى تعليم خود دلا رہی ہے ۔ ایک دو نسلیں  پہلے   قوم سے کوتاہی ہوئی کہ اچھے اور ذہین گھرانوں کے لوگوں نے اپنے بچے اتنی تعداد میں مدارس میں نہیں بھیجے جتنی تعداد میں بھیجنے چاہیے تھے، لوگوں کا رویہ کچھ ایسا رہا کہ  جو بچہ سکول میں پڑھ نہیں پاتاتھا  یا کسی طرح سے جسمانی نقص والا ہوتا ، اسے حافظ قران بنانے کے لیے مدرسہ میں ڈال دیتے ،  یوں ہمارے ملک کی کریم یعنی بہترین ذہن رکھنے والے طلبا انگلش میڈیم سکولوں میں چلے جاتے ہے۔بحرحال اس کے نتیجے میں   مدارس میں پھر ہر طبقہ کے لوگ آئے، ہر نوعیت کے ادارے بن گئے، پھر اس میں ہر قسم کی   تربیت  لے کر  لوگ فارغ بھی ہوگئے،  اس نتیجے میں کہیں نہ کہیں تھوڑی بہت کمی  رہ گئی اور جب یہ لوگ گلی محلوں میں اساتذہ کی شکل میں سامنے آئے تو انہوں نے اپنی نفسیات کے مطابق کارنامے بھی کیے۔ اورکچھ  تلخ  حوصلہ شکن واقعات بھی سامنے آئے۔ یہ واقعات مدارس کے ساتھ خاص نہیں سکولوں  میں بھی ایسے واقعات کی بازگشت عام سنائی دیتی رہتی ہے، چند دن پہلے اسی طرح کی  ایک خبر نظر سے گزری جس میں نویں جماعت کی  طالبہ کے ساتھ سکول کے پرنسپل کی جنسی  ذیادتی کرنے کی کوشش  کا تذکرہ تھا ، اس طرح کے اور کئی واقعات اخباروں میں آتے رہتے ہیں۔ یہ آج میرا موضوع نہیں۔ میں  آج مدرسے سے  متعلق  اپنے  ایک دوست کے سنائے گئے ایک اسی طرح کے واقعہ کو بطور مثال  پیش کرکے اس پر بات کروں گا۔

ایک پاکستانی بھائی چھ ماہ پہلے بچوں کی "اسلامی تربیت" کی خاطر جاپانی بیوی بچوں کو لیکر پاکستان چلے گئے ،چند دن بعد معلوم پڑا واپس جاپان آگئے ہیں ، ہم نے ان سے وجہ پوچھی تو بولے ہم نے  یہیں مرنے کا ارادہ کر لیا،ہم لوگ تو چھ ماہ  پاکستان  رہے  کافی تنگ تھے لیکن بچوں کیلئے ہم میاں بیوی نے یہی سوچا کہ برداشت کرتے ہیں،اور جیسا بھی ہے پاکستان میں رہتے ہیں،آٹھ سالہ بچے کو قریبی مسجد میں قرآن پڑھانے بھیجنا شروع کردیا۔بچہ بنچ پر سپارہ رکھ کر پڑھتا تھا اور قاری صاحب نیچے سے بچے   کی پیشاب والی جگہ  کو ہاتھ میں لے لیتے ۔جاپا نی بچہ تھا، اس نے گھر میں آکر بتا دیا کہ مولوی صاحب ایسا کرتے ہیں اس لئے میں یہاں نہیں پڑھوں گا۔بچے کے باپ کو غصہ آیا قاری صاحب سے دست گریبان ہوئے لیکن قاری صاحب نے قرآن ہاتھ میں اٹھا لیا اور بچے کو جھوٹا کہہ دیا۔جاپانی آٹھ سالہ بچہ اور جھوٹا۔۔ یہ تو ناممکن تھا۔بحر حال لوگوں کو جمع کیا گیا اور جب دوسرے بچوں سے تصدیق کی گئی تو کچھ نے شرماتے شرماتے بتا دیا کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔جتنی دیر میں بچوں سے تصدیق کی جارہی تھی قاری صاحب اتنی دیر میں رفو چکر ہو گئے۔ان میاں بیوی کو ایسا شاک لگا کہ یہ بھی بوریا بسترا گول کرکے جاپان واپس آگئے۔

یہ واقعہ سن کر مجھے بھی بہت افسوس ہوا۔ واقعہ ہے ہی قابل افسوس۔ اس کو تحریر کرتے ہوئے بھی شرم  آئی لیکن جس مقصد کے لیے اس کو لکھا اسکو میں بہت ضروری سمجھتا ہوں   اس لیے تحریر کررہا ہوں۔
یہ سب ہمارے سامنے ہے کہ آج کل جس طرح گلى گلى جعلى يونيورسٹیاں ،سكول، كالج ،نرسريز اور آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ بنے ہوئے ہيں اسی طرح گلی محلوں میں  کچھ ایسی  مساجد بھی ہیں جہاں مسجد کے ساتھ مدرسہ کے نام پر  چندہ اکٹھا کرنے کے لیے دو تین ہزار تنخواہ پر ایک قاری نما  آدمی  کو بٹھا دیا جاتا ہے،اور اس بات کی تحقیق نہ مسجد کی انتظامیہ کرتی ہے اور نہ  اپنے بچوں کو اس مولوی کے پاس بھیجنے والے والدیں کرتے ہیں  کہ آیا یہ بندہ مکمل قاری بھی ہے؟  کسی اچھے مدرسے سے فارغ التحصیل  بھی ہے،؟اسکا کریکٹر کیسا ہے؟کہیں جرائم پیشہ تو نہیں؟کہاں سے تعلق رکھتا ہے؟کدھر سے آیا ہے؟۔ مسجد کمیٹی  والوں کو ایک داڑھی والا آدمی چاہیے ہوتا ہے جو کچھ صورتیں اچھے لہجے میں پڑھ سکے اور اس بندے کو شہر میں ٹھکانہ ۔ دونوں کا کام چل جاتا ہے ۔ یہاں سے پھر بدبختی ان لوگوں کی آجاتی ہے جو اپنے بچوں کو نیک نیتی کے ساتھ قرآن پڑھانے کے لیے اس کے پاس بٹھا دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اپنے پہلے ایک تھریڈ میں لکھا کہ محلے کی مسجد کی کمیٹیوں کے صدر اور ذمہ دار ذیادہ تر گورنمنٹ اداروں کے منشی ،  آفسر ریٹائرڈ ہوتے ہیں ،   وہ عام طور پر     اس قابل  ہی نہیں ہوتے   کہ محلے کی دینی ضروریات  کو سمجھ سکیں اور پھر  اسکے مطابق  انتظا م کرسکیں ، انکی اپنی نمازیں ، قرآن تک ٹھیک نہیں ہوتا،    انکا کام بس یہی ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد جمع شدہ چندے کے پیسے گننا یا   مسجد کے خادم کے پیچھے لگے رہنا کہ تم نے موٹر کیوں نہیں چلائی،  مسجد کی صفائی صحیح کیوں نہیں کی ، اذان وقت پر کیوں نہیں دی،   وہ     مدرسے اور تعلیم و تربیت کے کاموں میں دلچسپی لیتے ہی نہیں   ۔  اکثروبیشتر تمام تر ذمہ داری اپنی مرضی سے منتخب کردہ اسی    نیم مولوی ،حافظ پر ڈال دیتے ہیں۔  پھر جب اس  ایک آدمی کے ہاتھ میں سارا انتظام و انصرام آ جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے اپنی خواہش سے سپیکر کو بھی استعمال کرتا ہے ،  اسی انداز میں اپنے طالب علموں کی تربیت بھی کرتا ہے اور اسکی ساری تقریریں بھی اسکی ذاتی  سائیکی کے گرد گھوم رہی ہوتی ہیں ، یہاں پھر  خرابیوں کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محلے داروں اوراچھے مدارس کے  معلمین کے کمبی نیشن سے ادارے چلائے جائیں اور مدرسے کے کام کو دینی فریضہ سمجھ کر باہمی مشاورت سےسرانجام دیا جائے۔ مساجد میں موجود مدارس کے آئمہ کی تنخواہیں اچھی  رکھی جائیں  ۔ دینی تعلیم کے لیے  اچھے سے اچھے عالم ، قاری کو  رکھا جائے ، اس کےلیے اچھے مدارس سے رجوع کیا جائے وہ  اپنی ذمہ داری پر ایسے بندے کو بھیجیں جس کی زبان پر ہی نہیں دل میں بھی قرآن ہو اور وہ خوف خدا بھی رکھتا اور بچوں کی  دینی تربیت کا طریقہ بھی جانتا ہو۔مساجد کے آئمہ کے لیے عالم یا مفتی ہونا لازم قرار پانا چاہیے ، صرف حافظ کو امام بنا دینا جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے بلکل بھی درست نہیں ۔محلے کی مسجد کے امام اور مدرس کے لیے شادی شدہ ہونا بھی ایک شرط ہونا چاہیے ، کیونکہ اُنکو زیادہ تر امرد بچوں کی تربیت کرنی ہوتی ہے اور شیطان سے کوئی بھی بچا ہوا نہیں ۔امام کے لیے ضروری ہو کہ وہ نہ صرف کسی شیخ سے بیعت ہو بلکہ خود بھی مسجد میں ہفتہ وار اصلاحی بیانات کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔
 دوسری طرف والدین کی بھی یہ ذمہ داری  بنتی ہے کہ وہ  کم ازکم  بچہ   کو مدرسے میں داخل كروانے سے پہلے اس بات کی  تحقیق  كر لیں  کہ آیا   ادارہ رجسٹرڈ بھی  ہے يا مدرسے کے  كسى بورڈ سے الحاق شدہ بھی  ہے یا نہیں۔ اس کے اساتذہ  کا اخلاق کیسا ہے  ؟ وہ کہاں سے پڑھ کر آئے ہیں  ؟ ان کا رکھ رکھاؤ کیسا ہے ۔؟ یہ فتنہ کا دور ہے  ہمیں اس  اندھے اعتماد کی روش کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمارے لوگ اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم کے لیے تو  اپنے دوستوں سے ارد گرد کے لوگوں سے شہر کے سکولوں کے متعلق  مشورے کرتے ہیں کہ بچہ بڑا ہورہا ہے اسکو کس سکول میں داخل کرایا جائے  ؟ پھر پوری تحقیق کے بعد  شہر کے اچھے سے اچھے  سکول کا انتخاب کرتے ہیں ،فیسیں بھی دیتے ہیں، ٹیوشن کے لیے بھی اچھے سے اچھا ٹیوٹر ڈھونڈ کر گھر ٹیوشن لگا کردیتے ہیں  اور  دینی تعلیم کے لیے اتنی لاپرواہی برتے ہیں کہ  اپنی گلی کی مسجد کے مفت پڑھانے والے نیم  مولوی کے پاس بٹھا دیتے ہیں اور پھر بعد میں شکوہ بھی کرتے ہیں ۔ ۔    ضروری ہے کہ دینی تعلیم کے لیےبھی   مدرسہ اور استاد کے انتخاب  میں    مناسب تحقیق کی جائے۔جس طرح اوپر بیان کیے گئے واقعہ میں   ہم نے یہ دیکھا ان جاپان سے آنے والے صاحب نے  اپنے  بچوں کی دینی تربیت کے لیے ملک ، نوکری، آسائش  سب کچھ چھوڑ دیا  اور پاکستان جیسے غیر ترقی یافتہ ملک میں آبسے  ۔ اب جس چیز کے لیے اتنی قربانی دی اس کے حصول میں بعد میں اتنے لاپرواہ ہوگئے کہ بغیر کسی تحقیق کے اندھا اعتبار کرتے ہوئے اپنے بچے کو کسی مولوی نما بھیڑے کے پاس پڑھنے بٹھا دیا ۔ پھر اسی لاپرواہی کے نتیجے میں جو واقعہ ہوا ، اسکے بعد بھی کسی سے کوئی مشورہ نہیں کیا ، بلکہ سارے مدارس کو  بھی اس طرح کا سمجھ کر جذبات میں دوبارہ     واپس چلے گئے۔  ایک اچھی بات  جو اس واقعہ میں نظر آئی وہ یہ کہ  والدین  کو اپنے بچوں کی   اپنے طور  پربھی  تربیت اس طرح  کرنی چاہیے  کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو بھی تو بچے شرما کر بات چھپائیں نہیں بلکہ اس بچے کی طرح والدین کو بتائیں تاکہ بڑے نقصان سے بچا جاسکے۔
 جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہماری اجتماعی کوتاہیوں کی وجہ سے ایسے واقعات شاذوناذر  ہوجاتے ہیں،  لیکن ہمارے میڈیا کا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ ایسا کوئی  واقعہ کہیں پیش آجائے اس کو اچھالا اس طرح جاتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہی مدارس کا روزمرہ کا معمول ہے،  ہمارے روشن خیال مبصرین ، کالم نگار حضرات ان کالی  بھیڑیوں کی مثالیں دیتے ہوئے سارے مدارس کو ہی قصور وار ٹھہرا دیتے ہیں ، جب  ہمارے  ہاں جعلى كلينكوں اور عطائى ڈاكٹروں كا نام لے كر ميڈيكل پروفيشن كو لعن طعن كرنا درست نہيں  سمجھا جاتا  پھر   ان چند  واقعات  كو لے كر سب دينى مدارس و جامعات كى محنت پر پانى پھيرنا  کہاں کا انصاف ہے ۔؟ہمارے ہاں جعلی ڈاکٹروں نے کیا کیا کارنامے کیے ہیں وہ سب جانتے ہیں لیکن پھر بھی آج تک   ان عطائی  ڈاکٹروں کی وجہ سے کسی نے سپیشلسٹ ڈاکٹر کو برا نہیں کہا، کسی فٹ پاتھ بیٹھے جراح کے  غلط ہڈی جوڑنے کی وجہ سے آج تک کسی نے یہ نںجا کہا کہ میڈیکل کالج بند کردیئے جائیں۔ کچھ کمی ہمارے  لوگوں میں اس سلسلے میں بھی   ہے کہ وہ دیندار لوگوں پر اندھا اعتماد رکھتے ہوئے ہر مولوی نما آدمی کو ولی اللہ  سمجھ لیتے  ہیں،  حالانکہ  دین کے نام پر دو نمبریوں کے واقعات  بھی ہمارے اسی معاشرے میں  عام ہیں ، کئی لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں جو  صرف  اپنی کسی ذاتی غرض یا سیاست کے لیے نیک نامی حاصل کرنے کے لیے داڑھی رکھ لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد ان کا شمار بھی دینی لحاظ سے اچھے ناموں میں ہونے لگتا ہے، اس طرح کئی  بد عورتیں  برقعہ پہن کر  اپنا دھندا  کرتی دکھائی دیتی ہیں  ۔ اب انکو دیکھ کر کوئی   سارے دیندار لوگوں اور برقعہ پہننے والی عورتوں کو غلط سمجھنےلگ جائے   ، یہ ایسے ہی جیسے ایک بندہ  کسی  ڈاکٹر   جیسا حلیہ بنا لے  اورلوگوں کا علاج کرتا   پھرے  پھر بعد میں ہم  اسکے گناہ یہ کہہ کر اس  سپیشلسٹ ڈاکٹر  پر ڈال دیں  کہ اسکی شکل تم سے ملتی ہے وہ جو کچھ کرے گا تم بھی اس کے ذمہ دار ہوگے۔ یہ   کہاں انصاف کی  بات ہوگی ۔
مکمل تحریر >>