جمعرات, جولائی 12, 2012

ایک قادیانی لطیفہ

سورۃ الاحزاب کی آیت  ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبین میں لفظ خاتم النبین  کے  مطلب کے متعلق قادیانی جماعت کا موقف ہے
"خاتم النبین کا معنی "نبیوں کی مہر" یعنی پہلے اللہ تعالی نبوت عنایت فرماتے تھے۔ اب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع سے نبوت ملے گی۔ جو شخص رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مہر لگا دیں گے تو وہ نبی بن جائے گا"۔
(حقیقت الوحی صفحہ 97 حاشیہ صفحہ 28،   خزائن جلد 22 صفحہ 100،30  )

جبکہ قرآن وسنت ، صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم، تابعین رحمہم اللہ اور تمام اسلاف امت  کی تفاسیر کے علاوہ  لغت عرب کی تمام کتابوں کا خاتم النبین کے مطلب   آخری نبی ہونے پر اجماع ہے۔ یہ ایک بہت پرانا چیلنج بھی  ہے کہ قادیانی جماعت  اپنی ایجاد کردہ اس تفسیر کا شاہد اوپر گنائے گئے ماخذین میں سے کہیں سے بھی پیش نہیں کرسکی نہ  کرسکتی ہے۔ 
بلکہ خود مرزا قادیانی کی اپنی کتابیں اس تفسیر کو جھٹلاتی ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب تریاق القلوب میں صفحہ 157، خزائن جلد 15، صفحہ 479 پر اپنے متعلق تحریر کرتا ہے۔

"میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی ، جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا  اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا"۔

جب مرزا قادیانی اور خود اسکی جماعت بھی خاتم الاولاد کا ترجمہ آخری ولد کرتے ہیں اور مرزا کو اپنے والدین کا آخری بیٹا مانتے ہیں کہ اس بعد کسی قسم کا کوئی جھوٹا، بڑا، بہرہ، گونگا بیٹا پیدا نہیں ہوا تو پھر خاتم النبین کا بھی یہی ترجمہ انہیں ماننا پڑے کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد کسی قسم کا کوئی ظلی، بروزی، مستقل، غیر مستقل نبی آنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ورنہ ان کے بنائے گئے  خاتم النبین کے معنی "حضور کی مہر سے نبی بنیں گے" کے مطابق خاتم الاولاد کا ترجمہ بھی مرزائیوں کو یہی کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں اب مرزا قادیانی مہر لگاتے جائیں گے اور مرزا قادیانی  کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔
 ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ۔

دوسری بات قادیانیوں نے لکھا ہے کہ یہ مہر اتباع کرنے کے بعد لگے گی۔ جبکہ مرزا قادیانی لکھتا ہے۔

"خدا تعالی نے مجھے اس تیسرے درجے میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میرے کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے " (حقیقت الوحی صفحہ 67، خزائن جلد 22 صفحہ 70 )

لیجیے مرزا نے خود کہہ دیا کہ میں حضور کی اتباع سے نبی نہیں بنا بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔
 جب خاتم النبین کی مہر سے کوئی بھی یہاں تک کہ خود مرزا بھی نبی نہیں بنا تو یہ ترجمہ کرنے کا فاعدہ ؟۔
ان لوگوں نے جہالت اور بے وقوفی کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ حقیقت یہ   ہے کہ والضحی چہرے کے مالک نبی کامل سردار الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ایک کانے دجال کو نبی ماننے کی سزا میں ان لوگوں کی عقلیں ضبط ہوچکی ہیں۔

15 comments:

فراز اکرم نے لکھا ہے کہ

بہت اعلیٰ

گمنام نے لکھا ہے کہ

ﺍﻳﮏ ﻧﺌﮯ ﺯﺍﻭﻳﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺷﻨﺎﺱ ﮐﺮﺍﻳﺎ ﺁﭘﻨﮯ
ﺳﻌﻴﺪ

گمنام نے لکھا ہے کہ

ديو بنديوں کے بانی قاسم نانوتی نے کيا ترجمہ کيا؛

http://www.youtube.com/watch?v=Nfde2WGvf3w

اس فاسق و کافر قاسم نانوتوی کی بھی کلاس ليں

نورمحمد ابن بشیر نے لکھا ہے کہ

بس دعا ہہے کہ اللہ تعالی انہیں ہدایت نصیب کرے - آمین

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

کسی بہانے آپ کے دیدار تو ہوئے ۔ میں 23 ضون کو ہیاں پہنچنے کے بعد بلکہ اس سے کچھ دن پہلے سے اتنا مصروف رہا کہ آپ کی خبر نہ لی ۔
آپ جو جی میں آیئے اعلٰی سے اعلٰی ثبوت مہیاء کیجئے اُن کا حال مرغے کی ایک ٹانگ والا ہی رہے گا

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

تمام بھائیوں کی حوصلہ افزائی کا شکریہ۔ افتخار بھائی یہ آپ کی شفقت ہے آپ ہماری ناقص تحریروں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔
Anonymous @
اس تحریر کا تمہارے پاس کوئی جواب نہیں اس لیے تم نے بجائے اس پر بات کرنے کے مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ پر اعتراض داغ دیا۔ یہ اعتراض تم جیسے اور بھی کئی اردو سمجھنے سے قاصر لوگ کرتے رہتے ہیں۔ عربی کا ایک مقعولہ ہے ''الناس اعداء ما جھلو " لوگ جس چیز سے جاہل ہوتے ہیں اس کے دشمن ہوتے ہیں۔ یہی حال تمہارا ہے ، نقص تمہارے فہم میں ہے اور غصہ تم لوگ مولانا پر اتارتے ہو۔ یہ بات اہل علم جانتے ہیں کہ مولانا کی اردو سمجھنا عام آدمی خصوصا تمہارے جیسے نتھو خیرے کے بس کی بات نہیں ۔
خیر تم نے مولانا پر اعتراض ویڈیو کی شکل میں پوسٹ کیا ہے، میں بھی اس کے جواب میں ایک شارٹ سی ویڈیو پوسٹ کردیتا ہوں۔
http://www.youtube.com/watch?v=7wcSKR-kyIA
تفصیلا جواب چاہیے تو یہاں پڑھ لو۔
http://razakhanimazhab.weebly.com/eurdu6.html

دعا نے لکھا ہے کہ

بہت خوشی ہوتی ہے ایسی تحاریر پڑھ کر جن میں قادیانیت کی بیخ کَنی کی ترغیب ہوتی ہے جزاک اللہ

Rashid Idrees Rana نے لکھا ہے کہ

بھائیو!!! دوستو!!! مترو!!!

بات یہ ہے کہ سچ سچ ہوتا ہے اسی لیئے ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں، اپنے پورے ایڈریس اپنی تصاویر اور اپنی شناخت کے ساتھ، ہے کسی کے باپ میں ہمت جو ہمارا ایک بال بھی اکھاڑ کے دکھا سکے

جبکہ قادیانی مردود، قیامت تک مردود ہی رہیں گے، جب بھی کوئی بات ان کے خبیث باپ یا ان ملعونوں کے بارے لکھی جاتی ہے یہ گمشدہ ماں باپ کے گمشدہ گناہ کی طرح گمشدہ آ کر اس پر اپنا تبصرہ لکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔ تاج برطانیہ کی گود میں بیٹھ کر بھی اتنا ڈرتے ہیں کہ اپنی شناخت تک ظاہر نہیں کر پاتے، بیچارے !!! خود ان کو بھی پتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

انشاءاللہ یا تو یہ راہ راست پر آکر توبہٰ کر لیں گے یا رہتی دنیا تک ہمارے آگے آگے ایسے ہی بھاگیں گے۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

Bunyaad parast sahib buhut acha jawaab diya aap nay Anonymous ko
Asal Baat yai hai Kay chimgadarh kitna bhi suraj ku gaali dai uska kuch nahin bigaar sakti

کاشف نے لکھا ہے کہ

"الناس اعداء ما جہلو"
یعنی لوگ اس چیز کے دشمن بن جاتے ھیں جس کے بارے ان کو پتہ نہ ھو۔

بہت اعلیٰ مقولہ ھے۔

Naeem نے لکھا ہے کہ

سلام۔۔۔ بنیاد بھائی اللہم زد فزد و احفظک

گمنام نے لکھا ہے کہ

جناب بنیاد پرست صاحب !
کیا آپ مجھے تبصرہ کرنے میں براہ کرم کچھ مدد کریں گے۔ اگر میں اس تبصرہ کرنے میں اپنا نام اور شناخت وغیرہ دینا چاہتا ہوں تو وہ کس طرح ممکن ہے۔ یعنی مجھے کون سا آپشن استعمال کرنا ہو گا کیونکہ میں جب بھی یہ کوشش کرتا ہوں تو اگلے اآپشنز کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

تنصرہ جات میں دیے گئے لنکس کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے جب کہ نہ تو ان پر کلک ہوتا ے اور نہ ہی ان کو کاپی پیسٹ کیا جا سکتا ہے ؟

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

گمنام صاحب اسکو کاپی کرکے براؤزر میں پیسٹ کرکے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اپنے نام سے تبصرہ کے لیے آپ اسی طریقہ پر اپنی تحریر کے نیچے اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں اور اگر آپ کے پاس جی میل اکاؤنٹ ہے تو وہاں لاگ ان ہوکر اسی گوگل کی آپشن کو منتخب کرکے بھی تبصرہ کرسکتے ہیں۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

جزاکم اللہ ۔ شکریہ
سلطان خان

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔