اتوار، 22 ستمبر، 2013

غامدی صاحب کا علمی مقام

پچھلی تحریر میں غامدی صاحب کے پیش کیے گئے تعارف پر کچھ دوستوں نے اعتراض کیا کہ کسی مذہبی سکالر کے بارے میں ایسے القاب استعمال نہیں کرنے چاہیے, انکا اختلاف فقہی ہے اور فقہ میں اختلاف کی گنجائش ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تحریر میں غامدی صاحب کے متعلق ہم نے اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں لکھا تھا صرف ان کے اساتذہ، ان کے پرانے نام اور عرف کا تذکرہ کیا تھا، یہ سب باتیں غامدی صاحب کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اب اگر غامدی صاحب کے پرانےنام اور عرف کا تذکرہ انکے کسی عاشق کو برا لگتا ہے تو اس میں ہمارا قصور نہیں (ویسے غامدی صاحب نے اپنی کتاب 'برہان' میں علماء، مذہبی جماعتوں کے قائدین، فقہاء کے بارے میں تنقید کرتے وقت طنزو تضحیک کا جو اسلوب اختیار کیا ہے،کم از کم اسکی موجودگی میں ان کے قارئین وسامعین کو کسی کے غامدی صاحب کے خلاف لکھے گئے سخت الفاظ پر اخلاقیات کے درس نہیں دینے چاہیے)۔ دوسری بات کیا غامدی صاحب واقعی ایک جید عالم یا مذہبی سکالر ہیں یا انکو دینی علوم میں اتنا رسوخ حاصل ہے کہ انکو فقہاء امت کے ساتھ اختلاف کرنے ، انکی تحقیق کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کرنے ،انکو اصل حقیقت سے لاعلم اور جاہل قرار دینے، امت کے چودہ سوسالہ متفقہ مسائل کو رد کرنے کا حق حاصل ہے؟؟ انکے کئی قارئین ، سامعین اور تلامذین بھی یہ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ غامدی صاحب دینی و دنیاوی دونوں علوم پر مکمل عبوررکھتے ہیں، صاحب کو عربی خصوصا قرآنی علوم میں تو کمال حاصل ہے ، انگریزی ادب ہو یا جدید سائنسی علوم غامدی صاحب کا انکے متعلق علم پاکستان کے کسی بھی دوسرے عالم، مولوی، مذہبی سکالر سے ذیادہ ہے۔۔!!آیئے! تعصب اور جانبداری کو ایک طرف رکھتے ہوئے ''مجتہدعصر'' کے متعلق ان دعووں کا کھلے دل اور کھلی نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔ اگر ان باتوں کی حقیقت آشکارا ہوجائے تو ان کے بقیہ اُٹھائے ہوئے مباحث کی حقیقت سمجھنا کچھ مشکل نہ ہوگا۔ ہم نے اپنی اس تحریر میں کوشش کی ہے کہ صرف ضروری باتیں ہی کیں جائیں کیونکہ یہ کوئی مقالہ تو ہے نہیں، بات سمجھنے سمجھانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ جتنی صاف ستھری، براہ راست اور پیچیدگی سے پاک ہو اتنی ہی مفید رہے گی لیکن موضوع ایساہے کہ تحریر نہ چاہتے ہوئے بھی طویل ہوگئی ہے اس پر ہم معذرت خواہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اسے میری قوم کے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔
غامدی صاحب کی عربی دانی:.
 خود غامدی صاحب اور ان کے شاگردوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ''اسلامی دنیا میں ان کے پائے کا عربی دان اور عربی زبان وادب پر عبور رکھنے والا کوئی شخص نہیں نیز یہ کہ بڑے بڑے عرب علما ان سے استفادے کے لیے آتے ہیں اور جب غامدی صاحب عربی کے اسباق دیتے ہیں تو یہ علمائے عرب لغت کھول لیتے اور دانتوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں۔'' جب یہ تعلی اور تکبر اہل علم کے سامنے آیا تو انہوں نے اس کی حقیقت بیا ن کرنا اپنا فرض سمجھا۔چنانچہ چند سال پہلے کراچی سے شائع ہونے والے ایک ماہنامے ''ساحل'' (اپریل ومئی 2007) میں مشہور محقق ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی کا تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے۔ سچ پوچھیے تو بڑے خاصے کی چیز ہے ، پڑھا تو لطف آگیا۔ لکھنویوں کی اردو، ندویوں کا انداز تحریر اور پھر پچاس سال سے عربی لکھنے لکھانے، پڑھنے پڑھانے والے صاحب علم کی طرف سے محاسبہ ومحاکمہ۔ پڑھتے جایئے اور سر دھنتے جائیے۔غامدی صاحب کی عربی دانی پر تبصرے سے پہلے ماہنامے کے اداریے سے چند سطریں پڑھ لیجیے تاکہ پس منظر وپیش منظر سمجھنے میں آسانی ہو:
 ''اس دعوی کے جائزے کے لیے ہم نے جاوید غامدی صاحب کے مطبوعہ کام کا بالاستیعاب مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ اپنی ساٹھ سالہ علمی زندگی میں انہوں نے صرف ایک سو بائیس صفحات عربی میں لکھے تھے۔ ان میں سے صرف بائیس صفحات رسالہ ''الاعلام'' میں محفوظ ہیں جبکہ بقیہ سو صفحات جو عربی تفسیر ''الاشراق'' اور ''میراث'' پر ایک علمی رسالے کے لیے لکھے گئے تھے، غامدی صاحب نے ضائع کردیے کیونکہ ان کے قلم سے لکھی گئی عربی ان کے عجمی محض ہونے کی داستان، بڑے کروفر سے سنارہی تھی۔ اس کے باوجود ''المورد'' کی ویب سائٹ پر انہیں الاشراق، مثنوی، خیال و خامہ اور باقیات کا مصنف ظاہر کیا گیا ہے جبکہ یہ تصانیف آج تک شائع نہیں ہوئیں۔ بائیس صفحات کے ایک ایک سطر اور ایک ایک جملے میں عربی قواعد، املا، انشا، زبان، بیان، صرف نحو کی بے شمار غلطیاں اسی طرح در آئی ہیں جس طرح ان کے فکر و نظر اعتقادات اور ایمانیات میں اغلاط اور الحاد کا گردو غبار داخل ہوگیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ 1982ء میں لکھی گئی یہ غلط سلط عربی تحریر 5 اپریل 2007ء تک المورد کی ویب سائٹ پر جوں کی توں موجود تھی یعنی ستائیس سال میں بھی غامدی صاحب اور ان کے حلقے کی عربی دانی کا ارتقا نہ ہوسکا"۔
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)
 غامدی صاحب نے الاعلام میں عربی دانی کے جو جوہر دکھائے تھے ان پر ڈاکٹر رضوان علی ندوی کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے۔
''ان مختصر عربی مضامین کے بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے اندازبیان میں وہ عیب ہے جو عربی زبان میں ''عجمہ'' یعنی عجمیت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ان کی عربی تحریریں پڑھ کر یہ احساس ابھرتا ہے کہ مصنف عربی زبان کے عصری اسلوب سے بے خبر ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی طالب علم کے سامنے قدیم عربی کی کتابیں ہیں وہ ان کے جملے، تشبیہات و استعارات اپنی تحریر میں منتقل کررہا ہے۔ عربی نثرنحوی اغلاط سے پر ہے۔ ان کی تحریروں میں نحو یعنی قواعد زبان کی ایسی غلطیاں ہیں کہ کسی عربی کالج و اسکول کا لڑکا بھی نہیں کرے گا۔ بلکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے شائع ہونے والے عربی ماہنامے البعث الاسلامی میں لکھنے والے نوجوان ندوی بھی ایسی اغلاط نہیں کرتے۔ "

 اسالیب عربی سے لاعلم یہ عجمی جو ایک مختصر نثر پارہ درست عربی میں لکھنے پر قادر نہیں، اپنے غرور علم میں صحابہ کبار، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، ائمہ، مفسرین اور ماہرین لغت کی عربی دانی کو حقارت سے رد کرتا ہے۔منسکہ تصویر میں آخری لائن میں والسماء ذات الحبک پر تبصرہ گزر چکا ، اسی کے آگے موصوف لکھتے ہیں: واما الذین قالو ان المراد بہ نجوم السمائ، فانہم لم یتتبعوا کلام العرب حق التتبع، ولم یتأ ملوفیما یقتضی موقعہ ہنا، فلم یتبین لہم معناہ، فاخطاؤا وجہ الصواب.''اور جن لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد آسمان کے ستارے ہیں تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کلام عرب کی اچھی طرح چھان بین نہیں کی اور نہ اس پر غور کیا کہ یہاں کس بات کا موقع و محل ہے۔ اس لیے انہیں اس (ذات الحبک) کے معنی سمجھ میں نہیں آئے اور وہ غلطی کے مرتکب ہوئے"۔غامدی صاحب نے جن لوگوں کو کلام عرب سے جاہل کہا ہیں وہ نسلی عرب اور مشہور آئمہ تفسیر امام حسن بصری و سعید بن جبیر جیسے تابعین اور طبری و زمخشری جیسے ادیب و ماہرین لغت و مفسرین قرآن ہیں ۔ (ملاحظہ ہو: اس آیت قرآن کی تفسیر طبری اور زمخشری میں) ۔
غامدی صاحب کے سرپر ایک زمانے میں قرآن کریم کے مقابلے میں آیات سازی کا جنون بھی سوار تھا اور انہوں نے اپنے پاس سے چالیس مہمل، بے ربط اور رکیک جملے گھڑ کر انہیں آیات کا نام دے رکھا تھا اور اسے محفلوں میں سنایا کرتے تھے۔ اس روداد کے نقل کے لیے ہم ایک مرتبہ پھر ماہنامہ ''ساحل'' کے مشکور ہیں۔ صفحہ بہت پرانا تھا اس لیے صحیح سکین نہیں ہوسکا۔ ملاحظہ ہو:
 1975ء میں جناب غامدی صاحب ممتاز اہل حدیث عالم علامہ ساجد میر کے بھانجے ڈاکٹر مستنصر میر کی دعوت پر سیالکوٹ تشریف لائے۔ ایک محفل میں جناب غامدی نے قرآن کی وہ چالیس آیات پیش فرمائیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ قرآن کے چیلنج کا جواب ہے، چالیس فرضی آیات کی مجلس میں راقم بھی حاضر تھا۔ اس کے علاوہ اسد صدیقی، ڈاکٹر سہیل طفیل، برادر مستنصر میر، ڈاکٹر مستنصر میر، ڈاکٹر منصور الحمید، اسد صدیقی اور دیگر رفقائے خاص اس موقع پر موجود تھے۔ غامدی صاحب نے بعدازاں یہ آیتیں کتابی شکل میں اشاعت کے لیے منڈی مریدکے ایک کاتب سے کتابت بھی کرائی تھیں لیکن کتابت بہت ناقص تھی لہٰذا مسودہ روک دیا گیا۔ دریں اثنا ڈاکٹر مستنصر میر کی زجروتوبیخ کے باعث غامدی صاحب نے مسودہ ضائع کردیا ۔ راقم کے پاس اس مسودے کا ایک ٹکڑا محفوظ رہ گیا تھا۔ حاضر ہے۔ ترجمہ غامدی صاحب کے قلم سےہے:
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)

‘‘اقسم بخالق الخیل، والریح الھابة بلیل بین الشرط ومطالع سھیل،ان الکافرلطویل الویل ،وان العمر لمکفوف الذیل ،اقز مدارج السیل وطائع التوبة من قبیل ،تنج وما اخالک بناج’’

تصویری فائل میں غامدی صاحب کی عربی دانی کا حال آپ نے ملاحظہ فرمایا، اس ٹکڑہ اور اسکے ترجمہ کتنی غلطیاں ہیں مضمون کی طوالت کے ڈرسے اس پر ہم تبصرہ نہیں کرتے ۔ غلطیاں محض تعبیر واسلوب کی نہیں کہ کوئی کہہ سکے اس طرح کی اصلاح تو ہر ایک کے کلام پر ہوسکتی ہے۔۔۔ نہ حضور نہ۔۔۔۔ یہ غلطیاں اس قسم کی ہیں کہ درجہ اولیٰ کے طالب علم دیکھیں تو انگلیاں دانتوں تلے دبالیں اور منتہی طلبہ پڑھیں تو انہیں زمین آسمان کی نبضیں تھمتی محسوس ہوں۔ آزمائش شرط ہے اور ثبوت کے طورپر مزید ایک صفحہ پیش خدمت ہے جس پر محترم ڈاکٹر رضوان ندوی صاحب کی اصلاح موجود ہے۔ یوں تو پورا صفحہ پڑھنے کے بجائے ایک نظر ڈالنا کافی ہے کہ غلطیاں یوں بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کسی چیچک زدہ منہ پر پھیلے ہوئے مواد بھرے دانے۔ اتنی درخواست ہے کہ پہلے صفحہ کا آخری جملہ اور اس پر ڈاکٹر ندوی صاحب کا تبصرہ ضرور پڑھ لیجیے۔ طبیعت باغ باغ ہوجائے گی۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)

''فبھذا السبب کان عمل أعضاء ھذا النوع من الأحزاب أن یقضوا طیلۃ حیاتہم لحصول النجاۃ من سوء نتائج حسابھم ھذا.''

پڑھیے اور داد دیجیے کہ ایسی بے معنی، مہمل، بھونڈی، رکیک اور جملہ عیوب سے آراستہ عربیت اور اس پر متکبرانہ دعوی کہ غامدی مکتب فکر ہی عصر حاضر کا وہ طبقہ ہے جو قرآن کی روح سے واقف اور اس کے مزاج سے آشنا ہے۔ خودساختہ فتنہ انگیز مسائل پر دانش وری بگھارنا صرف اس کا حق ہے، آنے والا دور صرف ان کا ہے اور دبستان شبلی کا واحد اور حقیقی جانشین صرف وہی ہے۔اسلامی علوم اور عربیت میں غامدی صاحب اور ان کے لائق شاگردوں (جو 27 سال میں اپنے استاذ کی لکھی ہوئی چند سطریں پڑھ کر ان کی اصلاح نہ کرسکے) کی اہلیت ومہارت آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ اسی سے ان کے فتویٰ نما دعوؤں کی علمی حیثیت اور شرعی مسائل پر مجتہدانہ تبصروں کی حقیقت آپ پر واضح ہوگئی ہوگی۔

غامدی صاحب کی قرآن فہمی:.
 یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ علوم عربیت سے غامدی صاحب کی واقفیت کس قدر ہے؟ آیئے! آج ذرا قرآن فہمی کے حوالے سے ان کے کام کا جائزہ لیتے ہیں جو ان کی تمام کاوشوں کی بنیاد اور سہارا ہے۔ قرآن فہمی کے جھوٹے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے ان کا پہلا اور آخری سہارا عربیت دانی کا دعویٰ ہے کہ وہ عربی لغت اور ادب عربی کو اتنا اچھا سمجھتے ہیں کہ اس کے سہارے قرآن کے معنی و مفاہیم کو خود سے متعین کرسکتے ہیں۔ چاہے اس سے اجماع کا انکار ہو، اسلام کے مسلمہ احکام کی تردید کرنا پڑے یا پھر سرے سے خود قرآن ہی سے ہاتھ دھولیا جائے۔ آنجناب کو ''عربی معلی'' (بامحاورہ عربی) جاننے کا بڑا زعم ہے اور ان کا یہ فرمان مستند سمجھا جاتا ہے کہ خالص عربیت کو سامنے رکھ کر قرآن کا معنی متعین کرنے میں ان کا مدمقابل کوئی نہیں ہے۔ یہ دعوی اتنا ہی لچر اور بے اصل ہے جتنی آنجناب کی عربی سے واقفیت کا زعم۔ ہم اگر اپنے قارئین کو یہ حقیقت سمجھنے سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں کہ ان کی عربیت سے واقفیت اتنی ہی ہے جتنی ملعون رشدی کی انگریزی سے تو یہ سمجھنے میں مشکل نہ رہے گی کہ ملعون کو ''سر'' کا خطاب اور غامدی صاحب کو ''اسکالر'' کا اعزاز کس وجہ سے ملا ہے؟ 
 پہلی مثال :سورۃ اعلیٰ میں ہے:

''وَالَّذِیْ أَخْرَجَ الْمَرْعیٰ فَجَعَلَہ، غُثَائً اَحْوٰی.''

غامدی صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ''اور جس نے سبزہ نکالا پھر اسے گھنا سرسبز وشاداب بنادیا۔'' (البیان: صفحہ 165) اس کے علاوہ غامدی صاحب کے فکری ونظریاتی ''امام'' امین احسن اصلاحی بھی اس مقام کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ''اور جس نے نباتات اُگائیں، پھر ان کو گھنی سرسبز وشاداب بنایا۔'' (تدبر قرآن: 311\9)
 یہ دونوں ترجمے عربیت ،قرآن مجید کے نظائر ،احادیث کے شواہد ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے اقوال ، اجماع امت اور اُردو کے تمام مترجمین کے ترجموں کے خلاف ہےاس آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے: ''اور جس نے سبز چارہ نکالا اور پھر اسے سیاہ کوڑا بنادیا۔'' اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ہر چیز کی چمکتی دمکتی ابتدا وعروج اور پھر جلد ہی بھولا بسرا فنا وزوال سمجھانا چاہتے ہیں۔ خود تدبر قرآن میں غامدی صاحب کے ''امام'' امین احسن اصلاحی نے جہاں قرآن میں دوسرے مقام پر ''غثاء'' کا لفظ آیا ہے اس کا ترجمہ خس وخاشاک ہی کیا ہے: ''فأخذتھم الصیحۃ بالحق فجعلنھم غثاء'' (المؤمنون: 41) ''تو ان کو ایک سخت ڈانٹ نے شدت کے ساتھ آدبوچا۔ تو ہم نے ان کو خس وخاشاک کردیا۔'' (تدبر قرآن: جلد5، صفحہ 312)
ع جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی!
غامدی صاحب اور ان کے شیخ اجل کے ذوق اختلاف اور شوق اجتہاد نے یہاں ان سے وہ سنگین غلطی کروائی ہے، جس سے ان کی اہلیت کی قلعی بالکل اس طرح اتر گئی ہے جیسے نقلی زیور کی پالش ایک دھوپ کھاتے ہی پول کھول دیتی ہے۔
 دوسری مثال:

''وَالسَّمَاءَ بَنَیْنٰھَا بِأَیْدٍ وَّإِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ.'' (الذاریات: 47)

غامدی کے شیخ اور امام، اصلاحی صاحب اس آیت کا یہ ترجمہ کرتے ہیں: ''اور آسمان کو ہم نے بنایا قدرت کے ساتھ اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔'' پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''أیدٍ کے معروف معنی تو ہاتھ کے ہیں لیکن یہ قوت وقدرت کی تعبیر کے لیے بھی آتا ہے۔ '' (تدبر قرآن: 626\7)
 اس مقام پر مولانا اصلاحی صاحب کی سنگین غلطی یہ ہے کہ انہوں نے لفظ ''أید'' کو ''ید'' کی جمع سمجھ لیا جو کہ قطعاً غلط ہے۔ ''أید'' کے معنی طاقت اور قوت کے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے: ''واذکر عبدنا داؤد ذاالأید'' اور ہمارے بندے داؤد کا تذکرہ بیان کرو جو قوت والا تھا۔ جمہور مفسرین نے اس کی تصریح کی ہے۔ اب سوچنے کی یہ بات ہے کہ جو لوگ قرآنی الفاظ کے مادوں (Roots) ہی سے بے خبر ہوں اور اس کے دو مختلف الفاظ میں امتیاز نہ کرسکتے ہوں، ان کی عربیت پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ اور جب استاد کی عربیت کا یہ حال ہے تو شاگردوں کی تفسیر اور من مانے اجتہادات کا کیا حال ہوگا؟؟
 پورے فراہی مکتب فکر کامسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کے متد اول معانی کے بجائےغیر معروف و شاذ معانی اختیار کرتا ہے۔ اقوال صحابہ کرام اور تابعین پر اعتماد کرنے پیش کرنے کے بجائے کلام جاہلی سے مثالیں اٹھاتے ہیں۔ جیسے سورہ الزاریات کی آیت ’’المقِّسمٰت امراً‘‘کی تفسیر میں مولانا فراہی اور غامدی نے لغت سےمددلی ، جبکہ تمام مفسرین طبری ، قرطبی، ابن کثیر وغیرہ رحمہ اللہ جنہوں نے اس دو لفظی آیت کی تفسیر سیدنا علی، سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ ابن عباس رضوان اللہ اور ان شاگردوں سے روایت کی ہے 'نے ’’فالمقسمٰت أمراً‘‘ کے معنی فرشتے دیے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف امورِ دنیا پر مامور ہیں اور یہی معنی دوسری صدی ہجری کے دو قدیم ماہرین لغت قرآن الفراء اور ابو عبیدہ معمر بن المثنی نے بھی دیے ہیں۔حتی کہ مشہور عقلیت پسند (معتزلی) مفسر زمخشری نے بھی ان آیات کے وہی معنی بتائے ہیں۔چلیں فراہی اور غامدی قدیم مفسرین کو تو درخور اعتناء نہیں سمجھتے تھے لیکن یقین ہے کہ وہ لغت پسندی کی وجہ سے ان دونوں ماہرین لغت کے مرتبے سے تو واقف تھے پھر بھی یہ لکھ گئے ہیں.
 ’’جب یہ ثابت ہوگیا کہ سید نا عمراور سید نا علی ، حضرت عبداللہ بن عباس، اور دسیوں تابعین اور ان کے فوراً بعد دو قدیم ترین مشہور ماہرین لغت نے ان چار آیات کے معانی چار مختلف چیزیں بتائی ہیں تو ان کی اس رائے کی کوئی وقعت نہیں رہتی کہ یہ بات نظائر قرآن اور کلام عرب کے خلاف ہے‘‘۔
 کیا تیرہ سو سال بعد کا ایک عجمی مصنف ان لوگوں سے زیادہ کلام عرب کا راز داں ہوسکتا ہے۔؟ !! یہ ہے وہ غرور علمی جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور اسکو تحقیق اور فقہی اختلاف کا نام دیا جارہا ہے۔
تحریفِ قرآن کی چند مختصر مثالیں:
غامدی صاحب کے ہاں تحریف قرآن، تلعب بالقرآن اور مذموم تفسیر بالرائے کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ تفصیلی مثالوں کے بعد ذیل میں ہم ان کی کتاب ''البیان'' سے چند مختصر مثالیں پیش کرتے ہیں۔ (1)سورۃ اللہب میں

(1)''تَبَّتْ یَدَآ أبِیْ لَھَبٍ''

کا ترجمہ یہ کیا ہے: ''ابولہب کے بازو ٹوٹ گئے۔'' پھر اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ''یعنی اس کے اعوان وانصار ہلاک ہوئے۔'' (البیان ص: 260،) کوئی بتائے کہ جناب نے ''ید'' (ہاتھ) کا ترجمہ بازو کس قانون سے کیا ہے؟
 (2)سورۃ الاخلاص میں

''قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أحَدُ''

کا ترجمہ اس طرح کیا ہے: ''وہ اللہ سب سے الگ ہے۔'' (البیان، صفحہ: 261) ''أحد'' کا ترجمہ ''الگ'' کس قاعدے سے کیا گیا ہے۔ یہ تو ''أبداً، أحدٌ'' کی تختی پڑھنے والے بچے بھی جانتے ہیں کہ ''أحد'' کے معنی ایک ہیں۔
(3)سورۃ الفیل میں

''تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ''

کا ترجمہ کیا ہے: ''تو پکی ہوئی مٹی کے پتھر انہیں مار رہا تھا۔'' (البیان، صفحہ 240) آگے تفصیل میں غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ پتھر قریش کے لوگوں نے لشکر پر برسائے تھے اور پرندے صرف نعشیں نوچنے آئے تھے(شاید غامدی صاحب کے نزدیک یہ بھی اللہ کی طرف سےآنے والے عذاب کی ایک شکل ہے ) ۔ حالانکہ سلف سے خلف تک، تمام مفسرین کرام کا اتفاق اور اجماع ہے کہ اللہ نے پرندے بھیجے تھے جنہوں نے ابرہہ کے لشکر پر سنگ ریزوں اور کنکروں کی بارش کردی اس کے نتیجے میں ہاتھیوں سمیت پورا لشکر تباہ و برباد ہوگیا، آیت کے الفاظ(ارسل علیہم طیرا ابابیل) بھی اسی کی گواہی دے رہے ہیں۔ غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے تَرْمِیْھِمْ کا مطلب کسی چیز کو بازو یا فلاخن کے ذریعے پھینکنے کے معنی میں لیا ہے حالانکہ یہ بلندی سے نشانہ باندھ کر کوئی چیز نیچے گرانے کے معنی میں بھی ہیں ۔ قرآن کی دوسری آیات بھی گواہ ہیں کہ قرآن میں جہاں کہیں کسی قوم کی ہلاکت و بربادی کے سلسلے میں أَلَمْ تَرَ‌، اَرْسَلَ عَلَیْھِمْ کے الفاظ آئے ہیں، واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے عذاب کے لئے آئے ہیں اور حجَارَة مِّنْ سِجِّیْل کے الفاظ بھی ۔ جیسا کہ سورةالحجر کی آیت 74 میں آئے ہیں وہاں بھی کسی انسان کی طرف سے پتھر پھینکنے گئے پتھروں کے لیے نہیں آئے:جَعَلْنَا عَـٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْ‌نَا عَلَيْهَا حِجَارَ‌ةً مِّن سِجِّيلٍ...﴿ سورۃ ھود ٨٢﴾. ''پھر ہم نے اُس (بستی) کو زیر و زبر کردیا اور اُن لوگوں پر کھنگر کے پتھر برسا دیے۔''
 (4)سورۃ البروج میں

''قُتِلَ أصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ. النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدُ.''

کا یہ ترجمہ کیا ہے: ''مارے گئے ایندھن بھری آگ کی گھاٹی والے۔'' (البیان، صفحہ: 157) اور پھر اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے: ''یہ قریش کے ان فراعنہ کو جہنم کی وعید ہے جو مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے ظلم وستم کا بازار گرم کیے ہوئے تھے۔'' (البیان، صفحہ 157) غامدی صاحب سے پہلے دنیا کے کسی مفسر نے اس آیت کا مصداق قریش کو نہیں قرار دیا ۔ یہ تو پچھلی قوموں میں سے ''خندق والوں'' کے نام سے مشہور قصے کا ذکر ہے جو جمہور مفسرین کے مطابق یمن میں پیش آیا تھا۔
 قارئین محترم! یہ ہیں سابقہ محمد شفیق اور حالیہ جاوید احمد غامدی صاحب کی قرآن دانی اور قرآن فہمی کی حقیقت ۔لے دے کے آنجناب کی پونجی میں ایک چیز ایسی رہ جاتی ہے جس کی بنا پر وہ پاکستان کے سب سے بڑے اسکالر ہونے کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور وہ ہے جدید علوم سے واقفیت اور انگریزی دانی۔ آیئے! لگے ہاتھوں انکے اس دعوے کی حقیقت کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں ۔

 غامدی صاحب کی انگریزی دانی:.
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)
دبستان غامدی سے وابستہ جدیدیت پسندوں کا دعوی ہے کہ حضرت الشیخ الغامدی کئی زبانوں کے ماہر ہیں۔ انگریزی میں مہارت کے ثبوت میں آنجناب کی انگریزی میں فرمائی گئی شاعری کو پیش کیا جاتا ہے۔ یہ شاعری 64 مصرعوں پر مشتمل چار نظموں کو ''محیط'' ہے اور قطع نظر اس کے کہ عربی نثر سے زیادہ بے تکی، مضحکہ خیز اور غنائیت، سلاست وشعریت سے محروم ہے، اسے سرقے کا عالمی شاہکار کہا جاسکتا ہے۔ غامدی صاحب کی یہ چار نظمیں انگریزی کے مشہور شعرا کے کلام سے 'سرقہ' کی گئی ہیں ۔ یقین نہ آئے تو منسلکہ موازنہ پڑھ لیجیے اور غامدی صاحب کے حوصلے کی داد دیجیے کہ کس بے باکی اور جی داری سے نامی گرامی شعرا کی مشہور زمانہ نظموں سے سرقہ کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمیں اس پر تعجب تو ہوا لیکن کچھ خاص نہیں اس لیے کہ حضرت غامدی صاحب جب صحابہ کرام وتابعین عظام رضی اللہ عنہم نیز ائمہ مجتہدین اور اُمت کے اکابرین کے علمی مقام ومرتبے کا لحاظ نہیں رکھتے تو انگریزی شعرا کی کیا حیثیت کہ ان کے کلام پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے انہیں کچھ جھجھک محسوس ہوئی ہوگی یا تکلف آڑے آیا ہوگا۔

غامدی صاحب کی جدید علوم سے واقفیت:.
اس بات کا پرچار بھی بڑے زوروشور سے کیا جاتا ہے: ''غامدی صاحب، مغربی فکر وفلسفے پر عبور رکھتے ہیں جبکہ علمائے کرام اگرچہ دینی علوم میں رسوخ رکھتے ہیں لیکن جدید علوم اور سائنس وفلسفہ سے آشنا نہیں اس لیے سکہ بند قول تو وہ ہے جو حضرت الغامدی صاحب کی زبان عالی سے ارشاد ہو۔ مانا کہ غامدی طبقہ کو عربی یا انگریزی نہیں آتی، اسلامی علوم میں عبور نہیں، لیکن یہ پڑھا لکھا روشن خیال طبقہ مغرب اور مغربی علوم سے تو واقف ہے۔'' واقعہ یہ ہے کہ قدیم یونانی منطق و فلسفہ (جس میں اہل مدارس محققانہ بصیرت رکھتے ہیں) کی طرح غامدی صاحب اور ان کے شاگردان رشید جدید مغربی فلسفہ اور جدید سائنس کی حقیقت سے بھی واقف نہیں۔ اس کی دو دلیلیں ہیں:
 (1)غامدی صاحب کے قائم کردہ اکیڈمی ''المورد'' کے نصاب میں جدید علوم، فلسفہ، سائنس، سوشل سائنسز شامل تھے نہ ہیں۔ یونانی فلسفہ تو ویسے ہی شامل نہیں۔ مغربی فکر وفلسفے پر پورے غامدی مکتب فکر کا کوئی کام نہیں۔ اور غامدی صاحب تو کیا ان کے استاذ محترم امین احسن اصلاحی صاحب اور استاذ الاستاذ حمید الدین فراہی صاحب دونوں حضرات بھی مغربی فکر وفلسفے سے قطعاً ناواقف تھے۔ جب بانیان مکتب کا یہ حال ہے تو وابستگان مکتب کی حالت جانچنا کچھ مشکل نہ ہونا چاہیے۔ مزیدان بیس پچیس سالوں کے ''دانش سرا'' کراچی سے لے کر ''المورد'' لاہور تک غامدی صاحب کے کام کو اگر دیکھا جائے تو آنجناب کی تمام تر قوت اسلامی اقدار اور روایات کو متنازعہ بنانے، مسلمانوں کو اسلام کی مبارک حدود وقیود سے آزادی دلانے اور اکابرین امت کی توہین وتردید پر صرف ہورہی ہے۔ ان کی تحریر وتقریر میں اسلام کے مسلمہ اُصولوں اور اجماعی مسائل کے خلاف تو آپ کو بہت کچھ ملے گا لیکن کسی ایک تحریر یا تقریر میں۔۔۔۔۔۔ میں دہراتا ہوں۔۔۔۔۔۔ کسی ایک تحریر یا تقریر میں مغربی استعماریت، صہیونیت، صلیبیت، جدیدیت، سرمایہ داریت، اشتراکیت او رمستشرقین کے اسلام پر رکیک حملوں اور نازیبا الزامات کے خلاف ایک لفظ نہیں ملے گا۔ ان کا سارا زور اس پر ہے کہ ٹوپی نہ پہنی جائے۔ شلوار گھسیٹ کر چلا جائے۔ عورت کے سرپر چادر نہ رہے، وہ مردوں سے بے حجابانہ ہاتھ ملائے اور بے باکانہ گفتگو کرے ، موسیقی سنی جائے تاکہ اسلام کی وہ حقیقی شکل لوگوں کے سامنے آئے جو ملاؤں نے ''چھپا'' رکھی ہے۔ جناب کا اس سے جو وقت بچ جائے وہ مولویوں کی برائی اور غیبت میں صرف ہوتا ہے کہ انہیں کچھ اتا پتا نہیں، یہ صرف فرقہ واریت پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ خود آنجناب کی بھی پاکستانی معاشرے میں رائج برائیوں، بدعنوانیوں اور بے دینی کے رجحانات ختم کرنے پر کوئی توجہ ہے نا دینی علوم یا مغربیت کی لادینیت، جدید فلسفہ، جدید فتنہ خیز نظریات، سائنس، ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ خبر ہے اور نہ ان کے حلقے میں ایسے افراد ہیں جو ان چیزوں کا ذوق رکھتے ہوں۔ البتہ ملا حضرات نہ صرف راسخ علم اور استعداد رکھتے ہیں بلکہ وہ اسلامی تحقیقات اور عصر حاضر کے بارے میں بدرجہا بہتر اور تازہ معلومات رکھتے ہیں اور ہرجدید مسائل پر دینی نقطہ نظر اور مدلل اور معقول تشریحات پیش کرچکے ہیں، فلسفہ کے موضوع پر علما کی پانچ کے قریب کتابیں تو ہمارے اس بلاگ پر بھی موجود ہیں۔
 (2) غامدی صاحب نے ساٹھ سال کی عمر تک کتابی شکل میں اُردو نثر کے نو سو صفحات تحریر فرمائے ہیں۔ ان تمام تحریروں میں ایک جگہ کے علاوہ کسی مغربی فلسفی یا مفکر کا کوئی حوالہ نہیں ملتا اور جو پہلا اور آخری حوالہ مغربی فلسفی ہیگل کا انہوں نے دیا ہے وہ مکمل طورپر غلط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم وجدید علوم کا جامع ہونے کی حقیقت کیا ہے؟ یہ حضرات جو جدید فلسفہ پر ایک سطر نہیں لکھ سکے جدید فلسفیانہ مباحث کو سمجھنے یا اس پر نقد کرنے کی کیا اہلیت رکھتے ہوں گے؟

 بھان متی کا کنبہ:.
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ غامدی صاحب نے اپنی اس لیول کی 'قابلیت 'کے باوجود اتنا علمی مواد کیسے لکھ لیا ہے، بہت سےلوگووں نے اس پر تحقیق کی، جو کچھ سامنے آیا وہ اندازے کے مطابق اور دلچسپ تھا، چند اشارے ملاحظہ فرمائیں : قانون میراث پر انکی تحقیق ابوالجلال ندوی کے مضمون میراث اور اسلم جیراج پوری کے الوارثت فی الاسلام کا "کامل سرقہ" ہے ۔ زکوۃ اور میراث پر غامدی صاحب کے سرقوں کی مزید حقیقت معلوم کرنے کے لیے ادارہ تحقیقات اسلامی کے سابق صدر ڈاکٹر فضل الرحمن کی تحریرات اور ابو الجلال ندوی کی کتاب ربوہ ،زکوۃ اور ٹیکس دیکھی جاسکتی ہے ۔قرآن سے مختلف فقہی مسائل کا استنباط عمر عثمانی اور طاہر مکی کی کتاب فقہ القرآن کے دلائل، آثاراور امثال کی "حسین نقل" ہے ۔ رجم پر غامدی صاحب کی تمام تحقیق اور تکبر، تملق وتفرد اور صرار درحقیقت فقہ القرآن کی ہی ا یک جلد " حقیقت رجم " کا سرقہ ہے ۔ رجم کا سورہ مائدہ سے اثبات و استدلال حمید الدین فراہی کے موقف کا اعادہ ہے ۔ میزان کے کئی صفحات امین احسن اصلاحی کا لفظ بلفظ سرقہ ہیں، البیان میں غامدی صاحب کا نقظہء نظر کہ یہود ونصارى جنتی ہیں ، جو بھی توحید کا اقرار کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے وہ جنتی ہے ۔ رسالت محمدی صلى اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں، وحدت ادیان قرآن سے ثابت ہے، جن یہودیوں اور نصرانیوں سے قرآن نے ترک موالات کا حکم دیا وہ خاص جزیرۃ العرب کے تھے آج کے نہیں وغیرہ' وحدت ادیان کے عالمی مکتبہ فکر روایت کے بانی " رینے گینوں" کا تتبع اور " مارٹن لنگز" کے مضمون "wtth all thy mind"کا ہو بہو سرقہ ہے ، سنت ابراہیمی کی روایت کا ملحدانہ استدلال " جواد علی" کی کتاب " المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام" کی معلومات سے سرقہ کیا گیا ہے ۔ بنو امیہ، بنوعباس کی تاریخ، واقعہ کربلا ، اور شہادت حسین کے واقعات پر مبنی تاریخ سے انکار کا غامدی نقطہ نظر انکا ذاتی نہیں بلکہ حکیم محمود عباسی ،حکیم علی احمد عباسی ،حبیب الرحمن کاندھلوی اور مفتی طاہر مکی کی فکر کا چربہ ہے ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے سلسلے میں غامدی صاحب کی تحقیق حکیم نیاز احمد کی کتاب کا حرف بحرف چربہ ہے ، غامدی صاحب کی انگریزی شاعری جو چار نظموں اور چونسٹھ مصرعوں پر محیط ہے " شکسپیئر" اور "کیٹس " کی شاعری سے چرائے گئے مصرعے ہیں۔ 

چند عاجزانہ گزارشات:. 
٭۔۔۔۔۔۔غامدی صاحب سے درخواست ہے کہ آپ نے آج تک اسلام کے دفاع اور مستشرقین کے اسلام پر حملوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا، نہ سہی، لیکن خدارا! امت کے اجتماعی اور متفقہ مسائل میں اختلاف کا رخنہ ڈال کر اپنا اور قوم کا ایمان برباد نہ کیجیے۔ ایک نئے فرقے کا اضافہ نہ کیجیے اور روز محشر کی حشر سامانیوں سے ڈریے! جہاں کوئی سایہ، کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی۔ آپ آج خلق خدا کے سامنے اپنے ایک دعوے کو درست ثابت نہیں کرسکتے، کل عالم الغیب کے سامنے امت کی بھنور میں پھنسی کشتی کو مزید ہچکولے دینے پر کیا جواب دیں گے؟
٭۔۔۔۔۔۔غامدی صاحب کے شاگردوں سے گزارش ہے کہ وہ ہر طرح کے تاثر اورتعصب سے پاک ہوکر پیش کیے گئے دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں سوچیں اور غور کریں کہ کہاں اجتہاد کا مقدس علمی منصب اور کہاں یہ ہفوات اور علمی سرقے؟ جو شخص عربی کی ابتدائی باتیں نہیں جانتا، اپنا نام صحیح نہیں لکھ سکتا، اسے اپنا امام، شیخ یا مقتدا ماننا اور اس کی تقلید کرتے ہوئے امت کے متفقہ موقف سے انحراف کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟
 ٭۔۔۔۔۔۔ چینل مالکان جو غامدی حضرات کو اہل علم ودانش سمجھ کر اپنے چینل پر وقت دیتے ہیں ' سے عرض ہے کہ وہ بلاوجہ دہرے گناہ بے لذت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ قوم کے نظریات میں بھی الحاد پیدا ہورہا ہے اور علم کے نام پر جہالت اور دین کے نام پر بے دینی بھی پھیل رہی ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔میرے جو ہم مذہب وہم وطن بھائی غامدی صاحب کی علمیت وصلاحیت اجتہاد کے معترف ہیں ازراہ کرم وہ اتنا کرلیں کہ کسی پروگرام کے سوال وجواب کے سیشن میں ان سے یا ان کے شاگردوں سے پوچھ لیجیے کہ آپ عربی ، انگلش كی چند سطریں درست طرح سے نہیں لکھ سکتے تو ضخیم تفاسیر اور ذخیرہ احادیث سے کیسے استفادہ کرلیتے ہیں؟ چلیں جانے دیجیے بائیس صفحات ضرب بائیس اغلاط کو، صرف مذکورہ بالا عربی جملے (جو مضمون کے شروع میں گزرے) کا مطلب بتادیجیے۔ اگر غامدی مکتب فکر کے دو تین مجتہدین اور پانچ دس مفکرین مل کر اپنے مجتہد اعظم کے ایک جملے کو درست ثابت نہیں کرسکتے تو میرے سادہ لوح ہم وطن بھائیوں کو مان لینا چاہیے کہ اصل ورثاءعلوم نبوت ، علمائے حق جو بات کررہے ہیں فی اللہ کہہ رہے ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔میرے جوجدید تعلیم یافتہ نوجوان دوست علمائے کرام کے بیانات میں دلچسپی نہیں لیتے کہ اس کے لیے ٹوپی پہن کر مسجد جانا پڑتا ہے اور چینلوں پر آنے والے ڈاکٹرز، اسکالرز کو پسند کرتے اور ان کی آزاد خیالی سے لطف اندوز ہوکر ان کو دین کا حقیقی ترجمان سمجھتے ہیں، ان سے التماس ہے کہ منسلکہ شاعری پڑھیے۔ یہ بے جا اور مضحکہ خیز کلام کیا اس قابل نہیں کہ Percy Wyndham Lewis کی مرتبہ کتاب The Stuffed owl میں شامل کیا جاسکے؟ آپ کو تو معلوم ہوگا کہ اس کتاب کے مرتب نے انگریزی کے بھونڈے اشعار سے نادر انتخاب کیا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے سوچیے! کیا آپ کا دل مانتا ہے جو شخص عالمی سطح کے معروف کلاسیکل لٹریچر پر اس دھڑلے کے ساتھ ہاتھ صاف کرسکتا ہے وہ آپ کو قرآن وحدیث کے حوالے دیتے وقت (جن کا پس منظر آپ قطعاً نہیں جانتے) انصاف ودیانت سے کام لیتا ہوگا؟نہیں میرے عزیز! ہرگز نہیں۔ غامدی صاحب توبہ کریں نہ کریں آپ کو ان کی عقیدت سے توبہ کرلینی چاہیے۔ جو لوگ حقیقت میں دین کی سمجھ رکھتے ہیں، دینی علوم کے شعبہ سے وابستہ ہیں ، وہ جیسے بھی ہوں کم ازکم دینی معلومات کی فراہمی میں بددیانتی سے کام نہیں لیتے۔ یہ وہ وصف ہے جو آپ کو نام نہاد ڈاکٹرز، اسکالرز کے ہاں نہ ملے گا۔ کسوٹی ہم نے آپ کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ حقیقت کو پرکھنا اور ہدایت کی تلاش کرنا آپ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرمائے اور ہر قسم کے فتنے سے میری اور آپ کی حفاظت فرمائے۔
مکمل تحریر >>

اتوار، 8 ستمبر، 2013

غامدی صاحب اور انکے اساتذہ

 جاوید احمد غامدی صاحب  کا آج کل بڑا غلغلہ ہے, وطن عزیز کا کوئی درخت ایسا نہیں جس کی شاخوں پر ان کا طوطی نہ بولتا ہو۔ بہت سے  جدید تعلیم یافتہ نوجوان انکے لیکچر  سنتے  اور پڑھتے ہیں  اور غامدی صاحب  کی چرب زبانی معاف کیجیے گا طاقت لسانی   و دلائل سے  قائل بلکہ گائل ہوتے جاتے  ہیں ۔ ہمیں  پچھلے دو تین سالوں  سے  فورم، ویب سائیٹس، فیس بک  وغیرہ پر  غامدی صاحب کے شئیر ہونے والے آرٹیکلز، ویڈیو میں   انکے فرمودات سننے کو ملتے رہے،   ان ابحاث  میں جہاں ضرورت محسوس ہوتی تھوڑی بہت  بات کرلیتے ،   کافی عرصے سے یہ ارادہ  کیے ہوئے تھے  کہ   موصوف کے قرآن، و سنت، اجماع امت اور چودہ سو سالہ تعامل کے خلاف انوکھے اور جدید نظریات پر باقاعدہ کوئی تحریر لکھی جائے، لیکن جناب  کےمتعلق  تحریر کا جو خاکہ ہمارے ذہن میں بنتا تھا  اس کو  تحریر ی  شکل  میں منتقل کرنے کے لیے  کافی ٹائم   درکار تھا ،  آخر رمضان اور پھر عید کی چھٹیوں  میں موقع ملا اور  جناب کے متعلق کچھ  لکھنا شروع کیا ۔  وہی ہوا جس کا ہمیں ڈر تھا ، تحریر اتنی طویل ہوگئی کہ ہم اب اسے تین حصوں میں شائع کرنے پر مجبور ہیں۔
 ہمیں احساس ہے کہ دورِ حاضر کے ”مجتہدین“ و ”محققین“ اور ان کا حلقہ ہماری اس سعی و کوشش کو دیوانے کی بڑ سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں دے گا، لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ  سادہ لوح  یا  ذیادہ دینی علم نہ رکھنے  والے  مسلمان، جو دین کے نام پر ایسے لوگوں کی طلاقت لسانی، چرب زبانی اور الٹے سیدھے فلسفے سے متاثر ہوکر، دین و شریعت کے متعلق غلط فہمی کا شکار ہورہے ہیں، ان کے سامنے جب تصویر کا دوسرا رخ آئے گا تو کم از کم وہ اس پر غور و فکر کئے بغیر بھی نہیں رہیں گے۔ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ غلط فہمی کے شکار ایسے مخلصین کے سامنے جب یہ حقیقت کھلے گی کہ غامدی صاحب دین، شریعت، مذہب اور ملت کے خلاف اسی فکر و فلسفہ کے علمبردار ہیں، جس کے داعی مرزا غلام احمد قادیانی اور چوہدری غلام احمد پرویز تھے اور یہ صاحب در حقیقت ان کی فکر و فلسفہ کو تحفظ دینے اور اس کو پروان چڑھانے کے لئے میدان میں اترے ہیں اور ان کے پیچھے بھی وہی قوتیں ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی، چوہدری غلام احمد پرویز اور ڈاکٹر فضل الرحمن کے پیچھے تھیں، تو یقینا وہ اس کی اقتداء سے نہ صرف باز آجائیں گے بلکہ ممکنہ حد تک دوسروں کو بھی اس فتنہ سے بچانے کی سعی و کوشش کریں گے۔ جاوید احمد غامدی پچھلے دس سالوں سے سرکاری سرپرستی، اسلامی نظریاتی کونسل کی بیساکھیوں اور ٹی وی مذاکروں اور پروگراموں کی ”برکت“ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے  ہیں،  عین ممکن ہے کہ میرے جیسے کم علم ”کٹھ ملا“ ”تنگ نظر“ ”شدت پسند“ ”بنیاد پرست“ اور ”انتہا پسند“ کی بات کا، غامدی صاحب جیسے: ”تجدد پسند“ ”کھلے دماغ“ اور ”مجتہدانہ صلاحیتوں کے مالک“ ”حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرا ر دینے کے منصب پر فائز“ ”جدید دین و شریعت کے موجد“دورِ حاضر کے تقاضوں سے میل نہ کھانے والے دین سے آزادی دلانے اور اس کی دورِ حاضر کے تقاضوں سے میل کھاتی جدید تعبیر و تشریح کرنے والے روشن دماغ اسکالرکے مقابلہ میں کوئی وزن نہ ہو، یا اس کو سننے، سمجھنے یا اس پر غوروفکر کے لئے کوئی تیار نہ ہو، تاہم ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے احقاق حق کریں اور قرآن و سنت اور دین و شریعت کی روشنی میں جو بات صحیح ہو، اس کو صحیح اور جو غلط ہو، اس کو غلط کہیں اور لکھیں، ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں اور نہ ہی گمراہی سے بچاسکتے ہیں، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت و ایمان کو اسباب کے ساتھ جوڑا ہے، اس لئے ہم ان اسباب کو اپنانے اور اختیار کرنے کے مکلف ہیں اور یہ کہ قیامت کے دن ہم سے پوچھا جائے گا کہ فلاں دور میں فلاں، فلاں لوگوں نے امت کو گمراہ کرنے کی سازشیں کی تھیں تو آپ لوگوں نے ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کے دین و ایمان کو بچانے کے لئے کہاں تک اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا تھا؟ یا اس کے سدباب کے لئے کیا کیا تھا؟
جناب جاوید احمد غامدی صاحب کون ہیں؟ ان کا علمی پس منظر کیا ہے؟ انہوں نے کہاں پڑھا؟ کیا پڑھا؟ ان کے پاس دینی و عصری علوم کی کوئی سند یا ڈگری ہے یا نہیں؟ وہ کس کے تربیت یافتہ ہیں؟ وہ کن کے علوم و افکار سے متاثر ہیں؟ ان کے اساتذہ کون تھے؟ وہ ایک دم کہاں سے نمودار ہوئے؟ اور دیکھتے ہی دیکھتے کیسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے؟ ان کو ٹی وی پر کون لایا؟ وہ اسلامی نظریاتی کونسل میں کیسے داخل ہوئے؟ ؟ انہیں اپنی فکر و فلسفہ کے پروان چڑھانے میں کن لوگوں نے تعاون کیا؟ یہ وہ  سوالات ہیں جن سے غامدی صاحب کے بہت سے سامعین ، قارئین  و عاشقین بے خبر ہیں  !۔ کہتے ہیں کہ انسان اپنے استاذوں سے اور استاذ اپنے شاگردوں سے پہچانا جاتا ہے۔ آیئے! اس حوالے سے ایک شاگرد، استاذ اور استاذ الاساتذہ کی سوانح اور کردار وعمل کا جائزہ لیتے ہیں ۔
 :حمیدالدین فراہی 
یہ 1900ء کا ذکر ہے۔ ہندوستان پر برطانوی سامراج کی دوسری صدی چل رہی تھی۔ ہندوستان کا وائسرائے مشہور ذہین اور شاطر دماغ یہودی ''لارڈ کرزن'' تھا۔ ان صاحب کو مسلمانوں سے خدا واسطے کا بیر اور صہیونی مقاصد کی تکمیل کا شیطانی شغف تھا۔ انگریز نے برصغیر کی زمین پاؤں تلے سے کھسکتے دیکھ لی تھی۔ سونے کی ہندوستانی چڑیا کے پر وہ نوچ چکا تھا۔ اب مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی دریافت اور ارض اسلام کو اپنے گماشتوں میں تقسیم کرنے کا مرحلہ درپیش تھا۔ لارڈ کرزن کو انگریز سرکار کی جانب سے حکم ملا تھا کہ وہ خلیج عرب کے ساحلی علاقوں میں مقیم عرب سرداروں سے ملاقات کرے اور مطلب کے لوگوں کی فہرست بنائے۔ خلیج عرب کے ساحلی علاقوں سے مراد کویت، سعودی عرب کا تیل سے لبالب مشرقی حصہ جو اس وقت آل سعود کے زیرنگیں تھا، نیز بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات میں شامل سات مختلف ریاستیں اور عمان ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل اور امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ ریت پر لکیریں کھینچ کر ''جتنا کم اتنا لذیذ'' کے اُصول پر عمل کرتے ہوئے جس طرح کیک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے ہیں اسی طرح ''جتنا مالدار اتنا چھوٹا'' کے اصول پر عرب ریاستیں اپنے دوست عرب سرداروں میں تقسیم کرچکے تھے۔ اب اس تقسیم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فیلڈ ورک کی ضرورت تھی اور لارڈ کرزن اپنے مخصوص یہودی پس منظر کے سبب یہ کام بخوبی کرسکتا تھا۔
لارڈ کرزن خلیج عرب کے خفیہ دورے پر فوری روانہ ہونا چاہتا تھا اور اسے کسی معتمد اور رازدار عربی ترجمان کی ضرورت تھی۔ برصغیر میں عربی اس وقت دو جگہ تھی۔ یا تو دارالعلوم دیوبند اور اس سے ملحقہ دینی مدارس، یا پھر علی گڑھ کا شعبہ عربی۔ اول الذکر سے تو ظاہر ہے کوئی ایسا ٹاؤٹ ملنا دشوار تھا۔ لارڈ کرزن کی نظر انتخاب اسی طرح کی مشکلات کے حل کے لیے قائم کیے گئے ادارہ علی گڑھ پر پڑی وہاں ایک مانگو تو چار ملتے تھے۔ مسئلہ چونکہ وائسرائے ہند کے ساتھ خفیہ ترین دورے پر جانے کا تھا جس کے مقاصد اور کارروائی کو انتہائی خفیہ قرار دیا گیا تھا اس لیے کسی معتمد ترین شخص کی ضرورت تھی جو عقل کا کورا اور ضمیر کا مارا ہوا ہو۔ سفارشوں پر سفارشیں اور عرضیوں پر عرضیاں چل رہی تھیں کہ خفیہ ہاتھ نے کارروائی دکھائی اور علی گڑھ کے سر پرستان اعلیٰ کی جانب سے ایک نوجوان فاضل کا انتخاب کرلیا گیا۔ لارڈ کرزن صاحب کو ان کی عربی دانی سے زیادہ سرکار سے وفاداری کی غیرمشروط یقین دہانی کرادی گئی اور یوں یہ عجمی عربی دان مسلمان ہوکر بھی اس تاریخی سفر پر انگریز وائسرائے کا خادم اور ترجمان بننے پر راضی ہوگیا جس کے نتیجے میں آج خلیجی ریاستوں میں استعمار کے مفادات کے محافظ حکمران  کلا گاڑے بیٹھے ہیں اور امریکی وبرطانوی افواج کو تحفظ اور خدمات فراہم کررہے ہیں۔
یہ نوجوان فاضل حمید الدین فراہی تھے۔ جو اُترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں ایک گاؤں ''فراہا'' میں پیدا ہوئے۔ آپ مشہور مؤرخ علامہ شبلی نعمانی (1858-1914) کے کزن تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں تعلیم پائی اور MAO کالج میں عربی پڑھاتے رہے۔ لارڈ کرزن کی ہم راہی کے لیے ان کے انتخاب میں علی گڑھ میں موجود ایک جرمنی پروفیسر ''جوزف ہوروز'' کی سفارش کا بڑا دخل تھا جو یہودی النسل تھا اور آپ پر اس کی خاص نظر تھی۔ آپ نے اس سے عبرانی زبان سیکھی تھی تاکہ تورات کا مطالعہ اس کی اصل زبان میں کرسکیں۔ 
لارڈ کرزن صاحب جناب فراہی کی صلاحیت اور کارکردگی سے بہت خوش تھے چنانچہ واپسی پر انہیں انگریزوں کی منظور نظر ریاست حیدر آباد میں سب سے بڑے سرکاری مدرسہ میں اعلیٰ مشاہرے پر رکھ لیا گیا اور آپ نے وہاں سے اس کام کا آغاز کیا جو قسمت کا مارا یہودیوں کا پروردہ ہر وہ شخص کرتا ہے جسے عربی آتی ہو۔ آپ نے اپنے آپ کو قرآن کریم کی ''مخصوص انداز'' میں خدمت کے لیے وقف کرلیا۔ مخصوص انداز سے مراد یہ ہے کہ تمام مفسرین سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کی کہ قرآن کریم کو محض لغت کی مدد سے سمجھا جائے۔ یہ لغت پرست مفسرین دراصل اس راستے سے قرآنی آیات کو وہ معنی پہنانا چاہتے تھے جس کی ان کو ضرورت محسوس ہو اگرچہ دوسری آیات یا احادیث، مفسرین صحابہ وتابعین کے اقوال اس کی قطعی نفی کرتے ہوں۔ درحقیقت قرآن سے ان حضرات کا تعلق، انکار حدیث پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہوتا ہے جیسا کہ تمام منکرین حدیث کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے اس عیب کو چھپانے کے لیے قرآن کریم سے بڑھ چڑھ کر تعلق اور شغف کا اظہار کسی نہ کسی بہانے کرتے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہی حیدر آباد ہے جہاں شاعرِ مشرق علامہ اقبال جیسے فاضل شخص کو محض اس لیے ملازمت نہ مل سکی کہ وہ مغرب دشمن شاعری کے مرتکب تھے لیکن فراہی صاحب پر لارڈ کرزن کا دست کرم تھا کہ حیدر آباد کی آغوش ان کے لیے خود بخود وا ہوگئی اور انہیں ایک بڑے ''علمی منصوبے'' کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ اس منصوبے نے جو برگ وبار لائے انہیں مسلمانان برصغیر بالخصوص آج کے دور کے اہالیان پاکستان خوب خوب بھگت رہے ہیں۔ فراہی صاحب نے ''تفسیر نظام القرآن'' لکھی جس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ کتب خانوں میں تلاش کرنے سے بھی مل کے نہیں دیتی۔ علامہ شبلی نعمانی، فراہی صاحب کے بارے میں اس وقت شدید تحفظات کا شکار ہوگئے تھے جب ان کی بعض غیر مطبوعہ تحریر ''دارالمصنفین'' میں شائع ہونے کے لیے آئیں لیکن ان کی طباعت سے انکار کردیا گیا کہ زبردست فتنہ پھیلنے کا خطرہ تھا۔ فراہی صاحب اپنے پیچھے چند شاگرد، چند کتابیں اور بے شمار شکوک وشبہات چھوڑ کر 1930ء میں دنیا سے رُخصت ہوگئے۔
 :امین احسن اصلاحی 
فراہی صاحب نے حیدر آباد سے منتقل ہونے کے بعد اعظم گڑھ کے ایک قصبے ''سرائے میر'' میں ''مدرسۃ الاصلاح'' نامی ادارہ قائم کیا۔ نام سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ تفسیر کے مسلّمہ اُصولوں کی اصلاح کرکے نئی جہتیں پیدا کرنا چاہتے تھے۔ آپ کے اس مدرسے میں 1922ء میں ایک نوجوان فارغ ہوا جو اساتذہ کا منظور نظر اور چہیتا تھا۔ فراہی صاحب نے اسے دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ مل کر ''قرآن کریم کا مطالعہ'' کرے۔ یہ نوجوان آگے چل کر فراہی صاحب کا ممتازترین شاگرد اور ان کے نظریات وافکار کی اشاعت کا سب سے بڑا ذریعہ بنا۔ یہ جب مدرسۃ الاصلاح میں داخل ہوا تو امین احسن تھا، فارغ ہوا تو ''امین احسن اصلاحی'' (1904-1997) بن چکا تھا۔ اس نے فراہی صاحب کی وفات کے بعد آپ کی یاد میں رسالہ ''الاصلاح'' جاری اور ''دائرہ حمیدیہ'' قائم کیا۔ اصلاحی صاحب انکار حدیث اور اجماع امت کا منکر ہونے کے علی الرغم جماعت اسلامی کے بانیوں میں سے تھے۔ قیام کے دوران مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ 1958ء میں مودودی صاحب سے اختلافات کی بنا پر جماعت سے علیحدہ ہوئے اور وہی کام شروع کیا جو ان کے استاذ نے آخری عمر میں کیا تھا۔ آپ نے ''حلقہء تدبر قرآن'' قائم کیا جس میں کالج کے طلبہ کو قرآن کریم اور عربی پڑھائی جاتی تھی۔ ساتھ ساتھ ''تدبر قرآن'' کے نام سے تفسیر لکھنے میں بھی کامیابی حاصل کی لیکن اسے مقبول کروانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ فراہی صاحب بہرحال عالم فاضل شخص تھے لیکن اصلاحی صاحب اس پائے کے عالم نہ تھے۔ مغربی علوم تو کیا وہ شرعی علوم سے بھی کماحقہ، واقف نہ تھے۔ ان کی تفسیر میں کئی بچگانہ غلطیاں ہیں جن میں سے کچھ اگلے  مضمون میں قارئین کے سامنے پیش کی  جائیں گی ۔ اصلاحی صاحب ہفتہ وار درس بھی دیتے تھے لیکن انکار حدیث، تجدد پسندی اور لغت پرستی نے انہیں اپنے پیش رو استاذ کی طرح کہیں کا بھی نہ چھوڑا  تھا۔آخر خالد سعود اور جاوید غامدی جیسے شاگرد تیار کرکے 1997ء میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔
:(محمد شفیق(جاوید احمد غامدی
قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں پاک پتن کے گاؤں میں ایک پیرپرست اور مزار گرویدہ قسم کا شخص رہتا تھا۔ مزاروں والا خصوصی لباس، گلے میں مالائیں ڈالنا، ہاتھ میں کئی انگوٹھیاں پہننا اور لمبی لمبی زلفیں بغیر دھوئے تیل لگائے رکھنا اس کی پہچان تھی۔ 18 اپریل 1951ء کو اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ نام تو اس کا محمد شفیق تھا لیکن باپ کے مخصوص مزاج کی وجہ سے اس کا عرف کاکوشاہ پڑگیا۔ یہ خاندان ککّے زئی کہلاتا تھا۔ اس طرح اس کا پورا عرفی نام ''کاکوشاہ ککّے زئی'' بنا۔ محمد شفیق عرف کاکوشاہ ککّے زئی جب گاؤں کی تعلیم کے بعد لاہور آیا تو اسے اپ ٹوڈیٹ قسم کا نام رکھنے کی فکر لاحق ہوئی۔ اس نام کے ساتھ تو وہ ''لہوریوں'' کا سامنا نہ کرسکتا تھا۔ سوچ سوچ کر اسے ''جاوید احمد'' نام اچھا معلوم ہوا کہ ماڈرن بھی تھا اور رعب دار بھی۔ اس نے محمد شفیق سے تو جان چھڑالی اب ''کاکو شاہ ککے زئی'' کے لاحقے کا مسئلہ تھا جو کافی سنگین اور مضحکہ خیز تھا۔ لیکن فی الحال اسے اس کی خاص فکر نہ تھی۔ اس زمانے میں اس کا ایک قریبی دوست ہوتا تھا۔"جناب رفیق احمد چوہدری"۔ وہ ان دنوں اور اس روئیداد کے عینی گواہ ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد 1972ء کا دور تھا۔ کاکوشاہ لاہور گورنمنٹ کالج سے بی اے آنرز کرنے کے بعد معاشرے میں مقام بنانے کی جدوجہد کررہا تھا۔ اس کی انگریزی تو یوں ہی سی تھی لیکن قدرت نے اسے ایک صلاحیت سے خوب خوب نوازا تھا۔۔ وہ تھی طاقت لسانی۔ اس کے بل بوتے پر وہ تعلقات بنانے اور آگے بڑھنے کی سعی میں مصروف تھا۔ آخر کار اس کی جدوجہد رنگ لائی اور وہ اپنی چرب زبانی سے پنجاب کے ایڈمنسٹریٹر اوقاف جناب مختار گوندل کو متاثر کرکے اوقاف کے خرچ پر 29جے ماڈل ٹاؤن لاہور میں ''دائرۃ الفکر'' کے نام سے ایک تربیتی اور تحقیقی ادارہ کی داغ بیل ڈالنے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر جلد ہی قدرت نے اسے  مولانا مودودی مرحوم کے سایہ عاطفت میں ڈال دیا تو جاوید احمد کو فوری طورپر جماعتِ اسلامی میں پذیرائی ملی۔ رکنیت مجلس شوریٰ تو چھوٹی شے ہے، اس کے حواری اسے  مولانا مودودی کا ''جانشین'' بتانے لگے ۔ آخرکار جب جاوید احمد کو جماعت اسلامی سے 1957ء میں الگ ہونے والے مولانا امین اصلاحی سے روابط کا شوق مولانا کے قریب تر اور جماعت اسلامی سے مزید دور لے جانے کا باعث بنا۔ آہستہ آہستہ وہ جاوید احمد سے جاوید احمد غامدی ہوگیا۔ اس لقب کی جناب 'جاوید احمد غامد ی صاحب ' دو چار وجوہات بیان کرتے ہیں اور صحیح ایک کو بھی ثابت نہیں کرسکتے۔ حال ہی میں ان کے ایک شاگرد خاص نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ ''اصل میں وہ اصلاحی صاحب سے عقیدت کی وجہ سے اصلاحی لقب رکھنا چاہتے تھے لیکن ''مدرسۃ الاصلاح'' سے فارغ نہ تھے۔ اس لیے غامدی نام رکھ لیا۔'' سبحان اللہ! چھوٹے میاں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ غامدی نہ اصلاحی کے ہم وزن ہے نہ ہم معنی! آخر کس طرح سے اصلاحی سے غامدی تک چھلانگ لگادی گئی؟؟؟ گویا یہ پانچویں وجہ بھی عار ہی عار ہے اور پورا مکتب فکر مل کر اپنے بانی کے نام کی درست توجیہ کرنے سے قاصر ہے۔
2001ء سے قبل غامدی صاحب کی تحریک پروان چڑھ رہی تھی لیکن اسے کسی لارڈ کرزن کی سرپرستی دستیاب نہ تھی۔ 2001ء میں یہ کمی بھی پوری ہوگئی اور ان کے سرپر عصر حاضر کے لارڈ کرزن کا دست شفقت کچھ ایسا جم کرٹکا کہ وہ شخص جو  دینی اور مذہبی علم کسی باقاعدہ مسلمہ دینی درس گاہ کا مرہون منت نہیں، بلکہ اس کا علم جنگلی گھاس کی طرح خود رو ہے، اور ان کی عقل و فہم کسی مسلمہ ضابطہ کی پابند نہیں ہے، جو  عربی کی دوسطریں سیدھی نہیں لکھ سکتا، جو انگریزی کی چار نظموں اور 4مصرعوں کی پونجی میں آدھے سے زیادہ مصرع چوری کرکے ٹانکتا ہے، جس کی اکثر اردو تحریریں سرقہ بازی کا نتیجہ ہے(ان باتوں کی  تفصیل اگلی تحریر میں  آئے گی )، وہ آج ملک کا مشہور ومعروف اسکالر ہے اور اس کا فرمایا ہوا مستند سمجھا جاتا ہے۔ ''ککّے زئی سے غامدی تک'' کے سفر کی روداد عبرت ناک بھی اور الم ناک بھی۔ سچ ہے استاذ اپنے شاگردوں سے ہی پہچانا جاتا ہے اور شاگرد اپنے استاذ کی پہچان کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ''فراہی سے اصلاحی اور اصلاحی سے غامدی تک'' استاذی شاگردی کا سلسلہ اس مقولے کی صداقت کے لیے کافی سے زیادہ شافی، اور درکار ضرورت سے زیادہ پکی سچی گواہی ہے۔
 غامدی صاحب کے متعلق اوپر جو باتیں لکھی گئیں یقینا  یہ   ان کے بہت سے محبین کے لئے نئی ہونگی ،  ایسا  ہوتا ہے جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات، قرآن و سنت، اجماع امت اور دین و مذہب کو بگاڑنے، اکابر و اسلافِ امت کے خلاف بغاوت کرنے اور ان کے خلاف زبان درازی کرنے کی ہمت رکھتے ہوں، وہ دنیا بھر کی اسلام دشمن قوتوں اور مذہب بیزار لابیوں کے منظور نظر بن جاتے ہیں،  ان کے تمام عیوب ونقائص نہ صرف چھپ جاتے ہیں بلکہ اعدائے اسلام ان کی سرپرستی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو اپنا فرض اور اعزاز سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت و سرپرستی کے لئے اپنے اسباب، وسائل، مال و دولت اور خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ نظری، بصری میڈیا کے ذریعے ان کا ایسا تعارف کرایا جاتا ہے کہ دنیا ان کے ”قدوقامت“ اور نام نہاد علمی شوکت و صولت کے سامنے ڈھیر ہوجاتی ہے۔جس طرح آج سے ایک صدی پیشتر ضلع گورداس پور کی بستی قادیان کے میٹرک فیل اور مخبوط الحواس انسان غلام احمد قادیانی کو استعمار نے اٹھایا، اس کی سرپرستی کی اور اس سے دعویٰ نبوت کرایا، ٹھیک اسی طرح دورِ حاضر کے نام نہاد اسکالر جاوید احمد غامدی کا قضیہ ہے، جس طرح غلام احمد قادیانی کا کوئی پس منظر نہیں تھا اور اس میں اس کے سوا کوئی کمال نہیں تھا کہ اس نے مسلمانوں کے قرآن کے مقابلہ میں نیا قرآن، مسلمانوں کے دین کے مقابلہ میں نیا دین اور مسلمانوں کے نبی کے مقابلہ میں نئی نبوت کا اعلان کیا، جہاد جیسے دائمی فریضہ کو حرام قرار دیا اور حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی عقیدہ کا انکار کیا، ٹھیک اسی طرح جناب جاوید احمد غامدی صاحب بھی دین اسلام کے مقابلہ میں نئے ترمیم شدہ دین اور مذہب کی ایجاد کی کوشش میں ہیں اور انہوں نے بھی اپنے پیش روؤں کی طرح منصوص دینی مسلمات کے انکار پر کمر ہمت باندھی ہوئی ہے۔ 
(جاری ہے)

مکمل تحریر >>