پیر, اپریل 29, 2013

نظام خلافت کے متعلق چند غلط فہمیاں

 ہمارے ملک کے سیاستدانوں نے ان ساٹھ سالوں میں   قوم کو جس بری طرح سے  مایوس کیا ہے اس کے بعد ہر شخص تبدیلی  کی آواز لگا رہا ہے ، کچھ  لوگ اس الیکشن میں  تحریک انصاف سے امید لگا ئے  بیٹھے ہیں کہ یہ جماعت آزمائی نہیں گئی  شاید یہ  کچھ بہتر کرجائے ، بہت سے حساس  لوگ اس نظام کو ہی برائی کی جڑ سمجھتے ہوئے  سیاسی نظام کی تبدیلی  کو ضروری  قرار دے رہے ہیں ، بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے سروے میں بھی یہی بات سامنے آئی کہ پاکستانیوں کی اکثریت اسلامی نظام   چاہتی ہے  اور عوامی جگہوں پر بھی  جہاں جہاں  جمہوریت کے مقابلہ میں خلافت  پر بات چیت ہوتی ہے  لوگ   اسلام کے سیاسی نظام کی  تعریف کرتے اوراسلامی تاریخ سے مثالیں  دیتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ   عوام کے سامنے   آج تک خلافت  کے متعلق گہرائی میں بات نہیں کی گئی ،  اس وجہ سے بہت سے لوگوں خلافت کے نظام، ،  سٹرکچر، طریق سے ناواقف ہیں اور عام طور پر نظام خلافت اور نظام جمہوریت  میں فرق صرف  دونوں کے ثمرات  کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے اس کے علاوہ   ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں اسلامی جمہوریت کا جو تصور پیش کیا گیا ہے   اس کی وجہ سے بہت سے لوگ    جمہوریت اور خلافت کو مکس کرجاتے اور اک ہی  نظام سمجھنے لگتے ہیں، (حالانکہ اسلامی جمہوریت کا تصور  پیش کرنے والوں نے بھی  اسکو بالکل خلافت کے قائم مقام قرار نہیں دیا بلکہ انہوں نے  جمہوریت  کی چند شقوں میں تبدیلی ،    تاویل یا تشریخ اسلامی انداز میں کرتے  ہوئے مجبوری  اور چند حکمتوں  کے تحت اس نظام  کو قبول کیا ہے۔ وہ بھی اپنا اصل ہدف خلافتی نظام کو ہی سمجھتے ہیں)۔ چنانچہ  انٹرنیٹ فورمز، بلاگز، سائیٹس پر جہاں جہاں خلافت اور جمہوریت کی بحث ہورہی ہے، وہاں سیکولراور  لبرل طبقہ تو   اپنے مخصوص مقاصد کی وجہ سے  ان کو ایک  قرار دیتا نظر آتا ہے،عام لوگ بھی   کوئی واضح فرق بیان کرنے سے قاصر ہیں اور خلافت اور جمہوریت کے صرف ظاہر کو سامنے رکھ کر دونوں کو ناصرف   ایک ہی نظام  کہا جارہا ہے بلکہ جمہوریت کو بالکل جائز بھی  قرار دیا جارہا ہے۔ہمارے ایک  پیارے دوست اورمخلص  بلاگر محترم ایم  بلال محمود صاحب نے چند دن پہلے اسی انداز میں  ایک تحریر خلافت اور جمہوریت – ایک تصویر کے دو رخ ؟“ اپنے بلاگ پر پوسٹ کی ، میں   صرف  مسئلہ کی وضاحت کی غرض سےان   کی تحریر سے اقتباس پیش       کرتے ہوئے  چند  باتیں عرض کروں گا۔

جب کسی کو خلافت کے حق میں، جمہوریت کی مخالفت کرتے ہوئے اور اسی طرح جمہوریت کے حق میں، خلافت کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو حیرانی ہوتی ہے۔ حیرانی اس لئے ہوتی ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ دونوں (خلافت اور جمہوریت) ایک دوسرے سے ملتے جلتے طرزِ حکومت ہیں اور دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ اگر کہیں فرق ہے تو دونوں کے ناموں میں، دونوں کے حامیوں کی ایک دوسرے کی مخالفت میں اور اپنی اپنی عینک لگا کر دونوں نظاموں کو دیکھنے والوں کی سوچ میں۔۔۔۔تھوڑا سا غور کیجئے کہ جمہوریت میں صدر یا وزیراعظم یا دونوں ہوتے ہیں۔ جنہیں پارلیمنٹ یا قومی اسمبلی کے نمائندگان منتخب کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح خلافت میں خلیفہ ہوتا ہے، جس کو مجلس شوریٰ منتخب کرتی ہے۔ غور کریں! یہاں تک فرق صرف اپنے اپنے رکھے ہوئے ناموں کا ہے۔ کوئی اسے قومی اسمبلی کہتا ہے تو کوئی مجلس شوری کہتا ہے جبکہ صدر، وزیراعظم یا خلیفہ کو چند ”بڑے لوگوں“ کا ایک گروہ ہی منتخب کرتا ہے۔

 اس بات سےقطع نظر کہ جمہوریت کی اصطلاح کے پیچھے جو  پوری تاریخ   ہے وہ خلافت کی اصطلاح والی سے  بالکل مختلف ہے  اور  جب  بیک  گراؤنڈ مختلف   ہوں  تو  معنی خود بخود مختلف ہوتے ہیں' اگر صرف ظاہر کو ہی دیکھ کر فیصلہ کیا جائے تو  مجلس شوری اور  پارلیمنٹ میں واقعی  کوئی فرق نظر نہیں آتا، لیکن اگر   تھوڑا سا غور کیا جائے  تو دونوں  کے راستے جدا ہوتے نظر آتے  ہیں  ،  مثلا دونوں کے اراکین کے انتخاب کے طریقہ کار میں ایک بہت بڑا فرق پایا جاتا  ہے ، ایک کے اراکین       کے انتخاب کا معیار امیدوار کا تقوی،  دیانت داری اور سمجھ و حکمت ہوتی ہے اورانکو        ایک  شفاف طریقہ سے صاحب الرائے اور  عقل مند لوگ  منتخب کرتے ہیں جبکہ  دوسرے کے انتخاب  میں ایسی کوئی شرط موجود  نہیں لازمی نہیں ہوتی ، کوئی بھی چور ، ڈاکو  پیسےاور برادری  کی بنیاد پر اکثریتی ووٹ لے کر  اسمبلی میں آسکتا ہے۔ پھر  خودبخود یہی فرق خلیفہ اور صدر، وزیراعظم  کے انتخاب   اور ان کے اختیارات میں بھی   آجاتا ہے، جمہوریت میں رائے دینے کے اس  نام نہاد عوامی حق   کو   نظام کے اوپر اتنا سوار کرلیا  گیا ہے کہ  خود اسلامی جمہوریہ پاکستان کی  پارلیمنٹ میں جو  قانون منظور ہوتا ہے اس میں بھی  یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس سے ملک  اور اسلام کو کتنا فاعدہ  ہوگا بلکہ معیار  صرف اور صرف اکثریت ہوتی ہے ، یہاں  اسلام کی بات کو  بھی  انسان کی منظوری ملنے کے بعدہی مانا جاتا ہے ، جو واضح  اللہ کی اطاعت  نہیں بلکہ انسان کی اطاعت ہے  یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ جمہوریت کو کفر وشرک کہتے  نظر آتے ،  وجہ یہی اختیارات ہوتے  ہیں ۔۔    ایسے نظام کا اسلام میں کیا حکم ہونا چاہیے، یہ کوئی دقیق اور پیچیدہ سوال نہیں رہ جاتا۔واپس موضوع کی طرف آتے ہیں   ان اسمبلیوں میں  قانون منظور کرنے کی بنیادی شرط چونکہ صرف اکثریت ہوتی ہے اس لیے  کوئی بھی اس اکثریت کی بنیاد پر کچھ بھی منظور کروا سکتا ہے اور یہ ہوا بھی ہے کہ  ان  مسلمانوں کی اسمبلیوں سے ہی زنا بالرضا ، کچھ طبقوں کے لیے شراب کی  حلت اور چوروں، ڈاکوؤں،لٹیروں، قاتلوں کو چھوٹ دینے کے  قانون بھی  منظور ہوئے ہیں ۔ چونکہ معیار اکثریت ہے اس لیے  ضروری  اکثریت کو حاصل کرنے کے لیے بعض اوقات   اراکین کی بولیاں لگتی ہیں،  کروڑوں روپے لگا کر امیدواروں کو خریدا جاتا ہے،  ایک دوسرے کو  بلیک میل کیا جاتا ہے اور بعض اوقات انتشار اور لڑائی جھگڑے کی  ایسی  صورتحال پیدا ہوجاتی ہے کہ عوام کے یہ  معتبر نمائندے ایک دوسرے کو جوتے ، کرسیاں مارتے اور گالیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ ۔  جبکہ خلافتی نظام میں ایسا کچھ نہیں ہے، یہاں قانون کی منظوری کا معیار  اسلامی، ملکی اور عوامی  مفاد  ہوتا ہے،  پرامن ماحول میں چند بندے  کسی مسجد یا کمرے میں بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں، ہر رکن  اپنی رائے اور دلیل دیتا ہے پھر جو  رائے خلیفہ کو  ذیادہ بہتراور فائدہ مند لگتی ہے اس کو  وہ منظور کرلیتا ہے اور اسکو  نافد کرلیا جاتا ہے، کوئی لمبے چوڑےپرتکلف اجلاس، تقاریر ،  لڑائیاں،جھگڑے  نہیں ہوتے اور نہ فیصلوں میں بلاوجہ کی تاخیر ہوتی ہے۔

جمہوریت والے کہتے ہیں قومی اسمبلی کے نمائندے عوام منتخب کرتے ہیں جبکہ خلافت والے کہتے ہیں کہ مجلس شوری پرہیزگار، اچھے، ایماندار، معزز اور صاحب رائے وغیرہ لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہاں قومی اسمبلی والا کھاتا تو صاف ہوا کہ انہیں عوام منتخب کرتے ہیں، مگر مجلس شوری والے معتبر اور صاحب رائے لوگوں کے معاملے پر شاید کچھ لوگ غور نہیں کرتے کہ یہ ”معتبر“ کی وضاحت کون کرے گا اور یہ کیسے منتخب ہوں گے۔ ۔۔۔ اب ایسا تو نہیں ہو سکتا ہے کہ لوگ گواہی دیں کہ زید برا انسان ہے مگر زید خود کہے کہ میں اچھا ہوں تو اسے معتبر مان لیا جائے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ لوگ جس کو اپنا معتبر بنائیں وہی اس معاشرے میں معتبر ہو گا۔ یوں ایک طرف قومی اسمبلی عوام منتخب کرتے ہیں تو دوسری طرف میرے خیال مجلس شوری بھی عوام ہی منتخب کریں گے۔ بس پرانے زمانے میں زبانی زبانی کسی کے معزز ہونے کا اعتراف ہو جاتا تھا یعنی کسی کی اچھائی کے بارے میں عوام میں ایک رائے قائم ہو جاتی تھی اور وہ بندہ معزز قرار پاتا تھا جبکہ آج حالات ایسے ہیں کہ عوام میں کسی کی اچھائی کی صرف مشہوری سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لئے تحریری رائے درکار ہے۔ لہٰذا پرانا طریقہ کارآمد نہیں رہا تو تحریری ووٹ کے ذریعے کسی کی اچھائی/معتبری کی گواہی لی جاتی ہے۔ یہ تو عوام پر ہے کہ وہ چور ڈاکو کو معتبر بناتی ہے یا اچھے لوگوں کو۔ آسان الفاظ میں یہ کہ کوئی خود سے معتبر نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کی رائے (ووٹ) سے ہی کوئی معتبر بنتا ہے۔ جو بھی ہو لیکن عوام کی رائے سے ہی سب کچھ ہو گا۔ لوگوں کی رائے سے منتخب ہونے والے کو معتبر کہو یا عوام کا نمائندہ، معتبر لوگوں کی مجلس شوری بناؤ یا نمائندوں کی قومی اسمبلی، مجلس شوری خلیفہ منتخب کرے یا قومی اسمبلی وزیر اعظم، بات ایک ہی ہے بس ہر کسی نے اپنا اپنا نام دے رکھا ہے۔

خلافت راشدہ کے دور میں مجلس شوری کے اراکین کے لیے سابقون الاولون اور دوسرے جید اصحاب رسول موجود ہوتے   تھے، آج کے دور میں بھی معزز اور معتبر لوگوں کو ڈھونڈنا انکا انتخاب کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہے، یہ بات ماننی چاہئے کہ معزز اور صاحب رائے لوگ لاکھوں کی آبادی میں کم از کم  سینکڑوں  کی تعداد میں ضرور موجودہوتے ہیں ، جنکی  شرافت ، امانت، صداقت ، کردار کی اس علاقہ کے لوگ گواہی دیتے ہیں اور ان کا  کردار ملک و ملت کے لیے واقعی قابل تعریف ہوتا  ہے ان  کے بارے میں عام طور پر ایک اچھی رائے پائی جاتی ہے ،  وہ علمائے کرام،نیک اور  اچھی شہرت کے حامل سیاست دان ، صحافی ، جرنیل ، ڈاکٹر، انجنئیر ، تاجر اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ لوگ بھی  ہو سکتے ہیں، ان کے  لیے چند شرائط رکھی جاتی ہیں اور اگرانکے متعلق عوام سے رائے  لینے کی ضرورت پڑے تو رائے دینے والی عوام   کے لیے بھی یہی شرائط ہوتی ہیں۔مثلا اگر بہت سے غیر معزز اور بے عقل  لوگوں  نے ایک شخص کو مشورے سے معزز قرار دے  دیا تو دین کی شرط کے مطابق وہ معزز نہیں ٹھہرا۔ ۔ دوسری  بات   ہمارے  موجودہ نظام میں  سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عموما  عوام کے سامنے متبادل موجود نہیں ہوتا انہیں دو، تین کرپٹ  امیدوارں میں سے سب سے کم کرپٹ آدمی  کو منتخب کرنا ہوتا ہے، ان میں سے بھی  انکے انتخاب کا معیار وہ  بندہ ٹھہرتا ہے   جو صحیح معنوں میں معتبر، پرہیزگار یا تقوی والا نہیں ہوتا  بلکہ وہ جو انہیں انکی  گلیاں پکی کروا دے،  سڑکیں بنوا دے ، انکے علاقے میں ٹیوب ویل لگادے ۔ ۔ ۔اب جب یہ انتخاب کا معیار ہوگا تو یہ  لوگ منتخب ہوکر جب  اسمبلی میں جائیں گے تو عوام کی کیا خدمت کریں گے ،   اسلام کے مطابق  کیسے قوانین بنا سکیں گے؟  حال یہ ہے کہ  اسمبلی کے بہت سےسابقہ منتخب اراکین کے نزدیک قرآن کے چالیس سپارے بھی تھے  اور بہت سو ں کو خود  بسم اللہ تک  نہیں آتی تھی۔ ۔ پھر عوام یہ شکوہ کرتی ہے کہ سارے جاگیردار اور نا اہل قسم کے لوگ اسمبلیوں میں بھرے ہوئے ہیں، سادہ سی بات ہے آپ    کے انتخابی نظام میں اگر معیار قابلیت   ہوتا تو  کسی     اہل اور مدبر  آدمی کے مقابلے میں ایک جاہل آدمی محض جہلاء کے ووٹوں کی کثرت کی بنیاد پر اسمبلی میں نہ جاسکتا،  اچھے لوگوں کے انتخاب میں دوسرا بڑا مسئلہ جمہوریت کا یہ پہلو  بھی ہے کہ  یہ  سب سے ذیادہ مناسبت سرمایہ داروں  سے ہی رکھتی  ہےاور یہ ان لوگوں کے لیے سونے کی  چڑیا کی مانند ہے،ہمارے ملک کے ساتھ شروع میں  ٹریجڈی  یہ ہوئی  کہ  جو لوگ اس کے ساتھ مخلص تھے  یا جن لوگوں نے اسے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا وہ  اس کے بننے کے دو تین سالوں کے اندر ہی  دنیا سے چلے گئے اور اقتدار کا پکا پکایا پھل  حکومت کے ساتھ جڑے ہوئے ان  جاگیرداروں،  انگریز پرست،عیاش اور  سیکولر  لوگوں کی گود میں جاگرا، ان  لوگوں نےبہت مجبور ہوکراور محض خانہ پری کے لئے  آئین میں چند شقیں تو  خلافتی نظام والی  ضرور شامل کروا دیں لیکن انکے مطابق نہ  یہاں کوئی قانون بننے دیا  اور نا     پہلے دن سےیہاں کے  سیاسی نظام کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب ہونے دیا،وجہ یہی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ  ایسے نظام کے   پاکستان میں نافد ہونے میں انکی  موت ہے    کیونکہ خلافتی نظام میں تو انتخاب کا  معیار صرف اخلاص، تقوی اور قابلیت ہے،  ایسے نظام کی موجودگی میں تو  ان بدمعاشوں،  شرابیوں ،  زانیوں کو  کوئی ملکی  عہدہ دینے کے بجائے  انکی چھترول کی جاتی۔جمہوری نظام کی بقاء  ابھی بھی  ان لوگوں کی  زندگی موت کا مسئلہ  ہے ، یہ  اس کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں گے۔ مزید جمہوری انتخابی عمل  بذات خود ایک مشینی عمل ہے اور اس میں زر کے استعمال کے ذریعے لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہونے کے بے شمار مواقع ہیں لہذا اس عمل کے ذریعے صرف سرمایہ دار ہی آگے آتے ہیں یا وہی لوگ جو اکثریت کی رائے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کیوں نیک دینی علماء الیکشن نہیں جیت پاتے؟؟وجہ یہی  ہے کہ  کوئی دماغ موجود نہیں ہوتا جو فیصلہ کرے کہ اقتدار کس کے حوالے کیا جانا چاہئے ۔۔!!
ہے یہ جمہوریت، پھر عجب کیا  اگر
اکثریت ہی کہہ دے کہ شر چاہیے
 جہاں تک دوسری بات'صرف  مشہوری ہی سب کچھ نہیں ہوتی' کا تعلق ہے ،  یہ بات اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ نئے امیدوار کے لیے واقعی  صرف مشہوری  سب کچھ نہیں، لیکن پرانا آدمی دھوکہ، فراڈ ، دھاندلی، فریق مخالف پر جھوٹے الزامات، خلاف حقیقت پراپیگنڈہ، ووٹروں سے جھوٹے وعدے کرکے، اپنی کارناموں کی مبالغہ آرائی کیساتھ تشہیر کروا   کے ہی معتبر  بنتا ہے،  یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ یہ امیدوار جو الیکشن کمپین میں کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں وہ کس پر خرچ ہوتے ہیں  اور جو اسمبلیوں میں نامی گرامی  حرامی اور بدمعاش جا بیٹھتے ہیں وہ کس اہلیت کی بنیاد پر منتخب ہو کر اسمبلیوں میں  جاتے ہیں  ۔ ۔ دوسری طرف خلافتی نظام میں امیدوار کا تشہیری مہم چلانا اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنا تو دور کی بات کوئی  معزز سے معزز آدمی اپنے آپ کو کسی عہدہ کے لیے  امیدوارتک  نہیں  شو کرسکتا ۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت نظریاتی طور پر ہی کامیاب لگتی ہے عملی طور پر اسکے نتائج ہمیشہ خوفناک رہے ہیں،  جہاں کامیاب نظر آتی ہے وہاں تحقیق  کرنے پر  اس جمہوریت پر ایک زبردست آمرانہ گرفت آپ ڈھونڈ لیں گے،  انکے پیچھے  چند ہاتھ ہیں  جو میڈیا اور دیگر ذرائع سے ان جمہوریتوں کنٹرول کرتے ہیں اور دنیا میں انکی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، وہ لوگ آزاد جمہوریت کے نقصانات سے واقف ہیں کہ یہ کس طرح  انتشار پیدا کرسکتی اور ملک کو نقصان پہنچا سکتی ہے اس لیے  حقیقت میں وہاں آزاد  جمہوریت نہیں ہے بلکہ  صرف جمہوری ڈراما ہوتا ہےجیسے امریکہ کے اکثر فیصلے امریکہ کے عوام نہیں امریکی سی آئی اے، پینٹاگون،  راک فیلر جیسے خاندان ،   کونسل آف  فارن ریلیشن ، ملٹی نیشنلز اور امریکہ کے ذرائع ابلاغ کرتے ہیں۔ ۔ یہ الگ بات ہے کہ میڈیا کی بھرپور سپورٹ کے ساتھ ان کے فیصلوں کو کسی نہ کسی حوالے سے عوام کے فیصلے قرار دے دیا جاتا ہے۔ اقبال نے اس بات کو اپنے ایک شعر میں بیان کیا ہے۔ 
ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردے میں غیراز نوائے قیصری
  چلیں  اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے  کہ انكا جمہوری نظام بھی  پاکستان جیسا آزاد ہے تو  ہمیں دونوں کے  اراکین اسمبلی کو منتخب کرنے والے لوگوں کا بھی موازنہ کرنا  ہوگا  ، لوگ  کتنے تعلیم یافتہ اور میچور  ہیں اور  فہم رکھنے والے ہیں، دونوں کی عوام کی تہذیب و تعلیم  کا لیول کیا ہے ۔۔ ؟؟ اب  ایک ایسے ملک میں جہاں  لٹریسی ریٹ بیس بائیس فیصد ہو وہاں جمہوریت جیسا  ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے  رائے لینے والا نظام کیسے فاعدہ  مند ثابت ہوسکتا ہے ؟ !!۔

کہتے ہیں کہ خلافت میں اسلامی قانون رائج ہوتا ہے اور خلیفہ اللہ کو جواب دہ ہوتا ہے۔ جبکہ جمہوریت میں عوام کی اکثریت کی مرضی کا قانون رائج ہوتا ہے اور صدر یا وزیراعظم عوام کو جوابدہ ہوتا ہے۔ میں یہ بات تو تفصیل سے کر چکا ہوں کہ خلافت ایک جمہوری طریقہ ہے۔ اب اس قانون کی بات یوں سمجھیں کہ جب عوام مسلمان ہو گی تو ظاہر ہے کہ وہ اسلامی قانون رائج کرنے کے حق میں ہو گی تو ایسے بندے کو منتخب کرے گی جو اسلامی قانون رائج کرے گا، بالکل اسی طرح اگر عوام اسلامی قانون کے حق میں نہیں ہو گی تو اسلامی قانون رائج نہیں ہو گا بلکہ جو عوام کہے گی وہی قانون ہو گا۔ رہی بات اللہ یا عوام کو جوابدہ کی تو ایک اچھا مسلمان ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ ساتھ اللہ کو بھی جوابدہ ہے۔ اب کئی لوگوں کو عوام کو جوابدہ ہونے پر اعتراض ہو گا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ والا وہ واقعہ یاد کریں جس میں ایک بندے نے خلیفہ وقت سے فقط اک کپڑے کے ٹکڑے کا جواب مانگ لیا تھا۔ آسان الفاظ میں یہ کہ طریقہ جمہوری ہی ہو گا۔ اب ملک مسلمانوں کا ہوا تو خودبخود اسلامی قانون رائج ہو جائے گا اور اگر غیرمسلموں کا ہے تو وہ اپنی مرضی کا قانون رائج کر لیں گے۔ اگر حکمران (خلیفہ یا صدر وغیرہ) مسلمان ہو گا تو وہ اللہ کو جوابدہ ہو گا اور اگر حکمران غیر مسلم ہوا تو اس کی مرضی۔

مسئلہ چونکہ ایک ایسے ملک کا ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے  اور اس کے نظام و نسق کا ہے، ایک قوم  کی خوشحالی اور ترقی کا ہے ،  اس لیے اس انتظار میں بیٹھے رہنا کہ سوفیصد عوام  بالکل دیانتدار اور مومن اور تعلیم یافتہ ہوجائیں پھر خود ہی اچھے لوگ اسمبلیوں میں منتخب ہوکر آجائیں گے  ایک بے وقوفی ہوگی ، یہ نظام ہی ایسا ہے ۔۔  جیسے کار لائل نے کہا تھا:
” جمہوریت احمقوں کا قانون ہے’ یہاں ہر عقل مند آدمی کے مقابلے میں نو بے وقوف ہیں “۔
جب ہمارا مقصد اصلاح ہے تو اس اصلاح کے لیے اتنے اہم مسئلہ  میں ہر جاہل، بے وقوف اور نااہل بندے سے  رائے لینا  اور پھر اکثریت کی بنیاد پر نمائندگان کو منتخب کرنا ضروری نہیں، جمہوریت نظام معیار Quality کو نہیں بلکہ  مقدارQuantity   كو دیکھتاہے  جبکہ کسی کے معتبر ہونے کے لیے رائے دینے والوں  کی   مقدار کے بجائےرائے کا  معیار  اہم ہوتا ہے۔ اگر  آپ اس قدر اہم قوم معاملات میں    علم و عقل والوں کے ساتھ  ہر جاہل، بیوقوف اور شرابی کو  رائے دینے کا   برابر حق دے رہےہیں، تو کم از کم اس  زمانہ جس میں شر خیر پر غالب ہے ' قیامت تک  معقول ، مخلص اور دیانتدار لوگوں  کو اکثریت نہیں مل سکتی  اور یہ بات تجربہ میں بھی ہے مثلا علامہ اقبال جنکی نیکی شرافت اور دانائی کی ایک دنیا معترف تھی 1937 کے الیکشن میں اپنی سیٹ ہار گئے تھے ۔ ۔  ایک  الیکشن میں  معراج خالد اور ایک اور صاحب کے درمیان مقابلہ ہوا۔ معراج خالد صاحب اتنے شریف اور ایماندار تھے کہ مخالف کے پاس بھی  انکے خلاف کہنے کے لیے کچھ نہیں  تھا چنانچہ مخالف نے یہ کہا  کہ "  معراج صاحب اتنے شریف ہیں کہ اتنے عرصہ اختیار ہاتھ میں ہونے کے باوجود اپنے لیے کچھ نہ کر سکے آپ کے لیے کیا کر لیں گے؟  " معراج خالد صاحب بھی  الیکشن ہار گئے، موجودہ الیکشن میں  ڈاکٹر عبدالقدیر  جنکی حب الوطنی کی پوری قوم گواہی دیتی ہے اور سارا پاکستان انکا احسان مند ہے کے متعلق بھی غالب گمان یہی ہے کہ وہ اپنی سیٹ بھی نہیں جیت پائیں گے!!! یہ تو عام تجربہ کی باتیں ہیں ، قرآن بھی  بتلاتا ہے  کہ :
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ (سورہٴ انعام)
ترجمہ:”اور اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ "۔
یہ طریقہ انتخاب  خود امیدوار کو بھی منافق اور دوغلا  بنا دیتا ہے ،  وہ سیٹ   جیتنے کی اس دور میں  عوام کا دل جیتنے کے لیے    ضرورت پڑنے پر انتہائی غلط طریقہ بھی اختیار کرجاتا ہے، جیسے آج بھی   کئی سیاستدان محض ووٹ کے چکر میں قادیانیوں کے ساتھ  ہمدردی جتاتے نظر آتے ہیں   اس کے علاوہ کئی  جگہ امیدواروں نے   عیاش  لوگوں کا ووٹ لینے کے لیے ان کے ہاں زنا اور شراب کی محفلیں  بھی کروائیں، ہمارے   ایک قریبی  علاقے میں ایک بڑی برادری کا ووٹ لینے کے لیے انکے  ایک قاتل کو رہائی دلوائی گئی، ایک بستی کے متعلق سنا وہاں  ووٹ کے بدلے فی  کس ہزار روپیہ دیا گیا، اب یہاں چند دیندار لوگ  ایک  غریب لیکن مخلص ، تعلیم یافتہ اور متقی آدمی کو کیسے منتخب کروا سکتے ہیں۔ ؟  اور ایک شریف  آدمی جس کا تعلق سرمایہ دار طبقہ سے نہ ہو  ،   اسکے گھر کا نان نفقہ ہی مشکل سے پورا ہوتا ہو ا وہ انتخابات میں کیسے حصہ لے سکتا ہے؟؟ یہی حال آگے جاکر پھر صدر وزیراعظم کے انتخاب کا بھی ہوتا ہے کہ محض اکثریت کی بنیاد پرزرداری جیسے کرپٹ اور  راجہ رینٹل جیسے کمینے لوگ بھی صدر وزیراعظم بن جاتے ہیں۔
یہ کچھ باتیں میرے ذہن میں تھیں جو میں نے عرض کیں اگلی تحریر میں انشاء اللہ" عصر حاضر میں  خلافتی نظام کیسے" کے موضوع پر  کچھ عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔

مکمل تحریر >>

جمعرات, اپریل 4, 2013

پاکستان بننے کی مخالفت كرنے والا علماء اور انکا موقف

 پاکستان میں الیکشن کا موسم ہے،  جگہ جگہ انتخابات پر بحثیں چل رہی ہیں ، طرح طرح کی باتیں پڑھنے،سننے کو مل رہی ہیں ۔ ۔ ۔ہرشخص  کے پاس اپنا ایک نجات دہندہ ہے اور اس کے خیال میں صرف اسی کو ووٹ دینے سے پاکستان بچ سکتا ہے۔۔  پاکستانی لوگ بھی عجیب ہے ساٹھ سالوں سے آزمائشی اور تجرباتی پروگرام  پر عمل کررہے ہیں  ، کبھی   کسی گدھے کو  صدر بنا کر  اس سے امیدیں باندھ لیتے ہیں کہ یہ گدھا ہمارے مسائل حل کرے گا،  اب گدھے نےخاک مسائل حل کرنے ہیں ، اس نے تو  دولتیاں ہی  مارنی ہوتی ہیں۔ جب مارنا  شروع کرتا ہے تو سب چلانا شروع کردیتے ہیں  اوہ  یہ تو لاتیں بھی مارتا ہے۔ ۔  ۔اس کو ہٹاؤ  ۔ ۔ ۔اس کو ہٹاؤ ۔ ۔  ۔  سب مل کرجانی مالی قربانیوں سے بھر پور ایک تحریک شروع کرتے ہیں آخرجاکر کھوتا کہیں ہٹتا ہے   ۔ ۔  اس دفعہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کتے کو آزمانا چاہیے ، بڑی آؤ تاؤ ،  جلسے جلسوں، مناظروں اور پھر  انتخابات کے بعد صدر کتا منتخب ہوتا ہے، عوام اب انتظار کرتی ہے کہ کتا  کب ہمارے مسائل حل کرنا شروع کرتا ہے،  کتاصاحب مسائل کرنے کے بجائےاپنی فطرت کے مطابق  عوام کی  جب چمڑی ادھیڑنا  اور گوشت نوچنا شروع کرتے ہیں تو پھر چینخ و پکار شروع ہوجاتی ہے، سارے کہتے ہیں  یہ تو بڑا ظالم ہے جی ،  گدھا تو صرف لاتیں مارتا تھا یہ تو چمڑی بھی اتار رہا ہے، اس سے تو گدھا ہی اچھا تھا ۔ ۔    پھر   کتے  کو بھی تحریک شروع کرکے  زبردستی اقتدار سے اتارا جاتا ہے یا  وہ اسی لڑائی جھگڑکے کے دوران مل ملا،  گھسٹ گھسا کے   اپناٹائم پورا کرلیتا ہے  ۔ ۔   عوام پھر کسی نئے نجات دہندہ کی تلاش میں نکل جاتی ہے ۔ ۔ ۔  کافی بحث و مباحثہ اور سوچ وبچار کے بعد  اس دفعہ نظر بندر پر ٹھہر جاتی ہے۔ ۔ ۔ پھر آگے وہی ہوتا ہے جسکا اوپر تذکرہ کیا۔ ۔ ۔  غالب گمان ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ ۔ ۔  حالت یہ ہے کہ یہاں کئی کتے گدھے دو دو دفعہ بھی آزمائے جاچکے ہیں، عوام ایک سے بددل ہوتی ہے تو اگلی دفعہ ایک نیا متبادل پیش کردیا جاتا ہے، نیا نہ ہوتو پرانے کو ہی پالش والش کرکے، وگ شگ لگا کر فوٹو شاپ میں سے گزار کر مدبر و مفکر  نما بنا کر پیش کردیا جاتا ہے کہ یہ  ڈنگر اسی میں لڑتے مرتے رہیں  ۔ ۔  کہیں ان کی نگاہ اس اصل متبادل اور سیاسی نظام  کی طرف نہ چلی جائے جو ان  کے دین نے پیش کیا ہوا ہے ، جس سے بہتری  اور انقلاب کا آنا  سوفیصدممکن ہے اور جس راستے سے  اسلامی تاریخی میں انقلاب آتے دیکھے جاتے رہے ہیں۔۔۔صاف بات تو یہ ہے کہ ہمیں جمہوریت کے لئے ہر قربانی منظور ہے جی خلافت کے لیے نہیں،  سنا ہے کہ اس کے لئے بندے کو  دیندار ہونا پڑتا ہے ، ساری حرام خوریاں، بدکرداریاں چھوڑنی پڑتی ہیں۔ ۔ ۔ نہیں جی ہمیں یہی منظور ہے۔۔ جمہوریت ہی  ٹھیک ہیں، یہ لوگ اگر  لوٹتے ہیں   کم از کم ہمیں سیدھا تو نہیں کرتے ہمیں بھی اپنے ماحول میں فل عیاشی کرنے دیتے ہیں اور ہمیں بھی  جتنا كمانے كا موقع ملتاہے، خوب فاعده اٹهاتے اور کیش کرتے ہیں۔۔۔ ہمارا بھی حق بنتا ہے نا جی۔ ۔ہیں جی۔
 بات کہاں سے کہاں نکل گئی ،   انتخابات پر  ہونے والی ابحاث پر بات  ہورہی تھی جو گلی محلے کی  نکڑ پر، مساجد کے باہر، انٹرنیٹ فورم، سوشل میڈیا سائیٹس   اور دفاتر میں  تقریبا روز دیکھنے کو ملتی ہے ،  یہ دیکھ کر حیرت  بھی ہوتی ہے کہ لوگ ان منافق سیاست دانوں کے دفاع میں ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دینے سے بھی نہیں کتراتے، اس دفعہ  ایک اور  ٹرینڈ دیکھنے کو ملا ہے وہ یہ کہ  لوگ مولانا فضل الرحمان جیسے سیاستدانوں کی آڑ میں مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا سید حسین احمد مدنی،  مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور مفتی محمود جیسے  متقی اور نیک صفت علما کو  صرف اس وجہ سے گالی دیتے نظر آئے ہیں کہ انہوں نے  پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی،  کئی جگہ ہلکے پھلکے انداز میں اس پر بات کرنے کی کوشش کی  لیکن یہ غلط فہمی اتنی عام ہے کہ  صرف سوشل میڈیا پر  پانچ چھے جگہوں پر  یہ الفاظ دیکھ چکا ہوں کہ  یہ تو وہ علما ہیں جنہوں نے   پہلے اپنا پورا زور لگایا کہ پاکستان نہ بن سکے جب دال نہ گلی  اور پاکستان بن گیا تو    یہاں بھی پیسے کے لیے سیاست شروع کردی،  ایک صاحب نے لکھا کہ فضل الرحمان کا والد کہا کرتا تھا  کہ    شکر ہے  ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے، ایک اور  نے  دلیل پیش کی کہ یہ ملا    اتنا منافق  تھا کہ سوشلزم کا سورج چڑھتا دیکھا تو اسکو اسلام کہنا شروع کردیا۔ ایک دوست بلاگر نے لکھا کہ  قیام پاکستان کی بھر پور مخالفت کرنے والے اب مینار پاکستان کے سائے میں جلسے کرنے لگے,محو حیرت ہوں۔ ۔  اور بہت سے طعنے اور باتیں  ہیں جو گوگل پر یونی کوڈ میں سرچ کرنے سے کئی مشہور سائیٹس پر بھی نظر آئی ہیں ، ان سب کو پیش کرکے  ان پر بات کرنا شروع کی تو  تحریر بہت طویل ہوجائے گی، میں فی الحال ان  اعتراضات پر بات کرنے کی کوشش کروں گا۔اصل میں  المیہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کو موویز، گیمز، ڈراموں، فیس بک   جیسی قیمتی  چیزوں سے فرصت نہیں ، مطالعہ کرنے جیسے فضول کاموں کے لیے انکے پاس ٹائم ہی نہیں۔ ۔ ۔الا ماشاء اللہ بہت کم لوگ ہیں جن میں ابھی بھی مطالعہ کا ذوق و شوق باقی ہے۔ ۔ ۔   ذیادہ تر جوانوں کا  تاریخ ، دینیات  وغیرہ کے متعلق علم کا ماخذ كوئی مستند کتاب نہیں، چند باتیں ہیں جوانہوں نے کسی ایرے غیرے کے منہ سے سن لیں، کوئی اخباری کالم ہے جس پر کبھی نظر پڑ گئی یا کوئی  ناول، کہانی جو شوقیہ پڑھ لی۔ ۔یا  اب فیس بک ہے!!  ا س علم کا اظہار پھر ایسا ہی ہونا ہے جو دیکھنے کو ملتا ہے۔۔
پہلا اعتراض   کہ مولانا  ابوالکلام آزاد، حسین احمد مدنی اور ان کے رفقاء نے تحریک پاکستان کی مخالفت کیوں کی ؟  کے جواب میں میں اپنے طور پر کچھ بیان کرنے کے بجائے انہی   علماء کی  تقاریر میں سے کچھ اقتباس پیش کرتا ہوں، بات واضح ہوجائے گی کہ وہ اپنے  موقف میں کتنے سچے تھے اور انکی فراست کتنی مومنانہ تھی۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری  رحمہ اللہ نے  26 اپریل 1946 کو دہلی کے اردو پارک میں ایک بڑے مجمع سے خطاب فرمایا ،  اس کا ایک اقتباس  ملاحظہ فرمائیں۔
"اس وقت آئینی اور غیر آئینی بحث چل رہی ہے کہ آیا ہندوستان میں مسلم اکثریت کو ہندو اکثریت سے جدا کرکے دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے ۔ ۔ ؟   قطع نظر اس سے کہ اس کا انجام  کیا ہوگا ۔ ۔ ؟   مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق سے طلوع ہوگا لیکن یہ وہ پاکستان نہیں بنے گا جو دس کروڑ مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں  ہیں ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ کل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔۔؟  بات جھگڑے کی نہیں  سمجھنے  اور سمجھانے کی ہے، تحریک کی قیادت کرنے والوں کے قول وفعل میں بلا کا تضاد اور اور بنیادی فرق ہے اگرآج مجھے کوئی اس بات کا یقین دلادے کہ کل کو ہندوستان کے کسی قصبے کی گلی میں یا کسی شہر کے کسی کوچے میں حکومت الہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاد ہونے والا ہے تو رب کعبہ کی قسم میں آج ہی اپنا سب کچھ چھوڑ کا آپکا ساتھ دینے کیلئے تیار ہوں۔لیکن  یہ بات میری سمجھ س بالاتر ہے کہ جو لوگ اپنی اڑھائی من کی لاش اور چھ فٹ کے قد پر اسلامی قوانین نافد نہیں کرسکتے جن کا اٹھنا بیٹھنا، وضع قطع ، جن کا رہن سہن ، بول چال، زبان و تہذیب، کھانا پینا ، لباس وغیرہ غرض کوئی چیز بھی اسلام کے مطابق نہ ہو وہ دس کڑوڑ انسانی آبادی کے ایک قطع زمین پر اسلامی قوانین کیسے نافد کرسکتے ہیں؟ یہ ایک فریب ہے اور میں یہ فریب کھانے کے لیے تیار نہیں۔
 ہندو اپنی مکاری اور عیاری سے ہمیشہ پاکستان کو تنگ کرتا رہے گا، اسے کمزور بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، اس تقسیم کی بدولت آپ کے دریاؤں کا پانی روک دے گا، آپ کی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کرے گا، آپ کی یہ حالت ہوگی کہ بوقت ضرورت مشرقی پاکستان مغربی پاکستان کی اور مغربی پاکستان مشرقی پاکستان   کی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہوگا، اندرونی طور پر پاکستان میں چند خاندانوں کی حکومت ہوگی اور یہ خاندان زمینداروں، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے خاندان ہوگنگے، امیر دن بدن امیر ہوتا جائے گا اور غریب  غریب تر"۔
(روزنامہ الجمعیہ دہلی، 28 اپریل 1946)
اس  طرح مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا:
"اس زمان میں پاکستان کی تحریک زبان زد عوام ہے ، اگر اس کا مطلب اسلامی حکومت علی منہاج النبوۃ  مسلم اکثریت والے صوبوں میں قائم کرنا ہے تو ماشاء اللہ نہایت مبارک اسکیم ہے، کوئی بھی مسلمان اس میں گفتگو نہیں کرسکتا، مگر بحالت موجودہ یہ چیزیں متصور الوقوع نہیں۔ اور اس کا مقصد انگریز کی حکومت کے ماتحت کوئی ایسی حکومت کو قائم کرنا ہے جس کو مسلم حکومت کا نام  دیا جاسکے تو میرے نزدیک یہ اسکیم محض بزدلانہ اور سفیہانہ ہے اور ایک طرف برطانیہ کے لیے ڈیوائیڈ اینڈ رول  کا موقع بہم پہنچارہی ہے اور یہی عمل برطانیہ نے ہر جگہ جاری رکھا ہے"۔
( علمائے حق اور انکے مجاہدانہ کارنامے جلد 1 ص 462)
یہ موضوع بہت تفصیل مانگتا ہے، صرف ضروری باتیں لکھ رہا ہوں،  مولانا مدنی کے  مکتوبات  جو مکتوبات شیخ السلام کے نام سے مشہور ہیں  ان میں اس بات کا تذکرہ  موجود ہے کہ  1936 کے صوبائی الیکشن میں  جمعیت علمائے ہند   کی مسلم لیگ   کے ساتھ اتحاد کی بات چلی تھی اور جمعیت نے شرط یہ رکھی تھی کہ مسلم لیگ سے انگریز پرست، رجعت پسند اور خوشامدی ٹول کو نکالا جائے' قائداعظم  نے  وعدہ کیا  تھا کہ وہ  سرکارپرست ٹولے کو لیگ سے علیحدہ نہ کرسکے  تو خود لیگ سے علیحدہ ہوجائیں گے۔۔ ۔ یہ کبھی ممکن نہ ہوسکا۔
غرض  ان لوگوں کو پاکستان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ یہ سب باتیں سیاسی اختلاف کی حد تک تھیں جو کسی کو بھی ہوسکتا ہے ،  انکاموقف یہ تھا کہ انگریز کے زیر سایہ ہونے والی تقسیم کم ازکم مسلمانوں کے لیے کبھی فاعدہ مند نہیں ہوسکتی  ۔ !! پاکستان  بننے کے بعد ان میں سے کسی نے بھی پاکستان کی مخالفت نہیں کی بلکہ مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا ابو الکلام آزاد  رحمہ اللہ  نے پاکستان بننے کے بعد جو کچھ کہا اور جیسی دعائیں دیں اور متعلقین کو جس طرح اس فرض کی یاد دہانی  کرائی وہ ان کے ہم عصر لوگوں کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ اس کا  ذکر چھیڑ دیا  تو مضمون بہت طویل ہوجائے گا۔ صرف اتنا لکھنا  کافی  سمجھتا ہوں کہ  حضرت مدنی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے  کہ " پاکستان کے قیام کے بعد اب اس کا حکم مسجد کا سا ہے، اس کے بنانے میں اختلاف ہوسکتا ہے، بننے کے بعد اسکی تقدیس فرض ہے" مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ "پاکستان وجود میں آگیا ہے تو اب اسے باقی رکھنا چاہیے، اس کا بگڑ جانا  سارے عالم اسلام کے لیے شکست کے برابر ہوگا"۔
(بحث ونظر  نوائے وقت۔ 23 مارچ 1973)
مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ بھی چونکہ انہی کی جماعت اور  تحریک کے ایک فرد تھے ، اس لیے انہوں نے بھی پاکستان بننے کے بعد یہاں رہ کر اس کی بہتری کے لیے مسلم لیگیوں سے بڑھ کر کوششیں کیں اور مرتے دم تک  اسلام اور پاکستان کا رشتہ جوڑے رکھنے کے لیے کوشاں رہے۔ مفتی صاحب  پر یہ الزام کہ   "  شکر ہے  ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے 'کس حد تک درست ہے؟  اس کا جواب خود مفتی صاحب نے ہفتہ روزہ افریشیا  کو دیے گئے انٹرویو  میں دیا تھا :
" "جو بات یہ لوگ کہتے ہوئے نہیں شرماتے میں سنتے ہوئے بھی شرماتا ہوں، اس بات کی حقیقت اس قدر ہے کہ محاذ کی میٹنگ میں  بعض دوست آپس میں باتیں کرتے ہوئے مسلم لیگ کو کوس رہے تھے، چوہدری ظہور الہی بھی وہاں موجود تھے ، بات خالصتا مذاق میں ہورہی تھی، خود مسلم  لیگ کے دوست کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ ہماری ماں تھی لیکن یہ ماں بھی بدکار ہوگئی اور اس کے گناہوں کی ہوئی حد نہیں۔ اس پر میں نے ہنستے ہوئے کہا  کہ خدا کا شکر ہے ہم اس گناہ میں شریک نہیں تھے، یہ صرف مذاق کی بات تھی۔"
 (ہفت روزہ ترجمان اسلام" مفتی محمود نمبر) (4 جون1973، تحفظ ختم نبوت کانفرس لاہور)
مفتی صاحب پر سوشلزم کی حمایت کی حمایت بھی محض ایک  الزام تھا۔ یہ محض مفتی صاحب کی سرمایہ دارانہ نظام کی مخالف  کرنے کی وجہ سے سرمایہ داروں نے گھڑا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ   اس دور میں جب ان دونوں (سوشلرزم اور کیپٹل ازم )کا اختلاف پاکستان میں عروج پر تھا، مولانا  نے کپیٹل ازم اور سوشلزم  کے درمیان ایک معتدل موقف اپنایا تھا، وہ سرمایہ داری  اور ان بائیس خاندانوں کو پاکستان کی غربت و افلاس کی اصل وجہ سمجھتے تھے۔ اس دور میں جب سرمایہ داروں کے تحفظ کی تحریک چلی تھی مولانا نے ملک کے پسے ہوئے طبقہ غریبوں، مزدوروں کے حقوق کی آواز اٹھائی تھی اور اسکو اسلامی نقطہ نظر سے پیش کیا تھا،      تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہی آواز سوشلسٹ لوگوں کی بھی تھی، اس  کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ داروں نے آپ کو سوشلزم کا حامی مشہور کردیا اور پھر اپنے حامی علما کے ذریعے  آپ پر کفر کے فتوے بھی   لگوائے گئے۔ حالانکہ مفتی صاحب کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ وہ سوشلزم کو بھی کفر کا ہی نظام کہتے تھے، ایک انٹرویو میں  فرمایا۔
"اگر کوئی  شخص  مارکس اور لینن کے نظریہ کو اسلامی سوشلزم تعبیر کرتا ہے وہ اسلامی تعلیمات کی تکذیب کرتا ہے"۔ میں مفتی صاحب کے کئی  بیانات حوالے کے ساتھ پیش کرسکتا ہوں، فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں، کسی کو مزید تفصیل درکار ہوتو مہیا کرسکتا ہوں۔۔۔ مفتی صاحب  کا پی ٹی وی کو دیا گئے انٹرویو كا ایک کلپ ملاحظہ فرمائیں۔۔




مکمل تحریر >>