جمعرات, اپریل 4, 2013

پاکستان بننے کی مخالفت كرنے والا علماء اور انکا موقف

 پاکستان میں الیکشن کا موسم ہے،  جگہ جگہ انتخابات پر بحثیں چل رہی ہیں ، طرح طرح کی باتیں پڑھنے،سننے کو مل رہی ہیں ۔ ۔ ۔ہرشخص  کے پاس اپنا ایک نجات دہندہ ہے اور اس کے خیال میں صرف اسی کو ووٹ دینے سے پاکستان بچ سکتا ہے۔۔  پاکستانی لوگ بھی عجیب ہے ساٹھ سالوں سے آزمائشی اور تجرباتی پروگرام  پر عمل کررہے ہیں  ، کبھی   کسی گدھے کو  صدر بنا کر  اس سے امیدیں باندھ لیتے ہیں کہ یہ گدھا ہمارے مسائل حل کرے گا،  اب گدھے نےخاک مسائل حل کرنے ہیں ، اس نے تو  دولتیاں ہی  مارنی ہوتی ہیں۔ جب مارنا  شروع کرتا ہے تو سب چلانا شروع کردیتے ہیں  اوہ  یہ تو لاتیں بھی مارتا ہے۔ ۔  ۔اس کو ہٹاؤ  ۔ ۔ ۔اس کو ہٹاؤ ۔ ۔  ۔  سب مل کرجانی مالی قربانیوں سے بھر پور ایک تحریک شروع کرتے ہیں آخرجاکر کھوتا کہیں ہٹتا ہے   ۔ ۔  اس دفعہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کتے کو آزمانا چاہیے ، بڑی آؤ تاؤ ،  جلسے جلسوں، مناظروں اور پھر  انتخابات کے بعد صدر کتا منتخب ہوتا ہے، عوام اب انتظار کرتی ہے کہ کتا  کب ہمارے مسائل حل کرنا شروع کرتا ہے،  کتاصاحب مسائل کرنے کے بجائےاپنی فطرت کے مطابق  عوام کی  جب چمڑی ادھیڑنا  اور گوشت نوچنا شروع کرتے ہیں تو پھر چینخ و پکار شروع ہوجاتی ہے، سارے کہتے ہیں  یہ تو بڑا ظالم ہے جی ،  گدھا تو صرف لاتیں مارتا تھا یہ تو چمڑی بھی اتار رہا ہے، اس سے تو گدھا ہی اچھا تھا ۔ ۔    پھر   کتے  کو بھی تحریک شروع کرکے  زبردستی اقتدار سے اتارا جاتا ہے یا  وہ اسی لڑائی جھگڑکے کے دوران مل ملا،  گھسٹ گھسا کے   اپناٹائم پورا کرلیتا ہے  ۔ ۔   عوام پھر کسی نئے نجات دہندہ کی تلاش میں نکل جاتی ہے ۔ ۔ ۔  کافی بحث و مباحثہ اور سوچ وبچار کے بعد  اس دفعہ نظر بندر پر ٹھہر جاتی ہے۔ ۔ ۔ پھر آگے وہی ہوتا ہے جسکا اوپر تذکرہ کیا۔ ۔ ۔  غالب گمان ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ ۔ ۔  حالت یہ ہے کہ یہاں کئی کتے گدھے دو دو دفعہ بھی آزمائے جاچکے ہیں، عوام ایک سے بددل ہوتی ہے تو اگلی دفعہ ایک نیا متبادل پیش کردیا جاتا ہے، نیا نہ ہوتو پرانے کو ہی پالش والش کرکے، وگ شگ لگا کر فوٹو شاپ میں سے گزار کر مدبر و مفکر  نما بنا کر پیش کردیا جاتا ہے کہ یہ  ڈنگر اسی میں لڑتے مرتے رہیں  ۔ ۔  کہیں ان کی نگاہ اس اصل متبادل اور سیاسی نظام  کی طرف نہ چلی جائے جو ان  کے دین نے پیش کیا ہوا ہے ، جس سے بہتری  اور انقلاب کا آنا  سوفیصدممکن ہے اور جس راستے سے  اسلامی تاریخی میں انقلاب آتے دیکھے جاتے رہے ہیں۔۔۔صاف بات تو یہ ہے کہ ہمیں جمہوریت کے لئے ہر قربانی منظور ہے جی خلافت کے لیے نہیں،  سنا ہے کہ اس کے لئے بندے کو  دیندار ہونا پڑتا ہے ، ساری حرام خوریاں، بدکرداریاں چھوڑنی پڑتی ہیں۔ ۔ ۔ نہیں جی ہمیں یہی منظور ہے۔۔ جمہوریت ہی  ٹھیک ہیں، یہ لوگ اگر  لوٹتے ہیں   کم از کم ہمیں سیدھا تو نہیں کرتے ہمیں بھی اپنے ماحول میں فل عیاشی کرنے دیتے ہیں اور ہمیں بھی  جتنا كمانے كا موقع ملتاہے، خوب فاعده اٹهاتے اور کیش کرتے ہیں۔۔۔ ہمارا بھی حق بنتا ہے نا جی۔ ۔ہیں جی۔
 بات کہاں سے کہاں نکل گئی ،   انتخابات پر  ہونے والی ابحاث پر بات  ہورہی تھی جو گلی محلے کی  نکڑ پر، مساجد کے باہر، انٹرنیٹ فورم، سوشل میڈیا سائیٹس   اور دفاتر میں  تقریبا روز دیکھنے کو ملتی ہے ،  یہ دیکھ کر حیرت  بھی ہوتی ہے کہ لوگ ان منافق سیاست دانوں کے دفاع میں ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دینے سے بھی نہیں کتراتے، اس دفعہ  ایک اور  ٹرینڈ دیکھنے کو ملا ہے وہ یہ کہ  لوگ مولانا فضل الرحمان جیسے سیاستدانوں کی آڑ میں مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا سید حسین احمد مدنی،  مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور مفتی محمود جیسے  متقی اور نیک صفت علما کو  صرف اس وجہ سے گالی دیتے نظر آئے ہیں کہ انہوں نے  پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی،  کئی جگہ ہلکے پھلکے انداز میں اس پر بات کرنے کی کوشش کی  لیکن یہ غلط فہمی اتنی عام ہے کہ  صرف سوشل میڈیا پر  پانچ چھے جگہوں پر  یہ الفاظ دیکھ چکا ہوں کہ  یہ تو وہ علما ہیں جنہوں نے   پہلے اپنا پورا زور لگایا کہ پاکستان نہ بن سکے جب دال نہ گلی  اور پاکستان بن گیا تو    یہاں بھی پیسے کے لیے سیاست شروع کردی،  ایک صاحب نے لکھا کہ فضل الرحمان کا والد کہا کرتا تھا  کہ    شکر ہے  ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے، ایک اور  نے  دلیل پیش کی کہ یہ ملا    اتنا منافق  تھا کہ سوشلزم کا سورج چڑھتا دیکھا تو اسکو اسلام کہنا شروع کردیا۔ ایک دوست بلاگر نے لکھا کہ  قیام پاکستان کی بھر پور مخالفت کرنے والے اب مینار پاکستان کے سائے میں جلسے کرنے لگے,محو حیرت ہوں۔ ۔  اور بہت سے طعنے اور باتیں  ہیں جو گوگل پر یونی کوڈ میں سرچ کرنے سے کئی مشہور سائیٹس پر بھی نظر آئی ہیں ، ان سب کو پیش کرکے  ان پر بات کرنا شروع کی تو  تحریر بہت طویل ہوجائے گی، میں فی الحال ان  اعتراضات پر بات کرنے کی کوشش کروں گا۔اصل میں  المیہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کو موویز، گیمز، ڈراموں، فیس بک   جیسی قیمتی  چیزوں سے فرصت نہیں ، مطالعہ کرنے جیسے فضول کاموں کے لیے انکے پاس ٹائم ہی نہیں۔ ۔ ۔الا ماشاء اللہ بہت کم لوگ ہیں جن میں ابھی بھی مطالعہ کا ذوق و شوق باقی ہے۔ ۔ ۔   ذیادہ تر جوانوں کا  تاریخ ، دینیات  وغیرہ کے متعلق علم کا ماخذ كوئی مستند کتاب نہیں، چند باتیں ہیں جوانہوں نے کسی ایرے غیرے کے منہ سے سن لیں، کوئی اخباری کالم ہے جس پر کبھی نظر پڑ گئی یا کوئی  ناول، کہانی جو شوقیہ پڑھ لی۔ ۔یا  اب فیس بک ہے!!  ا س علم کا اظہار پھر ایسا ہی ہونا ہے جو دیکھنے کو ملتا ہے۔۔
پہلا اعتراض   کہ مولانا  ابوالکلام آزاد، حسین احمد مدنی اور ان کے رفقاء نے تحریک پاکستان کی مخالفت کیوں کی ؟  کے جواب میں میں اپنے طور پر کچھ بیان کرنے کے بجائے انہی   علماء کی  تقاریر میں سے کچھ اقتباس پیش کرتا ہوں، بات واضح ہوجائے گی کہ وہ اپنے  موقف میں کتنے سچے تھے اور انکی فراست کتنی مومنانہ تھی۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری  رحمہ اللہ نے  26 اپریل 1946 کو دہلی کے اردو پارک میں ایک بڑے مجمع سے خطاب فرمایا ،  اس کا ایک اقتباس  ملاحظہ فرمائیں۔
"اس وقت آئینی اور غیر آئینی بحث چل رہی ہے کہ آیا ہندوستان میں مسلم اکثریت کو ہندو اکثریت سے جدا کرکے دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے ۔ ۔ ؟   قطع نظر اس سے کہ اس کا انجام  کیا ہوگا ۔ ۔ ؟   مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق سے طلوع ہوگا لیکن یہ وہ پاکستان نہیں بنے گا جو دس کروڑ مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں  ہیں ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ کل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔۔؟  بات جھگڑے کی نہیں  سمجھنے  اور سمجھانے کی ہے، تحریک کی قیادت کرنے والوں کے قول وفعل میں بلا کا تضاد اور اور بنیادی فرق ہے اگرآج مجھے کوئی اس بات کا یقین دلادے کہ کل کو ہندوستان کے کسی قصبے کی گلی میں یا کسی شہر کے کسی کوچے میں حکومت الہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاد ہونے والا ہے تو رب کعبہ کی قسم میں آج ہی اپنا سب کچھ چھوڑ کا آپکا ساتھ دینے کیلئے تیار ہوں۔لیکن  یہ بات میری سمجھ س بالاتر ہے کہ جو لوگ اپنی اڑھائی من کی لاش اور چھ فٹ کے قد پر اسلامی قوانین نافد نہیں کرسکتے جن کا اٹھنا بیٹھنا، وضع قطع ، جن کا رہن سہن ، بول چال، زبان و تہذیب، کھانا پینا ، لباس وغیرہ غرض کوئی چیز بھی اسلام کے مطابق نہ ہو وہ دس کڑوڑ انسانی آبادی کے ایک قطع زمین پر اسلامی قوانین کیسے نافد کرسکتے ہیں؟ یہ ایک فریب ہے اور میں یہ فریب کھانے کے لیے تیار نہیں۔
 ہندو اپنی مکاری اور عیاری سے ہمیشہ پاکستان کو تنگ کرتا رہے گا، اسے کمزور بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، اس تقسیم کی بدولت آپ کے دریاؤں کا پانی روک دے گا، آپ کی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کرے گا، آپ کی یہ حالت ہوگی کہ بوقت ضرورت مشرقی پاکستان مغربی پاکستان کی اور مغربی پاکستان مشرقی پاکستان   کی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہوگا، اندرونی طور پر پاکستان میں چند خاندانوں کی حکومت ہوگی اور یہ خاندان زمینداروں، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے خاندان ہوگنگے، امیر دن بدن امیر ہوتا جائے گا اور غریب  غریب تر"۔
(روزنامہ الجمعیہ دہلی، 28 اپریل 1946)
اس  طرح مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا:
"اس زمان میں پاکستان کی تحریک زبان زد عوام ہے ، اگر اس کا مطلب اسلامی حکومت علی منہاج النبوۃ  مسلم اکثریت والے صوبوں میں قائم کرنا ہے تو ماشاء اللہ نہایت مبارک اسکیم ہے، کوئی بھی مسلمان اس میں گفتگو نہیں کرسکتا، مگر بحالت موجودہ یہ چیزیں متصور الوقوع نہیں۔ اور اس کا مقصد انگریز کی حکومت کے ماتحت کوئی ایسی حکومت کو قائم کرنا ہے جس کو مسلم حکومت کا نام  دیا جاسکے تو میرے نزدیک یہ اسکیم محض بزدلانہ اور سفیہانہ ہے اور ایک طرف برطانیہ کے لیے ڈیوائیڈ اینڈ رول  کا موقع بہم پہنچارہی ہے اور یہی عمل برطانیہ نے ہر جگہ جاری رکھا ہے"۔
( علمائے حق اور انکے مجاہدانہ کارنامے جلد 1 ص 462)
یہ موضوع بہت تفصیل مانگتا ہے، صرف ضروری باتیں لکھ رہا ہوں،  مولانا مدنی کے  مکتوبات  جو مکتوبات شیخ السلام کے نام سے مشہور ہیں  ان میں اس بات کا تذکرہ  موجود ہے کہ  1936 کے صوبائی الیکشن میں  جمعیت علمائے ہند   کی مسلم لیگ   کے ساتھ اتحاد کی بات چلی تھی اور جمعیت نے شرط یہ رکھی تھی کہ مسلم لیگ سے انگریز پرست، رجعت پسند اور خوشامدی ٹول کو نکالا جائے' قائداعظم  نے  وعدہ کیا  تھا کہ وہ  سرکارپرست ٹولے کو لیگ سے علیحدہ نہ کرسکے  تو خود لیگ سے علیحدہ ہوجائیں گے۔۔ ۔ یہ کبھی ممکن نہ ہوسکا۔
غرض  ان لوگوں کو پاکستان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ یہ سب باتیں سیاسی اختلاف کی حد تک تھیں جو کسی کو بھی ہوسکتا ہے ،  انکاموقف یہ تھا کہ انگریز کے زیر سایہ ہونے والی تقسیم کم ازکم مسلمانوں کے لیے کبھی فاعدہ مند نہیں ہوسکتی  ۔ !! پاکستان  بننے کے بعد ان میں سے کسی نے بھی پاکستان کی مخالفت نہیں کی بلکہ مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا ابو الکلام آزاد  رحمہ اللہ  نے پاکستان بننے کے بعد جو کچھ کہا اور جیسی دعائیں دیں اور متعلقین کو جس طرح اس فرض کی یاد دہانی  کرائی وہ ان کے ہم عصر لوگوں کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ اس کا  ذکر چھیڑ دیا  تو مضمون بہت طویل ہوجائے گا۔ صرف اتنا لکھنا  کافی  سمجھتا ہوں کہ  حضرت مدنی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے  کہ " پاکستان کے قیام کے بعد اب اس کا حکم مسجد کا سا ہے، اس کے بنانے میں اختلاف ہوسکتا ہے، بننے کے بعد اسکی تقدیس فرض ہے" مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ "پاکستان وجود میں آگیا ہے تو اب اسے باقی رکھنا چاہیے، اس کا بگڑ جانا  سارے عالم اسلام کے لیے شکست کے برابر ہوگا"۔
(بحث ونظر  نوائے وقت۔ 23 مارچ 1973)
مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ بھی چونکہ انہی کی جماعت اور  تحریک کے ایک فرد تھے ، اس لیے انہوں نے بھی پاکستان بننے کے بعد یہاں رہ کر اس کی بہتری کے لیے مسلم لیگیوں سے بڑھ کر کوششیں کیں اور مرتے دم تک  اسلام اور پاکستان کا رشتہ جوڑے رکھنے کے لیے کوشاں رہے۔ مفتی صاحب  پر یہ الزام کہ   "  شکر ہے  ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے 'کس حد تک درست ہے؟  اس کا جواب خود مفتی صاحب نے ہفتہ روزہ افریشیا  کو دیے گئے انٹرویو  میں دیا تھا :
" "جو بات یہ لوگ کہتے ہوئے نہیں شرماتے میں سنتے ہوئے بھی شرماتا ہوں، اس بات کی حقیقت اس قدر ہے کہ محاذ کی میٹنگ میں  بعض دوست آپس میں باتیں کرتے ہوئے مسلم لیگ کو کوس رہے تھے، چوہدری ظہور الہی بھی وہاں موجود تھے ، بات خالصتا مذاق میں ہورہی تھی، خود مسلم  لیگ کے دوست کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ ہماری ماں تھی لیکن یہ ماں بھی بدکار ہوگئی اور اس کے گناہوں کی ہوئی حد نہیں۔ اس پر میں نے ہنستے ہوئے کہا  کہ خدا کا شکر ہے ہم اس گناہ میں شریک نہیں تھے، یہ صرف مذاق کی بات تھی۔"
 (ہفت روزہ ترجمان اسلام" مفتی محمود نمبر) (4 جون1973، تحفظ ختم نبوت کانفرس لاہور)
مفتی صاحب پر سوشلزم کی حمایت کی حمایت بھی محض ایک  الزام تھا۔ یہ محض مفتی صاحب کی سرمایہ دارانہ نظام کی مخالف  کرنے کی وجہ سے سرمایہ داروں نے گھڑا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ   اس دور میں جب ان دونوں (سوشلرزم اور کیپٹل ازم )کا اختلاف پاکستان میں عروج پر تھا، مولانا  نے کپیٹل ازم اور سوشلزم  کے درمیان ایک معتدل موقف اپنایا تھا، وہ سرمایہ داری  اور ان بائیس خاندانوں کو پاکستان کی غربت و افلاس کی اصل وجہ سمجھتے تھے۔ اس دور میں جب سرمایہ داروں کے تحفظ کی تحریک چلی تھی مولانا نے ملک کے پسے ہوئے طبقہ غریبوں، مزدوروں کے حقوق کی آواز اٹھائی تھی اور اسکو اسلامی نقطہ نظر سے پیش کیا تھا،      تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہی آواز سوشلسٹ لوگوں کی بھی تھی، اس  کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ داروں نے آپ کو سوشلزم کا حامی مشہور کردیا اور پھر اپنے حامی علما کے ذریعے  آپ پر کفر کے فتوے بھی   لگوائے گئے۔ حالانکہ مفتی صاحب کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ وہ سوشلزم کو بھی کفر کا ہی نظام کہتے تھے، ایک انٹرویو میں  فرمایا۔
"اگر کوئی  شخص  مارکس اور لینن کے نظریہ کو اسلامی سوشلزم تعبیر کرتا ہے وہ اسلامی تعلیمات کی تکذیب کرتا ہے"۔ میں مفتی صاحب کے کئی  بیانات حوالے کے ساتھ پیش کرسکتا ہوں، فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں، کسی کو مزید تفصیل درکار ہوتو مہیا کرسکتا ہوں۔۔۔ مفتی صاحب  کا پی ٹی وی کو دیا گئے انٹرویو كا ایک کلپ ملاحظہ فرمائیں۔۔




25 comments:

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

کسی نے کہا تھا ” اگر کسی کو غلط فہمی ہوجائے تو غلط فہمی دُور کرنے کی کوشش غلط فہمی کو کم تو نہیں کرے گی البتہ بڑھا سکتی ہے“۔
میں نے ساری تحریر پڑھی اور بہتری کی تلاش میں ناکام رہا ۔ آپ جواں نسل ہیں ۔ کوئی حل تو بتایئے ۔
میں مفتی محمود صاحب کی امامت میں نماز پڑھتا رہا ہوں لیکن فضل الرحمٰن صاحب کو اچھا نہیں سمجھتا ۔ وجہ دونوں کا کردار ہے

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

جناب آپ کس بہتری کی تلاش میں تھے، اپنی غلط فہمی تو بتائیں، باقی میں بھی مولانا فضل الرحمان صاحب کا نا فین ہوں نہ میں نے انکا دفاع کیا ہے۔

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

قبلہ ۔ آپ نے ماضی کے پٹولے پھرولے ہیں ۔ ماضی صرف سبق حاصل کرنے کیلئے ہوتا ہے ۔ ماضی میں جیا نہیں جا سکتا ۔ یہ بتایئے کہ مستقبل کیلئے حال میں کیا کرنا ہے ؟ جہاں تک لوگوں کی باتوں کا تعلق ہے کسی کی زبان نہیں پکڑی جا سکتی ۔ آدمی صرفگ اپنی سمت درست کر لے تو بھی بڑی بات ہے اور یہ بھی اللہ کی دی ہوئی توفیق سے ہی ممکن ہے ۔
میری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ آدمی کو اُس وقت تک انسان سمجھتا ہوں جب تک وہ کچھ اور ثابت نہ کر دے

محمد زہیر چوہان نے لکھا ہے کہ

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کسی دیوبندی ’سیاست دان‘ کے خلاف کوئی بات لکھی جائے تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ حملہ مسلک دیوبند پر کیا گیا ہے، جواب میں وہ اس سیاست دان کی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے اکابرین دیوبند کے حوالے دینے لگتے ہیں اور ایک عالم دین کو دنیا پرست سیاست دان کے برابر قرار دے دیتے ہیں۔

آپ کسی نہ کسی طرح یہ تو ثابت کرسکتے ہیں قیام پاکستان کی مخالفت کرنا کوئی برا فعل نہیں مگر جناب یہ تو بتایے کہ مفتی محمود یا انکے صاحبزادے نے آج تک ’پاکستان‘ کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کچھ کیا ہے؟ محض سیاسی نعروں اور وعدوں سے تو کام نہیں چلتا نہ۔

ڈاکٹر جواد احمد خان نے لکھا ہے کہ

بہت عمدگی سے آپ نے علما اور انکے تحفظات کا ذکر کیا ہے۔
لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ علمائے دیوبند کی ایک بڑی تعداد وطن پرستی کے نظریے سے متاثر رہی ہے جسکا مظاہرہ آج بھی ہمیں انڈیا کے علمائے دیوبند میں دیکھنے کو مل جاتا ہے۔
ایک بات اور واضع کرتا چلوں کہ اسلامی ریاست کا تصورکبھی بھی علمائے دیوبند میں نہیں رہا۔ مولانا حسین احمد مدنی اپنے خطوط میں موجودہ دور میں مدینہ جیسی اسلامی ریاست کے خیالات پر تعجب کا اظہار کرچکے ہیں۔

Muhammad Shakir Aziz نے لکھا ہے کہ

عطاء اللہ شاہ بخاری، اور ابولکلام آزاد ستر سال پہلے وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے جو آج 2013 میں اس ملک میں اسلام کے نام پر ہو رہا ہے۔

Muhammad Mohsin نے لکھا ہے کہ

جزاک اللہ خیرا ۔۔۔۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

ڈاکٹر صاحب اختلاف کی جسارت کررہا ہوں .....معلوم نہیں کیوں یہاں آپکا یہ تبصرہ پڑھ کے ایسا لگا کہ آپ کرک نامہ پہ تبصرہ فرمارہےہیں

سعید

درویش خُراسانی نے لکھا ہے کہ

اگر چہ اس موضوع پر میرا زیادہ مطالعہ نہیں ہے لیکن عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ابو الکلام آزاد رحمہم اللہ تعالیٰ کے پاکستان کے مستقبل کے بارئے میں پیشن گوئی پڑھ چکا تھا۔اشرف علی تھانوی صاحب نے بھی بعض خطوط مین لکھا ہے کہ پاکستان بننے والا ہے ،اور اب محنت قائد اعظم پر کرنی چاہئے کہ تاکہ زیادہ سے زیادہ میلان اسکا دین کی طرف ہوجائے، اور پاکستان پر سیکولرازم کی چھاپ نہ لگے۔

ڈاکٹر جواد احمد خان نے لکھا ہے کہ

سعید پالن پوری صاحب،
آپ کو میری کس بات سے اختلاف ہے؟ کرک نامہ پر تبصرے جلے دل کے ساتھ کرتا ہوں یہاں تو کوئی ایسا مسئلہ نہیں۔۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

ڈاکٹر صاحب آپکی بات میں صرف ایک رخ ہونے پہ اختلاف کی جسارت کی تھی:

لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ علمائے دیوبند کی ایک بڑی تعداد وطن پرستی کے نظریے سے متاثر رہی ہے جسکا مظاہرہ آج بھی ہمیں انڈیا کے علمائے دیوبند میں دیکھنے کو مل جاتا ہے

یہ صرف ایک رخ دکھایا ہے آپنے جبکہ نفس الامری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اسکی برعکس شکل میں بھی بلکل اسی طرح کا دعویٰ کیا جاسکتاہے:

لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ علمائے دیوبند کی ایک بڑی تعداد دو قومی نظریے سے متاثر رہی ہے جسکا مظاہرہ آج بھی ہمیں پاکستان کے علمائے دیوبند میں دیکھنے کو مل جاتا ہے

سعید

محمد سعد نے لکھا ہے کہ

ڈاکٹر جواد صاحب اور سعید پالنپوری صاحب،
پاکستان اور ہندوستان کے علماء خواہ وطن پرستی سے متاثر ہوں یا نہ ہوں، لیکن آپ دونوں واضح طور پر وطن پرستی سے متاثر ہیں۔ :)

ڈاکٹر جواد احمد خان نے لکھا ہے کہ

جناب سعید پالن پوری صاحب،
انڈین مسلم کے اذہان کی جس طرح تکشکیل دی گئی ہے اور جس طرح انہیں نظریاتی شکست دی گئی ہے وہ ایک کھلی حقیقت ہے۔ یادش بخیر تقسیم کے وقت انڈیا کے مسلمان بندے ماترم نہیں گاتے تھے۔ اس پر سخت احتجاج کیا گیا۔۔۔لیکن آج ؟؟؟
آج کا ہندوستانی مسلمان نماز پڑھتا ہے ، ، داڑھی رکھتا ہے اور ایک دن ہندو دیوتاؤں کی سیوا اور ان پر چڑھاوے چڑھانے کو بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ضروری بھی سمجھتا ہے۔ضروری نہیں کہ ہر جگہ یہ صورتحال ہو مگر بحثیت مجموعی ہندوستانی مسلمان نظریاتی شکست کی المناک تصویر ضرور نظر آتا ہے۔

سعد بھائی! اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن پرستی کے جراثیم مجھ میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن آپ خود بتائیے کہ ایک نظریاتی اسلامی ریاست سے اسکی تمام تر ناکیامیوں کے باوجود محبت رکھنا بڑا جرم ہے یا ہندوستان جیسے دارالکفر سے؟

گمنام نے لکھا ہے کہ

ڈاکٹر بات تو چل رہی تھی ایک مخصوص طبقے کی ....آپ اس کو چھوڑ یہ کدھر چلے گئے .....خلط مبحث نہیں ڈاکٹر صاحب .....یہ دوسرا موضوع ہے اس پر پھر کبھی کسی پوسٹ کی مناسبت سے بات کریں گے

سعید

گمنام نے لکھا ہے کہ

سوری.......صاحب لفظ رہ گیا.......ڈاکٹر صاحب پڑھا جائے

سعید

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

محمد زہیر چوہان @
جناب میں نے فضل الرحمان صاحب کا دفاع کیا ہی نہیں نہ اس نے قیام پاکستان کی مخالفت کی ہے کبھی۔ پھر انکے دفاع میں اکابرین کے حوالے کا کیا مطلب۔ ۔؟ جس کی طرف اشارہ کیا گیا کہ اس نے قیام پاکستان کی مخالفت کی ہے میں نے اسی پر بات کی ہے۔ دوسری بات مفتی محمود کیسے آدمی تھے، انہوں نے پاکستان کی سیاست میں رہ کر پاکستان کے لیے کیا کام کیا اس پر لکھنے کو بہت ٹائم چاہیے، آپ اس دور کے متعلق لکھی جانے والی کوئی تحریر پڑھ سکتے ہیں، مزید انہوں نے کتنی بے داغ سیاست کی اسکا اعتراف انکے مخالفین نے بھی کیا ہوا ہے۔ اس پر پھر ضرورت پڑی تو تفصیل سے لکھوں گا۔


ڈاکٹر جواد احمد خان @
جواد بھائی یہ جو آپ نے بات لکھی کہ علمائے دیوبند کی بڑی تعداد وطن پرستی کے نظریہ سے متاثر رہی کیا یہ مولانا مدنی اور اقبال کے درمیان ہونے والے اختلاف کی طرف اشارہ تو نہیں؟ اقبال کےیہ شعر جس اختلاف کی وجہ بنے تھے،
عجم ہنوز نہ داند زموز دیں ورنہ

زدیوبند حسین احمد این چہ ابو العجمی است
سرور د، بر سر منبر کہ ملت از وطن است

چہ بے خبرز مقام محمد عربی است
بہ مصطفیٰ بر ساں خویش را کہ دین ہمہ اوست

اگر بہ او نہ رسیدی تمام ابو لہبی است

دوسری بات وطن پرستی كے بارے میں مولانا مدنی رحمہ اللہ کے خطوط کا جو آپ نے حوالہ دیا ہے وہ میری نظر سے نہیں گزرا مکتوبات شیخ الاسلام چھے جلدوں میں ہے اگر آپ صفحہ نمبر وغیرہ بتادیں تو میں اس کو دیکھ سکوں۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

ماشاء اللہ ، بہت اچھے طریقہ سے اکابرین کا دفاع کیا ہے
جمہوریت کے اوپر بھی کچھ مفصل تحریر پیش کریں

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

حوصلہ افزائی کا شکریہ، اگلی تحریر انشاء اللہ اسی موضوع پر آرہی ہے.

dua awan نے لکھا ہے کہ

میں علمائے کرام کے خیالات سے متفق ہوں مگر اب جبکہ اس اسلامی ریاست کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہےضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں اسلامی قوانین کا نفاذ بھی کیا جائے بس یہی ایک راستہ ہے جس پر چک کر ہم اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکتے ہیں۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

جتنا نقصان اسلام کو اس دیو بند نے پہنچایا ہے اتنا نقصان یہودیت اور نصرانیت نے مل کر بھی نہیں پہنچایا۔ یہ لوگ منافقوں کے امام ہیں انھیں انکی مجموعی تعلیم کے تناظر میں دیکھیں گے تو آپ کو میری بات سمجھ آئے گی۔ یہ منافق اس پاک سر زمین پہ بیٹھ کر اس کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں اگر پاکستان سے اتنی نفرت ہے تو دفع ہو جاؤ ہندوستان ۔۔۔ یاد رکھو وہ وقت دور نہیں جب تمھارا نشان بھی نہیں رہے گا اس سرزمین پہ انشاءاللہ

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

گمنام صاحب
آپ کا کمنٹ میں ڈیلیٹ نہیں کروں گا تاکہ شہادت رہے کہ میں نے جن کے ریسپانس میں یہ تحریر لکھی انکے خیالات اصل میں کیا ہیں۔ گواہی دینے کا شکریہ

گمنام نے لکھا ہے کہ

یہ صرف میرے خیالات نہیں بلکہ ہر محب وطن اور محب اسلام آدمی کے ہیں۔ تم ہمارے ملک میں بیٹھ کر ہمارے لیڈروں کو گالیاں بکتے ہو۔ قائد اعظم اور دوسرے لیڈروں کے بارے میں بکواسیات کرتے ہو اور ہمیں اسلام کی تعبیر بتاتے ہو جو تمھارے اکابرین نے کی ہے ہم لعنت بھیجتے ہیں اس بیہودہ اور فرسودہ تعبیر پر- ہم اپنے آقا و مولا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعبیر قبول کریں گے تم جیسے گھٹیا اور طاغوت کے نوکر کی نہیں۔ جن کا مقصد صرف بیگناہ انسان کے خون سے ہاتھ رنگنا ہے۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ


گمنام صاحب اپنا نام تو لکھ دیجیے اتنا پردہ کیاہے۔
بھئی آپ نے میری تحریر مکمل پڑھی ہی نہیں اس لیے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ، ان علماء کو پاکستان سے بالکل کوئی نفرت یا دشمنی نہیں تھی بلکہ انکا تحریک پاکستان سے اختلاف اجتہادی اور اصولی تھا اسی تحریر میں پاکستان بننے کے بعد انکے اسکے بارے میں کیا خیالات کا تذکرہ موجود ہے، مزید انکے اختلافی موقف کا کچھ حصہ بھی اوپر تحریر میں نے دیا ہوا ہے، آپ بلاوجہ غصہ کرنے ، جذبات میں آنے کے بجائے اسکو پڑھ کر بتائیے کیا انکا موقف غلط تھا ، کیا انکا اختلاف کسی ذاتی نفرت یا تعصب کی وجہ سے تھا؟ ؟
یہ تو اس مسلک کے ایک طبقہ کے علما کا نظریہ تھا ، انہی کے ہم مکتب علماء کا ایک گروہ وہ بھی ہے جنکے علم اور پاکستان کے لیے کی گئی محنت کی مثالیں خود لیاقت علی خان اور قائداعظم دیتے تھے، انہوں نے ہی تحریک پاکستان کو ایک مذہبی رنگ دیا تھا، انہی کی خدمات تھیں کہ قائداعظم نے ان سے مشرقی و مغربی پاکستان میں پہلی دفعہ پاکستان کے جھنڈے لہرائے، یہ ان سے عقیدت ہی تھی کہ قائداعظم مرتے وقت یہ وصیت کرگئے کہ میرا جنازہ یہ پڑھائیں گے، ان علماء کا پاکستان کے بننے میں، اسکے مذہبی رنگ کو برقرار رکھنے میں کیا کردار تھا اسکی گواہی تاریخ پاکستان دے رہی ہے۔

Rafi uddin نے لکھا ہے کہ


Assalm o Alaikum wa Rahmatullah wa brakatoho
Muhtram shaikh sahib!
I am student of Islamic Studies in Sargodha University.My topic of my thesis is "Punjab maen Uloom ul Quran wa Tafseer per ghair matboa Urdu mwad" please guide me and send me the relavant material for said topic.I will be thankful to you for this kind of act and I will pray for your forgiveness.
your Islamic brother Rafi ud Din 03336750546,03016998303 email drfi@ymail.com

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

بھائی اگر آپ فیس بک استعمال کرتے ہیں تو ہمیں فیس بک پر میسج کردیں۔ ہمارے بلاگ کے فیس بک پیج کا لنک بلاگ کی رائٹ سائیڈ پر موجود ہے۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔