اتوار، 21 اگست، 2011

جیو ٹی وی کی ایک اور ناپاک اور شرانگیز حرکت


جیو ٹی وی شروع سے  پاکستان میں انتہائی منافقانہ کردار ادا کرتا چلا آرہاہے۔ اس کی اجمل قصاب کے والدین اور گاؤں کے متعلق   خود ساختہ اور بے بنیاد کہانی پر مشتمل   ڈاکو مینٹری فلم، امن کی آشا کے نام پر  ہندوانہ  کلچر  اور  انڈین فحاشی کے سیلاب کی پاکستان درآمد، اسکی ننگی فلموں ڈراموں کی اپنے چینلز سے اوپن نشریات   جیسی بہت سی مثالیں پچھلے چند سالوں میں سامنے آئیں ہیں،   اس کے علاوہ غیر وں کا ایجنٹ یہ  مافیا گروپ پچھلے چند سالوں سے اسلام پر بھی  انتہائی غیر محسوس طریقے سے ڈائریکٹ  وار کرتا چلا آرہا ہے۔ شروع میں اس  کا نا اہل لوگوں کو اکٹھا کرکے اسلام پر تبصرے کرانے والا  پروگرام جاہل  آن لائن ،  حدود آرڈینینس کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ مہم، ’خدا کے لیے ’ جیسی عوام میں دینی  آزادی اور بے راہروی پھیلانی والی فلموں کی تشہیر اور   چند سال پہلےرمضان میں  توہین رسالت پر مشتمل فلم ”دی میسج"   اور اب اس رمضان میں اسی فلم کے  طرز پر ایک ڈرامہ سیریل  " تمثیل حیات طیبہ " نشر کرنا چند مثالیں ہیں۔ 

 پہلے فلم  "دی میسج"اور اب اسی طرز کے  ڈرامہ "تمثیل حیات طیبہ" کی تشہیر  میں میڈیا کے ذریعے یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ یہ حقیقی واقعات پر مبنی  ہیں۔لوگ  انہیں ثواب کی نیت سے اور مقدس سمجھ کردیکھ رہے ۔ جن لوگوں نے یہ فلم دیکھی  ہے یا یہ نیا ڈرامہ دیکھ رہے ہیں ‘ وہ اس کو بُرا سمجھنے پر بھی تیار نہیں ہیں‘ اگر سمجھاؤ‘ تو کہتے ہیں: ”اس میں تو سچے مناظر دکھائے جارہے  ہیں۔“ بعض کا کہنا ہے کہ : ”اگر کسی کو پڑھنا نہ آتا ہو‘ تو وہ انہیں  دیکھ کر ہی اسلام کے ابتدائی حالات و واقعات کا مطالعہ کرسکتا ہے۔کچھ کا کہنا ہے کہ: "بے شک ان میں سیّدنا ابوبکرصدیق‘ ابو سفیان‘ حضرت بلال‘ حضرت ابو ایوب انصاری اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا کردار ادا کیا گیا ہے‘ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں بھی بولتے ہوئے نہیں دکھایا گیا اور نہ ہی واضح شکل دکھائی گئی ہے۔" گویا ان لوگوں کے نزدیک اس فلم میں کوئی قابل ممانعت بات ہی نہیں پائی جاتی‘انہیں اس کا کچھ احساس ہی نہیں ہے   کہ وہ  اپنے مذہب کی مقدس شخصیات کی  اتنی بڑی توہین برداشت کررہے ہیں۔

  فلم دی میسج جس کو جیو نے اپنے چینل اور اخبارات سے بھرپور تشہیر کے بعد کئی بار چلایا ’  کو بنانے والا مصطفی عکاظ ایک لادین مستشرق تھا اور اس نے اپنے آقاؤں کے اشارہ پر توہینِ رسالت و توہینِ صحابہ پر مبنی یہ بدنام زمانہ فلم بنائی اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات کو دنیا جہان کے کنجروں اور بدمعاشوں کی شکل میں دکھا کر مسلمانوں کے ایمان و عمل کو غارت کرنے اور ان مقدس شخصیات کی توہین و تنقیص کرنے کی کوشش کی۔ اب یہ  ڈرامہ سیریل  " تمثیل حیات طیبہ " بھی  کسی دوسری زبان سے  اردو ترجمہ  کیا گیا لگتا ہے ۔ ان  دونوں میں    نہ صرف اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت کے دور کی منظر کشی کی گئی ہے‘ بلکہ بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم‘ مثلاً: حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور دیگر مقدس ہستیوں کا مختلف اداکاروں نے باقاعدہ کردار ادا کیا ہے،حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اذان دینا‘ ان پر کافروں کی جانب سے سختیاں کیا جانا‘ وغیرہ ‘حتی کہ حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کا بھی کسی ملعون اداکار نے کردار ادا کیا ہے‘فلم میں اس آدمی کا چہرہ تو واضح نہیں ہے‘ لیکن اسے چلتے پھرتے دکھایا گیا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ شریف ہجرت کے واقعہ کی نعوذباللہ منظر کشی کی گئی ہے‘ دکھایا گیا ہے کہ دف بجائے جارہے ہیں‘ لوگ انتظار میں کھڑے ہیں‘ ایک شخص جس کا چہرہ واضح نہیں ہے‘ سفید اونٹ پر سوار آرہا ہے ( استغفراللہ)۔فلم کی ایک اور جھلکی میں دکھایا گیا ہے کہ بت رکھے ہوئے ہیں‘ ایک شخص چھڑی کی مدد سے بتوں کو گراکر توڑ رہا ہے۔جن  لوگوں نے فلم" دی میسج" دیکھی  ‘ ان کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اوپر فلم بنائی گئی ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینے ہجرت کرجانے کے دوران غار میں سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قیام کرنا‘ غار کے منہ پر مکڑی کا جالا بننا‘ کبوتر کا انڈے دینا‘ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اینٹیں اٹھا اٹھا کر لانا‘ حضرت ابو ایوب انصاری  رضی اللہ عنہ کے گھر قیام کرنا وغیرہ‘ باقاعدہ ڈائیلاگ کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔ نعوذباللہ۔

افسوس صد افسوس ۔اسلام میں تو  کسی عام  پیغمبر، نبی ، صحابی  کی شبہیہ ، تصویر، خاکہ  تک بنانا حرام ہے اور یہاں  کافروں‘ مشرکوں‘ ملحدوں ، زانیوں ، شرابیوں  کو امام الانبیا  حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  اور انکے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس جماعت کے طور پر پیش کیا  جارہا ہے اور  وہ لوگ جو خود کو مسلمان کہتے ہیں  وہ نہ صرف اس کو دیکھ رہے ، اسکی  تعریف کررہے ہیں بلکہ  باقاعدہ اسکا دفاع بھی کررہے ہیں۔کیا کوئی  حقیقی مسلمان سوچ سکتا ہے کہ فلم انڈسٹری کے کسی حیا باختہ انسان کو حضرت حمزہ، حضرت بلال، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام د یا جائے؟  ظلم کی انتہا جو کام آج تک اسلام کے ازلی دشمن نہیں کرسکے تھے ۔ وہ اب مسلمانوں کے ہاتھوں‘ مسلمانوں کے ملک میں اور مسلمانوں کے سامنے کیا جارہا ہے‘ اور طرفہ تماشایہ کہ اس کو اشاعتِ اسلام کا نام دے کر اسے دیکھنا ‘دکھانا اور اس کی نشرو اشاعت کو نیکی کا نام دیا جارہا ہے۔

کیا یہی باتیں مسلمانوں پر اجتماعی طور پر  آئے ہوئے اللہ کے عذاب کے لیے کافی نہیں۔اللہ ہمیں معاف فرمادیے۔ جن لوگوں نے اس فلم کو صحیح جان کر دیکھا ہے یا اس ڈرامہ کو تحسین کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ‘ ان کو بارگاہ الٰہی میں اس سے توبہ کرنا چاہئے۔ 
 جیو ٹی وی کا یہ عمل سراسر غلط‘ ناجائز‘ لائقِ صد نفرت اور گستاخانہ ہے‘ ہمیں  اس توہینِ رسالت کی سازش کے خلاف بھرپور احتجاج کرنا چاہیے۔

احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے کچھ نمبر :
 جیو گروپ سے ا حتجاج    اس نمبر اور میل پر ریکارڈ کرائیں
111-436-111 
feedback@aag.tv
feedback@geo.tv

پی ٹی اے کو کمپلینٹ کریں
0800-55055
complaint@pta.gov.pk

 باوجود تنبیہ کے بھی اگر یہ ٹی وی چینل  اس بدترین کردار سے باز نہ آئے‘ تو اُسے اس حرکت سے باز رکھنے یا سبق سکھانے کے لئے‘ احتجاجا اس کا بائیکاٹ کیا جائے‘ کیونکہ آخری درجہ میں ہم اتنا ہی کرسکتے ہیں۔ 

16 comments:

مطلوب نے لکھا ہے کہ

السلام اعلیکم
محترم آپ نے ایک نہایت اہم مسئلے پر بات کی ہے
یہ سب اغیار اور اپنوں کی سازش ہے
میڈیا اپنے خلاف کسی بھی آواز کو دبا کر اپنی من مانی کررہے ہیں
مشکل یہ ہے کہ مخالف میڈیا کو نام و نشان بھی نہیں ہے

مائرہ نے لکھا ہے کہ

ایک انتہائی اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانے پر اللہ پاک آپکو بے انتہا اجر عطا فرمائے آمین

گمنام نے لکھا ہے کہ

دیکھنا ایک دن وہ آئے گا کہ زنا کے ذریعہ سے بھی اسلام کی "خدمت"کی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کیلئے خارجی محاذ سے مشکل داخلی محاذ ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی حفاظت کرے

سعید

Shahnawaz نے لکھا ہے کہ

In my personal Views.

This Movie was not meant to for Muslims it was for Non Muslims to see.

When we go and teach people about new thing than we have to be tricky, we have to teach them with the things that they use for knowledge. As in India Muslims Sofia Allowed Qawali and Other things so Islam could establish.

But in West now a days source of spreading some message is Media. If we don't use this Facility to spread our message. Than our message will not spread. Many Non Muslims wont go and Read a whole book on Holy Prophet, but they will see that movie.

People who were good at acting were chosen to act. It was just acting as we know nothing else, they Selected best people with best Acting

There is no "Sawab" Involve in this Movie. Script and History for movie "The Message" was approved by Jamia tul Azhar (Egypt)

Iran Made a Movie about Hazraz Soleman (A.S).
Turkey Made movie on Hazrat Khalid Bin Walid .

Please don't attach emotions with this movie, as this was a trick to show People Muslim History.

گمنام نے لکھا ہے کہ

@ Shahnawaz
kya Nanga(naked) hokar bhi koi naik kaam kya jasakata hai, agar kisi non-muslim ko Musalmaan karna hoto Nanga(naked) hona parega, also Jamia-tul-Azhar has lost its credibility many years ago as famous Islamic Study center in the world, All of Islam's Teachings Including Quraan-e-Kareem and Ahadith have been translated into every Language so dont say rubbish that if any1 couldn't read he could see the movie so he will convert to Islam thats a very improper procedure.
In Europe or America , Islam spreads through Tableegh, not through Qawwali, Dances, Movies, Singing songs.
you are a muslim and i m very disappointed that you have very limited and false information about Islam.

Rashid Idrees Rana نے لکھا ہے کہ

محترم بنیاد پرست،

آپ کی تحریر واقعی ہی جگا دینے والی ہے ۔ بس مجھے تھوڑی مدد درکار ہے میں نے نیٹ پر سرچ کی ہے مگر مجھے جیو کے لنک کے ساتھ ایسے کسی ڈرامہ کا لنک نہیں مل رہا۔ مہربانی فرما کر آپ یا کوئی بھی بھائی میری مدد کریں، اس کے بعد بحثیت ایک مسلمان جہاں تک ہو سکا اس کے خلاف احتجاج بلکہ عملی احتجاج کریں گے۔


شکریہ

رانا راشد

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

دنيا جس ميں ہمارا مُلک بھی شامل ہے کے ذرائع ابلاغ پر سوائے معمولی استضناء کے کُفّار ۔ مشرکين اور منافقين کا قبضہ ہے جو اس سے بھپور فائدہ اُٹھا رہے ہيں مگر تُف ہے اُن مسلمان کہلانے والوں پر جو ان کے مداح ہيں ۔ جيو تو پرانی بات نہيں جنگ اخبار ہی ہے جس نے اپنی پہلی اشاعت کے دن سے ہمارے مُلک ميں فحاشی پھيلانے ميں اہم کردار ادا کيا
اللہ ہميں شيطان سے محفوظ رکھے

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

جناب راشد صاحب یہ اس ڈرامہ کی ابتدائی ویڈیو کا لنک ہے۔

http://www.youtube.com/watch?v=rLJ9y1UyElQ&feature=related

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

جناب عالم اسلام کے تمام معروف دینی و علمی حلقوں نے اس فلم کی تیاری پر شدید احتجاج کیا تھا‘ مصر کے شیخ الازہر، مجمع البحوث الاسلامیہ، مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر شیخ عبدالعزیز بن باز اور رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹری شیخ صالح القزاز کے بیانات اس سلسلے میں شائع ہوئے تھے ‘ پاکستان کے ممتاز اہل علم نے بھی اس پر سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ جامعہ الازہر اب اپنی نام نہاد روشن خیالی کی وجہ سے دینی حلقوں میں اپنی حیثیت کھو چکا ہے، اس ادارے سے بہت سےا یسے فتوی شائع ہوچکے ہیں جو کہ شرعیت کے بالکل خلاف ہیں، آج پاکستان کے گلی محلوں میں بھی خاندانی منصوبہ بندی اور بیمہ پالیسی والوں جیسے ناجائز کام والے انکے فتوے لیے پھرتے ہیں۔

دوسری بات آپ نے فرمایا کہ یہ فلم غیر مسلموں کو اسلام سے متاثر کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ویسے ہمارا موجودہ موضوع اس فلم اور اسی طرز پر بنائے گئے ڈرامے کی پاکستان میں جیو کے ذریعے نشریات تھیں، آپ مجھے بتائیں اگر یہ غیر مسلموں کو متاثر کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں تو پاکستان میں اسکی نشریات کی کیا تک بنتی ہے ۔ حقیقت میں یہ بھی آپ کی ذاتی رائے ہیں اور ایک شیطانی وسوسہ ہے، یہ فلم حقیقت میں منافقت کی ایک بہت بڑی مثال تھی، ا س میں مسلمانوں کو شہد میں زہر مکس کرکے دیا گیا ، میں اس کی بہت سی قابل اعتراض باتوں کا اوپر تذکرہ کرچکا ہوں ، آپ یہ ہی نوٹ فرما لیں کہ اس میں حضرات صحابہ کرام کا کردار ادا کرنے والے ان غیرمسلموں کو فلم اسکرین پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت کلامی اور تند و تیز لہجہ میں بات کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے‘ جس کا تکلیف دہ اور قابل اعتراض پہلو یہ ہے کہ گویا نعوذباللہ! حضرات صحابہ کرام ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب ناآشنا اور گستاخ تھے ؟ ایسی بہت سے مثالوں سے یہ فلم بھری پڑی ہے جن سے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

تیسری بات اگر یہ واقعی غیر مسلموں کو متاثر کرنے اور انکو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بنائی گئی ہو پھر بھی جائز نہیں کیونکہ ہمیں کسی بھی نیک مقصد کے حصول کے لیے ناجائز وسائل وذرائع کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں ۔ اچھے اور نیک مقصد کے لیے ذریعہ بھی جائز ہی ہونا چاہیے ، کیوں کہ مسلمان جائز حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے ، جو بات اس کے بس سے باہر ہو اور اس میں اس کو جائز طریقے سے انجام دینے کی طاقت نہیں، تو وہ اس کا مکلف نہیں رہتا " لایکلف الله نفسا الا وسعھا" لہٰذا اگر ہم جائز حدو دمیں رہ کر تبلیغ دین وحفاظت کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے ، توقطع نظر اس بات سے کہ ہم اپنے اہداف میں کام یاب ہوتے ہیں یا نہیں یقینا عندالله ماجور ہوں گے او راپنی ذمہ داری سے عہدہ بر آقرار پائیں گے، لیکن اس کے برعکس کوئی حدود شکنی کرتے ہوئے ” اسلام کی تبلیغ اور حفاظت“ کے خوش نما عنوان سے جتنی بھی کوشش کر لے مردود سمجھی جائے گی۔

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

میں اپنے اکابر کا اس بارے میں قول نقل کرتا ہوں۔ محدث العصر مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ "فلموں کو مخرب اخلاق عناصر سے پاک کرکے تبلیغی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟"اس بارے میں مولانا نے جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ میں یہاں لکھ دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا :
”اس سلسلہ میں ایک اصولی بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہم لوگ الله تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے مکلف نہیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو لوگوں کو پکا مسلمان بنا کر چھوڑیں ،ہاں! اس بات کے مکلف ضرور ہیں کہ تبلیغ دین کے لیے جتنے جائز ذرائع ووسائل ہمارے بس میں ہیں ان کو اختیا رکرکے اپنی پوری کوشش صرف کر دیں ، اسلام نے ہمیں جہاں تبلیغ کا حکم دیا ہے وہاں تبلیغ کے باوقار طریقے اور آداب بھی بتائے ہیں ، ہم ان طریقوں اور آداب کے دائرے میں رہ کر تبلیغ کے مکلف ہیں ، اگر ان جائز ذرائع اور تبلیغ کے ان آداب کے ساتھ ہم اپنی تبلیغی کوششوں میں کام یاب ہوتے ہیں تو یہ عین مراد ہے ۔لیکن اگر بالفرض ان جائز ذرائع سے ہمیں مکمل کام یابی حاصل نہیں ہوتی تو ہم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ناجائز ذرائع اختیار کرکے لوگوں کو دین کی دعوت دیں اور آداب تبلیغ کو پس پشت ڈال کر جس جائز وناجائز طریقے سے ممکن ہو، لوگوں کو اپنا ہم نوابنانے کی کوشش کریں۔
اگر جائز وسائل کے ذریعے اور آداب تبلیغ کے ساتھ ہم ایک شخص کو بھی دین کا پابند بنا دیں گے تو ہماری تبلیغ کام یاب ہے اور اگر ناجائز ذرائع اختیار کرکے ہم سو آدمیوں کو بھی اپنا ہم نوابنالیں تو اس کام یابی کی الله کے یہاں کوئی قیمت نہیں ، کیوں کہ دین کے احکام کو پامال کرکے جو تبلیغ کی جائے گی وہ دین کی نہیں کسی اور چیز کی تبلیغ ہو گی ، فلم اپنے مزاج کے لحاظ سے بذات خود اسلام کے احکام کے خلاف ہے ، لہٰذا ہم اس کے ذریعے تبلیغ دین کے مکلف نہیں ہیں ، اگر کوئی شخص جائز اور باوقار طریقوں سے ہماری دعوت قبول کرتا ہے تو ہمارے دیدہ ودل اس کے لیے فرشِ راہ ہیں، لیکن جو شخص فلم دیکھے بغیر دین کی بات سننے کے لیے تیار نہ ہو ، اسے فلم کے ذریعے دعوت دینے سے ہم معذور ہیں اگر ہم یہ موقف اختیار نہ کریں تو آج ہم لوگوں کے مزاج کی رعایت سے فلم کو تبلیغ کے لیے استعمال کریں گے ، کل بے حجاب خواتین کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اور رقص وسرود کی محفلوں سے لوگوں کو دین کی طرف بلانے کی کوشش کی جائے گی اس طرح ہم تبلیغ کے نام پر خود دین کے ایک ایک حکم کو پامال کرنے کے مرتکب ہوں گے ۔“ (نقوش رفتگان،ص :105,104)

حقیقت بھی یہی ہے فلمیں ڈرامے تو خود مجموعہ منکرات ہیں‘ منکرات کے ازالے کے لئے منکرات کا استعمال کسی طور پر جائز نہیں۔نیز تصویر اور آلات لہو ولعب سے اجتناب کا تعلق منہیات شرعیہ سے ہے اور دعوت وتبلیغ اور دفاع اسلام کا تعلق ”مأمورات شرعیہ“ سے۔ شریعت کی رو سے مأمورات بجالانے سے زیادہ اہم اور ضروری منہیات سے اجتناب کرنا ہے۔
اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمادے۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

i haven't seen it yet but this is really worrying that we Muslims are going no where.

May Allah guide us towards the right path .

گمنام نے لکھا ہے کہ

آپ کی یہ پوسٹ جامعہ حفصہ فورم پر پڑھی، پھر بلاگ کو پڑھا۔ اچھی کاوش ہے، اللہ قبول کرے۔ لیکن کچھ باتوں کو سمجھنا ابھی باقی ہے۔ آپ جامعہ حفصہ فورم پر تشریف لائیں، ان شاء اللہ نفع ہوگا۔
http://www.jhuf.net

عبداللہ نے لکھا ہے کہ

اللہ ہم سب مسلمانوں کو ہدایت کی راہ پر قائم رکھے۔
سادہ سی بات ہے اور اسے سمجھنے کے لیے اتنی منطق کی ضرورت بھی نہیں۔
ایک دوست کو جب میں نے ’’دی میسیج‘‘ فلم کے بارے میں کہا کہ اسے دیکھنا درست نہیں، تو وہ بولے اس میں کیا غلط ہے؟
جواباً میں نے کہا کہ غلط تو بہت کچھ ہے، لیکن اگر کوئی سمجھنا چاہے تو ایک چھوٹی سی دلیل ہی بہت ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے پیارے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا اور نہ ہی خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہؓ کو دیکھا۔ ہم نے ان کا حلیہ سیرت کی کتابوں میں صرف پڑھا ہے، اس لیے ہمارے ذہن میں ان ہستیوں کا ایک خوبصورت عقیدتوں بھرا خاکہ موجود ہے۔
لیکن ’’دی میسیج‘‘ فلم دیکھنے کے بعد آپ سے حضرت بلالؓ کا تذکرہ کیا جائے تو اسی شخص کا خاکہ ذہن میں آئے گا جو فلم میں دکھایا گیا۔
اب سیرت کی کتابوں میں حضور اکرم ﷺ کا مکمل حلیہ مبارک موجود ہے۔ اور اس حلیہ کے مطابق میرے ذہن میں ایک نہایت ہی عقیدتوں بھرا حلیہ مبارک موجود تھا، لیکن جب سے ایرانی منحوسوں کی ایک فلم دیکھی جس میں ایک شخص حضور اکرم ﷺ کا کردار(نعوذ باللہ) ادا کررہا ہے اور اس کی آواز اور پیٹھ کی جانب سے پورا غحلیہ دکھایا گیا ہے۔
اب جب بھی ہپیارے نبی کریم ﷺ کا تذکرہ آتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فلم میں سدکھائے گئے خبیث الفطرت شخص کا نمونہ ذہن میں آجاتا ہے، جسے ذرا برابر شرم بھی نہ آئی اپنے آپ کو حضور اکرمﷺ کی جگہ رکھتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے رب! ہمیں ہدایت کی راہ دکھلا

گمنام نے لکھا ہے کہ

sab pagal hain yahan....
fazul arguments diye ja rahay hain, la hasil behs ki ja rahi hai... koi authentic bat b karay ga? sab apne apne views de rahay hain bas,
ye movies agr galat hain to kaise galat hain akhir? kia koi kirdar ada kr k wohi ban jata hai? aur kia sab insaan baraber nhe hain? hazrat umar (r.a) aur hazrat abu bakr (r.a) kia paida hotay hi pak thay jo en ka kirdar ada karnay walay nhe?? ye b to ho skta hai ye log b apne amal se achay ho jayen bad mein....
kia maghrib mein galat paigham ja raha hai en movies se??????? kia non muslim ko galat msg ja raha hai aise kam se?????

shahnawaz totally right i guess

Saqib Shah نے لکھا ہے کہ

جزاک اللہ
Colourislam.blogspot.com

گمنام نے لکھا ہے کہ

جیو کا ایک اور کارنامہ ملاحظہ کریں.

کاش میں ”خُدا“ ہوتی !!

مضمون کا عنوان پڑھ کر آپ حیران ضرور ہوئے ہونگے کہ عجیب بے تکا سا گستاخانہ عنوان ہے لیکن تھوڑا سا تحمل اور برداشت سے کام لیں کیونکہ اگر عنوان پڑھ کر ہی آپ دلبرداشتہ ہو جائیں گے توباقی سارا مضمون ادھورا رہ جائے ۔ تو دل پر ہاتھ رکھ کر ” استغفار “ اور ” نعوذ باﷲ “ کی تسبیح کا ورد کرتے ہوئے مضمون کو پڑھنا شروع کریں

http://mujheheyhukameazaan.blogspot.com/2012/03/blog-post.html

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔