اتوار، 29 دسمبر، 2013

پاسباں مل گئے ہیکل کو خدا خانے سے (دوسرا اور آخری حصہ)

غامدی مکتبہ فکر کے نظریہ جہاد کے ترجمان عمار خان ناصر صاحب   نے افغان کے مظلوم مسلمانوں کے جہادِ عظیم کے مقابلے میں  جس جہاد کو اورامیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ  کے مقابلے میں جس مجاہد کو نمونے کے طور پر پیش کیا ' گزشتہ تحریر میں  اس کے حالات انہی کی  تجویز کردہ  اور  ترجمہ و نظرثانی شدہ کتاب سے پیش  کیے گئے تھے ، آج اس تحریر کا  دوسرا اور آخری حصہ ملاحظہ فرمائیں۔

امیر عبد القادر کا دوسرا کارنامہ: کافروں کے دفاع میں جہاد:

امیر نے کافروں کے خلاف جہاد نہ کرنے کا عہد کر لینے کے بعد ''کافروں کے دفاع میں جہاد'' شروع کر دیا تھا اور یہی وہ چیز ہے جو آج کل عالمی غاصب مغربی طاقتیں چاہتی ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی زیر نظر کتاب کی رو سے یہ ہے کہ جب موصوف دمشق میں فری میسنری لاج کی گرینڈ ماسٹری کرتے ہوئے ایک لاکھ فرانک کی پنشن یافتہ زندگی گذار رہے تھے، عیسائیوں نے یورپی طاقتوں کی شہہ پر ترک حکام کو ٹیکس نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ جو مسلمان فوجی خدمات نہ ادا کرے اس پر 100 لیرا ٹیکس تھا اور عیسائیوں پر صرف 50 لیرا ٹیکس لگایا گیا تھا، مگر انہوں نے یورپی سرپرستوں کی شہہ پر وہ بھی دینے سے انکار کر دیا: 
غیر ضروری تکبر اور درست خیال کے غلط وقت پر اظہار کے نتیجے میں عیسائیوں کے خلاف غصے کا لاوا پکنے لگا۔ شام کے ان باغی عیسائیوں کے پیچھے (غزوہ تبوک کے پس منظر کے طرح آج بھی) یورپی طاقتیں تھیں اور ترک حکمران عیسائیوں کو ان کی سرکشی کی سزا دینا چاہتے تھے۔ ان دنوں میں ممدوح موصوف نے بالکل ویسے ہی عیسائیوں کے تحفظ کے لیے بے مثال خدمات پیش کیں جیسے برصغیر میں 1857 ء کے جہاد آزادی کے دوران انگریزوں کے تحفظ کے لیے ڈپٹی نذیر احمد دہلوی نے پیش کی تھیں۔ اور مسلمانوں کو ان الفاظ میں مغلظات بکیں جو الفاظ سر سید احمد خان نے مجاہدین آزادی کے لیے استعمال کیے تھے۔ نتیجے میں اپنے سرپرستوں سے ویسے ہی مراعات حاصل کیں جیسے مذکورہ بالا دو ''محسنین ملت'' نے حاصل کی تھیں۔ حوالے بالترتیب ملاحظہ ہوں:
''دس جولائی کی ساری سہ پہر عبد القادر نے عیسائی بستیوں میں مچی بھگدڑ میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ یہ چلاتے ہوئے گزاری کہ ''عیسائیو! میرے ساتھ آؤ۔ میں عبد القادر ہوں، محی الدین کا بیٹا، الجزائری! میرا اعتبار کرو۔ میں تمہاری حفاظت کروں گا۔ '' کئی گھنٹے تک امیر کے الجزائری باشندے متذبذب عیسائیوں کو لے جا کر حارۃ النقیب میں اس کے قلعہ نما گھر چھوڑ کر آتے رہے۔ یہ دو منزلہ عمارت اور اس کے کشادہ صحن پریشان حال عیسائیوں کی پناہ گاہ بن گئے تھے۔ (ص: 419)
امیر موصوف نے کافروں کے خلاف جہاد تو چھوڑ دیا تھا، بلکہ انہیں کافر کہنے سے بھی باز آ گئے تھے، البتہ مسلمانوں کو ''گناہ کی اولاد'' کہنے اور گناہ کی اس اولاد کے خلاف جہاد جیسے نیک مقصد کے لیے وہ ہمہ وقت کمر بستہ ہو گئے تھے۔ [سرسید نے بھی مجاہدین آزادی کو حرام زادے کہنے سے دریغ نہ کیا تھا۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔] مثالی جہاد کے پیکر امیر موصوف نے عیسائیوں کو سبق سکھانے والے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر ایمان افروز خطاب کیا:
''جب تک میرا ایک سپاہی بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہے، تم انہیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ وہ سب میرے مہمان ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے قاتلو! گناہ کی اولاد! ان میں سے کسی کو ذرا چھونے کی کوشش تو کر کے دیکھو، پھر تمہیں اندازہ ہوگا کہ میرے سپاہی کتنا اچھا لڑتے ہیں۔ '' امیر نے غضبناک لہجے میں کہا اور مڑ کر قارہ محمد سے مخاطب ہوا: ''میرے ہتھیار اور میرا گھوڑا لے کر آؤ۔ ہم سب ایک نیک مقصد کے لیے جنگ کریں گے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے پہلے ایک نیک مقصد کے لیے جنگ کی تھی۔ ''(ص: 422)
عیسائیوں کی ہمدردی میں موصوف ڈپٹی نذیر احمد اور سرسید احمد خان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے تھے:
''اس نے اعلان کرایا کہ جو کوئی بھی عیسائیوں کو اس کی رہائش گاہ پر پہنچائے گا، اسے ہر عیسائی کے بدلے پچاس پیاستر انعام دیا جائے گا۔ پانچ دن تک امیر کو سونے کا موقع بھی بہت کم ملا۔ جب تھوڑا سا وقت ملتا تو ہو گھاس پھونس سے بنی اسی چٹائی پر لیٹ کر آنکھ لگا لیتا جہاں بیٹھ کر وہ سارا دن پاس رکھی بوری میں سے رقم نکال کر تقسیم کرتا رہتا تھا۔ جونہی ایک سو عیسائی اکٹھے ہو جاتے، الجزائری سپاہی [امیر کی ذاتی فوج] انہیں لے جا کر قلعے میں چھوڑ آتے۔ '' (ص: 423)
باغی کافروں کے تحفظ کے لیے پیش کی گئی ان خدمات کے بدلے نہ صرف ان کا وظیفہ ایک لاکھ فرانک سے ڈیڑھ لاکھ فرانک کر دیا گیا، اسے اور اس کے ساتھیوں کو فرانسیسی شہریت دی گئی (ص: 442)
پوری عیسائی دنیا نے انہیں اپنا ہیرو قرار دے کر اعزازات کا انبار لگا دیا:
''پریس میں امیر کے بارے میں رپورٹیں شائع ہونے کے بعد تو جیسے اعزازات کا انبار لگ گیا۔ فرانس کی حکومت نے اسے لچن آف آنر عطا کیا جب کہ روس، اسپین، سارڈینیا، پروشیا، صدرلنکن نے جو خود ایک قومی سانحے کے دہانے پر کھڑے تھے، ایک روز پہلے عبد القادر کو امریکی انداز میں تحسین کی علامت کے طور پر کولٹ برانڈ کے دو پستول بھیجے جنہیں انتہائی نفاست سے خصوصی طور پر امیر کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ انہیں لکڑی کے ایک خوبصورت ڈبے میں بند کیا گیا تھا اور اس پر یہ عبارت کنندہ کی گئی تھی: ''ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی طرف سے عزت مآب جناب لارڈ عبد القادر کے لیے 1860ئ۔ '' (ص: 427)
قارئین کرام! موصوف کو صرف یہ اعزازات ہی نہیں دیے گئے،[یہ اعزازات کتاب کے آخر میں  اور ہماری گزشتہ تحریر میں پوسٹ کی گئی تصویر میں  موصوف کے سینے پر سجے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں]بلکہ خلافت عثمانیہ کے خلاف اس کی قوم پرستانہ خدمات کو استعمال کرنے کے لیے بھرپور طرح سے استعمال کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ کتاب میں درج ہے:
''وہ ایک ایسی علامت بن گیا تھا جسے بہت سے لوگ اپنے مختلف ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہ سب ایجنڈے یا تو ترک مخالف تھے یا عرب قوم پرستی کے حامی۔ '' (ص: 404)
اس کے فرانسیسی سرپرستوں نے اس کو شام کے گورنر کے طور پر بھی تجویز کر دیا تھا وہ تو خیر گذری کہ یہ شخص عیسائیوں اور سلطنت عثمانیہ کے مخالفین میں تو مقبول تھا لیکن مسلمانوں میں اس شخص کے بارے میں بھی شدید نفرت پائی جاتی تھی لہٰذا اس کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ تقدیر کا لکھا کون کوئی ٹال سکتا ہے؟ یہ بیل منڈھے نہ چڑھی اور 25 مئی 1883ء کو گردے فیل ہوجانے سے انتقال کرگیا۔ ''نیویارک ٹائمز'' جیسے اخبار نے جو دنیا کے علمائے کرام و مجاہدین کے بارے میں اپنی تاریخ میں کبھی ایک لفظ نہیں لکھا، اس کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
''ایک پکا محب وطن، ایک سچا سپاہی جس کی فطانت اور حاضر دماغی شک و شبہے سے بالاتر ہو، جس کا وقار بے داغ ہو، ایک ایسا ریاست کار جو افریقہ کے جنگلی قبائل کو متحد کرکے بے مثال مدمقابل بناسکے، ایک ایسا ہیرو جو حرف شکایت زبان پر لائے بغیر شکست اور تباہی کو تسلیم کرلے، اگر یہی وہ خوبیاں ہیں جو ایک آدمی کو عظیم بناتی ہیں تو پھر عبد القادر اس صدی کے چند گنے چنے عظیم آدمیوں کی سب سے اگلی صف میں کھڑا ہونے کا حق دار ہے۔ '' (نیو یارک ٹائمز، فروری 1883ئ)
گویا کہ حرفِ شکایت زبان پر لائے بغیر شکست اور تباہی کو تسلیم کر لینا اتنی عظیم خوبیاں ہیں کہ عظیم آدمیوں کی اگلی صف میں لاکھڑا کرتی ہیں۔ نجانے مجاہدین افغان اور ان کے انصار کیوں ہیرو بننے کا یہ نسخہ استعمال نہیں کرتے اور گھر آئی عظمت کی لونڈی کو ٹھکرا کر عزیمت کی راہ پر گامزن ہیں؟؟؟
کتاب کے پیش لفظ میں موصوف کا موازنہ مولانا عبید اللہ سندھی سے کیا گیاہے، کہاں مولانا سندھی جیسا مخلص، متقی اور فنا فی النظریات شخص اور کہاں ایک پنشن یافتہ، جنس مخالف کا دلدادہ اور باغی کافروں کے دفاع میں سرگرم ایجنٹ؟    مولانا سندهی اپنے اساتذه كی طرح انگریز كے اس قدر مخالف  تهے كہ فرمایا كرتے تهے  "جو لوگ موجودہ سامراج کے خلاف ہمارے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں، خواہ وہ ہمارے ہم مذہب نہ بھی ہوں ' ہم انہیں اپنا ساتھی سمجھیں گے۔ اور ان کے بارے میں کفر کی اصطلاح نہیں برتیں گے۔ جو سامراج کے حامی ہوں گے۔ خواہ وہ ہمارے ہم مذہب ہی کیوں نہ ہو، ہم انہیں مسلمان کہنے کو تیار نہ ہوں گے"۔(افادات و ملفوظات مولانا عبیداللہ سندھی، صفحہ 186)

مغرب کا حقیقی اور سچا جہاد :۔

کتاب کے سرورق کی پشت پر ایک ویب سائٹ کا نام دیا گیا ہے   www.truejihad.com اس ویب سائٹ کا نام ہی مغرب کے مقاصد، اہداف، ارادوں اور عزائم کی ترجمانی کرتا ہے۔ جہاد تو جہاد ہوتا ہے۔ True jihad کیا ہوتا ہے؟ عصرِ حاضر میں جب بھی کوئی یہ کہے کہ ''حقیقی اسلام''، حقیقی جہاد، حقیقی فقہ، حقیقی اجتہاد'' تو اس کا مطلب صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ غیر حقیقی اسلام، غیر حقیقی جہاد، ایسا اسلام اور ایسا جہاد جو صرف اور صرف مغرب کے استعماری غلبے ،عالمی تسلط اور مسلمانوں کی تباہی وبربادی کو ممکن بناسکے۔سائیٹ پر دو مضمون دیکھے جاسکتے ہیں ۔ ان کے مطالعہ کے بغیر اس کتاب کی حقیقت آشکار نہیں ہوسکتی۔
(Some words about true and false jihad(1 جو A4سائر کے بارہ صفحات پر مشتمل ہے۔  (2)  The Abd el-kader Education project 2011in Reviewجو A4سائز کے 7 صفحات پر مشتمل ہے۔
اسی کام کے لیے   ایک سپیشل ویب سائٹ www.abdelkaderproject.org بھی بنائی گئی ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد دنیا کے تمام تعلیمی اداروں کو امیر عبد القادر کے بارے میں معلومات اور نصابی مواد مہیا کرنا ہے،تاکہ اسکول میں امیرعبد القادر نصاب کا حصہ بن جائے۔ شاید اسی نصاب کا چربہ وہ تجاویز  ہیں جنہیں خان صاحب دینی مدارس میں سول سوسائٹی کے ذریعے داخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،اس سلسلے میں مندرجہ ذیل عبارت ملاحظہ کیجیے:
Provides learning tools & curriculam materials to help educators in corporate abdel-kader's stay & his example in the days's clam zoom.
بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مسلمان کسی مجاہد یا عظیم ہستی کو اپنے اسکول یا مدرسے کے ہر طالب علم کو واقف کرانا پسند کریں توچند مجاہدین اسلام ایسے ہیں کہ انہیں کوئی بھی مصنف مزاج شخص کسی قیمت پر فراموش نہیں کرسکتا۔ مثلاً: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ ایسے مجاہدین تھے جن کے صرف اسلام پر ہی نہیں، پوری تاریخ انسانیت پر بے شمار احسانات ہیں۔ مغرب نے ان دو سپہ سالاروں کو منتخب کرنے اور ان کی تعلیمات اور طرز زندگی کو طلبہ تک پہنچانے کے بجائے امیر عبدالقادر کا انتخاب کیوں کیا؟ یہ بہت سادہ سا مسئلہ ہے۔ (لوا کی تصویر)
امیر عبد القادر الجزائری کی خدمات کے اعتراف کے سلسلے میںLowa سینٹرامریکا کے شہر Lowacity میں قائم کیا گیا۔ اس کے علاوہ امریکا کے lowaشہر کا  ایک چھوٹا قصبہ ہے جو Elkaderکے نام سے موسوم ہے۔ امیر عبدالقادر کی یاد منانے کے لیے ''القادر او پیرا ہاؤس'' میں مقررین خطاب فرماتے ہیں اور اس کے بعد روایتی مغربی تفریحات کا اہتمام ہوتا ہے۔بنیادی سوال یہ ہے کہ مجاہد عالم اسلام کا ہے اور اس کی تقدیس، تکریم، تحسین اور تشہیر امریکا والے کررہے ہیں۔ این چہ بوالعجبی است؟ ۔ آخر امریکی جو مسلمانوں پر آگ اور خون کی بارش برسانے میں سب سے آگے ہیں، ایک مسلمان کو اتنی عزت دینے پر کیوں مجبور ہوگئے؟ اس فراخ دلی کا راز صاحب عقل پر آشکارا ہے۔  من چاہی غلط بات کی درست تاویل ڈھونڈنے والوں نے کہا ہے کہ مغرب اس کی تکریم اس لیے کرتا ہے کہ اس نے بے گناہ مسیحیوں کی جان بچائی تھی، حالانکہ  خود انکی اپنی  تجویز کردہ کتاب ہی  یہ بتارہی ہے کہ یہ  مسیحی بے گناہ نہیں تھے۔ یہ مسلمانوں کی بنسبت آدھے ٹیکس کا بھی انکار کرکے بغاوت پر آمادہ تھے،اسی کتاب سے ثابت ہے کہ ان کی پشت پر عیسائی یورپی طاقتیں تھیں ۔

اصل وجہ یہ ہے کہ  امیر عبدالقادر الجزائری جس قسم کے مجاہد تھے، امریکا اور اس کے مغربی حمایتی اسی قسم کے غامدی مجاہدین اور کرزئی غازیوں کو آگے لانا چاہتے ہیں، جنہیں جب چاہیں ماڈرن اسلام اور ماڈرن جہاد کے مثالی نمونے کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ امیر المومنین ملامحمد عمر مجاہد حفظہ اللہ اور شہید المؤمنین شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ جیسی صاحبِ عزیمت واستقامت شخصیات، مجاہدین کے آئیڈیل بن سکیں۔ مغرب کی اس ذہنیت کے تناظر میں ان حضرات کے ذہنی ونظریاتی رشتوں کو بھی سمجھاجاسکتا ہے جو اس قسم کی کتابیں شائع کراکر ہمارے یہاں ''سچے جہاد'' کی اشاعت چاہتے ہیں۔ اسی کا  صلہ ہے کہ عمار صاحب کے بھی  فیملی سمیت امریکہ کے دورے پکے ہوگئے ، جناب چند دن پہلےانکے ہاں  ایک لیکچر دے کر آئے ہیں  اس تقریب کا اشتہار اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں۔ 

امیر عبد القادر کا تیسرا کارنامہ :نام نہاد اور من گھڑت ''الشریعۃ'' کی تدوین:

مجاہد موصوف خدا، پیغمبر اور دین و مذہب کی وہ تشریح کرتے تھے جو آج کل مغرب کو نہایت پسند ہے۔ اہل مغرب اپنے دین میں تحریف کرکے نک کٹے یا کبڑے ہو چکے ہیں۔ صرف اہل اسلام ہیں جو اپنے عقائد پر جمے ہوئے ہیں۔ مغرب کی خواہش ہے اتحاد مذاہب یا وحدت ادیان کے نام پر ایسی شعبدہ بازی کی جائے کہ جیسے ان کا اپنا ناک کٹا ہوا ہے، خدانخواستہ ان کا بھی کٹ جائے جو اپنے دین پر قائم ہیں۔ زیر نظر کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ امیر کی ذہن سازی فرانس کے پادریوں اور ملحدوں نے مل کر کی تھی، وہی اس کی رہائی کے بھی حامی تھے۔ (دیکھیے: ص: ٣٤٠)ان پادریوں کی محنت، ملحدوں کی ''مہربانی'' اور فرانس میں ملنے والی ''اچھائی'' کا نتیجہ تھا کہ وہ تلوار کو بربادی کا ذریعہ سمجھنے لگ گیا تھا اور کافروں کو کافر کہنے سے بھی باز آ گیا تھا۔ (دیکھیے ص: 315)اسی ''مستند سوانح حیات'' سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ ماہ تک چرچل کی روزانہ کی صحبت کا نتیجہ یہ نکلا کہ امیر نے  وہ نظریات اپنا لیے جو آج کل کی اتحاد ادیان تحریک کا ہدف ہیں، بلکہ اسی ایمان افروز سوانح حیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بچپن سے ان کو یہ تربیت دی گئی تھی کہ عیسائی اور یہودی بھی مسلمان ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے باکمال لوگوں کے لاجواب نظریات:
''محی الدین (عبدالقاد ر کا والد)نے اپنے بیٹے سے کہا: ''اب تم ایسی جگہیں دیکھ سکو گے جہاں بہت سے عیسائی اور یہودی رہتے ہیں۔یہ مت بھولنا کہ ان تک خدا کی ہدایت ہم سے پہلے پہنچی تھی۔ ابراہیم مسلمان تھے۔''لیکن وہ کیسے مسلمان ہو سکتے ہیں؟ اس وقت تو ابھی اسلام نازل بھی نہیں ہوا تھا"۔''اس لیے کہ انہوں نے خود کو خدا کی اطاعت میں دے دیا تھا۔ مسلمان وہ ہوتا ہے جو خود کو خدا کی رضا کے سپرد کر دیتا ہے"۔''تو پھر کیا یہودی اور عیسائی بھی مسلمان ہیں؟''۔''ہاں، یقینا بشرطیکہ وہ پورے خلوص کے ساتھ خدا کی منشا کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں" ۔ (ص:٤٩)
پورے خلوص کے ساتھ خدا کی منشا کے مطابق عمل کرنے والے یہودی اور عیسائی مسلمان ہیں۔ البتہ اسلام خود کیا ہے اس کی تعبیر بھی بڑی دلچسپ ہے؟اس کتاب کے ذریعے ہمیں کون سے اسلام اور کس طرح کی شریعت اپنانے کی ترغیب دی جارہی ہےاس کا کچھ اندازہ ذیل کی عبارت سے ہوجاتا ہے۔ یہ تقریبا وہی ''الشریعۃ الغامدیۃ'' ہے جس کا پرچار ہمارے ہاں یہ طبقہ بڑے زور و شور سے کر رہا ہے ۔مذہب اسلام کے متعلق موصوف کے وقیع تحریفی خیالات  ایسے ہیں کہ جن کو ماننے کے بعد مشکل ہے کہ اسے ''سچا مجاہد'' نہ کہا جائے۔:
''امیر کے پاس تو صرف ایک ہی سمت نما تھا اور وہ تھا اسلام۔ تنگ نظری پر مبنی فرقہ وارانہ اسلام نہیں، بلکہ اس سے کہیں وسیع تر اسلام، فطرت کا اسلام، ہر اس کا جاندار کا اسلام جو خدا کے قانون کے آگے سر جھکادے۔ امیر کا اسلام ایک ایسے خدا پر یقین رکھتا تھا جو ''عظیم تر'' تھا جو اس کے حقیر بندوں اور اسلام سمیت اس کے کسی بھی مذہب کے تصور سے بھی عظیم تھا۔ ہر شخص اسے اپنے مخصوص انداز میں جانتا اور اس کی عبادت کرتا ہے اور وہ دوسرے طریقوں سے مکمل طورپر لاعلم رہتا ہے۔ اب عبدالقادر کے ذہن پر صرف ایک ہی دھن سوار تھی کہ خدا کی وحدانیت کو ان طریقوں کے تنوع کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے جن سے اس کے پیدا کیے ہوئے بندے اس کی عبادت کرتے ہیں۔'' (ص: 376)
اس پیرا گراف میں تنگ نظری اور وسعت، اسلام سمیت کسی بھی مذہب، تنوع کے ساتھ ہم آہنگ کرنا یہ سب وہ مخصوص اصطلاحات ہیں جو اس سرکس کے رنگ ماسٹر استعمال کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ سر پر سوار اس دھن کو کہ غلط لوگوں کو صحیح کیا جائے، کس طرح سے امیر موصوف نے پورا کیا؟ سب سے پہلے تو اللہ تعالی کے بارے میں موصوف کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں:
''ہمارا خدا اور ان تمام برادریوں کا خدا جو ہم سے مختلف ہیں، در حقیقت ایک ہی ہے۔ مسلمانوں پر اس نے خود کو اس انداز میں منکشف کیا جو تمام شکلوں اور صورتوں سے بالاتر ہے۔ عیسائیوں کے لیے وہ یسوع مسیح کی شکل میں ہے۔ اس نے بتوں کی پوجا کرنے والوں پر بھی خود کو ظاہر کیا ہے اور وہ بھی در اصل اسی کی پرستش کرتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی انسان ان فانی چیزوں کی پوجا نہیں کر سکتا۔ '' (ص: 388)
ما شاء اللہ! یعنی دنیا میں آج تک کوئی مشرک، مشرک ہی نہ تھا۔ نہ کسی انسان نے فانی چیزوں کی پوجا کی اور نہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کی پرستش ہوئی۔ اللہ تعالی کے بعد رسالت کے بارے میں امیر کا نظریہ کیا تھا؟
''حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے عملی طور پر کہا تھا کہ میں عہد نامہ قدیم یا موسی کی شریعت کو منسوخ کرنے نہیں، بلکہ اسے مزید کامل بنانے آیاہوں۔ '' (ص: 386)
سبحان اللہ! مطلب صاف ہے کہ پچھلی شریعتیں منسوخ نہیں، کامل و مکمل ہیں، لہذا ان کے ماننے والے مسلمانوں پر چار وانگ عالم میں جتنا بھی ظلم کریں ان کا احترام فرض ہے۔ حتی کہ اگر وہ مسجد کو چرچ بنانا چاہیں تو یہ بھی منع نہیں، اس لیے کہ وہاں بھی تو آخر تمام ''برادریوں'' کے خدا کی عبادت ہوتی ہے۔ (دیکھیے: ص 388) 
یہ ہے وہ پھپھونڈی لگا ہوا ماڈرن اسلام جس کا علمبردار غامدی مکتب فکر ہے اور دوسروں کے کندھے پر بندوق رکھ کر اس اسلام کو ساکنان پاکستان کو سکھانا چاہتا ہے۔ عقیدہ تو آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔ اب اسلامی احکام کی طرف آئیے۔ مجاہد موصوف کی غامدی طرز فکر پر مبنی قرآنی تشریح کا اطلاق فقط عقائد پر نہ تھا۔ پردہ جیسے اہم احکام کے معاملے میں بھی موصوف وہی نظریہ رکھتے تھے جو غامدیت زدہ متجددین کا ہے:
''بڑھتی ہوئی دوستی کے اظہار کے طور پر دومانے ایک روز امیر کو دعوت دی کہ وہ اس کے اور اس کی بیوی کے ساتھ رات کا کھانا کھائے۔ دوما کی بیوی مارشل بوجو کی بھتیجی تھی۔ عبد القادر کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے دومانے دریافت کیا کہ اگر اس کی بیوی یورپی طرز کے لباس میں، چہرے کو نقاب میں چھپائے بغیر ان کے ساتھ کھانے میں شریک ہو تو امیر کو برا تو نہیں لگے گا۔ اس پر امیر نے وضاحت کی کہ چہرہ ڈھانپنا عربوں کا رواج ہے،ان کا مذہبی قانون نہیں۔ '' (ص: 303)
یہی قرآن کریم کی صحیح تشریح اور سچی تعبیر تھی جس کے لیے امیر موصوف کو ''عرب شہنشاہ'' بنا کر پیش گیا گیا،حوالہ  ملاحظہ فرمائیں :
''1860ء کے موسم خزاں میں پیرس میں سولہ صفحات پر مشتمل ایک پمفلٹ گردش کررہا تھا جس کا عنوان تھا: ''عبدالقادر، عرب شہنشاہ''۔ اس کتابچے میں لکھا تھا عظیم تر شام کے تخت پر بٹھانے کے لیے عربوں کو حقیقی صلاحیتوں کا مالک ایک رہنما چاہیے اور اس کے لیے عبدالقادر کا نام تجویز کیا گیا تھا۔ اس تحریر کے مطابق عبدالقادر مغرب اور مسلمانوں کو یہ سکھائے گا کہ ''قرآن کے الفاظ کی صحیح تشریح کیا ہے اور ایک سچے مؤمن کو ان کی تعبیر کس طرح کرنی چاہیے۔'' (ص:435)
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی '' صحیح تشریحات '' اور'' سچی تعبیرات''سے محفوظ رکھے جو پیرس سے دمشق تک پھیلائے جانے کے بعد لاہور سے کراچی تک پھیلائی جارہی ہیں۔فتنہ تجدد و تشکیک سے ہمارا بچاؤ اس وقت ممکن ہے جب ہم الجزائری غامدیوں اور پاکستانی غامدیوں میں قدرمشترک اور ان کے سرپرستوں کا ہدف مطلوب پہچان سکیں۔

دو سوال، ایک جواب

آخر میں ہم دو سوال کریں گے۔ پہلے کا جواب ہمیں درکار نہیں۔ یہ سوال قارئین کرام اور جملہ محبان وطن کو ایک نکتہ سمجھانے کے لیے ہے۔ وہ یہ کہ غامدیت اور بالخصوص اس کے نظریہ جہاد کے ترجمان عمار خان ناصر صاحب نے اپنے رسالے میں امیر عبد القادر کی اس سوانح حیات کو مستند قرار دینے کے بعد فرمایا:
''میں نے ان کی کتاب کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ امیر عبد القادر کی حیات کے بارے میں عربی اور انگریزی میں میسر دیگر مواد کا بھی مطالعہ کیا جو میرے لیے ایک ایمان افروز تجربہ تھا۔ ''(الشریعہ، مارچ 2012ئ)
اس ایمان افروز تجربے کو دوسروں تک پہنچانے کی خواہش کو ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا:
''میں نے کتاب سے متعلق اپنے مختصر تاثرات مصنف کو بھجوائے تو اس میں یہ تجویز بھی دی کہ اس کتاب کا عربی، اردو اور دیگر مشرقی زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے، کیونکہ امیر عبد القادر کو جن حالات کا سامنا تھا اور انہوں نے جن شرعی و اخلاقی اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک غاصب استعماری طاقت (کونسی ؟)کے خلاف جد و جہد کی۔ ان کی جدوجہد نہ صرف یہ کہ اسلام کے تصور جہاد کی بڑی حد تک درست ترجمانی کرتی ہے، بلکہ اس میں عصر حاضر کے ان جہادی عناصر کے لیے بھی راہنمائی کا بڑا سامان موجود ہے۔ '' (الشریعہ،مارچ : 2012)
سوال یہ ہے کہ جس کتاب کو انہوں نے تفصیل سے پڑھا، اس کے اردو متن پر نظر ثانی اور تنقید و تحقیق کر کے آخری شکل دی اور پھر اس کی اشاعت کا انتظام کیا، تاکہ موصوف مجاہد کے فکر و کردار کی عظمت سے ہمارے زمانے اور علاقے کے مجاہدین روشناس ہو سکیں، اس میں ان کو وہ عظیم کارنامے نظر آئے یا نہیں جن میں سے کچھ اوپر ہم نے باحوالہ بیان کیے۔ مثلا:
جس شخص کے نزدیک یہودی اور عیسائی بھی مسلمان ہیں۔ (ص:49) جو مہمانوں کی تواضع ''شیمپین'' سے کرتا تھا اور اپنے ہاتھ سے ان کے پیمانوں کو شراب سے بھرتا تھا۔(ص:329) جو خواتین کو اپنی باتوں سے لبھانے میں کبھی ناکام نہیں ہوتا تھا۔(ص:330) جو ایسی باعفت خاتون کو منظور نظر بناتا تھا جو عاشقوں کی ایک طویل فہرست رکھتی تھی اور لندن سے براستہ پیرس، میونخ، ایتھنز اور پھر شام پہنچنے تک چھ شادیاں بھگتا چکی تھی (ص:449) جو ایسے باکمال مردوں سے دوستانہ تعلقات قائم کرتا تھا جو مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں تعاون کرتے تھے اور جسم فروشی اور زنخا بنانے کے طریقے اس کے پسندیدہ موضوعات میں شامل تھے (ص:452) جو تلوار کو تباہی و بربادی کا ذریعہ سمجھتا اور کفار کی سرزمین کو کافر کہنے سے بھی اجتناب کرتا تھا (ص:365) جو آنے والوں سے کہتا تھا: ''اگر آپ فرانس پر پورا اعتماد ظاہر کریں تو آپ کو اس کا مکمل اجر ملے گا، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ '' (ص:358) جسے اس وقت ایک لاکھ فرانک (بعد میں ڈیڑھ لاکھ فرانک) دیے جاتے تھے جب فرانسیسی سفیر کی تنخواہ پانچ ہزار فرانک تھی۔ (ص: 375) جو شاہ فرانس کے ہاتھ چوم کر کہتا تھا: ''میں کبھی آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا اور کبھی واپس الجزائر نہیں جاؤں گا۔ '' (ص:371)
 اس شخص کے کردار میں عظمت کے کون سے مینار ہیں جن کو آپ ''اسلام کے تصور جہاد اور جنگی اخلاقیات کا ایک درست اور بڑی حد تک معیاری نمونہ'' قرار دیتے ہیں؟ پڑوس میں برسرپیکار افغان کے مظلوم مسلمانوں کے جہادِ عظیم کی حمایت میں یا امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اللہ کی جد و جہد کے بارے میں آپ کو چند نقطے لکھنے کی توفیق بهی نہیں ہوئی اور ایک گزشتہ صدی کے مغرب کے پسندیدہ مجاہد کو نمونے کے طور پر پیش کردیا۔ ! صرف اس لیے كه  ملا عمر مجاہد نے تو  آخری دم تک استعماری طاقتوں کے آگے سر نہ جھکایا، نامساعد حالات کا رخ موڑ کر تاریخ رقم کر دی، جبکہ الجزائری امیر کے کارنامے ایسے ہیں کہ  اسکی سوانح حیات کا ترجمہ نگار بھی اپنا نام نسب ظاہر کرنے سے شرماتا ہے، آپ نے ترجمے پر نظر ثانی  کرنے کی بات کو  تسلیم کیا  لیکن آپ نے خود بھی  کتاب پر اپنا نام شائع کروانا اور اپنے ادارے سے اس کتاب کو پبلش کروانا  گوارا  نہیں کیا، پھر بھی اس فروخت شدہ شخص میں آپ کو کیا نظر آیا کہ آپ اس کی داغ داغ سوانح کی شکل میں مجاہدین کو مشعل راہ تھمانے چلے ہیں؟ عصر حاضر میں اپنے پڑوس کے عظیم اور مبارک جہاد کا مورال گرانے کے لیے آپ اسے اعلی و اخلاقی اقدار سے کم تر بتاتے  ہیں اور ایک صدی پہلے کے ہزاروں میل دور کے ضمیر فروش کو مثالی مجاہد قرار دیتے ہیں۔ آپ کا تصور جہاد جسے آپ پاکستانی معاشرے میں پھیلانا چاہتے ہیں، کہیں آپ کی ممدوح عظیم شخصیات کی طرح آپ میں بھی انجیکٹ تو نہیں کیا گیا ؟ جس طرح عظیم تر شام کے تخت پر بٹھانے کے لیے عبدالقادر کا نام تجویز کیا گیا اور یہ کہا گیا تھا  کہ امیر  مسلمانوں کو یہ سکھائے گا کہ ''قرآن کے الفاظ کی صحیح تشریح کیا ہے اور ایک سچے مؤمن کو ان کی تعبیر کس طرح کرنی چاہیے" کہیں آپ کا مکتبہ فکر بھی اس کام کے لیے منتخب تو نہیں کرلیا گیا ؟؟!!!

هم نے اپنی ان دو تحاریر میں کتاب سے جو حوالے پیش کیے جو دوست  انکے سکین پیجز کتابی شکل میں دیکھنا چاہیں وہ  اس لنک پر رائٹ کلک کرکے سیو ایز کردیں۔

9 comments:

جواد احمد خان نے لکھا ہے کہ

ہر گذرتے ہوئے دن کے ساتھ میرا یہ یقین راسخ ہوتا چلا جارہا ہے کہ جاوید غامدی اور غامدیت خود سے ہی معاشرے میں نہیں آئے بلکہ انہیں جان بوجھ کر مسلط کیا جا رہا ہے۔
جزاک اللہ خیر

أحسن أحمد عبد الشكور نے لکھا ہے کہ

بارك الله تعالى فيكم, وجزاكم الله تعالى في الدارين الله تعالى خوشيان عطا كرين. اول دفعه عبد القادر الجزائري كى حيات كا علم هوا, كه كتني بري اور بيهوده زندكي كا مالك تها. الله تعالى مزيد توفيق ديكر قبول فرمائين. آمين

گمنام نے لکھا ہے کہ

ماشاءاللہ آپ کی تحریر کا یہ دوسرا حصہ پڑھا۔جس میں آپ نے بہت ہی احسن انداز سے عبدالقادر نامی شخص کے بارے حقائق کو بیان فرمایا ہے ۔دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کی یہ کاوش اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

آپ سب کا شکریہ، آپ بلاگ پر تشریف لائے اور اپنی رائے کا اظہار کیا ۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

اللہ آپ کو دین کے لیے موفق فرمائے۔ اصل میں حضرت مسئلہ یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ لوگ سنسنی خیز انداز سے بدکتے ہیں حالاں کہ موقف درست ہوتا ہے۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

بھائی مخصوص حالات اور باتوں میں جذباتیت کی شریعت اجازت دیتی اور انسان مجبور ہوجاتا ہے ، آپ دیکھیں افغان طالبان دس سال سے ہر قسم کی قربانیاں دے رہے ہیں، دنیا میں ایک واحد جہاد یہ ہے جہاں کفریہ طاقتیں واضح طور پر پسپا ہورہی ہیں، زخم اٹھا رہی ہیں، ہمیں اس جہاد پر مان ہے، اس سے توقع ہے، اب کوئی اٹھ کر یہ کہے یہ جہاد تو اخلاقی اصولوں کے مطابق ہے ہی نہیں اور امیر عبد القادر الجزائری جیسے بندے کو آئیڈیل کے طور پر پیش کرے تو اسے ہم کیا سمجھائیں ؟ اس مجاہد کو یہودی گماشتہ کہنے پر اعتراض کیا جاتا ہے اور نصیحت یہ کی جاتی ہے کہ یہ علمی اختلاف ہے۔ آپ مجھے بتائیں یہ علمی اختلاف ہے ؟ قادیانیوں کے ساتھ بھی علمی اختلاف موجود ہے لیکن مرزا قادیانی کے متعلق علماء کہاں تک شائستہ زبان ہی استعمال کرسکے ہیں، کوئی نہ کوئی سخت لفظ تو مجبور ہو کر لکھ گئے ہیں، اب جب یہ سب کچھ سمجھتے ہوئے اس جیسا طرز عمل اختیار کریں گے اور ہمارے دینی جذبات مجروع کریں گے، ہمیں اشتعال دلائیں تو جواب میں تلخی تو آئے گی ۔
باقی جدید تعلیم یافتہ طبقہ جو غامدی صاحب کو پسند کرتا ہے اس کو تو علمی اور شائستہ انداز میں کی گئی بات بھی سمجھ نہیں آتی جب تک انکے امام 'الغامدی' کے خلاف نہ ہو، بڑھیا سے بڑھیا دلیل اور اچھے سے اچھے انداز میں پیش کی گئی بات کو بھی وہ حیثیت نہیں دیتے اور لفاظی اور غلط بات کے دفاع میں جائز تاویلیں گھڑنا شروع کردیتے ہیں ۔ الا ماشاء اللہ ، یہ سب رویے میں بہت سے غیر جذباتی، شائستہ اور مدلل انداز میں لکھنے والوں کے سٹیٹس پر دیکھ چکا ہوں۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

اللہ تعالی دین کے لیے آپ کے اخلاص کو قبول کرے۔ آمین۔ امیر عبدالقادر الجزائری کی شخصیت جو جان ڈبلیو کائزر کی کتاب میں پیش کی گئی ہے، ظاہر ہے اس میں استعماری مقاصد کے محرک سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم امیر کی شخصیت کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے عربی زبان میں امیر کی شخصیت پر مختلف چیزیں ملی ہیں جن سے ان کی شخصیت کی بڑی مثبت تصویر سامنے آتی ہے۔ استعمار کے خلاف 17 سال اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا یقینا امیر کے خلوص جہاد کا نتیجہ ہی ہو سکتا ہے لیکن بہت سے قبائل کا امیر سے استعمار کی فلاح کے لیے بغاوت کرنے کے بعد آخر میں اپنے مٹھی بھر جاں نثاروں کے بچاؤ کے لیے انھوں نے یہی راستہ اختیار کیا کہ جہاد سے دست برداری کا اعلان کر دیا جائے۔ اس کو آپ حکمت عملی کے پہلو سے نقد و نظر کا موضوع بنا سکتے ہیں، تاہم امیر کی شخصیت پر اس پہلو سے نیت کی خرابی پر محمول کرنا شاید ذرا مشکل ہو۔ ہمارے برصغیر میں جب شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے دار الحرب کا فتوی دیا تو پھر اگر آپ آپ 1857 کے بعد کے حالات کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو بہت جلیل القدر علما کی راے اس سلسلے میں بہت مختلف ملے گی۔ اللہ تعالی آپ کے جذبۂ دینی کو قبول و منظور فرمائے۔آمین

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

صاحب اگر یہ امیر کی وہ تصویر پیش کرتے جو آپ نے دیکھی تو ہم اعتراض ہی کیوں کرتے۔ ۔؟ ہمیں تو اعتراض اس پر ہے کہ آئیڈیل کے طور پر انہوں نے کس کی لکھی گئی اور کن باتوں کو پیش کیا ہے، کافروں کے ساتھ معاہدے اسکے بدلے میں مراعات ، مسلمانون کے خلاف جہاد، مغربی عورتوں کے ساتھ رنگ رلیاں منانا ، شرابیں پینا ا اور پھر دین کی وہی مغربی تشریح اورقرآن کی وہی 'سچی تعبیر' جو یہ خود پیش کررہے ہیں ۔ ۔ امیر کی یہ تصویر تو انہوں نے خود ہمارے سامنے پیش کی ہے ، اسکی حرام کاریوں کا دفاع کیا ہے، تاویلیں کیں، اسکو ایمان افروز تجربہ کہا ہے۔
اس بات سے قطع نظر کہ افغان طالبان کے مقابلے میں ان حالات میں مجاہدین کےسامنے امیر کے پسپائی اختیار اور مراعات لینے کو آئیڈیل بنانے کی وجہ کیا ہے! سوال یہ ہے کہ یہ ان فری میسنز کی طرف ہی کیوں جھکے؟ انہیں عربی لٹریچر نظر کیوں نہیں آیا، اس کتاب میں پیش کیے گئے حالات کو ہی انہوں نے آئیڈیل کیوں بنایا،؟ اسکی وجہ یہ تو نہیں کہ اسکے وہ حالات جو عربی لٹریچر پیش کررہا ہے، ملاعمر کے اور اسکے اکابرین سے مشابہ ہیں ؟ انکو پیش کرنے سے وہ خفا ہوسکتے ہیں جنہوں نے انہیں مسجد اقصی کے متعلق میٹریل دیا ؟ پھر اسکو پیش کرنے سے کوئی نئ بات بھی نہیں سامنے آنےو الی ، وہی روایتی دینی گھٹن قائم رہتی ، کچھ نیا نہ ہوتا، امریکہ کی فیملی سمیت دوروں کی دعوتیں نہ ملتی ، وہاں لیکچر شکچر نہ دینے کو ملتے، کوئی مالی فائدہ نہ ہوتا ۔ ۔ ! مزید انہوں نے اگر اسی نظریہ جہاد کی ترویج کرنی ہوتی تو امیر عبدالقادر کو ہی کیوں آئیڈیل بنایا جاتا ؟ سینکڑوں شخصیات اسلامی تاریخ میں موجود ہیں، ماضی قریب کی شخصیت کو پیش کرنا تھا تو کچھ نا کچھ نمونہ تو سید احمد شہید اور 1857 کی جنگ آزادی میں مہاجر مکی اور قاسم نانوتوی رحمہ بھی نمونہ پیش کررہے تھے ۔ ۔ انہوں نے انکے مقابلے کی شخصیت اور اپنے جد امجد سرسید احمد خان کے نمونے کو پیش کرنا تھا اور اسکی اچھی وضاحت کے لیے انہیں مجاہد کے نام سے امیر عبد القادر کی وہ تصویر ملی جو یہود نے پیش کی ہوئی ہے۔ ہم یہ بھی پوچھتے ہیں کہ جب اعتراض کیے گئے تو انہوں نے اپنے دفاع میں اس عربی لٹریچر کو پیش کیوں نہیں کیا ؟میرے خیال میں یہ اتنے بچے بھی نہیں ہیں کہ انہیں عربی لٹریچر ملا ہی نہیں آیا یا اسکی انہیں سمجھ ہی نہیں آئی ۔ ۔ یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے جس کتاب کو پیش کیا یہ اسی کو اور اس میں پیش کی گئی تصویر کو ہی آئیڈیل سمجھتے ہیں۔
آخری بات انہیں پتا تھا کہ ہم جو پیش کرنے جارہے ہیں یہ ٹھیک نہیں اسی لیے انہوں نے کتاب اپنا ادارہ چھوڑ کر دوسرے کے ادارے کے نام سے چھپوائی اور جن حقیقت سامنے آئی تو رواداری کے اصول جیسی اصطلاحیں گھڑنے لگ گئے، اتنا پردہ کیا تھا ؟ اپنا نام تک کتاب پر نہیں لکھا !! کیا جو تصویر عربی لٹریچر پیش کررہا ہےاسکے لیے انہیں اتنا کچھ کرنا پڑتا ؟
جناب میں ایک جاہل آدمی ہوں، میں ایمانی فراست کا دعوی بھی نہیں کررہا، لیکن مجھے یہ باتیں بالکل ہضم نہیں ہوئیں، میں نے آرٹیکل میں جو کچھ پیش کیا یہ محض جذبات میں نہیں تھا بلکہ میں نے یہ سب کچھ پرکھا تھا اور کسی حد تک عربی لٹریچر کو بھی چیک کیا تھا۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

Abdul Saboor نے لکھا ہے کہ

اسلام علیکم جناب ۔ یہ عمار خان ناصر کیا واقعی غامدی کا شاگرد ہے؟
عمار خان ناصر صاحب کو یہ تحریر بجھوا دیں اور اُن سے ان سوالات کے جوابات مانگیں۔
اگر اُن کے طبع نازُک پر گراں نہ گزرے تو شاید وہ کچھ غور و فکر فرمائیں۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔