جمعرات، 31 جولائی، 2014

درس قرآن وحدیث کیسے دیں ۔۔۔؟

قرآن و حدیث کی واضح نصوص اس کی دلیل ہیں اور چودہ صدیوں پر پھیلی اسلامی تاریخ کا ہر ہر ورق بھی اس کا زندہ ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی تنزلی کا ایک اہم سبب ” قرآن کریم“ سے دوری، بے رغبتی، غفلت اور روگردانی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان  بھی واضح پیغام اور کھلی تنبیہ ہے  کہ : ” ان اللہ یرفع بہذا الکتاب اقواما و یضع بہ آخرین“ بے شک! اللہ تعالیٰ اس کتاب قرآن کے ذریعہ بہت سی اقوام کو سر بلند فرماتے ہیں اور دوسری بہت سی اقوام کو پست و ذلیل کرتے ہیں.
درس قرآن کی روایت شروع سے مسلمانوں میں عام رہی ہےاور ہر دور میں علماء نے عوام کی تربیت اور تعلیم کے لیے اسکے حلقے لگائے رکھے، ہمارے آج کے علماء بھی اسی انداز میں یہ کام کررہے ہیں. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ   ان علماء اور ائمہ مساجد کے پاس ہر سہولت موجود ہے،  علم بھی ہے اور سننے والوں کا ایک بہت بڑا حلقہ بھی لیکن پھر بھی ان جیسی رونق  اور اثر کیوں نہیں ۔؟. ایک جواب یہ دیا جاسکتا ہے  اخلاص، درد اور کڑھن کی کمی ہے. بالکل یہ موجود ہے.  لیکن بعض جگہ اخلاص گوکہ ان اسلاف کے درجے کا نہیں' کے باوجود بھی فاعدہ نظر نہیں آیا. ایک بڑی کمی جو عام نظر آئی ہے وہ یہ ہے کہ جتنا علم انکے پاس موجود ہوتا ہے یہ  اس سے بھرپور فاعدہ اٹھانہیں سکتے، اسکو اس انداز میں پیش نہیں کرسکتے کہ  عوام تک  صحیح انداز میں بات پہنچ جائے. اس طرف بالکل  توجہ نہیں کی جاتی کہ  مجمع کا علمی لیول اور انکی ضرورت کیاہے،    وہ جو ٹائم نکال کر سننے بیٹھے ہیں اس ٹائم کو کس طرح بھرپور استعمال کیا جائےاور کس انداز میں استعمال کیا جائے کہ درس قرآن سننے والوں میں دلچسپی پیدا ہو اور وہ قرآن کے پیغام کو سمجھنا بھی شروع کریں. درس قرآن میں  آیت کی تلاوت اور ترجمہ کے بعد  بات کا رخ ذیادہ سے ذیادہ علمی نکات، بزرگوں کے واقعات اور فقہی ابحاث  کی طرف چلا جاتا ہے اور اسی پر پھر اختتام بھی ہوجاتا ہے.ظاہر ہے ایسی حالت میں درس قرآن کی محفلیں کب بارونق ہو سکتی ہیں اور جدید مسائل سے دو چار انسانوں کے مسائل کب حل ہو سکتے ہیں اور ان کی پیاس کب بجھ سکتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ  جو خالص انگریزی ماحول میں پلے بڑھے، جن کو کبھی عربی زبان وادب سے واسطہ نہیں پڑا، انہوں نے اردو تفاسیر سے ترجمہ دیکھ کر فہم قرآن کے نام سے عوام الناس میں اپنا مشن ونظریہ پھیلانا شروع کیا پھر بھی لوگ انکو سنتے ہیں. انکا حلقہ بڑھتا گیا اور جارہا ہے.  وجہ دیکھی جائے تو سب سے بڑی یہی نظر آتی ہے کہ وہ عوام کے لیول اور پسند ناپسند جانتے ہیں. وہ یہ جانتےہیں کہ عوام کی توجہ کیسے حاصل کی جاسکتی اور برقرار رکھی جاسکتی ہے جو کچھ ان کے پاس ہے وہ اسکو اچھی طرح پریزنٹ کرنا جانتے ہیں.
علماء میں موجود اس کمی کو دور کرنے کے لیے مختلف تجربہ کار علماء نے  بہت اچھے انداز میں لکھا اور علماء کو کورس کرانے کا سلسلہ بھی شروع کیا. حال  ہی میں جامعۃ الرشید کے ایک مشہورعالم مفتی ابولبابہ شاہ صاحب کی اس موضوع پر ایک کتاب " درس قرآن کیسے دیں" کے نام سے مارکیٹ میں آئی ہے.یہ علماء کی اس مسئلے میں  تربیت پر ایک شاندار کتاب ہے. ہم اس تحریر میں اس کتاب کا خلاصہ انہی کا ترتیب دیا ہوا قارئین کے لیے پیش کرنے جارہے ہیں.
























اس تحریر سے اصل فاعدہ علماء ہی اٹھا سکتے ہیں. غیر عالم دوستوں سے درخواست یہ ہے اگر وسعت ہو تواسکا پرنٹ نکال کر اسکی فوٹو کاپیاں کروا کر اپنے علاقے کے علماء حضرات کوپیش کریں..خیر کا کام جس درجہ میں ہو فائدہ ہے، کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ کسی بھی درجے اور حیثیت میں اس نفع کے حصول کی جدو جہد جاری رکھیں، نہ معلوم کون سی بات ذریعہ نجات بن جائے۔.یہ  پی ڈی ایف فارم میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کی جاسکتی ہے.

16 comments:

منصور مکرم نے لکھا ہے کہ

اچھی کاوش ہے۔
بہتر یہ ہوتا کہ اس کتاب کو سکین کرکے اسکا پی ڈی اف فائل بنا دیتے،جس سے اسکی ڈاونلوڈنگ آسان ہوتی،ایک کتابی شکل میں۔

NoorMohammed Hodekar نے لکھا ہے کہ

بہت اعلی ۔ ۔ ۔ علماء اکرام کے لئے تو نوالہ بنا کر دیا ہے ۔ ۔ آپ نے ۔ ۔

اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا کرے ۔ آمین

Noor ul haq نے لکھا ہے کہ

جزاك الله خير أحسنت
اگر آپ تفسير میں اسرائلیات اور تفسیر باالرائ کے متعلق کچھ ذکرکرتے تو بہتر ہوتا۔
نور الحق

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

یہ امت کفر و شرک میں بہت آگے نکل چکی ھے اس لئے ذلیل و خوار ھے ایسا کونسا مشرکانہ عقیدہ جو اس نام نہاد کلمہ میں نہیں حیات فی القبر کا مسئلہ یا نبی صلی الله صلی علیہ وسلم پر درود کے اعمال پیش ھونے کا مشرکانہ عقیدہ ھو یا تعویذ گھنڈے کا مشرکانہ عقیدہ ھو حتی الامکان ھندؤں یھدویوں عیسائوں کو بھی کفر و شرک کے مقابلے پیچھے چھوڑ دیا ھے

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

[ دامن کو ذرا دیکھ ...... ] ______________________________________________ توحید انسان کی فطرت میں ہےاورشرک غیرفطری ہے.. سورہ روم آیت30 کےمطابق اسلام دین فطرت ہے- چنانچہ جب تک اسلام کےنام لیوا دین فطرت پرقائم رہےاور فطرت سےمنحرف انسانیت کو بھی دین فطرت کی طرف دعوت دینےکی ذمہ داری (امربالمعروف ونھی عن المنکر) ادا کرتےرہےالله کی مدد ونصرت ان کے شامل حال رہی- لیکن افسوس جب یہ خود ہی فطرت سےمنحرف ہوکر مشرک بن گئےتو پھر زمین پرسب سےزیادہ الله کےغیظ وغضب کا شکار بھی یہی ہورہے ہیں، انکی ذلت و رسوائی کی لرزہ خیزداستانوں اور تباہی وبربادی کےالمناک واقعات سےتاریخ کےصفحات بھرےپڑےہیں اورحال تو ماضی سےزیادہ کربناک ہے... اس امت میں شرک کی ابتداء نبی‏‎(s.a.w)‎‏ پر درود کاعمل پیش ہونےکےعقیدےسےہوئی اور انتہاء اس عقیدے‎ ‎پرکہ الله نے دنیا،آخرت اورساری مخلوق اولیاء کےہاتھ میں دےدی، اورنظام عالم ان کےہاتھ میں ہوتاہے ..... یہ الگ بات کہ دین فطرت یعنی اسلام کےمطابق انسان کا ھر اچھا یابرا عمل اس کےخالق ومالک کی بارگاہ میں پیش ہوتا ہےاوردنیا،آخرت اورساری مخلوق اورنظام عالم خالق کائنات کےہاتھ میں ہے .. 

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

[...خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ھیں ... ]

قارئین! سماع_موتی کےباطل عقیدےکا رد صرف سورہ نمل اور فاطرکی آیتوں پرھی موقوف نہیں بلکہ قرآن کی متعدد آیات جوبیان کرتی ھیں کہ مردےقیامت کےدن ھی دوبارہ زندہ کیئےجائیں گےاس گمراہ کن عقیدے کا رد کرتی ھیں-کیونکہ سماع کیلئے حیات شرط ھے،اورجب مردے قیامت سے پہلےزندہ ھی نہیں ھونگےتو پھرسننےسنانےکاسوال ھی پیدا نہیں ھوتا-ملاحظہ ھو: ‏‎)‎البقرةآیت 28، مومنون آیت16،مومن آیت11...)اب رھی مردوں گےسننےکاعقیدہ رکھنےوالوں کی یہ کنفیوژن کہ اگرمردےنہیں سنتےتو پھرصالح اور شعيب عليهماالسلام نے اپنی مردہ قوم سےکیوں مخاطب ھوئے.؟ اسکاجواب یہ ھےکہ جب اصول متعین ھےکہ مردے قیامت سےپہلےزندہ نہیں ھونگےاور بغیر زندگی کےسننےکاسوال ھی پیدا نہیں ھوتا تو اب اسطرح کی آیت یاحدیث جس میں مردہ یاجماد (پتھر،بت وغیرہ) سےکلام کیاگیاھواسےسننے پرھرگز محمول نہیں کیاجائیگا- جیسےعمررضی الله عنه کاحجراسود سےکلام کرنا،ابراھیم عليه السلام كا بتوں سےکلام کرنا یا صالح اورشعيب علیهماالسلام کااپنی مردہ قوم سےمخاطب ھونا وغیرہ....البتہ معجزےکی بات الگ ھےکیونکہ معجزہ معمول نہیں ھوتا- جیسےقلیب بدرکےمردوں کا نبی عليه السلام کی بات سننا- [عن عبدالله بن عمر....انهم الآن يسمعون مااقول]_ حدیث میں"الآن" کا لفظ واضح کررھاھےکہ قلیب بدرکےمردوں کاسنناخاص اس وقت تھا ھر وقت نہیں،اورانس رضی الله عنه سےاس واقعہ کو روایت کرنےوالےان کےشاگرد ‏ قتادة رحمه الله کےالفاظ بخاری لائےھیں "احياهم الله" ترجمه:‏‎ ‎الله نےانہیں زندہ کردیا-ظاھرھےقبل ازقیامت زندہ ھونا معجزہ ھےمعمول نہیں- غورطلب نکتہ یہ ھےکہ اگرصحابه "میت" کے سننےکےقائل ھوتےتو قتادہ رحمه الله کو یہ وضاحت کرنےکی ضرورت ھی پیش نہ آتی ___لہذا ثابت ھواکہ جوسننامانتےتھےوہ بطورمعجزہ مانتےتھےعام نہیں.اور عائشہ رضی الله عنھااورعبدالله بن عمررضی الله عنهما کےمابین اختلاف اس واقعےکےمعجزہ ھونےیا نہ ھونےمیں ھی تھا نہ كہ مطلق سماع موتی میں .....امت کی بدنصیبی کہ ان تمام تر تفصیلات کےباوجود اکابرین دیوبند،بریلوی اور اہلحدیث نےعلمی فریب کاری کےذریعےھرمردے کو زندہ اورسننےوالا قرار دیکر معجزے کو معمول بنادیا-
نتیجتا" قرآن کےبیان کردہ عام قانون دو زندگی دو موت سےصرف قلیب بدر کےمردے ھی نہیں بلکہ تمام مردے مستثنی‎(exempted)‎‏ ھوگئے اب قرآن کی وہ آیت جس میں دو زندگی دو موت کاقانون بیان ھواھےمحض تلاوت کیلئےھےاسکا اطلاق‎ (implement)‎‏ قبرمیں مدفون کسی مردہ لاشے پرنہیں ھوگا____کیونکہ ان سب کا عقیدہ ھےکہ " دفن کےبعد ھرمردہ لاشہ دفناکرجانےوالوں کےجوتوں کی چاپ سنتا ھے"__
قارئین! جسطرح معجزےکا انکارالله کی قدرت کا انکارہےویسےہی معجزےکومعمول بنانا الله کےقانون کا انکار اورمذاق ہے،چنانچہ الله کےقانون کا صریح انکارکرنےاورمذاق اڑانےکا خمیازہ یہ الله کےعذاب کی شکل میں صدیوں سےبھگت رھےھیں اور آخرت کا ابدی عذاب الگ ھے-
(نوٹ) اس موضوع پرتفصیلی مطالعےکیلئے ڈاکٹرعثمانی رحمةالله عليه کےکتابچے"عذاب_برزخ" اور"ایمان_خالص، دوسری قسط کامطالعہ فرمائیں- - ‏www.islamic-belief.net

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

[ صحیح حدیث کاخلاف قرآن مفھوم....] _____________________________________________ قرآن کافیصلہ ھےکہ; [....ثم انکم یوم القيامة تبعثون]یعنی مردےبروزقیامت زندہ ھونگےاور [انك لاتسمع الموتی...]ترجمه(اےنبی) آپ مردوں کونہیں سناسکتے.....البتہ قارئین معجزےکی بات الگ ھےکیونکہ معجزہ معمول نہیں ھوتا،جیسےقلیب بدرکےمردوں کوالله تعالی کا قیامت سےقبل زندہ کرکے انہیں نبی عليه السلام کی بات سنوانا معجزہ ھے....اس واقعےکی تمام تر تفصیل بخاری، کتاب الجنائزاورکتاب المغازی میں موجود ھےجس سے پتہ چلتاھےجنگ بدرکےمردہ کفارکاسننامعجزہ تھا _ لیکن افسوس دیوبند،بریلوی اوراھلحدیث کےاکابرین نےقلیب بدرکے معجزےکومعمول بناڈالا...‏‎.‎ان سب کا عقیدہ ھےکہ الله تعالی ھرمردہ لاشےکو قبرمیں دفن ھونےکےبعد زندہ کرکے دفناکرجانےوالوں کےجوتوں کی آواز سنواتا ھے، لاشہ اٹھ کربیٹھ جاتاھےسوالوں کےجواب دیتاھےاوراس کےنتیجےمیں عذاب یا راحت سےدوچارھوتا ھے _الله کےقانون کےساتھ اس مذاق کاانجام یہ امت صدیوں سےذلت اورمغلوبیت کےعذاب کی شکل میں بھگت رھی ھےاورآخرت کاکبھی نہ ختم ھونےوالا دردناک عذاب الگ ھے- حالانکہ بخاری کی جس حدیث سے یہ خلاف قرآن مفھوم لیاجاتا ھےاس کی ایسی شرح بھی موجود ھےجس سےمعجزےکومعمول بناکرالله کےقانون کا انکارکرنے اورقانون کامذاق اڑانےسےبچاجاسکتاھے، جیسےصحیح بخاری کی مشھور شرح فتح الباری،جلد3 صفحہ205 پربخاری کے باب:[مردہ جوتوں کی چاپ سنتاھے]كی شرح میں لکھاھے; (...وكأنه اقتطع ماهومن سماع الآدمين من سماع ماهومن الملائكة) یعنی قارئین حدیث میں فرشتوں کےجوتوں کی آوازکاذکرھےجسے چالاکی سےدفناکرجانےوالوں کےجوتوں کی آوازبنادیا گیا تاکہ مردہ لاشےکو قبرمیں زندہ ثابت کیاجاسکے-جبکہ فرشتوں کےجوتوں کی آواز سننےکامعاملہ بھی روح کےمقام پرھوتاھےقبرمیں پڑے مردہ لاشےسےاسکاکوئی تعلق نہیں ھوتا- _ اس پر اعتراض کیاجاتاھےکہ بخاری کےباب میں تو "المیت" کا لفظ ھےکیا روح کو بھی میت کہا جاسکتاھے؟ جواب دیاجاتاھےکہ اس میں کون سی حیرانی اورتعجب کی بات ھےکہ مرنےوالےکےخاکی جسم کےساتھ اسکی روح (جواپنےمقام پرپہنچ چکی ھے)کی بھی لفظ "میت" سےپہچان کرائی جائے- _خود بخاری میں ھی اسکی مثال قلیب بدرکےواقعےکےحوالے سےموجودھےجس میں سارا تذکرہ مردہ کفار کاچل رھاھے، چنانچہ عائشہ رضي الله عنها جب مردوں کے"سننے" کی نفی کرتی ھیں تو انکی مراد کنوےمیں پڑے جسدعنصری ھیں اورجب مردوں کے"علم" کا اثبات کرتی ھیں تو مراد ارواح ھیں جواپنےمقام پرپہنچ گئیں ھیں- ام المومنین کے اس طرزبیان سےناجائزفائدہ اٹھاتےھوئےبعض احمقوں نےمردہ لاشےکوکسی بھی طرح زندہ ثابت کرنےکیلئے ان پریہ بہتان عظیم باندھا کہ وہ مردہ لاشے کےسماع کی تو انکاری تھیں لیکن مردہ لاشےکو کوعلم وفھم ھوتاھےاسکی قائل تھیں- (سماع موتی،صفحه347 ،سرفرازخان صفدر ) قارئین!خلاصہ کلام یہ کہ بخاری کےباب:[المیت یسمع خفق النعال] کی ایسی تاویل وتشریح ممکن تھی جس سے قلیب بدرکےمعجزےکومعمول بناکرالله کےقانون [انك لاتسمع الموتي] اور [ثم انکم يوم القيامة تبعثون] کا انکارکرنے،قانون کامذاق اڑانےاورنبی عليه السلام پرکتاب الله کوجھٹلانےکا غلط الزام لگانےسےبآسانی بچاجاسکتاتھا __ لیکن امت کی بدنصیبی اکابرین دیوبند، بریلوی اوراھلحدیث کی علمی فریب کاری کاشکارھوکرنہ جانےکتنےلوگ اس کفریہ عقیدےکو اختیارکیئےھوئےھمیشہ ھمیشہ کیلئےجہنم کا ایندھن بن چکےاورمزید نہ جانےکتنےاوربنیں گےکہ _ [مردہ دفناکرجانےوالوں کےجوتوں کی آواز سنتاھے ]

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

[معجزہ اورمعمول] _______________________قارئین! عیسی علیه السلام کی پیدائش معجزہ اس وجہ سےھےکہ دیگرانسان بغیرباپ کےپیدا نہیں ھوتے،اگرھرانسان بغیرباپ کے پیدا ھو تو عیسی علیه السلام کی پیدائش ھرگز معجزہ نہیں کہلائےگی _____ بالکل اسی طرح قلیب بدر کےمردوں کا سننا خرق عادت اورمعجزہ اس وجہ سےھےکہ "مردے نہیں سنتے"اگرھرمردہ سننےلگےتو قلیب بدر کےکفار کاسننا معجزہ ھرگز نہیں کہلائےگا- اھلحدیث"محققین" اس سادہ سی بات کوماننےکیلئےتیارنہیں کہ جسطرح معجزےکاانکار الله كی قدرت کاانکار ھےویسےھی معجزےکومعمول بنانا الله کےقانون کاانکاراور مذاق ھے-جسکی سزا ھمیشہ کی جہنم ھے-

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

قارئین! الله تعالی سورۃ آل عمران آیت 105اور 106 میں يہودیوں اورعیسائیوں کےعلماء کاایک کردار یہ بھی بتاتا ھےکہ انہوں نے واضح،صریح،غیرمبہم اورقطعی دلائل کےباوجود اختلاف کیا جس پرانہیں عذاب الیم کی وعید سنائی گئی-افسوس اھلحدیث"محققین"کا بھی بالکل وھی کردار ھےقرآن کی اسقدر واضح،صریح،غیرمبہم اورقطعی الدلالت آیات کےباوجود کہ "مردے نہیں سنتے" ( البتہ معجزےکی بات الگ ھےکیونکہ معجزہ معمول نہیں ھوتا جیساکہ قلیب بدرکےمردوں کاسننا ) اھلحدیثوں کا عقیدہ ھےکہ"ھرمردہ لاشہ دفناکرجانےوالوں کےجوتوں کی چاپ سنتا ھے" یوں اھلحدیث"محققین"نےنہ صرف قلیب بدرکےمعجزےکومعمول بناکرالله کےقانون کاکفرکیا اورمذاق اڑایا بلکہ الله کےنبی صلی الله عليه وسلم پربھی قرآن کی مخالفت کرنےکاجھوٹا الزام لگایا-حالانکہ نبی صلی الله عليه وسلم قرآن کی تشریح وتبین کیلئےبھیجےگئےتھے نعوذبالله جھٹلانےکیلئےنہیں-

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

[کیا ھرمردہ سنتا ھے؟] --------------------------------------------
قرآن وحدیث میں مذکور ایسے واقعات جن کا الله کےبنائےھوئےقوانین کےخلاف صدور ھوا معجزہ یاخرق عادت کہلاتے ھیں، جیسے موسی عليه السلام کےعصاء کا اژدھا بن جانا، عیسی عليه السلام كی بغیرباپ کے پیدائش وغیرہ- خرق عربی میں پھٹ جانےکو کہتے ھیں، معجزے میں چونکہ عادی قانون ٹوٹ جاتاھےاسلئےاسےخرق عادت کہاجاتا ھے-معجزہ الله تعالى کافعل ھوتا ھےجو نبی کےھاتھ پر ظاھر ھوتا ھے، معجزے کےظاھر ھونےمیں نبی کا قطعا" کوئی اختیارو تصرف نہیں ھوتا- الله سبحانه تعالی معجزات یاخرق عادت واقعات سےاپنی قدرت کا اظہار فرماتا ھے- چنانچہ جسطرح معجزات یا خرق عادت کا انکارالله تعالی کی قدرت کا انکارھےبالکل ویسےھی معجزےکومعمول بنانا بھی الله کےقانون کا صریح کفرھے، دونوں صورتوں میں الله کی کتاب کی تکذیب و تکفیر لازم آتی ھے- اس آخری امت کی بدنصیبی کہ اس میں جہاں معدودے چند ایسےلوگ پائےجاتےھیں جنہوں نےمعجزات کا صاف انکارکردیاجیسےمنکرین حدیث وغیرہ، وھیں ایسے لوگوں کی بھی اکثریت ھےجنہوں نےمعجزےکو معمول بناکر الله کےقانون کا برملا مذاق اڑایا- تفصیل اس اجمال کی یہ ھےکہ قرآن کا فیصلہ اوراٹل قانون ھےکہ: "مردےنہیں سنتے" لیکن چونکہ معجزےکی بات الگ ھےکیونکہ معجزہ معمول نہیں ھوتا-جیسےقلیب بدرکےمردوں کانبی صلى الله عليه وسلم کی بات سننا، احادیث میں اس واقعےکی تمام تر تفصیلات درج ھیں،جس سے واضح ھوجاتا ھےکہ یہ ایک معجزہ تھا- ھرمردہ سنتا ھے یہ کسی صحابی کاعقیدہ نہیں تھا- لیکن اس کےباوجود اکابرین دیوبند، بریلوی اور اھلحدیث نےعلمی فریب کاری کےذریعےھر مردےکوسننےوالا قرار دیکر معجزے کو معمول بناڈالا- ان سب کا عقیدہ ھےکہ " ھرمردہ لاشہ دفن کےبعد دفناکرجانےوالوں کےجوتوں کی آواز سنتا ھے"
معجزےکو معمول بناکر الله کےقانون کا انکار اورمذاق اڑانےمیں ویسےتو تینوں فرقوں کےاکابرین کا اپنا اپنا کردار ھےلیکن اھلحدیث کےاکابرین کا کلیدی کردار (key role) ھے-اور آج بھی اس کفریہ عقیدہ کی تبلیغ وترویج میں اھلحدیث "محققین"سب سےآگےھیں،
جسکا خمیازہ ذلت ورسوائی کی شکل میں یہ امت صدیوں سےبھگت رھی ھےتباھی وبربادی کےالمناک واقعات سےتاریخ کےصفحات بھرےپڑےھیں،موجودہ حالات تو ماضی سےزیادہ کربناک ھیں، اور آخرت کا ابدی عذاب الگ ھے- [وما علینا الا البلاغ]
(نوٹ) اس موضوع پرتفصیلی مطالعےکیلئے ڈاکٹرعثمانی رحمةالله عليه کےکتابچے ایمان_خالص دوسری قسط اور عذاب_برزخ کامطالعہ فرمائیں- www.islamic-belief.net

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

قارئین! قلیب بدرکےمردوں کوالله نےنبی صلی الله عليه وسلم کی بات سنوادی یہ معجزہ تھاخرق عادت وخرق قانون تھا حدیث میں اس واقعےکی تمام ترتفصیل موجودھے-البتہ ام المومنین عائشه رضی الله عنها نےمعاملےکو عام قانون پر رکھ کرآیت " انك لاتسمع الموتی"سےاستدلال فرماتےھوئےمردوں کےسننےکا انکارکیا-جبکہ عبدالله بن عمررضي الله عنهما مردوں کاسننابطورمعجزہ مانتےتھے-لیکن یہ عقیدہ رکھناکہ الله تعالی ھرمردےکودفناکرجانے والوں کےجوتوں کی چاپ سنادیتاھےعام قانون کوکھیل بناناھے،صحیح حدیث کی غلط تشریح کرکےالله کےنبی پرالله کےقانون کوجھٹلانےکاغلط الزام لگاناھے- قارئین! اھلحدیث"محققین" معجزےکومعمول بنانےکی بحث میں بری طرح پھنس چکےھیں- یہ"محققین" کبھی لکھتےھیں کہ مردےکوبغیرمعجزے کےکوئی بھی نہیں سناسکتا-اورکبھی لکھتےھیں "میت کاجوتوں کی چاپ سننامعجزہ نہیں بلکہ معمول ھے"_کوئی ان"محققین"سےپوچھےکہ اگربقول آپ کےمیت کاجوتوں کی چاپ سننا "معجزہ" نہیں ھےتوپھرآپ قلیب بدرکےمردوں کےسننےکو"معجزہ" کیوں قراردیتےھو؟؟؟

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

قارئین ! اللہ کاقانون ھےکہ"انك لاتسمع الموتی"اےنبی آپ مردوں کونہیں سناسکتے-(نمل آیت ۸۰) البتہ قلیب بدرکےمردوں کیلئےیہ قانون ٹوٹ گیا اورانہوں نےنبی صلي الله عليه وسلم كی بات سنی-اسی لیئےاسےخرق قانون،خرق عادت یاعرف عام میں معجزہ کہاجاتاھے-لیکن افسوس اھلحدیث"محققین" نے الله کےقانون کوبچوں کاکھیل بنادیاھے،جسےوہ بارباراور ھرمردےکیلئےتوڑدیتے ھیں- اور صرف اتنا ھی نہیں بلکہ الله کےقانون سےسرکشی اوربغاوت کامظاھرہ کرتےھوئےمزید لکھتےھیں : " میت کاجوتوں کی چاپ سننامعجزہ نہیں بلکہ معمول ھے" _____ لیجیئےقارئین ! اسےکہتےھیں" ایک توچوری اوپرسےسینہ زوری"

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

نحمده ونصلی علی رسوله الكريم،امابعد،
قارئین! قرآن کےقطعی نصوص پرمبنی دلائل کےمقابلےمیں فلسفہ،منطق اورباطل تاویلات لانےکا منطقی انجام یہی ھوتا ھےجو معجزےکومعمول بنانےکی بحث میں اھلحدیث"محققین" کاآپ نےملاحظہ کیا-____قارئین! ان"محققین" کےپاس ھماری اس سادہ سی بات کاقطعی کوئی جواب نہیں کہ"قلیب بدرکےمردوں کاسنناتومعجزہ ھےلیکن یہ عقیدہ رکھناکہ دفن کےبعدھرمردہ دفناکرجانےوالوں کےجوتوں کی چاپ سنتاھے یہ تو معجزےکومعمول بناناھے-
اورجسطرح معجزے کا انکار الله کی قدرت کا انکارھےویسےھی معجزےکو معمول بنانا الله کےقانون کا انکار اورمذاق ھے-اورتم اورتمھارے اکابرین برملا الله کےقانون کامذاق اسکی قدرت کی آڑلیکر اڑارھےھو"____قارئین! بحث کی ابتداء میں تو ھماری اس مدلل بات کےجواب میں "محققین" کی جانب سےفلسفےاورمنطق کےساتھ ساتھ اپنےھم عقیدہ لوگوں کو يہ کہہ کربھی مطمئن کرنےکی کوشش کیجاتی رھی کہ ڈاکٹرعثمانی والےدنیاوی قبرمیں عذاب نہیں مانتے-لیکن قارئین ھمارےارضی قبرمیں عذاب و راحت نہ ماننےکی وجہ(reason) کی طرف نہ یہ"محققین"خود آتےھیں اورنہ اپنےمقلدین کوآنےدیتےھیں اورنہ ھی ان"محققین" کےپاس اس reason کا کوئی جواب ھے-
اورنہ قیامت تک یہ جواب دےسکتےھیں چاھےان کےعرب وعجم کےسارے"محققین" سرجوڑکربیٹھ جائیں- انہیں اچھی طرح معلوم ھےکہ اگران کےمقلدین معجزےاورمعمول کی بحث میں پڑگئےتوانہیں معلوم ھوجائیگا کہ ان کے"علماء"صحیح حدیث کی خلاف قرآن تشریح کرکےنبی صلی الله عليه وسلم پرالله کےقانون کا انکارکرنےاورمذاق اڑانےکا جھوٹا الزام لگاتےرھےھیں-خود بھی گمراہ ھوئےاورایک جم غفیرکواپنےساتھ گمراہ کرکےھمیشہ کیلئے جہنم کاایندھن بنادیا-
کیونکہ یہ عقیدہ کہ ھر مردہ دفن کےبعد دفناکرجانے والوں کےجوتوں کی چاپ سنتاھے،قبر میں اٹھ کربیٹھ جاتا ھے،سوالوں کےجوابات دیتا ھےاورعذاب وراحت سےدوچارھوتاھے، صحیح بخاری کی حدیث کےغلط مفھوم کےذریعےاپنایا اورلوگوں میں عام کیاگیاھے-جس سےالله کےقانون کانہ صرف مذاق بنتا ھےبلکہ انکار بھی لازم آتا ھے---------------خلاصہ کلام یہ کہ معجزےکومعمول بنانےکی بحث میں اھلحدیث"محققین" کےجب بحث سےفرارکےتمام راستےبندکردئےگئےتو منطق،فلسفہ،باطل تاویلات کاسارا زور صرف کرنےکےبعد بالآخرتھک ھار کرلکھتےھیں: {{"خلوص نیت سےغورکرنےکےباوجود اگرکسی سےغلطی ھوجائےتو کیا وہ کافرھوگیا ؟"}} قارئین یوں الله کےقانون کا کھلم کھلا انکار کرنےاورمذاق اڑانےکاخمیازہ یہ امت صدیوں سےعذاب کی شکل میں بھگت رھی ھےاورآخرت کا ابدی عذاب الگ ھے-بہرحال اصلاح احوال کی اپنی سی کوشش کرنا ایک مومن کی ذمہ داری ھے---------- [ وماعلیناالاالبلاغ ]
[نوٹ] صحیح بخاری کےباب " المیت یسمع خفق النعال " کےتحت حدیث کی تشریح ڈاکٹرعثمانی رحمة الله عليه کےکتابچے"عذاب برزخ" میں ملاحظہ فرمائیں- www.islamic-belief.net

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

قارئین! الله تعالی سورۃ آل عمران آیت 105اور 106 میں يہودیوں اورعیسائیوں کےعلماء کاایک کردار یہ بھی بتاتا ھےکہ انہوں نے واضح،صریح،غیرمبہم اورقطعی دلائل کےباوجود اختلاف کیا جس پرانہیں عذاب الیم کی وعید سنائی گئی-افسوس اھلحدیث"محققین"کا بھی بالکل وھی کردار ھےقرآن کی اسقدر واضح،صریح،غیرمبہم اورقطعی الدلالت آیات کےباوجود کہ "مردے نہیں سنتے" ( البتہ معجزےکی بات الگ ھےکیونکہ معجزہ معمول نہیں ھوتا جیساکہ قلیب بدرکےمردوں کاسننا ) اھلحدیثوں کا عقیدہ ھےکہ"ھرمردہ لاشہ دفناکرجانےوالوں کےجوتوں کی چاپ سنتا ھے" یوں اھلحدیث"محققین"نےنہ صرف قلیب بدرکےمعجزےکومعمول بناکرالله کےقانون کاکفرکیا اورمذاق اڑایا بلکہ الله کےنبی صلی الله عليه وسلم پربھی قرآن کی مخالفت کرنےکاجھوٹا الزام لگایا-حالانکہ نبی صلی الله عليه وسلم قرآن کی تشریح وتبین کیلئےبھیجےگئےتھے نعوذبالله جھٹلانےکیلئےنہیں-

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

[معجزہ اورمعمول] _______________________قارئین! عیسی علیه السلام کی پیدائش معجزہ اس وجہ سےھےکہ دیگرانسان بغیرباپ کےپیدا نہیں ھوتے،اگرھرانسان بغیرباپ کے پیدا ھو تو عیسی علیه السلام کی پیدائش ھرگز معجزہ نہیں کہلائےگی _____ بالکل اسی طرح قلیب بدر کےمردوں کا سننا خرق عادت اورمعجزہ اس وجہ سےھےکہ "مردے نہیں سنتے"اگرھرمردہ سننےلگےتو قلیب بدر کےکفار کاسننا معجزہ ھرگز نہیں کہلائےگا- اھلحدیث"محققین" اس سادہ سی بات کوماننےکیلئےتیارنہیں کہ جسطرح معجزےکاانکار الله كی قدرت کاانکار ھےویسےھی معجزےکومعمول بنانا الله کےقانون کاانکاراور مذاق ھے-جسکی سزا ھمیشہ کی جہنم ھے-

قران و سنت کا راہی نے لکھا ہے کہ

یہ امت کفر و شرک میں بہت آگے نکل چکی ھے اس لئے ذلیل و خوار ھے ایسا کونسا مشرکانہ عقیدہ جو اس نام نہاد کلمہ میں نہیں حیات فی القبر کا مسئلہ یا نبی صلی الله صلی علیہ وسلم پر درود کے اعمال پیش ھونے کا مشرکانہ عقیدہ ھو یا تعویذ گھنڈے کا مشرکانہ عقیدہ ھو حتی الامکان ھندؤں یھدویوں عیسائوں کو بھی کفر و شرک کے مقابلے پیچھے چھوڑ دیا ھے

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔