پیر، 17 اکتوبر، 2011

فکر بالغ نہیں تو عزم جواں کو کیا کرنا



فکر بالغ نہیں تو عزم جواں کو کیا کرنا
کردار و عمل نہ ہو تو زور بیاں کو کیا کرنا

پہچان کے بغیر علم کا سمندر بھی لاحاصل ہے 
اپنا آشیاں ہی بکھر جاتے تو کہکشاں کو کیا کرنا

گر قدم ہی ڈگمگانے لگیں تلاش منزل میں 
پھر آہ و زاری کو اور لب پہ فغاں کو کیا کرنا

گریبان اوروں کے مت دیکھ تلاش اپنا گوہر کر 
جو دشمن بنے خود اپنا تو پاسباں کو کیا کرنا

زندگی کا مقصد ہی جو گنوا بیٹھے اپنے ہاتھوں سے 
بلند پرواز ہی نہ ہو تو اونچے آسماں کو کیا کرنا

تاریخ کے یہ اوراق ہیں واسطے نصیحت کو تیری 
راہ جس سے نہ ملے اس داستاں کو کیا کرنا

جب تڑپ ہی نہ رہے جو مطلوب تھی دل و جگر کو 
جو لاتعلق امت سے رہے اس مسلماں کو کیا کرنا



مکمل تحریر >>

ہفتہ، 1 اکتوبر، 2011

ایم کیو ایم کا مکروہ چہرہ

  ہمارے ہمسائے میں ہفتے پہلے نئے کرایہ دار آئے، نہایت شریف اور سلجھے ہوئے لوگ ہیں ان کے ایک بیٹے کا نام کاشف ہے ، کاشف سے کل پہلی دفعہ میری ملاقات ہوئی۔ اس سے میں نے کاروبار کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں کپڑے کی دوکان ہے، پہلے کراچی میں رہتے تھے وہاں بھی ہمارا کپڑے کا بہت اچھا کاروبار تھا، تین سال پہلے یہاں شفٹ ہوئے ہیں۔ میں نے تفصیل پوچھی تو پتا چلا کہ ان کا گھرانہ بھی  اس دہشت گرد تنظیم کا ڈسا ہوا ہے، اس نے بتایا کہ ہم بیس سال کراچی میں رہے ہیں، وہاں والد صاحب کی اس کاروبار سے اچھی آمدن تھی، چند سالوں سے  ایم کیو ایم والوں نے بہت تنگ کرنا شروع  کیا ہوا تھا،  ہم مجبورا انہیں ہر مہینے  بھتہ بھی دیتے تھے اور قربانی کی کھالیں، فطرانہ وہ ہم سے زبردستی لے جاتے تھے، جو واقعہ  اسلام آباد شفٹ ہونے کی وجہ بنا وہ یہ ہے  ایک دن میں  گھر آیا تو میرے چھوٹے دونوں بھائی غائب تھے، آگے پیچھے پتا کیا کچھ معلوم نہیں ہوا، میں سخت پریشانی میں تین گھنٹے پھرتا رہا، رات کے بارہ بج گئےاور  بھائی گھر نہ آئے، گھر والے بھی سارے پریشان کہ پتا نہیں کہاں چلے گئے،  ان کا تعلق کسی سیاسی تنظیم سے بھی نہیں تھا اور نہ انکی رات کو باہر گھومنے پھرنے کی عادت تھی۔  آخر رات کے ایک بجے وہ  دونوں  خود گھر آگئے، اور بتایا کہ ایم کیو ایم والے اپنے جلسے میں زبردستی لے گئے تھے اور جلسہ میں بٹھائے رکھا، آتے ہوئے  انہوں نے ہمیں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ آئندہ  تم دونوں کو اس طرح ایم کیو ایم کے جلسوں میں لانا نہ پڑے اگر خود جلسوں میں نہ پہنچے تو پھر تمہیں دوبارہ گھر جانا نصیب نہ ہوگا۔۔۔۔۔ والد صاحب نے اسی دن فیصلہ کرلیا کہ  ہم نے اب یہاں نہیں رہنا اور دو مہینے میں وہاں سے کاروبار کی کلوزنگ کی اور اسلاآباد شفٹ ہوگئے ،  یہاں بھی کپڑے کا کاروبار شروع کیا ہے ، شروع میں پریشانی رہی ، اب اللہ کا شکر ہے کہ گزارہ چل رہا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ ایم کیو ایم کے جلسوں میں رش اور انگلینڈ میں بیٹھے مسخرے کے ٹیلی فونک خطاب میں معزز لوگوں  کی  موجودگی  کا بھی  یہی راز ہے،  انہیں بھی اپنے اور اپنے گھر والوں کی جان عزیز ہوگی۔
اس جماعت  کی بدمعاشیوں کے متعلق ویسے بھی  تقریبا روز ہی اخبارات اور ٹیلی ویژن پر چلنے والی خبریں نظر سے گزرتیں رہتیں ہیں کہ کس طرح یہ  غنڈہ گرد جماعت بھتہ خوری، بدمعاشی اور قتل و غارت  سے کراچی  کے لوگوں کا جینا دوبھر کیے ہوئے۔  اب تو یہ بات مشاہدہ میں بھی ہے کہ  اس جماعت کا وجود صرف لوگوں کے غصب کیے ہوئے مال کی وجہ سے قائم ہے اور یہ جماعت  اقتدار میں رہے بغیر  چل ہی نہیں سکتی، مشرف دور کی اور موجودہ  استعفوں کی سیاست اس بات کی گواہ ہے۔

مکمل تحریر >>

اتوار، 21 اگست، 2011

جیو ٹی وی کی ایک اور ناپاک اور شرانگیز حرکت


جیو ٹی وی شروع سے  پاکستان میں انتہائی منافقانہ کردار ادا کرتا چلا آرہاہے۔ اس کی اجمل قصاب کے والدین اور گاؤں کے متعلق   خود ساختہ اور بے بنیاد کہانی پر مشتمل   ڈاکو مینٹری فلم، امن کی آشا کے نام پر  ہندوانہ  کلچر  اور  انڈین فحاشی کے سیلاب کی پاکستان درآمد، اسکی ننگی فلموں ڈراموں کی اپنے چینلز سے اوپن نشریات   جیسی بہت سی مثالیں پچھلے چند سالوں میں سامنے آئیں ہیں،   اس کے علاوہ غیر وں کا ایجنٹ یہ  مافیا گروپ پچھلے چند سالوں سے اسلام پر بھی  انتہائی غیر محسوس طریقے سے ڈائریکٹ  وار کرتا چلا آرہا ہے۔ شروع میں اس  کا نا اہل لوگوں کو اکٹھا کرکے اسلام پر تبصرے کرانے والا  پروگرام جاہل  آن لائن ،  حدود آرڈینینس کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ مہم، ’خدا کے لیے ’ جیسی عوام میں دینی  آزادی اور بے راہروی پھیلانی والی فلموں کی تشہیر اور   چند سال پہلےرمضان میں  توہین رسالت پر مشتمل فلم ”دی میسج"   اور اب اس رمضان میں اسی فلم کے  طرز پر ایک ڈرامہ سیریل  " تمثیل حیات طیبہ " نشر کرنا چند مثالیں ہیں۔ 

 پہلے فلم  "دی میسج"اور اب اسی طرز کے  ڈرامہ "تمثیل حیات طیبہ" کی تشہیر  میں میڈیا کے ذریعے یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ یہ حقیقی واقعات پر مبنی  ہیں۔لوگ  انہیں ثواب کی نیت سے اور مقدس سمجھ کردیکھ رہے ۔ جن لوگوں نے یہ فلم دیکھی  ہے یا یہ نیا ڈرامہ دیکھ رہے ہیں ‘ وہ اس کو بُرا سمجھنے پر بھی تیار نہیں ہیں‘ اگر سمجھاؤ‘ تو کہتے ہیں: ”اس میں تو سچے مناظر دکھائے جارہے  ہیں۔“ بعض کا کہنا ہے کہ : ”اگر کسی کو پڑھنا نہ آتا ہو‘ تو وہ انہیں  دیکھ کر ہی اسلام کے ابتدائی حالات و واقعات کا مطالعہ کرسکتا ہے۔کچھ کا کہنا ہے کہ: "بے شک ان میں سیّدنا ابوبکرصدیق‘ ابو سفیان‘ حضرت بلال‘ حضرت ابو ایوب انصاری اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا کردار ادا کیا گیا ہے‘ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں بھی بولتے ہوئے نہیں دکھایا گیا اور نہ ہی واضح شکل دکھائی گئی ہے۔" گویا ان لوگوں کے نزدیک اس فلم میں کوئی قابل ممانعت بات ہی نہیں پائی جاتی‘انہیں اس کا کچھ احساس ہی نہیں ہے   کہ وہ  اپنے مذہب کی مقدس شخصیات کی  اتنی بڑی توہین برداشت کررہے ہیں۔

  فلم دی میسج جس کو جیو نے اپنے چینل اور اخبارات سے بھرپور تشہیر کے بعد کئی بار چلایا ’  کو بنانے والا مصطفی عکاظ ایک لادین مستشرق تھا اور اس نے اپنے آقاؤں کے اشارہ پر توہینِ رسالت و توہینِ صحابہ پر مبنی یہ بدنام زمانہ فلم بنائی اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات کو دنیا جہان کے کنجروں اور بدمعاشوں کی شکل میں دکھا کر مسلمانوں کے ایمان و عمل کو غارت کرنے اور ان مقدس شخصیات کی توہین و تنقیص کرنے کی کوشش کی۔ اب یہ  ڈرامہ سیریل  " تمثیل حیات طیبہ " بھی  کسی دوسری زبان سے  اردو ترجمہ  کیا گیا لگتا ہے ۔ ان  دونوں میں    نہ صرف اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت کے دور کی منظر کشی کی گئی ہے‘ بلکہ بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم‘ مثلاً: حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور دیگر مقدس ہستیوں کا مختلف اداکاروں نے باقاعدہ کردار ادا کیا ہے،حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اذان دینا‘ ان پر کافروں کی جانب سے سختیاں کیا جانا‘ وغیرہ ‘حتی کہ حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کا بھی کسی ملعون اداکار نے کردار ادا کیا ہے‘فلم میں اس آدمی کا چہرہ تو واضح نہیں ہے‘ لیکن اسے چلتے پھرتے دکھایا گیا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ شریف ہجرت کے واقعہ کی نعوذباللہ منظر کشی کی گئی ہے‘ دکھایا گیا ہے کہ دف بجائے جارہے ہیں‘ لوگ انتظار میں کھڑے ہیں‘ ایک شخص جس کا چہرہ واضح نہیں ہے‘ سفید اونٹ پر سوار آرہا ہے ( استغفراللہ)۔فلم کی ایک اور جھلکی میں دکھایا گیا ہے کہ بت رکھے ہوئے ہیں‘ ایک شخص چھڑی کی مدد سے بتوں کو گراکر توڑ رہا ہے۔جن  لوگوں نے فلم" دی میسج" دیکھی  ‘ ان کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اوپر فلم بنائی گئی ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینے ہجرت کرجانے کے دوران غار میں سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قیام کرنا‘ غار کے منہ پر مکڑی کا جالا بننا‘ کبوتر کا انڈے دینا‘ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اینٹیں اٹھا اٹھا کر لانا‘ حضرت ابو ایوب انصاری  رضی اللہ عنہ کے گھر قیام کرنا وغیرہ‘ باقاعدہ ڈائیلاگ کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔ نعوذباللہ۔

افسوس صد افسوس ۔اسلام میں تو  کسی عام  پیغمبر، نبی ، صحابی  کی شبہیہ ، تصویر، خاکہ  تک بنانا حرام ہے اور یہاں  کافروں‘ مشرکوں‘ ملحدوں ، زانیوں ، شرابیوں  کو امام الانبیا  حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  اور انکے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس جماعت کے طور پر پیش کیا  جارہا ہے اور  وہ لوگ جو خود کو مسلمان کہتے ہیں  وہ نہ صرف اس کو دیکھ رہے ، اسکی  تعریف کررہے ہیں بلکہ  باقاعدہ اسکا دفاع بھی کررہے ہیں۔کیا کوئی  حقیقی مسلمان سوچ سکتا ہے کہ فلم انڈسٹری کے کسی حیا باختہ انسان کو حضرت حمزہ، حضرت بلال، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام د یا جائے؟  ظلم کی انتہا جو کام آج تک اسلام کے ازلی دشمن نہیں کرسکے تھے ۔ وہ اب مسلمانوں کے ہاتھوں‘ مسلمانوں کے ملک میں اور مسلمانوں کے سامنے کیا جارہا ہے‘ اور طرفہ تماشایہ کہ اس کو اشاعتِ اسلام کا نام دے کر اسے دیکھنا ‘دکھانا اور اس کی نشرو اشاعت کو نیکی کا نام دیا جارہا ہے۔

کیا یہی باتیں مسلمانوں پر اجتماعی طور پر  آئے ہوئے اللہ کے عذاب کے لیے کافی نہیں۔اللہ ہمیں معاف فرمادیے۔ جن لوگوں نے اس فلم کو صحیح جان کر دیکھا ہے یا اس ڈرامہ کو تحسین کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ‘ ان کو بارگاہ الٰہی میں اس سے توبہ کرنا چاہئے۔ 
 جیو ٹی وی کا یہ عمل سراسر غلط‘ ناجائز‘ لائقِ صد نفرت اور گستاخانہ ہے‘ ہمیں  اس توہینِ رسالت کی سازش کے خلاف بھرپور احتجاج کرنا چاہیے۔

احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے کچھ نمبر :
 جیو گروپ سے ا حتجاج    اس نمبر اور میل پر ریکارڈ کرائیں
111-436-111 
feedback@aag.tv
feedback@geo.tv

پی ٹی اے کو کمپلینٹ کریں
0800-55055
complaint@pta.gov.pk

 باوجود تنبیہ کے بھی اگر یہ ٹی وی چینل  اس بدترین کردار سے باز نہ آئے‘ تو اُسے اس حرکت سے باز رکھنے یا سبق سکھانے کے لئے‘ احتجاجا اس کا بائیکاٹ کیا جائے‘ کیونکہ آخری درجہ میں ہم اتنا ہی کرسکتے ہیں۔ 

مکمل تحریر >>

پیر، 1 اگست، 2011

خصائص ماہ رمضان اور اس کی تین قیمتی ترین گھڑیاں

الله تعالی کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے مخلوق میں سے بعض کوبعض پرفضیلت دی ہے ، اسی طرح الله تعالی نے بعض اوقات ومقامات کوبعض پرفضیلت ومرتبہ دیا ، اوراوقات وزمانہ میں  ماہ رمضان کودیگرمہینوں پرفضیلت دی ، پس  رمضان بمنزلہ چاند ہے ستاروں کے درمیان ۔یہ  مہینہ شهرالعبادات والخیرات ہے ، ایسا مہینہ جس میں لیلۃ القدر کی عظیم رات ہے ، سیئات ومعاصی سے غسل کا مہینہ ، گناهوں کوحسنات میں بدلنے کا مہینہ ، رحمت وغفران کا مہینہ، جہنم سے آزادی کا مہینہ ، جنت کے حصول کا مہینہ ، بے شمار فضائل وبرکات ورحمات کا مہینہ ،حسنات جمع کرنے کی ایک عظیم ترین فرصت اورغنیمت کبری ہے ۔

.     رمضان ارکان اسلام میں سے اہم رکن ہے ، جس بغیرآدمی کا ایمان واسلام پورا نہیں ہوتا ، لہذا اس کی فرضیت کا منکردائره اسلام سے خارج ہے ، اوربلاعذر تارک سخت ترین گناهگار ہے ۔
قال تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
 [البقرة:۱۸۳] 
وقال عليه الصلاة والسلام بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وحج البيت الحرام
 [متفق عليه]. 

2. رمضان میں جنت کے دروازے کهول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے  ہیں۔
إذا دخل رمضان فتحت أبواب السماء، وغلقت أبواب جهنم، وسلسلت الشياطين ، 
وفي رواية: إذا جاء رمضان فتحت أبواب الجنة
 [البخاري]

3. رمضان میں جس نے کسی روزه دار کوافطارکرایا تواس کوبهی روزه دار جتنا اجرملتا ہے 
من فطر صائماً فله مثل أجره من غير أن ينقص من أجر الصائم شيء 
[حسن صحيح رواه الترمذي وغيره]

4.  رمضان میں ليلة القدر کی عظیم رات بهی ہے جو ہزار مہینوں سے بہترہے جواس کےاجروثواب سے محروم ره گیا وه خير كثيرسے محروم ره گیا ۔

فيه ليلة خير من ألف شهر، من حرم خيرها فقد حرم
[أحمد والنسائي وهو صحيح]


 اور جس نے ایمان اورثواب کی نیت سے اس رات میں عبادت کی تواس کے اگلے پچهلے سب گناه معاف ہوجائیں گے ۔ 
 من قام ليلة القدر إيماناً واحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه 
 [متفق عليه]

5. رمضان میں فرشتوں کا بکثرت نزول ہوتا ہے  اور خصوصا ليلۃ القدر کی عظیم رات میں۔ 
 قال تعالى: تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا
[القدر:۴]

6. رمضان میں سحری ایک عظیم برکت والا عمل ہے ۔
وقال عليه الصلاة والسلام: تسحروا فإن في السحور بركة 
 [متفق عليه]

7. رمضان میں غزوة بدر اور  مکہ فتح  ہوا ان میں الله تعالی نے اپنے رسول عليه الصلاة والسلام کی نصرت کی اورلوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہوئے ، اور مكہ مكرمہ دار اسلام بنا اوراس کے بعد ہرجگہ فتوحات الإسلاميہ کا دور شروع ہوا۔

8. رمضان میں عمره کا ثواب  حج کرنے کے برابرہوجاتا ہے ۔
ففي الصحيحين قال عليه الصلاة والسلام
[ عمرة في رمضان تعدل حجة  أو قال حجة معي]

9. رمضان معاصی وگناهوں کا کفاره ہے ۔
 الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان الى رمضان مكفرات لما بينهن إذا اجتنبت الكبائر
 [مسلم]

10. رمضان میں فرشتے مومنین صائمين کے لیئے مغفرت کی دعا کرتے ہں ۔
 وتستغفر لهم الملائكة حتى يفطروا
 [رواه الإمام أحمد ]

11.  رمضان ذكر ودعاء کا مہینہ ہے ۔ الله تعالی نے آيات الصيام کے بعد فرمایا 
 وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
 [البقرة، الآية: ۱۸۶]
جس میں دلالت ہے کہ صيام ودعاء کے مابین خصوصی ربط وتعلق ہے ۔

12. رمضان میں صدقہ کی فضیلت بہ نسبت دیگرایام کے بڑھ جاتی ہے ۔
 عن النبي ، صلى الله عليه وسلم ، سئل أي الصدقة أفضل ؟ قال صدقة في رمضان وثبت في 
[الترمذي]

13. رمضان شهر القرآن ہے 
شَهْرُ رمضان الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ
 [البقرة، الآية: ۱۸۵]

14. صائمین مخلصین کے لیئے جنت کا خصوصی دروازه تیارکیا گیا هے جس کو باب الريان کہتے ہیں۔ 
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( من كان من أهل الصيام دعي من باب الريان)

15. رمضان میں سرکش شیاطین کوقید کرلیاجاتا ہے ۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( إذا دخل رمضان فتحت أبواب الجنة وغلقت أبواب النار وسلسلت الشياطين ) 
[متفق عليه]

16. رمضان کا أول حصہ رحمہ اورأوسط مغفرة اورآخری عشره جہنم سے آزادی کا ہے ۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار.)
 [رواه ابن خزيمة في صحيحه وقال صحيح ورواه البيهقي وابن حبان] .

17. رمضان دعاوں کی قبولیت کا مہینہ ہے ۔
و فى الحديث الصحيح عنه عليه الصلاة والسلام انه قال لكل مسلم دعوة مستجابة يدعوا بها فى رمضان )...
 [رواه الأمام أحمد بسند صحيح] 

18.  رمضان کے تمام لمحات دعاوں کی قبولیت کا وقت هے لیکن خصوصی طور پر افطارسے تهوڑا پہلے قبولیت دعا کا خصوصی وقت ہے ۔
حيث قال صلى الله عليه وسلم ثلاثة لا ترد دعوتهم الإمام العادل ، والصائم حتى يفطر ودعوة المظلوم يرفعها الله فوق الغمام وتفتح لها أبواب السماء ويقول الرب وعزتي وجلالي لأنصر نكى ولو بعد حين ).يقول النبى صلى الله عليه وسلم كما
 [فى حديث ابن ماجه بسند صحيح] 


19. رمضان بکثرت قراءة القرآنِ کا مہینہ ہے ۔
كان جبريلُ يُعارضُ النبيَّ صلى الله عليه وسلّم القُرْآنَ في رمضان كلَّ سنةٍ مرّةً. فَلَمَّا كان العامُ الَّذي تُوُفِّي فيه عارضَه مرَّتين تأكيداً وتثبيتاً


رمضان المبارک میں تین قیمتی ترین ساعات

یقینا رمضان کا ہرلمحہ انتہائ برکات وفضائل کا حامل ہے لیکن کچھ لمحات کوان میں سے خصوصی ومزید فضیلت حاصل ہے۔ ان لمحات کی روحانیت ونورانیت مزید بڑھ جاتی ہے لہذا یہ لمحات ضائع نہیں ہونے چائیے۔

1. سحری کا وقت 
سحری کا وقت فجر سے تهوڑا پہلے کا وقت ہے ، اللہ نے قرآن میں اس وقت کی فضیلت بیان کی ہے۔
 قال تعالى ( والمستغفرين بالأسحار ).
اور وه لوگ جوسحری کے وقت استغفارکرتے ہیں ۔

ایک مومن روزه دار کو ضروری ہے کہ اس قیمتی ترین وقت کو کثرت استغفار ودعا میں صرف کرے یہاں تک فجرکی اذان ہوجائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہوتو کم ازکم تہجد کا اہتمام کرلیا جائے جو رمضان میں پڑھنا ویسے بھی بہت آسان ہوجاتا، سحری کے لیے تو اٹھنا ہوتا ہی ہے، بندہ دس منٹ پہلے اٹھ جائے اور آرام سے تہجد پڑھ لے۔ الله تعالی نے انہی قیمتی لمحات کوتسحیٹ وتحليل میں صرف کرنے کی تاکید کی ہے ۔
 وقال تعالى :  وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها ومن آناء الليل فسبح وأطراف النهار لعلك ترضى۔
وقال تعالى :  وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها ومن الليل فسبحه وأدبار السجود۔

حضرت حسن بصری رحمہ الله کا ارشاد ہے ۔
دنیا صرف تین دن ہیں۔ ایک توکل گذشتہ کا دن وه توگذر گیا ہے ، ایک آنے والا دن ہے شاید کہ تواس کونہ پاسکے ، ایک آج کا دن ہے پس یہی تیرا دن ہے اسی میں عمل کرو ۔


2. دن کا ابتدائی وقت یعنی صلاة الفجر کے بعد کا وقت

 الإمام النووي رحمه الله اپنی ( كتاب الأذكار ) میں فرماتے ہیں
 اعلم أن أشرف أوقات الذكر في النهار الذكر بعد صلاة الصبح۔
 خوب جان لوکہ دن میں ذکرکے بہترین اوقات میں سے سب سے بہتروقت صبح کی نمازکے بعد کا وقت ہے۔ 
وأخرج الترمذي عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (من صلى الفجر في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ثم صلى ركعتين كانت له كآجر حجة وعمرة تامة تامة تامة [رواه الترمذي وقال حديث حسن ]

اور الإمام الترمذي رحہر الله نے حضرت أنس رضي الله عنہ سے روایت نقل کی کہ حضور صلى الله عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے فجرکی نماز باجماعت پڑھی ، پهربیھذ کرطلوع شمس تک الله کا ذکرکرتا رہا ، پهردو رکعت نمازپڑهی ، تواس ایک کوکامل حج وعمره کا اجروثواب ملے گا ۔ یہ کلمہ حدیث میں تین مرتبہ فرمایا (تامة تامة تامة )

 حضور صلى الله عليه وسلم صبح کی نمازکے بعد اپنی نمازکی جگہ پربیٹهے رہتے یہاں تک کہ سورج خوب طلوع ہوجائے ۔فقاوء نے یہ تصریح کی ہے کہ اس ساعت کوذكر الله کے ساتھ مُزین کیا جائے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے ۔ 
ایک  اورحدیث میں ہے ۔
اللهم بارك لأمتي في بكورها
اے الله میری امت کو اس کے پہلے پہرمیں برکت عطا فرما ۔

صبح کی نمازکے بعد نیند مکروه ہے کیونکہ اس وقت میں رزق تقسیم کیا جاتا ہے ۔ یہ خامی ہم میں  سے اکثر  مسلمانوں میں پائی جاتی ہے کہ یا تو وہ صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھتے ہی نہیں ، سحری کھا کر نماز گھر میں ہی پڑھ کر سوجاتے ہیں یا نماز پڑھ کر آکر فورا سوجاتے ہیں۔ اس وقت میں نیند مناسب نہیں ، بلکہ ذكر ودعاء ( وغیره اعمال صالحہ ) سے اس وقت کومشغول کرنا چائیے ، اور خاص کر رمضان میں تو اجر وثواب بھی دوگنا ہوجاتا ہے ۔

3. دن کا آخری وقت یعنی غروب سے پہلے کا وقت 

حدیث میں اس وقت میں دعا کی قبولیت کی بشارت وارد ہوئی ہے ۔لہذا افطارسے پہلے کا یہ وقت ذکرودعا میں صرف کرنا چائیے اور پورے رمضان میں بمع اہل وعیال اس وقت میں دعا کوایک خاص وظیفہ کے طورپرکرنا چائیے ، اورسلف صالحین بهی اس قیمتی وقت کوانتہائی اہتمام کے ساتھ ذکرودعا میں مشغول کرتے تهے ۔

( ثلاث مستجابات :دعوة الصائم ،ودعوة المظلوم ، ودعوة المسافر ) [رواه الترمذي ]

مکمل تحریر >>

ہفتہ، 30 جولائی، 2011

خواب میں زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ

ایک بلاگر نے ایک مجہول بندے کی کتاب کے کچھ سکین پیج  اپنے بلاگ پر لگائے ’جن میں اس جاہل و کذاب مصنف  نے خواب میں زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جید علمائے کرام پر تبرا کیا تھا’ بلاگر نے  ہمارے  تبصرہ کے جواب میں لکھا کہ 

عنیقہ ناز said...
بنیاد پرست صاحب، میرا بھی یہی سوال ہے کہ آپکو کیسسے پتہ چلا کہ کتاب کے مصنف کھسرے ہیں۔ یہ مہارت کافی لوگ حاصل کرنا چاہیں گے کہ تحریر پڑھ کر انسان کے کھسرے ہونے کا اندازہ لگا سکیں۔
میں نے اپنی منافقت کا پردہ چاک کرنے کے لئے آپکا تبصرہ ڈال دیا ہے۔ دیکھ لیں یہ حوصلہ بھی کسی کسی میں ہوتا ہے۔
 
آپ نے شاہ ولی اللہ کے بارے میں میری رائے کا تذکرہ کیا ہے۔ یہاں اس بات کا دوہرانا معقول معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئ انسان مکمل نہیں۔ معصوم تو انبیاء کی ذات ہوتی ہے ان سے بھی ہمارے بعض علماء ظلطیاں منسوب کر چکے ہیں۔ شاہ ولی اللہ ایک انسان ہی تھے۔ ماورائے انسان نہیں۔ ظلطی ان سے بھی ہو سکتی ہے یا نہیں۔
یہ بھی بالکل ضروری نہیں کہ اگر کسی انسان کی ایک خوبی کو بیان کیا جائے تو اسکی ایسی کوئ بات نہ کی جائے جس سے اسکی کوئ کمزوری سامنے آتی ہو۔ اسے شخصیت پرستی کہتے ہیں۔ شخصیت پرستی بت پرستی سے کم نہیں۔ 
 
کتاب کے مندرجات میں یہ پوچھا گیا ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ صحابہ ء کرام میں سے تو کسی کے خواب میں بعد از زندگی نہیں آئے لیکن یہاں ہر شخص جو ذرا دینداری قائم کرتا ہے اس کا دعوی کرتا نظر آتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ بھی پوچھنا چاہونگی کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خواب میں زیارت رسول کا دعوی کس نے کیا اور یہ کس عہد کی بات ہے؟

میں نے انکے جواب میں لکھنا شروع کیا ، لیکن  بات لمبی ہوجانے کی وجہ سےاسے  اپنے فورم پر ہی پوسٹ کررہا ہوں۔

میں نے اس بندے کے لیے کھسرے کا لفظ طنزا استعمال کیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح آپ نے طنزا میرے سے پوچھا ۔ اس سے حقیقی کھسرا مراد نہیں تھا ۔ میرا مطلب یہی تھا کہ  یہ لوگ بجائے اسکے کہ کوئی اصلاحی بات کریں’  باتوں کو توڑ موڑ کر  عوام کو گمراہ کرتےرہتے  اور فضول باتیں پکڑ کر کھسروں کی طرح  ناچتے رہتے ہیں۔ ویسے کھسروں پر آپ سے ذیادہ  تحقیق کس  کی  ہوگی ، آپ تو  باقاعدہ ان پر مضمون "ایبنارمل تفریح اور ایبنارمل مذاق" لکھ چکیں ہیں۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ 

  آپ نے شاہ ولی اللہ کا نام ایسے لیا ہے جیسے لوگ اپنے کسی ہمجولی اورساتھی کو مخاطب کرتے ہیں ۔اگرنام کے ساتھ حضرت اوررحمتہ اللہ علیہ لگادیں تواس سے آپ کا  کچھ نہ بگڑے گااورنہ یہ شخصیت پرستی  کے زمرہ میں آتا ہے بلکہ یہ حقدارکو اس کاحق دیناہے۔
یہ بات حقیقت ہے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدس سرہ، سرزمین ہند کے ان اکابر میں سے ہیں جن کی نظیر نہ اپنے زمانے میں یا  ہندوستان میں، بلکہ بہت سے قرون اور ممالکِ اسلامیہ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ حضرت موصوف کیا تھے؟ خدائے تعالیٰ کی ایک حجت قاطعہ تھی جو بارہویں صدی میں ہندوستان میں ظاہر ہوئی۔
حضرت شاہ صاحب کی زندگی اور علمی و عملی کمالات کے اتنے گوشے ہیں کہ ہرایک مستقل تصنیف کا محتاج ہے۔ مثلاً حضرت کی تصنیف و تالیف، ترجمہ قرآن کی بنیاد، نصابِ حدیث کی تاسیس، درس کی اصلاح، اسرارِ شریعت کی دل نشین اور موثر تشریح، کلام، تصوف، فلسفہ، اخلاق اور نظام حکومت میں ان کے خاص خاص قابل قدر نظریات، اصول تفسیر و اصول حدیث میں خاص خاص تحقیقات ،جہاد کا جوش، حکومت اسلامیہ کی خلافت راشدہ کے اصولوں پر تشکیل و تاسیس، ظاہری و باطنی علو م کا حیرت انگیز اجتماع وغیرہ وغیرہ اتنے کمالات و خصائص ہیں جو اہلِ نظر و فکر کے لئے اور اہلِ دل و اہلِ ذوق اربابِ قلم کے لئے تحقیق و تدقیق  کا ایک میدان ہیں۔ 
 افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ایک   جاہل مجہو ل شخص ،جسکے علمی اور عملی شجرہ نصب کو آپ خود بھی نہیں جانتیں ، نہ آپ  نے یہ  تحقیق کی کہ کیا  یہ بندہ اس قابل بھی ہے کہ اتنے بڑے علمائے زمانہ  پر تنقید کررہا ہے، چلیں  آپ نے اگر  اسکی علمی حیثیت کے متعلق تحقیق   نہیں کی تو  کیا کم از کم  کسی عالم سے ہی پوچھ لیتیں  کہ جوا س نے لکھا ہے اسکے متعلق صحابہ،   فقہا، آئمہ  بزرگان دین کی کیا رائے ہے ؟ یا خود ہی دیکھ لیتیں کہ کیا اس نے  اپنے موقف پر قرآ ن وحدیث سے بھی کوئی دلیل پیش   کی ہے ؟  اس بندے کا علمی کمال تو  صرف یہ ہے کہ اس نے مختلف علما کی کتابوں میں سے واقعات آگے پیچھے سے کاٹ کرمنافقانہ انداز میں  پیش کرتے ہوئے صرف لفاظی کی ہے اور آپ نے اسکی تحریر وحی الہی مان لیا، اور اس کے مقابلے میں ایک ایسی  نابغہ روزگار ہستی ہے جس کے علم و حکمت، تقوی و اخلاص  پر امت کی کثیر تعداد کا اجماع ہے  ’ کے  دفاع کو شخصیت پرستی کہنا  شروع کردیا۔ 
ایک بات یاد رکھیں دین کے معاملے میں‘ کلمواالناس علی قدرعقولھم ’کی رعائت بہت ضروری ہےاور کی جاتی ہے۔ انسان کو انہی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے جن کو سمجھنے کی اس کے اندر صلاحیت ہو ۔ ورنہ گمراہی کا خطرہ ہے کیونکہ قاعدہ ہے‘ الناس أعداء ما جهلو’۔  لوگ جس چیز سے جاہل  ہوں اس کے دشمن بن جانتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ الله نے صحیح بخاری (کتاب العلم ) میں ایک  باب قائم کیا هے۔(باب من خص بالعلم قوما دون قوم كراهية أن لا يفهموا)یعنی جس نے بعض قوم کوعلم کے ساتهہ خاص کیا اوربعض کواس ڈرسے نہیں پڑهایا کہ وه اس کو نہیں سمجهیں گے ۔یہی مسئلہ آپ کے ساتھ بھی پیش آیا اور آپ کے اس پسندیدہ رائٹر کے ساتھ بھی ۔اس  کی  اور آپ کی ناقص عقل میں جو بات نہیں آسکی ، آپ  نے بجائے علم والوں کی طرف رجوع کرنے کے’  اس پر فتوے لگانے شروع کردیے۔ محترمہ کسی ایسی شخصیت پر جس کے علم وفضل پرامت کے ایک بڑے طبقے نے اعتماد  کیاہو،اس کے متعلق کسی شخص کا  جلد بدگمانی میں مبتلاہونا صرف اس بات کا ثبوت ہوتاہے کہ وہ شخص اعجاب رائے میں مبتلاہے ۔  

اس موضوع پر ہمارے دوست بلاگر انکل ٹام نے بھی ایک جگہ  اچھا  لکھا ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ اس طرف زور لگانے پر تُلا ہوا ہے کہ اسلام ہماری مرضی کے مطابق ہو ، یعنی انکو اللہ کے بناے ہوے پر عمل نہ کرنا پڑے بلکہ جو انکا عمل ہو اسکو اسلام کا نام دے دیا جائے ۔ وہ ہر جگہ اپنی عقل سے دین کو پرکھتے اور علما پر طعن کرتے نظر آتے ہیں ، ان لوگوں کا حال  بلکل ایسے ہی جیسے ایک موچی کسی ٹاپ سرجن پر اعتراض کردے کہ آپ ٹانکے صحیح نہیں لگاتے، میں جوتوں کو دس سال سے سی رہا ہوں مجھے زیادہ تجربہ ہے۔ لہذا مریض کو ٹانکے لگانے کے معاملے میں آپ سے بہتر میں جانوں گا ۔ تو اس موچی کو سکیورٹی والے لاتیں مار کر باہر نکال دیں گے کہ صاحب آپ موچی ہیں یہ بات آپ کسی موچی سے جا کر کر سکتے ہیں سرجن پر اعتراض سرجن ہی کرے گا ۔ بلکل اسی طرح چاہے آپ نے لینکس یا ونڈوز کے اردو ترجمے کر دیے یا پھر کیمیسٹری یا بیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی ، آپ کی مہارت اسی فن میں ہے   لہذا آپ اپنی چولیاں اسی فن میں ماریں ، اس فن کے ماہر موجود ہیں ، اگر اس فن میں کوی غلطی پر ہے تو اسکو ٹوکنے کا حق بھی اسی فن کے ماہر کو ہے ۔ دین کے معاملے میں اعتراض کرنے کا حق صرف ان کو ہے جو اسکا علم رکھتے ہیں، جس کو قرآن کی ایک آیت دیکھ کر بھی پڑھنی نہ آتی ہواس سے قرآن کی تفسیر  پڑھنی شروع کردی جائے گا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔

 خواب میں زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

 خواب میں   آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا حق  ہے ، صحیح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
          “من راٰنی فی المنام فقد راٰنی، فان الشیطان لا یتمثل فی صورتی۔ متفق علیہ۔
          ترجمہ:… “جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے سچ مچ مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا۔”(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

          اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو لوگ خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے منکر ہیں، وہ اس حدیث شریف سے ناواقف ہیں۔ خواب میں زیارتِ شریفہ کے واقعات خیرالقرون سے  اس قدر بے شمار ہیں کہ اس کا انکار ممکن نہیں۔تاریخ کی کتابوں میں حضرت بلال رضی اللہ علیہ کا ایک مشہور واقعہ تفصیل کے ساتھ  مذکور ہے۔  جس میں حضرت  بلال رضی اللہ عنہ کا  حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد شام ہجرت کر جانا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں آکر  شکوہ فرماتے ہوئے کہنا"ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟ (’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘) اس پر پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا مدینہ آنا اور حسنین رضوان اللہ کی فرمائش پر اذان دینے کا واقعہ مشہو ر ہے۔( السيرة الحلبيه، 2 : 308)
اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا انکو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ  دیکھنا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نویں محرم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا وغیرہ اور بھی  کئی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات موجود ہیں، حضرت عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کشف المعجوب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے کا اپنا واقعہ لکھا ہے۔ مطلب خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا ہونا کوئی عجیب بات نہیں۔ اسلاف سے ثابت ہے۔

بعض جہلا اس بارے یہ وسوسہ پھیلاتے ہیں کہ خواب دیکھنے والے نے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بیداری میں نہیں کی تواس کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس کو خواب آتی ہے اسے  خواب ہی میں قدرتی طور پر اس کا علم ضروری حاصل ہوجاتا ہے اور اسی علم پر مدار ہے، اس کے سوا کوئی ذریعہ علم نہیں،الا یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ٹھیک اسی شکل و شمائل میں ہو جو وصال سے قبل حیاتِ طیبہ  میں تھی، اور اس سے خواب کی تصدیق ہوجائے۔

 یہ بات حق ہے  کہ خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بڑی برکت و سعادت کی بات ہے، لیکن یہ دیکھنے والے کی عنداللہ مقبولیت و محبوبیت کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس کا مدار بیداری میں اتباعِ سنت پر ہے۔ بالفرض ایک شخص کو روزانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہو، لیکن وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا تارک ہو اور وہ فسق و فجور میں مبتلا ہو تو ایسا شخص مردود ہے۔ اور ایک شخص نہایت نیک اور صالح متبع سنت ہے، مگر اسے کبھی زیارت نہیں ہوئی، وہ عنداللہ مقبول ہے۔ خواب تو خواب ہے، بیداری میں جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی دولت سے محروم رہے وہ مردود ہوئے، اور اس زمانے میں بھی جن حضرات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں ہوئی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نصیب ہوئی وہ مقبول ہوئے۔

یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ  کا مصنف جس کی تحریر کو لے کر آپ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا رد کرگئیں ’  بالکل ایک جاہل و اجہل شخص  ہے، اس لیے اس نے قرآن وحدیث سے اپنے موقف کے حق میں کوئی شرعی دلیل دینے کے بجائے محض لفاظی کی ہے۔ اگر آپ اب بھی اس کے موقف کو حق سمجھتیں ہیں تو آپ اسکے  موقف  کے حق میں  قرآن وحدیث ، صحابہ رضوان اللہ ، آئمہ کی زندگی میں سے کوئی دلیل لے آئیں یا میری پیش کی گئی دلیلوں کا شرعیت کی روشنی میں رد فرما دیں۔
اللہ ہمیں نفس پرستی کے بجائے حق پرستی عطا فرمادے۔

مکمل تحریر >>

منگل، 26 جولائی، 2011

مغربی دو رخی اور ہمارے سادہ لوح لوگ


کیا مغربی ممالک اخلاقیات کے اعلی درجے پر فائز ہیں؟
کیا مغرب واقعی  انسانوں کی قدر کرنا سکھاتا ہے ؟
کیا  مغرب  کا مذہب  مساوات و انصاف پسندی  ہے؟
کیا یورپ امریکہ واقعی مسلمان ممالک سے ذیادہ حوصلہ و برداشت رکھتے ہیں ؟

ہمارے ہاں یہ بیماری  عام ہے کہ کوئی شخص کسی مغربی ملک میں چند دن رہ کر آجاتا ہے یا کسی سے  وہاں کی حکومتوں کی اپنے لوگوں کو دی گئی سہولتوں  کے تذکرے سن لیتا ہے تو  پھر ہر جگہ  اپنے معاشرے اور مسلمانوں پر لعنت بھیجتا  اور یورپ و امریکہ  کے نظام  کے  گن گاتا نظرآتا ہے۔حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ یورپ اورامریکہ میں میسر وہ سہولتیں جن کو دیکھ کہ ہمارے لوگ اپنے  ملک ومعاشرے کو   گالی دیتے ہیں  صرف   مغرب کے  اپنے  لوگوں کے لیے ہیں یا وہ جو ان جیسا ہوکر رہنا چاہے ۔ مبصرین اس بات کے قائل ہیں  کہ یورپی حکومتیں اب ان خطوط پر سوچ رہی ہیں کہ یا تو مسلمان ہمارے ملکوں میں رہتے ہوئے ہمارے رسم و رواج اور طرز زندگی کے مطابق زندگي گزاریں یا پھر اپنا کوئی اور بند و بست کرلیں ۔افسوس کا مقام ہے کہ مغرب کے منہ سے آج بھی خون مسلم ٹپک رہا ہے اور اس کے ہاتھوں سےآج بھی ایک ایک دن میں ہزاروں مسلمان جل بھن کر راکھ بن جاتے ہیں لیکن پھر ہمارے دانشور  انہیں اعلی اخلاقیات کا مالک،  انصاف پسند، انسانوں کی قدر کرنے والا کہتے ہیں ۔

میں مغر ب کے اصلی چہرے کو بے نقاب کرتے  ہوئے اس کے چند  اعمال  کا تذکرہ کرنااور اپنے ان مغربی احساس کمتری کا شکار دوستوں کو دعوت فکر دینا چاہتا ہوں ۔

مغرب کا سب سے بڑا ہتھیار :
مغرب کا اس وقت سب سے بڑا ہتھیار اس کا ذرائع ابلاغ ہے۔ مغربی میڈیا  اس وقت اسلام اور مسلمانوں کےخلاف جنگ میں اسلام مخالف لشکر کے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے اور مسلمانوں کے بارے میں اس کا متعصبانہ رویہ اور مکروہ چہرہ کھل کر سامنے آچکا ہے۔  انکے نيشنل چينل پر نشر ہونے والي ، اسلام اور مسلمانوں كے متعلق ۸۵ فيصد خبريں مسلمانوں كے خلاف ہوتي ہيں اور منفي ہوتي ہيں۔فلسطين و عراق ميں ناجائز قبضہ ، وحشيانہ حملوں اور مسلمانوں كے اپني سر زمين كے حق دفاع سے چشم پوشي كرتے ہوئے ، دشمنوں كے مقابل مسلمانوں كي طرف سے ہونے والي مزاحمت كے مناظر كو دہشت گردی كے عنوان سے نشر كيا جاتا ہے۔ مغرب میں اسلام کے متعلق انگریزی مقولہ”کتے کو مارنے سے پہلے اسے پاگل مشہور کردو“  پرعمل ہورہا ہے   اور مغربی ممالک ایک ”گینگ“ کی صورت میں اپنے اپنے حصہ کا رول ادا کررہے ہیں اور ”سردار“ ان کو حرکت میں رکھ رہا ہے۔

 مغرب کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی تاریخ :
یہ مغربی میڈیا کے اس پراپیگنڈے کا ہی اثر ہے  کہ  ہمارے مسلمان انہیں  مغرب کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے، انہیں انسانیت دوست ، روشن خیال اور اعتدال پسند کہتے ہیں۔کوئی ان سے پوچھے کہ انسانی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرنے والے کون تھے ؟وہ کون لوگ تھے جنہوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران ہیروشیما اور ناگاساکی پرایٹم بم گرا کر آن واحد میں۶ لاکھ بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ،
کوئی پوچھے ان نام نہاد روشن خیالوں سے کہ آخر ان لوگوں کا جرم کیا تھا، جنہیں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد توپ کے دھانوں پر باندھ کر ہوا میں تحلیل کر دیا گیا ،خود انگریز موٴرخ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دہلی کے مضافات میں کوئی درخت ایسا نہیں تھا جہاں کسی مسلمان عالم دین کی لاش نہ لٹکی ہو ،یہی نہیں بلکہ ان مسلمانوں کو ابلتے ہوئے تیل میں ڈال کر کوئلہ بنادیا گیا ،ان کوسوٴروں کی کھال میں بند کر کے ان پر کتے چھوڑ دئیے گئے ۔تحریک ریشمی رومال کے دوران مسلمانوں کو کالے پانی اور جزیرہٴ انڈمان میں قید کرکے طرح طرح کی اذیتیں دینے والے کون لو گ تھے؟ 
چلئے زیادہ دور نہ جائیے عصر قریب میں بوسنیا کے اندر سرب عیسائیوں نے مسلمانو ں کا جو قتل عام کیا جس کے نتیجے میں ایک مختصر سی مدت میں ۱۴، لاکھ مسلما ن موت کی نیند سلا دئیے گئے۔ 1982ء میں اسرائیل کے لبنا ن پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں 17500بے گناہ شہری شہید ہوگئے ،
  30 سال سے جنگ سے نبرد آزما افغانستان کے بھوکے اور ننگے افغان شہریوں کو ”دہشت گرد“ قرار دے کر ان پر حملہ کردیا گیا اور ٹنوں وزنی ڈیزی کٹر بموں سے ان کا بھرکس نکال دیا ، ابھی امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ممالک کی اسلام دشمنی کی آگ ماند نہیں پڑی تھی کہ عراق پر حملہ کردیا اور ہنستے بستے ملک کو تہس نہس کردیا۔ امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ممالک نے انسانوں سے آباد شہروں کابل، قندھار، بغداد، فلوجہ، کربلا اور نجف اشرف کو قبرستان میں بدل دیا ۔ 

فلسطین پر اسرائیل عرصہ درازسے اپنی جارحیت مسلط کیے ہوئے ہے اس دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کو کسی نے ”یہودی دہشت گردی“ کا نام نہیں دیا حالانکہ پوری دنیا میں اسرائیلی جارحیت مسلّم ہے اور اس ملک کی وجہ سے پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہے۔ مگر اس کے باوجود امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اسرائیل کے محافظ ہیں اور اس کی دہشت گردی میں برابر کے شریک ہیں۔ ۵/جون ۲۰۰۸ء اخبارات میں  ایک خبر چھپی‘ اس کا خلاصہ ہے:
”امریکی صدارتی امیدوار بارک اوبامانے کہا ہے کہ دہشت گرد گروپ اسرائیل کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاہم وہ اسرائیل کے سچے دوست ہیں اور اسرائیل کو در پیش خطروں کو امریکا کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں ․․․․“

قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ․․
دشمنی ان کی زبان سے نکلی پڑتی ہے اور جو کچھ مخفی ہے ان کے جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔“

مغرب کے قوانین اخلاقیات، مساوات و رواداری

مغرب نے ہمیشہ سے اسلام، پیغمبر ِ اسلام اور مسلمانوں کو اپنا حریف اور دشمن جانا اور سمجھا ہے۔ اسلام، پیغمبر اسلام، شعائر اسلام، مسلمان اور ان کی مقدس ترین شخصیات کی توہین، تنقیص، تحقیر اور تذلیل کرنے والا کوئی ملعون ومردود ہو، وہ ان کا حلیف و دوست، ان کی مدد و نصرت کا حق دار اور حقوق انسانی و آزادی کا مستحق ہے۔ دنیا بھر کے یہودی اور عیسائی کم از کم اس ایک نکتے پر متفق و متحد نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی لعین، سلمان رشدی ملعون، تسلیمہ نسرین مردود اور مرتد عبدالرحمن تک ہر ایک پر انہوں نے اپنی نوازشات کی بارش کی ہے۔
سیاسی طور پر دیکھیں تو ہر ملک کے انتہائی کرپٹ حکمرانوں کو انہیں وواصلاح پسندوں“ کے در پر جائے امان ملتی ہے ،تمام مسلم دنیا کے کرپٹ حکمراں اور سیاست داں یہیں پناہ گزیں ہیں۔ سلمان رشدی اور فتنہٴ امامت خواتین کی بانی اسریٰ نعمانی اور مغرب کے ایجنٹ لندن سے ہی کارو بار قتل وخون چلا رہے ہیں، ایک طرف تو یہ مغربی شاطر مسلم دنیا کی غریبی اور ابتر حالت پر گھڑیالی آنسو بہاتے ہیں ،دوسری جانب جو لٹیرے اس ابتر صورت حال کے لئے ذمہ دار ہیں انہیں اپنے گھروں میں امان دیتے ہیں ،ان کی لوٹی ہوئی دولت کو اپنے یہاں بینکوں میں جمع کرکے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، صومالیہ کی مثال بالکل تازہ ہے، جہاں پڑوسی عیسائی ملک کی فوج کو اپنے ایمان فروش ایجنٹوں کے ساتھ صومالیہ پر قبضہ کرادیا اور وہاں کشت وخون جاری ہے ،مغرب کا اسلحہ بھی فروخت ہورہا ہے اور مسلمان آپسی انتشار میں بھی مبتلا ہیں۔
کہیں پیغمبر اسلام (ص) کے توہین آمیز خاکے شائع جاتے ہیں  تو کبھی آزادی کے نام پر  توہین آمیز خاکےچھپوا کر سوا ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا  جاتا ہے پھر اسی اپنی اسی نام نہاد  آزادی کو خود ہی  کچلتے ہوئے سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کی  اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے پر پابندی لگادی جاتی ہے، کہیں پردہ کرنے کی بنا پر بچیوں کو اسکولوں سے اور خواتین کو نوکریوں سے نکال دیا جاتا ہے اور کہیں اسلام کے مینارے کھٹک رہے ہیں ۔ جرمنی کے شہر ڈریسڈن کی عدالت میں جج اور پولیس اہلکاروں کے سامنے ایک باپردہ مسلمان مصری خاتون مروہ الشربینی کو قتل کردیا جاتا ہے۔  پوپ بینی ڈکٹ شانِ رسالت کی توہین کرکے صہیونیوں سے تھپکیاں وصول کرتا ہے
جن باتوں یعنی قدامت پرستی، بنیاد پرستی، عدم رواداری وغیرہ پر عالم اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے، وہی تمام خصوصیات یورپ، امریکا اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ لڑنے والے ہر ملک میں بڑھائی جارہی ہیں۔آزادی اظہار رائے کے دعویدارکومسلمانوں کی توہین و تنقیص‘ ان کے دین و مذہب اوران کے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے وقت تو آزادی اظہار رائے کا شدت سے احساس و خیال آتا ہے‘ لیکن یہ احساس‘ خیال اور جنون”ہولو کاسٹ“ کے قانون کے خلاف زبان کھولنے اور لکھنے کی جرأت کیوں نہیں دیتا‘ وہاں انکے آزادی اظہار رائے کے جذبہ کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟” مغربی ممالک میں مسلمانوں کی اذان پر پابندی، مساجد کے میناروں پر پابندی، مسلمان خواتین کے حجاب پر پابندی، کیا یہ پابندیاں مذہبی آزادی اور رواداری کا ثبوت ہیں یا تنگ نظری اور تعصب پر مبنی اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ؟

خلاصہ یہ کہ
اس وقت مغربی اقوام کی اولین ترجیح دولت کو ہرممکنہ ذرائع سے حاصل کرنا‘ اسے اپنی نفسانی خواہشات پر خرچ کرنا اور اس کے لئے دوسری اقوام کے مادی وسائل پر قبضہ کرنا ہی رہ گیا تھا‘ تاکہ اپنے عیش وعشرت کا گراف مزید بلند کیا جاسکے جو آج تک جاری ہے‘ وہ پرندوں کی طرح تیز رفتاری سے اڑنا‘ سمندر کی گہرائیوں میں مچھلی کی طرح تیرنا تو سیکھ چکے تھے مگر زمین پر انسانوں کی طرح چلنا بھول گئے تھے‘ دوسری قوموں پر ڈر‘ خوف اور نفرت بٹھانے‘ ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کے لئے پوری عقل‘ قوت اور لامحدود وسائل صرف آلاتِ حرب کو مہلک سے مہلک تر بنانے میں خرچ کئے جانے لگے‘ ۔
 ان روشن خیالوں اور اعتدال پسند وں کے یہ سب سیا ہ کارنامے پڑھ کے اور سن کے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتاہے،حیرت کی بات ہے، اپنے آپ کو روشن خیال اور اعتدال پسند کہلانے والے لو گ وہ ہیں جن کی اپنی تاریخ ظلم و تشدد سے لبریز ہے ،آج وہی انسانیت کے علمبردار گنے جاتے ہیں، مسلمانوں کو اخلاقیات سے محروم  اور انتہاء پسند کہنے والے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے کچھ ناعقبت اندیش مسلمان یا توحقیقت سے بے خبر ہیں یا پھر جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ،یقینا جو کوئی بھی ان حقائق کو جاننے کی کوشش کرے گا وہ کبھی بھی اغیار کے ان بے بنیا د پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوگا ۔

کیا یہ مغربی "صفات " ہمارے ملکوں اور لوگوں میں بھی پائی جاتیں ہیں ؟
اوپر دی گئی تفصیل سے  ’ مغربی ممالک  میں   نام نہاد سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کا جس طرح اخلاقی، مذہبی، ذہنی  اور جسمانی استحصال کیا جاتا ہے  وہ بالکل  واضح ہے۔ انصاف تو یہ تھا کہ مسلم ملک بھی اپنی کلچر، مذہب کے مطابق اپنے یہاں آنے والے مغربی لوگوں کو پابند کرتے، لیکن اسے  ہماری بدقسمتی کہیں یا  وسعت ظرفی کہ  مغربی ممالک کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف انتہائی تعصب  وحسد کے اظہار کے باوجود کبھی  پاکستان یا کسی عرب ملک میں اسلام کے نام پر  کسی گورے کو ننگے پھرنے ، سور کھانے، شراب پینے سے نہیں  روکا گیا ۔ یہ بات ثبوت کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو یورپ  کے مسلمانوں سے ذیادہ آزادی حاصل ہے  ؟ پاکستان میں کہاں کسی عیسائی کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے سے روکا گیا ہے ؟ ،یہاں  تمام اقلیتیں محفوظ بھی ہیں اور خوش بھی، انہیں پاکستان میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔شومئی قسمت کہ آج کا مسلمان ان بنیادی اسباب سے محروم ہے جو اس کے دشمن کے پاس ہیں، جن کے ذریعے سے وہ جو چاہتے ہیں ان کی جانب منسوب کر دیتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں انہیں بدنام کرتے رہتے ہیں۔ کبھی انتہاء پسند ی کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو کبھی تنگ نظر کہا جاتاہے،اور اس پر مستزاد یہ کہ عام فہم مسلمان بھی دشمن کے اس پروپیگنڈے میں آکر دشمن کے ان تمام پراپیگنڈوں کو حقیقت جان لیتے ہیں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کردیتے ہیں ۔
جہاں تک ہمارے معاشرے میں   زناکاری ، حرام کاری، شراب نوشی، ناچ گانا کے عام ہونے کی  بات ہے تو   یہ انہی غیر قوموں خصوصا مغرب سے امپورٹ شدہ ہے۔، اسکا تازہ ترین ثبوت امریکی سفارتخانے کا پاکستان میں اپنے ہاں ہم جنس پرستوں  کا فکنکشن کرانا اور اس دنیا کے گندھے ترین فعل کو اپنی سرپرستی میں رائج کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پاکستان کو مغربی معاشرہ کی  طرح برائیوں، گمراہیوں کی آماجگاہ بنانے کی مہم کا آغاز کرنا  ہے ۔

میں  پاکستانی معاشر ے کو پرفیکٹ اور قابل تقلید معاشرہ نہیں کہتا  ، یہ کہنے کی جسارت ضرور  کرتا ہوں کہ پاکستانی معاشرہ میں  ابھی تک  لوگوں کی اکثریت   صبر ، برداشت،  اخلاقیات، رواداری میں یورپی لوگوں سے ذیادہ  آگے ہے۔  یہاں کا  فرد  بنیادی طور پر قاتل نہیں رحم دل ہے ،وہ ڈاکو نہیں ایثار پسند ہے،وہ عزتوں کا لٹیرہ نہیں عصمتوں کا پاسبان ہے،وہ تنگ نظر نہیں روشن خیال ہے،وہ انتہاء پسند نہیں اعتدال پسند ہے۔ اسکے دل میں ابھی بھی  وہ  چیز موجود ہے جو ساری دنیا کے کافروں  کے پاس نہیں ۔ اسکو بس ایک  نظام اور  ہادی کی ضرورت ہے ۔

میں نے اوپر جو کچھ لکھا  مکمل غیر جانبدار رہتے ہوئے لکھا  اسی غیر جانبداری کو جاری رکھتے ہوئے میں آخر میں   اس بات کا اعتراف  ضرور کروں گا کہ مغربی ممالک کے لوگوں میں ایک ایسی صفت پائی جاتی ہے  جوکہ ہمارے لوگوں  میں نہیں ہے اور وہی صفت انکی کامیابی کا راز ہے۔ وہ صفت ہے احساس ذمہ داری  ۔ وہ لوگ اپنے لوگوں اور ملک کے ساتھ مخلص ہیں، جبکہ ہم میں اس کا فقدان ہے، ہمیں نہ کسی فرد کا احساس ہے اور نہ اپنے ملک کا اور یہی ہماری تنزلی کی ایک وجہ ہے۔ ہم میں  ہر کوئی اپنی ذات   میں مگن  ہے۔ … الله تعالیٰ ہماری اصلاح فرما دے اور ہمیں عقل سلیم عطافر مائے، تاکہ ہم حق اور باطل میں تمیز کر سکیں۔

مکمل تحریر >>

بدھ، 20 جولائی، 2011

مسلمانوں تیاری پکڑ لو : نیکیوں کی لوٹ سیل لگنے والی ہے


  1. رمضان میں عبادت کے لیے کیسے ٹائم نکالا جائے ؟
  2. کن اعمال پر ذیادہ ٹائم لگایا جائے ؟
  3. رمضان کی برکات سے کیسے ذیادہ سے ذیادہ فاعدہ اٹھا یا جاسکتاہے ؟
  4. حرام آمدنی والے کیا کریں ؟

 اللہ اپنی صفت رحیمی کا اظہار کرتے ہوئے ہمیں بار بار ایسے مواقع فراہم کرتا رہتا  ہے کہ ہم اپنے گناہوں اور معصیتوں کی معافی تلافی  کرکے اور اپنے گناہوں کا بوجھ اتار کر جنت کے  مستحق اور جہنم سے بچ  جائیں ۔رمضان اور مضان کی عبادات اور  اس کی ساعتوں کی برکات سے انسان کے گناہوں کی غلاظت کا کس طرح صفایا ہوتا ہے؟  حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا:


”اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور مبارک مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، ایسا مہینہ جس میں ایک ایسی رات ...شب ِ قدر... ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے...یعنی اس ایک رات میں عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ملتا ہے... اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کے دنوں کا روزہ فرض اور راتوں کی عبادت نفل قرار دی ہے، جو شخص اس مہینہ میں ایک نیک عمل کے ذریعہ قربِ خداوندی کا طالب ہو، وہ ایسا ہی ہے جیسے دیگر مہینہ میں فرض ادا کرے ...یعنی نفل کا ثواب فرض کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے... اور جو شخص کوئی فریضہ بجالائے ،وہ ایسا ہے جیسے دیگر مہینوں میں ستر فرض ادا کرے...یعنی رمضان میں ایک فرض کا ثواب ستر گنا ہوتا ہے (مشکوٰة ۱/۱۷۴، البیہقی فی شعب الایمان ۳/۳۰۵

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معصوم ذات، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رشک ملائک شخصیات اور اکابر صلحا رمضان کا بہت  اہتمام فرماتے تھے، ہمارے جیسے غرق عصیاں لوگوں کو تو اس کی زیادہ  ضرورت ہے کہ یہ مارے گناہوں کی غلاطت دھونے اور مغفرت الٰہیہ حاصل کرنے کا نادر و انمول تحفہ اور گوہر نایاب ہے۔اسی بنا پر فرمایا 

 حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے خود سنا ہے کہ: “یہ رمضان آچکا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، اور شیاطین کو طوق پہنادئیے جاتے ہیں، ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی بخشش نہ ہو۔” جب اس مہینے میں بخشش نہ ہوئی تو کب ہوگی؟

(رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ الفضل بن عیسیٰ الرقاشی وھو ضعیف کما فی مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۴۳)

کیا سب کام چھوڑ کر مسجد سے جڑ جائیں  ؟
رمضان آنے سے پہلے اپنے نظام الاوقات بدل کر ایسا بنانے کی کوشش کریں کہ اس میں زیادہ سے زیادہ وقت اللہ جل شانہ کی عبادت میں صرف ہو۔  طریقہ نہایت آسان ہے، رمضان کا مہینہ آنے سے پہلے یہ سوچو کہ مقدس مہینہ آرہا ہے، کس طرح میں اپنی مصروفیات کم کر سکتا ہوں۔ اس مہینے میں اگر کوئی شخص اپنے آپ کو بالکلیہ عبادت کے لئے فارغ کر لے تو سبحان اللہ، اور اگر کوئی شخص بالکلیہ اپنے  آپ کوفارغ نہیں کر سکتا تو پھر یہ دیکھے کہ کون کون سے کام ایک ماہ کے لئے چھوڑ سکتا ہوں،ان کو چھوڑے۔ اور کن مصروفیات کو کم کر سکتا ہوں،  ان کو کم کرے، اور جن کاموں کو رمضان کے بعد تک مئوخر کر سکتا ہے۔ ان مئوخر کرے۔اور رمضان کے زیادہ سے زیادہ اوقات کو عبادت میں لگانے کی فکر کرے ۔

رمضان کی برکات سےکیسے ذیادہ سے ذیادہ فاعدہ اٹھا یا جاسکتاہے ؟
جب رمضان المبارک کو دوسرے مشاغل سے فارغ کر لیا، تواب اس فارغ وقت کو کس کام میں صرف کرے؟ جیسا کہ اوپر حدیث میں ذکر ہوا کہ اس ماہ میں  اعمال کاثواب ستر گناہ تک بڑھ جاتا ہے، اسی لیے خود کو ذیادہ سے ذیادہ عبادت میں، نماز میں، ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن اور توبہ استغفار میں مشغول کرلے۔ 
تلاوت قرآن کو اس مہینے سے خاص مناسبت ہے چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ پورے قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے۔ اس لئے جتنا زیادہ سے زیادہ ہو سکے، اس مہینہ میں تلاوت کریں اور اس کے علاوہ چلتے پھرتے،اٹھتے بیٹھتے زبان سے اللہ کا ذکر کریں۔ تیسرا کلمہ: سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الااللہ و اللہ اکبر اور درود شریف اور استغفار کا چلتے پھرتے، اس کی کثرت کا اہتمام کریں۔
 نوافل کی جتنی کثرت ہو سکے کریں۔ عام دنوں میں رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن رمضان المبارک میں چونکہ انسان سحری کے لئے اٹھتا ہے، تھوڑا پہلے اٹھ جائے اور سحری سے پہلے تہجد پڑھنے کا معمول بنا لے۔ اور  نماز خشوع کے ساتھ اور با جماعت پڑھنے کا تو لازمی اہتمام ہو۔ مزید تفصیل

سب سے بڑا مجاہدہ
ان سب نفلی نمازوں، نفلی عبادات، نفلی ذکر و اذکار، اور نفلی تلاوت قرآن کریم سے زیادہ مقدم ایک اور چیز ہے۔ جس کی طرف توجہ نہیں  دی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس مہینے کو گناہوں سے پاک کرکے گزارنا کہ اس ماہ میں ہم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔ ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ کم از کم اس ماہ میں تو جھوٹ نہ بولو۔ اس میں تو غیبت نہ کرو۔ اس میں تو بد نگاہی کے اندر مبتلا نہ ہو۔ اس مبارک مہینہ میں تو کانوں کو غلط جگہ پر استعمال نہ کرو۔ اس میں تو رشوت نہ کھائو، اس میں تو سود نہ کھائو، کم از کم یہ ایک مہینہ اس طرح گزار لو۔اگر  گناہوں سے بچتے ہوئے اللہ کی معصیت اور نافرمانی سے بچتے  ہوئے یہ مہینہ گزار دیا پھر چاہے ایک نفلی رکعت نہ پڑھی ہو اور تلاوت زیادہ نہ کی ہو اور نہ ذکر و اذکار کیا ہو لیکن تو آپ قابل مبارک باد ہیں۔ اور یہ مہینہ آپ کے لئے مبارک ہے۔

یہ کیسا روزہ ہوا؟
روزے میں جن تینوں چیزوں سے اجتناب ضروری ہوتا ہےیہ تینوں چیزیں ایسی ہیں جو فی نفسہ حلال ہیں، کھانا حلال، پینا حلال اور جائزطریقے سے زوجین کا نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا حلال، اب روزنے کے دوران ہم ان حلال چیزوں سے تو پرہیز کررہے ہیں ، نہ کھارہے ہیں ، نہ پی رہے ہیں ۔ لیکن جو چیزیں پہلے سے حرام تھیں، مثلا جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بد نگاہی کرنا، جو ہر حال میں حرام تھیں، روزے میں یہ سب چیزیں ہو رہی ہیں۔ اب روزہ رکھا ہوا ہے اور جھوٹ بول رہے ہیں۔ روزہ رکھا ہوا ہے اور غیبت کر رہے ہیں۔  روزہ رکھا ہوا ہے اور بد نگاہی کر رہے ہیں۔روزہ رکھا ہوا ہے لیکن وقت پاس کرنے کے لئے گندی فلمیں دیکھ رہے ہیں، یہ کیا روزہ ہوا؟ کہ حلال چیز تو چھوڑ دی اور حرام چیز نہیں چھوڑی۔ اس لئے حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا نہ چھوڑے تو مجھے اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ اس لئے جب جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا جو پہلے سے حرام تھا تو کھانا چھوڑ کر اس نے کون سا بڑا عمل کیا۔          

اس ماہ میں رزق حلال
دوسری اہم بات کہ کم از کم اس ایک مہینے میں تو رزق حلال کا اہتمام کر لیا جائے، جو لقمہ آئے،وہ حلال کا آئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ روزہ تو اللہ کے لئے رکھا، اور اس کو حرام چیز سے افطار کر رہے ہیں۔ سود پر افطار ہو رہا ہے یا رشوت پر افطار ہو رہا ہے یا حرام آمدنی پر افطار ہو رہا ہے۔ یہ کیسا روزہ ہوا؟ کہ سحری بھی حرام اور افطاری بھی حرام، اور درمیان میں روزہ۔ اس لئے خاص طور پر اس مہینہ میں حرام روزی  سے بچو۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے مانگو کہ یا اللہ! میں رزق حلال کھانا چاہتا ہوں۔ مجھے رزق حرام سے بچا لیجئے۔                                           
بعض حضرات وہ ہیں، جن کا بنیادی ذریعہ معاش.....الحمداللہ......حرام نہیں ہے، بلکہ حلال ہے، البتہ اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے کچھ حرام آمدنی کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ ایسے حضرات کے لئے حرام سے بچنا کوئی دشوار کام نہیں ہے، وہ کم از کم اس ماہ میں تھوڑاسا اہتمام کر لیں، اور حرام آمدنی سے بچیں۔

اگر آمدنی مکمل حرام ہے تو پھر؟     
بعض حضرات وہ ہیں جن کا ذریعہ آمدنی مکمل طور پر حرام ہے، مثلا وہ کسی سودی ادارہ میں ملازم ہیں، ایسے حضرات اس  ماہ میں کیا کریں؟ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحب قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ:

میں ایسے آدمی کو جس کی مکمل آمدنی حرام ہے۔ یہ مشورہ دیتا ہوں کہ اگر ہو سکے تو رمضان میں چھٹی لے لے، اور کم از کم اس ماہ کے خرچ کے لئے جائز اور  حلال ذریعہ سے انتظام کر لے۔ کوئی جائز آمدنی کا ذریعہ اختیار کر لے۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اس ماہ کے خرچ کے لئے کسی سے قرض لے لے۔ اور یہ سوچے کہ میں اس مہینہ میں حلال آمدنی سے کھائوں گا۔ اور اپنے بچوں کو بھی حلال کھلائوں گا، کم از کم اتنا تو کرلے۔      
                                     
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور رمضان المبارک کے انوار و برکات سے صحیح طور پر مستفید ہونے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین

مکمل تحریر >>