سوموار، 23 مئی، 2011

کیا قرآن پچھلی کتابوں سے کاپی شدہ انسانی کلام ہے ؟

  یہ بہتان سب سے پہلے مکہ کے کفار و مشرکین نے قرآن پر لگایا تھا، اللہ نے قرآن  ہی میں انکے ان تمام وساوس کا جواب دے دیا تھا، پھر بھی بعد میں یہود ونصاری نے باوجود اپنی کتابوں میں ہی اس کتاب کے سچی ہونے کی گواہیوں کے’ محض اپنے عناد و تکبر کی وجہ سے  اسے دوہرایا اور آج بھی  انکے پیروکار جان بوجھ کر یا جہالت میں ان وساوس کو کاپی کرتے آرہے ہیں۔


کفار ومشرکین  کی  قرآن پر تہمت

کفار نے  قرآن پر جو تہمت لگائی تھی اسکو خود قرآن نے کئی جگہ ذکر کیا ہے، چند آیات درج ذیل ہیں۔

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُواْ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاء لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا إِنْ هَذَا إِلاَّ أَسَاطِيرُ الأوَّلِينَ۔  
(سورۃ الانفال ایت اکتیس)
اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اگر ہم چاہیں تو اس کے برابر ہم بھی کہہ دیں اس میں پہلو ں کے قصے کے سوا اور کچھ نہیں۔

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُواْ بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ۔
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے ، جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کے مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہوں، اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو۔(ھود 13)

وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ أَسَاطِيرُ الأَوَّلِينَ۔ (سورہ النحل آیت چوبیس)
اور جب ان سے کہا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے کہتے ہیں پہلے لوگوں کے قصے ہیں

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَآبَاؤُنَا هَذَا مِن قَبْلُ إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ۔  
(سورۃ المومنون، آیت تریاسی)
اس کا تو ہم سے اوراس سے پہلے اور ہمارے باپ دادا سے وعدہ ہوتا چلاآیا ہے یہ صرف اگلےلوگوں کی کہانیاں ہیں

حتّى إذا جاؤوك يجادلونك يقول الذين كفروا إن هذا إلاّ أساطير الأوّلين۔ 
(سورہ الانعام، آیت 25)
یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ قرآن اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

قرآن کا چیلنج:

اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جس علاقے میں اس نے اپنا کوئی بنی اور رسول بھیجا ہے اس کو اپنی بات کی تائید میں کوئی ایسا معجزہ بھی دیا ہے جو اس علاقے کے لوگوں کی ذہنی ،  عقلی،  علمی اور تمدنی سطح کے مطابق تھا۔ جس علاقے میں جس علم اور فن کا چرچا اور مہارت مسلمہ ہوتی تھی اس علاقے میں مبعوث ہونے والے نبی کو ایسا معجزہ دیا جاتا تھا جو اس علاقے اعلیٰ ترین انسانی کمال اور فن سے ماورا اور بہت اعلیٰ درجے کا ہوتا تھا، تاکہ لوگ اس کو آسانی سے تسلیم کر لیں کہ یہ چیز انسانی بس سے باہر ہے اور اس کو پیش کرنے والا شخص ضرور اللہ کی طرف سے پیش کر رہا ہے ۔مثلاً، حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں طب یونانی کا چرچا تھا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دست مسیحائی کا معجزہ دیا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو  اور جادوگروں کا چرچا تھا ۔ جادو کا فن اپنے عروج پر تھا اور اسی جادو کی بنیا د پر معاشرے میں لوگوں کا مقام متعین کیا جاتا تھا۔ ایسے حالات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عصائے موسوی عطاء کیا گیا ، جس کے معجزات دیکھ کر ماہر فن جادوگر پکا ر اٹھے کہ یہ ضرور اللہ کی طرف سے ہے اور وہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کے دربار میں سجدہ ریز ہو گئے ۔قرآن مجید اللہ تعالی کا ایک زندہ معجزہ ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی نبوت کے ثبوت اور اس کی تائید میں عطا  کیا گیا تھا۔جب عربوں نے اس قرآن کو انسانی کلام اور پچھلی قوموں کی قصے کہانیاں کہا تو  اللہ تعالیٰ نے عربوں کو جنھیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز تھا، چیلنج دیا کہ اس جیسی کوئی ایک صورت ہی بنا لاؤ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
  ’’ قل لئن اجتمعت الانس والجن علیٰ ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون  بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظہیرا۔
 (بنی اسرائیل)
     ’’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ دیجیے کہ اگر تمام جن و انس اس بات پر جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیساکوئی کلام لے آئیں تو اس جیسا کلام ہرگز نہ لا سکیں گے ، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار   ہوں ۔‘‘

ایک اور جگہ پھر مقابلے کی دعوت ان الفاظ سے دی ہے

      ’’ وان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ وادعو شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔‘‘
( سورۃ البقرۃ ۲:۲۳)
     ’’ اگر تم اس چیز میں جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے کسی قسم کے شک میں ہو  تو پھر تم اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا  لاو ، اور اللہ کو چھور کر اپنے تمام مددگاروں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔‘‘

پورے قرآن میں ایک سو چودہ چھوٹی بڑی سورتیں ہیں اور اس جگہ لفظ سورۃ بغیر الف لام کے لانے سے اس طرف اشارہ  ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی اس چیلنج میں شامل ہے کہ اگر تمہیں اس قرآن کے کلام الہی ہونے میں کوئی تردد ہے اور یہ سمجھتے ہوں کہ یہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی  دوسرے انسان نے خود بنالیا ہے تو اس کا فیصلہ بڑی آسانی سے اس طرح ہوسکتا ہے کہ تم بھی اس قرآن کی کسی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثال بنالاؤ، اگر تم اس کی مثال بنانے میں کامیاب ہوگئے تو بیشک تمہیں حق ہوگا کہ اس کو بھی کسی انسان کا کلام قرار دو۔
قرآن کے اس چیلنج کے  پہلے مخاطب عرب کے تمام فصحاء و بلغاء اور شاعر و خطیب تھے ، جن کی گھٹی میں فصاحت و بلاغت تھی۔ جن کا بچہ بچہ شعر گوئی کے فن سے آشنا تھا۔ جو قوم اسلام اور قرآن کی مخالفت اور اسکو گرانے مٹانے کے لیے اپنی جان، مال آبرو، اولاد سب کچھ قربان کرنے کے لیے تلی ہوئی تھی ، اس  کے لیے یہ بہت اچھا موقع تھا کہ  قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی صورت کی مثال بنا لاتے، مگر وہ لوگ اپنی پوری کوشش کے باوجود قرآن جیسا کوئی ایک لفظ یا فقرہ بھی نہ بنا سکے،  قرآن نےپھر  اگلی آیت میں ان کو  خبردار کیا۔

  فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارۃ اعدت للکٰفرین۔‘‘  (سورۃ البقرۃ:۲:۲۴
  پس اگر تم ایسا نہ کر سکو اور تم ہرگز ایسا نہ کر سکو گے ، پس تم اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آگ اور پتھر ہوں گے ۔‘‘

سرداران قریش کے صلاح مشورے

1.     قریش نے ایک گھر میں اجتماع کیا اور مشورے کے بعد عتبہ بن ربیعہ کو رسول اکرم کے پاس بھیجا  ۔عتبہ نے آکر کو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی قوم وقبیلے والے کہتے  ہیں کہ آپ  ایک عجیب و غریب امر لے کر آئے ہیں کہ آپ کے آباء و اجداد بھی اس آئین و دین پر نہ تھے اور ہم میں سے بھی کوئی فرد اس پر اعتماد نہیں کرتا اور نہ ہی آپ کی اس امر میں اتباع کرنے کو تیار ہیں ، یقینا آپ کو کسی نہ کسی چیز کی ضرورت و احتیاج ہے کہ جس کو ہم پورا کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ آپ کو جس قدر مال و دولت چاہیے ، عورت چاہیے ۔ہم دیں گے آپ فقط اس کام سے ہاتھ اٹھالیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے   یہ آیات تلاوت فرمانی شروع کیں ۔
  بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔حم۔ تنزیل من الرحمن الرحیم۔ کتاب فصلت آیاتہ قرآنا عربیا لقوم یعلمون ۔ ۔فان اعرضوا  فقل انذرتکم صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود۔ ۔
عتبہ ان آیات کو سننے کے بعد قریش کی جانب واپس ہوا اور سارا ماجرا ان کو سنایا اور کہا  کہ
" انہوں نے مجھ سے کچھ ایسا کلام کیا کہ جو نہ شعر تھا اور نہ سحر و جادو بلکہ
 وہ ایک عجیب کلام تھا ، وہ انسانی کلام بھی نہیں تھا" ۔

2.      عربوں نے بھی اسلوب قرآن کی اس استقامت اور ہم آہنگی کو محسوس کرلیا تھا اور ان کے فصحاء و بلغاء  کو اس  کی تاثیرات کا یقین تھا۔ اسی لیےجب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کا چرچا مکہ سے باہر حجاز کے دوسرے مقامات میں ہونے لگا اور حج کا موسم آیا تو قریش مکہ کو اس کی فکر ہوئی کہ سن اطراف عرب سے حجاج آئیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنیں گے تو فریفتہ ہوجائیں گے اس کے انسداد کی تدبیر سوچنے کے لیے قریش نے  عرب کے بڑے بڑے سرداروں کا اجلاس بلایا۔ ان میں ولید بن مغیرہ عمر میں سب سے بڑے اور عقل میں سب سے ممتاز سمجھے جاتے تھے، سب نے ولید کے سامنے یہ بات رکھی کہ اطراف سے آنے والے لوگ جب  محمد کے بارے میں ہم سے پوچھیں  گے تو ہم کیا کہیں ؟
 لوگوں نے  مجنون،  شاعر، کاہن کہنے کی تجویز رکھی، ولید نے کہا  لوگ جب اس سے گفتگو کریں گے ، اس کا کلام سنیں گے تو انہیں یقین ہوجائے گا کہ یہ مجنون کا کلام ہے ، نا شاعر کا اور نہ کسی کاہن کا۔ وہ پھر تمہیں ہی جھوٹا سمجھیں گے۔اس کے  ولید بن مغیرہ  نے کہا:
"خدا کی قسم تم جانتے ہو شعر و شاعری، رجز خوانی و قصیدہ خوانی میں میرے پائے کا کوئی آدمی نہیں ہے ۔ خدا کی قسم اس کلام میں خاص حلاوت ہے اور ایک خاص رونق ہے، جو میں کسی شاعر یا فصیح وبلیغ کے کلام میں نہیں پاتا"
پھر لوگوں نے اس  کہا کہ آپ ہی بتلائیے  پھر ہم کیا کہیں  ۔ ولید نے کہا کہ ''مجھے سوچنے دو"۔
ولید نے سوچ کر کہا:
"تم اسے ساحر کہو کہ یہ اپنے جادو سے باپ بیٹے  اور میاں بیوی میں تفرقہ ڈال دیتا ہے"۔
قوم اس سے مطمئن ہوگئی، مگر خدا کا چراغ پھونکوں سے بجھنے والا نہ تھا ، اطراف عرب سے لوگ آئے قرآن سنا اور بہت سے مسلمان ہوگئے اور آہستہ آہستہ سارے اطراف عرب میں اسلام پھیل گیا (خصائص کبری)

سرداران قریش کا چھپ چھپ کر قرآن سننا :

مورخ ابن ہشام نے نقل کیا ہے کہ سرداران قریش، ابوسفیان بن حرب، ابوجہل بن ہشام، اخنس بن شریق اور ابن وہب الثقفی یہ چاروں ایک رات الگ الگ نکلے تاکہ چھپ کر قرآن کی تلاوت سنیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اپنے گھر میں کیا کرتے تھے۔ ان میں سے ہر شخص نے اپنے لئے ایک ایک جگہ مقرر کر لی اور بیٹھ کرآپ کی تلاوت سننے لگا۔ ہر شخص دوسرے کی موجودگی سے بے خبر تھا۔ اس طرح انہوں نے ساری رات گزاردی اور پھر اپنی اپنی راہ لی۔ راستے میں سب جمع ہوگئے۔ سب ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ہر ایک نے دوسرے سے کہا دیکھو دوبارہ ایسا نہ کرنا اگر کم عقل لوگوں نے دیکھ لیا تو وہ کیا خیال کریں گے، پھر وہ سب لوٹ گئے۔ جب دوسری رات ہوئی تو وہ چاروں پھر اپنی اپنی جگہ پر تلاوت سننے واپس آگئے اور جب وہ تلاوت سن کر واپس ہوئے تو پھر سب جمع ہوگئے۔ ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو پھر ویسے ہی کہا جیسے پہلے کہا تھا یہ کہہ کر سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ لیکن جب تیسری رات ہوئی تو پھر وہ اپنی اپنی جگہ آپہنچے اور واپسی پر پھر اسی طرح باہم مل گئے تب انہوں نے کہا:ہماری یہ عادت نہیں چھوٹے گی، جب تک ہم عہد یہ نہ کرلیں کہ ہم دوبارہ ایسا نہیں کرینگے اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔

قرآن کو غیرمسلموں کا خراج عقیدت:۔

اگر یورپ کے مستشرقین کے قرآن کے بارے میں مقالات جمع کیے جائیں تو ایک مستقل کتاب ہوجائے، حکیم الامۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ نے  اس موضوع پر ایک مستقل کتاب بنام شہادۃ الاقوام علی صدق الاسلام تحریر فرمائی ہے، اس سے چند حوالے نقل کرتا ہوں۔

مسٹر وڈول جنہوں نے قرآن کا ترجمہ اپنی زبان میں کیا ’ لکھتے ہیں  :
جتنا بھی ہم اس کتاب (یعنی قرآن) کو الٹ پلٹ کر دیکھیں، اسی قدر پہلے مطالعہ میں اسکی خوبی  نئے  نئے پہلوؤں سے اپنا رنگ جماتی ہے، لیکن  فورا ہمیں مسخر کرلیتی ہے، متحیر بنادیتی ہے، اور آخر میں ہم سے تعظیم کراکر چھوڑتی ہے، اس کا طرز بیان با اعتبار اس کے مضامین و اغراض کے عفیف، عالی شان اور تہدید آمیز ہے اور جابجا اس کے مضامین سخن کی غایت رفعت تک پہنچ جاتے ہیں ، غرض یہ کتاب ہر زمانہ میں اپنا زور اثر دکھاتی رہے گی" (شہادہ الاقوام، ص 13)۔

کونٹ ہنروی  کی کتاب الاسلام  کا ترجمہ مصر کے مشہور مصنف احمد فتحی بگ زاغلول نے کیا، اصل کتاب فرنچ زبان میں تھی، اس میں مسٹر کونٹ ہنروی قرآن کے متعلق  لکھتے ہیں  :
" عقل حیران ہے کہ اس قسم کا کلام ایسے شخص کی زبان سے کیونکر ادا ہو جو بالکل امی تھا،  تمام مشرق نے اقرار کر لیا ہے کہ نوع انسانی  لفظا اور معنی ہر لحاظ سے اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے ، یہ وہی کلام ہے جس کی بلند انشا پردازی نے عمر بن خطاب ک مطمئن کردیا، ان کو خدا کا معترف ہونا پڑا، یہ وہی کلام ہے کہ جب عیسی علیہ السلام کی ولادت کے متعلق اس کے جملے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حبشہ کے بادشاہ کے دربار میں پڑھے تو اسکی آنکھوں سے بیساختہ آنسو جاری ہوگئے، اوربشپ چلا اٹھا کہ یہ کلام اسی سرچشمہ سے نکلا ہے جس سے عیسی علیہ السلام کا کلام نکلا تھا "(شہادہ الاقوام، ص 14)۔

ڈاکٹر گستاولی بان نے اپنی کتاب تمدن عرب میں لکھتے ہیں  :
"اس پیغمبر اسلام ، اس نبی امی کی بھی  ایک حیرت انگیز سرگذشت ہے، جس کی آواز نے ایک قوم ناہجار کو جو اس وقت تک کسی ملک گیر کے زیر حکومت نہ آئی تھی، رام کیا اور اس درجہ پر پہنچا دیا کہ اس نے عالم کی بڑی بڑی سلطنتوں کو زیروزبر کر ڈالا اور اس وقت بھی وہی نبی امی اپنی قبر کے اندر سے لاکھوں بندگان خدا کو کلمہ اسلام پر قائم رکھے ہوئے ہیں 

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 16، ص 599  میں لکھا ہے :
" قرآن کے مختلف حصص کے مطالب ایک دوسرے  سے بالکل متفاوت ہیں، بہت سی آیات دینی واخلاقی خیالات پر مشتمل ہیں، مظاہر قدرت ، تاریخ الہامات انبیا  کے ذریعے خدا کی عظمت ، مہربانی اور صداقت کی یاد دلائی گئی ہے، بالخصوص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے خدا کو واحد اور قادر مطلق ظاہر کیا گیا ہے ، بت پرستی اور مخلوق پرستی کو بلا لحاظ ناجائز قرار دیا گیا ہے، قرآن کی نسبت یہ بالکل بجاکہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بھری کی موجودہ کتابوں میں سے سب سے ذیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے "


قرآن میں پچھلی قوموں  کے تذکرے کی وجہ:

قرآن نے خود اس حقیقت کو اپنی بہت سی آیات میں بیان کیا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں :
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَى مِن دُونِ اللّهِ وَلَكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لاَ رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ﴿٣٧﴾ أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (سورۃ یونس 37،3 )
ترجمہ :یہ قرآن ایسا کلام نہیں کہ اللہ کے سوا اور کی طرف گھڑا ہوا ہو بلکہ یہ تو اپنے پہلے سی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے اور تفصیل ہے شریعت کی کتاب کی جس کے اللہ رب العالمین کی طرف سے ہونے میں کسی قسم کا شک نہیں،   کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔


وَكُلاًّ نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاء الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ۔ وَقُل لِّلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ۔ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ۔
اور ہم رسولوں کے حالات تیرے پاس اس لیے بیان کرتے ہیں کہ ان سے تیرے دل کو مضبوط کر دیں اور ان واقعات میں تیرے پاس حق بات پہنچ جائے گی اور ایمانداروں کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے۔ اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ۔ ہم اپنی جگہ عمل کیے جاتے ہیں۔  اور (نتیجہٴ اعمال کا) تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔


إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ۔ (سورۃ نمل ، آیت 76)۔
بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، بیان کر دیتا ہے

لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُوْلِي الأَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى وَلَكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔( سورۃ یوسف، آیت 111)۔
البتہ ان لوگو ں کے حالات میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے کوئی بنائی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ اس کلام کے موافق ہے جو اس سے پہلے ہے اور ہر چیز کا بیان اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لاتے ہیں۔


وَهَذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَى صَلاَتِهِمْ يُحَافِظُونَ۔(سورۃ  انعام، آیت 92)۔

اور یہ کتاب جسے ہم نے اتارا ہےبرکت والی ہے ان کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے تھیں اور تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو ڈرائے اور جو لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہی اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔

اختتام ’ امام غزالی رحمہ اللہ  کاتبصرہ :

مجھے نہیں لگتا کہ ایک شخص جس کا ضمیر اور جس کی فکر سلامت ہے، وہ قرآن مجید کا مطالعہ کرے اور اس سے متأثر ہوئے بغیر رہ جائے۔ قرآن مجید اپنے انوکھے انداز سے ہر کسی کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا سامان فراہم کرتا ہے، وہ ہر ایک کی کمی اور کوتاہی سے واقف ہوتا ہے اورجب بندہ اس کی جانب رجوع کرتا ہے تو وہ اس کی اصلاح کا کفیل ہوتا ہے‘‘۔(نظرات فی القرآن)




15 comments:

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

جزاک اللہ خيراٌ

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے لکھا ہے کہ

اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے۔ اور سب کو ھدائت نصیب فرمائے۔

جنہیں نہیں ماننا ، انھیں نہیں مانا خواہ اللہ کے حکم سے آپ وقت کو الٹا گھما کر انھیں دکھا دیں۔

اللہ تعالٰی آپ کی محنت کا اجر عظیم عطا کرے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی نے لکھا ہے کہ

جزاک اللہ

شعیب صفدر نے لکھا ہے کہ

جزاک اللہ

وقاراعظم نے لکھا ہے کہ

آپ نے خاصی عرق ریزی کی ہے اس موضوع پر، جزاک اللہ۔۔۔

عمران اقبال نے لکھا ہے کہ

شکریہ حضرت۔۔۔ بہت بہت شکریہ۔۔۔

تحریم نے لکھا ہے کہ

بہت ہی اچھا بلاگ ہے

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

میں آپ سب کا مشکور ہوں کہ آپ نے میری حوصلہ افزائی کی، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور
قلب و ایمان کی حفاظت فرماءے۔

احمد عرفان شفقت نے لکھا ہے کہ

اللہ آپ کی محنت قبول فرمائے۔ آمین

درویش خُراسانی نے لکھا ہے کہ

مکی کا وہ والاکالم میں نے بھی پڑھا تھا۔ اور اپنے طور پر اسکا جواب دینے کی کوشش بھی کی تھی۔ آج آپکا یہ کالم پڑھا تو سوچا کہ وہی جوابات یہاں بھی پوسٹ کرلوں۔

مکی صاحب نے کہا:

(اب جو بات قرآن سے موافق ہو وہ حق اور جو موافق نہ ہو وہ تبدیل شدہ، تاہم یہ بظاہر منطقی سی بات درست معلوم نہیں ہوتی)
۔
مکمل سمجھ نہ سکا کہ اس جملہ سے کیا مراد ہے ۔لیکن یہ کہ جن باتوں کا قران مجید نے تصحیح کی ہے تو ہو تو درست ہے ۔لیکن میرے خیال میں ضروری نہیں کہ قران نے ان تمام واقعات کی تصحیح کی ہو جو کہ تورات و زبور وانجیل میں بیان ہیں۔
بلکہ جس واقعے کا قران مجید نے ذکر مناسب جانا تو اسکی تصحیح کرکے اسکو بیان کردیا۔
۔
۔
۔
۔
(کئی محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عہد نامہ قدیم کے اسفار میں جو قصے کہانیاں اور قوانین وارد ہوئے ہیں در حقیقت ان کا اصل سومری، بابلی اور آشوری تحریروں سے ہے)
۔
میرے خیال میں تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے اسلئے کہ تورات سے پہلے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں۔ اور تورات سے پہلے مختلف صحیفے بھی نازل ہوئے ہیں ۔ لھذا ہوسکتا ہے کہ ان قوموں کے تاریخوں میں یا انکے قوانین میں اُن صحیفوں کا اثر باقی ہو۔ اور ان ما قبل انبیاء کے تعلیمات کے اثرات ان قوموں میں موجود ہو۔
.
۔
۔
۔
(یہودیوں نے ان میں سے جو انہیں اچھا لگا اسے اپنے ہاں نقل کر لیا اور جو انہیں اچھا نہ لگا اسے حذف کردیا)
۔
میں تو یہ کہونگا کہ چلو ملحد نے تو اپنے الحاد کے سبب یہ اعتراض کیا کہ یہود کو جو پسند آیا تو وہ نقل کیا ، لیکن دراصل اس بات کا جواب یہ ہے کہ جو احکامات و واقعات بنی اسرائیل کو بیان کرنا مناسب سمجھا گیا تو انکا نزول تورات میں ہوا۔ اور اسی لئے معترض کو یہ اشتباہ پیدا ہوا کہ بنی اسرائیل نے اپنے ماقبل تھذیبوں سے پسند کی چیزیں نقل کی ہیں ،ھالانکہ معترض کو یہ بات معلوم نہیں کہ ان قدیم تہذیبوں کے تحاریر میں جو باتیں یا واقعات ہین تو یہ ان صحیفوں کے سبب ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے انکے طرف نازل کئے تھے ، اور ان صحیفوں کے اثرات ان قدیم تہذیبوں کے تحاریر میں پائے جاتے ہیں۔ اور جس خدا نے ان قدیم تہذیبوں کی طرف صحیفے اتارے تھے اسی خدا واحد نے تورات بھی نازل کیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے احکامات و فرائض تمام امتوں کےلئے ایک جیسے ہیں ، صرف معمولی تبدل ہوتا رہتا ہے۔
۔
۔
۔
۔
(چونکہ تورات کی تدوین پانچویں اور آٹھویں صدی قبل از عیسوی میں ہوئی چنانچہ اس میں آشوری کہانیوں کا ہونا تعجب کی بات نہیں جیسے کہ نبی موسی (علیہ السلام) کا قصہ جسے اس کی ماں نے پانی میں بہا دیا اور وہ پانی میں بہتا ہوا ایسے لوگوں کے ہاتھ لگا جنہوں نے اسے پالا اور پھر وہ لیڈر بنا، تاہم یہ کہانی دراصل شاہ سرجون الاکادی کی ہے جس نے 2279 اور 2334 قبل از عیسوی حکومت کی).
۔
قرآن مجید میں یہ بات کہیں بھی نہیں ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام والا واقعہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ رونماء نہیں ہوگا، ہوسکتا ہے کہ حضرت موسی کی طرح کا واقعہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ بھی ہوا ہو، کسی واقعے کا تکرار نا ممکن تو نہیں ہے۔
لیکن تکرار کے سبب اس واقعے کی دوسری بار ہوجانا نہ تو پہلے واقعے کی حیثیت خراب کرتا ہے اور نہ دوسری بار ۔امید ہے میری بات سمجھ گئے ہونگے۔
۔
۔
۔
۔

درویش خُراسانی نے لکھا ہے کہ

(اسی طرح تورات میں بابلی قوانین بھی ملتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہی بات قرآن میں بھی منتقل ہوئی)۔
۔
وہی اوپر والا جواب کہ حمورابی قوانین یا بابلی قوانین خود ان تورات سے قبل خدائی نازل شدہ صحیفوں سے متاثر تھے ، اور اسی خدا نے تورات بھی نازل کی ۔لھذا معمولی تبدل کے ساتھ وہی بابلی قوانین نازل ہوئے۔
۔
۔
۔
۔
(مصر کے کسی بھی مؤرخ نے فرعون اور اس کی فوج کے ڈوبنے کے اس اندوہناک واقعے کا تذکرہ نہیں کیا)،
۔
میرے خیال سے یہ کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ اگر مؤرخ ایک واقعے کو نقل نہ کرے تو اس واقعے کے کا وجود ناممکن ہو۔مؤرخ کے نہ ذکر کرنے سے واقعے کا سچ اور جھوٹ کا فیصلہ درست نہیں ہے۔
۔
۔
۔
۔
( اسی طرح فرعون کا بنی اسرائیل کو غلام بنانے کا تعلق افسانوی خیال سے تو ہوسکتا ہے تاریخی حقائق سے نہیں، کیونکہ مصر میں غلامی نہیں تھی)
۔
وہی جواب کہ تاریخ میں واقعے کا ذکر نہ ہونے سے کسی واقعے کے سچ یا جھوٹ کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ میرے خیال میں ایسا کوئی قاعدہ نہیں ہے۔
۔
۔
۔
۔
(ایسے ہی تورات کے مصنفین نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ گھڑ کر اپنے حسب ونسب کو برتر واعلی ثابت کرنے کے لیے خیالی گھوڑے خوب دوڑائے اور ان کے لیے جن وانس کی فوجیں بنا ڈالیں حالانکہ آس پاس کی تہذیبوں کے مؤرخین کے ہاں اس شخصیت کا ایک بھی یتیم تذکرہ موجود نہیں ہے)
۔
وہی اوپر والا جواب کافی ہے۔
۔
۔
۔
۔
(زیادہ امکانات یہی ہیں کہ یہودیوں نے ان شخصیات کو بابلی تہذیب سے چرا کر قومی ہیرو بنانے کی کوشش کی)،
۔
بابلی تہذیب کے بارے میں ، میں نے کہ دیا ہے کہ خود بابلی تہذیب آسمانی صحیفوں کے زیر اثر تھی اور تورات بھی ہمارے نزد آسمانی کتاب ہے لھذا لامحالہ دونوں کے ہیروز ایک ہوئے۔ کیا خیال ہے؟؟۔
۔
۔
۔
۔
(موسی (علیہ السلام) نے فرعون کو شکست دی جو احمقوں کی طرح ان کے پیچھے اپنی فوج کے ساتھ ہولیا)
۔
انسان کی کبھی کبھی مت ماری جاتی ہے جب اسکا اجل آجاتا ہے۔
۔
۔
۔
۔
(حقیقت یہ ہے کہ زمین وآسمان کی چھ دنوں میں تخلیق تورات کی خرافات میں سے ہے)
۔
اگر خرافات سے یہ مطلب ہو کہ یہی باتیں بابلی تہذیب میں بھی ذکر ہیں تو اسکا جواب ہوچکا ہے ، لیکن اگر یہ مطلب ہو کہ اسطرح کا کوئی واقعہ نہیں ہوا تو اس بات سے انکار اور اسکا ثبوت ایک الگ موضوع ہے، جو کہ یہاں مناسب نہیں۔
۔
۔
۔

درویش خُراسانی نے لکھا ہے کہ

۔
(قرآن میں انبیاء کے بیشتر قصے تلمود اور مدراش سے لیے گئے ہیں)
۔
تلمود کی بات آپ نے کی تو جناب یہ درست ہے کہ قران مجید کے بعض واقعات تورات یعنی تلمود یا اسکے تفاسیر یعنی مدارش سے لئے گئے ہیں ۔مدارش میں جو قصے مذکور ہیں تو لامحالہ انہوں نے بھی ماقبل صحیفوں سے اسکو نقل کیا ہوگا یا موسی علیہ السلام کے بعد یہود کے درمیان آنے والے نبیوں کے رہن سہن کو دیکھ کر انہوں نے اپنی تفاسیر میں انکا تذکرہ کیا ہوگا۔
اور درست اور سچے قصوں کا نقل کوئی غلط تو نہیں ہے۔
۔
۔
۔
۔
(ایک ہی آیت پر دونوں تفسیروں کا تضاد تو واضح ہے)
۔
تفاسیر میں مین نے ایک بات دیکھی ہے کہ قصص و واقعات کے باب مین انہوں نے صحیح و ضعیف قول کا لحاظ نہیں کیا ۔ جس کے سبب دو تفاسیر کے دمیان اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو اسرائیلی روایات کسی حکم یا امر کے ساتھ متعلق نہ ہوں بلکہ عمومی واقعات ہوں کہ احکامات سے اسکا کوئی تعلق نہ ہو تو اسکے ذکر میں کوئی برائی بھی نہیں ہے۔
قران مجید نے اگر تلمود یا مدارش کے قصے نقل کئے ہیں ، تو اگر درست ہیں تو اسکو بغیر چھیڑے نقل کیا ہے لیکن اگر مدارش میں واقعے کے بیان میں غلطی ہوئی ہے تو قران نے اسکی تصحیح کرکے اسکو نقل کیا ہے۔ جیسے اصاعب کہف والا واقعہ۔
۔
۔
۔
۔
(یہی کچھ ہمیں قرآنی قصوں میں ملتا ہے جو تلمود اور مدراش سے منقول ہی)
۔
اسکا جواب اوپر ہی ہوگیا۔ کہ اگر قران نے تلمود ومدارش سے واقعات کو نقل کیا ہے تو اگر واقعات میں مدارش میں غلطی ملی تو اسکو درست کیا گیا۔لھذا معترض کا یہ اعتراض باطل ہے کہ قران میں بھی انسانی ساختہ کہانیاں نقل ہیں۔کیونکہ ہم کہیں گے کہ قران نے نقل کرتے وقت ان غلط واقعات کی تصحیح کرکے نقل کی ہیں۔ نا کہ من وعن۔
۔
۔
۔
۔
(قرآن سابقہ کتابوں میں موجود قصوں کا عربی زبان میں ترجمہ ہے)
۔
صرف ترجمہ نہیں بلکہ تصحیح شدہ ترجمہ ہے۔یعنی جہاں یہود و نساری نے کسی واقعے میں گڑبڑ کی تھی تو قران نے اس واقعے کی تصحیح کرکے نقل کیا۔ جیسے اصحاب کہف یا بابل شہر میں جادو والی بات ۔
۔
۔
۔

درویش خُراسانی نے لکھا ہے کہ

۔
(قرآن نے کچھ موجود قوانین کو جاری رکھا جیسے چور کا ہاتھ کاٹنا، المنمق میں آیا ہے کہ جاہلیت میں قریش چور کا ہاتھ کاٹتے تھے (13) اس طرح حج کی رسم جو کہ دراصل جاہلیت کے زمانے کی ہی ایک پرانی رسم ہے جس میں حاجی کثیر رقم ادا کر کے پتھر کے چکر لگاتا ہے، پتھر کو چومتا ہے، اور پتھر کو پتھر سے مار کر خدا سے اپنے سارے گناہ بخشوا کر واپس آجاتا ہے، اب اس مذہبی سیاحت سے کسے فائدہ پہنچتا ہے؟)
۔
لگتا ہے یہاں مصنف یا معترض کچھ زیادہ جذباتی ہوا ہے۔ایک حکم اگر کسی جگہ قائم ہے اور اور قسمت سے یہ حکم امر الہیٰ کے موافق ہے تو اگر کل کو خدا کی طرف سے اس امر کو لازمی کہا جائے تو میرے خیال میں یہ صرف امر الٰہی اور اس رسم کی قدرتی موافقت ہوگی تاکہ نقل ، کہ گویا اللہ تعالیٰ نے قریش سے یہ رسم نقل کرکے اسکو امر لازمی بنا دیا۔
اسی طرح حج کے بارے میں کہونگا کہ چلو مان لیا کہ یہ رسم جاہلیت ہے ، لیکن کوئی یہ بتانا پسند کرے گا کہ ان جاہو ں کو کس نے یہ سکھایا کہ تم اسطرح کے افعال کیا کرو؟
ظاہر ہے اگر یہ جاہل اسطرح کے اعمال و افعال کرتے ہیں تو لازمی طور پر یہ لوگ کسی تہذیب سے متاثر ہین کہ جس مین یہ افعال مذہبی درجہ رکھتا ہے ، اور وہ تہذہب وہی ابراہیمی صحیفوں والی تہذیب ہے کہ یہ قریش اس سے متاثر ہوکر حج کے افعال کیا کرتے تھے۔
اب اگر اللہ تعالیٰ نے حج کو قران میں فرض کیا تو اسکا یہ معنی نہیں کہ اسنے قریش کے رسم کو امر کا درجہ دیا ، نہیں بلکہ یہ امر الٰہی پہلے سے قریش میں موجود تھا لیکن وقت کے گذرنے سے اسمیں بگاڑ پیدا ہوا تھا، لھذا اسلام میں اللہ تعالیٰ نے اسی امر حج کی تصحیح کرکے فرض کردیا۔
لھذا یہ اعتراض باطل ہے کہ یہ حج دراصل رسم جاہلیت تھا۔
رہی مذہبی سیاست کی بات تو جناب انسان کو جس نے پیدا کیا ہے تو اسکو اسی ذات کا حکم ماننا ہوگا، چاہے اس پر اس کام کی حکمت کھلتی ہے کہ نہیں، مخلوق اپنے خالق کے سامنے عاجز ہے، لھذا اگر اس نے یہ مخصوص افعال کرنے کا حکم دیا تو چاہے ہنسے یا روئے اس نے عمل کرنا ہے۔ ہاں حکمت کیا ہے تو یہدنیا مین بھی معلوم ہوجائے ورنہ اخرت تو گئی نہیں ہے۔
۔
۔
۔
۔
(کیا عقل تسلیم کرتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ایسی تمام خرافات ایمانیات کے زمرے میں تو آسکتی ہیں مگر عقلیات میں ہرگز نہیں کیا عقل تسلیم کرتی ہے)
۔
دراصل عقل کی پرواز وہاں تک ہوتی ہے جہاں تک اسکی پہنچ ہوتی ہے ، لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ بس جہاں عقل رک گئی تو راستہ بھی ختم ،نہیں بلکہ کائنات بہت وسیع ہے اور ابھی بہت سا کام ہے عقل کےبلوغت کے واسطے۔
بھائی جو ذات یہ دعوی کرتی ہے کہ میں نے نوح علیہ السلام کو پیدا کیا ہے جو کہ پہلے موجود ہی نہیں تھا، تو وہ ذات اسکو دیر تک زندہ نہیں رکھ سکتی؟
جو ذات ہدہد کا خالق ہے تو اس سے بادشاہوں کی خدمت نہیں لے سکتا۔
اسی طرھ یہ دوسرے واقعات بھی ہیں۔ یا تو بالکل اس ذات کا انکار کرنا پڑے گا جو کہ ہر چیز کا خلاق ہے اور یہ عقل نہین مانتی کہ یہ سب کام اپنے آپ ہوں، بلکہ ضرور کوئی اسکا نگرانی کرنے والا ہے، اور جب خالق مان ہی لیا تو یہ چھوٹے موٹےبواقعات اسکے سامنے کیا ہیں۔
کیا خیال ہے عقل درست کام کر رہی ہے کہ نہیں؟ کچھ کہیں گے؟

درویش خُراسانی نے لکھا ہے کہ

بنیاد پرست صاحب اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے جوابات کو شائع کردیں اور اگر مناسب نہ سمجھیں تو شائع نہ کریں ۔ ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا کیونکہ یہی جوابات میں نے مکی کے بلاگ پر پہلے ہی پوسٹ کئے ہیں۔ شکریہ

shahidnadeem نے لکھا ہے کہ

قرآن پاک الله پاک کی سچی کتاب ہے. اس میں الله پاک نے ہر علم رکھا ہے. جس کو جتنا علم سنبالنے کی طاقت الله پاک نے عطا کی ہے. وہ اتنا ہی علم حاصل کر لیتا ہے.
قرآن پاک واحد کتاب جو دنیا میں سب سے زیادہ پرنٹ کی جاتی ہے اور پڑھی جاتی ہے.

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔