ہفتہ, مئی 7, 2011

عقیدہ ظہور امام مہدی کی اسلام میں حیثیت

ایک بلاگر نے اپنے بلاگ پر امام مہدی کے بارے میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے  کچھ کمنٹس دیے.
 " میں تو سمجھتی تھی کہ یہ امام مہدی کا چکر شیعوں سے تعلق رکھتا ہے لیکن اسکی جڑیں سنیوں میں پائ جاتی ہیں"۔

ایک  مبصر کے متوجہ کرنے پر  کہ امام مہدی کا تذکرہ تو  احادیث میں بکثرت موجود ہے ’کے جواب میں  لکھا   کہ
"  کسی چیز کا منبع اگر قرآن میں موجود نہیں ہے تو کیا احادیث سے اسکا حوالہ کافی ہے ؟ ایمان کی دو بنیادی شرائط ہیں اللہ کی وحدت اور رسول کی نبوت ۔اسکے علاوہ ایمان مفصل یا ایمان مجمل دونوں میں امام مہدی پہ ایمان لانے کا تذکرہ نہیں۔" 

 اس کے بعد کچھ  ملحد قسم کے   تبصرہ نگاروں نے اپنی  ازلی بدبختی کا اظہار کرتے ہوئے   امام المجاہدین  شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ  کے بارے میں اپنی بدبو دار ذہنیت کا اظہار کیا ہی ، ساتھ حضرت امام مہدی کے بارے میں بھی زبان درازی کی،   ایک   بد بخت نے امام مہدی  کو طنزیہ انداز میں پیر مہدی اور عیسی علیہ السلام کو نعوذبااللہ مسیح ری لوڈڈ کہہ کر اپنی  کفر اور منافقت کا کھلم کھلا اظہار کیا۔

یہ طبقات تو محض اپنی روشن  خیالی اور دین بیزاری کی وجہ سے صحیح احادیث  میں تواتر کے ساتھ بیان کیے گئے اور اہل سنت والجماعت کے اہم عقیدہ  " عقیدہ امام مہدی" سے بے خبر ہو نے کی وجہ سے  اس بارے زبان درازی کرتے ہیں، ان کے علاوہ بھی  ایک  طبقہ  ہے جو بظاہر دیندار کہلاتا ہے لیکن   امام مہدی کے بارے میں لکھی گئی کتابوں اور انکے اخیر زمانہ میں ظہور اور مسلمانوں کی نشاط ثانیہ میں کردار کی احادیث اور واقعات کو محض فکشن سمجھتا ہے اس کو ایک غیر اہم موضوع قرار دیتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح حدیث جن کی تشریح وتطبیق  نہیں بلکہ الفاظ ان واقعات کے شہادت دیے رہے ہیں  ’ کا ظاہری طور پر انکار کرتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ امام مہدی کا ظہور  صرف قیامت کی ایک نشانی ہوگی بس، باقی  سب غلط تطبیق اور تشریحات ہیں۔

میں کوشش کروں گا کہ اس مسئلہ پر اسلامی ذخائر علوم کے مستند حوالوں کے ساتھ روشنی ڈالوں۔


دین میں حدیث کا مقام

امام مہدی کے متعلق مستند احادیث سے کچھ لکھنے سے پہلے میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں  کہ  قرآن و حدیث  اتباع اور  حجت کے اعتبار سے ایک ہی درجہ میں ہیں ،کتاب وسنت دونوں ہی اللہ تعالی کی طرف سے وحی ہیں اور ان کی اتباع واجب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ارشاد فرمایا :
اور نہ تو وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ (  النجم 3 -4)

اور مقدام بن معدی کرب بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
خبردار بیشک مجھے کتاب اور اس کے ساتھ اس کی مثل بھی دی گئی ہے، ہو سکتا ہے کہ ایک وقت آئے اور ایک آدمی ناقص العقل اپنے گاؤ تکیہ پر بیٹھا ہو اور تمہیں یہ کہے کہ صرف اس قرآن پر ہی عمل کرو اس میں جو حلال ہے اسے حلال جانو اور جو حرام ہے اسے حرام جانو ۔
(ابو داؤد حدیث نمبر (4604)

اس لیے علما ئے اہل سنت کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ حدیث  کا منکر، اسکو کمتر سمجھنے والا اوراسکا مذاق اڑانے والا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

احادیث کی تطبیق

احادیث کی مناسب تطبیق خود صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے جیسا کہ وعظ و خطبہ کیلئے کھڑے ہوتے ہیں چنانچہ وعظ فرمایا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فتنوں سے آگاہ فرمایا جو اس وقت سے لیکر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والی تھیں، ان سب کو ذکر فرمایا اور ان میں سے کوئی چیز بیان سے چھوڑی نہیں، ان باتوں کو یاد رکھنے والوں نے یاد رکھا اور جو بھولنے والے تھے وہ بھول گئے اور بعض لوگوں نے فراموش کردیا. میرے یہ دوست (یعنی صحابہ) اس واقعہ سے واقف ہیں لیکن ان میں‌سے بعض ان باتوں‌کو جانتے ہیں اور بعض کو تفصیل کے ساتھ یاد نہیں کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ نسیان کا طاری ہوجانا انسانی خواص سے ہے، میں بھی انہی لوگوں میں سے ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کی خبر دی تھی اور جن باتوں‌کو میں بھول گیا ہوں اگر ان میں‌سے کوئی بات پیش آجاتی ہے تو میں اس کو دیکھ کر اپنا حافظہ تازہ کرلیتا ہوں جس طرح کہ جب کسی غائب شخص کا چہرہ نظر آجاتا ہے تو وہ چہرہ دیکھ کر اس شخص کو پہچان لیا جاتا ہے. (بخاری ومسلم بحوالہ مظاہر حق جدید شرح مشکوۃ شریف جلد چہارم کتاب الفتن الفصل الاول حدیث نمبر 1)


عقیدہ امام  مہدی اور شیعہ

امام مہدی کا عقیدہ خالص اہل سنت کا عقیدہ ہے،   شیعہ مذہب کے وجود میں آنے سے تیس سال پہلے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں   امام مہدی کے بارے  تفصیل بتادی تھی،  اہل سنت کا عقیدہ امام مہدی انہی احادیث پر  مشتمل ہے، شیعہ کی امام  مہدی کے بارے میں بیان کی گئی روایتوں کا بغور مطالعہ کرنے والا آسانی سے اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ شیعہ کا امام مہدی حقیقت میں وہی ہے جسے دجال کہا جاتا ہے، مثلا  شیعہ  کی کتابوں کے مطابق انکا امام مہدی  (اصل قرآن) لے کر غار میں چھپا بیٹھا ہے  اور قیامت کے قریب اس غار سے خروج کرے گا اور دجال کے متعلق بھی روایتوں میں یہی کچھ لکھا ہے کہ وہ غار میں چھپا ہوا ہے، اور  شیعہ کی  کتابوں کے مطابق یہ بھی خدائی کاموں پر کنٹرول رکھتا ہوگا اور دجال کے متعلق بھی احادیث میں یہی بیان کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔  خلاصہ یہ کہ کسی شیعہ، قادیانی، بہائی فرقہ کے امام مہدی کے متعلق عقیدہ  کا  احادیث میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ “مسئلہ مہدی” کے بارے میں اہل حق کا نظریہ بالکل صحیح اور متواتر ہے اور اہل باطل نے اس سلسلہ میں تعبیرات و حکایات کا جو انبار لگایا ہے نہ وہ لائق التفات ہے اور نہ اہل حق کو اس سے مرعوب ہونے کی ضرورت ہے۔


 حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ


امام مہدی کے متعلق جن صحابہ کی روایات احادیث کی کتابوں میں ذکر کی گئی ہیں ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ،حضرت  ابن عباس  رضی اللہ عنہ، حضرت  ابن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت انس رضی اللہ ،  حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا  وغیرہ جیسے جلیل القدر صحابہ و صحابیات شامل ہیں۔

اہل سنت ولجماعت  عقیدہ کی مستند کتاب عقیدہ  سفارینی اور شارع  نے امام مہدی کی تشریف آوری کے متعلق معنوی تواتر کا دعوی کیا ہے اس کو اہل سنت والجماعت کے عقائد میں شمار کیا ہے، لکھتے ہیں:
" امام مہدی کے خروج کی روایتیں اتنی کثرت کے ساتھ موجود ہیں کہ اس کو معنوی تواتر کی حد تک کہا جاسکتا ہے اور یہ بات علمائے اہل سنت کے درمیان اس درجہ مشہور ہے کہ اہل سنت کے عقائد میں ایک عقیدے کی حیثیت سے شماری کی گئی ہے" ( شرح عقیدہ سفارینی ص 79)


امام مہدی کے متعلق امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا موقف :

شاہ ولی اللہ اپنی کتاب ازالتہ الخفا میں لکھتے ہیں :

" ہم یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نص فرمائی ہے کہ امام مہدی قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے اور وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک امام برحق ہیں اور وہ زمین کو عدل وانصاف کے ساتھ بھر دیں  گے جیسا کہ ان سے پہلے ظلم اور بے انصافی کے ساتھ بھری ہوئی تھی۔ ۔ ۔  پس  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے امام مہدی کے خلیفہ ہونے کی پیش گوئی فرمائی اور امام مہدی کی پیروی کرنا ان امور مین واجب ہوا جو خلیفہ سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ان کی خلافت کا وقت آئے گا، لیکن یہ پیروی فی الحال نہیں بلکہ اس وقت ہوگی جبکہ امام مہدی کا ظہور ہوگا اور حجر اسود اور مقام ابراھیم کےدرمیان ان کے ہاتھ پر بیعت ہوگی۔
(ازالۃ الخفا  جلد 1، صفحہ 6)


حضرت امام مہدی احادیث کی روشنی میں

حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے اور جس پر اہل حق کا اتفاق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے اور نجیب الطرفین سید ہوں گے۔ ان کا نام نامی محمد اور والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ جس طرح صورت و سیرت میں بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے اسی طرح وہ شکل و شباہت اور اخلاق و شمائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے، وہ نبی نہیں ہوں گے، نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے، نہ ان کی نبوت پر کوئی ایمان لائے گا۔ان کی کفار سے خوں ریز جنگیں ہوں گی، ان کے زمانے میں کانے دجال کا خروج ہوگا اور وہ لشکر دجال کے محاصرے میں گھِرجائیں گے، ٹھیک نماز فجر کے وقت دجال کو قتل کرنے کے لئے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور فجر کی نماز حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں پڑھیں گے، نماز کے بعد دجال کا رخ کریں گے، وہ لعین بھاگ کھڑا ہوگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے اور اسے “بابِ لُدّ” پر قتل کردیں گے، دجال کا لشکر تہ تیغ ہوگا اور یہودیت و نصرانیت کا ایک ایک نشان مٹادیا جائے گا۔


خلاصہ

اس عقیدہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام سلف صالحین، صحابہ و تابعیناور ائمہ مجددین معتقد رہے ہیں۔  آخری زمانے میں ایک خلیفہ عادل کے ظہور کی احادیث صحیح مسلم، ابوداوٴد، ترمذی، ابن ماجہ اور دیگر کتب احادیث میں مختلف طرق سے موجود ہیں۔ یہ احادیث اگرچہ فرداً فرداً آحاد ہیں مگر ان کا قدر مشترک متواتر ہے۔ آخری زمانے کے اسی خلیفہ عادل کو احادیثِ طیبہ میں “مہدی” کہا گیا ہے، جن کے زمانے میں دجال اعور کا خروج ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کریں گے۔ بہت سے اکابر امت نے احادیثِ مہدی کو نہ صرف صحیح بلکہ متواتر فرمایا ہے اور انہی متواتر احادیث کی بنا پر امتِ اسلامیہ ہر دور میں آخری زمانے میں ظہورِ مہدی کی قائل رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کے عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں بھی “علاماتِ قیامت” کے ذیل میں ظہورِ مہدی کا عقیدہ ذکر کیا گیا ہے،


کیا ہمیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر   اما م مہدی  کے  انتظار میں بیٹھ جانا چاہیے ؟

احادیث میں اخیر زمانہ میں امام مہدی کا نجات دہندہ بن کر نکلنے کا یہ مطلب نہیں کہ  ہم سب کچھ چھوڑ پر بس انکے انتظار میں لگ جائیں، بلکہ  اپنے عقائد، اعمال اور نظریات کی فکر کرتے رہیں  اور اعلا کلمتہ اللہ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے رہیں ۔ احادیث میں  یہ بات منقول ہے کہ  امام مہدی سے لڑنے کے لیے روانہ ہونے والا پہلا لشکر مسلمانوں کا ہی ہوگا، یہ کون لوگ ہوں گے؟ حقیقت میں    یہ وہ نام نہاد مسلمان ہوں گے جو فکری ارتداد کا شکار ہوچکے ہوں گے اور ان کو حضرت مہدی کے رفقا دہشت گرد ، شدت پسند اور بنیاد پرست نظر آرہے ہوں گے۔

یہ بات مجرب ہے کہ  فکری ارتداد کی یہ  لہر جو  آج کل  خصوصا نوجوان طبقہ میں اٹھ رہی ہے  یہ ان فتنہ باز پروفیسروں ، ڈاکٹروں اور سکالروں کے مذاکرے اور مباحثے سننے کا نتیجہ ہے  جس سےعوام میں فکری آزاد خیالی اور کفریہ نظریات پیدا ہورہے ہیں  ، یہ کفریہ نظریات کا کانٹا ایسا ہے کہ لاکھ سمجھاؤ دل سے نہیں نکلتا۔ یہ ایمان کے ڈاکو اتنے چالباز ہیں کہ خبر بھی نہیں ہوتی کہ متاع عزیز لوٹ لیتے ہیں، پروگرام ختم نہیں ہوتا کہ ایمان ٹھکانے لگ چکا ہوتا ہے ۔ چونکہ حضرت مہدی بنیادی طور پر ایک جہادی لیڈر کے طور پر سامنے آئیں گے اور پوری دنیا میں طاغوت کے خلاف جدوجہد کا اعلان کریں گے، اس لیے عموما ان نام نہاد ڈاکڑوں، فتنہ باز  پروفیسروں اور اس دجالی میڈیا کا ہدف   جہاد اور مجاہدین ہوتے  ہیں، آج امت کے اس طبقہ کے خلاف اس طریقے سے پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ اب یہ بات یقینی لگتی ہے کہ اگر آج امام مہدی کا ظہور ہوجائے تو ان گمراہ لوگوں اور میڈیا کو سننے، دیکھنے والے مہدی کی علامات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی انکا ساتھ نہ دیں گے بلکہ اپنے گھروں میں بیٹھے علما،  طالبان اور مجاہدین پر تبصرے کرتے رہیں گے۔    اگر ہم نے اس فتنہ کے دور میں اپنا ایمان بچانا ہے تو قرآن کی نصیحت " کونو مع الصدقین" سچو ں، ایمان والوں کے ساتھ ہوجاؤ ’  ہی ایک نجات کا   ذریعہ ہے۔  انبیا کا سلسلہ تو ختم ہوچکا ہے ، ہاں ا ن کے سچے وراثین اب بھی موجود ہیں، ہم ان سے تعلق بنائے رکھیں اور وساوس کے حل کے لیے ان سے رجوع کرتے رہیں ۔


عقیدہ امام مہدی  پر چند اہم کتابیں :


اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے یہ کتابیں ملاحظہ فرمائیں۔

شیخ العرب والعجم شیخ السلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی کتاب 


نواسہ حضرت کاشمیری مولانا مفتی ابولبابہ شاہ منصور مدظلہ العالی کی کتاب

19 comments:

Md نے لکھا ہے کہ

علما ئے اہل سنت کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ حدیث کا منکر، اسکو کمتر سمجھنے والا اوراسکا مذاق اڑانے والا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
__________________________________________________
درج بالا متفقہ فیصلہ میں اہل سنت کے کون سے علمائے کرام شامل ہیں ؟۔ اور یہ کہاں ہُوا ؟۔ امید ہے آپ ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں گے ۔ جہاں تک میری معلومات ہے درج بالا عقیدہ صرف اہل حدیث کا ہے چونکہ مودودی مکتب اور فراہی مکتب تو اس طرح کا عقیدہ نہیں رکھتا اور فقہ حنفی کے نامور عالم سرخی کا بھی ایسا عقیدہ نہیں ہے ۔

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

بلاگ پر آنے کا شکریہ۔

جناب اس پر ہر مکتبہ فکر کے ایک ہزار سے زائد علما کا متفقہ فتوی موجود ہے ۔ یہ فتوی پاکستان کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ العلوم السلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شیخ الحدیث مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ نے مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ کے کہنے پر تحریر کیا تھا اور اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دیش اور انڈیا تک کے ہر مکتبہ فکر کے بڑے علما کے دستخط کروائے اور پھر اسکو کتابی شکل میں طبع کروایا۔ ملاحظہ فرمائیں

کتاب آن لائں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

http://www.archive.org/stream/FitnaEInkarEHadith-Ahlehaq.com/fitna-inkar-e-hadith-perwaiziat#page/n1/mode/2up


ڈائریکٹ ڈاؤنلوڈ لنک

http://www.archive.org/download/FitnaEInkarEHadith-Ahlehaq.com/fitna-inkar-e-hadith-perwaiziat.pdf

فور شیئر ڈاؤنلوڈ لنک
http://www.4shared.com/document/H1S18a4l/Fitna_Inkar_e_Hadith_-_Perwaiz.html

Md نے لکھا ہے کہ

محترم آپنے جو لنک فراہم کئے ہیں وہ تو پرویزیت کے بارے میں فتویٰ ہے جو پانچ کے بجائے دو نمازیں پڑھتے ہیں ۔ اور تمام احادیث کے انکاری ہیں ۔ جبکہ مودودی ، اسرار احمد، فراہی ، اصلاحی ، سرخی ، غامدی ، اور جدید اسلامی محقق و اسکالر جناب ڈاکٹر فضل رحمٰن صاحب و دیگر اس بات کے داعی ہیں کہ احادیث میں تدوین کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک دائرہ اسلام سے خارج کی بات ہے تو ہر فرقہ نے دوسرے فرقوں کے ماننے والوں کو اسلام سے خارج کردیا ہے اب بچا کون ہے ؟؟؟ بُہت شُکریہ۔

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

محترم ہمارے علما بلاوجہ تکفیر کے قائل نہیں ہیں، ان لنکس میں حقیقت میں منکرین حدیث کے تمام عقائد و افکار ثبوت کے ساتھ دکھا کر ان پر قرآن و حدیث کی روشنی میں رد اور ہر مکتبہ فکر کے علما کا متفقہ فتوی پیش کیا گیا ہے۔ ،باقی جو جزوی طور پر حدیث کا منکر ہے اس کا رد بھی ان جزیات میں ہوگا۔ موجودہ دور کے دینی بے راروی پھیلانے والے ڈاکٹری فتنے خصوصا فراہی، اصلاحی ، فضل الرحمان اور جدید ترین مغربی گرگٹ غامدی کے عقائد و نظریات کے رد میں بھی دلائل اور ثبوت کے ساتھ کافی کچھ لکھا جاچکا ہے۔ ہمارا یہ فی الحال موضوع نہیں ، اس لیے اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں۔آپ کو موضوع پر کوئی اشکال ہوتو میں مزید تفصیل دے سکتا ہوں۔

عنیقہ ناز نے لکھا ہے کہ

آپ نے قرآن اور حدیث کو ایک ہی درجے پہ فائز قرار دیا ہے۔ یہ کون سے علماء ہیں جنہوں نے اسے ایک ہی درجے پہ فائز سمجھا۔ اگر یہ ایک ہی درجہ ہے تو ایسا کیوں کہ قرآن کے نزول کے لئے جبرئیل کی مدد حاصل کی جائے اور حدیث کی تدوین کے لئے ایسے تمام علماء کی مدد حاصل کی جائے جن میں سے اکثر احادیث کو گھڑا ہوا سمجھا جائے۔
کیا آپ خدا کی اس عظیم حکمت پہ کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں کہ اس نے اپنے کلام کے لئے دو مختلف ذرائع ۔ کیوں چنے۔
پھر خدا نے اسی پہ بس نہیں کی بلکہ اپنی کتاب کے تحفظ کے بارے میں تو قیامت تک وعدہ کر لیا۔ لیکن علمائ کے ذریعے ہونے والی احادیث کے بارے میں ایسا نہیں کہا۔
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ خدا نے احادیث کے بارے میں ایسا دعوی کیوں نہیں کیا۔ کیا اس طرح خدا دائرہ ء اسلام سے باہر نہیں ہو جاتا۔
میں اس وقت پاکستان میں نہیں، اور اس موضوع پہ وہاں آنے کے بعد ایک اور مولانا صاحب کے خیالات پہ مبنی عقائد پہ لکھنا ضرور پسند کرونگی۔
اگر کسی شخص کو اسلام کے آفاقی اصولوں سے دلچسپی ہے تو اسے اس قسم کے خیالات کے پرچار سے دور رہنا چاہئیے۔ البتہ یہ کہ اسلام کو اپنے نمود اور نمائیش کے لئے استعمال کرنے والے اور اسے ایک جبر کی قوت کے طور پہ استعمال کرنے والے خدا کو بھی دائرہ ء اسلام سے باہر رکھنے کی قوت رکھتے ہیں۔ اس لئے اسے اسے دین کی اس حیثیت سے کوئ دلچسپی نہیں۔

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

محترمہ یہ بات حقیقت ہے قرآن اللہ کا کلام ہے اور حدیث اس کی شرح ہے۔اور ہر دینی پختہ علم رکھنے والا جانتا ہے کہ قرآن اور حدیث " اتباع اور حجت " کے اعتبار سے ایک ہی درجہ رکھتے ہیں۔ جو حیثیت قرآن کے حکم پر عمل کرنے کی ہے وہی حیثیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی ہے، اسی لیے اللہ نے اطیعو اللہ و اطیعو الرسول ساتھ ساتھ رکھے ہیں۔ اور ایک جگہ تو یہاں تک فرما دیا کہ " من یطع الرسول فقد اطاع اللہ" جس نے رسول کی اطاعت کی گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی (سورۃ النسا) قرآن وحی متلو ہے اور حدیث وحی غیر متلو۔ آپ کسی مستند عالم سے پوچھ لیں یا جو آیت میں نے اپنے موقف کی تائید میں کوٹ کی ہے اس کی تفسیر کسی اچھی تفسیر کی کتاب تفسیر ابن کثیر وغیرہ سے پڑھ لیں۔باقی حدیث کی مختلف اقسام ہیں ،صحیح، موضوع، ضعیف وغیرہ وغیرہ۔یہ حدیث اور سکی سند پر تحقیق ہے، نہ کہ حدیث پر شک کا ذریعہ۔
بغیر علم کے اور اپنی سوچ اور اندازے سے دینی معاملے میں بات کرنا خطرناک ہوتی ہے۔
دین میں حدیث کے مسئلہ پر آپ مفتی تقی عثمانی صاحب کی یہ کتاب پڑھ سکتیں ہیں، انشا اللہ نفع بخش ثابت ہوگی۔
http://www.archive.org/download/hujjiyat-e-hadees/hujjiyat-e-hadees.pdf

aamir نے لکھا ہے کہ

قرآن قانون الہی کا متن ہے، احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کی شرح ہے، صحابہ کرام (رضوان اللہ علیھم اجمعین) اس کا عملی نمونہ (معیار) ہیں اور فقہاء کرام اس کے وکلاء ہیں (یاد رہے کہ وکلاء کی حیثیت قانون بنانے کی نہیں‌بلکہ قانون کی تشریح کرنا ہوتا ہے)ا

Farigh نے لکھا ہے کہ

"امام المجاہدین شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کے بارے میں اپنی بدبو دار ذہنیت کا اظہار کیا ہی"

Ap kay "imam-ul-mujahideen" kai followers nay Pakistan kay chappay chappy ko khon sa nehla dia hay, aap jaisay logon ki wajah sai hi loag deen sai door bhagtay hain

UncleTom نے لکھا ہے کہ

ایم ڈی صاحب آپ کو اٹھارہ سو اٹھاسی سے پہلے کے علماء کی کوی لسٹ نئی ملی جو منکرِ حدیث کے متھے پر جنتی کی مہر بتلاتے ہوں ؟؟؟؟

اور دین سے کچھ جاہلوں کے علم میں اضافہ کر دوں کہ صحیح و متواتر حدیث کا منکر ایسا ہی کافر جیسا قرآن کا ۔۔۔

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

شیخ اسامہ بن لادن بلاشبہ امام المجاہدین تھے، انکا پاکستانی طالبان جو کہ حقیقت میں اندرونی، بیرونی ایجنسیوں کا کھیل ہیں’ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس مرد مجاہد کا تعلق افغان طالبان سے تھا، جس نے اور جنہوں نے پہلی دفعہ ایک انٹرنیشنل دہشت گرد کے سامنے کلمہ حق کہا۔ وہ دہشت گرد جس نے افغانستان اور عراق میں اپنے مذموم مقاصد کے لیےجھوٹی کہانیاں گھڑیں اور دنیا کی آنکھوں میں اپنے میڈیا کے ذریعے دھول جھونکتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کو بغیر کسی جرم کے بھون ڈالا، شہروں کے شہر تباہ کردیتے۔ آج بھی مشرق وسطی، لیبیا میں کیا کھیل کھیل رہا ہے صرف صاحب نظر لوگ جانتے ہیں۔ یہودی میڈیا کے جھوٹے پراپیگنڈے کی یہ دھول صرف یورپ امریکہ کے لوگوں تک نہیں رہی بلکہ آپ جیسے لوگوں کی آنکھوں میں بھی پڑی ہوئی ہے۔ جن کو اپنے پرائے کی کوئی پہچان نہیں، جو کچھ یہودی میڈیا پڑھا رہا ہے اور دکھا رہا ہے، وہ بس اس پر امنا و صدقنا کہہ کر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اسکو فرمان الہی سمجھتے ہیں۔۔

aamir نے لکھا ہے کہ

فارغ صاحب لگتا ہے عقل سے بھی فارغ ہیں. ایسے لوگ ہر بات کو مغربی (مغرب یافتہ) میڈیا کی عینک سے دیکھتے ہیں

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے لکھا ہے کہ

آپکی تحریر موضوع کے لحاظ سے ماشاءاللہ نہائت موزوں اور وضاحت لئیے ہوئے ہے۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ شمالی افریقہ کے عرب ممالک میں خروج کی بیشتر تحریکوں کے پیچھے امام مہدی علیۃ السلام کی موعودیت کا دعواہ رہا ہے۔ ایک آدھ تحریک تو خلافت کے لئیے بہت مسئلہ بنی۔

مطلب یہ کہ اس عقیدے کے بارے شمالی افریقہ کے عرب ممالک کے عوام نہائت راسخ عقیدہ رکھتے ہیں۔

میری ذاتی رائے میں ہر اس بات کو خواہ وہ کسقدر محیر العقل ہی کیوں نہ ہو اس پہ مسلمان کو یقین کرنا چاہئیے ۔ ایمان رکھنا چایہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہو۔ اور یہ مسلمانی کا دعواہ کرنے والوں کے لئیے ایک لازمی امر ہے۔

ورنہ کل کو تو یہ لوگ کہیں گے قرآن میں جو جنات کا زکر ہے ہمیں ثابت کر کے دکھاؤ؟ جبکہ یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ایسے محیر العقول واقعے جو تواتر سے ہوتے ہیں مگر سائنس انکی توجہیہ پیش کرنے سے قاصر ہے۔

ہم عقل و دانش اور سائنسی علوم کے خلاف نہیں بلکہ انھیں حاصل کرنے اور ان میں ترقی کرنے کے قائل ہیں۔ مگر اس سے دین اسلام کو ناپنے کا زریعہ تسلیم نہیں کرتے۔

Shahnawaz نے لکھا ہے کہ

According to Doctor Tahir ul Qadri Sb .Hazrat Imam Mahdi 2200 Hijzri, ya 3200 Hijri, ya 4200 hijri , so on , May ayain gain.

for Reference Please watch

http://www.youtube.com/watch?v=kvtzOY6JpMI

عبد اللہ نے لکھا ہے کہ

ماشاءاللہ
بہت اچھی تحریر لکھی ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے فتنہ سے بچائے

میں آپ کے بلاگ پر پہلی دفعہ آیا ہوں اور آپ کے بلاگ کا نام بنیاد پرست دیکھ کر دلی خوشی ہوئی
مجھے بھی بنیاد پرست ہونے پر فخر ہے اور دین کی عمارت بنیادوں کے بغیر قائم رہ بھی نہیں سکتی۔

Yousuf Hashmi نے لکھا ہے کہ

http://therealislam1.wordpress.com/2012/06/16/qadianiat-urdu-part1/

Shamroz Khan نے لکھا ہے کہ

مجھے صرف یہ کہنا ہےکہ آپ نے خوداس بلاگ پر غیر تہذیب یافتہ الفاظ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ جبکہ یہاں آپ نے لوگوں کو "گرگٹ" تک کہہ دیا۔ یاد رہے کہ کوئی بھی شخص غیر شائستگی الفاظ اُس وقت استعمال کرتا ہےجب اسے اپنے دلائل کےکمزور ہونے کا یقین ہو جاتا ہے۔ میں آپ کے دلائل پر غور کر لیتا لیکن آپ کو خود اپنے دلائل پر یقین نہیں ہے تو کوئی آپ کی بات پر کیسے یقین کرے گا۔ امید ہے بہتری کی کوشش کریں گے اور آپ اپنے ایسے تبصرے اور الفاظ یہاں سے حذف کر دیں گے جو خود آپ کے بلاگ کے قوانین کے خلاف ہیں۔ آپ کا بہت شکریہ۔

سید سبطین حسین قادری نے لکھا ہے کہ

مجھے بڑا افسوس ھوا کہ اپ کا علم سنی بنیاد پرستوں کے دائرے میں بند ھے اور حق کو دیکھتے ھوئے بھی حق کہنے سے قاصر ھو۔ کیونکہ تم نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مکمل تعارف پیش نہی کیا۔
میں سنی عقائد کا پیش رو ہو کہ یہ ایک صوفی سنی عقیدہ لکھ رہا ہوں کہ مہدی علیہ السلام حضرت امام حسن عسکری کا بیٹا ہے جو 15 شہبان 255 ھجری کو پیدا ہوا ہے اور اللہ کے فضل و قدرت سے ذندہ ھے۔ اور اللہ کے حکم سے دوبارہ ظہور فرمائیں گے۔ اس طرح عقیدہ اکر شیعہ حضرات کا ھے تو بلکل ٹھیک ھے اور جگھڑنے کی کوئی بات نہی کہ ہم اصل حقیقت سے انکار کر دیں جو نفس امارہ کی پیروی کرنے والی بات ھوگی۔ ھمارے بہت سے اھل سنت کے علماء حق نے تسلیم کیا ھے کہ مہدی وہی ہے جو امام حسن عسکری کے بیٹے ہیں۔

ابن خلکان
ابن اثیر
ابن جوذی
عبدالرحمان جامی
ذھبی
کلینی
وعیرہ کا یہ مکمل عقیدہ تھا۔
ssbacha @gmail.com
www.pirbaba.org

سید سبطین حسین قادری نے لکھا ہے کہ


حضرت امام محمد مهدی عليه السلام

 



 

امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سلسلہ عصمت محمدیہ کی چودھویں اورمسلک امامت علویہ کی بارھویں کڑی ہیں آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نرجس( ۱) خاتون تھی۔

آپ اپنے آباوءاجدادکی طرح امام منصوص ،معصوم ،اعلم زمانہ اورافضل کا ئنات ہیں ۔آپ بچپن ہی میں علم وحکمت سے بھرپور تھے۔ (صواعق محرقہ ۲۴۱#  ) آپ کو پانچ سال کی عمرمیں ویسے ہی حکمت دے دی گئی تھی ،جیسے حضرت عیسی کو ملی تھی اورآپ بطن مادرمیں اسی طرح امام قراردئے گئے تھے،جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام نبی قرارپائے تھے۔(کشف الغمہ ص ۱۳۰ )۔
آپ کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار پیشن گوئیاں فرمائی ہیں اوراس کی وضاحت کی ہے کہ آپ حضورکی عترت اورحضرت فاطمةالزہرا کی اولاد سے ہوں گے۔ ملاحظہ ہوجامع صغےرسیوطی ص ۱۶۰ طبع مصرومسند احمدبن حنبل جلد ۱ ص ۸۴ طبع مصروکنوزالحقائق ص ۱۲۲ ومستدرک جلد ۴ ص ۵۲۰ ومشکوة شرےف ) آپ نے یہ بھی فرمایاہے کہ امام مہدی کا ظہورآخرزمانہ میں ہوگا ۔اورحضرت عیسی ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ملاحظہ ہو صحیح بخاری پ ۱۴ ص ۳۹۹ وصحیح مسلم جلد ۲ ص ۹۵ صحیح ترمذی ص ۲۷۰ وصحیح ابوداؤد جلد ۲ ص ۲۱۰ وصحیح ابن ماجہ ص ۳۴ وص ۳۰۹ وجامع صغےرص ۱۳۴ وکنوزالحقائق ص ۹۰) آپ نے یہ بھی کہاہے کہ امام مہدی میرے خلیفہ کی حیثیت سے ظہورکریں گے اور  ےختم الدےن بہ کما فتح بنا  جس طرح میرے ذریعہ سے دین اسلام کا آغاز ہوا ۔ اسی طرح ان کے ذریعے سے مہراختتام لگادی جائےگی ۔ ملاحظہ ہوکنوزالحقائق ص ۲۰۹ آپ نے اس کی بھی وضاحت فرمائی ہے کہ امام مہدی کا اصل نام میرے نام کی طرح محمد اورکنیت مےروکنیت کی طرح ابوالقاسم ہوگی وہ جب ظہورکریں گے توساری دنیاکو عدل وانصاف سے اسی طرح پرکردیں گے جس طرح وہ اس وقت ظلم وجورسے بھری ہوگی ۔ ملاحظہ ہو جامع صغےرص ۱۰۴ ومستدرک امام حاکم ص ۴۲۲ و ۴۱۵ ظہورکے بعد ان کی فورابیعت کرنی چاہیے کیونکہ وہ خداکے خلیفہ ہوں گے ۔ (سنن ابن ماجہ اردوص ۲۶۱ طبع کراچی ۱۳۷۷ ھج) ۔

raza dar نے لکھا ہے کہ

السلام و علیکم -

مہدی رح کی روایت اگر چہ کثرت سے احدیث کی کتب میں پائی جاتی ہیں - لیکن ان روایات میں آپس میں بہت تضاد ہے -

ان روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ امام مہدی رح قیامت کے نزدیک ظاہر ہونگے ایک ظالم مسلمان جو سفیانی ہو گا (یعنی حضرت ابو سفیان رضی الله عنہ کی نسل سے ہو گا) جنگ کریں گے اور اس کو قتل کریں گے- یعنی بنو امیہ اور بنو ہاشم کی عداوت پھر سے ایک بار ابھر کر سامنے آ ے گی - اور امام مہدی رح اپنے جد امجد حضرت حسین رضی الله عنہ کی شہادت کا بدلہ اس سفیانی سے لیں گے -

ایک روایت میں مہدی رح بنو عبّاس کی نسل میں سے ہونگے -جب کے ایک روایت میں وہ حضرت فاطمہ رضی الله کی اولاد سے ہونگے -

پھر ایک روایت میں ہے کہ الله مہدی رح کو صرف ایک دن میں علم و حکمت سے سرفرز کرے گا (الله اپنے ایک بندے کو علم و حکمت سے سرفراز کرے گا چاہے قیامت کے قائم ہونے میں ایک دن رہ گیا ہو ) کیا قرآن کی آیات اوردوسری دیگر احادیث کے مطابق یہ ممکن ہے کہ الله نبی صل الله علیہ وسلم کے ایک امتی کو صرف ایک دن میں علم و حکمت سے نواز دے -جب کہ علم و حکمت کے حصول کے لئے تو سالہا سال محنت کرنی پڑتی ہے -

ایک روایت میں ہے کہ شام کے قطب و ابدال خروج مام مہدی رح کے وقت ان کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کریں گے - جب کہ قطب و ابدال کی اصطلاح خالص صوفیوں کی ایجاد کردہ اصطلاح ہے - اور صوفی مذہب دین اسلام کے ایک متوازی دین ہے -جو اسلام کے تین سو چار سو سال بعد عالم وجود میں آیا- جس کی بنیاد باطنی مذہب پر ہے-

ایک روایت میں یہ ہے کہ خراسان سے کالے جھنڈے نمودار ہونگے اور ان میں الله کے بندے امام مہدی رح ہونگے - اور الله لشکر کو فتح عنایت کرے گا - مجتہدین کی اکثریت کے نزدیک یہ روایت ضعیف سے بھی کم تر درجے کی ہے- اس کی کوئی حثیت نہیں -

مزید یہ کہ الصلح الکتاب بعد از قرآن "صحیح بخاری" میں مہدی رح سے متعلق ایک بھی روایت موجود نہیں - جب کہ امام بخاری رح نے اپنی "صحیح" میں قیامت کی علامات سے متعلق ایک پورا باب تحریر ہے-

یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ ان روایت کی بنیاد پر ماضی میں سبایوں (عبدللہ بن سبا کے پیروکار وں ) نے اور دوسرے بہت سے فاسقین نے پہلی صدی ہجری سے لے کر بیسویں صدی کے آخر تک بڑے بڑے فتنے برپا کیے اور اپنے مفادات کو اس نظریے کی بھینٹ چڑھایا -قریبا ١٥ سے ٢٠ ایسے فاسق پیدا ہوے جنھوں نے اس عقیدے کی بنیاد پر یا تو اپنے آپ کو مہدی ظاہر کیا یا ان کے پروکاروں نے خود ان کو مہدی رح بنا کر ان کے ہاتھ پر بیت کرلی -

غرض یہ کہ ان روایات کی بنا پر مہدی رح کی آمد سے متعلق نظریہ ہر دور میں متنازع رہا ہے -اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سبائی گروہ کی پیدا کردہ روایت ہیں جن کو ماضی میں شہرت حاصل ہونے کی بنا پر اہل سنّت نے بھی من و عن قبول کر لیا -(واللہ عالم )

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔