اتوار، 19 فروری، 2012

مُلا ہی ہر برائی اور فتنہ کا ذمہ دار کیوں ؟

اظہار الحق صاحب ہمارے بلاگستان کے ایک قابل اور عوام کا درد رکھنے والے قلم کار ہیں، انکی باتیں  چونکہ دل سے نکلتیں ہیں اس لیے جو جو پڑھتا ہے اس کے دل پر اثر کرتیں جاتیں ہیں، ، ہر ٹاپک پر بڑی سنجیدگی اور وقار سے بات کرتے ہیں ۔   چند دن پہلے انہوں نے  ایک کالم لکھا " اسے مسجد کے دروازے پر جوتے مارے جائینگے" کالم کیا ہے عوام کا درد رکھنے والے ایک حساس آدمی کی پکار ہے، اس کالم میں انہوں نے   ان (عوامی بیماریوں منافقت، جھوٹ، کرپشن  )  کا تذکرہ کیا جنکی وجہ سے  ہمارا معاشرہ اور ملک  تنزل کا شکار ہے ۔  ہمارے معاشرے میں واعظین اور ناصح چونکہ علما ہیں ا س لیے انہوں نے علما سے بھی شکوہ کیا  اور  انکے اس طبقہ  میں شامل کالی بھیڑوں کا ذکر بھی کیا۔  کالم ہر لحاظ سے مکمل تھا لیکن ایک صاحب جنہیں علماء دشمنی کا فوبیا ہے    انہیں  شاک گزار کہ اظہار صاحب نے  علما کے متعلق اتنی کم بات کیوں کی۔اس پر انہوں نے اپنے طور پر " اظہار الحق سے اظہار یکجہتی "کے نام پر علما و مدارس کے خلاف پورا ایک  آرٹیکل لکھ مارا اور  جی  بھر  کرمدارس اور علمائے کرام پر طعن وتشنیع کے نشتر برسائے  اور  گالیاں دیں ۔  ایسی معاشرتی برائیاں جن کے علما ذمہ دار نہیں انہیں  بھی  علما کے  سر تھونپ کر  اپنے قلب و جگر کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔ 
اظہار صاحب میرے  بزرگ ہیں اور میرے اساتذہ کی جگہ ہیں، میں یہ تو نہیں لکھ سکتا کہ انہوں نے غلط لکھا ہے، نہ ان کے کوٹ کیے گئے ایک   مولوی کی کرپشن کے واقعہ کا انکار کرتا ہوں  ۔  میں تو ایک ادنی  ، نا  تجربہ کار طالب  علم ہوں جسے  اردو بھی صحیح نہیں لکھنی آتی ،  میں بس اس مسئلہ کو ایک الگ  زاویہ سے دیکھتا ہوں  اس کے متعلق سوال و جواب کی شکل میں  کچھ بات کروں گا.

کیا مسجد کا  مولوی حقیقی معنوں میں عالم بھی ہے ؟
میرے خیال میں اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں اور مسئلے کی تحت تک پہنچنا چاہتے ہیں  تو  سب سے پہلے ہمیں  یہ تحقیق کرنا  ہوگی  کہ جن لوگوں  کو ہم مولوی کہہ رہے ہیں کیا وہ حقیقت میں   عالم بھی   ہیں   ۔؟ 
 حدیث میں آتا  ہے  العلماء و رثۃ الانبیاء ۔ علما انبیا  کے وارث ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ جو انبیا کے حقیقی وارث ہیں وہ کرپٹ نہیں ہوسکتےاورجہاں کرپشن ہوئی  وہاں حقیقت میں  علم کو منبر تک پہنچنے ہی نہیں دیا گیا ۔  منبر رسول جب  نااہل لوگوں کے حوالے کردیا  گیا، تو پھر  وہ ان مقاصد کے لیے استعمال ہوا جن کے لیے نہیں ہونا چاہیے تھا ، لازم ہے اس کے ذمہ دار  علما اور دینی مدارس قطعا نہیں.

اگر مسجد کا ملا  ٹھیک نہیں تو اسکا ذمہ دار کون ہے ؟
 مساجد میں محض چندہ کی باتوں، کافر کافر کے  کھیل، فرقہ پرستی کی باتوں، کرپشن،   غیر ضروری مسائل پر تقریروں کے  ذمہ دار  اگر علما  و مدارس بھی نہیں تو پھر کون  ذمہ داراہے؟ 
  اس  کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ  ان مولویوں کا انتخاب  کون کرتا ہے  ؟ کون یہ طے  کرتا ہے کہ اس منبر پر کون بیٹھے گا ؟
 ہم میں سے ہر بندہ جانتا ہے کہ یہ انتخاب  اس علاقے کی مسجد کے وہ ریٹائرڈ سرکاری بابو  کرتے ہیں ، جنکو سرکاری دفتروں سےیہ کہہ کر فارغ کردیا جاتا ہے کہ آپ  اب ایکسپائر ہوگئے اور مزید کام کے نہیں رہے ،وہ  پھر مسجد کی کمیٹیوں کی صدارت پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ہمارے ایک دوست کے  مطابق انکے علاقہ کی ایک  مسجد  میں  امام وخطیب کے لیے   تین مہینے تک  اماموں کے انٹرویو ہوتے رہے ۔ پانچ چھے ریٹائرڈ حضرات بیٹھ کر ایک امام کو بلاتے  دوسرے  کو بلاتے،تین مہینہ بعد  آخر میں  امامت و خطابت کے لیے ایک بائیس  سال کے لڑکے کا انتخاب کیا گیا   اور  وجہ انتخاب یہ بتائی  گئی کہ اس کی آواز بہت اچھی ہے ۔ اب  ہمیں  اس نوعمر سے کیا توقع رکھنی چاہیے کہ جب وہ  ممبر  پر بیٹھے گا تو کیا  گفتگو کرے گا ؟
 ہمارے لوگوں کا   معیار انتخاب  ہی یہی ہے کہ انہیں  صرف   اچھی آواز سننی ہے، انہیں وہ  مولوی چاہیے جو  نعتیں اچھی پڑھ سکتا ہوں،   تھوڑے سر لگا سکتا ہو ۔ ۔ ۔  جب یہ  اچھے سر لگانے والے گویے    مولوی بن کر  منبرپر بیٹھیں گے تو  پھر منبر  ومحراب کا تقدس اسی طرح ہی پامال ہوگا جس طرح ہمارے  گلی  محلے کی مسجد میں ہوتا نظر آتا ہے۔
طریقہ کار یہ ہونا چاہیے  کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ جو لوگ انتخاب کررہے ہیں    ا ن کے اندر انتخاب کرنے کی  اہلیت  بھی ہے یا نہیں۔ ؟  جب ایک پرائمری پاس آدمی یونیورسٹیوں کے پروفیسر منتخب کرنا شروع کردے گا تو اس یونیورسٹی کی  تعلیم کا کیا  حال ہوگا ؟  جب  ایک کمپوڈر ڈاکٹروں کا انتخاب کرنا شروع کردے گا  کہ کس آپریشن کے لیے کونسا ڈاکٹر مناسب ہے  اس ہسپتال کے مریض کا حال کیا ہوگا ؟  جب  کچہریوں کے اندر بیٹھے ہوئے منشی سپریم کورٹ کے ججوں کا انتخاب کرنا شروع کردیں گے تو   مقدمات کا حال کیا ہوگا ؟
جہاں پر انتخاب ٹھیک ہوا ، منبر اہل افراد کو سپرد کیا گیا ان کی برکت سے  بہتری بھی آئی  ہے  ،  وہاں  کے نمازی سلجھے ہوے اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، معاشرے میں ہمیں جو تھوڑی بہت دین کی جھلک نظر آتی ہے یہ انہی کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ اس کےلیے ہمیں اپنی  قوم  میں شعور  پیدا کرنا ہوگا کہ وہ اس فیلڈ کے ماہر حضرات کی نگرانی میں  اپنے منبر و محراب کیلئے   واعظ امام  کا انتخاب کریں۔

حقیقی عالم کی موجودگی اور وعظ و نصیحت کے باوجود  معاشرے میں برائی کیوں ہے  ؟
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاشرے میں ہمیں جو برائیاں نظر آرہی  ہیں  ان کے ذمہ دار علما اور واعظین ہیں  ۔ دلیل میں مسلمانو ں کے پہلے دور کی مثالیں دیتے ہیں   کہ اس دور میں مساجد  سے حکومتیں چلائی جاتیں تھیں، عوام کے فیصلے مساجد میں ہوتے تھے  ، اظہار صاحب نے  بھی اپنی تحریر کے  آخر میں کچھ تجاویز دیں ۔
میں اس متعلق یہ کہو ں گا کہ  علما کا  منصب صرف تلقین کا ہے وہ صرف  نصیحت  کرسکتے ہیں ، نصیحت پر  عمل درآمد کرانے  کے ادارے دوسرے ہیں۔    اسلامی نظام نہ ہونے کی وجہ سے آج ایک اچھے سے اچھے عالم  کی اتھارٹی  بھی صرف اتنی ہے کہ وہ صرف اپنی مسجد میں آنے والے چند بندوں کے سامنے  وعظ کرسکتا ہے ۔  بعض مساجد میں تو  اسے کھل کر بات کرنے پر مساجد سے ہی نکال دیا جاتا ہے۔گستاخی معاف جب اسکی اتھارٹی کا یہ حال ہے تو   پھر ہم  کیسے توقع رکھتے  ہیں کہ  وہ  ٹیکس چوری کرنے والوں کو ذلیل کرے گا،  تجاوزات  قائم کرنے والوں کو جوتے مارے گا۔
 رہی یہ بات  کہ اسے عوام سے مخاطب ہونے کا سب سے ذیادہ موقع ملتا ہے  پھر اس کی وعظ ونصیحت کے باوجود معاشرے میں برائی کیوں ہے ؟  اس سوال کے جواب میں میں بھی ایک سوال پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں  کہ  اقبال  ہمارا قومی شاعر  ہیں  ، انکی شاعری ہمارے سکولوں کالجوں میں ایک لازمی مضمون  اردو میں  باقاعدہ پڑھائی جاتی ہے، اقبال نے خودی کی تعلیم سب سے ذیادہ دی ، آپ مجھے بتائیں  ہمارے ملک میں خودی کتنے لوگوں میں ہے۔؟  اگر پیغام کے اتنے  ویلڈ طریقے سے پہنچنے کے باوجود  خودی لوگوں میں موجود نہیں ہے تو  اس میں اقبال کا کیا قصور ہے ؟   قائد اعظم کے اقوال ہمارے سامنے ہیں، آئین  کی دفعات ہمارے سامنے ہیں ،  ہمارے سیاست دانوں اور قوم نے ان پر کتنا عمل کیا ؟ 
   نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سوسال تبلیغ کی صرف اسی لوگ ایمان لے کر آئے ، کیوں  ؟ کیا انہوں نے وعظ و نصیحت میں کوئی کمی کی ؟کیا وہ فرقہ واریت کی تعلیم دیتے تھے ؟   نبی سے ذیادہ اچھے طریقہ سے وعظ کون کرسکتا ہے ؟کیا  وہ باقی لوگوں کی گمراہی کے ذمہ دار ہیں؟
میں اپنی بات پھر دہراؤں گا کہ  جو صحیح معنوں  میں عالم اور مولوی   ہیں انہوں نے بات پہنچانے میں  کوئی کوتاہی نہیں کی،  جو وراثت نبوت  ان تک نسل درنسل چلتی ہوئی پہنچی تھی اس وراثت کا پورا خیال رکھتے ہوئے کمال ایمانداری کے ساتھ اسے مزید آسان کرکے  عوام تک پہنچایا ہے۔  پچھلے سو سالوں میں  قرآن وحدیث کے مسائل  پر جو تحقیق ہوئی ہے اسکی مثال پچھلی تین صدیوں میں نہیں ملتی ۔

فکر پاکستان صاحب  کی تحریر پر تبصرہ کرنے کا دل تو نہیں کررہا کیوں کہ وہ محض ضد اور تعصب میں علما کے خلاف لکھتے  ہیں ۔ ملاحظہ کریں
یہ (مولوی)بیچارے کبھی یہ تک نہیں بتانے کے صفائی نصف ایمان ہے، کیوں کے وہ خود جانتے ہیں کے وہ خود گندگی کے ڈھیر پر چوری کی جگہ پر قبضے کی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ خود مسجد کے بیت الخلا میں ناک پر ہاتھہ رکھے بغیر نہیں جاسکتے تو وہ کس منہ سے لوگوں کے بتائیں گے کے صفائی نصف ایمان ہےِ؟۔۔۔ ۔ ۔ تمام لوگ اپنے اپنے علاقے کی مساجد کا جائزہ لیں انہیں خود اندازہ ہوجائے گا کے پاکستان میں ستر فیصد مساجد چوری اور قبضے کی زمین پر بنی ہوئی ہیں، اب چوری کی مسجد میں نماز ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اسکا فیصلہ قاری خود کرلیں۔۔۔۔۔۔ 
حد ہوگئی  مبالغہ آرائی اور نفرت  کی ۔ انکی  بددیانتی اور جھوٹ کا یہ عالم ہے اور اظہار یکجہتی کس کے ساتھ کرنے  نکلے ہیں ۔ پنجابی میں کہتے ہیں ذات دی کرکلی تے شہتیراں نال جپھے۔جناب آپ کا اظہار الحق صاحب کے ساتھ کسی قسم کا  کوئی جوڑ نہیں  ہے ۔ آپ کا  مسئلہ ہی کچھ اور ہے۔  انکے دل میں درد ہے اور   آپ کے دل میں علما اور مدارس کے خلاف سخت نفرت اور غصہ ہے اس لیے جب بھی  آپ کو موقع ملتا ہے آپ  علما اور مدارس کے بارے میں اپنے اندر  جمع کیا  گند اور زہر باہر نکال پھینکتے ہیں ۔ اظہار صاحب  نے تو لکھا ہے 
" اچھے بُرے عناصر ہر شعبے میں ہیں۔ مدارس چلانے والے بھی اسی معاشرے سے ہیں۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور خراب بھی‘ جو بات یہاں سمجھ میں آتی ہے یہ ہے کہ ناظم مدرسہ‘ سابق کونسلر اور پولیس.... کوئی بھی جھوٹ اور فریب دہی کو برا نہیں سمجھ رہا۔ "
انہوں نے اس واقعہ میں تینوں کو قصور وار ٹھہرایا  اور آپ  صرف  علما کے پیچھے ڈنڈا لے کر دوڑ پڑے  اور  ایسی برائیوں کا ذمہ دار بھی علما کو ٹھہرا دیا جنکے وہ ذمہ دار نہیں  ۔ جناب مجھے بتائیں۔کیا مسجد کے باتھ روموں میں گند مولوی مچاتا ہے؟ مساجد سے جوتیاں اور  باتھ روموں سے ٹوٹیاں علما چوری کرتے ہیں ؟ کس بندے سے اسکی زمین زبردستی چھین کر یا چوری کرکے ستر فیصد مساجد بنائی گئی ہیں ؟

ہم مانتے ہیں کہ  عوام اور انتظامیہ کی اجتماعی غفلت سے پیدا ہونے والی اس فرقہ پرستی کی نحوست نے  کچھ شہروں میں  یہ پھول بھی کھلائے ہیں  کہ کچھ جگہ مساجد پر قبضہ بھی کیا گیا  لیکن جس کو آپ غیر قانونی  اور چوری کی زمین کہہ رہے ہیں وہ  جگہ   شملات دہ تھی  ۔  وہ بھی  اکا دکا کیس ہیں  ستر فیصد مساجد نہیں ۔۔ 
جہاں  مساجد پر قبضے ہوئے ہیں وہ بھی عوام کی سپورٹ سے ہوتے ہیں۔ جہاں تک بات شملات دہ رقبہ پر مسجد کی تعمیر کی ہے  اس کے لیے عرض ہے کہ   ایک مسلم ملک میں عوام  کی جہاں  مسلمانوں کی جسمانی  ضرورت کے لیے  سکول کالج ،سرائے، روڈ ، ہسپتال ، پارک بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے وہیں انکی روحانی اور دینی ضرورت کے لیے  مسجد  و مدرسہ بنا نا بھی حکومت کے ہی ذمہ ہوتا ہے،  عوام کو دینی معاملات میں سہولت دینے کے متعلق آئین  پاکستان میں بھی لکھا ہے ۔ اب جہاں حکومت نے  عوام کی دینی ضرورت پوری کرنے میں غفلت کی  وہاں چند دین دار مسلمانوں نے عوام کی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے  اپنے طور پر شملات دے جگہوں پرمساجد بنادیں ۔  آپ کو ان  جگہوں پر بننے والی مساجد و مدارس پر اعتراض ہے سکولوں ، کالجوں  اور سراؤں پر اعتراض کیوں نہیں ؟
 ہم کیا سمجھیں آپ کو اصل میں تکلیف  کس سے ہے ؟

آگے  فرماتے ہیں
پہلی بات تو یہ ہے کے ان بیچاروں کے خود کچھ نہیں پتہ ہوتا، جو کچھ انہیں درس نظامی میں پڑھایا جاتا ہے اس کے باہر انہیں ایک لفظ کی بھی معلومات نہیں ہوتیں۔ ۔ کبھی کسی بڑے سے بڑے مولوی مفتی عالم کے منہ سے نہیں سنا کے قرآن میں سینکڑوں آیات مبارکہ کا تعلق تسخیر کائینات سے ہے، غور و فکر کرنے سے ہے، اللہ کی اس کائینات کے اسرار و رموز جاننے سے ہے، زمین کے اوپر زمین کے اندر سمندر کی تہہ میں چھپی اللہ کی نشانیوں سے ہے ان سب میں چھپے قدرت کے خزانوں سے ہے،۔۔یہ اسلئیے نہیں بتاتے کے انکی خود کوئی اوقات نہیں کے یہ سب کر سکیں اسکے لئیے پڑھنا پڑتا ہے یہ سب سینکڑوں سال پرانے درس نظامی پڑھنے سے نہیں ملنے والا۔

فَکر پاکستان کچھ تو خدا کا خوف کیجئے! کچھ تو عقل و شعور کے ناخن لیجئے! درس نظامی میں قرآن و حدیث پڑھایا جاتا ہے یا
 فزکس، کیمسٹری کی کتابیں پڑھائی جاتیں ہیں ؟ آپ کے کہنے کا مطلب یہی ہے کہ جو قرآن و حدیث پڑھائے جاتے ہیں وہ محض ٹائم کا ضیاع ہے اور ان میں کام کی کوئی چیز نہیں ۔!! جناب  سے میں پہلے  بھی  ایک دفعہ درس نظامی میں شامل کتابوں پر کافی لمبی بات کرچکا ہوں کہ درس نظامی میں کیا اور کیوں پڑھایا جاتا ہے  ۔ ابھی دینی مدارس کے نظام تعلیم  کے معیار  کی دلیل  کے  متعلق صرف ایک  بات  کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ ہم دیکھتے ہیں  کہ آج ہمارے پاکستان میں   ایک  گلی محلے کے پرائمری سکول سے لے کر شہر کی بڑی یونیورسٹی تک کو چلانے کے  لیے فنڈ ، اساتذہ کی تنخواہیں ، کرسیاں، میزیں   تک حکومت دیتی ہے لیکن پھر بھی انکی کیا حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے ،  دوسری طرف  مدارس کے متعلق حکومتی رویہ کیا ہے وہ  بھی ہم جانتے ہیں ، انکی مدد کے بجائے ان کے خلاف  بیانات روز اخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں ۔  لیکن پھر بھی   اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والے ان    مدارس  کے تعلیمی نظام کا معیار دیکھیں  کہ   دوسرے ممالک سے طلبا یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں ۔ حکومت کی  سخت شرائط اور پابندیوں کے باوجود اس وقت صرف  کراچی کے چار مدارس کے اندر چالیس کے قریب ممالک کے  طلبا  دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اگر مدارس کا تعلیمی نظام  (درس نظامی)اتنا ہی خراب اور بے فاعدہ اور فرسودہ ہوتا تو    دوسرے  اسلامی ممالک  کو چھوڑ کر  غیر ملکی طلبا پاکستان کے مدارس میں   آکر  فرش پر بیٹھ کر  اور  دال روٹی کھا کر  گزارہ کرکے اسکی   تعلیم حاصل  نہ  کرتے  ۔  دوسری طرف ہماری یونیورسٹیوں کی کیا حالت ہے یہاں  باہر سے کسی نہ آکر کیا پڑھنا ، ہمارے اپنے طلبا یہاں پڑھنا نہیں چاہتے اور  باہر کی یونیورسٹیوں کی طرف سفر کرتے ہیں۔ آخری بات  اظہار صاحب نے  بھی اپنے کالم میں یہ بات کی آج یونیورسٹیوں ، کالجوں میں بھی جو باریش نوجوان اور  باپردہ لڑکیاں نظر آتیں ہیں وہ درس نظامی پڑھنے والے انہی  علما کی اسی وعظ ونصیحت کا اثر  ہیں ۔   

قدرت اللہ شہاب کی زبان میں 
  بقول  قدرت اللہ شہاب یہ مولوی  ہی ہے جس نے  گاؤں کی ٹوٹی مسجد میں بیٹھ کر چند ٹکڑوں کے حوض عوام کا رشتہ اسلام سے جوڑا ہوا ہے۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم ہے، نہ کوئی فنڈ ہے اور  نہ کوئی تحریک ۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔۔ دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد،ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد ہیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا رہتا ہے اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھاہے۔ کوئی شخص وفات پا جاتا ہے ، تو یہ  اسکا جنازہ پڑھا دیتا ہے ، نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دے دیتا ہے ، کوئی شادی طے ہوتی ہے تو نکاح پڑھوا دیتا ہے۔اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی اسے جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درودی  کہتاہے،  یہ ملّا ہی کا فیض ہے  کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار ہیں  ،برصغیر کے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔
اعتراض کرنے والے یہ کیوں نہیں سوچنے کہ   لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں محلے کی تنگ  مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟
کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟

:علما اور  دینی مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ کی اصل  وجہ
دینی مدارس کا سلسلہ صدیوں سے قائم ہے اور گزشتہ صدی میں ہندوستان میں انہی دینی مدارس کے دم سے علوم نبوت زندہ و تابندہ ہیں‘ انہی کی وجہ سے استعمار کے جبر و استبداد کا خاتمہ ہوا‘ یہی وہ قلعے تھے جن سے دین اسلام کا دفاع ہوا‘ یہی وہ نظریاتی چھاؤنیاں تھیں‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ کی حفاظت کی‘ دینی مدارس ہی آب حیات کے وہ پاکیزہ چشمے تھے‘ جنہوں نے مسلمانوں میں دینی زندگی باقی رکھی۔اسلام دشمن اور عالمی دہشت گرد امریکا کے خلاف دنیا بھر میں جہاں کہیں امت مسلمہ نے مزاحمت کی‘ اس کی قیادت و سیادت دینی مدارس سے وابستہ علمأ کرام کے حصہ میں آئی‘ اسی لیے  گزشتہ کئی دہائیوں سے دینی مدارس کا خالص علمی‘ تحقیقی ماحول اور آزاد نظامِ تعلیم اربابِ اقتدار کی نگاہوں میں بُری طرح کھٹک رہا ہے ۔ جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے قائم ہونے والا مدرسہ کفر کی نگاہ میں کھٹکتا تھا‘ اسی طرح آج بھی پاکستان اور دنیا بھر کے دینی مدارس اسلام دشمنوں کی نگاہوں میں خار بنے ہوئے ہیں‘ چنانچہ بے سروسامانی کے عالم میں دین حق کی شمع کو روشن کرنے والے مدارس کو دین دشمن اپنے لئے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں‘ اس لئے دین دشمن قوتیں اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ان مدارس کو ختم کرنے‘ انہیں کمزور کرنے‘ ۔مسلمانوں کا ان سے تعلق توڑنے اور ان کی حریت و آزادی کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں‘ ۔
 ان  لوگوں کا خیال ہے کہ جب تک یہ مدارس اور ان کا آزاد تعلیمی نظام حکومتی تحویل میں نہیں آجاتا‘ اس وقت تک اس سے فارغ ہونے والے علمأ کو نکیل نہیں ڈالی جاسکتی‘ اور نہ ہی ان سے اپنی منشا کے مطابق دین و مذہب میں تحریف اور کتروبیونت کرائی جاسکتی ہے۔ اس لیے امریکا‘ مغرب اور یہودی لابی نے  دینی مدارس  کے خلاف مذموم پراپیگنڈا مہم شروع  کی ہوئی ہے  اور انہیں بدنام کرنے اور دنیا کو ان سے متنفر کرنے کے لیے باقاعدہ مہم اور منصوبے کے تحت مختلف ہتھکنڈے اور حربے استعمال کیے جاتے  رہے ہیں ۔۔  ہر حکومت کو دینی مدارس کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ امریکی ہدایات پر ہر حکومت نے مدارس میں مداخلت کا کی ‘ ہر موقع پر اربابِ اقتدار نے مدارس کے خلاف زہر اگلا‘ رجسٹریشن کے نام پر مدارس کو اپنے جال میں پھنسانا چاہا‘ غیر ملکی طلبہ کے خلاف ملک بدری کا ظالمانہ فیصلہ کیا‘ مدارس کی اسناد کو بے وقعت کرنے کی کوششیں بھی  اسی ایجنڈے کا تسلسل تھیں‘۔
 اس مکروع پراپیگنڈے میں  صرف حکومتی ارکان ملوث نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا میں خصوصی طور پر منافقین کی ایک جماعت کو امریکن سفارتخانہ سے سور کے بدلے  ہائر کیا گیا ہے(میرے مخاطب اظہار الحق جیسے مصلح قوم صحافی نہیں) یہ بیروپیے کبھی کہتے ہیں   موجودہ دینی مدارس سے صرف علمأ پیدا ہورہے ہیں‘ جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ان سے جس طرح علمأ پیدا ہوتے ہیں‘ ویسے ہی ڈاکٹر‘ انجینئر اور وکلاء بھی پیدا ہوں اور ہماری خواہش و کوشش ہے کہ دینی مدارس سے نکلنے والے علمأ ہر شعبہٴ زندگی میں خدمات انجام دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں ‘ جب ان عقل بندوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے  کہ: اگر میڈیکل کالج اور یونیورسٹیوں سے انجینئر اور وکلاء پیدا کرنے کی فرمائش نہیں کی جاتی تو دینی مدارس سے یہ توقع کیوں کی جاتی ہے؟ پھر کہتے ہیں : دینی مدارس میں انگلش‘ سائنس اور دوسرے مضامین کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟  حالانکہ یہ خود بھی جانتے ہیں  کہ دینی مدارس میں پہلے سے ہی میٹرک کا نصاب زیر تعلیم ہے اور کسی دینی مدرسہ کا نظامِ تعلیم کسی بھی عصری اور سرکاری اسکول کے معیارِ تعلیم سے کم نہیں‘ بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔  اس کے علاوہ  پراپیگنڈہ بازی کی قسطیں چلاتے نظر آتے ہیں۔ کبھی  انہیں ملکی ترقی کی راہ میں حارج قراردیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گرد ، کبھی انہیں فسادی کہا جاتا ہے  تو کبھی  تشدد پسند ،  کبھی  کسی داڑھی والے کے  برے عمل کو اچھا ل کر اسے علما کا نمائندہ بناتے ہوئے  سارے علما پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے،  تو کبھی جعلی مولویوں، قاریوں اور پیرو ں کے مکروع اعمال اور حرکتوں   کی میڈیا کے ذریعہ تشہیر کرکے  علما او ر صوفیا سے نفرت عوام کے دلو ں میں بٹھائی جاتی ہے۔ غرض اس وقت طعن وتشنیع اور توہین وتضحیک کی تمام توپوں کا رخ ملا، مولوی، دینی مدارس اور طالبان ( طلبہ) کی طرف ہے ، صرف یہی نہیں ! بلکہ اب تو حکومتی امریکی ایجنٹ اور یہ منافق بیروپیے  پوری قوم کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کررہے ہیں  کہ اگر ملکی سلامتی اور امن وامان درکار ہے تو ان ” مولویوں“ سے جان چھڑانی ہو گی او ران کے خلاف منظم جدوجہد کرنی ہو گی ، چناں چہ اس ناپاک منصوبہ کو پروان چڑھانے کے لیے علمأ کی گرفتاریاں اور مدارس پر چھاپے مارے جاتے ہیں ، کسی مسجد، مدرسہ اور علمی مرکز پر بمباری کرکے ان معصوموں کو خاک وخون میں تڑپایا جاتا ہے اور اس کے بعد بیان جاری کر دیا جاتا ہے کہ : ” اس جگہ مظلوم انسانوں کو ذبح کیا جاتا تھا، یایہاں جہادی تربیت کا مرکز اور اسلحہ کا ذخیرہ تھا وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح کہیں دھماکا کرکے یہ کہانی گھڑ لی جاتی ہے کہ:  یہ طالبان کا اڈہ تھا اور یہاں بارود کا ذخیرہ تھا، جو قبل از وقت پھٹ گیا۔  اور ابھی چند دن پہلے رحمان ملک کا اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے تاریخی جھوٹ بولنا کہ بینظر کے قاتلین مدرسہ حقانیہ میں رہے تھے اسی گیم کا حصہ ہے۔



28 comments:

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

کاش ۔ اپنے آپ کو تعلیمیافتہ سمجھنے والے کبھی اپنی آنکھوں کے بند در کھولیں ۔ یہ لوگ کیمیاء یا طبیعات یا ریاضی کے ایک کُلیئے کو سمجھنے کیلئے پوری کتاب پڑھ لیتے ہیں لیکن دین سے منسلک پورے باب کو بغیر پڑھے بیان داغ دیتے ہیں

جعفر نے لکھا ہے کہ

اس بندے کی واہی تباہی کو اتنی اہمیت دینے کی ضرورت نہیں تھی

Raja Iftikhar Khan نے لکھا ہے کہ

جب اسلام کی بات ہوتی ہے تو اس کے کچھ معیارات ہیں امام کے بھی اور عالم کے بھی اگر آج بھی ہم ان پر پورا اترنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ بچایا جاسکتاہے، اور کیا کہوں علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قراردیاگیا ہے،

fikrepakistan نے لکھا ہے کہ

بنیاد پرست صاحب، پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کے پاکستان میں آذاد مساجد کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی تعداد پاکستان میں صحیح معنوں میں نیک لوگوں کی ہے، یہ جس مسجد کا ذکر آپ کر رہے ہیں اسکا شمار ایسی ہی مساجد میں آتا ہے، باقی ہر آدمی اپنے اپنے علاقے کی مساجد پر غور کر لے جواب اسے خود ہی مل جائے گا، یہاں گنتی کے مساجد کے علاوہ تمام ہی کسی نا کسی فرقے کے کے زیر اثر ہوتی ہیں، اور ان تمام مساجد میں امام کی ڈیوٹی فرقے کے مرکزی دفتر سے لگتی ہے، میرے علاقے میں جتنی بھی دیوبندی فرقے کی مساجد ہیں ان میں بنوری ٹاون مسجد سے تعیناتی ہوتی ہے۔
ہمارے ایریا میں ایک نیوٹرل مسجد بھی ہے جسکی امامت پر بہت لاٹھی ڈنڈے چل چکے ہیں، بنوری ٹاون مسجد والے چاہتے تھے کے ہمارے امام کی تعیناتی ہو اور بریلوی فرقے کے لوگ چاہتے تھے کے ہمارے امام کی تعیناتی ہو، یہ کوئی نئی انہونی بات نہیں ہے پورے پاکستان کی مساجد کا یہ ہی حال کر کے رکھا ہوا ہے ان لوگوں نے۔ اسلئیے آپکی یہ بات کے امام کی تعیناتی محلے کے لوگوں کی مرضی سے ہوتی ہے انتہائی لغو ہے۔ مساجد پر قبضے عام ہیں یہاں آئے دن اس طرح کے فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ اسلئیے یہ ذمہ داری بھی ان ہی فرقوں کے مرکزی دفاتر میں بیٹھے لوگوں کی بنتی ہے کے کوئی طریقے کا انسان منتخب کریں جسے دین کی مکمل معلومات ہوں وہ منبر پہ بیٹھہ کر سوائے اپنے فرقے کی تشہیر کے کوئی کام کی بات بھی کرلے۔
اور اپنی تصحیع کرلیں کے عالم صرف اسے ہی نہیں کہتے جسے صرف دین کی معلومات ہوں، عالم کوئی بھی ہوسکتا ہے جسے بھی جس بھی علوم پر عبور حاصل ہے وہ عالم ہے، اگر کوئی ماہر معاشیات ہے اور اسے اپنی فیلڈ پر مکمل عبور حاصل ہے تو وہ بھی عالم ہے، اگر کسی کو سائنس پر عبور حاصل ہے تو وہ بھی عالم ہے، ہمارے ہاں اس لفظ عالم کو صرف دین کی تعلیمات پر عبور رکھنے والوں جوڑ دیا گیا ہے جو کہ بلکل غلط ہے۔
پھر آپ نے فرمایا کے عالماء کا کام تو صرف صحیح اور غلط بتا دینا ہے آگے لوگ جانیں اور انکا کام، یہ بھی بلکل غلط بات کی ہے آپ نے، ایسے سینکڑوں امام حضرات گزرے ہیں جنہوں نے جابر حکمران کے آگے نعرہ حق بلند کیا اور امت کو نجات دلائی ان سے، حضرت امام حسین کی مثال لے لیں، امام تیمیہ کی مثال لے لیں، کتنی مثالیں دوں؟ اور آپکو کیا لگتا ہے کے کیا قیامت کے روز بھی یہ اللہ کے آگے یہ ہی کہہ کر بچ جائیں گے کہ ہم نے بتا دیا تھا لوگوں نے عمل ہی نہیں کیا، ہمارے پاس اختیارات ہی نہیں تھے، واہ صاحب واہ، پچاس پچاس لاکھہ لوگ راےونڈ میں جمع کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں، ایک سال یہ اجتماع زرا راےونڈ کے بجائے اسلام آباد میں کریں اور دیں ڈیڈ لائن حکمرانوں کو کے اگر تین دن کے اندر اندر بنیادی معاملات نہیں سدھارے گئے تو ہم اعوانوں میں گھس جائیں گے ان لوگوں کو لے کر۔ مگر آپ نے بھی بلکل درست فرمایا ہے کے انبیاء کے وہ وارث یہ لوگ نہیں ہیں، اسلئے یہ کیوں کریں گے ایسا، یہ تو اللہ سے کہہ دیں گے کے ہم کیا کرتے ہمارے پاس اختیار تھوڑی تھا۔
پھر آپ فرماتے ہیں کے درس نظامی میں قرآن و حدیث پڑھایا جاتا ہے کیمسڑی یا فزکس نہیں، تو میرے بھائی یہ جو سینکڑوں آیات مبارکہ کا جو میں ذکر کر رہا ہوں یہ کیا کسی فزکس یا کیمسڑی کی بک میں آیا ہے انکا ذکر؟ انکا ذکر بھی تو قرآن میں ہی آیا ہے نہ تو جب یہ ہے یہ قرآن کا حصہ تو قرآن کے اس حکم کی تعلیم کون دیگا؟ ان آیات مبارکہ کو قرآن کا حصہ کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ قرآن کی ان آیات کو فزکس اور کیمسڑی والوں پر کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟۔ یا تو آپ ہی ان لوگوں کی طرف سے لوگوں کو بتا دیجئے کے علماء حضرات ان آیات مبارکہ کو قرآن کا حصہ ہی نہیں سمجھتے اسلئیے نا اس پر بات ہوتی ہے اور نہ ہی اسکی تعلیم دی جاتی ہے۔ اور آخر میں آپ نے خوب فرمایا کے گرمیوں میں دوپہر میں اور جاڑوں میں صبح کے ٹائم وقت پر اذان دے دی جاتی ہے۔ ارے بھائی فری میں کر رہے ہیں یہ سب کیا ؟ پیسے لیتے ہیں نماز پڑھانے کے جو کے غیر اسلامی عمل ہے، پیسے بھی لیں اور اپنا کام بھی وقت پر نا کریں بہت خوب جناب بہت خوب۔

انکل ٹام نے لکھا ہے کہ

کہتے ہیں ایک مینڈک ہوتا ہے کنویں کا اُس کی سوچ کنویں سے باہر ہی نہیں نکلتی ۔ ایسے ہی ایک بلاگر ہے کراچی کا اُسکی بونگی تحقیق اور فکر کراچی تک ہی محدود ہے ۔ اللہ رحم کرے بیچارے پر ۔۔۔

جناب کراچی کے اندر کی جو صورت حال ہے وہ پورے ملک کی نہیں ہے ۔ آپ پاکستانی بڑے دوغلے ہو جب کو ڈنڈا لے کر مذہب کو نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور عام برائیوں کو مٹاتا ہے تو آپکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بڑی آگ لگتی ہے

لیکن جب کوئی بندوق کے زور پر اپنا مسلک نافذ کرتا ہے تو آپ لوگ اُسکو دوسرے انداز سے دیکھتے ہو۔ آپ کو اور بہت سے لوگوں کو میری بات سے فرقہ واریت کی بو آئے گی ۔ آنی بھی چاہیے لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ آپکے کراچی میں یاک جماعت ہے سنی تحریک کے نام سے جو بندوق کے زور پر اپنا مسلک نافذ کرتی ہے اور مساجد پر قبضے بھی وہی کرواتی ہے ۔ آپ اپنی فکر کو لے کر جتنا ناچتے ہیں میری ایسے لوگوں سے سلام دعا ہے جنکے علاقے میں ایسے مسجدوں پر قبضے کرنے کے لیے یہ لوگ اماموں کو بھی قتل کر چکی ہے ۔

اگر دوسرا گروہ بھی ڈنڈا لے کر اپنی مسجد واپس لینے گھس جاتا ہے تو آپکو تکلیف کس بات کی ہے ؟؟ پہلے آپ اُس جماعت کو لتاڑیں جو مذہب کے نام پر نہ صرف بندوق استعمال کر کے بھتہ خوری کرتی ہے بلکہ گھروں اور مسجدوں پر قبضے بھی کرتی ہے ۔

اور جناب بنوری ٹاون کراچی مین دیوبندیوں کا واحد مدرسہ نہیں ہے کراچی بھرا پڑا ہے دیوبندیوں کے مدرسوں سے ۔۔۔ اور امام کی تعیناتی وہ اپنی بنائی ہوئی مساجد میں کرتے ہوں گے ۔۔۔ اور ہر مسجد بنوری والے نہیں بنواتے ۔۔۔ مفکر کے لیے سب سے پہلے عقل اور علم ضروری ہے ۔۔۔

اگر آپکو مفکر بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو پہلے صحیح معلومات حاصل کریں اور پھر ان معلومات کو صحیح جگہ اپلائے کریں ۔

اور ایک اور نصحیت آپکے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ مفکر بننے کے لیے ضروری ہے کہ نیوٹرل بننے کی منافقت سے گریز کیا جائے ۔۔۔

آپ سمجھدار بندے لگتے ہیں ورنہ میں ہر کسی کو اتنی قیمتی سجیشینز نہین دیتا :ڈ

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

اگر میں کہوں کہ انکل ٹام نے آپ کے بارے میں صحیح لکھا کہ آپ کنویں کے مینڈک ہیں تو غلط نہیں ہوگا کیوں کہ آپ کی تحریریں اس بات کی گواہی دیتی ہے۔ اگر آپ کو میری بات پر اعتراض ہے تو ثبوت لائیں کہ پاکستان میں کہاں ستر فیصد مساجد قبضہ اور چوری کی جگہ پر بنی ہوئیں ہیں ؟ جس صاحب عقل آدمی کے سامنے یہ تذکرہ کریں گے وہ آپ کو اسی لقب سے نوازے گا ۔
آپ کو اپنی مسجد چوری کی زمین پربنی نظر آئی اور اسکا امام اپنے فرقے کے پاس حاضری لگا کر آتا نظر آیا ، آپ نے سمجھ لیا کہ سارے پاکستان کا یہی ہے ۔ آپ ایسا کریں کسی دن اپنے کنویں سے نکل کر کسی اور شہر کا سفر کرنے کی کوشش کریں ، سفر میں بڑی برکت ہے۔

کیا زبردست تعریف پیش کی ہے عالم کی۔ آپ ایسا کریں اپنے بلاگ کی طرح اپنی ایک ڈکشنری بھی لکھنا شروع کردیں جس میں اپنی بنائی ہوئی ڈیفینیشنز لکھا کریں۔ جناب علم صرف دین کا ہی ہے باقی سب فنون ہیں ۔ کسی علم والے سے پتا کرلیں ۔

باقی آپ نے جو تبلیغی حضرات کی بات کی ہے یہ بھی آپ کی کج فہمی ہے ۔ جناب قوموں کے احوال سدھرنے کے معاملہ میں خدا کی کچھ سنتیں ہیں، جن کا تتبع ضروری ہے۔ انہی کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل ترتیب دینا صورتحال کا واحد حل ہوتا ہے۔ اس کیلئے بنیادی طور پر دو چیزیں مطلوب ہوتیں ہیں: ایک ہے لائحہ عمل ، خواہ طویل المیعاد ہو مگر درست ہواور جہاں پہنچنا آپ کو مقصود ہو آپ کا وہ لائحہ عمل آپ کو وہیں پہنچا آنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔دوسرا یہ کہ اس پر عمل پیرا ہونے کیلئے محنت۔آپ جس لائحہ عمل سے تبدیلی لانے کا ذکرکررہے ہیں یہ کبھی ممکن نہیں ۔ مثالین موجود ہیں پارلیمنٹ کا کتنی دفعہ گھیراؤ کیا گیا، پہلے لاکھوں وکیلوں نے کیا، ابھی بڑی مذہبی جماعتوں نے بھی کال دی ہوئی ہے۔ کیا آپ کے بیان کیے گئے نتائج حاصل ہوجائیں گے۔ تبلیغی حضرات کی بات کرتے ہیں پہلے ان کے لائحہ عمل اور طریقہ کار کو تو سمجھیں ، وہ کسی طریقہ سے تبدیلی لانا چاہتے ہیں اسکو دیکھیں ۔
فضول تبصرہ تبصرہ نہ کھیلیں۔۔

میں نے درس نظامی والا سوال آپ کے اس اعتراض کے جواب میں کیا تھا کہ' یہ علم کی باتیں درس نظامی میں نہیں پڑھائی جاتیں'۔ آپ کتنی مکاری سے اب اپنی بات سے پھر رہے ہو۔ منافق آدمی کو اپنی منافقت چھپانے کے لیے اسی طرح بار بار بات کو بدلنا اور جھوٹ کا سہار ا لینا پڑتا ہے۔ بتاؤ درس نظامی میں اگر قرآن وحدیث پڑھایا جاتا ہے تو پھر تم نے یہ جملہ کیوں لکھا ؟

تم نے لکھا کہ گرمیوں سردیوں میں اذانیں صرف پیسے کے کے بدلے میں دی جاتیں ہیں۔ جناب جتنے پیسے ایک موذن کو دیے جاتے ہیں آپ کو ہم اس سے تین گناہ ذیادہ دیں گے آپ تیار ہیں ؟
آپ نے تو کبھی مسجد میں نماز ہی نہیں پڑھی ہوگی کیوںکہ آپکی مسجد چوری کی جگہ پر بنی ہوئی ہے اور آپ کے مطابق چوری کی جگہ بنی مسجد میں نماز ہی نہین ہوتی۔۔۔ اس لیے آپ بری الزمہ ہیں ۔ چلو کسی بہانے تو اس دقیانوسی سے جان چھوٹی، کون جاہلوں کے پیچھے جار سٹ سٹینڈ کرتا رہے، گھر میں بیٹھ کر سائنس پڑھ کر بھی بندہ عالم اور اللہ کا مقرب بن سکتا ہے۔

انکل ٹام نے لکھا ہے کہ

یار یہ واقعہ تو میں نے کراچی کے یار دوست سے سنا ہے کہ مفتی تقی عثمانی صیب کوئی مسجد بنوا رہے تھے کراچی ہی میں زمین خریدی تو کسی بیوہ نے کیس کر دیا کہ یہ زمین تو میری ہے ۔ تو مفتی صاحب نے بغیر کوئی کیس لڑے اور کسی وجہ سے ایسے ہی زمین چھوڑ دی سنا ہے اُس بیوہ کے نام کر دی ۔۔۔

حالانکہ مفتی صاحب جتنی بڑی شخصیت ہیں وہ اپنے تعلاقات آسانی سے استعمال کر کے یہ مسئلہ حل کر سکتے تھے ۔۔

محمد نعمان نے لکھا ہے کہ

بھائی مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ صاحب کیوں باتوں کا مسلسل ایک رخ دکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ کائنات کی تسخیر پر اگر ایات ہیں تو کیا وہ صرف علماء کے لیے نازل ہوئی ہیں۔؟؟ علماء کو آپ نے کبھی سننا گوارا نہیں کیا اور الزام در الزام لگا رہے ہیں کہ وہ ان آیات پر بات نہیں کرتے۔ کچھ اللہ کا خوف کھاوّ یار۔ کیوں کم عقلی کی باتیں کر کے اپنے اوپر ہنسنے کا موقع لوگوں کو دیتے ہو۔ علماء کی صحبت اختیار کی ہو تو کچھ جناب کو معلوم ہو کہ علماء کہتے کیا ہیں۔ بس میڈیا اور سنی سنائی پر اندھا یقین کر کے علماء کے خلاف بونگیاں مارنا اور شیخ چلی بننا ہی کمال ہے تو اس کمال میں آپ سے بڑا کوئی نہیں دیکھا میں نے۔

جہاں تک بات ہے تبلیغی جماعت کی تو سرکار تبلیغی تو اپنی ذات سے شروع کرتے ہیں اور اصلاح کی دعوت سب سے پہلے اپنی ذات کو سامنے رکھ کر دیتے ہین اور معاشرے کی اصلاح اور اخلاق کی تعلیم کی بات کرتے ہیں۔ اور یہی وہ بہترین طریقہ ہے کہ جس سے معاشرے میں لوگ تبدیلی کو محسوس بھی کر رہے ہیں۔ جب معاشرہ تبدیل ہو گا، اصلاح نفس ہو گی تو خرافات اور طلم سے نجات خود بخود نظر آئے گی اور یہی وہ صورتِ حال ہے جسے انقلاب کہتے ہیں نہ کہ پارلیمنٹ کا گھیراوّ جیسا بے نام سا انقلابی مارچ۔باقی یہی کہوں گا کہ بغض کا کوئی علاج نہیں سوائے اس کے کہ انسان بغض سے توبہ کر لے۔

Hamza Balouch نے لکھا ہے کہ

Jahan tik main ney fikre Pakistan k blog ko perha hia.. mujy to os main qadyaniat ki bo aati hia, Sory to say,but its my assumption.
Qadayni ki eik beri example yeh hia k on ko Muslim duniya main sirf buri cheezy aur ghair muslim mumalik main sirf achi cheezy nazer aati hia...


Main eik berlvi school of thought sy belong kerta hia,lakin yeh kehty hia fihker mehsos kerta hon k tableeghi Jamat ki waja sy Islam on ilakoo main pocha jana loog Islam to kiya "mazheb" k naam sy na wakif thy.

fikrepakistan نے لکھا ہے کہ

کسی کو بریلوی ہونے پہ فخر ہے کسی کو دیوبندی ہونے پہ فخر ہے، ارے بھائی کوئی مسلمان بھی ہے؟ کیا گھٹیا بات کی ہے کہ علم صرف دین کا ہوتا ہے دنیا کے فنون ہوتے ہیں، یہ ہے وہ گھٹیا غلاضت جو عوام کے ذہنوں میں گھسائی جاتی ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں فرمایا ہے کے علم صرف دین کا ہوتا ہے؟ لفظ علم استعمال کیا گیا ہے اسے دین اور دنیا میں یہ آج کے گھٹیا قسم کی سوچ والوں نے بانٹ دیا، کیوں کے وہ جانتے ہیں کے اس طرف کچھہ کر کے دکھانے کی انکی اوقات ہی نہیں ہے، فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے، اس میں دینی اور دنیاوی کہاں سے آگیا؟ اور اگر صرف علم دین کا ہی ہوتا ہے تو بدر کی فتح کے بعد قیدیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں فرمایا کے جو پڑھائے گا دس مسلمانوں کے وہ قیدی آزاد ہوگا؟ کافروں سے دین سیکھانے کی بات تو کی نہیں جاسکتی۔ یہ غلاضت بھری جاتی ہے ذہنوں میں جن سے آپ جیسے لوگوں کی ذہنیت کو زنگ لگ چکا ہے وہ رٹے رٹائے سبق سے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ آپ نے فرمایا کے درس نظامی میں قرآن و حدیث ہی پڑھائی جاتی ہیں، جس پر میں نے آپ سے سوال کیا کہ اگر قرآن و حدیث ہی پڑھائی جاتی ہیں تو پھر یہ تسخیر کائنات والی آیات پر بات کیوں نہیں کی جاتی تسخیر کائنات کے لئیے جدوجہد کیوں نہیں کی جاتی، کائنات کے اسرار رموز جاننے کے لئیے کیا تعلیمات وضع کی گئی ہیں آج تک؟ قرآن کو مان رہے ہو قرآن کا حکم نہیں مان رہے واہ بھئی واہ۔ یہاں بلاگ پر بحث کر لیں گے لیکن اتنی ہمت کسی میں نہیں کے ان نام نہاد خود ساختہ نائب رسولوں سے سوال کریں کے ہمیں بتائیں کے آپ نے قرآن کے اس حکم کی تکمیل کے لئیے کیا علوم وضع کئے کیا تحقیق کی ہے آج تک، اللہ کے کائنات کے کتنے رموز تک پہنچ پائے آپ، قرآن کے یہ سارے احکامات کافروں کے لئیے کیوں چھوڑے ہوئے ہیں؟ قرآن پہ پہلا حق تو مسلمانوں کا ہے تو اس کے یہ احکامات کفار کیوں پورے کر رہے ہیں؟ ہمیں مسلک پرستی اور فرقہ بندی میں لگا کے رکھا ہوا ہے، ارے مسلک پرستی اور فرقہ بندی ہی ثابت کر دو اسلام کی رو سے، اتنا بھی نہیں کر سکتے تو ڈوب مرو اپنے ان نام نہاد خود ساختہ جعلی عالموں کے ساتھہ کہیں جا کے۔ انقلاب اورینٹڈ قوم کو ثواب اورنینٹڈ بنا کے رکھہ دیا، حضرت امام حسین اور امام تمیہ کی مثال دی اسکا جواب کسی بند ذہنیت والے کے پاس ہے تو لے کے آو نا۔

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

میں نے علم کے بارے میں ایک ٹیکنکل بات کی تھی کہ دنیاوی علوم فزکس، کیمسٹری، انگلش، میتھ، باٹنی، زوالوجی وغیرہ حقیقت میں صرف فنون ہیں ، ان سے آپ کو کسی شعبے کا فن ملے گا آپ کے اندر کی اصلاح اور اللہ سے معرفت دینی علوم ہی کرائیں گے ، جو علم اللہ تک پہنچائے وہی اصل میں علم کہلانے کا حق دار ہے ۔ ہاں یہ فنون اس معرفت میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں اگر پہلے انہیں ساتھ رکھا جائے۔اس پر میری ایک تحریر اس بلاگ پر موجود ہے 'سائنسی علوم کے ساتھ علوم وحی لازم ملزوم کیوں ....?' کے نام سے ۔
باقی میں آپ سے پہلے بھی ایک دفعہ اپنی تحریر 'کیا مسلمانوں کی تنزلی کے ذمہ دار دینی مدارس اور علما ہیں ۔'میں اس پر کافی لمبی بات کی تھی کہ یہ فنون مدارس میں یونیورسٹیوں کی طرح کیوں نہیں پڑھائے جاتے ۔ اگر بھول گئے ہیں اسے ہی دوبارہ پڑھ لیں۔
باقی جہاں تک یہ بات کہ علما تسخیر کائنات کی باتیں کرتے ہیں یا نہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بات سے بھی آپ اپنی علما سے نفرت کی وجہ سے لاعلم ہیں۔ کسی اچھے عالم کے پیچھے جمعہ نہیں پڑھ سکتے تو قرآن کی تفاسیر اٹھا کر پڑھ لیں انہوں نے ان آیات کے ذیل میں کیا بحث اور تشریح کی ہوئی ہے۔
سائنس کے شعبہ جات ظاہری طور پر علما کی فلیڈ نہیں ، لیکن وہ پھر بھی اس میں اپنی کوششیں کررہے ہیں جامعتہ الرشید کا شعبہ فلکیات پوری دنیا میں مشہور ہے اسے علما ہی چلا رہے ہیں ، باقی علما ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی سنت پر عمل کررہے ہیں یا نہیں یہ بھی آپکو گھر بیٹھ کر ٹی وی پر بیروپیوں کے سرکس دیکھ کر نظر نہیں آئے گا۔۔۔علما کی اپنی فیلڈ سے ہٹ کر ہر شعبے میں محنتیں اور کوششیں تو ظاہر ہیں ۔۔۔ ۔ ۔۔ آپ اپنا بتائیں آپ کو قرآن کی کتنی سورتیں ترجمہ کیساتھ یاد ہیں ، کیا نماز کے واجبات بھی آتے ہیں ؟ میں علم غیب نہیں جانتا لیکن یہ دعوی کرسکتا ہوں کہ آپ کو میرے سوال پوچھنے سے پہلے نماز کے واجبات نہیں یاد تھے (اب مجھے جواب دینے کے لیے شاید یاد کرلیں)۔۔ ۔
کیسے یاد ہو ں اس دین کی آپ کے سامنے حیثیت ہی کیا ہے۔ آپ کو تو سائنسی علم ہی نجات دیں گے ۔۔میں اپنا ایک اور بھی بھی تجربہ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں ، میں نے عام طور پر سائنس سائنس کرنے والے کا سائنس کے متعلق علم جہالت کے درجے سے بھی کم پایا ہے ۔ یقیناآپ کا بھی یہی حال ہوگا۔ اگر میں غلط ہوں آپ کے پاس بہت سائنسی علم ہے تو بتائیں ویلفئر ٹرسٹ کے بجائے سائنسی لیباٹری کیوں نہیں کھولی۔
آپ کا شعبہ نہیں ہے نا ۔؟۔؟ .
آپ بزنس مین ہیں ۔ ملازم ہیں !!!۔سائنس پر تحقیق تو علما کی اور سائنس دانوں کی فیلڈ ہے نا۔۔؟؟!!!۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

فکرِ پاکستان صاحب تو ایسے سائینس کے پیچھے پڑ گئے جیسے کہ ابھی تمام مدارس اور علماء کو سائینس دان بنا کے ہی رہیں گے۔ بھیا سادہ سی بات ہے یہ بتا دیں کہ ہمارے ملک کی کل ابادی کا کتنے فی صد علماء ہیں اور کتنے فیصد غیر علماء۔ پھر انہی غیر علماء میں سے کتنے فیصد سائینسدان ہیں اور کتنے فیصد غیر سائینسدان۔

ساتھ اتنا بھی بتا دیں کہ اگر علماء سائینس کی تعلیم حاصل کر لیں تو پھر دین میں اور دینی علوم میں مہارت کون حاصل کرے گا؟؟ کیا سائینسدان پھر اس طرف آئیں گے اور دینی علوم میں بھی ہارت حاصل کریں گے؟ اگر عام آدمی ہی دینی علم حاصل کرے گا تو پھر وہ بھی تو عالم ہی بن جائے گا، پھر آپ اس پر بھی سائینسدان بننے کی شرط لگا دیں گے۔

آپ ایسا کریں کہ آپ نے جو اعترضات اٹھائے ہیں علماء پر سائینسی علوم کے حوالے سے آپ ان اعترضات سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ذرا ان کا کوئی بہت قابلِ قبول سا عملی حل بھی پیش فرما دین تو نزاع کا باعث یہ بحث ہی ختم۔ فرمائیں جی

fikrepakistan نے لکھا ہے کہ

پہلے میری باتوں کا جواب تو دے دو، تسخیر کائنات قرآن کا حصہ ہے تو اسکے لئیے ان نام نہاد عالموں نے کیا کیا ہے؟ کتنے نصاب مرتب کیئے ہیں؟ کتنے اسرار جانے ہیں؟ زمین کے اندر زمین کے باہر سمندروں کی تہہ میں اللہ نے کیا کیا نشانیاں رکھی ہیں کیا کیا خزارنے رکھے ہیں انہیں ڈسکور کرنے کے لئیے کیا کیا گیا ہے آج تک؟ ان کے لئیے کتنی تحقیق کی گئی ہے؟ کافروں پر کیوں چھوڑ دئے گئے ہیں دین کے یہ ااحکامات؟ سب سے آسان کام ہی کیوں منتخب کیا گیا ہے قوم کو بیوقوف بنانے کے لئیے؟۔ یا پھر کھل کے کہو کے ہم اسے قرآن کا حصہ ہی نہیں مانتے۔ دوسرے فرقوں کو چھوڑو اپنے فرقے کو ہی ثابت کر دو دین سے، آخری خطبہ پڑھہ لو شائد کچھہ دماغ کھل جائے اور نکل آو تم لوگ اس فرقہ بندی کی غلاضت سے۔ علم صرف دین کا ہوتا ہے ثابت کرو اسے دین سے قرآن سے کسی حدیث سے، قیامت کے روز علماء یہ کہہ کر جان چھڑا لیں گے کے ہمارے پاس اختیار نہیں تھا؟ یہ جو بھوک ننگ مچی ہوئی ہے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں شریف گھر کی لڑکیاں اپنا جسم تک بیچنے پر مجبور ہیں امت کے اس حال کا جواب علماء سے نہیں لیا جائے گا کیا؟ سیاستدان تو ہیں ہی کمینے وہ نہیں دینگے قوم کے یہ سب، تو علماء انکے آلاکار کیوں بنے ہوئے ہیں؟ علماء کیوں خاموش ہیں اس سب پر، امام حیسن یا امام تیمیہ کا کردار کیوں ادا نہیں کرتے؟ فرار مت ہو میرے سوالوں کے جواب لے کر آو تاکے تاکے پڑھنے والوں کو پتا چلے کے کیسے تم لوگوں کی ذہنیت کو زنگ لگایا گیا سب کو چیلنچ ہے میرے ان سوالوں کے جوابات لا کے دکھاو۔

fikrepakistan نے لکھا ہے کہ

ویفئیر سوسائٹی ہم اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہے ہیں، ہمیں مولویوں کی طرح سعودی عرب سے اور لیبیاء سے فنڈنگ نہیں ہوتی، نہ ہی لوگ ہمیں زکوات خیرات چندے حلوے مانڈے دیتے ہیں نہ ہی قربانی کی کھالوں کو دین کے نام پر لیتے ہیں ہم لوگ۔ جن کے پیچے کروڑوں لوگ چل رہے ہیں جنہیں کروڑوں لوگ چندے دے رہے ہیں ان سے تو یہ سوال کرنے کی ہمت ہے نہیں آپکی، کیوں کے انہوں نے تم جیسے لوگوں کو دین کے ظواہر کی افیوم کھلائی ہوئی ہے۔ اگر یہ لوگ خود نہیں کر سکتے تو حکومت وقت سے کروائیں، ایسے کسی کام کے لئیے کبھی دھرنے نہیں دیتے یہ لوگ۔ بس اپنے مفادات کے لئیے ہڑتالیں بھی کروا لو دھرنے بھی دلوالو ان سے۔ میں نے جو سوالات کیئے ہیں انکے جوابات لے کر آو تاکے تہمارے ان نام نہاد جعلی اور خود ساختہ انبیاء کے وارثوں کی اوقات کا پتہ چلے دنیا کو۔

fikrepakisatan نے لکھا ہے کہ

تم جیسے لوگوں کا یہ ہی المیہ ہے جب پھنس جاتے ہو دلیل نہیں ہوتی کوئی اپنی بات ثابت کرنے کے لئیے تو ذاتیات پر اتر آتے ہو۔ میں کیا ہوں یہ میرا اللہ جانتا ہے، مجھے تم سے سرٹیفکیٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میری نمازیں میرا قرآن میری عبادات اللہ کے لیے ہے تہمارے لئیے نہیں جو میں تم جیسوں کو حساب دیتا پھروں۔ ذاتیات پر اترنے کے بجائے دلیل لاو دلیل، میرے سوالوں کے جواب دو دلیل کے ساتھہ۔ ورنہ سب پڑھنے والے جان ہی چکے ہیں کے کیسے تم بھاگتے پھر رہے ہو ادھر ادھر کی باتوں میں الجھا رہے ہو۔

Munir Abbasi نے لکھا ہے کہ

I can not stop myself from laughing. Hahahaahaha Thanks Uncle tom and Bunyad Parast.

You really helped us know what Ficker pakistan is upto.

Reminds me of Abdullah, the bara Singha.

گمنام نے لکھا ہے کہ

فکر پاکستان صاحب ہمارے سوالات کے جوابات تو آپ شیر مادر کی طرح کی طرح ہضم کر گئے ہیں اور ادھر ادھر کے غیر متعلقہ سوالات کی بوچھاڑ فرما رہے ہیں اور الٹا الزام بھی ہم پہ کہ ہم بھاگ رہے ہیں ٹاپک سے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی نے لکھا ہے کہ

جعفر صاحب نے نصیحیت بھی فرمائی تھی۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بتاو ہار کس نے مانی؟
؛ڈڈڈ

fikrepakistan نے لکھا ہے کہ

ہاہاہاہاہاہاہا بھاگ گئے سارے دم دبا کے کسی ایک بھی پھپھوندی لگی ذہنیت والے کے پاس جواب نہیں ایک بھی سوال کا۔

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

گڈ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔
فَکر ذرا سر اٹھا کر اوپر دیکھو اور بتاؤ میں نے تمہارے کس سوال کا جواب نہیں دیا۔ میں نے تو سمجھا تھا تم صرف عقل کے اندھے ہو ، اب پتا چل رہا ہے کہ تم آنکھوں سے بھی اندھے ہو۔ حقیقت میں جواب تو تم نے میرے کسی سوال کا نہیں دیا، ٖ کیا تم نے اپنے بہتان کہ ستر فیصد مساجد چوری کی ہیں ' کا کوئی ثبوت دیا ؟ کیا تم نے جواب دیا کہ تم نے خودسائنس پر تحقیق کے لیے لیباٹری کیوں نہیں کھولی ہوئی؟ جن باتوں کو تم پرسنل کہہ کر ٹال گئے وہی تمہیں سمجھانے کے لیے تھی کہ انسان ایک وقت میں ایک ہی کشتی میں سوار ہوسکتا ہے۔ خود تو تم نے نماز کے واجبات کے سوال کی خفگی سے بچنے کے لیے کہہ دیا کہ میری نمازیں میرا قرآن میری عبادات اللہ کے لیے ہے تہمارے لئیے نہیں جو میں تم جیسوں کو حساب دیتا پھروں، اور خود خدا بن کے علما کے اعمال کا حساب بھی لے رہے ہو اور مجھے یہ نصحیتیں بھی کررہے ہو کہ چھوڑو ان علما کو۔ کیا یہ سب تمہارے ذاتی مسئلے ہیں یا ہمارے ؟تمہاری منافقتوں کا یہ حال ہے اور اوپر سے جیت کے نعرے لگارہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ بھاگ گئے ؟
امام غزالی رحمہ اللہ نے سچ فرمایا تھا کہ جب بھی میں نے کسی جاہل سے بحث کی وہ جاہل ہی جیتا۔ تم بھی اپنی جیت کے نعرے لگاتے رہو، تم سو علما پر بھاری ہو۔ تمہارے میں اور بارہ سنگھا میں صرف نام کا فرق ہے ۔ یہ ہم لوگوں کو مولویوں کی صحبت کی وجہ سے حسن ظن کی بیماری لگ گئی ہے جسکی وجہ سے ہم اپنا اور پڑھنے والوں کا اتنا قیمتی وقت تمہارے جیسے حسن نثاری کاپی پیسٹر کے ساتھ ضائع کرتے ہیں۔ تمہارے جیسے بندے کے لیے مولویوں کی برکت سے قرآن کی ایک آیت یاد آرہی ہے ۔
وإذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما

محمد نعمان نے لکھا ہے کہ

جناب عالی مقام عزت مآب حضرتِ فکرِ پاکستان صاحب آپ کی خدمت میں ایک ادنٰی سی گزارش ایک اشکال جو سوال کی صورت میں آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اگر ناگوار نہ گزرے تو فرما دیجئے کہ آپ کی ویلفئر سوسائٹی یا تنطیم نے اب تک کتنے سائینسی پراجیکٹس میں فنڈنگ کی ہے یا ایڈ دی ہے یا اگر کوئی سائنسی پراجیکٹس مکمل کیے ہوں تو ان کا کوئی اتا پتہ دیجئے یا جن جورنلز میں آپ کی سائنسی تحقیقات چھپی ہوں ان کا نام بمع تاریخِ اجرا کے عنایت فرما دیجئے تاکہ ہم اس کی ایک عدد پرنٹ کاپی نکال کر پورے ملک کے بڑے بڑے علماء حضرات کے پاس جا کے دکھائیں اور انہیں تحریک بھی دلائیں اور اس سے بھی بڑھ کر انہیں شرم بھی دلائیں کہ جناب یہ ہوتا ہے انسانیت کا اعلٰی و ارفع مقام، یہ ہوتی ہے معراج کسی انسان کی جب انسان کی کسی جورنل میں کوئی سائینسی تحقیق چھپتی ہے تو تب جا کے وہ انسان کہلاتا ہے ورنہ تب تک ایک جانور ہی رہتا ہے۔ اور پھر ہم ان کو اتنی شرم دلائیں کہ وہ شرم سے پانی پانی ہو ڈوب مریں۔ فرمائیے آپ میری مدد کریں گے اس معاملے میں۔۔۔۔۔

درویش خُراسانی نے لکھا ہے کہ

یار جعفر نے ٹھیک ہی کہا تھا۔

فکر پاکستان صاحب کی یہ کویہ پہلی بار تو نہیں ہے۔ کتنی بار اس سے بحث ہوئی ہے، لیکن جو نہیں سمجھتا تو کوئی خواہمخواہ اسکے پیچھے پڑئے ہو۔

اقبال نے کہا کہ

افغانیوں کی غیرت دین کا ہے یہ علاج
ملا کو انکی کوہ ودامان سے نکال دو۔


ایک سوسائیٹی کیا بنائی کہ بس باقی سارئے نا اہل نظر آرہے ہیں

اردو میں شعر ہے کہ

کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جسکا جتنا ضرف ہے ،اتنا ہی وہ خاموش ہے


اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے تین چار سو انسانوں کی زندگیوں کا معاملہ اس ناچیز کے ہاتھ میں ہے ،اور اب تک احسن طریقے سے جا رہا ہے۔

مزہ نہیں آتا بتانے میں ورنہ گنوانے پر آجائیں تو شمار نہ ہوسکیں یہ فلاحی کام۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

ایک بندے نے عقل اور لاجک کی بات کی اس کے پیچھے لٹھ لیکے دوڑنے کے بجائے اس کی ٹانگ پہ بیعت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہاتھ پہ اس لئے نہیں کہ یہ تو جانور ملا کرتے ہیں
سعید

وقاراعظم نے لکھا ہے کہ

شکر ہے آپ حضرات کو بات سمجھ آ ہی گئی ;)

گمنام نے لکھا ہے کہ

جو آپ نے پہلے درسِ نطامی کے بارے لکھا ہے، اس کا لنک عطا کیجیے

بنیاد پرست نے لکھا ہے کہ

یہ لنک ملاحظہ فرمائیں۔
http://bunyadparast.blogspot.com/2011/04/blog-post_09.html

Majid Raza نے لکھا ہے کہ

mere khayal se sub ko mil kar kam karna chaye .ye waqt kisi ki tana zani karne ka nai .ulla ma aur awam .sub ek hoker talimat e den o duniya .me bharpor tarraqi aur kamyabi hasil karni chaye .youn bewajh tubsire karna la hasil he .

Rafi uddin نے لکھا ہے کہ

Assalam o Alaikum wa Rahmatullah wa barakatoho,
Muhtram Shaikh sahib ! I am student of Islamic studies in Sargodha University.My topic for PhD is " Punjab maen Uloom ul Quran wa Tafseer ul Quran per Ghair Matbooa Urdu Mwad".Please guide me and send me the relavent material. I will be thankful to you for this kind of act and I will pray for your forgiveness and succeed in this world and world hereafter.
Jzakallah o khaira
yours sincerely
Rafi ud Din email address drfi@ymail.com o3336750546 , 03016998303
Basti Dewan wali St. Zafar Bloch Old Chiniot road Jhang saddar

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔