جمعرات، 9 فروری، 2012

وحی غیر متلو اور مستشرقین و ملحدین کا جھوٹا پراپیگنڈہ

یہود ونصاری پہلے دن سے اسلام سے حسد کرتے آرہے ہیں،  دونوں قوموں کو شروع سے   "اہلِ کتاب" ہونے کا زعم تھا، یہود بنی اسرائیل میں آخری نبی کی آرزو لیے بیٹھے تھے؛ لیکن بنی اسماعیل میں آخری نبی کے  ظہور نے انہیں اسلام کا بدترین دشمن بنادیا ، مدینہ میں انہوں نے غزوہ خندق میں  معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئےمسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے نکال دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ نے  انکو انکی  سازشوں  کی وجہ سے آخر جزیرۃ العرب سےہی  نکال باہرکیا ۔ آپ   نے  ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم  کا جملہ اچھی طرح یاد ہے:
جزیرۃ العرب سے یہود ونصاریٰ کو نکال دو۔ (ابوداؤد، باب فی إخراج الیہود من جزیرۃ العرب، حدیث نمبر:۲۶۳۵)۔
ان  دونوں قوموں  نے بعد میں باہر سے بھی اپنی سازشیں جاریں رکھیں اور مسلمانوں کو بڑا نقصان پہچانے کی کوششوں میں رہے اورمسلمانوں کو  ان سے بعد میں   بہت سی جنگیں لڑنی پڑیں۔ ڈاکٹرحمیداللہ صلیبی جنگوں کے بارےمیں لکھتے ہیں:
“یورپ کی متحدہ عیسائی طاقتوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کیا، یسوع مسیح کے دین اور صلیب مقدس کی حفاظت کے نام پر یورپ کے ان وحشی اور غیرمہذب دیوانوں نے جس سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ کیا نصرانیت کی تاریخ میں اسے "مقدس لڑائی" کے نام سے پکارا جاتا ہے عیسائیوں اور مسلمانوں کی یہ المناک کشمکش جو تقریباً دوصدی تک جاری رہی، تاریخ میں صلیبی جنگوں کے نام سے مشہور ہے"۔  (تاریخِ اسلام: ۴۳۵، مؤلف: ڈاکٹر حمید اللہ)۔
انکے ان سب تخریبی کاموں کے باوجود  مسلم اقوام میں کبھی تذبذب، اضطراب اور جذبہ شکستگی کا احساس تک نہ پیدا ہوا؛ بلکہ انہوں نے ہر میدان میں ثابت قدمی کا ثبوت پیش کیا، جس کی وجہ سے اسلامی قوت ان علاقوں میں ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے لگی ۔اسلام نے  میدان جہاد کے علاوہ   یہودونصاری کے مسخ شدہ عقیدے پر بھی  ضرب کاری لگائی تھی جس  کی وجہ سے ان کے کمزور عقیدے والے ہی نہیں، راسخ العقیدہ حضرات بھی رفتہ رفتہ اسلام کو گلے لگاتے جارہے تھے، یہودونصاری نے ان حالات کو دیکھ کر  پالیسی بدلی  اور تیروتلوار پھینک کر اسلامی کے علمی ماخذ ین،   تہذیب وثقافت اور اقدار پر حملہ کرنے کا سوچا ، مقصد  یہ تھا کہ ناصرف اسلام کے فکری حملہ کی روک تھام کی جائے  بلکہ اپنے لوگوں کو  اسلام سے نکال کر اپنا ہم نوابنالیا جائے یا کم ازکم اپنے مذہب پر ثابت قدم رکھا جاسکے؛ اس کے لیے انہوں نے پوری جانفشانی سے اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا۔ ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ عربی زبان تھی ۔ چنانچہ ۱۳۱۲ء کو جینوا کی کلیسا نے عربی زبان کو مختلف یونیورسٹیوں میں داخلِ نصاب کرنے کا فیصلہ کیا اور ۱۷۸۳ء میں اس کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اصل مقصد کی یاد دہانی کرواکر اصل کام کا آغاز کیا گیا اوراس تحریک کا نام اورئینٹلزم ( استشراق) رکھا گیا ۔(ترات الاسلام:۱/۷۸، بحوالہ من افتراءات المستشرقین) ۔
احمد عبدالحمید غراب لکھتے ہیں 
"استشراق، یورپ کے اہل کتاب کفار کی ان تحقیقات کا نام ہے جو اسلام کی صورت بگاڑنے، مسلمانوں کے ذہن میں اس کی جانب سے شک پیدا کرنے اور اس سے برگشتہ کرنے کے لیے خاص طور پر اسلامی عقیدہ وشریعت، تہذیب وتمدن، تاریخ نیززبان وبیان اور نظم وانتظام کے تئیں کی جائیں"۔(رویۃ اسلامیہ للاستشراق:۷، مؤلف: احمد عبدالحمید غراب)۔

مستشرقین اور  حدیث:۔
ان دشمنانِ اسلام نے دین کے ہرشعبہ کو نشانہ بنایا اور ہرگوشے کو مشکوک کرنے کی کوشش کی ۔ حدیث پاک، قرآن پاک کے بعد سب سے اہم مصدر ہے اور دین کی صحیح فہم اور اسلام کی حقیقی تصویر کشی، حدیث کے بغیر نامکمل رہتی ہے، اس لیے  مستشرقین   نےاس اہم مصدر کی طرف کچھ زیادہ توجہ دی  اور آزاد تحقیق وریسرچ کے نام پر زہراگلی۔اس سلسلے میں انکی  سب سے نمایاں دو شخصیات نظر آتی ہیں،سب سے پہلی شخصیت گولڈزیہر   ہے، جس کو عربی کتابوں میں "جولدتسھر"سے جانا جاتا ہے یہ شخص جرمنی یہودی  تھا، اس نے تمام اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا اور ۱۸۹۰ء میں پہلی تحقیق شائع کی ۔دوسری شخصیت "جوزف شاخت" کی ہے (موسوعۃ المستشرقین، تالیف عبدالرحمن بدوی)۔
حدیث کے متعلق "گولڈزیہر" نے زیادہ توجہ متن پر مرکوز کی، جب کہ "شاخت" نے سند اور تاریخ سند کو مشکوک بنانے کی کوشش کی۔ انکے بعد   اس موضوع پر بڑی بڑی کتابیں لکھیں گئیں ۔ اسلامی دنیا میں روشن خیالی کے علمبردار ملحدین انہی  کی باتوں کو کاپی کرکے نت نئے انداز میں پیش کرتے ہیں  ،یہ  نام نہا د محقق  مغربی آ قاوٴں کے اسلوب واندازمیں حدیث وعلوم حدیث پر لمبے چوڑے مقالے اورتھیسز تیارکرتے ہیں ۔انہی لوگوں میں  ہمارے اردو بلاگر  بھی ہیں جو  بڑے عرصے سے اسلام کے خلاف محاذ سنبھالے ہوئے ہیں ، پہلے انہوں نے   دہریوں کا مواد چوری کرکے صفات باری تعالی اور قرآن  کے خلاف  جھوٹا پراپیگنڈہ کیا  ،   ہمارے دوستوں نے انکے ہر آرٹیکل کا مدلل و معقول جواب دیا، بجائے اسکے کہ وہ انکا جواب  الجواب دیتے انہوں نے اپنی ٹرٹراہٹ جاری رکھی،  آج کل مستشرقین اور  منکریں حدیث کا مواد  ان کے ہاتھ لگ گیا ہے۔یہ اعتراضات انہوں نے مستشرقین و ملحدین کی تحریروں سے چوری کیے ہیں   اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ  موصوف نے  ابھی  تک اسلام کے خلاف جو  آرٹیکل لکھے ان میں انکا لب ولہجہ، طرز واسلوب ، اثر وتاثیر اور  سوچنے کاانداز  انہی مستشرقین جیسا ہے ، ان کے مواد کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ   یہ  براہ راست مستشرقین کی کتابوں سے ، یا ایسے ثانوی مراجع سے لیا گیا  ہے، جن کے بنیادی مصادرومراجع مستشرقین کا تیار کردہ لٹریچرہیں ۔ میرے کئی دوست اسکا جواب دینے سے مجھے منع کرتے آرہے ہیں کہ  کہ  اس نے سمجھنا ہوتا تو ہمارے جوابی آرٹیکل  پڑھ کر ہی سمجھ جاتا ، اس لیے اس کی پوسٹ کے جواب لکھنے میں ٹائم ضائع نہ کرو۔ میں  صرف اپنے ان  بھائیوں جو کہ اسکی  کنفیوز کردینے والی  تحریروں سے وساوس کا شکار ہوسکتے ہیں’  کے لیے  اسکے ان  وساوس کا جواب لکھ  رہا ہوں۔ مکی کے اعترضات سرخ رنگ میں شو کیے ہیں ۔

احادیث کا انتخاب اور ان کی تدوین کس طرح کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ کیا دو سو سال بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے یا ان سے منسوب باتیں درست ہوسکتی ہیں؟؟ خاص طور سے جبکہ انہیں نقل کرنے والے لوگ جنہیں راوی کہا جاتا ہے عام انسان ہی تھے چنانچہ بھولنا، مختلف باتوں کا گڈمڈ ہونا، کسی بات کا اضافہ ہوجانا، اپنی مرضی کی بات کہنا یا سیاسی مفاد کی خاطر کوئی بات شامل کرنا یا گھڑنا سب ممکن ہے
احادیث 
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی وہ دوقسم کی تھی۔ ایک تو قرآنی آیات جن کو ”کلام الله“ کہا جاتا ہے، اس وحی کے الفاظ او رمعنی دونوں الله تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ اس وحی کو اہل علم کی اصطلاح میں ” وحی متلو“ کہتے ہیں، یعنی وہ وحی جس کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ دوسری قسم وحی کی وہ ہے جو قرآن مجید کا جز تو نہیں ہے لیکن اس کے ذریعہ بھی الله تعالیٰ نے حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو بہت سے احکام عطا فرمائے ہیں ، اس کو ” وحی غیر متلو“ کہا جاتا ہے، یعنی وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی یہ وحی صحیح احادیث کی شکل میں محفوظ ہے اور اس میں عموماً ایسا ہوا ہے کہ مضامین آں حضرت صلی الله علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے نازل کیے گئے، لیکن ان مضامین کی تعبیر کے لیے الفاظ کا انتخاب آپ نے خود فرمایا ہے۔ (الاتقان ج1 ص:45) ۔
حدیث کی حفاظت نے اور کتنے پیرائے اختیار کیئے اورعمل وقول  رسول کن کن راہوں سے امت کے لیے پکھڈ نڈی بنتا رہا اور امت کے قافلے کس طرح سے اس راہ پر چلتے آئے ،اس  کا  مکمل تذکرہ  تو یہاں ممکن نہیں، اس موضوع پر  علما کی کئی ضحیم کتابیں موجود ہیں، میں کوشش کروں گا کم سے کم الفاظ میں کچھ تفصیل بیان کرسکوں۔

حدیث کی حفا ظت و تدوین کا پہلا دور :۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، اعمال اور تقریرات واحوال، کامیابی کازینہ،بارگاہ الہی میں تقرب کاذریعہ ،شریعت مطہرة کابنیادی حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس عظیم امانت کی حفاظت ،نقل روایت میں احتیاط اور عمومی اشاعت وابلاغ کے لیے غیرمعمولی اہتمام کیاگیا، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اسی لیے احادیث نبوی کوخوب توجہ سے سننے، یاد کرنے ،لکھنے اور سمجھنے کے ساتھ دوسروں تک پہنچانے کا بھی اہتمام کیا ، جن صحابہ کرام علیہم الرضوان سے یہ حدیثیں سب سے زیادہ تعداد میں مل سکی ہیں ان میں حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر بن خطاب، انس بن مالک، ام المومنین حضرت عائشہ، عبداللہ بن عباس، جابر بن عبداللہ، ابوسعید خدری، عبداللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمرو بن عاص، علی المرتضی، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کی شخصیات بہت نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے صحابہ سے احادیث مروی ہیں ۔بعض صحابہ نے ذاتی طور پر احادیث کو لکھ کر محفوظ کرنے کا کام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں شروع کر دیا تھا۔اس سلسلہ میں  الصحیفہ الصادقہ، کتاب الصدقہ،صحیفہ علی،صحیفہ عمروبن حزم،صحیفہ جابر،صحیفہ سمرہ بن جندب، کتاب معاذ بن جبل، کتاب ابن عمر، کتاب ابن عباس، کتاب سعد بن عبادہ اور  ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہ،حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ اورحضرت انس بن مالک  رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مجموعے  پہلے دور کی حدیثی تحریرات ہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خود بھی احادیث لکھوائیں آپ نے عبداﷲ بن عمر سے فرمایا :’’احادیث لکھا کرو قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا کوئی بات نہیں نکلتی ‘‘۔(ابو داؤد جلد 1صفحہ 158
علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس کوئی چیز نہیں سوائے کتاب اﷲ کے اور اس صحیفہ کے جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں ۔(بخاری و مسلم کتاب الحج )

حدیث کی حفا ظت و تدوین کا دوسرا دور:۔
خلیفہ ثالث حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے تک کے اسلامی معاشرہ میں اس بات کا اندیشہ کرنے کی حاجت نہ تھی کہ کوئی بدبخت اپنی طرف سے باتیں بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب کرتارہے ، اور اس کی باتیں یوں ہی چلتی رہیں ۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات واعمال ، تقریرات واحوال، ذوق ومزاج ، طرزواداء اور اسلوب وانداز سے اچھی طرح باخبرجانثار صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین  کی ایک بڑی جماعت ہروقت موجودتھی ، اس دور کے بعد  اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی طرف منسوب کرنے کا فتنہ پیدا ہوا جو دین میں پیدا کئے جانے والے فتنوں میں سب سے زیادہ شدید تھا ، اسلام کے دشمنو                    ں نے پچھلے آسمانی مذاہب کی طرح مسلمانوں میں کچھ گمراہ کن افکار داخل کرنے کی کوشش میں تھے۔ 
اس موقع پر ہمارے  محدث صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین (اللہ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے) نے ایک نہایت ہی اعلیٰ نوعیت کا اہتمام فرمایا۔، امانت کا بارِعظیم أٹھانے والی اولین جماعت نے اس عمل ِبدکے سد باب کے لیے احادیث نبویہ ، اسلامی تاریخ وعلوم کی حفاظت کے لیے اس زمانہ کے اہل علم کے قول وفعل اور علمی وعملی رویوں کی سے راویان و روایات کی چھان بین ، تحقیق وتدقیق کے لیے ایک نئے فن اور بے نظیرعلمی کسوٹی کی داغ بیل ڈالی ،  انہوں نے اپنی دن رات کی محنت سے احادیث بیان کرنے والوں کی عمومی شہرت کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا۔ ان کی ان کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا وہ فن وجود میں آیا جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔

حدیث کی حفا ظت و تدوین کا تیسرا دور :۔
تیسرے دور میں جب صحاح ستہ جیسی گرانقدر تالیفات مرتب ہوگئیں،توحدیث اس وقت ایک ایسے دور حفاظت میں داخل ہوچکی تھی کہ اس پر قطعی حفاظت کا لفظ بغیر کسی تاویل کے پورا اترتا تھا۔ایک متواتر اور مشہور حدیث کے مطابق اگرکوئی آپ سے جھوٹی بات منسوب کر دے تو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا۔احادیث کے معاملے کی اسی حساسیت کی وجہ سے محدیثین نے یہ اہتمام کیا کہ ہر حدیث ان تک جس جس شخص سے گزر کر پہنچی، انہوں نے اس کا پورا ریکارڈ رکھا ۔محدیثین نے علم حدیث حاصل کرنے کے لئے دور دراز ممالک کے پا پیاہ سفر کئے ، بے پناہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھائیں ۔ پھر حاصل کرنے کے بعد تبلیغ میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ اسکے علاوہ  صحیح اور موضوع حدیث کو پرکھنےکے لئے محدثین نے اسماء الرجال کے فن ذریعے  اسناد کی پوری تنقیح اور تنقید کی ، حدیث کی صحت اور سقم کو پرکھنے کے لئے ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا ۔ جس حدیث میں ذرا بھی ضعف معلوم ہوا یا شک پیدا ہوا اس حدیث کو کتاب میں درج ہی نہیں کیا اگر کسی محدث نے کیا بھی تو اس ضعف کو واضح کردیا ۔ ان محدثین کے تقوی اور پرہیز گاری کی حالت اگر بیان کر دی جائے تو اس کے لئے دفاتر بھی کافی نہیں ہو سکتے ۔

امام بخاری کی مشقتیں اور  اہتمام :۔
چنانچہ امام بخاری نے علم حدیث کی خاطر مکہ ،مدینہ ، شام ، بخارہ ، مرو ،ہرات ، مصر ، بعداد ،کوفہ ،بصرہ ، بلخ نیشا پور اور دیگر بہت سے جزائر کا ایسے زمانہ میں سفر کیا جب کہ ریل ، موٹر وغیرہ سواری کا کوئی بندوبست نہ تھا ۔جہاں حدیث کا پتہ چلتا پا پیادہ وہاں پہنچ جاتے ۔ ایک ہزار اسی شیوخ سے علم حدیث حاصل کیا ۔ امام بخاری سے روبرو بلا واسطہ علم حدیث حاصل کرنے والے شاگردوں کی تعداد نوے ہزار ہے
امام بخاری رحمہ اللہ ہر حدیث لکھنے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنے کا التزام فرماتے تھے ۔ پھر اسناد میں یہاں تک اختیاط کی کہ روای اور مروی عنہ ایک ہی زمانہ میں گزرے ہوں ، ان کا اپس میں لقا بھی ممکن ہو ۔ جب تک ان کا لقا ثابت نہ ہوجائے امام بخاری اس کی روایت کو قبول نہیں کرتے ۔ اگر چہ یہ راوی کتنا ہی عادل اور ثقہ کیوں نہ ہو ۔

فنون حدیث فن اسماء الرجال و فن جرح وتعدیل کا اجمالی تذکرہ :۔
اسماء الرجال وہ علم ہے کہ جو راویانِ حدیث کے احوال اوراُن کے ثقہ اور غیر ثقہ ہونے اور سن پیدائش وسنِ وفات اور رحلات واسفار علمیہ او رعلم حدیث میں اُن کے مقام ومراتب اساتذہ، تلامذہ، عادات واخلاق وطبائع اور ہر اس وصف سے بحث کرنا ہے کہ جس کا ان کی ثقاہت یا مجروح وعادل ہونے سے تعلق ہو ۔ راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے.
ان فنون  کے ماہرین نے اپنی پوری زندگیاں وقف کر کے ان تمام معلومات کا کو جمع کیا۔ انہوں نے ان راویوں کے شہروں کا سفر کیا اور ان راویوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ چونکہ یہ راوی عموما حدیث بیان کرنے کی وجہ سے اپنے اپنے شہروں میں مشہور افراد تھے، اس لئے ان کے بارے میں معلومات نسبتاً آسانی سے مل گئیں۔ یہ تمام معلوما ت فن رجال کی کتابوں میں محفوظ کردی گئی ہیں۔ ان حضرات نے اپنی کتابوں میں  ہر راوی کے حالات کا ازاول تا آخر پورا احصاء کیا کہ کب پیدا ہوا تھا؟ کب اس نے طلب حدیث کی ابتدا کی کب سنا؟ کیسے سنا؟ کس کے ساتھ سنا؟ کب سفر کیا؟ اور کہاں کا سفر اختیار کیا ؟ اس طرح ان کے اساتذہ کا ذکر، ان کے علاقوں کا ذکر او رتاریخ وفات کا ذکر کیا اور بعض راویوں کے حالات میں تو ان کی زندگی کے جزئی حالات بھی خوب تحقیق وتدقیق سے تلاش کیے او ران کی زندگی کے تمام حوادث ذکر کر دیے ہیں۔ 
احادیث کو اتنی مقدس حیثیت حاصل رہی ہے کہ یہ قرآن کے احامات تک کو منسوخ کردیتی ہیں. 
منکرین قرآن وحدیث کی جانب کی طرف سے احادیث صحیحہ کو رد کرنے کے لیے کے عموما یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ بعض صحیح احادیث قرآن کے خلاف ہیں , جن میں سے انکے زعم کے مطابق کچھ متفق علیہ احادیث جو صحت کے اعلى ترین معیار پر ہیں وہ بھی قرآن کے خلاف ہیں ۔حالانکہ ایسا قطعا نہیں , کبھی بھی کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہوتی کیونکہ حدیث بھی وحی الہی اور کتاب اللہ ہی ہے جسطرح قرآن وحی الہی اور کتاب اللہ ہے  اور وحی الہی میں تضاد وتناقض قطعا نہیں ہوتا ہے ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگوں کی کوتاہ فہمی کی بناء پر ظاہرا انہیں احادیث اور آیات کے مابین تناقض وتضاد معلوم ہو ۔ وہ تناقض اور تضاد   بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے عقل وفہم میں پیدا ہوتا ہے۔،  

سارے قدیم وجدید علمائے حدیث جانتے ہیں کہ 99% احادیث “ظنیہ الثبوت” (قیاساً ثابت شدہ) ہیں ۔
لفظ ظن تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ 

. اٹکل یعنی بلا دلیل محض گمان اور تخمین
. شواہد وقرائن سے ظن غالب
 ظن بمعنی نظری و استدلالی علم جو دلیل و برہان سے حاصل ہوا ہو ۔ مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ میں لفظ ظن اسی علم یقینی کے معنی میں ہے ۔

الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( 2 ۔ 46 )۔ 
 وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ( 38 ۔۔
 كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ ( 75 ۔ 26،27، 28 ) ۔
قرآن نے ظن بمعنی محض اٹکل و تخمین کی پیروی سے منع کیا ہے ۔ احادیث کا سلسلہ نعوذ باللہ محض اٹکل اور تخمین نہیں ہے ۔ پس احادیث کو ظن کے معنی ثانی ( ظن غالب ) اور معنی ثالث ( علم یقینی استدلالی ) کے لحاظ سے ظنی کہا جاتا ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ 
علم یقینی استدلالی تو ظاہر ہے کہ واجب الاتباع ہے ۔ باقی رہیں وہ حدیثیں جو ظن غالب کا فائدہ دیتی ہیں ۔ سو شریعت مطہرہ نےظن غالب کویقین کا حکم دےکر واجب الاتباع قرار دیا ہے ۔ (شرح نخبۃ الفکر )۔
شرعی یقین کے لئے ثقہ عادل کی شہادت کافی ہوتی  ہے  سو وہ احادیث میں موجود ہے ۔ اس لحاظ سے احادیث سب یقینی ہیں ۔ ظنی اس لئے کہا جاتا ہےکہ احادیث میں عقلاً احتمالِ خطا موجود ہے لیکن شرعاً نہیں اور اکثر احادیث مفید ظن غالب ہیں اور دنیا میں  ظن غالب پر  عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ ہم رات دن اپنے جمیع معاملات میں ظن غالب ہی پر عمل کرتے ہیں ۔ دوا پیتےوقت شفا کا یقین نہیں ہوتا بلکہ زیادہ مضرت کا خدشہ موجود ہوتا ہے ۔ موٹر ، ریل ،طیارہ ، اور بحری جہاز وغیرہ پر سوار ہوتے وقت ہمیں ان کی مشنرری کےپرزہ جات کی درستی کا کوئی یقین نہیں ہوتا ۔ راستہ کے حوادث سے محفوظ رہنے کا یقین نہیں ، طیارہ کے گرنے ، ریل کے پٹری سے اتر جانے، بحری جہاز کے غرق ہوجانے کا احتمال موجود ہے ۔ پھر بھی ہم دن رات ان ذریعوں سے سفر کرتے ہیں ۔ بازار سے گوشت خریدتے وقت اس کی حلت کا ، دودھ ، گھی ، اناج، شکر وغیرہ کی پاکیزگی کا اور پانی پیتے اور غسل کرتے وقت اس کی طہارت کا ہر گز ہر گز کامل یقین نہیں ہوتا ۔ اور نہ ہی ہوسکتا ہے ۔. بات کو واضح کرنے کے لیے ایک اورآسان سی مثال ہے۔  حدیث یقینی شرعی ہے جیسا کہ ماں  اور باپ کا علم۔ ماں کے متعلق تو  قطعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص کی ماں ہے، مگر باپ کے بارےمیں اس یقین کے ساتھ حکم نہیں لگایا جاسکتا ۔ اسی لیے باپ کا علم یقینی شرعی ہے ۔ یہی باپ والا معاملہ حدیث کا ہے۔جب ہم شب وروز ہر معاملہ میں ظن غالب ہی پر عمل کرتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حدیث کو اسی ظن  کی وجہ سے ترک کردیا جائے۔

مختلف اسلامی فرقوں کی بنیاد اور ان کے آپس کے اختلافات بھی انہی احادیث کی وجہ سے ہیں

آئمہ و فقہا میں اختلاف   کی بڑی وجوہات 
اختلاف صحابہ :۔
 قرآن وحدیث کے اولین مخاطب حضرات صحابہ تھے، وہ براہِ راست حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم  سے فیض یافتہ تھے؛ اس لیے وہی حضرات قرآن وحدیث کی مراد کوصحیح طور پرسمجھ سکتے ہیں؛ لہٰذا ان حضرات نے جوسمجھا ہے وہ ہمارے لیے معیار اور مشعلِ راہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ  قرآن ورسول کے ایک ہوتے ہوئے حضراتِ صحابہ  رضی اللہ عنہ کے مابین بے شمار مسائل میں اختلاف تھا، ائمہ اربعہ  نے چونکہ ان ہی حضرات اور ان سے فیض یافتہ حضرات (تابعین) کی فہم وبصیرت پراعتماد کیا ہے اور ان ہی کے اقوال ومذاہب کواختیار کیا ہے؛ اس لیے ائمہ اربعہ  کے درمیان جن مسائل میں اختلاف واقع ہوا وہ دراصل صحابہ  رضی اللہ عنہ کے اختلاف کی وجہ سے ہوا ہے اور صحابہ  رضی اللہ عنہ کے باہمی اختلاف کے متعلق حدیث میں ہے  حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رب سے اپنے بعد صحابہ  رضی اللہ عنہ کے اختلاف کے متعلق پوچھا، اللہ نے بذریعہ وحی بتلایا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے صحابہ  رضی اللہ عنہ میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے آسمان کے ستارے کہ ان میں بعض کی روشنی بعض سے زیادہ ہے، جوشخص آپ کے صحابہ  رضی اللہ عنہ کے مسالکِ مختلفہ میں سے کسی مسلک کواختیار کرے گا وہ میرے نزدیک ہدایت پرہوگا۔
۔(کنز العمال، حدیث نمبر:۹۱۷۔)۔
فقہی مسائل میں پیدا ہونے والا  یہ اختلاف عہدِ صحابہ  سے ہے اور جواختلاف صحابہ کے دور میں رہا ہے اس کے باقی
رہنے میں خیر ہی ہے نہ کہ شر،
احادیث میں اختلاف :۔
احادیث کی روایت عموماً بالمعنی ہوتی ہے؛ نیزان میں ناسخ ومنسوخ بھی ہوتا ہے، بعض دفعہ کسی حدیث کا تعلق بعض اشخاص واوقات کے ساتھ ہوتا ہے؛ اسی طرح حدیث کے الفاظ بعض دفعہ مختلف معانی کے متحمل ہوتے ہیں، معانی کے اس اختلاف سے عمل کی مختلف شکلیں وجود میں آتی ہیں، چونکہ احکام ومسائل میں یہ اختلاف اجتہاد، اخلاص وللّٰہیت، تلاشِ حق، منشائے خداوندی کوسمجھنے اور مرادِ نبوی کی حقیقت کوجاننے کے لیے ہوا ہے اس لیے اس کومذموم اوربُرا نہیں کہا جاسکتا۔
اختلاف کو باقی رکھنا خود الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا منشا ہے
 یہ بات ادنیٰ غور وتامل سے معلوم ہو سکتی ہے، مثلاً الله تعالیٰ نے وضو میں سر کا مسح کرنے کا حکم ان الفاظ میں دیا ہے ﴿وامسحوا برؤسکم﴾ یہاں لفظ ”ب“ استعمال کیا گیا ہے، ”ب“ کے معنی عربی زبان میں بعض یعنی کچھ حصہ کے بھی ہوتے ہیں اور ”ب“ زائد بھی ہوتی ہے ، پہلی صورت میں معنی ہو گا سر کے بعض حصہ کا مسح کر لو اور دوسری صورت میں معنی ہو گا کہ پورے سرکا مسح کرو، چناں چہ بعض فقہاء پورے سر کے مسح کو ضروری قرارا دیتے ہیں اور دوسری رائے کے مطابق سر کے کچھ حصہ کا مسح کافی ہو گا، ظاہر ہے کہ الله تعالیٰ کے علم میں”ب“ کے یہ دونوں معنی پہلے سے موجود ہیں ، اگر الله چاہتے تو بعض کا لفظ استعمال فرماتے اورمتعین ہو جاتا کہ پورے سر کا مسح ضروری نہیں ، یا ”کل“ کا لفظ ارشاد فرماتے اور یہ بات پوری طرح بے غبار ہو جاتی کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے، لیکن خدائے علیم وخبیر نے اس صراحت کے بجائے اپنی کتاب میں ایک ایسا لفظ ذکر فرمایا جس میں دو معنوں کا احتمال ہے ، اس سے ظاہر ہے کہ ایسے مسائل میں اختلاف رائے کا باقی رہنا خود منشائے ربانی ہے۔
اسی طرح قرآن مجید میں عورت کی عدت کے لیے تین”قرء“ گزارنے کا حکم دیا گیا ہے ،” قرء“ کے معنی حیض کے بھی ہیں او رزمانہ پاکی کے بھی ، اسی لیے بعض فقہاء نے تین حیض مدت قراردی ہے او ربعض نے تین پاکی ، ظاہر ہے کہ ” قرء“ کے دونوں معانی الله تعالی کے علم محکم میں پہلے سے تھے ، اگر الله تعالیٰ کا یہ منشا ہوتا کہ احکام شرعیہ میں کوئی اختلاف رائے نہ ہو تو قرآن میں بجائے ” قرء“ کے صریحاً حیض یا طہر کا لفظ استعمال کیا جاتا، 
یہی صورت حال احادیث نبویہ میں بھی ہے ، مثلا آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حالت اغلاق کی طلاق واقع نہیں ہوتی ، اغلاق کے معنی جنون وپاگل پن کے بھی ہیں اور اکراہ ومجبور کے بھی ، چناں چہ اپنے اپنے فہم کے مطابق بعضوں نے ایک معنی کو ترجیح دی ہے او ربعضوں نے دوسرے معنی کو ، حالاں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم افصح العرب یعنی عرب کے سب سے زیادہ فصیح شخص تھے ، اگر آپ صلی الله علیہ وسلم چاہتے تو ایسی واضح تعبیر اختیار فرماتے کہ ایک ہی معنی متعین ہو جاتا، دوسرے معنی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اختلاف منشا خداوندی اور رحمت کیوں :۔
  ائمہ کے درمیان جزوی مسائل میں اسطرح کا اختلاف رونماہونا  رحمت ہے تاکہ  زمانے کے حالات وضروریات اوراس کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اس عمل کومختلف طریقے سے انجام دیا جاسکے، اور مختلف فقہی مسالک کی شکل میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی متفرق سنتیں اور طریقے زندہ ہوں اور سماج ومعاشرے میں رواج پائیں، تنگی کے وقت سہولت کا باعث بنیں۔اسی لیے شریعت نے اپنے ایک بڑے حصے میں جزوی اور متعینہ احکام دینے کے بجائے محض اصولی ہدایات دی ہیں تاکہ ہردور کے حالات اور ضروریات اور عرف ورواج کے مطابق عمل کی مختلف شکلیں وجود میں آسکیں اور اس نے اپنے احکام میں ایسی گنجائش اور کشائش رکھی ہے کہ ایک ہی عمل کومختلف شکل میں انجام دیا جاسکے۔
پتہ نہیں ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عباس کو راویوں کی فہرست میں کیوں شامل کیا گیا جبکہ حدیث کو قبول کرنے کی اولین شرط یہ ہے کہ راوی کی ساکھ اچھی ہونی چاہیے، تاریخ کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ابو ہریرہ نے بحرین کے مال میں کرپشن کی اور بن عباس نے بصرہ کے مال میں کرپشن کی (7) کیا عوام کا مال کھا کر بھی انسان کی ساکھ باقی رہتی ہے؟ کیا کرپٹ لوگوںسے حدیث لی جاسکتی ہے
 اعتراض کرنے والے کی دورخی دیکھیں ، جناب صحابہ پر اعتراض کرنے کے لیے   خود تاریخ سے استدلال کررہے ہیں  جس کی  کوئی سند موجود  ہی  نہیں ۔ جناب ایک طرف احادیث  جنکی سند اور متن کی درستگی کے یقینی ثبوت  موجود ہیں' کو چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہیں ، دوسری طرف اپنی بات کی دلیل میں تاریخ سے  ایک ایسی بات پیش کررہے ہیں جسکا ان کے  پاس  نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ اس  معیار کا حوالہ ہے جو وہ حدیث کے صحیح ہونے کے لیے مانگ رہے ہیں ،  جب سبب تنقید ضد اور تعصب ہو، پھر اعتراض گھڑنے کے لیے  اسی طرح کی منافقت کا سہار ا لینا پڑتا ہے۔یہی حال ان مغربی  معترضین ، مشر  قین ، پراپیگنڈہ بازوں کا  بھی ہے جنکی کتابوں ، سائیٹس سے جناب  میٹریل چوری کرتے ہیں ۔ وہ قرآن وحدیث کی حفاظت کے اتنے پائیدار اور  زبردست انتظام کے باوجود اس  پر برسوں سے اعتراض کرتے آرہے ہیں لیکن ان لوگوں کی اپنی  مذہبی کتابوں کا کیا حال ہے وہ سب کے سامنے ہیں ، انکی کتابیں کلام الہی کے بجائے کلام انسانی میں تبدیل ہوچکی ہیں  اور اپنے اندر  انتہائی تضادات کا شکار ہیں۔ خود انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مصنفین کے مطابق  توراۃ حضرت موسی علیہ السلام کے صد ہا سال کے بعد کتابی شکل میں مدون ہوئی ہے، عیسائی دنیا چار انجیلوں کو تسلیم کرتی ہے ، ان چار انجیلوں میں سے ایک کے لکھنے والے نے بھی عیسی علیہ السلام کو خود نہیں دیکھا ، بلکہ اب تو یہ بھی مشکوک سمجھا جا رہا ہے کہ جن چار آدمیوں کی طرف انکی نسبت کی جای ہے  (یعنی متی ،مرقس، یوحنا ، لوقا  )ان کی  طرف یہ نسبت صحیح بھی ہے یا نہیں ؟ مطلب یہ کہ ان  کے لیے جس درجہ کا علمی ثبوت ہونا چاہیے واقعتا وہ موجود نہیں ہے،   جبکہ  ہمارے ہاں تو ضعیف حدیثوں تک کی سند موجود ہے، اور اس سند کے ضعف اور عدم ضعف پر دلائل قائم ہیں۔
دھن رے دھنیے اپنی دھن، پرائی دھنی کا پاپ نہ پن
تیری روئی میں چار بنولےسب سے پہلے ان کو چن

 گریٹ بک آف ویسٹرن ورلڈ مغرب کی  ایک کتاب ہے  جسے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا  کمپنی نے  شائع کیا ہےیہ کتاب مغربی دنیا کے علمی و فکری خزانے کی مکمل تاریخ ہے جتنی اہم ترین کتب مختلف زمانوں میں‌ مغربی مورخین فلاسفہ ،ادبا اور سائنسدانوں وغیرہ نے لکھیں وہ مختلف عنوانات کے تحت یکجا کر کے شائع کردی گئیں۔ اس کتاب میں نہ حدیث کی طرح کا کوئی سند کا سلسلہ ہے اور نہ متن کے گواہوں کا کہیں تذکرہ  ہے  پھر بھی جد ید ترقی یافتہ مغربی دنیا اور  جنوبی ایشیا کے  خود کو پڑھا لکھا کہنے والے   دانشور، پروفیسر، ڈاکٹر  اسے تاریخی اقتباس اپنی کتابوں اور آرٹیکلز میں کاپی کرتے ہیں  ، کبھی کسی نے  ان کے حوالہ پر اعتراض نہیں کیا،  بخلاف حدیث کے  جس پر اعتراض ہے جسکا ہر جزسند اور دلیل سے ثابت ہے ۔ پھر سند کی بھی پوری تنقیح اور تنقید اور ہر ممکن ذریعہ سے جانچ پڑتال کی گئی ہے اور ٹھوس علمی شہادت کے بعد قبول کی گئی ہے۔۔۔اگر موازنہ کیا جائے تو احادیث سچائی اور اعتماد میں اہل مغرب کی ایسی کسی بھی علمی کاوش سے ہزار درجے بہتر ہیں۔ لیکن پھر بھی اس پر اعتراض ہے اور  اسکو چھوڑنے کی نصیحتیں ہیں ۔ ۔ 

ابو ہریرہ   محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت میں سب پر سبقت لے گئے اور کوئی 5374 احادیث روایت کیں، حالانکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محض تین سال رہے!! جبکہ عبد اللہ بن عباس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی 1660 احادیث روایت کیں حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر محض 13 سال تھی!! قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایک کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے رفاقت محض 3 سال رہی جبکہ دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت محض بچہ تھا تو کیا ان دونوں میں اتنی قدرت تھی کہ وہ ایک طویل عرصے تک اتنا سارا ڈیٹا اپنے دماغ میں لے کر گھومتے رہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسے محض یادداشت پر انحصار کرتے ہوئے “ری سٹور” کر سکیں؟؟
یہ حقیقت ہے کہ عربوں میں زبانی یاد داشتوں کاقدیم زمانے سے  رواج تھا، ان میں حفظ کی زبردست صلاحیت موجود تھی،صدیوں سے یہ لوگ اپنے قبائل کی تاریخ اوراپنے خاندانوں کے انساب  یاد رکھتے  آرہےتھے  اور راوی کا لفظ ان کے ہاں پہلے سے موجود تھا۔ عربوں میں حافظہ کی قوت میں بہت سے لوگ مشہور تھے ۔تابعی کبیر حضرت قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ  (۱۱۸ھ) کا حافظہ حیرت ناک تھا، جو بات ایک مرتبہ سن لیتے ہمیشہ کے لیے یاد ہوجاتی(تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۶۔تہذیب التہذیب:۴/۳۵۷) ،  امام زہری اورامام بخاری رحمہ اللہ  کے حافظے تاریخ اسلام میں شہرہ آفاق ہیں۔ہشام بن عبدالملک نے ایک موقع پر  اما م زہری کے حافظے کا امتحان لینا چاہا؛ چنانچہ آپ سے درخواست کی کہ ان کے بعض صاحبزادے کو حدیثیں املاء کروائیں؛ لہٰذا ابن شہاب نے ایک مجلس میں چار سو حدیثیں املاءکروائیں، ایک ماہ کے بعد ہشام نے کہا کہ وہ صحیفہ ضائع ہوگیا؛ اس لیے دوبارہ حدیثیں لکھوادیں؛ چنانچہ ابن شہاب نے دوبارہ چارسو حدیثیں لکھوائیں، جب مقابلہ کیا گیا توایک لفظ کا بھی فرق نہ تھا۔  (تہذیب الکمال:۶/۵۱۲)
حضرت ابو ہریرہ کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ آپ  نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنی یاداشت کی شکایت کی تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ، آپ نے باذن الہٰی اس میں روحانی توجہ فرمائی اور حضرت ابوہریرہ   رضی اللہ عنہ    بے نظیر حفظ کی دولت سے مالا مال ہوگئے؛ پھر اللہ تعالی نے آپ سے حدیث کی وہ خدمت لی کہ جو سنا پھر کبھی نہ بھولے اورجو دیکھا وہ ہمیشہ کی یاد بن گیا، خود فرماتے ہیں:
"فضممتہ فما نسیت شیئا بعدہ"۔  
ترجمہ: پس! میں نے وہ چادر سمیٹ لی،اس کے بعد میں کبھی کچھ نہ بھولا۔(صحیح بخاری: ۴۱)۔
اس کے علاوہ ایک سادہ سی بات ہے جب تلاوت وقرأت میں بھول چوک حفاظت قرآن کو مجروح نہیں کرتی تو نقل روایت کی کسی غلطی سے یا راوی کی بھول چوک سے حفاظت حدیث مجروح کیسے ہوسکتی ہے ، جس طرح غلط تلاوت پر ٹوکنے اور لقمہ دینے والے ہر جگہ اور ہر دور میں ملتے ہیں، ضعیف اورنامکمل روایات پر راویوں کی بھول چوک کو نمایاں کرنے والے محدثین بھی ہر دور میں اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے ہیں۔
خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں ایک زندیق کو قتل کے لیے لایا   گیا ، وہ کہنے لگا کہ تم مجھے تو قتل کردوں گے لیکن ان ایک ہزار حدیثوں کا کیا کرو گے جو میں نے وضع کرکے چالو کردی ہیں، ہارون الرشید نے فورا جواب دیا :
اے دشمن خدا    ! تو ابو اسحق فزاری اور ابن مبارک سے بچ کر کہا ں جاسکتا ہے  وہ ان کو چھلنی کی طرح چھان کر ایک ایک حروف نکال پھینکیں گے۔(علوم الحدیث 32)۔
 جو شخص ضعیف ومنکر روایات کے سہارے کل ذخیرہ احادیث کو مشکوک سمجھتا ہے،وہ اسی شخص کی طرح کا جاہل ہے  جو تلاوت اورقرات کی بعض عام غلطیوں کے باعث حفاظت قرآن ہی سے منکر ہو یا اس میں شک کرنے لگے۔


قابل افسوس ہیں یہ لوگ جو علوم حدیث کی ابجد تک نہیں جانتے ، ائمہ رحمہم اللہ کے وضع کردہ قوانین کی الف ، ب تک نہیں جانتے ، خود ان کی علم حدیث سے معرفت جہالت کے درجے سے بھی کم ہے  ،اپنی ذاتی سوچوں اور اِدھر اُدھر کی سنی سنائی حکاتیوں اور فلسفیانہ "نظریات "کو علم سمجھتے ہیں اور اس کی بنا پر علمی حقائق کو جُھٹلاتے ہیں اور محض سنت دشمنی کے لیے ، حدیث کا تحفظ کرنے والوں اور  علمی قوانین اور تحقیق کو غلط کہتے ہیں ۔۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ  جو  صرف اپنی عقل ، اپنی سوچ کے مطابق اور اپنے اختیار کردہ فلسفوں کے مطابق جو پسند نہ آئے  اسی کو  رد کرے ،  اپنی ضد اور تعصب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت کے خلاف صف آراء رہے، اپنی جانوں کو گلا گلا کر سُنّتء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جمع کرنے ، اور اس سے متعلق روایات کی تطہیر کرنے والے عُلماء  کے خلاف زہر افشانی کرتا رہے ، اس کو اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ  شخص شقی اور بدبخت    ہے۔  
  کس قدر لائقِ شرم ہے کہ یہ حرماں نصیب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کی بجائے اپنے گلے میں ان کفار و ملحد ین  کی غلامی کا پٹہ سجانے میں “فخر” محسوس کرتے ہیں۔ حیف ہے اس عقل و دانش اور دین و مذہب پر! جس کی بنیاد الحاد و زندقہ پر ہو، جس میں قرآن و سنت کی بجائے جاہلین  کے کفریہ نظریات و عقائد کو درجہ استناد حاصل ہو، سچ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں تو عقل و خرد چھین لیتے ہیں، جھوٹ سچ کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور ہدایت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔اللہ ہمیں بدبختی سے بچائے۔ 




12 comments:

شاکر نے لکھا ہے کہ

ماشاءاللہ بہت خوب تجزیہ پیش کیا ہے۔ جزاک اللہ خیرا۔

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

مجھے رہ رہ کے ايک عيسائی جرمن انجنيئر کے اواخر 1967ء ميں کہے ہوئے دو جملے ياد آتے ہيں
۔"ہٹلر نے بہت بڑی غلطی کی کہ جس طرح مشہور کر ديا گيا ہے يہوديوں کو واقعی اس طرح ہلاک کر ديتا ۔ اب حال يہ ہے کہ وہ حکمران بن گئے ہيں اور ہم اُن کے ذہنی غلام"۔

کيا ہم مسلمانوں بھی يہوديوں کے ذہنی غلام نہيں بن چکے ؟

خالد حمید نے لکھا ہے کہ

اللہ ہم سب کو اس شر سے محفوظ فرمائے۔۔

باذوق نے لکھا ہے کہ

ماشاءاللہ ۔ بہت خوب
بہترین اور مدلل تحریر پیش کی ہے آپ نے۔
جزاک اللہ خیرا

گمنام نے لکھا ہے کہ

MAY ALLAH BLESS YOU AND YOUR TEAM WITH ALL YOU WISH AND DREAM FOR ISLAM AND MUSLIMS...OUR DUAA AND BEST WISHES WILL NEVER LEAVE YOU ALONE..ALLAH HAFIZ.

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

جزاک اللہ بھائی، آپ نے حوصلہ افزائی فرمائی،
گمنام صاحب اپنا نام بھی لکھ دیا کریں۔

Majid Raza نے لکھا ہے کہ

masha allah khuda apke ilm me barkat ata farmaye apki tehrir mubashir nazir bhai se mushaba he unho ne bhi tadwen hadith par apni site me buhut kuch likh rahakha he .
www.mubashirnazir.org

Aisha نے لکھا ہے کہ

ماشاء الله بهت بهترین
کیا اس مضمون کے مزنف کا نام جان سکتی هوں

Muhammad Tahir نے لکھا ہے کہ

حفاظت حدیث پر آپ کے پیش کردہ دلائل کے جواب میں شیخین کی دو مثالیں۔
۱۔ تذکرۃالحفّاظ میں حافظ ذہبی ؒ نے لکھا ہے کہ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پانچ سو احادیث کا مجموعہ لکھ کرام المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رکھوایا لیکن ایک صبح آپؓ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ مجموعہ طلب کیا اور اسے آگ لگا کر تلف کر دیا۔ سیّدہ عائشہؓ نے اس کا سبب دریافت فرمایا تو آپؓ نے جواب دیا:
خشیت ان اموت وهي عندی فيكون فيه احادیث عن رجل قد ائتمنه ووثقت، و لم یکن کما حدثنى، فأكون قد نقلت ذلك، فهذا لا یصح۔
مجھے ڈر ہے کہ میں( یہ کتاب) چھوڑ کر مر جاؤں اور اس میں کسی ایسے آدمی کی روایت کردہ حدیثیں ہوں جس پر میں نے امانت دار سمجھ انہںہ لکھ لیا ہو، جبکہ وہ در حقیقت اس طرح نہ ہو جس طرح اس نے مجھے بیان کی ہو، جسے میں نے نقل کر دیا ، پس یہ صحیح نہیں۔
سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہ حدیثیں جن پر انہیں اطمینان نہ ہوا یقینًا اپنے ساتھی صحابہ ہی سے سنی ہوں گی، اگر انہیں ان کی روایت پر اطمینان نہ ہو سکا تو صحابہ کے علاوہ باقی راوی تو اس درجۂ استناد سے یقینًا کمتر ہیں ان پر کلی اعتبار کیسے کیا جا سکتا ہے۔
سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ تنہا راوی کی ثقاہت پر اعتماد محض ایک قیاسی چیز ہے جو روایت کے لیے ناکافی ہے لہٰذا جوں جوں سلسلۂ روایت طویل ہوتا جائے گا روایت پہ یقین اتنا ہی کم ہوتا جائے گا۔ ائمہ نے راویوں کی عدالت اور ثقاہت کا کھوج لگانے کی کوشش تو کی لیکن کسی راوی نے سنی ہوئی روایت کو آگے بیان کرنے سے پہلے اوپر کے راوی کی ثقاہت کے علاوہ روایت کی صداقت جانچنے کے لئےکوئی اور گواہی تلاش کی، یا کوئی اور کوشش کی اس کی مثالیں کم کم ہی ملیں گی۔ اسی لئے ائمہ رجال کی رائے راویوں کے بارے میں متفرق ہے، ایک محدث کے نزدیک ایک راوی ثقہ جبکہ دوسرے کے نزدیک وہی راوی ضعیف ہے، ظن اور قیاس کی اس سے بڑھ کر مثال کیا ہو گی۔

۲۔ حافظ ابن عبدالبر " جامع بيان العلم وفضله" میں سیّدنا عمرِ فاروق ؓ کے متعلق لکھتے ہیں کہ آپ نے اپنے عہدِ خلافت میں احادیث نبویؐ کا ایک مجموعہ تالیف کرنے کا ارادہ کیا، اصحاب سے اس کے متعلق مشاورت بھی کی اور مسلسل ایک ماہ استخارہ کرنے کے بعد اس ارادے کو ترک کر دیا، جسکی وجہ یہ بیان کی کہ:
" إِنِّي كُنْتِ أُرِيدُ أَنْ أَكْتُبَ السُّنَنَ ، وَإِنِّي ذَكَرْتُ قَوْمًا كَانُوا قَبْلَكُمْ كَتَبُوا كُتُبًا فَأَكَبُّوا عَلَيْهَا وَتَرَكُوا كِتَابَ اللَّهِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لا أَشُوبُ كِتَابَ اللَّهِ بِشَيْءٍ أَبَدًا "
میں نے ارادہ کیا کہ سنن کو لکھوں، لیکن مجھے تم سے پہلے کی ایک قوم کا خیال آیا جنہوں نے خود کتابیں لکھیں اور ان میں ایسی مگن ہوئیں کہ کتاب اللہ کو ترک کر دیا، اور بخدا میں کبھی کتاب اللہ کو کسی شئے کے ساتھ خلط ملط نہیں کرونگا۔
واقعہ یہ ہے کہ سیّدنا عمرِ فاروق ؓ کا یہ خدشہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوا، اس امّت کے کچھ لوگوں نے بھی اپنے ہاتھوں سے کتابیں لکھیں ، انہیں مثلہ معہ والی روایتِ ضعیفہ کے بل پر وحیء الٰہی قرار دیا گیا ، اور امّت ان کتابوں میں ایسی مگن ہوئی کہ قرآن کو پس پشت ڈال دیا۔ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـذَا مِنْ عِندِ اللّهِ (۲:۷۹)

Muhammad Tahir نے لکھا ہے کہ

آپ نے لکھا
"امام بخاری رحمہ اللہ ہر حدیث لکھنے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنے کا التزام فرماتے تھے ۔ پھر اسناد میں یہاں تک اختیاط کی کہ روای اور مروی عنہ ایک ہی زمانہ میں گزرے ہوں ، ان کا اپس میں لقا بھی ممکن ہو ۔ جب تک ان کا لقا ثابت نہ ہوجائے امام بخاری اس کی روایت کو قبول نہیں کرتے ۔ اگر چہ یہ راوی کتنا ہی عادل اور ثقہ کیوں نہ ہو "

آپ کے دعوے کو غلط ثابت کرنے کے لئے ایک مثال، ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔

مغیرہ بن مقسم بخاری کے راوی ہیں ان کے بارے میں ائمۂ رجال کیا کہتے ہیں۔
یہ ۹۰ ھ میں پیدا ہوئے اور ابرہیم نخعی متوفی ۹۶ھ سے روایت کرتے ہیں،محدثین کے نزدیک ابرہیم نخعی سے ان کا سماع ثابت نہیں ۔ ابن حجر لکھتے ہیں "أنه كان يدلس ولا سيما عن إبراهيم، فيه نظر، فقد أخرج الشيخان من روايته عن إبراهيم، من غير تصريح بالسماع" یعنی یہ تدلیس کرتے ہیں اور ان کی ابرہیم نخعی سے سماعت نہیں ہے، ان کے بارے میں شبہات ہیں، شیخین نے ابرہیم نخعی سے ان کی روایات کی تخریج تصریح سماع کے بغیر کی ہے ابن حجر نے طبقات المدلسین میں ان کا ذکر طبقۂ ثلاثہ میں کیا ہے۔ ابو حاتم رازی کہتے ہیں یہ مدلس ہیں، احمد بن حنبل کہتے ہیں مغیرہ کی ابرہیم نخعی سے احادیث ضعیف ہیں، اور انہوں نے تدلیس کی ہے اور دراصل انہوں نے حماد سے سنا ہے۔ احمد بن صالح الجیلی کہتے ہیں یہ ثقہ ہیں سوائے اس کے کہ ابرہیم نخعی سے ان کی حدیثیں مرسل ہیں۔ اسماعیل بن اسحاق کہتے ہیں یہ قوی نہیں کیونکہ تدلیس کرتے ہیں،
بخاری میں مغیرہ کی ابراہیم نخعی سے مروی کئی روایات موجود ہیں ایک یہاں پیش ہے
حدثنا مالک بن إسماعيل حدثنا إسرائيل عن المغيرة بن مقسم عن إبراهيم نخعی عن علقمة قال قدمت الشأم فصليت رکعتين(الخ)
مالک بن اسرائیل ، مغیرہ بن مقسم ، ابراہیم نخعی، حضرت علقمہ (رض) سے روایت کرتے ہں کہ میں ملک شام مں گیا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھی(الخ)
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 978

لہٰذا آپ کا دعویٰ غلط ثابت ہوا۔

Muhammad Tahir نے لکھا ہے کہ

حجۃ الاسلام امام ابو بکر جصاص رسول اللہﷺ پر سحر والی روایات پر جوصحیحین میں موجود ہیں پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف احکام القرآن میں یوں رقمطراز ہیں
ومثل هذه الأخبار من وضع الملحدين تعليا بالحشوا الطَّغَامِ وَاسْتِجْرَارًا لَهُمْ إلَى الْقَوْلِ بِإِبْطَالِ مُعْجِزَاتِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ السَّلَامُ وَالْقَدْحِ فِيهَا وَأَنَّهُ لَا فَرْقَ بَيْنَ مُعْجِزَات الْأَنْبِيَاءِ وَفِعْلِ السَّحَرَةِ وَأَنَّ جَمِيعَهُ مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ وَالْعَجَبُ مِمَّنْ يَجْمَعُ بَيْنَ تَصْدِيقِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ السَّلَامُ وَإِثْبَاتِ مُعْجِزَاتِهِمْ وَبَيْنَ التَّصْدِيقِ بِمِثْلِ هَذَا مِنْ فِعْلِ السَّحَرَةِ مَعَ قَوْله تَعَالَى [وَلا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتى]
"دراصل اس طرح کی حدیثیں ملحدوں کی وضع کردہ ہیں جو رزیلوں اور اوباشوں کی بات کو اہمیت دینے اور بتدریج لوگوں کو اس بات کے لئے تیار کرنے کے واسطے گھڑی گئی ہیں تا کہ انبیأ کے معجزات کو باطل کیا جائے اور ان میں شبہ ڈالا جائے اور اس کا قائل کیا جائے کہ معجزات اور جادوگروں کی شعبدہ کاریوں میں کوئی فرق نہیں اور سب ایک ہی قسم سے تعلق رکھتی ہیں، اس قسم کی روایات بیان کرنے والوں پر تعجب ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ انبیأ کی تصدیق کرتے ہیں ، ان کے معجزات کو ثابت بھی کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ اس کی تصدیق بھی کرتے ہیں کہ جادو بھی یہ کر سکتا ہے ، حالانکہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے[ اور جادوگر کہیں بھی آ جائے کامیاب نہیں ہوتا]" احکام القرآن ابو بکر جصاص

حق یہ ہے کہ صحیحین کی روایات کے بارے میں اس قدر سخت الفاظ حجۃ الاسلام امام ابو بکر جصاص ہی ادا کر سکتے ہیں، ان کے اس بیان کی روشنی میں آپ کا آخری پیرا کچھ یوں بنتا ہے، صرف بریکٹس میں الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے، باقی تحریر آپ کی ہے۔

کس قدر لائقِ شرم ہے کہ یہ حرماں نصیب(لوگ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کی بجائے اپنے گلے میں ان کفار و ملحد ین کی (وضع کردہ روایات کی) غلامی کا پٹہ سجانے میں “فخر” محسوس کرتے ہیں۔ حیف ہے اس عقل و دانش اور دین و مذہب پر! جس کی بنیاد (میں) الحاد و زندقہ (کو شامل کر لیا گیا) ہو، جس میں قرآن و سنت کی بجائے جاہلین کے کفریہ نظریات و عقائد کو درجہ استناد حاصل ہو، سچ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں تو عقل و خرد چھین لیتے ہیں، جھوٹ سچ کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور ہدایت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔اللہ ہمیں بدبختی سے بچائے۔

بنیاد پرست ۔ نے لکھا ہے کہ

حضرت ابوبکر و عمر کے حدیث کے متعلق موقف کے لیے یہ لنک دیکھیے۔
http://ilhaad.com/2017/05/khulafa-e-rashideen-kitabat-e-hadith/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہی حدیث ایک دوسری سند سے بھی ابراھیم سے بخاری میں مروی ہے۔ اس سے حدیث میں کوئی ضعف ہوبھی تو وہ دور ہوجاتا ہے، ملاحظہ کیجیے۔

حَدَّثَنَا مُوسَی عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ دَخَلْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَکْعَتَيْنِ ۔۔۔

موسی ابوعوانہ مغیرہ ابراہیم حضرت علقمہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں آیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ (صحیح بخاری جلد دوئم حدیث 997)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جادو کی روایت کے متعلق آپ کے تبصرے کے جواب میں عرض ہے کہ علم کی دنیا دلیل و تحقیق کی دنیا ہے، اس میں کسی کی ذاتی رائے کی کوئی حیثیٹ نہیں ہوتی، بہتر ہوتا آپ کسی کی رائے کے بجائے روایت کے رد میں کوئی علمی تحقیق پیش کرتے ، سحر کی روایات کے متعلق مختلف علماء کے اعتراضات موجود ہیں لیکن جمہور علما و محدیثین نے انکو اہمیت نہیں دی کیونکہ وہ انکی پسند اور کچھ غلط فہمیوں پر مبنی ہیں، انہی غلط فہمیوں کا ازالہ ایک تحریر میں کیا گیا ہے۔ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں
http://ilhaad.com/2017/05/nabi-saw-par-jadoo-reality/

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔