اتوار، 22 ستمبر، 2013

غامدی صاحب کا علمی مقام

پچھلی تحریر میں غامدی صاحب کے پیش کیے گئے تعارف پر کچھ دوستوں نے اعتراض کیا کہ کسی مذہبی سکالر کے بارے میں ایسے القاب استعمال نہیں کرنے چاہیے, انکا اختلاف فقہی ہے اور فقہ میں اختلاف کی گنجائش ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تحریر میں غامدی صاحب کے متعلق ہم نے اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں لکھا تھا صرف ان کے اساتذہ، ان کے پرانے نام اور عرف کا تذکرہ کیا تھا، یہ سب باتیں غامدی صاحب کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اب اگر غامدی صاحب کے پرانےنام اور عرف کا تذکرہ انکے کسی عاشق کو برا لگتا ہے تو اس میں ہمارا قصور نہیں (ویسے غامدی صاحب نے اپنی کتاب 'برہان' میں علماء، مذہبی جماعتوں کے قائدین، فقہاء کے بارے میں تنقید کرتے وقت طنزو تضحیک کا جو اسلوب اختیار کیا ہے،کم از کم اسکی موجودگی میں ان کے قارئین وسامعین کو کسی کے غامدی صاحب کے خلاف لکھے گئے سخت الفاظ پر اخلاقیات کے درس نہیں دینے چاہیے)۔ دوسری بات کیا غامدی صاحب واقعی ایک جید عالم یا مذہبی سکالر ہیں یا انکو دینی علوم میں اتنا رسوخ حاصل ہے کہ انکو فقہاء امت کے ساتھ اختلاف کرنے ، انکی تحقیق کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کرنے ،انکو اصل حقیقت سے لاعلم اور جاہل قرار دینے، امت کے چودہ سوسالہ متفقہ مسائل کو رد کرنے کا حق حاصل ہے؟؟ انکے کئی قارئین ، سامعین اور تلامذین بھی یہ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ غامدی صاحب دینی و دنیاوی دونوں علوم پر مکمل عبوررکھتے ہیں، صاحب کو عربی خصوصا قرآنی علوم میں تو کمال حاصل ہے ، انگریزی ادب ہو یا جدید سائنسی علوم غامدی صاحب کا انکے متعلق علم پاکستان کے کسی بھی دوسرے عالم، مولوی، مذہبی سکالر سے ذیادہ ہے۔۔!!آیئے! تعصب اور جانبداری کو ایک طرف رکھتے ہوئے ''مجتہدعصر'' کے متعلق ان دعووں کا کھلے دل اور کھلی نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔ اگر ان باتوں کی حقیقت آشکارا ہوجائے تو ان کے بقیہ اُٹھائے ہوئے مباحث کی حقیقت سمجھنا کچھ مشکل نہ ہوگا۔ ہم نے اپنی اس تحریر میں کوشش کی ہے کہ صرف ضروری باتیں ہی کیں جائیں کیونکہ یہ کوئی مقالہ تو ہے نہیں، بات سمجھنے سمجھانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ جتنی صاف ستھری، براہ راست اور پیچیدگی سے پاک ہو اتنی ہی مفید رہے گی لیکن موضوع ایساہے کہ تحریر نہ چاہتے ہوئے بھی طویل ہوگئی ہے اس پر ہم معذرت خواہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اسے میری قوم کے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔
غامدی صاحب کی عربی دانی:.
 خود غامدی صاحب اور ان کے شاگردوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ''اسلامی دنیا میں ان کے پائے کا عربی دان اور عربی زبان وادب پر عبور رکھنے والا کوئی شخص نہیں نیز یہ کہ بڑے بڑے عرب علما ان سے استفادے کے لیے آتے ہیں اور جب غامدی صاحب عربی کے اسباق دیتے ہیں تو یہ علمائے عرب لغت کھول لیتے اور دانتوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں۔'' جب یہ تعلی اور تکبر اہل علم کے سامنے آیا تو انہوں نے اس کی حقیقت بیا ن کرنا اپنا فرض سمجھا۔چنانچہ چند سال پہلے کراچی سے شائع ہونے والے ایک ماہنامے ''ساحل'' (اپریل ومئی 2007) میں مشہور محقق ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی کا تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے۔ سچ پوچھیے تو بڑے خاصے کی چیز ہے ، پڑھا تو لطف آگیا۔ لکھنویوں کی اردو، ندویوں کا انداز تحریر اور پھر پچاس سال سے عربی لکھنے لکھانے، پڑھنے پڑھانے والے صاحب علم کی طرف سے محاسبہ ومحاکمہ۔ پڑھتے جایئے اور سر دھنتے جائیے۔غامدی صاحب کی عربی دانی پر تبصرے سے پہلے ماہنامے کے اداریے سے چند سطریں پڑھ لیجیے تاکہ پس منظر وپیش منظر سمجھنے میں آسانی ہو:
 ''اس دعوی کے جائزے کے لیے ہم نے جاوید غامدی صاحب کے مطبوعہ کام کا بالاستیعاب مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ اپنی ساٹھ سالہ علمی زندگی میں انہوں نے صرف ایک سو بائیس صفحات عربی میں لکھے تھے۔ ان میں سے صرف بائیس صفحات رسالہ ''الاعلام'' میں محفوظ ہیں جبکہ بقیہ سو صفحات جو عربی تفسیر ''الاشراق'' اور ''میراث'' پر ایک علمی رسالے کے لیے لکھے گئے تھے، غامدی صاحب نے ضائع کردیے کیونکہ ان کے قلم سے لکھی گئی عربی ان کے عجمی محض ہونے کی داستان، بڑے کروفر سے سنارہی تھی۔ اس کے باوجود ''المورد'' کی ویب سائٹ پر انہیں الاشراق، مثنوی، خیال و خامہ اور باقیات کا مصنف ظاہر کیا گیا ہے جبکہ یہ تصانیف آج تک شائع نہیں ہوئیں۔ بائیس صفحات کے ایک ایک سطر اور ایک ایک جملے میں عربی قواعد، املا، انشا، زبان، بیان، صرف نحو کی بے شمار غلطیاں اسی طرح در آئی ہیں جس طرح ان کے فکر و نظر اعتقادات اور ایمانیات میں اغلاط اور الحاد کا گردو غبار داخل ہوگیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ 1982ء میں لکھی گئی یہ غلط سلط عربی تحریر 5 اپریل 2007ء تک المورد کی ویب سائٹ پر جوں کی توں موجود تھی یعنی ستائیس سال میں بھی غامدی صاحب اور ان کے حلقے کی عربی دانی کا ارتقا نہ ہوسکا"۔
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)
 غامدی صاحب نے الاعلام میں عربی دانی کے جو جوہر دکھائے تھے ان پر ڈاکٹر رضوان علی ندوی کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے۔
''ان مختصر عربی مضامین کے بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے اندازبیان میں وہ عیب ہے جو عربی زبان میں ''عجمہ'' یعنی عجمیت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ان کی عربی تحریریں پڑھ کر یہ احساس ابھرتا ہے کہ مصنف عربی زبان کے عصری اسلوب سے بے خبر ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی طالب علم کے سامنے قدیم عربی کی کتابیں ہیں وہ ان کے جملے، تشبیہات و استعارات اپنی تحریر میں منتقل کررہا ہے۔ عربی نثرنحوی اغلاط سے پر ہے۔ ان کی تحریروں میں نحو یعنی قواعد زبان کی ایسی غلطیاں ہیں کہ کسی عربی کالج و اسکول کا لڑکا بھی نہیں کرے گا۔ بلکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے شائع ہونے والے عربی ماہنامے البعث الاسلامی میں لکھنے والے نوجوان ندوی بھی ایسی اغلاط نہیں کرتے۔ "

 اسالیب عربی سے لاعلم یہ عجمی جو ایک مختصر نثر پارہ درست عربی میں لکھنے پر قادر نہیں، اپنے غرور علم میں صحابہ کبار، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، ائمہ، مفسرین اور ماہرین لغت کی عربی دانی کو حقارت سے رد کرتا ہے۔منسکہ تصویر میں آخری لائن میں والسماء ذات الحبک پر تبصرہ گزر چکا ، اسی کے آگے موصوف لکھتے ہیں: واما الذین قالو ان المراد بہ نجوم السمائ، فانہم لم یتتبعوا کلام العرب حق التتبع، ولم یتأ ملوفیما یقتضی موقعہ ہنا، فلم یتبین لہم معناہ، فاخطاؤا وجہ الصواب.''اور جن لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد آسمان کے ستارے ہیں تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کلام عرب کی اچھی طرح چھان بین نہیں کی اور نہ اس پر غور کیا کہ یہاں کس بات کا موقع و محل ہے۔ اس لیے انہیں اس (ذات الحبک) کے معنی سمجھ میں نہیں آئے اور وہ غلطی کے مرتکب ہوئے"۔غامدی صاحب نے جن لوگوں کو کلام عرب سے جاہل کہا ہیں وہ نسلی عرب اور مشہور آئمہ تفسیر امام حسن بصری و سعید بن جبیر جیسے تابعین اور طبری و زمخشری جیسے ادیب و ماہرین لغت و مفسرین قرآن ہیں ۔ (ملاحظہ ہو: اس آیت قرآن کی تفسیر طبری اور زمخشری میں) ۔
غامدی صاحب کے سرپر ایک زمانے میں قرآن کریم کے مقابلے میں آیات سازی کا جنون بھی سوار تھا اور انہوں نے اپنے پاس سے چالیس مہمل، بے ربط اور رکیک جملے گھڑ کر انہیں آیات کا نام دے رکھا تھا اور اسے محفلوں میں سنایا کرتے تھے۔ اس روداد کے نقل کے لیے ہم ایک مرتبہ پھر ماہنامہ ''ساحل'' کے مشکور ہیں۔ صفحہ بہت پرانا تھا اس لیے صحیح سکین نہیں ہوسکا۔ ملاحظہ ہو:
 1975ء میں جناب غامدی صاحب ممتاز اہل حدیث عالم علامہ ساجد میر کے بھانجے ڈاکٹر مستنصر میر کی دعوت پر سیالکوٹ تشریف لائے۔ ایک محفل میں جناب غامدی نے قرآن کی وہ چالیس آیات پیش فرمائیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ قرآن کے چیلنج کا جواب ہے، چالیس فرضی آیات کی مجلس میں راقم بھی حاضر تھا۔ اس کے علاوہ اسد صدیقی، ڈاکٹر سہیل طفیل، برادر مستنصر میر، ڈاکٹر مستنصر میر، ڈاکٹر منصور الحمید، اسد صدیقی اور دیگر رفقائے خاص اس موقع پر موجود تھے۔ غامدی صاحب نے بعدازاں یہ آیتیں کتابی شکل میں اشاعت کے لیے منڈی مریدکے ایک کاتب سے کتابت بھی کرائی تھیں لیکن کتابت بہت ناقص تھی لہٰذا مسودہ روک دیا گیا۔ دریں اثنا ڈاکٹر مستنصر میر کی زجروتوبیخ کے باعث غامدی صاحب نے مسودہ ضائع کردیا ۔ راقم کے پاس اس مسودے کا ایک ٹکڑا محفوظ رہ گیا تھا۔ حاضر ہے۔ ترجمہ غامدی صاحب کے قلم سےہے:
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)

‘‘اقسم بخالق الخیل، والریح الھابة بلیل بین الشرط ومطالع سھیل،ان الکافرلطویل الویل ،وان العمر لمکفوف الذیل ،اقز مدارج السیل وطائع التوبة من قبیل ،تنج وما اخالک بناج’’

تصویری فائل میں غامدی صاحب کی عربی دانی کا حال آپ نے ملاحظہ فرمایا، اس ٹکڑہ اور اسکے ترجمہ کتنی غلطیاں ہیں مضمون کی طوالت کے ڈرسے اس پر ہم تبصرہ نہیں کرتے ۔ غلطیاں محض تعبیر واسلوب کی نہیں کہ کوئی کہہ سکے اس طرح کی اصلاح تو ہر ایک کے کلام پر ہوسکتی ہے۔۔۔ نہ حضور نہ۔۔۔۔ یہ غلطیاں اس قسم کی ہیں کہ درجہ اولیٰ کے طالب علم دیکھیں تو انگلیاں دانتوں تلے دبالیں اور منتہی طلبہ پڑھیں تو انہیں زمین آسمان کی نبضیں تھمتی محسوس ہوں۔ آزمائش شرط ہے اور ثبوت کے طورپر مزید ایک صفحہ پیش خدمت ہے جس پر محترم ڈاکٹر رضوان ندوی صاحب کی اصلاح موجود ہے۔ یوں تو پورا صفحہ پڑھنے کے بجائے ایک نظر ڈالنا کافی ہے کہ غلطیاں یوں بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کسی چیچک زدہ منہ پر پھیلے ہوئے مواد بھرے دانے۔ اتنی درخواست ہے کہ پہلے صفحہ کا آخری جملہ اور اس پر ڈاکٹر ندوی صاحب کا تبصرہ ضرور پڑھ لیجیے۔ طبیعت باغ باغ ہوجائے گی۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)

''فبھذا السبب کان عمل أعضاء ھذا النوع من الأحزاب أن یقضوا طیلۃ حیاتہم لحصول النجاۃ من سوء نتائج حسابھم ھذا.''

پڑھیے اور داد دیجیے کہ ایسی بے معنی، مہمل، بھونڈی، رکیک اور جملہ عیوب سے آراستہ عربیت اور اس پر متکبرانہ دعوی کہ غامدی مکتب فکر ہی عصر حاضر کا وہ طبقہ ہے جو قرآن کی روح سے واقف اور اس کے مزاج سے آشنا ہے۔ خودساختہ فتنہ انگیز مسائل پر دانش وری بگھارنا صرف اس کا حق ہے، آنے والا دور صرف ان کا ہے اور دبستان شبلی کا واحد اور حقیقی جانشین صرف وہی ہے۔اسلامی علوم اور عربیت میں غامدی صاحب اور ان کے لائق شاگردوں (جو 27 سال میں اپنے استاذ کی لکھی ہوئی چند سطریں پڑھ کر ان کی اصلاح نہ کرسکے) کی اہلیت ومہارت آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ اسی سے ان کے فتویٰ نما دعوؤں کی علمی حیثیت اور شرعی مسائل پر مجتہدانہ تبصروں کی حقیقت آپ پر واضح ہوگئی ہوگی۔

غامدی صاحب کی قرآن فہمی:.
 یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ علوم عربیت سے غامدی صاحب کی واقفیت کس قدر ہے؟ آیئے! آج ذرا قرآن فہمی کے حوالے سے ان کے کام کا جائزہ لیتے ہیں جو ان کی تمام کاوشوں کی بنیاد اور سہارا ہے۔ قرآن فہمی کے جھوٹے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے ان کا پہلا اور آخری سہارا عربیت دانی کا دعویٰ ہے کہ وہ عربی لغت اور ادب عربی کو اتنا اچھا سمجھتے ہیں کہ اس کے سہارے قرآن کے معنی و مفاہیم کو خود سے متعین کرسکتے ہیں۔ چاہے اس سے اجماع کا انکار ہو، اسلام کے مسلمہ احکام کی تردید کرنا پڑے یا پھر سرے سے خود قرآن ہی سے ہاتھ دھولیا جائے۔ آنجناب کو ''عربی معلی'' (بامحاورہ عربی) جاننے کا بڑا زعم ہے اور ان کا یہ فرمان مستند سمجھا جاتا ہے کہ خالص عربیت کو سامنے رکھ کر قرآن کا معنی متعین کرنے میں ان کا مدمقابل کوئی نہیں ہے۔ یہ دعوی اتنا ہی لچر اور بے اصل ہے جتنی آنجناب کی عربی سے واقفیت کا زعم۔ ہم اگر اپنے قارئین کو یہ حقیقت سمجھنے سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں کہ ان کی عربیت سے واقفیت اتنی ہی ہے جتنی ملعون رشدی کی انگریزی سے تو یہ سمجھنے میں مشکل نہ رہے گی کہ ملعون کو ''سر'' کا خطاب اور غامدی صاحب کو ''اسکالر'' کا اعزاز کس وجہ سے ملا ہے؟ 
 پہلی مثال :سورۃ اعلیٰ میں ہے:

''وَالَّذِیْ أَخْرَجَ الْمَرْعیٰ فَجَعَلَہ، غُثَائً اَحْوٰی.''

غامدی صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ''اور جس نے سبزہ نکالا پھر اسے گھنا سرسبز وشاداب بنادیا۔'' (البیان: صفحہ 165) اس کے علاوہ غامدی صاحب کے فکری ونظریاتی ''امام'' امین احسن اصلاحی بھی اس مقام کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ''اور جس نے نباتات اُگائیں، پھر ان کو گھنی سرسبز وشاداب بنایا۔'' (تدبر قرآن: 311\9)
 یہ دونوں ترجمے عربیت ،قرآن مجید کے نظائر ،احادیث کے شواہد ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے اقوال ، اجماع امت اور اُردو کے تمام مترجمین کے ترجموں کے خلاف ہےاس آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے: ''اور جس نے سبز چارہ نکالا اور پھر اسے سیاہ کوڑا بنادیا۔'' اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ہر چیز کی چمکتی دمکتی ابتدا وعروج اور پھر جلد ہی بھولا بسرا فنا وزوال سمجھانا چاہتے ہیں۔ خود تدبر قرآن میں غامدی صاحب کے ''امام'' امین احسن اصلاحی نے جہاں قرآن میں دوسرے مقام پر ''غثاء'' کا لفظ آیا ہے اس کا ترجمہ خس وخاشاک ہی کیا ہے: ''فأخذتھم الصیحۃ بالحق فجعلنھم غثاء'' (المؤمنون: 41) ''تو ان کو ایک سخت ڈانٹ نے شدت کے ساتھ آدبوچا۔ تو ہم نے ان کو خس وخاشاک کردیا۔'' (تدبر قرآن: جلد5، صفحہ 312)
ع جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی!
غامدی صاحب اور ان کے شیخ اجل کے ذوق اختلاف اور شوق اجتہاد نے یہاں ان سے وہ سنگین غلطی کروائی ہے، جس سے ان کی اہلیت کی قلعی بالکل اس طرح اتر گئی ہے جیسے نقلی زیور کی پالش ایک دھوپ کھاتے ہی پول کھول دیتی ہے۔
 دوسری مثال:

''وَالسَّمَاءَ بَنَیْنٰھَا بِأَیْدٍ وَّإِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ.'' (الذاریات: 47)

غامدی کے شیخ اور امام، اصلاحی صاحب اس آیت کا یہ ترجمہ کرتے ہیں: ''اور آسمان کو ہم نے بنایا قدرت کے ساتھ اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔'' پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''أیدٍ کے معروف معنی تو ہاتھ کے ہیں لیکن یہ قوت وقدرت کی تعبیر کے لیے بھی آتا ہے۔ '' (تدبر قرآن: 626\7)
 اس مقام پر مولانا اصلاحی صاحب کی سنگین غلطی یہ ہے کہ انہوں نے لفظ ''أید'' کو ''ید'' کی جمع سمجھ لیا جو کہ قطعاً غلط ہے۔ ''أید'' کے معنی طاقت اور قوت کے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے: ''واذکر عبدنا داؤد ذاالأید'' اور ہمارے بندے داؤد کا تذکرہ بیان کرو جو قوت والا تھا۔ جمہور مفسرین نے اس کی تصریح کی ہے۔ اب سوچنے کی یہ بات ہے کہ جو لوگ قرآنی الفاظ کے مادوں (Roots) ہی سے بے خبر ہوں اور اس کے دو مختلف الفاظ میں امتیاز نہ کرسکتے ہوں، ان کی عربیت پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ اور جب استاد کی عربیت کا یہ حال ہے تو شاگردوں کی تفسیر اور من مانے اجتہادات کا کیا حال ہوگا؟؟
 پورے فراہی مکتب فکر کامسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کے متد اول معانی کے بجائےغیر معروف و شاذ معانی اختیار کرتا ہے۔ اقوال صحابہ کرام اور تابعین پر اعتماد کرنے پیش کرنے کے بجائے کلام جاہلی سے مثالیں اٹھاتے ہیں۔ جیسے سورہ الزاریات کی آیت ’’المقِّسمٰت امراً‘‘کی تفسیر میں مولانا فراہی اور غامدی نے لغت سےمددلی ، جبکہ تمام مفسرین طبری ، قرطبی، ابن کثیر وغیرہ رحمہ اللہ جنہوں نے اس دو لفظی آیت کی تفسیر سیدنا علی، سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ ابن عباس رضوان اللہ اور ان شاگردوں سے روایت کی ہے 'نے ’’فالمقسمٰت أمراً‘‘ کے معنی فرشتے دیے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف امورِ دنیا پر مامور ہیں اور یہی معنی دوسری صدی ہجری کے دو قدیم ماہرین لغت قرآن الفراء اور ابو عبیدہ معمر بن المثنی نے بھی دیے ہیں۔حتی کہ مشہور عقلیت پسند (معتزلی) مفسر زمخشری نے بھی ان آیات کے وہی معنی بتائے ہیں۔چلیں فراہی اور غامدی قدیم مفسرین کو تو درخور اعتناء نہیں سمجھتے تھے لیکن یقین ہے کہ وہ لغت پسندی کی وجہ سے ان دونوں ماہرین لغت کے مرتبے سے تو واقف تھے پھر بھی یہ لکھ گئے ہیں.
 ’’جب یہ ثابت ہوگیا کہ سید نا عمراور سید نا علی ، حضرت عبداللہ بن عباس، اور دسیوں تابعین اور ان کے فوراً بعد دو قدیم ترین مشہور ماہرین لغت نے ان چار آیات کے معانی چار مختلف چیزیں بتائی ہیں تو ان کی اس رائے کی کوئی وقعت نہیں رہتی کہ یہ بات نظائر قرآن اور کلام عرب کے خلاف ہے‘‘۔
 کیا تیرہ سو سال بعد کا ایک عجمی مصنف ان لوگوں سے زیادہ کلام عرب کا راز داں ہوسکتا ہے۔؟ !! یہ ہے وہ غرور علمی جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور اسکو تحقیق اور فقہی اختلاف کا نام دیا جارہا ہے۔
تحریفِ قرآن کی چند مختصر مثالیں:
غامدی صاحب کے ہاں تحریف قرآن، تلعب بالقرآن اور مذموم تفسیر بالرائے کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ تفصیلی مثالوں کے بعد ذیل میں ہم ان کی کتاب ''البیان'' سے چند مختصر مثالیں پیش کرتے ہیں۔ (1)سورۃ اللہب میں

(1)''تَبَّتْ یَدَآ أبِیْ لَھَبٍ''

کا ترجمہ یہ کیا ہے: ''ابولہب کے بازو ٹوٹ گئے۔'' پھر اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ''یعنی اس کے اعوان وانصار ہلاک ہوئے۔'' (البیان ص: 260،) کوئی بتائے کہ جناب نے ''ید'' (ہاتھ) کا ترجمہ بازو کس قانون سے کیا ہے؟
 (2)سورۃ الاخلاص میں

''قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أحَدُ''

کا ترجمہ اس طرح کیا ہے: ''وہ اللہ سب سے الگ ہے۔'' (البیان، صفحہ: 261) ''أحد'' کا ترجمہ ''الگ'' کس قاعدے سے کیا گیا ہے۔ یہ تو ''أبداً، أحدٌ'' کی تختی پڑھنے والے بچے بھی جانتے ہیں کہ ''أحد'' کے معنی ایک ہیں۔
(3)سورۃ الفیل میں

''تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ''

کا ترجمہ کیا ہے: ''تو پکی ہوئی مٹی کے پتھر انہیں مار رہا تھا۔'' (البیان، صفحہ 240) آگے تفصیل میں غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ پتھر قریش کے لوگوں نے لشکر پر برسائے تھے اور پرندے صرف نعشیں نوچنے آئے تھے(شاید غامدی صاحب کے نزدیک یہ بھی اللہ کی طرف سےآنے والے عذاب کی ایک شکل ہے ) ۔ حالانکہ سلف سے خلف تک، تمام مفسرین کرام کا اتفاق اور اجماع ہے کہ اللہ نے پرندے بھیجے تھے جنہوں نے ابرہہ کے لشکر پر سنگ ریزوں اور کنکروں کی بارش کردی اس کے نتیجے میں ہاتھیوں سمیت پورا لشکر تباہ و برباد ہوگیا، آیت کے الفاظ(ارسل علیہم طیرا ابابیل) بھی اسی کی گواہی دے رہے ہیں۔ غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے تَرْمِیْھِمْ کا مطلب کسی چیز کو بازو یا فلاخن کے ذریعے پھینکنے کے معنی میں لیا ہے حالانکہ یہ بلندی سے نشانہ باندھ کر کوئی چیز نیچے گرانے کے معنی میں بھی ہیں ۔ قرآن کی دوسری آیات بھی گواہ ہیں کہ قرآن میں جہاں کہیں کسی قوم کی ہلاکت و بربادی کے سلسلے میں أَلَمْ تَرَ‌، اَرْسَلَ عَلَیْھِمْ کے الفاظ آئے ہیں، واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے عذاب کے لئے آئے ہیں اور حجَارَة مِّنْ سِجِّیْل کے الفاظ بھی ۔ جیسا کہ سورةالحجر کی آیت 74 میں آئے ہیں وہاں بھی کسی انسان کی طرف سے پتھر پھینکنے گئے پتھروں کے لیے نہیں آئے:جَعَلْنَا عَـٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْ‌نَا عَلَيْهَا حِجَارَ‌ةً مِّن سِجِّيلٍ...﴿ سورۃ ھود ٨٢﴾. ''پھر ہم نے اُس (بستی) کو زیر و زبر کردیا اور اُن لوگوں پر کھنگر کے پتھر برسا دیے۔''
 (4)سورۃ البروج میں

''قُتِلَ أصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ. النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدُ.''

کا یہ ترجمہ کیا ہے: ''مارے گئے ایندھن بھری آگ کی گھاٹی والے۔'' (البیان، صفحہ: 157) اور پھر اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے: ''یہ قریش کے ان فراعنہ کو جہنم کی وعید ہے جو مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے ظلم وستم کا بازار گرم کیے ہوئے تھے۔'' (البیان، صفحہ 157) غامدی صاحب سے پہلے دنیا کے کسی مفسر نے اس آیت کا مصداق قریش کو نہیں قرار دیا ۔ یہ تو پچھلی قوموں میں سے ''خندق والوں'' کے نام سے مشہور قصے کا ذکر ہے جو جمہور مفسرین کے مطابق یمن میں پیش آیا تھا۔
 قارئین محترم! یہ ہیں سابقہ محمد شفیق اور حالیہ جاوید احمد غامدی صاحب کی قرآن دانی اور قرآن فہمی کی حقیقت ۔لے دے کے آنجناب کی پونجی میں ایک چیز ایسی رہ جاتی ہے جس کی بنا پر وہ پاکستان کے سب سے بڑے اسکالر ہونے کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور وہ ہے جدید علوم سے واقفیت اور انگریزی دانی۔ آیئے! لگے ہاتھوں انکے اس دعوے کی حقیقت کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں ۔

 غامدی صاحب کی انگریزی دانی:.
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)
دبستان غامدی سے وابستہ جدیدیت پسندوں کا دعوی ہے کہ حضرت الشیخ الغامدی کئی زبانوں کے ماہر ہیں۔ انگریزی میں مہارت کے ثبوت میں آنجناب کی انگریزی میں فرمائی گئی شاعری کو پیش کیا جاتا ہے۔ یہ شاعری 64 مصرعوں پر مشتمل چار نظموں کو ''محیط'' ہے اور قطع نظر اس کے کہ عربی نثر سے زیادہ بے تکی، مضحکہ خیز اور غنائیت، سلاست وشعریت سے محروم ہے، اسے سرقے کا عالمی شاہکار کہا جاسکتا ہے۔ غامدی صاحب کی یہ چار نظمیں انگریزی کے مشہور شعرا کے کلام سے 'سرقہ' کی گئی ہیں ۔ یقین نہ آئے تو منسلکہ موازنہ پڑھ لیجیے اور غامدی صاحب کے حوصلے کی داد دیجیے کہ کس بے باکی اور جی داری سے نامی گرامی شعرا کی مشہور زمانہ نظموں سے سرقہ کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمیں اس پر تعجب تو ہوا لیکن کچھ خاص نہیں اس لیے کہ حضرت غامدی صاحب جب صحابہ کرام وتابعین عظام رضی اللہ عنہم نیز ائمہ مجتہدین اور اُمت کے اکابرین کے علمی مقام ومرتبے کا لحاظ نہیں رکھتے تو انگریزی شعرا کی کیا حیثیت کہ ان کے کلام پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے انہیں کچھ جھجھک محسوس ہوئی ہوگی یا تکلف آڑے آیا ہوگا۔

غامدی صاحب کی جدید علوم سے واقفیت:.
اس بات کا پرچار بھی بڑے زوروشور سے کیا جاتا ہے: ''غامدی صاحب، مغربی فکر وفلسفے پر عبور رکھتے ہیں جبکہ علمائے کرام اگرچہ دینی علوم میں رسوخ رکھتے ہیں لیکن جدید علوم اور سائنس وفلسفہ سے آشنا نہیں اس لیے سکہ بند قول تو وہ ہے جو حضرت الغامدی صاحب کی زبان عالی سے ارشاد ہو۔ مانا کہ غامدی طبقہ کو عربی یا انگریزی نہیں آتی، اسلامی علوم میں عبور نہیں، لیکن یہ پڑھا لکھا روشن خیال طبقہ مغرب اور مغربی علوم سے تو واقف ہے۔'' واقعہ یہ ہے کہ قدیم یونانی منطق و فلسفہ (جس میں اہل مدارس محققانہ بصیرت رکھتے ہیں) کی طرح غامدی صاحب اور ان کے شاگردان رشید جدید مغربی فلسفہ اور جدید سائنس کی حقیقت سے بھی واقف نہیں۔ اس کی دو دلیلیں ہیں:
 (1)غامدی صاحب کے قائم کردہ اکیڈمی ''المورد'' کے نصاب میں جدید علوم، فلسفہ، سائنس، سوشل سائنسز شامل تھے نہ ہیں۔ یونانی فلسفہ تو ویسے ہی شامل نہیں۔ مغربی فکر وفلسفے پر پورے غامدی مکتب فکر کا کوئی کام نہیں۔ اور غامدی صاحب تو کیا ان کے استاذ محترم امین احسن اصلاحی صاحب اور استاذ الاستاذ حمید الدین فراہی صاحب دونوں حضرات بھی مغربی فکر وفلسفے سے قطعاً ناواقف تھے۔ جب بانیان مکتب کا یہ حال ہے تو وابستگان مکتب کی حالت جانچنا کچھ مشکل نہ ہونا چاہیے۔ مزیدان بیس پچیس سالوں کے ''دانش سرا'' کراچی سے لے کر ''المورد'' لاہور تک غامدی صاحب کے کام کو اگر دیکھا جائے تو آنجناب کی تمام تر قوت اسلامی اقدار اور روایات کو متنازعہ بنانے، مسلمانوں کو اسلام کی مبارک حدود وقیود سے آزادی دلانے اور اکابرین امت کی توہین وتردید پر صرف ہورہی ہے۔ ان کی تحریر وتقریر میں اسلام کے مسلمہ اُصولوں اور اجماعی مسائل کے خلاف تو آپ کو بہت کچھ ملے گا لیکن کسی ایک تحریر یا تقریر میں۔۔۔۔۔۔ میں دہراتا ہوں۔۔۔۔۔۔ کسی ایک تحریر یا تقریر میں مغربی استعماریت، صہیونیت، صلیبیت، جدیدیت، سرمایہ داریت، اشتراکیت او رمستشرقین کے اسلام پر رکیک حملوں اور نازیبا الزامات کے خلاف ایک لفظ نہیں ملے گا۔ ان کا سارا زور اس پر ہے کہ ٹوپی نہ پہنی جائے۔ شلوار گھسیٹ کر چلا جائے۔ عورت کے سرپر چادر نہ رہے، وہ مردوں سے بے حجابانہ ہاتھ ملائے اور بے باکانہ گفتگو کرے ، موسیقی سنی جائے تاکہ اسلام کی وہ حقیقی شکل لوگوں کے سامنے آئے جو ملاؤں نے ''چھپا'' رکھی ہے۔ جناب کا اس سے جو وقت بچ جائے وہ مولویوں کی برائی اور غیبت میں صرف ہوتا ہے کہ انہیں کچھ اتا پتا نہیں، یہ صرف فرقہ واریت پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ خود آنجناب کی بھی پاکستانی معاشرے میں رائج برائیوں، بدعنوانیوں اور بے دینی کے رجحانات ختم کرنے پر کوئی توجہ ہے نا دینی علوم یا مغربیت کی لادینیت، جدید فلسفہ، جدید فتنہ خیز نظریات، سائنس، ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ خبر ہے اور نہ ان کے حلقے میں ایسے افراد ہیں جو ان چیزوں کا ذوق رکھتے ہوں۔ البتہ ملا حضرات نہ صرف راسخ علم اور استعداد رکھتے ہیں بلکہ وہ اسلامی تحقیقات اور عصر حاضر کے بارے میں بدرجہا بہتر اور تازہ معلومات رکھتے ہیں اور ہرجدید مسائل پر دینی نقطہ نظر اور مدلل اور معقول تشریحات پیش کرچکے ہیں، فلسفہ کے موضوع پر علما کی پانچ کے قریب کتابیں تو ہمارے اس بلاگ پر بھی موجود ہیں۔
 (2) غامدی صاحب نے ساٹھ سال کی عمر تک کتابی شکل میں اُردو نثر کے نو سو صفحات تحریر فرمائے ہیں۔ ان تمام تحریروں میں ایک جگہ کے علاوہ کسی مغربی فلسفی یا مفکر کا کوئی حوالہ نہیں ملتا اور جو پہلا اور آخری حوالہ مغربی فلسفی ہیگل کا انہوں نے دیا ہے وہ مکمل طورپر غلط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم وجدید علوم کا جامع ہونے کی حقیقت کیا ہے؟ یہ حضرات جو جدید فلسفہ پر ایک سطر نہیں لکھ سکے جدید فلسفیانہ مباحث کو سمجھنے یا اس پر نقد کرنے کی کیا اہلیت رکھتے ہوں گے؟

 بھان متی کا کنبہ:.
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ غامدی صاحب نے اپنی اس لیول کی 'قابلیت 'کے باوجود اتنا علمی مواد کیسے لکھ لیا ہے، بہت سےلوگووں نے اس پر تحقیق کی، جو کچھ سامنے آیا وہ اندازے کے مطابق اور دلچسپ تھا، چند اشارے ملاحظہ فرمائیں : قانون میراث پر انکی تحقیق ابوالجلال ندوی کے مضمون میراث اور اسلم جیراج پوری کے الوارثت فی الاسلام کا "کامل سرقہ" ہے ۔ زکوۃ اور میراث پر غامدی صاحب کے سرقوں کی مزید حقیقت معلوم کرنے کے لیے ادارہ تحقیقات اسلامی کے سابق صدر ڈاکٹر فضل الرحمن کی تحریرات اور ابو الجلال ندوی کی کتاب ربوہ ،زکوۃ اور ٹیکس دیکھی جاسکتی ہے ۔قرآن سے مختلف فقہی مسائل کا استنباط عمر عثمانی اور طاہر مکی کی کتاب فقہ القرآن کے دلائل، آثاراور امثال کی "حسین نقل" ہے ۔ رجم پر غامدی صاحب کی تمام تحقیق اور تکبر، تملق وتفرد اور صرار درحقیقت فقہ القرآن کی ہی ا یک جلد " حقیقت رجم " کا سرقہ ہے ۔ رجم کا سورہ مائدہ سے اثبات و استدلال حمید الدین فراہی کے موقف کا اعادہ ہے ۔ میزان کے کئی صفحات امین احسن اصلاحی کا لفظ بلفظ سرقہ ہیں، البیان میں غامدی صاحب کا نقظہء نظر کہ یہود ونصارى جنتی ہیں ، جو بھی توحید کا اقرار کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے وہ جنتی ہے ۔ رسالت محمدی صلى اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں، وحدت ادیان قرآن سے ثابت ہے، جن یہودیوں اور نصرانیوں سے قرآن نے ترک موالات کا حکم دیا وہ خاص جزیرۃ العرب کے تھے آج کے نہیں وغیرہ' وحدت ادیان کے عالمی مکتبہ فکر روایت کے بانی " رینے گینوں" کا تتبع اور " مارٹن لنگز" کے مضمون "wtth all thy mind"کا ہو بہو سرقہ ہے ، سنت ابراہیمی کی روایت کا ملحدانہ استدلال " جواد علی" کی کتاب " المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام" کی معلومات سے سرقہ کیا گیا ہے ۔ بنو امیہ، بنوعباس کی تاریخ، واقعہ کربلا ، اور شہادت حسین کے واقعات پر مبنی تاریخ سے انکار کا غامدی نقطہ نظر انکا ذاتی نہیں بلکہ حکیم محمود عباسی ،حکیم علی احمد عباسی ،حبیب الرحمن کاندھلوی اور مفتی طاہر مکی کی فکر کا چربہ ہے ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے سلسلے میں غامدی صاحب کی تحقیق حکیم نیاز احمد کی کتاب کا حرف بحرف چربہ ہے ، غامدی صاحب کی انگریزی شاعری جو چار نظموں اور چونسٹھ مصرعوں پر محیط ہے " شکسپیئر" اور "کیٹس " کی شاعری سے چرائے گئے مصرعے ہیں۔ 

چند عاجزانہ گزارشات:. 
٭۔۔۔۔۔۔غامدی صاحب سے درخواست ہے کہ آپ نے آج تک اسلام کے دفاع اور مستشرقین کے اسلام پر حملوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا، نہ سہی، لیکن خدارا! امت کے اجتماعی اور متفقہ مسائل میں اختلاف کا رخنہ ڈال کر اپنا اور قوم کا ایمان برباد نہ کیجیے۔ ایک نئے فرقے کا اضافہ نہ کیجیے اور روز محشر کی حشر سامانیوں سے ڈریے! جہاں کوئی سایہ، کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی۔ آپ آج خلق خدا کے سامنے اپنے ایک دعوے کو درست ثابت نہیں کرسکتے، کل عالم الغیب کے سامنے امت کی بھنور میں پھنسی کشتی کو مزید ہچکولے دینے پر کیا جواب دیں گے؟
٭۔۔۔۔۔۔غامدی صاحب کے شاگردوں سے گزارش ہے کہ وہ ہر طرح کے تاثر اورتعصب سے پاک ہوکر پیش کیے گئے دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں سوچیں اور غور کریں کہ کہاں اجتہاد کا مقدس علمی منصب اور کہاں یہ ہفوات اور علمی سرقے؟ جو شخص عربی کی ابتدائی باتیں نہیں جانتا، اپنا نام صحیح نہیں لکھ سکتا، اسے اپنا امام، شیخ یا مقتدا ماننا اور اس کی تقلید کرتے ہوئے امت کے متفقہ موقف سے انحراف کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟
 ٭۔۔۔۔۔۔ چینل مالکان جو غامدی حضرات کو اہل علم ودانش سمجھ کر اپنے چینل پر وقت دیتے ہیں ' سے عرض ہے کہ وہ بلاوجہ دہرے گناہ بے لذت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ قوم کے نظریات میں بھی الحاد پیدا ہورہا ہے اور علم کے نام پر جہالت اور دین کے نام پر بے دینی بھی پھیل رہی ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔میرے جو ہم مذہب وہم وطن بھائی غامدی صاحب کی علمیت وصلاحیت اجتہاد کے معترف ہیں ازراہ کرم وہ اتنا کرلیں کہ کسی پروگرام کے سوال وجواب کے سیشن میں ان سے یا ان کے شاگردوں سے پوچھ لیجیے کہ آپ عربی ، انگلش كی چند سطریں درست طرح سے نہیں لکھ سکتے تو ضخیم تفاسیر اور ذخیرہ احادیث سے کیسے استفادہ کرلیتے ہیں؟ چلیں جانے دیجیے بائیس صفحات ضرب بائیس اغلاط کو، صرف مذکورہ بالا عربی جملے (جو مضمون کے شروع میں گزرے) کا مطلب بتادیجیے۔ اگر غامدی مکتب فکر کے دو تین مجتہدین اور پانچ دس مفکرین مل کر اپنے مجتہد اعظم کے ایک جملے کو درست ثابت نہیں کرسکتے تو میرے سادہ لوح ہم وطن بھائیوں کو مان لینا چاہیے کہ اصل ورثاءعلوم نبوت ، علمائے حق جو بات کررہے ہیں فی اللہ کہہ رہے ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔میرے جوجدید تعلیم یافتہ نوجوان دوست علمائے کرام کے بیانات میں دلچسپی نہیں لیتے کہ اس کے لیے ٹوپی پہن کر مسجد جانا پڑتا ہے اور چینلوں پر آنے والے ڈاکٹرز، اسکالرز کو پسند کرتے اور ان کی آزاد خیالی سے لطف اندوز ہوکر ان کو دین کا حقیقی ترجمان سمجھتے ہیں، ان سے التماس ہے کہ منسلکہ شاعری پڑھیے۔ یہ بے جا اور مضحکہ خیز کلام کیا اس قابل نہیں کہ Percy Wyndham Lewis کی مرتبہ کتاب The Stuffed owl میں شامل کیا جاسکے؟ آپ کو تو معلوم ہوگا کہ اس کتاب کے مرتب نے انگریزی کے بھونڈے اشعار سے نادر انتخاب کیا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے سوچیے! کیا آپ کا دل مانتا ہے جو شخص عالمی سطح کے معروف کلاسیکل لٹریچر پر اس دھڑلے کے ساتھ ہاتھ صاف کرسکتا ہے وہ آپ کو قرآن وحدیث کے حوالے دیتے وقت (جن کا پس منظر آپ قطعاً نہیں جانتے) انصاف ودیانت سے کام لیتا ہوگا؟نہیں میرے عزیز! ہرگز نہیں۔ غامدی صاحب توبہ کریں نہ کریں آپ کو ان کی عقیدت سے توبہ کرلینی چاہیے۔ جو لوگ حقیقت میں دین کی سمجھ رکھتے ہیں، دینی علوم کے شعبہ سے وابستہ ہیں ، وہ جیسے بھی ہوں کم ازکم دینی معلومات کی فراہمی میں بددیانتی سے کام نہیں لیتے۔ یہ وہ وصف ہے جو آپ کو نام نہاد ڈاکٹرز، اسکالرز کے ہاں نہ ملے گا۔ کسوٹی ہم نے آپ کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ حقیقت کو پرکھنا اور ہدایت کی تلاش کرنا آپ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرمائے اور ہر قسم کے فتنے سے میری اور آپ کی حفاظت فرمائے۔
مکمل تحریر >>

جمعرات، 4 اپریل، 2013

پاکستان بننے کی مخالفت كرنے والا علماء اور انکا موقف

 پاکستان میں الیکشن کا موسم ہے،  جگہ جگہ انتخابات پر بحثیں چل رہی ہیں ، طرح طرح کی باتیں پڑھنے،سننے کو مل رہی ہیں ۔ ۔ ۔ہرشخص  کے پاس اپنا ایک نجات دہندہ ہے اور اس کے خیال میں صرف اسی کو ووٹ دینے سے پاکستان بچ سکتا ہے۔۔    انتخابات پر  ہونے والی ابحاث ہر  گلی محلے کی  نکڑ پر، مساجد کے باہر، انٹرنیٹ فورم، سوشل میڈیا سائیٹس   اور دفاتر میں  تقریبا روز دیکھنے کو ملتی ہے ،  یہ دیکھ کر حیرت  بھی ہوتی ہے کہ لوگ ان منافق سیاست دانوں کے دفاع میں ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دینے سے بھی نہیں کتراتے، اس دفعہ  ایک اور  ٹرینڈ دیکھنے کو ملا ہے وہ یہ کہ  لوگ مولانا فضل الرحمان جیسے سیاستدانوں کی آڑ میں مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا سید حسین احمد مدنی،  مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور مفتی محمود جیسے  متقی اور نیک صفت علما کو  صرف اس وجہ سے گالی دیتے نظر آئے ہیں کہ انہوں نے  پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی،  کئی جگہ ہلکے پھلکے انداز میں اس پر بات کرنے کی کوشش کی  لیکن یہ غلط فہمی اتنی عام ہے کہ  صرف سوشل میڈیا پر  پانچ چھے جگہوں پر  یہ الفاظ دیکھ چکا ہوں کہ  یہ تو وہ علما ہیں جنہوں نے   پہلے اپنا پورا زور لگایا کہ پاکستان نہ بن سکے جب دال نہ گلی  اور پاکستان بن گیا تو    یہاں بھی پیسے کے لیے سیاست شروع کردی،  ایک صاحب نے لکھا کہ فضل الرحمان کا والد کہا کرتا تھا  کہ    شکر ہے  ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے، ایک اور  نے  دلیل پیش کی کہ یہ ملا    اتنا منافق  تھا کہ سوشلزم کا سورج چڑھتا دیکھا تو اسکو اسلام کہنا شروع کردیا۔ ایک دوست بلاگر نے لکھا کہ  قیام پاکستان کی بھر پور مخالفت کرنے والے اب مینار پاکستان کے سائے میں جلسے کرنے لگے,محو حیرت ہوں۔ ۔  اور بہت سے طعنے اور باتیں  ہیں جو گوگل پر یونی کوڈ میں سرچ کرنے سے کئی مشہور سائیٹس پر بھی نظر آئی ہیں ، ان سب کو پیش کرکے  ان پر بات کرنا شروع کی تو  تحریر بہت طویل ہوجائے گی، میں فی الحال ان  اعتراضات پر بات کرنے کی کوشش کروں گا۔اصل میں  المیہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کو موویز، گیمز، ڈراموں، فیس بک   جیسی قیمتی  چیزوں سے فرصت نہیں ، مطالعہ کرنے جیسے فضول کاموں کے لیے انکے پاس ٹائم ہی نہیں۔ ۔ ۔الا ماشاء اللہ بہت کم لوگ ہیں جن میں ابھی بھی مطالعہ کا ذوق و شوق باقی ہے۔ ۔ ۔   ذیادہ تر جوانوں کا  تاریخ ، دینیات  وغیرہ کے متعلق علم کا ماخذ كوئی مستند کتاب نہیں، چند باتیں ہیں جوانہوں نے کسی ایرے غیرے کے منہ سے سن لیں، کوئی اخباری کالم ہے جس پر کبھی نظر پڑ گئی یا کوئی  ناول، کہانی جو شوقیہ پڑھ لی۔ ۔یا  اب فیس بک ہے!!  ا س علم کا اظہار پھر ایسا ہی ہونا ہے جو دیکھنے کو ملتا ہے۔۔
پہلا اعتراض   کہ مولانا  ابوالکلام آزاد، حسین احمد مدنی اور ان کے رفقاء نے تحریک پاکستان کی مخالفت کیوں کی ؟  کے جواب میں میں اپنے طور پر کچھ بیان کرنے کے بجائے انہی   علماء کی  تقاریر میں سے کچھ اقتباس پیش کرتا ہوں، بات واضح ہوجائے گی کہ وہ اپنے  موقف میں کتنے سچے تھے اور انکی فراست کتنی مومنانہ تھی۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری  رحمہ اللہ نے  26 اپریل 1946 کو دہلی کے اردو پارک میں ایک بڑے مجمع سے خطاب فرمایا ،  اس کا ایک اقتباس  ملاحظہ فرمائیں۔
"اس وقت آئینی اور غیر آئینی بحث چل رہی ہے کہ آیا ہندوستان میں مسلم اکثریت کو ہندو اکثریت سے جدا کرکے دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے ۔ ۔ ؟   قطع نظر اس سے کہ اس کا انجام  کیا ہوگا ۔ ۔ ؟   مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق سے طلوع ہوگا لیکن یہ وہ پاکستان نہیں بنے گا جو دس کروڑ مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں  ہیں ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ کل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔۔؟  بات جھگڑے کی نہیں  سمجھنے  اور سمجھانے کی ہے، تحریک کی قیادت کرنے والوں کے قول وفعل میں بلا کا تضاد اور اور بنیادی فرق ہے اگرآج مجھے کوئی اس بات کا یقین دلادے کہ کل کو ہندوستان کے کسی قصبے کی گلی میں یا کسی شہر کے کسی کوچے میں حکومت الہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاد ہونے والا ہے تو رب کعبہ کی قسم میں آج ہی اپنا سب کچھ چھوڑ کا آپکا ساتھ دینے کیلئے تیار ہوں۔لیکن  یہ بات میری سمجھ س بالاتر ہے کہ جو لوگ اپنی اڑھائی من کی لاش اور چھ فٹ کے قد پر اسلامی قوانین نافد نہیں کرسکتے جن کا اٹھنا بیٹھنا، وضع قطع ، جن کا رہن سہن ، بول چال، زبان و تہذیب، کھانا پینا ، لباس وغیرہ غرض کوئی چیز بھی اسلام کے مطابق نہ ہو وہ دس کڑوڑ انسانی آبادی کے ایک قطع زمین پر اسلامی قوانین کیسے نافد کرسکتے ہیں؟ یہ ایک فریب ہے اور میں یہ فریب کھانے کے لیے تیار نہیں۔
 ہندو اپنی مکاری اور عیاری سے ہمیشہ پاکستان کو تنگ کرتا رہے گا، اسے کمزور بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، اس تقسیم کی بدولت آپ کے دریاؤں کا پانی روک دے گا، آپ کی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کرے گا، آپ کی یہ حالت ہوگی کہ بوقت ضرورت مشرقی پاکستان مغربی پاکستان کی اور مغربی پاکستان مشرقی پاکستان   کی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہوگا، اندرونی طور پر پاکستان میں چند خاندانوں کی حکومت ہوگی اور یہ خاندان زمینداروں، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے خاندان ہوگنگے، امیر دن بدن امیر ہوتا جائے گا اور غریب  غریب تر"۔
(روزنامہ الجمعیہ دہلی، 28 اپریل 1946)
اس  طرح مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا:
"اس زمان میں پاکستان کی تحریک زبان زد عوام ہے ، اگر اس کا مطلب اسلامی حکومت علی منہاج النبوۃ  مسلم اکثریت والے صوبوں میں قائم کرنا ہے تو ماشاء اللہ نہایت مبارک اسکیم ہے، کوئی بھی مسلمان اس میں گفتگو نہیں کرسکتا، مگر بحالت موجودہ یہ چیزیں متصور الوقوع نہیں۔ اور اس کا مقصد انگریز کی حکومت کے ماتحت کوئی ایسی حکومت کو قائم کرنا ہے جس کو مسلم حکومت کا نام  دیا جاسکے تو میرے نزدیک یہ اسکیم محض بزدلانہ اور سفیہانہ ہے اور ایک طرف برطانیہ کے لیے ڈیوائیڈ اینڈ رول  کا موقع بہم پہنچارہی ہے اور یہی عمل برطانیہ نے ہر جگہ جاری رکھا ہے"۔
( علمائے حق اور انکے مجاہدانہ کارنامے جلد 1 ص 462)
یہ موضوع بہت تفصیل مانگتا ہے، صرف ضروری باتیں لکھ رہا ہوں،  مولانا مدنی کے  مکتوبات  جو مکتوبات شیخ السلام کے نام سے مشہور ہیں  ان میں اس بات کا تذکرہ  موجود ہے کہ  1936 کے صوبائی الیکشن میں  جمعیت علمائے ہند   کی مسلم لیگ   کے ساتھ اتحاد کی بات چلی تھی اور جمعیت نے شرط یہ رکھی تھی کہ مسلم لیگ سے انگریز پرست، رجعت پسند اور خوشامدی ٹول کو نکالا جائے' قائداعظم  نے  وعدہ کیا  تھا کہ وہ  سرکارپرست ٹولے کو لیگ سے علیحدہ نہ کرسکے  تو خود لیگ سے علیحدہ ہوجائیں گے۔۔ ۔ یہ کبھی ممکن نہ ہوسکا۔
غرض  ان لوگوں کو پاکستان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ یہ سب باتیں سیاسی اختلاف کی حد تک تھیں جو کسی کو بھی ہوسکتا ہے ،  انکاموقف یہ تھا کہ انگریز کے زیر سایہ ہونے والی تقسیم کم ازکم مسلمانوں کے لیے کبھی فاعدہ مند نہیں ہوسکتی  ۔ !! پاکستان  بننے کے بعد ان میں سے کسی نے بھی پاکستان کی مخالفت نہیں کی بلکہ مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا ابو الکلام آزاد  رحمہ اللہ  نے پاکستان بننے کے بعد جو کچھ کہا اور جیسی دعائیں دیں اور متعلقین کو جس طرح اس فرض کی یاد دہانی  کرائی وہ ان کے ہم عصر لوگوں کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ اس کا  ذکر چھیڑ دیا  تو مضمون بہت طویل ہوجائے گا۔ صرف اتنا لکھنا  کافی  سمجھتا ہوں کہ  حضرت مدنی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے  کہ " پاکستان کے قیام کے بعد اب اس کا حکم مسجد کا سا ہے، اس کے بنانے میں اختلاف ہوسکتا ہے، بننے کے بعد اسکی تقدیس فرض ہے" مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ "پاکستان وجود میں آگیا ہے تو اب اسے باقی رکھنا چاہیے، اس کا بگڑ جانا  سارے عالم اسلام کے لیے شکست کے برابر ہوگا"۔
(بحث ونظر  نوائے وقت۔ 23 مارچ 1973)
مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ بھی چونکہ انہی کی جماعت اور  تحریک کے ایک فرد تھے ، اس لیے انہوں نے بھی پاکستان بننے کے بعد یہاں رہ کر اس کی بہتری کے لیے مسلم لیگیوں سے بڑھ کر کوششیں کیں اور مرتے دم تک  اسلام اور پاکستان کا رشتہ جوڑے رکھنے کے لیے کوشاں رہے۔ مفتی صاحب  پر یہ الزام کہ   "  شکر ہے  ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے 'کس حد تک درست ہے؟  اس کا جواب خود مفتی صاحب نے ہفتہ روزہ افریشیا  کو دیے گئے انٹرویو  میں دیا تھا :
" "جو بات یہ لوگ کہتے ہوئے نہیں شرماتے میں سنتے ہوئے بھی شرماتا ہوں، اس بات کی حقیقت اس قدر ہے کہ محاذ کی میٹنگ میں  بعض دوست آپس میں باتیں کرتے ہوئے مسلم لیگ کو کوس رہے تھے، چوہدری ظہور الہی بھی وہاں موجود تھے ، بات خالصتا مذاق میں ہورہی تھی، خود مسلم  لیگ کے دوست کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ ہماری ماں تھی لیکن یہ ماں بھی بدکار ہوگئی اور اس کے گناہوں کی ہوئی حد نہیں۔ اس پر میں نے ہنستے ہوئے کہا  کہ خدا کا شکر ہے ہم اس گناہ میں شریک نہیں تھے، یہ صرف مذاق کی بات تھی۔"
 (ہفت روزہ ترجمان اسلام" مفتی محمود نمبر) (4 جون1973، تحفظ ختم نبوت کانفرس لاہور)
مفتی صاحب پر سوشلزم کی حمایت کی حمایت بھی محض ایک  الزام تھا۔ یہ محض مفتی صاحب کی سرمایہ دارانہ نظام کی مخالف  کرنے کی وجہ سے سرمایہ داروں نے گھڑا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ   اس دور میں جب ان دونوں (سوشلرزم اور کیپٹل ازم )کا اختلاف پاکستان میں عروج پر تھا، مولانا  نے کپیٹل ازم اور سوشلزم  کے درمیان ایک معتدل موقف اپنایا تھا، وہ سرمایہ داری  اور ان بائیس خاندانوں کو پاکستان کی غربت و افلاس کی اصل وجہ سمجھتے تھے۔ اس دور میں جب سرمایہ داروں کے تحفظ کی تحریک چلی تھی مولانا نے ملک کے پسے ہوئے طبقہ غریبوں، مزدوروں کے حقوق کی آواز اٹھائی تھی اور اسکو اسلامی نقطہ نظر سے پیش کیا تھا،      تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہی آواز سوشلسٹ لوگوں کی بھی تھی، اس  کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ داروں نے آپ کو سوشلزم کا حامی مشہور کردیا اور پھر اپنے حامی علما کے ذریعے  آپ پر کفر کے فتوے بھی   لگوائے گئے۔ حالانکہ مفتی صاحب کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ وہ سوشلزم کو بھی کفر کا ہی نظام کہتے تھے، ایک انٹرویو میں  فرمایا۔
"اگر کوئی  شخص  مارکس اور لینن کے نظریہ کو اسلامی سوشلزم تعبیر کرتا ہے وہ اسلامی تعلیمات کی تکذیب کرتا ہے"۔ میں مفتی صاحب کے کئی  بیانات حوالے کے ساتھ پیش کرسکتا ہوں، فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں، کسی کو مزید تفصیل درکار ہوتو مہیا کرسکتا ہوں۔۔۔ مفتی صاحب  کا پی ٹی وی کو دیا گئے انٹرویو كا ایک کلپ ملاحظہ فرمائیں۔۔




مکمل تحریر >>

اتوار، 17 فروری، 2013

کافر اور حقیقی کافر

قادیانی اپنے کفر  سے توجہ ہٹانے کے لیے مغالطہ دینے کی کوشش کرتے  ہیں کہ  جو علماء ہم پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں وہ خود آپس میں بھی اک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں لہذا ان کے فتوؤں کا اعتبار نہیں۔ اس مغالطے کے جواب میں چند باتیں ملاحظہ فرمائیں۔

پہلی  بات مسلمان (سنی) مکاتب فکر  کا باہمی اختلاف واقعات کا اختلاف ہے قانون کا نہیں۔ جسکا واضح ثبوت یہ ہے جب کبھی اسلام کے خلاف کوئی بات سامنے آئی یا مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ پیدا ہوا تو ان تمام مکاتب فکر کے مل  بیٹھنے میں ان چند متشدد ین کے باہمی نزاعی فتوے کبھی رکاوٹ نہیں بنے۔1951 کے اسلامی  دستور کے بائیس نکات ہوں یا 1956 میں پاکستان کے مجوزہ دستور میں متعین اسلامی ترجیحات طے کرنے کا مرحلہ،  1953 کی تحریک ختم نبوت ہو یا 1977 کی تحریک نظام مصطفی، 1973 کے آئین میں اسلامی شقوں کو درج کرانے کا مسئلہ ہو یا  موجودہ دور میں تحفظ ناموس مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ تمام مکاتب فکر یک جان و یک زبان متفق و متحد نظر آتے ہیں۔

دوسری  بات چند متشددین، عجلت پسند اور غیر محتاط افراد کے انفرادی بنیاد پر دیے گئے چند فتاوی کو پیش کرکے یہ تاثر دینا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے  کہ سارے مکاتب فکر اک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ  ہر مکتبہ فکر  میں اک ایسا عنصر رہا ہے جس نے دوسرے مکتبہ فکر کی مخالفت میں اتنا تشدد روا رکھا ہے کہ وہ تکفیر تک پہنچ جائے، لیکن اسی  مکتبہ فکر  میں محقق اور اعتدال پسند علما ء نے ہمیشہ اس بے احتیاطی سے شدید اختلاف کیا ہےاورہر مسلک میں بڑی تعداد ایسے علماء کی ہی ہے جنہوں نے ان اختلافات کوناصرف  ہمیشہ اپنی حدود میں رکھا بلکہ اس رویے کی مذمت بھی کی جو اس قسم کے فتوؤں میں روا رکھا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ  امت  کے باہمی  تکفیر کے یہ تمام فتوی اپنے اپنے مکاتب فکر کی مکمل نمائندگی  نہیں کرتے ۔ 

تیسری بات  اگر کچھ حضرات نے تکفیر کے سلسلہ میں غلو اور تشدد کی روش اختیار کی تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی شخص کافر ہو ہی نہیں سکتا ؟  اور اگر  یہ سب علما  ملکر بھی کسی کو کافر کہیں تو وہ کافر نہیں ہوگا ؟ کیا  کبھی عطائی ڈاکٹروں کی وجہ سے کسی نے سندیافتہ ماہر ڈاکٹر  وں کو برا کہا   ؟ یا کوئی یہ کہہ سکتا ہے  کہ ان کی انفرادی غلطیوں کی وجہ سے  مستند ڈاکٹروں کی بھی کوئی بات قابل قبول نہیں ہونی چاہیے ؟  کیا کبھی کسی عدالتی فیصلہ میں  جج کی انفرادی غلطی کی وجہ سےدوسرے تمام ججوں کے بھی   تمام فیصلوں کے غلط  اور ناقابل اعتبار ہونے کی کسی نے بات کی ؟  کیا کبھی کسی  تعمیراتی کام میں کسی انجنئیر کی غلطی کی وجہ سے  کسی ذی ہوش نے یہ تجویز پیش کی کہ ان غلطیوں کی بناء پر تعمیر کا ٹھیکہ انجینئروں کے بجائے گورکنوں کو دے دیا جائے ؟؟؟  اگر  دینی لوگوں سے بھی چند جزوی نوعیت کے فتوؤں میں بے احتیاطیاں ہوئیں  تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ قادیانی بھی کافر نہیں۔ ۔  جن کا کفر تو اتنا واضح ہے کہ ان کو صرف علماء نے نہیں بلکہ غیر عالم لوگوں ذوالفقار علی بھٹو اور قومی اسمبلی نے  بھی کافر قرار دیا۔ آخر میں  علامہ اقبال  کا اک قول پیش کرتا ہوں۔
" مسلمانوں کے بے شمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی  مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا  جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں اگرچہ وہ دوسرے پر الحاد کے فتوے ہی دیتے ہوں "
( حرف اقبال صفحہ 127)


مکمل تحریر >>

بدھ، 12 ستمبر، 2012

مسٹر غلام احمد پرویز- پرانی شراب نئی بوتلوں میں

ہمارے اردگرد منکرین حدیث بنام اہل قرآن  کے فتنے سے  نوتعلیم یافتہ جدید و ماڈرن طبقہ ذیاده متاثر نظرآتا ہے  اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ  لوگ پڑھنے ،  سننے میں خود کو  کسی حد کے پابند نہیں سمجھتے 'مطالعہ کرنے کا ذوق ہوتا ہے، جس کسی کی کتاب بھی ہاتھ لگ جاتی ہے مطالعہ کرلیتے ہیں۔ اہل باطل کی دینی موضوعات پر بھی کتابیں پڑھنے سے دریغ نہیں کرتے، پھر چونکہ انہوں نے نہ  خود دین کو گہرائی میں کسی استاذ سے پڑھا ہوتا   ہے اور نہ مستند علما اور انکی کتابوں سے انکا کوئی تعلق ہوتا   ہے اس لیے  اہل باطل کے مکر کو سمجھ نہیں سکتے اور  ان کی تحریروں سے متاثر ہوجاتے اور آہستہ آہستہ ان کے حامی بن کر انہی کے گروہ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔
اس   فتنہ انکار حدیث کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ اس کے  اصل بانی اور محرک کچھ زنادقہ و ملاحده ، شیعہ و روافض تهے اور کچھ عقل پرست مُعتزلہ ، اسکی تفصیل  ہم پہلے بھی ایک تحریر میں یہاں ذکر کر چکے ہیں ۔ ہندوستان میں اس فتنہ کو پهیلانے اور ابتداء کرنے والے لوگوں میں سرفہرست  سرسید احمد خان ، مولوی چراغ ، عبدالله چکڑالوی ، احمدالدین خواجہ امرتسری ، مولوی اسلم جیراج پوری اور پهر آخر میں اس مشن کا جھنڈا برٹش گورنمنٹ کے محکمہٴ انفارمیشن کے ملازم چوہدری غلام احمد پرویز نے اٹهایا اور کفر وگمراہی کے انتہائ درجات تک اس شیطانی تحریک کو پہنچایا ۔
 غلام احمد پرویز  ایک اعلی پائے کا انشاء پرداز تھا اس  نے بجائے اپنے اس فن سے  اردو ادب کی خدمت کرنے کے  قرآن و حدیث  پر زور آزمائی شروع کی ۔ پہلے حدیث کو عجمی سازش اورتفرقہ کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کا انکار کیا ، خود کو اہل قرآن قرار دے کر لوگوں کو قرآن کی  طرف دعوت دی  اور ولا تفرقو ولا تفرقو کے خوشنما نعرے لگائے  پھر اپنے فن سے قرآن کے ترجمہ کو افسانوی رنگ میں پیش کرنا شروع کیا  ۔ اسکی یہی  ادبی افسانوی زبان میں لکھی گئی اسلامی تحریریں اور نعرے  دین سے دور دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ کی کمزوری بن گئے، ان لوگوں نے قرآن و حدیث کو  خود  گہرائی میں پڑھا نہیں تھااس کے علوم سے واقف نہیں تھے  اس لیے آسانی سے انکے انکار میں اسکے ہم خیال بن گئے  ۔ اس پرویزی مشن کو ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعہ پهیلانے کا ذمہ آج کے دور میں جاوید غامدی اور اس کے ہمنواوں نے اٹهایا ہوا ہے اور بدقسمتی سے دین سے بے خبر ناواقف وجاہل لوگ انہیں بھی دینی واسلامی سکالر کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
پرویزی دین پر ایک نظر
 پرویز اینڈ کمپنی چونکہ اپنے آپ کو اہلِ قرآن کہتے ہیں جس سے یہ تأثر ملتا ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات پر سختی سے کار بند ہیں‘ لہذا عوام الناس کے ذہنوں میں یہ ایک عام تأثر پیدا ہوتا ہے کہ پرویز صرف منکرِ حدیث ہے لیکن وہ قرآنی تعلیمات پر سختی سے کار بند ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے، پرویز جس طرح منکرِ حدیث ہے‘ اسی طرح وہ منکرِ قرآن بھی ہے‘اس نے قرآنی آیات کے اصل ،متعین اور متوارث معانی ومفاہیم کو بدل کر اپنی مرضی کے معانی نکالے ہیں ' اس کے نزدیک اللہ، رسول ،  کلمہ‘ نماز‘ زکوٰة‘ روزہ‘ حج‘قربانی وغیرہ کے بھی وہ معنی نہیں ہیں جوکہ  لغت عرب  اور مسلمانوں میں عہد نبوی سے لے کر تاحال مشہور ومتعارف ہیں ‘  بلکہ اصل معانی وہ ہیں جو تیرہ سو برس بعد صرف اس ایک عجمی مفکر کو سمجھنا  نصیب ہوئے ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں۔

۱- اللہ اور رسول کامطلب :
پرویز صاحب  'لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ' کا ترجمہ کرتے ہیں
 "  قانون صرف خدا کا ہے‘ کسی اور کا نہیں۔ محمد کی پوزیشن اتنی ہے کہ وہ اس قانون کا انسانوں تک پہنچانے والا ہے‘ اسے بھی یہ کوئی حق نہیں کہ وہ کسی پر اپنا حکم چلائے“(سلیم کے نام خط ج:۲‘ص:۳۴)
پرویز کے مطابق عبادت کے لائق تو کسی ہستی کا وجود ہی نہیں‘ ہاں خدا کے نام سے کوئی ہستی ہے جس کا قانون ماننا چاہئے ۔دوسری طرف جناب نبی صلى الله عليہ وسلم سے قرآن کا بیان کردہ ”حق اطاعت وتشریح “ چھین کر ”مرکز ملت“ کے نام سے حکومت وقت کو دے ڈالتے ہیں۔
”قرآن کریم میں جہاں اللہ ورسول کا ذکر آیا ہے‘اس سے مراد مرکز نظامِ حکومت ہے“۔) معارف القرآن جلد 4 صفحہ 263 )
”مرکزِ ملت کو اختیار ہے کہ وہ عبادات ‘نماز‘روزہ‘معاملات‘اخلاق ‘غرض جس چیز میں چاہے رد وبدل کردے“۔ (قرآنی فیصلے ص: ۴۲۴)
پرویز صاحب کا   اصرار ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں ”اللہ ورسول“ کا لفظ دیکھو اس سے مراد صدر مملکت سمجھو، اور سچے خدا اور رسول صلى الله عليہ وسلم کو چھوڑ کر ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرو۔ اسکندر مرزا ہو یا غلام محمد، ناظم الدین ہو یا ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو صدر ضیاء الحق، جونیجو یا بینظیر، جو بھی کرسی نشین اقتدار ہو، اسی کو اللہ اور رسول سمجھو! اسی کے سامنے ڈنڈوت بجالاؤ اور چند ٹکے سیدھے کرنے کے لئے اللہ ورسول سے اطاعت چھین کر برسراقتدار قوت کو دے ڈالوکہ مائی باپ آپ ہی  ہمارے دین کا فیصلہ کریں۔ لا حَولَ ولا قُوة الا باللّٰہِ
ستم یہ کہ اگرایسا نہ کروگے تو نہ ”اسلام طلوع“ ہوگا، نہ قرآنی ربوبیت منظر عام پر آئے گی بلکہ اسلام عجمی سازش کا شکار رہے گا۔ خدا کا غضب ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ و رسول سے مراد ”مرکز ملت“ ہے لیکن ان میں کسی کو بھی اس کے سننے سے قے نہیں آتی۔
پرویز صاحب بڑی چالاکی سے  اطاعت اور تشریح کا حق  رسول سے چھین کر نظام  حکومت یا مرکز ملت کے حوالے کرتے ہیں پھر خود ہی   مرکز ملت یعنی اللہ ورسول   بن بیٹھتے ہیں  اور قرآن کا  اپنی مرضی کے مطابق  ترجمہ و تشریح کرتے جاتے اور اس کی پیروی  نہ کرنے کوقرآن سے دوری،  فرقہ واریت  اور  ظلالت بتلاتے ہیں۔ایک اور جگہ فرماتے ہیں
”رسول کی اطاعت نہیں کیونکہ وہ زندہ نہیں“(اسلامی نظام صفحہ 112)
کوئی اس کے پیروکاروں  سے پوچھے  اگر منتخب رسول کے انتقال کرجانے کے بعد اسکی تعلیمات کی پیروی  نہیں تو پرویز کے مرنے کے بعد اسکی  بکواسات کی پیروی کیوں کرتے ہو ؟

2- دور نبوی  دور وحشت  ہے:
مسلمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام کا سب سے زرین دور عہد مآب  تھا ‘اس زمانہ میں جاہلیت کے اندھیرے چھٹے اور اسلام کا نور چار سو پھیلا‘ خود آنحضرت  نے اپنے زمانہ کو خیر القرون کا لقب دیاہے‘مگر پرویز اس تیرہ سو سال قبل کے زرین عہدکو وحشت کا دور کہتا ہے‘ وہ لکھتاہے:
”آپ (علمأ) اپنی قوم کے دامن پکڑ کر آج سے تیرہ سو سال پہلے کے دورِ وحشت کی طرف گھسیٹ رہے ہیں“(قرآنی فیصلے)

3- انکا ر حدیث
"مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھنے کے لیے جو سازش کی گئی اس کی پہلی کڑی یہ عقیدہ پیدا کرنا تھا کہ رسول اللہ کو اس وحی کے علاوہ جو قرآن میں محفوظ ہے ایک اور وحی بھی دی گئی تھی جو قرآن کے ساتھ بالکل قرآن کے ہم پلہ ہے ۔ یہ وحی روایات میں ملتی ہے"(مقام حدیث جلد 1 صفحہ 421)
" یہ جھوٹ مسلمانوں کا مذہب بن گیا ۔ وحی غیر متلو اس کا نام رکھ کر اسے قرآن کے ساتھ مثل قرآن ٹھہرایا گیا " (مقام  حدیث جلد 2، صفحہ 122)
حالانکہ جس قرآن کی طرف یہ پرویزی اپنی  نسبت کرتے ہیں اسی قرآن میں ہی اتباع اور اطیعوالرسول کے الفاظ پندرہ سے زائد دفعہ آئے ہیں  اور آپ کی اطاعت آپکی  حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ مزید قرآن ہی   حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں  کو وحی(غیر متلو)  قرار دیتا ہے۔
وما ینطق عن الهوی، ان ھو الا وحی یوحی
 آپ صلى الله عليہ وسلم اپنی خواہش سے کوئی بهی بات نہیں کرتے ، یہ (آپ کی باتیں)  تو وحی ہیں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے [53، 3]

4- قرآن  موقف کے خلاف نظریہ ارتقا ء کی تبلیغ اور حضرت آدم علیہ السلام کی ذات کا  انکار
”واذ قال ربک للملائکة انی جاعل فی الارض خلیفة“(البقرہ: ۳۰)
ترجمہ: اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں بنانیوالا ہوں زمین میں ایک نائب۔
پرویزی ترجمہ:․․․” جب زندگی اپنی ارتقائی مناظر طے کرتی ہوئی پیکر انسانی میں پہنچی اور مشیئت کے پروگرام کے مطابق وہ وقت آیا کہ اپنے سے پہلی آبادیوں کی جگہ زمین میں آباد ہو“۔ (مفہوم القرآن ص:۱۲)
یہاں پرویز نے  ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو زبردستی ٹھونسا ہے،پرویز کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کا وجود ہی نہیں تھا‘ انسان مختلف ارتقائی مراحل طے کرکے  بندر سے موجودہ شکل انسانی تک پہنچا ہے۔ایک جگہ لکھتا ہے
”آدم کوئی خاص فرد نہیں تھا‘ بلکہ انسانیت کا تمثیلی نمائندہ تھا‘قصہ آدم کسی خاص فرد کا قصہ نہیں ‘ بلکہ خود آدمی کی داستان ہے‘ جسے قرآن نے تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے الخ“۔(لغات القرآن  جلد 1 صفحہ 214)

5- ملائکہ اور ابلیس کا انکار
”واذ قلنا للملائکة اسجدوا لآدم فسجدو الا ابلیس“ (البقرہ:۳۴)
ترجمہ:․․ اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان۔
پرویزی ترجمہ: ․”اس پر کائناتی قوتیں سب انسان کے آگے جھک گئیں‘ لیکن ایک چیز ایسی بھی تھی جس نے اس کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا‘ اس نے سرکشی اختیار کی‘ یہ تھے انسان کے خود اپنے جذبات‘ جس کے غالب آجانے سے اس کی عقل وفکر ماؤف ہوجاتی ہے“۔ (مفہوم القرآن ص:۱۳)
اگر ابلیس انسان کے اندر کے سرکش جذبات کا نام ہے تو ملائکہ کے سجدہ کے وقت پھر انکار کس نے کیا تھا؟؟؟؟ پرویز نے ملائکہ کا ترجمہ” کائناتی قوتوں“ سے کرکے فرشتوں کے وجود کا انکار کیا ۔دوسری جگہ انہیں نفسیاتی محرکات قرار دیتا ہے۔
”ملائکہ سے مراد وہ نفسیاتی محرکات ہیں جو انسانی قلوب میں اثرات مرتب کرتے ہیں الخ“ (لغات القرآن  جلد 1 صفحہ 244)

6- آخرت، جنت اور دوزخ  کا انکار :
”قرآن ماضی کی طرف نگاہ رکھنے کے بجائے ہمیشہ مستقبل کو سامنے رکھنے کی تاکید کرتا ہے‘ اسی کا نام ایمان بالآخرت ہے“۔(سلیم کے نام اکیسواں خط، جلد 2 صفحہ 124 )
”بہرحال مرنے کے بعد کی جنت اور جہنم مقامات نہیں‘انسانی ذات کی کیفیات ہیں“۔(لغات القرآن جلد1 صفحہ 449 )

7- انکار واقعہ معراج:
جس طرح  مرزا قادیانی کی شیطانی وحی والہام میں عجیب وغریب خرافات وکفریات ہیں اس طرح  پرویز کی تفسیری نکات میں بھی آپ کو اسی طرح کے  لطیفے نظر آئیں گے۔ سورۃ البقرہ کی آیت ( ویسألوُنکَ عن المَحیض )(ترجمہ  :اور تجھ سے پوچھتے ہیں حکم حیض کا) )   پرویز اسکا ترجمہ کرتا ہے'اس کا مطلب ہے سرمایہ دارانہ معاشی نظام جیسے خرافات وضلالات نظرآئیں گے' ۔ اس طرح  سورۃ  بنی اسرائیل  کی پہلی آیت کے حوالے سے لکھتا ہے۔
 ”واقعہٴ اسراء“اگر یہ خواب کا نہیں تو یہ حضور کی شب ہجرت کا بیان ہے‘اس طرح مسجد اقصیٰ سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہوگی‘جسے آپ نے وہاں جاکر تعمیر فرمایا“۔(معارف القرآن جلد 4 صفحہ  732)
دوسروں کو ”ملائیت اور دقیانوسیت کا طعنہ دینے والے پیران نابالغ   بتلاتے ہیں کہ 'مسجد اقصی' سے مراد' مسجد نبوی' ہے۔

8-پرویزی شریعت اور حلا ل حرام
قرآن کی رو سے صرف مردار، بہتا خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام  کی طرف منسوب چیزیں حرام ہیں  ان کے علاوہ کچھ حرام نہیں۔۔ ہمارے مروجہ اسلام میں حرام و حلال کی جو طولانی فہرستیں ہیں وہ سب انسانوں کی خود ساختہ ہیں" (حلال و حرام کی تحقیق ، ماہنامہ طلوع اسلام مئی 1952)
یوں شریعت پرویز میں کتے، بلے،  گدھے،  سانپ، کچھوے، مینڈک، کیڑے سب حلال ہیں۔

9-  نماز کی حقیقت
”وارکعوا مع الراکعین“۔ (البقرة :۴۳)
ترجمہ:․․ ”نماز پڑھو نماز والوں کے ساتھ“   (آیت میں  نماز باجماعت کی تاکید ہے)
پرویزی ترجمہ: ․”اور اسی طرح تم بھی اب ان کے ساتھی بن جاؤ جو قوانینِ خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں“۔ (مفہوم القرآن ص:۱۶)
نماز اور دیگر عبادات کے بارے میں پرویز کی   مزید تعلیمات ملاحظہ فرمائیے۔
”ہماری صلوٰة وہی ہے جو (ہندو) مذہب میں پوجاپاٹ کہلاتی ہے‘ ہمارے روزے وہی ہیں جنہیں مذہب میں برت‘ ہماری زکوٰة وہی شئے ہے جیسے خیرات‘ ہمارا حج مذہب کی یاترا ہے‘ ہمارے ہاں یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے ثواب ہوتا ہے‘ یہ تمام عبادات اس لئے سر انجام دی جاتی ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے‘ ان امور کو نہ افادیت سے کچھ تعلق ہے‘ نہ عقل وبصیرت سے کچھ واسطہ‘ آج ہم اسی مقام پر ہیں جہاں اسلام سے پہلے دنیا تھی“۔ (قرآنی فیصلے ص:۳۰۱ تا ۳۰۲)

10- انکار  زکوٰة
پرویز نے”اقیموا الصلوٰة“ کی باطل اور من گھڑت تشریح کیساتھ اسلام کے دوسرے عظیم الشان حکم ”واتوا الزکوٰة“ کی بھی باطل تاویل کی ہے، زکوٰة کو سرے سے  فرض ہی  نہیں سمجھتا ،اسے ایک ٹیکس قرار دیتاہے:
”زکوٰة اس ٹیکس کے علاوہ کچھ نہیں جو اسلامی حکومت مسلمانوں پر عائد کرے‘اس ٹیکس کی کوئی شرح مقرر نہیں کی گئی“۔ (قرآنی فیصلے ص: ۳۵)

11- انکار معجزات  :
 ”رسول اکرم کو قرآن کے سوا کوئی معجزہ نہیں دیا گیا“۔(معارف القرآن جلد 4 صفحہ  731)

12- قربانی پیسے کا ضیاع ہے:
”قربانی کے لئے مقام ِحج کے علاوہ اور کہیں حکم نہیں اور حج میں بھی اس کی حیثیت شرکائے کانفرنس کے لئے راشن مہیا کرنے سے زیادہ نہیں ہے‘ (پرویز کے ہاں حج کا مفہوم ایک بین الاقوامی کانفرنس ہے)  مقامِ حج کے علاوہ کسی دوسری جگہ قربانی کے لئے کوئی حکم نہیں ہے‘ یہ ساری دنیا میں اپنے اپنے طور پر قربانیاں ایک رسم ہے‘ ذرا حساب لگایئے‘ اس رسم کو پورا کرنے میں اس غریب قوم کا کس قدر روپیہ ہرسال ضائع ہوجاتاہے“۔ (قرآنی فیصلے ص:۶۹)

یہ چند کفریات ”مشتے نمونہ از خروارے“ کے طور پر ذکر کئے گئے، ان میں ہی واضح ہے کہ  پرویز  نے سارا اسلام قرآن ، حدیث، تمام عبادات، تمام احکامِ شرعیہ بیک جنبش قلم ختم کردیئےہیں پھر بھی اصرار ہے کہ اسے اور اسکے ماننے والوں کو مسلمان اور اہل حق کہا جائے ۔تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ  ”ضروریات ِ دین" (جن کا دینِ اسلام سے ہونا قطعی ہے) کا  صریح انکار کرنے والا، ان میں چودہ  سوسال سےراجح  تعبیر کے خلاف تاویل کرنے والایا انکا مذاق اڑانے والا کافر ہوجاتا  ہےجیسے  مرزا غلام احمد قادیانی اپنے  سینکڑوں کفریات کے علاوہ  ختمِ نبوت اور نزولِ مسیح علیہ السلام کے معنی میں تاویل کرنے کی وجہ سے  باتفاق امت کافر ہے اسی  طرح  غلام احمد پرویز  بھی اپنی تحریرات وتالیفات میں کلمہ، نماز، روزہ، حج،   زکوٰة، قربانی ، آخرت وغیرہ کے انکار اور مفہومات بدلنے کی وجہ سے کافر ہوگیااور پاکستان ، سعودی عرب ،کویت‘ بھارت ، جنوبی افریقہ، شام ومصر وغیرہ کے اکابر علماء  پرویزیوں کے عقائد ونظریات کا مطالعہ اور تحقیق کرنے کے بعد ان کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کرچکے ہیں۔

منکرین حدیث دوستوں سے کچھ سوالات :
  1.  آپ احادیث کے ذخیرہ کو عجمی افراد کی کارستانی بتاتے ہوئے آپ امام بخاری  کو ایرانی بتاتے ہیں ،حالاں کہ وہ ایرانی نہیں، بخارا کے باشندے تھے، اگر عجمی ہونا جرم ہے تو آپ کے پرویز سمیت تمام ہندوستانی اکابر بھی ما شا ء الله عجمی ہی ہیں ، پرویز کی تو 'پ' پکار پکار کر ان کے عجمی ہونے کااعلان کر رہی ہے یہ حرف تو عربی حروف میں موجود ہی نہیں۔۔ اب یہ بتائیے کہ عجمی بخاری کی بات ماننا گمراہی کیوں ہے  اور آپ جیسے عجمیوں کی بات ماننا اسلام کیوں  ؟
  2.   آپ ہی بتائیے جن محدثین کی مادری زبان عربی تھی اور ان کی زندگیاں عربوں ہی کے درمیان گزریں، وہ تو بقول آپ کے حدیثیں اکٹھا کرنے کے جرم میں عجمی سارش کے آلہ کار ٹھہرے، لیکن ایک عجمی غلام احمد پرویز جو ساری زندگی زبان عرب سے بھی محروم رہا او رماحول عرب سے بھی محروم رہا ،وہ کیسے مقتدا اور پیشوا بنا دیا گیا؟ کہیں اس کا ظہور اور دعویٰ ہی عجمی سازش تو نہیں؟
  3.  عجیب بات یہ ہے کہ صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے مسلمانوں کا اجماع اور عمل تو آپ کے نزدیک حجت اور درست نہیں اور نہ ہی ان کی اطاعت جائز ہے، چودہویں صدی کے منکرین فقہ وحدیث کی تقلید آپ کے لیے کس وحی کی رو سے جائز ہو گئی؟
  4.  نماز کے طریقہ،  رکعتوں، فرائض و واجبات  کی تعداد کا ذکر قرآن مجید میں نہیں، ان کی تعداد کون اور کیسے مقرر کریں گا؟
  5.  یہ تو انصاف نہیں کہ زکوٰة کی شرح میں تو کمی بیشی کی جاتی رہے اور بے چاری نماز اپنے پرانے طریقے پر رہ جائے۔ کیا آپ یہ حکم دیں گے کہ فارغ مولوی یا صوفی تو فجر کی نماز بیس رکعت فرض پڑھا کریں اور ملازم پیشہ لوگ سائیکل چلاتے ہوئے ہی اشارے سے رکوع سجدہ کر لیا کریں تو ان کی نماز ہو جائے گی؟
  6. آپ کہتے ہیں کہ زکوٰة صرف اسلامی حکومت کو ہی ادا کی جاسکتی ہے، موجودہ حکومتوں کو آپ اسلامی حکومتیں نہیں مانتے۔ اس صورت میں زکوٰة کس کو ادا کی جائے ؟

آخر میں حدیث وسنّت کے بارے میں قرآن مجید سے صرف دو چار آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔
    ﴿وانزل الله علیک الکتب والحکمة﴾
      ترجمہ: اورالله تعالیٰ نے آپ صلی الله علیہ وسلم پر قرآن اورحکمت نازل فرمائی'
     بتائیے حکمت کو کتاب( قرآن) سے الگ کیوں بیان کیا گیا؟ حکمت سے سنت یا حدیث مراد لینا کیوں درست نہیں  ؟
      ﴿یا ایھا الذین آمنوا لا تقدموا بین یدی الله ورسولہ﴾
    'اے مومنوا الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے حکم سے سرتابی نہ کرو'
      رسول صلی الله علیہ وسلم کے حکم کو حدیث کہنا کون سا گناہ ہے؟
منکرین حدیث کے متعلق نبی علیہ السلام کی پیشن گوہی
ترجمہ: ”مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا۔ سن رکھو! مجھے قرآن بھی دیاگیا اور قرآن کے ساتھ اس کے مثل بھی، سن رکھو! قریب ہے کہ کوئی پیٹ بھرا تکیہ لگائے ہوئے یہ کہنے لگے کہ لوگوں! تمہیں یہ قرآن کافی ہے بس جو چیز اس میں حلال ملے اسی کو حلال سمجھو! حالانکہ اللہ کے رسول کی حرام بتلائی ہوئی چیزیں بھی ویسی ہیں جیسی اللہ تعالیٰ کی حرام بتلائی ہوئی۔“
الحدیث. (رواہ ابوداود، دارمی، ابن ماجہ، مشکوٰة ص:۲۹)

اس شہادت کے بعد اہل ایمان کے لئے شک اور تردد کی گنجائش ظاہر باقی نہیں رہتی البتہ جن سے ایمان کی دولت ہی کو سلب کرلیا گیا ہو، کس کے اختیار میں ہے کہ ان کو تشکیک کے روگ سے نجات دلاسکے اور کونسا سامان ہدایت ہے جو ان کیلئے سود مند ہوسکے۔جیسا کہ قرآن خود بتا رہا ہے: ”فَمَا تغنِ الآیات والنُذر عن قومٍ لا یوٴمِنون“ (جن کو ایمان نہیں لانا ہے ان کیلئے نہ کوئی آیت سود مند ہوسکتی ہے نہ کوئی ڈرسنانے والے)۔
الله تعالیٰ ہی سمجھ اور ہدایت نصیب فرمائیں ۔

مکمل تحریر >>

اتوار، 9 ستمبر، 2012

تاریخ اسلام میں صحابہ کے کردار کو مجروح کرنے والی روایات پر ایک تحقیق

ہم نے یہاں اپنی تحریر میں  محققین  کی تحقیق اور اسم و رجال کے حوالہ سے لکھا کہ   صحابہ کے اختلافی واقعات کی ایسی تمام روایات  جن سے صحابہ کا کردار مجروح ہوتا نظر آتا ہے اور وہ واضح قرآن وحدیث کی صحابہ کے متعلق گواہی اور تفصیل کا بھی  خلاف ہیں '  سبائی راویوں اور دشمنان صحابہ کی اپنی وضع کردہ ہیں ۔ اس کے  ثبوت  میں ہم  ابو مخنف لوط کی تین روایات پر تجزیہ   پیش کررہے ہیں، جس سے ان لوگوں کا مکر اور طریقہ واردات بھی کھل کر سامنے آجائے گا۔

جنگ صفین اور  واقعہ تحکیم کےمتعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ
واقعہ تحکیم کاپس منظر :۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے کے مسئلے پر  امت دو حصوں میں بٹ گئی  تھی ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان  کے ساتھ صحابہ  کی جماعت کا  یہ موقف تھا کہ  ہم علی رضی اللہ عنہ کی بیعت اس وقت کر یں گے جب  تک عثمان رضی اللہ  عنہ کے خون ناحق کا قصاص  لیا جائے گا ، جب کہ علی رضی اللہ  عنہ کا مطالبہ تھا کہ یہ لوگ بیعت کرلیں پھر بعد میں جب حالات سازگار ہوجائیں گے تو قصاص لے لیا جائے گا۔معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کا موقف یہ تھا  کہ  چونکہ قاتلین عثمان  ہی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت قبول کرنے پر مجبور کرکے سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ملک کے انتظام و تدبیر  اور حضرت علی رضی اللہ  عنہ کے تمام فیصلوں میں وہ پوری طرح دخیل ہیں اسی لئے  حضرت علی رضی اللہ نہ خون عثمان کا قصاص لے پارہے ہیں اور نہ ہی اس صورتحال کے برقرار رہتے ہوئے وہ قصاص لے سکیں گے ، لہذا فتنہ کے سدباب  کی بس یہی صورت ہے کہ یا تو وہ خود قصاص لیکر ان قاتل سبائیوں سے اپنی گلو خلاصی کریں یا پھر ان قاتلوں کو ہمارے حوالہ کردیں تاکہ ہم انکو کیفرکردار تک پہنچا کر پوری ملت اسلامیہ کے زخمی دلوں کو سکون پہنچا سکیں، یہ مطالبات ان بلوائیوں/ سبائیوں/قاتلان عثمان کے لیے انتہائی تباہ کن تھے اس لیے  ان کی ریشہ دوانیوں اور کوششوں سے ان دونوں گروہوں میں اختلاف بڑھتے گئے اور  نہ چاہتے ہوئے بھی ان میں  دو جنگیں  جنگ جمل اور جنگ صفین  ہوگئیں ۔ صفین میں جب جنگ زوروں پر تھی  تو  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نےدونوں طرف ہونے والے مسلمانوں کے اس جانی نقصان سے بچنے  کے لیے  حضرت علی کو قرآن پر مصالحت کی دعوت دی جس کو انہوں نے فورا منظور کرلیا اور دونوں طرف جنگ بندی کا اعلان ہوگیا۔
 اس جگہ ہم نے  تاریخ کی ان مکذوبہ سبائی تفصیلات کو بیان کرنے سے قصدا گریز کیا ہے جن میں بیان کیا گیا ہے  اپنی شکست کو قریب دیکھ کر معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے قرآن  کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے  نیزوں پر بلند کردیا  تاکہ علی کی فوج منتشر ہوجائے اورہم شکست سے بچ جائیں اور یہ کہ علی رضی اللہ عنہ  اس جنگ بندی پر راضی    نہیں تھے ، باربار  اپنی تقریروں   (جن میں معاویہ اور مخالف صحابہ کو منافق اور دھوکے باز کہنے اور   گالیاں دینے کا ذکر ہے )  کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو  جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے اور ابھارتےرہے ، لیکن آپ  رضی اللہ عنہ  کی اپنی جماعت کے سامنے ایک نہ چلی اور آخر بادل  نخواستہ تحکیم  پر رضا مند ہوئے۔ ان روایات  میں  راویوں کا جھوٹ اور بہتان  کئی باتوں سے ظاہر ہے، اسکی تفصیل ان روایات پر تبصرہ میں آگے  آئے گی۔

واقعہ تحکیم :۔
جنگ بندی کے بعد تحکیم ہوئی یعنی کتاب اللہ کے حکم کےمطابق حضرت علی رضی اللہ کی طرف سے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ثالث مقرر ہوئے کہ یہ دونوں کتاب وسنت کے مطابق  نزاعی معاملہ کا جو فیصلہ کریں گے وہ فریقین کے لئے قابل قبول ہوگا۔اس فیصلہ کی شرائط کے متعلق جو ابتدائی دستاویز تیار ہوئیں وہ تاریخ کی سب بڑی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں ہم طوالت سے بچنے کے لیے اس کے بنیادی نکات کو بیان کرتے ہیں۔
1. حضرت علی رضی اللہ اور انکے تمام ساتھیوں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے تمام ساتھیوں کو مساویہ طور پر اہل ایمان تسلیم کیا گیا۔
2. دونوں ثالثوں کی عدالت اور انصاف پر فریقین نے اپنے کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ ایسا فیصلہ کریں  جس سے یہ عارضی جنگ بندی مستقل  اور پائیدار امن کی صورت اختیار کرے اور دوبارہ اختلاف و جنگ کی صورت  پیدا نہ ہونے پائے۔
3. ثالثوں پر  ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ اپنا فیصلہ تحریری طور پر پیش کریں۔
4. شہادت و مشاورت اور دوسرے تمام ضروری مراحل سے گذرنے کے بعد ثالثوں کے فیصلہ سنانے کے لیے  رمضان کا مہینہ مقرر کیا گیا۔

ثالثوں کا فیصلہ :۔
یہ معاہدہ چونکہ خیر القرون  میں نبی کامل کے  تربیت یافتہ   جید اصحاب  کی ان دو جماعتوں کے درمیان ہوا تھا  جن سے پاکیزہ اور لائق تقلید انسانی گروہ کا روئے زمین پر تصور نہیں کیا جاسکتا ،  اس لیے اس  تحکیم کے لیے جس طرح کی بہترین شرائط رکھی گئی  تھیں فیصلہ بھی انہی کے مطابق  آنا یقینی تھا ۔ جبکہ تاریخی روایتوں میں یہاں بات کو بڑے طریقے سے ایک  الگ رخ پر موڑ کر فتنہ کا دروازہ کھول دیا گیا،۔تاریخ اس فیصلہ کی تفصیلات میں ان سبائی راویوں کی روایتوں کی بنیاد پر  کچھ اور ہی کہانیاں سناتی ہے ۔ معاہدہ کی شرائط پرغور کیجیے ان میں کن باتون کو اہمیت دی گئی اور  تاریخ فیصلہ کیا  بتاتی ہے ۔ جنگیں  اور پھرمعاہدہ قاتلان عثمان سے قصاص کےمتعلق ہوا اور  تاریخ میں یہ سبائی روای انتہائی مکاری سے  فیصلہ میں  بالکل الٹ خلافت کا تنازعہ بتاتے ہیں اور پھراپنے غیظ القلب کی تسکین کے لیے اصحاب کا ایک دوسرے کو گالیاں دینا،  برا بھلا کہنا  بتلاتے ہیں   ۔  تاریخ طبری، ان اثیر اور ابن خلدون وغیرہ نے فیصلہ کی جو تفصیلات دیں  ہیں انکا خلاصہ یہ ہے۔
"دونوں ثالث مجمع میں آئےجہاں دونوں طرف چار چار سو اصحاب کرام رضوان اللہ اور  ان کے علاوہ کچھ غیر جانبدار جید صحابہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ  موجود تھے۔حضرت  ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ  تقریر کرنے کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم دونوں اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کو خلافت سے معزول کرلیں، پھر لوگ باہمی مشورہ سے جس کو پسند کریں خلیفہ کی حیثیت سے منتخب کرلیں، لہذا میں علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرکے معاملہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہوں کہ اب آپ جسے چاہیں اپنا نیا امیر بنالیں، اس کے بعد حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ جو کچھ میرے ساتھی نے ابھی کہا اسے آپ لوگوں نے سن لیا کہ انہوں نے اپنے آدمی علی رضی اللہ کو معزول کردیا میں بھی انکی طرح علی رضی اللہ عنہ کو معزول کرتا ہوں اور اپنے آدمی معاویہ رضی اللہ کو خلاف پر قائم رکھتا ہوں۔ یہ سنکر حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو سے کہا  تم نے یہ کیا کیا ؟ خدا تمہیں توفیق نہ دے ، تم نے تو ہمیں دھوکہ دیا ہے  اور گنہگار بنے ، تمہاری مثال تو اس کتے کی ہے جس پر بوجھ لادو تو بھی ہانپے ، اس کے جواب میں حضرت عمرو نے کہا کہ تمہاری مثال اس گدھے کی ہے جو بوجھ ڈھوئے پھرتا ہے۔ دوسرے صحابہ نے حضرت ابوموسی کو طعنے دینے شروع کیے ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ نے کہا کہ ابو موسی تمہارے حال پر افسوس ہے کہ تم عمرو کی چالوں کے مقابلے میں بہت کمزور نکلے، حضرت  عبد الرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابو موسی اگر اس سے پہلے مر گئے ہوتے تو ان کے حق میں ذیادہ اچھا ہوتا "۔ پھر حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ مجمع سے اٹھ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انکو خلافت کی مبارکباد پیش کی ، دوسری طرف حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ اتنے شرمندہ تھے کہ وہ پھر حضرت علی رضی کو منہ بھی نہ دکھا سکے اور سیدھے مکہ چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے کوفہ پہنچ کر  اپنی تقریروں میں مخالف صحابہ کو برا بھلا کہا اور دوبارہ جنگ کی تیاریاں شروع  کردیں۔ لیکن ان کے لوگوں نے انکا ساتھ نہ دیااور خوارج کے فتنے نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے مزید ایک درد سر پیدا کردیا تھا۔

وضا حت طلب امور :۔
1. فیصلہ کی تقریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ  دونوں خلیفہ تھے، پھر حضرت ابو موسی  رضی اللہ عنہ نے دونوں کو معزول کردیا اور عمر و رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو برقرار رکھا،حالانکہ یہ کسی گری پڑی تاریخی روایت سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  نے اس واقعہ سے پہلے یا بعد میں اپنی خلافت کا اعلان کرکے اسکے لیے کسی  ایک شخص  سے بھی  بیعت لی ہو ،  اس کے مقابلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بیعت ہوچکی تھی اور انہیں امیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے تسلیم کیا جا چکا تھا، صرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھ اصحابہ نے فی الحال بیعت نہیں کی تھی ،  وہ بھی اس لیے نہیں کہ وہ خود خلافت کے مدعی تھے بلکہ اس لیے کہ انکا مطالبہ تھا کہ پہلے  قاتلان عثمان غنی سے  قصاص لے لیا جائے پھر ہم بیعت کریں گے،  پھر   معاویہ   رضی اللہ عنہ کو خلافت پر قائم رکھنے اور علی رضی اللہ عنہ کو معزول  کرنے کی داستانیں کس بنیاد پر ؟
2. تحکیم کی دستاویز میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ ثالثوں کا فیصلہ تحریری ہوگا، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ثالثوں نے محض تقریریں کیں ،اگر فیصلہ تحریری شکل میں نہیں تھا تو فریقین کی طرف سے شریک مجلس چار چار سو اصحاب اور ان کے علاوہ دوسرے غیر جانبدار بزرگ  حضرات میں سے کسی نے تحریری فیصلہ کا مطالبہ کیوں نہیں کیا  ؟ روایت   دونوں کا مناظرہ دکھاتی ہے جبکہ  یہاں تحریری فیصلہ پڑھ کر سنایا جانا تھا۔
3.   اس روایت  کے مطابق حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ  کی  (معاذ اللہ) ناسمجھی ،  بیوقوفی  اور  حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی چالاکی  کے باوجود دونوں کا کوئی متفقہ فیصلہ سامنے  نہیں آیا ،  دونوں نے بس ایک دوسرے کو ملامت کی اور کتا گدھا بنایا،   نہ مجمع نے  دونوں کی تقریروں کے بعد  متفقہ طور پر کسی کو منتخب  کیا ۔ پھر وہ کون سا فیصلہ  ہے جس پر حضرت عمرو  رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ کو خلافت کی مبارکباد دی اور حضرت علی رضی اللہ نے اس پر اپنی ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اسے رد کیا ؟
4. اس نام نہاد فیصلہ کے بعد حضرت معاویہ رضی  اللہ نے  اپنی خلافت کی  عام بیعت کیوں نہیں لی ؟ کیا انہوں نے بھی فیصلہ کو رد کردیا تھا ؟۔
5. راوی کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے فیصلہ  کی علی الاعلان مخالفت اور دونوں ثالثوں کو مجرم گردانے کے بعد  شام پر دوبارہ چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع ہوئیں  لیکن خارجیوں کے فتنے نے اپنی طرف متوجہ کردیا۔پھر   حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس کمزوری سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فاعدہ اٹھا کر  کوفہ پر چڑھائی کیوں نہ  کی، اگر وہ خلافت چاہتے تھے تو یہ تو علی رضی اللہ عنہ کو راستے سے ہٹانے کا بہترین موقع تھا، اس ناکام فیصلہ کے بعد جنگ بندی مستقل کیسے ہوگئی،  دوبارہ دونوں میں اختلاف کیوں نہ سامنے آیا ؟
یہ چند امور وضاحت طلب ہیں جو اس وقت تک وضاحت طلب ہی رہیں گے جب تک ان روایتوں کے راوی ابو مخنف لوط بن یحیی کی ان دروغ بافیوں کو صحیح تسلیم کیا جاتا رہے گا  ۔

فیصلہ پر ایک نظر :۔
ان وضاحت طلب امور کے علاوہ  فیصلہ سے پہلے اور فیصلہ کے بعد کے حالات و واقعات کو بنیاد بنا کر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ  اس واقعہ کے متعلق تاریخی کتابوں میں مذکور  ثالثوں کے فیصلے کی یہ تمام تفصیلات قطعا غلط ، گھڑی ہوئی  اور محض اصحاب سے بدظن کرنے کی ایک رافضی سازش ہیں۔اصل فیصلہ مجموعی طور پر انتہائی کامیاب اور فریقین کے لیے قابل قبول اور عام مسلمانوں کے بہترین مفاد میں تھا کیونکہ :
1. دونوں ثالث ناصرف  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  بلکہ بعد کے بھی سارے خلفائے راشدین اور صحابہ کے  قابل اعتماد لوگ تھے اور ان کی فہم فراست، تدبر و سیاست اور فقہ و دیانت  کو دیکھتے ہوئے ان کو ہر دور میں بڑی بڑی ذمہ داریاں اور عہدے عطا کیے گئے تھے ۔یہ بات ناممکن تھی کہ وہ صرف اس ایک مسئلہ میں  فتنہ کا  دروازہ  کھولنے والا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ کرتے ۔
2. اگر ثالثوں  نے اپنی ذمہ داریوں کو قطعا فراموش کرکے اور خدانخواستہ دین و دیانت کو بالائے طاق رکھ کر  یہ غلط فیصلہ دیا ہوتا تو مجلس میں موجود آٹھ سو سے زائد  چیدہ و نمائندہ اصحاب کرام رضوان اللہ  خاموش تماشائی نہ بنے رہتے۔  ایسا تو آج کے گئے گذرے دور میں بھی نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ عہد صحابہ رضی اللہ میں جہاں منبر پر  کھڑے خلیفہ  کو دو چادریں پہننے پر   پوچھ لیا جاتا تھا کہ سب کو  مال غنیمت سے ایک چادر ملی اس نے دو کہاں سے لائیں۔
3. ثالثوں کے تقرر کا مقصد یہی تھا کہ نزاعی مسئلہ ' جنگ کے بجائے امن کے ماحول میں طے ہوجائے اور امت خون خرابہ سے محفوظ ہوجائے، یہ بات واضح ہے کہ ثالثوں کے فیصلہ کے بعد  رفتہ رفتہ کشیدگی کم ہوتی گئی اور پھر  دوبارہ جنگ کی نوبت نہیں آئی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ثالثوں  کے اصل فیصلے (جس کو تاریخ  سے غائب کردیا گیا ) سے فریقین  مطمئن ہوگئے  تھے۔.
4. مزید ابو مخنف لوط  مردود کی ان وضعی داستانوں پر یقین کرنے سے صحابہ کرام جیسی مقدس جماعت کی جو گھناؤنی تصویر ابھرتی ہے وہ تو اپنی جگہ  اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ہوگاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (نعوذ باللہ) وہ بد قسمت انسان تھے  جن کا نہ کوئی سچا ہمدرد اور خیرخواہ تھا  اور نہ   انکی بات کو کوئی تسلیم کرتا تھا  اور  خود  آپ  اس قدر کمزور  قوت فیصلہ  کے مالک تھے  کہ ہر دفعہ  آپ  کو دوسروں کی رائے تسلیم کرنی پڑتی تھی۔آپ  ابو موسی کے بجائے مالک بن اشتر کو ثالث بنانا چاہتے تھے لیکن آپکی  مرضی نہ چلی ، آپ  قرآن کو نیزوں پر اٹھانے کے بعد بھی جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے،  آپ  نے اس کے لیے جوش آور تقریریں کیں اور دین کا واسطہ دیکر بھی جنگ کا حکم دیا اس کے علاوہ تحکیم کے فیصلہ کے   بعد عراق جاکر بھی دوبارہ شام پر چڑھائی کرنے کے لیے اپنے حواریوں کو حکم دیا   لیکن آپ  ایسے کمزور اور مجبور خلیفہ تھے کہ آپ   کے واسطے دینے پر بھی کسی نے آپکی بات نہ ما نی۔
نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات الباطلہ۔

ثالثوں  کی شخصیت
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ  :۔
 واقعہ تحکیم کی بنیاد پر  حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ پر  دو بہتان لگائے جاتے ہیں کہ اول یہ کہ  آپ نہایت مغفل، بیوقوف  اور سفینہ قسم کے آدمی تھے   ، اس لیے  عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آپ کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوگئے ، دوئم حضرت  علی رضی اللہ عنہ کو آپ پر پہلے سے ہی اعتماد نہیں تھا وہ  کسی اور کو ثالث بنانا چاہتے تھے۔
 یہ دونوں باتیں حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کے زندگی کے ریکارڈ کے خلاف ہیں حقیقت میں آپ  وہ شخص تھے جنکی زیرکی ودانائی، تدبر وسیاست، فہم فراست اور فقہ و دیانت داری پر نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ بعد کے سارے خلفا  ئے راشدین نے  بھرپور اعتماد کرتے ہوئے ان کو اہم  علمی ، سیاسی  عہدوں کی ذمہ داری دی تھی ، (انکی تفصیلات تاریخ  اور انکی زندگی پر لکھی گئی کسی کتاب میں پڑھی جاسکتی ہے)۔  پھر  حضرت ابو موسی سے منسوب کوئی ایسا جھوٹا واقعہ  بھی کسی تاریخی کتاب تک میں تحکیم سے پہلے کا نہیں ملتا جس سے انکی سفاہت  پر کچھ روشنی پڑتی ہو بلکہ اس کے برعکس ان کے عبقری صفت ہونے کے ایسے حالات ملتے ہیں  جن سے ان کے صحابہ میں امتیازی مقام کا پتا چلتا ہے۔ پھر اچانک ان  کی بے عقلی اور سفاہت کی باتیں اور ان پر یہ بے اعتمادی  کیسے سامنے آگئی ۔ ؟
سچائی یہ ہے کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ثالثوں کی دستاویز وں میں درج شرائط کی پوری پابندی کرتے ہوئے کتاب وسنت کی ہدایت میں جنگ صفین کے اسباب کا پتا لگایا اور فریقین کے موقف کی خوبیوں  و خامیوں کا جائزہ لیا اور پوری غیر جانبداری کے ساتھ غوروخوض کرنے ، نیز استصواب رائے کےبعد انہوں نے جو فیصلہ دیا   وہ فیصلہ نہ صرف فریقین بلکہ بلا اختلاف تمام مسلمانوں نے تسلیم کیا  ، فیصلہ کی تحریر کا متن تو سبائیوں کی ہاتھ کی صفائی  کی وجہ سے تاریخ میں نہ آسکا ، لیکن فیصلہ کی برکات کو سبائی چھپانے پر قدرت نہیں رکھتے تھے کہ فیصلہ کے بعد نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی  اللہ عنہ کے درمیان کوئی جنگ ہوئی اور نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے خون عثمان کے قصاص کا مطالبہ ہوا اور نہ ہی  حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے انہیں شام کی گورنری سے معزولی کے لیے اصرار  ہوا ۔ اس فتنہ کا پوری طرح سدباب ہوگیا  جس کے لیے ثالثوں کا تقرر ہوا تھا۔
اس شاندار کامیابی کے ہوتے بھلا حضرت ابو موسی کیوں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منہ چھپا کر مکہ جاتے ؟ بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ حضرت ابو موسی کی  یہ بے لوث و مخلصانہ خدمت  اور انکی شاندار کامیابی انکی نسلوں تک  کیلئے سرمایہ افتخار بنی رہی ، چنانچہ   مشہور شاعر ذی الرمہ نے ان کے پوتے  حضرت بلال بن برید بن ابی موسی رضی اللہ عنہ  کی شان میں قصیدہ کہتے ہوئے اس شاندار کارنامہ کا ذکر اس طرح کیا ہے۔
ابوک تلافی الدین و الناس بعد ما
تشاءوا و بیت الدین منقطع الکسر
ترجمہ ؛ آپ کے باپ تو وہ تھے جنہوں نے دین اور اہل دین کی اس وقت شیرازہ بندی کی جب دین کا قصر گرنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔
فشداصارالدین ایام اذرح
وردحروباقد لقحن الی عقرٖ
 انہوں نے اذرح والے دنوں میں دین کے خیمہ کی طنابیں کس دیں اور ان جنگوں کو روک دیا جو اسلام کی نسل منقطع کرنے کا سبب بن رہی تھیں۔

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی ، اسلام کے مایہ ناز جرنیل فاتح مصر اور 'دہاۃ عرب'  میں شمار ہونے والے حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ بھی سبائیوں کی دو طرفہ سازشوں سے تاریخ کی مظلوم شخصیتوں میں شامل ہوگئے۔   جب خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں مصر کی گورنری سے معزول کرکے انکی جگہ حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تو انکے اس فیصلہ پر عمرو رضی اللہ عنہ کی ناراضگی  کولے کر خلیفہ ثالث پر اقرباپروری کا الزام لگانے کے لیے  سبائیوں نے  ان ( حضرت عمرو) کے خوب خوب فضائل بیان کیے، جب یہی  عمر و مسلمانوں کے اختلاف سے پریشان ہو کر افہام تفہیم اور اصلاح کے لیے حضر ت معاویہ  کے پاس شام  گئے اور  انکے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان مصالحت  کے ذریعے  سبائی قاتلان عثمان  سے قصاص لینے کے لیے راہیں ہموار کرنے  کرنے لگئے تو یہی سبائی ان کے دشمن بن گئے ان پر   ناصرف  میدان جنگ میں قرآن نیزوں پر بلند کرانے ، ثالثی کے فیصلے میں عیاری دکھلانے  وغیرہ جیسے بڑے الزام لگا دیے بلکہ ان کواپنی روایتوں میں دوسروں کی زبان سے خوب گالیاں بھی دلوائیں۔ غرضیکہ وہی شخصیت جسے عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہمہ صفات موصوف قرار دیا گیا  اسے ہی  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلاف میں ہمہ عیوب قرار دیدیا گیا۔ یہ ہے سبائیت کا دوہرا معیار  جسے صحیح تاریخی اسلام قرار دیکر جلیل القدر اصحاب رسول کی کردار کشی کی جارہی ہے۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر ثالثی کے فیصلہ میں عیاری دکھلانے کے الزام کی حقیقت اوپر تحکیم اور حضرت موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں بیان کی جاچکی ہے  کہ اس فیصلہ کی دی گئی تفصیلات سب گھڑی ہوئی ہیں۔ آپ  پر سب سے بڑے اعتراض  کا سبب ابو مخنف کی وہ روایت ہے جس میں بتایا گیا ہے  کہ آپ کے مشورہ کے مطابق  ایک جنگی چال کے طور پر جنگ صفین میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  نے لشکر سے قرآن کو نیزوں پر بلند کروایا تاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں پھوٹ پڑ جائے ۔ ابو مخنف کی اس روایت کو لے کر رافضیوں اور نام نہاد سنیوں نے عمر و رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنے دل کی کالک سےکئی کئی صفحے کالے کیے ہیں۔حالانکہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ ابن کثیر میں اس روایت کے ساتھ  اسی واقعہ کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی بھی ایک باسند روایت نقل کی ہے، ان ناقدین اصحاب کواس سبائی کی روایت تو نظر آگئی اسی صفحہ پر یہ روایت نظر نہیں آئی جسے ایک صحابی روایت کررہے ہیں۔
" حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں ہم صفین میں تھے تو جب اہل شام کے ساتھ جنگ خوب زور پکڑ گئی ، شامی ایک ٹیلے پر چڑھ گئے ، پھر حضرت عمر بن العاص  رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ علی رضی اللہ عنہ کی طرف قرآن بھیج کر ان کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دیں، وہ ہرگز انکار نہ کریں  گے، تب قرآن لیکر ایک آدمی  معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے آیا پھر اس نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان  یہ اللہ کی کتاب فیصلہ کرنے والی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں تو اس کا ذیادہ حقدار ہوں ، ٹھیک ہے ہمارے اور تمہارے درمیان یہ کتاب اللہ ہے جو فیصلہ کرے "۔
 حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے جنگ صفین میں شرکت کرنے والے صحابی حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ  کی اس روایت سے پتا چلتا ہے کہ عمر و بن العاص رضی اللہ کے مشورے سے  نہ  تو قرآن کو نیزوں پر بلند  کرکے بے حرمتی کی گئی  ، نہ علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تفرقہ پھیلانے کے لیے اور  شکست سے بچنے کے لیے یہ   ایک جنگی چال تھی  ۔ حضرت عمر و رضی اللہ عنہ کو  اس بات کا احساس تھا کہ   سبائیوں اور قاتلان عثمان نے اپنی جان بچانے کے لیے یہ جنگ  ایک چال کے طور پر  مسلمانوں کے درمیان شروع کروا دی ہے جس سے دونوں طرف مسلمان شہید ہورہے ہیں ،  انہوں نے  مسلمانوں کو  اس بڑے جانی نقصان سے بچانے کے لیے  یہ مخلصانہ کوشش کی اور  ایک آدمی کو قرآن دے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر ان کو یہ پیش کش کی ہم اس فتنہ میں قرآن کو اپنا حکم  بنا لیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کرلیں، جسے  علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر منظور کرلیا کہ میں تو قرآن کے فیصلہ کی طرف دعوت دینے اور اس پر عمل کرنے  کا ذیادہ حقدار ہوں ، چنانچہ بعد میں اسی مشورہ  کے مطابق  واقعہ تحکیم ہوا اور اللہ نے مسلمانوں کو  حضرت عمرہ بن العاص رضی اللہ عنہ کے ذریعے ایک بڑے جانی نقصان اور فتنہ سے بچا لیا۔ 
غور کریں کہ اس واضح  اور ایک صحابی کی مستند روایت کی تاریخ ابن کثیر میں موجودگی کے باوجود  کس طرح ابو مخنف سبائی کی اس داستان  کا انتخاب کرکے گرما گرم سرخیوں کے ساتھ  اسلامی تاریخی کتابوں میں  پیش کیا گیا ہے۔ابو مخنف اپنی گھڑی ہوئی اس روایت میں آگے حضرت علی رضی  اللہ کی ایک تقریر بھی پیش کرتا ہے جو انہوں  حضرت عمر و بن العاص کی اس ' جنگی چال ' کو سمجھ کر  عراق والوں کے  سامنے کی ۔ پڑھیے اور سردھنیے
" یہ معاویہ، یہ عمرو بن العاص، یہ ابن ابی معیط اور حبیب بن مسلمہ اور یہ ابن ابی سرح اور ضحاک بن قیس  نہ اصحاب دین ہیں نہ اصحاب قرآن ، میں انہیں تم سے ذیادہ جانتا ہوں، بچپن سے ان کا میرا ساتھ رہا ہے، یہ بدترین بچے تھے اور بدترین مرد ہیں، انہوں نے قرآن بلند کرنے کی یہ حرکت محض دھوکہ دینے کے لیے کی ہے ، خود انہیں قرآن سے کچھ تعلق نہیں ہے"۔
کیا اس پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ داماد رسول حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے ان جلیل القدر اصحاب  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن ابی معیط رضی اللہ عنہ حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ اور حضرت ضحاک بن قیس  رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتنی بازاری زبان استعمال کی ہو  ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعتماد  یافتہ صحابیوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ دین وایمان سے خارج گردان سکتے تھے ؟ بدترین  بچے اور بدترین مرد کون ہیں   ؟ وہ  کاتب وحی حضرت معاویہ رضی اللہ جن کے لیے حضور نے ھادی ومہدی کی دعا کی ، وہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جنکو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نے غزوہ ذات السلاسل کا کمانڈر مقر ر فرمایا اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ  جیسے اجلہ صحابہ  کو انکی ماتحتی میں جہاد کرنے کے لیے بھیجا اور اپنی وفات تک انہیں عمان کا والی مقرر کیے رکھا  ؟    کیا یہ لوگ اپنے مقصد کے لیے قرآن پھاڑ کر ان کے اوراق نیزوں پر بلند کراسکتے ہیں، کیا ان  کے ساتھ پانچ سو  لوگ اور صحابہ قرآن کی اس طرح بے حرمتی کرسکتے ہیں اور پھر خود حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کے نیزوں پر بلند ہونے کے بعد بھی  ایسی جنگ جاری رکھنے کے لیے تقریر کرسکتے ہیں   جس کے نتیجے میں قرآن کا لوگوں کے پاؤں تلے روندھے جانے کا خدشہ ہو ؟        غور فرمائیں  کہ  یہ سبائی رافضی دروغ گو راوی  صحابہ و اہلبیت کے کردار کو مجروع کرنے کے لیے  کس حد تک گئے ہیں  کہ انہوں نے  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ بھی ایک ایسی تقریر لگادی جو بالکل ان کے شایان شان نہیں۔ اور  پھر حیرت ہے ان سنی مورخین پر جنہوں نے بغیر تحقیق کے ان کہانیوں کو  اسلامی تاریخ کے نام پر اپنی کتابوں میں ذکر کردیا ۔ مزید  حضرت علی رضی اللہ عنہ کیسے  حضرت معاویہ کے خلاف یہ زبان درازی کرسکتے ہیں   حالانکہ تاریخ بتاتی ہے  کہ وہ خودلوگوں کو اس سے روکتے تھے ۔ 
"جنگ صفین کے سلسلے میں جو لوگ حضرت معاویہ کے متعلق زبان درازی کرتے تھے، تو آپ نے انہیں اس سے روک دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے  کہ امارت معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا نہ سمجھو، کیونکہ وہ جس وقت نہ ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے اڑتے ہوئے دیکھو گے ۔
( تاریخ ابن کثیر جلد8 صفحہ 131)
حقیقت میں جنگ صفین کو ختم کروا کر ثالثی کے ذریعے مستقل جنگ بندی کروادینا ہی حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کا وہ کارنامہ تھا جس نے سبائیوں کی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے کی جانے والی ساری محنتوں اور تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا ، اس لیے انہوں نے انہی واقعات کو لے کر انکی کردار کشی کی مہم چلائی ۔افسوس یہ ہے کہ ابو مخنف کے بیانات کو تاریخ طبری کے صفحات میں دیکھ کر بلا تحقیق اسے نقل کرنے والوں نے سبائیوں کے ہاتھ اتنے مضبوط کردیئے ہیں کہ آج یہ روایتیں  ہماری ایف اے ، بی اے، ایم اے کی تاریخ اسلام کی درسی کتابوں میں  بھی بغیر کسی تحقیق و تبصرہ کے اسی طر ح نقل ہوتی آرہی ہیں اور امت کا ایک اچھا خاصہ طبقہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعمد صحابہ حضرت معاویہ، حضرت عمرو بن العاص، حضرت ابو موسی اشعری  رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے سوء ظنی کا شکار ہے۔
اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ یہ ساری داستانیں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ کے کردار کو مجروح کرنے کے لیے وضع کی گئیں ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ہماری اس تفصیل کا مطلب یہ نہیں کہ صحابہ میں اختلاف ہو ا ہی نہیں یا  ان سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی ، ہم اس بات کے  قائل ہیں کہ  صحابہ  معصوم عن الخطا نہیں ہیں ، بعض احادیث   میں بھی انکے اختلاف اور غلطیوں کا ذکر ہے ، ہمارا اختلاف  ان تاریخی روایات پر ہے جن میں  تمام صحابہ  پر کرپشن، اقربا پروری، منافقت،  سیاسی جوڑ توڑ اور کھینچا تانی کے الزامات ہیں۔ قرآن و حدیث تو  تمام صحابہ کے   عادل ہونے پر شاہد ہیں ہی ، تاریخ سے  بھی سیکڑوں مثالیں دیں جاسکتیں ہیں جن سے  یہ واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کا اختلاف شرعیت کے مطابق ہوتا تھا اور ان کا دامن ان گالیوں اور غیر اخلاقی  زبان کے استعمال سے پاک  ہوتا تھاجو  انکے اختلاف کے واقعات میں  سبائیوں راویوں کی  ان روایتوں میں ان کے ذمہ تھونپی گئی ہیں۔ ہمارا یہ موقف ہے کہ   وہ   اختلاف کے اصولوں جو انہیں دین نے سکھائے تھے' کے پوری طرح پابند تھے انکے اختلاف میں بھی امت کے لیے نمونہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ  ہم دیکھتے ہیں  کہ حضرت علی اور معاویہ کے درمیان قاتلان عثمان کے مسئلہ پر اختلاف کے باوجود ادب و احترام کا تعلق تھا ،چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ دینی مسئلے پر فتوی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہی لیتے تھے ۔ مزید شیعہ کی اپنی کتابیں گواہ ہیں کہ حضرت علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہ ، حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ  حضرت معاویہ کا احترام کرتے اور انکے اختلاف کو دینی اختلاف سمجھتے تھے۔ مضمون کی طوالت کے ڈر سے ہم صرف علی رضی  اللہ عنہ کا حوالہ دیتے ہیں۔ شیعہ کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے تمام شہریوں کی طرف گشتی مراسلہ جاری کیا کہ صفین میں ہمارے اور اہل شام کے درمیان جو جنگ ہوئی اس سے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو، ہمارا رب، نبی  اوردعوت ایک ہے ۔ ہم شامیوں  کے مقابلے میں اللہ و رسول  پر ایمان و یقین میں ذیادہ نہیں اور نہ وہ ہم سے ذیادہ ہیں ۔ ہمارا اختلاف صرف قتل عثمان میں ہے ۔( نہج البلاغہ جلد2، صفحہ 114)
اللھم ثبت قلبی علی دینک
مکمل تحریر >>

بدھ، 5 ستمبر، 2012

تاریخ اسلام میں سبائی روایات کی ملاوٹ کیسے

اسلامی تاریخ  پر لکھی گئی کوئی کتاب  جب کسی مسلمان قاری کے مطالعہ میں آتی ہے تو وہ  قرون اولی اور صحابہ کی زندگی  کے واقعات  کو اسی حسن ظن اور عقیدت کے ساتھ پڑھنا شروع کرتا ہے جو قرآن و حدیث کے ذریعے اس کے ذہن میں  بیٹھی ہوتی ہے، لیکن   آہستہ آہستہ جب تاریخ اپنا رنگ دکھانا شروع کرتی ہے  اور وہ صحابہ کے کردار کو مجروح کرنے والی روایات پڑھتا ہے تو پریشان ہو جاتا کہ   یہ کیسے خیرالقرون کا تذکرہ ہے؟ قرآن نے تو ہمیں بتاتا ہے کہ تم نے   ایمان لانا ہے  تو اس طرح ایمان لاؤ جس طرح یہ صحابہ لائے  تب تمہار ا ایمان قابل قبول ہوگا، اور تاریخ  انہیں بے ایمان ثابت کررہی ہے ۔ ۔ قرآن وحدیث انکی صداقت، شجاعت،  اخلاص، سچاہی،  ہدایت یافتہ ہونے کے سرٹیفکیٹ دیتے نظر  آتے ہیں  (اولئک ھم  الراشدون، مفلحون،  صدیقون  وغیرہ)اور تاریخ ( نعوذ بااللہ)  انہیں چور ، ڈاکو ، مکار،  منافق   اور بد اخلاق ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔  یہ باتیں  اسکے لیے بہت عجیب اوراسکی توقعات کے بالکل برعکس ہوتی ہیں۔ شاید  اس میں قصور  کتاب کے فرنٹ پیج  پرتاریخ کے ساتھ  استعمال کیے گئے لفظ  'اسلام' کا بھی  ہوتا ہے جو قاری کو شروع میں ہی  اعتماد دلا  دیتا ہے اور وہ اسے ایک اسلامی کتاب کے جذبے سے پڑھنا شروع کرتا ہے لیکن پھر سبائی  دروغ گواور کہانی نگاروں  کی تدسیس، واقعہ نگاری اور جذبات نگاری اسے کنفیوز کردیتی  ہے۔ 

تاریخ اسلام کا  گہرائی میں مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ   عبداللہ بن سبا یہودی اور اس کے بد باطن حمایتیوں نےمذہب  عیسائیت کی طرح اسلام کو  بھی ریزہ ریزہ  کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی عقیدت  کے نام پر اتنی خفیہ اور جذباتی تحریک چلائی تھی  کہ اگر اسلام نے قیامت تک قائم نہ رہنا ہوتا اور اس کے ساتھ اللہ کی خاص مدد نہ ہوتی تو یہ بھی اسی اپنے شروع دور میں ختم ہوجاتا۔ ان لوگوں نے خفیہ رہ کر پراپیگنڈہ مہم اس طرز پر چلائی تھی کہ محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے شخص بھی کچھ ہی دیر کے لیے سہی بہرحال ان کے دام میں اس طرح آگئے کہ خلیفۃ المسلمین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قتل کے درپے ہوگئے،  یہ الگ بات ہے کہ توفیق خداوندی انکے معاون رہی اور جلد ہی ان کو اپنے اس شرمناک فعل پر ندامت ہوگئی۔ انہی   افواؤں ،  پراپیگنڈہ  اور مختلف چالوں کے ذریعے مسلمانوں کو بعد  میں   آپس میں لڑوا بھی دیا گیا۔

تاریخ اسلام کی کتابوں میں سبائیوں کی گھڑی ہوئی ان  داستانوں کو کیسے جگہ ملی  ؟
اس اختلافی دور کے واقعات جب بعد میں قلم بندہوئے تو  چونکہ تاریخ اسلامی  میں حدیث کی طرح سند  اور متن کی تحقیق  کا کوئی سلسلہ نا تھا یا جرح و تعدیل کے  کوئی اصول و قوانین لاگو نہ ہوتے  تھے اس لیے  ہر دور اور ہر فرقہ کے لوگوں نے اپنی سمجھ بوجھ اور پسند ناپسند کے معیاروں پر تاریخی  واقعات کو قلم بند کیا جن میں انکی اپنی مرضی و منشا اور حسب دلخواہ تحریف و تبدل کو عمل دخل حاصل تھا،   خصوصا دشمنان اصحاب رسول سبائیوں رافضیوں کو تاریخ میں  انکے بارے میں اپنی  خبث باطنی شو کرنے کابھرپور موقع ملا ، انہوں نے ان ادوار کے بارے  میں اپنی طرف سے کہانیاں ، روایتیں گھڑی کرکے  اور اصل روایتوں میں اپنی پسند کے مطابق  ملاوٹ کرکے اسکی اشاعت کی  ،  انہوں نے   بڑی صفائی کے ساتھ یا تو اصل تاریخی  روایات کو  ہی غائب کردیا   یاان میں  اپنی  مرضی کی باتوں اور خیالات کو اس طرح مکس کیا کہ وہ اصل واقعہ ہی نظر آنے لگیں، پھر جب تاریخ کی بڑی کتابیں مرتب ہوئیں تو مورخین کو  متعلقہ موضوع کے متعلق کوئی روایت کہیں سے ملی انہوں نے مکمل تحقیق کیے بغیر ان کو  اپنی کتابوں میں ذکر کردیا (کیونکہ تاریخ مرتب کرنے میں حدیث کی طرح  راوی اور روایت کی چھان بین  اور تحقیق کی پابندی لازمی نہیں تھی)۔ صحابہ  کےا ختلاف کے متعلق اس قسم کی  روایتیں محمد بن عمر الواقدی ،محمد بن اسحاق،    ابو مخنف لوط بن یحیی، ، محمد بن سائب الکلبی اور اسکے بیٹا ہشام کی وساطت سے تاریخ اسلام کے تمام بڑے مورخین اور مصنفین تک  پہنچی ہیں، پہلے دو کی کتابوں میں کچھ ضعیف روایات موجود ہیں اور باقی تین پرلے درجے کی جھوٹی روایتیں قبول کرنے والے تھے، اسماء و رجال کی  کتابوں میں بھی   ان پر سخت بے اعتمادی کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ لوگ خود روایتیں گھڑتے ہیں ۔ ان راویوں کی تمام روایتوں کو جنکو سب سے پہلے طبری نے اپنی تاریخ میں جگہ دی اور پھر طبری سے نقل در نقل ہو کر تقریبا تما م متداول تاریخی کتابوں میں درج ہوگئیں۔  مطلب صحابہ کے اختلافات کے واقعات کے متعلق تاریخ کی بڑی کتابوں میں موجود ذیادہ تر روایتوں کا ماخذ تاریخ طبری ہے   اور طبری نے  ان واقعات کے متعلق تفصیل خود  ان   پانچ   راویوں  کی کتابوں سے کاپی کی  ہے ۔ آخری تین راویوں نے اپنی کتابوں میں ان واقعات کے سلسلے میں صحابہ کے خلاف مزیدغیر اخلاقی کہانیاں بھی  گھڑ ی ہوئیں  تھیں، خود  طبری  بھی اپنی کتاب میں کئی جگہ لکھتے ہیں  کہ  ابومخنف لوط اور محمد بن عمر  کی کتاب میں اس واقعہ  کے متعلق اور بھی باتیں اور تفصیل  موجود ہیں جو ذکر کے قابل نہیں   ہے۔

ہم  یہ نہیں کہتے  کہ ساری تاریخ اسلام ہی کرپٹ  اور گمراہ کن ہے بلکہ  یہ کہ تاریخ  اسلام میں صحابہ کے واقعات میں جگہ جگہ ذہن کو پراگندہ کرنے والی سبائی  روایات کی ملاوٹ موجودہے جن کو پڑھ کر عام لوگ صحابہ کے بارے میں وساوس کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ان کو پڑھ کربعد کے دور کے کئی سنی محقق بھی سبائیت کی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے حضرت عثمان ،  علی ، معاویہ،  ابوموسی اشعری  اور عمروبن العاص جیسے جلیل قدر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قد ناپنے لگ گئے  ہیں  انہیں اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ محض جھوٹے  سبائی تاریخی حوالوں کی بنیاد پر  وہ کس پر تنقید   کررہے ہیں اور یہ تنقید کتنی خطرناک ہے، اگرصحابہ  کے بارے میں صرف  تاریخ کی بات کو مان لیا جائے توپھر   خمینی کی بات کو بھی ماننا پڑے گا  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن رسالت میں ناکام رہے اانہوں نے تیئس سالہ محنت میں جو لوگوں کی جماعت تیار کی وہ کرپٹ،  منافق، عیار تھے، پھر تو اسلام کے اصلی ماخذ قرآن و حدیث  بھی مشکوک ٹھہریں گے  کیونکہ وہ بھی انہی صحابہ کی وساطت سے ہم تک پہنچے ہیں۔ حقیقت میں سبائیت  ایک ایسا ' معصوم زہر' ہے جو عقیدت کے پردوں سے چھن کر جب ذہن  و دماغ میں سرایت کرتا ہے تو فکرونظر کی تمام صلاحیتوں کو مضمحل بلکہ مفلوج کردیتا ہے اور پھر گل کاریوں کے وہ وہ نمونے سامنے آتے ہیں کہ  حق کے ایک متلاشی کو قدم قدم پر بکھرے  ہوئے کانٹوں سے اپنا دامن  بچانا مشکل ہوجاتا ہے....۔اس قسم کی روایتوں سے پرانی اور نئی ساری تاریخی کتابیں بھری پڑی ہیں،    مثال کے طور پر تاریخ کے موضوع پر سب سے مشہور، مستند اور عام فہم کتاب  اکبر شاہ خان نجیب آبادی کی تاریخ اسلام ہے   ۔وہ بھی اپنی اس کتاب میں     چند ایسی روایتوں کو  بغیر تحقیق  کے نقل  کرگئے ہیں  گو کہ انہوں نے  بعد میں مشاجرات صحابہ پر  جاندار تبصرہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ تاریخ  اسلامی میں سبائی روایات کو جگہ ملنے کی ایک اور وجہ تدسیس بھی ہوسکتی ہے جس پر ایک تفصیلی مضمون ہم پہلے لکھ چکے ہیں ،   جب ان لوگوں نے ہمارے بزرگان دین کی بڑی اسلامی کتابوں میں انکی زندگی میں  اپنے نظریات کی  ملاوٹ کرنے کی جرات کی ہے  تو تاریخ کی کتابوں میں تحریف  و تدسیس کرنا ان کے لیے ذیادہ مشکل کام نہیں تھا۔

سبائی تاریخی روایتوں کی پہچان اور معیار ردوقبول 
  1. جیسا کہ اوپر ذکر کیا کہ   ایسی تمام روایتیں جن سے صحابہ کا کردار مجروح ہورہا ہو وہ ذیادہ تر کذاب راویوں کی روایت کردہ ہوتی ہیں اور  یہ تمام راوی خود روایتیں وضع کرنے اور گھڑی ہوئی روایتوں کو قبول کرنے کے لیے مشہور ہیں اور ابو مخنف لوط بن یحیی کی  تین روایتوں کے تجزیے میں بھی یہ بات بھی   ثابت   ہوچکی کہ اس میں  صحابہ  کے ذمے لگائے جانے والے بہتان اور بد اخلاقیاں، زبان درازیاں اس کی اپنی وضع کردہ ہیں انکی کوئی حقیقت نہیں ، اس لیے ان راویوں کی  کسی روایت پر یقین نہیں کرنا چاہیے
  2.  تاریخ کی   بڑی کتابوں کے اردو تراجم میں عام طور پر راوی کا تذکرہ نہیں کیا گیا   اس لیے ان راویوں  کی روایتوں کو مضمون سے بھی پہچانا جا سکتا ہے۔ ہر تاریخی روایت جس میں صحابہ کی طرف کرپشن، منافقت،  زبان درازی، مکاری  منسوب کی گئی  ہو، وہ ذیادہ تر انہی سبائیوں کی گھڑی ہوئی ہیں  ۔ اس لیے ایسی روایت کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے جس سے صحابہ کرام  کا کردار مجروح ہو رہا ہو کیونکہ یہ لوگ خود مجروح  اور کرپٹ ہیں ۔  
  3.  راوی اور روایت کی  پہچان کےعلاوہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے بیٹے  عطاء المحسن بخاری صاحب   نے روایات کے معیار ردو قبول کا عوام کے لیے   ایک اور بالکل آسان طریقہ لکھا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:۔
" تاریخ کو قبول کرنے کے لیے مجھے قرآن  وحدیث کی طرف رجوع کرنا پڑے گا، اسکی جو روایتیں قرآن وحدیث  کی تعلیم کے مطابق ہونگی میں انہیں بڑی محبت سے قبول کروں گا  اور جو روایتیں، حکایتیں، رذالتیں، قباحتیں قرآن وحدیث سے ٹکرائیں گی میں انہیں نہ صرف رد کروں گا بلکہ اپنے پاؤں میں مسلوں گا ، کیونکہ وہ تاریخ نہیں جھوٹ ہے ، تہمت ہے ، بہتان اور دشنام ہے اور انسانیت سے گری ہوئی باتیں ہیں، تاریخ کے حوالے دے کر صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم پر تبراہ کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بھی محفوظ نہیں ہے  کیا اس سے بہتر نہیں کہ تاریخ کی اندھی (رافضی) عینک سے اصحاب مصطفی کی عیب چینیوں کی بجائے قرآن وحدیث سے انکی فضیلتوں اور قدرومنزلت پر نگاہ کی جائے ۔ (اگر یہ لوگ قرآن وحدیث کی اصحاب کے بارے میں دی گئی شہادتوں کو پس پشت ڈال کر  محض تاریخی روایتوں کے ذریعے ان  پر نکتہ چینی جاری رکھتے ہیں  تو ) ایسے نام نہاد 'تاریخ دان' ہمارے نزدیک 'تھوک دان' کے برابر بھی اہمیت نہیں رکھتے"۔
اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔

مکمل تحریر >>