اتوار، 19 فروری، 2012

مُلا ہی ہر برائی اور فتنہ کا ذمہ دار کیوں ؟

اظہار الحق صاحب ہمارے بلاگستان کے ایک قابل اور عوام کا درد رکھنے والے قلم کار ہیں، انکی باتیں  چونکہ دل سے نکلتیں ہیں اس لیے جو جو پڑھتا ہے اس کے دل پر اثر کرتیں جاتیں ہیں، ، ہر ٹاپک پر بڑی سنجیدگی اور وقار سے بات کرتے ہیں ۔   چند دن پہلے انہوں نے  ایک کالم لکھا " اسے مسجد کے دروازے پر جوتے مارے جائینگے" کالم کیا ہے عوام کا درد رکھنے والے ایک حساس آدمی کی پکار ہے، اس کالم میں انہوں نے   ان (عوامی بیماریوں منافقت، جھوٹ، کرپشن  )  کا تذکرہ کیا جنکی وجہ سے  ہمارا معاشرہ اور ملک  تنزل کا شکار ہے ۔  ہمارے معاشرے میں واعظین اور ناصح چونکہ علما ہیں ا س لیے انہوں نے علما سے بھی شکوہ کیا  اور  انکے اس طبقہ  میں شامل کالی بھیڑوں کا ذکر بھی کیا۔  کالم ہر لحاظ سے مکمل تھا لیکن ایک صاحب جنہیں علماء دشمنی کا فوبیا ہے    انہیں  شاک گزار کہ اظہار صاحب نے  علما کے متعلق اتنی کم بات کیوں کی۔اس پر انہوں نے اپنے طور پر " اظہار الحق سے اظہار یکجہتی "کے نام پر علما و مدارس کے خلاف پورا ایک  آرٹیکل لکھ مارا اور  جی  بھر  کرمدارس اور علمائے کرام پر طعن وتشنیع کے نشتر برسائے  اور  گالیاں دیں ۔  ایسی معاشرتی برائیاں جن کے علما ذمہ دار نہیں انہیں  بھی  علما کے  سر تھونپ کر  اپنے قلب و جگر کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔ 
اظہار صاحب میرے  بزرگ ہیں اور میرے اساتذہ کی جگہ ہیں، میں یہ تو نہیں لکھ سکتا کہ انہوں نے غلط لکھا ہے، نہ ان کے کوٹ کیے گئے ایک   مولوی کی کرپشن کے واقعہ کا انکار کرتا ہوں  ۔  میں تو ایک ادنی  ، نا  تجربہ کار طالب  علم ہوں جسے  اردو بھی صحیح نہیں لکھنی آتی ،  میں بس اس مسئلہ کو ایک الگ  زاویہ سے دیکھتا ہوں  اس کے متعلق سوال و جواب کی شکل میں  کچھ بات کروں گا.

کیا مسجد کا  مولوی حقیقی معنوں میں عالم بھی ہے ؟
میرے خیال میں اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں اور مسئلے کی تحت تک پہنچنا چاہتے ہیں  تو  سب سے پہلے ہمیں  یہ تحقیق کرنا  ہوگی  کہ جن لوگوں  کو ہم مولوی کہہ رہے ہیں کیا وہ حقیقت میں   عالم بھی   ہیں   ۔؟ 
 حدیث میں آتا  ہے  العلماء و رثۃ الانبیاء ۔ علما انبیا  کے وارث ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ جو انبیا کے حقیقی وارث ہیں وہ کرپٹ نہیں ہوسکتےاورجہاں کرپشن ہوئی  وہاں حقیقت میں  علم کو منبر تک پہنچنے ہی نہیں دیا گیا ۔  منبر رسول جب  نااہل لوگوں کے حوالے کردیا  گیا، تو پھر  وہ ان مقاصد کے لیے استعمال ہوا جن کے لیے نہیں ہونا چاہیے تھا ، لازم ہے اس کے ذمہ دار  علما اور دینی مدارس قطعا نہیں.

اگر مسجد کا ملا  ٹھیک نہیں تو اسکا ذمہ دار کون ہے ؟
 مساجد میں محض چندہ کی باتوں، کافر کافر کے  کھیل، فرقہ پرستی کی باتوں، کرپشن،   غیر ضروری مسائل پر تقریروں کے  ذمہ دار  اگر علما  و مدارس بھی نہیں تو پھر کون  ذمہ داراہے؟ 
  اس  کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ  ان مولویوں کا انتخاب  کون کرتا ہے  ؟ کون یہ طے  کرتا ہے کہ اس منبر پر کون بیٹھے گا ؟
 ہم میں سے ہر بندہ جانتا ہے کہ یہ انتخاب  اس علاقے کی مسجد کے وہ ریٹائرڈ سرکاری بابو  کرتے ہیں ، جنکو سرکاری دفتروں سےیہ کہہ کر فارغ کردیا جاتا ہے کہ آپ  اب ایکسپائر ہوگئے اور مزید کام کے نہیں رہے ،وہ  پھر مسجد کی کمیٹیوں کی صدارت پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ہمارے ایک دوست کے  مطابق انکے علاقہ کی ایک  مسجد  میں  امام وخطیب کے لیے   تین مہینے تک  اماموں کے انٹرویو ہوتے رہے ۔ پانچ چھے ریٹائرڈ حضرات بیٹھ کر ایک امام کو بلاتے  دوسرے  کو بلاتے،تین مہینہ بعد  آخر میں  امامت و خطابت کے لیے ایک بائیس  سال کے لڑکے کا انتخاب کیا گیا   اور  وجہ انتخاب یہ بتائی  گئی کہ اس کی آواز بہت اچھی ہے ۔ اب  ہمیں  اس نوعمر سے کیا توقع رکھنی چاہیے کہ جب وہ  ممبر  پر بیٹھے گا تو کیا  گفتگو کرے گا ؟
 ہمارے لوگوں کا   معیار انتخاب  ہی یہی ہے کہ انہیں  صرف   اچھی آواز سننی ہے، انہیں وہ  مولوی چاہیے جو  نعتیں اچھی پڑھ سکتا ہوں،   تھوڑے سر لگا سکتا ہو ۔ ۔ ۔  جب یہ  اچھے سر لگانے والے گویے    مولوی بن کر  منبرپر بیٹھیں گے تو  پھر منبر  ومحراب کا تقدس اسی طرح ہی پامال ہوگا جس طرح ہمارے  گلی  محلے کی مسجد میں ہوتا نظر آتا ہے۔
طریقہ کار یہ ہونا چاہیے  کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ جو لوگ انتخاب کررہے ہیں    ا ن کے اندر انتخاب کرنے کی  اہلیت  بھی ہے یا نہیں۔ ؟  جب ایک پرائمری پاس آدمی یونیورسٹیوں کے پروفیسر منتخب کرنا شروع کردے گا تو اس یونیورسٹی کی  تعلیم کا کیا  حال ہوگا ؟  جب  ایک کمپوڈر ڈاکٹروں کا انتخاب کرنا شروع کردے گا  کہ کس آپریشن کے لیے کونسا ڈاکٹر مناسب ہے  اس ہسپتال کے مریض کا حال کیا ہوگا ؟  جب  کچہریوں کے اندر بیٹھے ہوئے منشی سپریم کورٹ کے ججوں کا انتخاب کرنا شروع کردیں گے تو   مقدمات کا حال کیا ہوگا ؟
جہاں پر انتخاب ٹھیک ہوا ، منبر اہل افراد کو سپرد کیا گیا ان کی برکت سے  بہتری بھی آئی  ہے  ،  وہاں  کے نمازی سلجھے ہوے اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، معاشرے میں ہمیں جو تھوڑی بہت دین کی جھلک نظر آتی ہے یہ انہی کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ اس کےلیے ہمیں اپنی  قوم  میں شعور  پیدا کرنا ہوگا کہ وہ اس فیلڈ کے ماہر حضرات کی نگرانی میں  اپنے منبر و محراب کیلئے   واعظ امام  کا انتخاب کریں۔

حقیقی عالم کی موجودگی اور وعظ و نصیحت کے باوجود  معاشرے میں برائی کیوں ہے  ؟
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاشرے میں ہمیں جو برائیاں نظر آرہی  ہیں  ان کے ذمہ دار علما اور واعظین ہیں  ۔ دلیل میں مسلمانو ں کے پہلے دور کی مثالیں دیتے ہیں   کہ اس دور میں مساجد  سے حکومتیں چلائی جاتیں تھیں، عوام کے فیصلے مساجد میں ہوتے تھے  ، اظہار صاحب نے  بھی اپنی تحریر کے  آخر میں کچھ تجاویز دیں ۔
میں اس متعلق یہ کہو ں گا کہ  علما کا  منصب صرف تلقین کا ہے وہ صرف  نصیحت  کرسکتے ہیں ، نصیحت پر  عمل درآمد کرانے  کے ادارے دوسرے ہیں۔    اسلامی نظام نہ ہونے کی وجہ سے آج ایک اچھے سے اچھے عالم  کی اتھارٹی  بھی صرف اتنی ہے کہ وہ صرف اپنی مسجد میں آنے والے چند بندوں کے سامنے  وعظ کرسکتا ہے ۔  بعض مساجد میں تو  اسے کھل کر بات کرنے پر مساجد سے ہی نکال دیا جاتا ہے۔گستاخی معاف جب اسکی اتھارٹی کا یہ حال ہے تو   پھر ہم  کیسے توقع رکھتے  ہیں کہ  وہ  ٹیکس چوری کرنے والوں کو ذلیل کرے گا،  تجاوزات  قائم کرنے والوں کو جوتے مارے گا۔
 رہی یہ بات  کہ اسے عوام سے مخاطب ہونے کا سب سے ذیادہ موقع ملتا ہے  پھر اس کی وعظ ونصیحت کے باوجود معاشرے میں برائی کیوں ہے ؟  اس سوال کے جواب میں میں بھی ایک سوال پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں  کہ  اقبال  ہمارا قومی شاعر  ہیں  ، انکی شاعری ہمارے سکولوں کالجوں میں ایک لازمی مضمون  اردو میں  باقاعدہ پڑھائی جاتی ہے، اقبال نے خودی کی تعلیم سب سے ذیادہ دی ، آپ مجھے بتائیں  ہمارے ملک میں خودی کتنے لوگوں میں ہے۔؟  اگر پیغام کے اتنے  ویلڈ طریقے سے پہنچنے کے باوجود  خودی لوگوں میں موجود نہیں ہے تو  اس میں اقبال کا کیا قصور ہے ؟   قائد اعظم کے اقوال ہمارے سامنے ہیں، آئین  کی دفعات ہمارے سامنے ہیں ،  ہمارے سیاست دانوں اور قوم نے ان پر کتنا عمل کیا ؟ 
   نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سوسال تبلیغ کی صرف اسی لوگ ایمان لے کر آئے ، کیوں  ؟ کیا انہوں نے وعظ و نصیحت میں کوئی کمی کی ؟کیا وہ فرقہ واریت کی تعلیم دیتے تھے ؟   نبی سے ذیادہ اچھے طریقہ سے وعظ کون کرسکتا ہے ؟کیا  وہ باقی لوگوں کی گمراہی کے ذمہ دار ہیں؟
میں اپنی بات پھر دہراؤں گا کہ  جو صحیح معنوں  میں عالم اور مولوی   ہیں انہوں نے بات پہنچانے میں  کوئی کوتاہی نہیں کی،  جو وراثت نبوت  ان تک نسل درنسل چلتی ہوئی پہنچی تھی اس وراثت کا پورا خیال رکھتے ہوئے کمال ایمانداری کے ساتھ اسے مزید آسان کرکے  عوام تک پہنچایا ہے۔  پچھلے سو سالوں میں  قرآن وحدیث کے مسائل  پر جو تحقیق ہوئی ہے اسکی مثال پچھلی تین صدیوں میں نہیں ملتی ۔

فکر پاکستان صاحب  کی تحریر پر تبصرہ کرنے کا دل تو نہیں کررہا کیوں کہ وہ محض ضد اور تعصب میں علما کے خلاف لکھتے  ہیں ۔ ملاحظہ کریں
یہ (مولوی)بیچارے کبھی یہ تک نہیں بتانے کے صفائی نصف ایمان ہے، کیوں کے وہ خود جانتے ہیں کے وہ خود گندگی کے ڈھیر پر چوری کی جگہ پر قبضے کی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ خود مسجد کے بیت الخلا میں ناک پر ہاتھہ رکھے بغیر نہیں جاسکتے تو وہ کس منہ سے لوگوں کے بتائیں گے کے صفائی نصف ایمان ہےِ؟۔۔۔ ۔ ۔ تمام لوگ اپنے اپنے علاقے کی مساجد کا جائزہ لیں انہیں خود اندازہ ہوجائے گا کے پاکستان میں ستر فیصد مساجد چوری اور قبضے کی زمین پر بنی ہوئی ہیں، اب چوری کی مسجد میں نماز ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اسکا فیصلہ قاری خود کرلیں۔۔۔۔۔۔ 
حد ہوگئی  مبالغہ آرائی اور نفرت  کی ۔ انکی  بددیانتی اور جھوٹ کا یہ عالم ہے اور اظہار یکجہتی کس کے ساتھ کرنے  نکلے ہیں ۔ پنجابی میں کہتے ہیں ذات دی کرکلی تے شہتیراں نال جپھے۔جناب آپ کا اظہار الحق صاحب کے ساتھ کسی قسم کا  کوئی جوڑ نہیں  ہے ۔ آپ کا  مسئلہ ہی کچھ اور ہے۔  انکے دل میں درد ہے اور   آپ کے دل میں علما اور مدارس کے خلاف سخت نفرت اور غصہ ہے اس لیے جب بھی  آپ کو موقع ملتا ہے آپ  علما اور مدارس کے بارے میں اپنے اندر  جمع کیا  گند اور زہر باہر نکال پھینکتے ہیں ۔ اظہار صاحب  نے تو لکھا ہے 
" اچھے بُرے عناصر ہر شعبے میں ہیں۔ مدارس چلانے والے بھی اسی معاشرے سے ہیں۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور خراب بھی‘ جو بات یہاں سمجھ میں آتی ہے یہ ہے کہ ناظم مدرسہ‘ سابق کونسلر اور پولیس.... کوئی بھی جھوٹ اور فریب دہی کو برا نہیں سمجھ رہا۔ "
انہوں نے اس واقعہ میں تینوں کو قصور وار ٹھہرایا  اور آپ  صرف  علما کے پیچھے ڈنڈا لے کر دوڑ پڑے  اور  ایسی برائیوں کا ذمہ دار بھی علما کو ٹھہرا دیا جنکے وہ ذمہ دار نہیں  ۔ جناب مجھے بتائیں۔کیا مسجد کے باتھ روموں میں گند مولوی مچاتا ہے؟ مساجد سے جوتیاں اور  باتھ روموں سے ٹوٹیاں علما چوری کرتے ہیں ؟ کس بندے سے اسکی زمین زبردستی چھین کر یا چوری کرکے ستر فیصد مساجد بنائی گئی ہیں ؟

ہم مانتے ہیں کہ  عوام اور انتظامیہ کی اجتماعی غفلت سے پیدا ہونے والی اس فرقہ پرستی کی نحوست نے  کچھ شہروں میں  یہ پھول بھی کھلائے ہیں  کہ کچھ جگہ مساجد پر قبضہ بھی کیا گیا  لیکن جس کو آپ غیر قانونی  اور چوری کی زمین کہہ رہے ہیں وہ  جگہ   شملات دہ تھی  ۔  وہ بھی  اکا دکا کیس ہیں  ستر فیصد مساجد نہیں ۔۔ 
جہاں  مساجد پر قبضے ہوئے ہیں وہ بھی عوام کی سپورٹ سے ہوتے ہیں۔ جہاں تک بات شملات دہ رقبہ پر مسجد کی تعمیر کی ہے  اس کے لیے عرض ہے کہ   ایک مسلم ملک میں عوام  کی جہاں  مسلمانوں کی جسمانی  ضرورت کے لیے  سکول کالج ،سرائے، روڈ ، ہسپتال ، پارک بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے وہیں انکی روحانی اور دینی ضرورت کے لیے  مسجد  و مدرسہ بنا نا بھی حکومت کے ہی ذمہ ہوتا ہے،  عوام کو دینی معاملات میں سہولت دینے کے متعلق آئین  پاکستان میں بھی لکھا ہے ۔ اب جہاں حکومت نے  عوام کی دینی ضرورت پوری کرنے میں غفلت کی  وہاں چند دین دار مسلمانوں نے عوام کی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے  اپنے طور پر شملات دے جگہوں پرمساجد بنادیں ۔  آپ کو ان  جگہوں پر بننے والی مساجد و مدارس پر اعتراض ہے سکولوں ، کالجوں  اور سراؤں پر اعتراض کیوں نہیں ؟
 ہم کیا سمجھیں آپ کو اصل میں تکلیف  کس سے ہے ؟

آگے  فرماتے ہیں
پہلی بات تو یہ ہے کے ان بیچاروں کے خود کچھ نہیں پتہ ہوتا، جو کچھ انہیں درس نظامی میں پڑھایا جاتا ہے اس کے باہر انہیں ایک لفظ کی بھی معلومات نہیں ہوتیں۔ ۔ کبھی کسی بڑے سے بڑے مولوی مفتی عالم کے منہ سے نہیں سنا کے قرآن میں سینکڑوں آیات مبارکہ کا تعلق تسخیر کائینات سے ہے، غور و فکر کرنے سے ہے، اللہ کی اس کائینات کے اسرار و رموز جاننے سے ہے، زمین کے اوپر زمین کے اندر سمندر کی تہہ میں چھپی اللہ کی نشانیوں سے ہے ان سب میں چھپے قدرت کے خزانوں سے ہے،۔۔یہ اسلئیے نہیں بتاتے کے انکی خود کوئی اوقات نہیں کے یہ سب کر سکیں اسکے لئیے پڑھنا پڑتا ہے یہ سب سینکڑوں سال پرانے درس نظامی پڑھنے سے نہیں ملنے والا۔

فَکر پاکستان کچھ تو خدا کا خوف کیجئے! کچھ تو عقل و شعور کے ناخن لیجئے! درس نظامی میں قرآن و حدیث پڑھایا جاتا ہے یا
 فزکس، کیمسٹری کی کتابیں پڑھائی جاتیں ہیں ؟ آپ کے کہنے کا مطلب یہی ہے کہ جو قرآن و حدیث پڑھائے جاتے ہیں وہ محض ٹائم کا ضیاع ہے اور ان میں کام کی کوئی چیز نہیں ۔!! جناب  سے میں پہلے  بھی  ایک دفعہ درس نظامی میں شامل کتابوں پر کافی لمبی بات کرچکا ہوں کہ درس نظامی میں کیا اور کیوں پڑھایا جاتا ہے  ۔ ابھی دینی مدارس کے نظام تعلیم  کے معیار  کی دلیل  کے  متعلق صرف ایک  بات  کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ ہم دیکھتے ہیں  کہ آج ہمارے پاکستان میں   ایک  گلی محلے کے پرائمری سکول سے لے کر شہر کی بڑی یونیورسٹی تک کو چلانے کے  لیے فنڈ ، اساتذہ کی تنخواہیں ، کرسیاں، میزیں   تک حکومت دیتی ہے لیکن پھر بھی انکی کیا حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے ،  دوسری طرف  مدارس کے متعلق حکومتی رویہ کیا ہے وہ  بھی ہم جانتے ہیں ، انکی مدد کے بجائے ان کے خلاف  بیانات روز اخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں ۔  لیکن پھر بھی   اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والے ان    مدارس  کے تعلیمی نظام کا معیار دیکھیں  کہ   دوسرے ممالک سے طلبا یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں ۔ حکومت کی  سخت شرائط اور پابندیوں کے باوجود اس وقت صرف  کراچی کے چار مدارس کے اندر چالیس کے قریب ممالک کے  طلبا  دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اگر مدارس کا تعلیمی نظام  (درس نظامی)اتنا ہی خراب اور بے فاعدہ اور فرسودہ ہوتا تو    دوسرے  اسلامی ممالک  کو چھوڑ کر  غیر ملکی طلبا پاکستان کے مدارس میں   آکر  فرش پر بیٹھ کر  اور  دال روٹی کھا کر  گزارہ کرکے اسکی   تعلیم حاصل  نہ  کرتے  ۔  دوسری طرف ہماری یونیورسٹیوں کی کیا حالت ہے یہاں  باہر سے کسی نہ آکر کیا پڑھنا ، ہمارے اپنے طلبا یہاں پڑھنا نہیں چاہتے اور  باہر کی یونیورسٹیوں کی طرف سفر کرتے ہیں۔ آخری بات  اظہار صاحب نے  بھی اپنے کالم میں یہ بات کی آج یونیورسٹیوں ، کالجوں میں بھی جو باریش نوجوان اور  باپردہ لڑکیاں نظر آتیں ہیں وہ درس نظامی پڑھنے والے انہی  علما کی اسی وعظ ونصیحت کا اثر  ہیں ۔   

قدرت اللہ شہاب کی زبان میں 
  بقول  قدرت اللہ شہاب یہ مولوی  ہی ہے جس نے  گاؤں کی ٹوٹی مسجد میں بیٹھ کر چند ٹکڑوں کے حوض عوام کا رشتہ اسلام سے جوڑا ہوا ہے۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم ہے، نہ کوئی فنڈ ہے اور  نہ کوئی تحریک ۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔۔ دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد،ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد ہیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا رہتا ہے اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھاہے۔ کوئی شخص وفات پا جاتا ہے ، تو یہ  اسکا جنازہ پڑھا دیتا ہے ، نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دے دیتا ہے ، کوئی شادی طے ہوتی ہے تو نکاح پڑھوا دیتا ہے۔اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی اسے جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درودی  کہتاہے،  یہ ملّا ہی کا فیض ہے  کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار ہیں  ،برصغیر کے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔
اعتراض کرنے والے یہ کیوں نہیں سوچنے کہ   لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں محلے کی تنگ  مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟
کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟

:علما اور  دینی مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ کی اصل  وجہ
دینی مدارس کا سلسلہ صدیوں سے قائم ہے اور گزشتہ صدی میں ہندوستان میں انہی دینی مدارس کے دم سے علوم نبوت زندہ و تابندہ ہیں‘ انہی کی وجہ سے استعمار کے جبر و استبداد کا خاتمہ ہوا‘ یہی وہ قلعے تھے جن سے دین اسلام کا دفاع ہوا‘ یہی وہ نظریاتی چھاؤنیاں تھیں‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ کی حفاظت کی‘ دینی مدارس ہی آب حیات کے وہ پاکیزہ چشمے تھے‘ جنہوں نے مسلمانوں میں دینی زندگی باقی رکھی۔اسلام دشمن اور عالمی دہشت گرد امریکا کے خلاف دنیا بھر میں جہاں کہیں امت مسلمہ نے مزاحمت کی‘ اس کی قیادت و سیادت دینی مدارس سے وابستہ علمأ کرام کے حصہ میں آئی‘ اسی لیے  گزشتہ کئی دہائیوں سے دینی مدارس کا خالص علمی‘ تحقیقی ماحول اور آزاد نظامِ تعلیم اربابِ اقتدار کی نگاہوں میں بُری طرح کھٹک رہا ہے ۔ جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے قائم ہونے والا مدرسہ کفر کی نگاہ میں کھٹکتا تھا‘ اسی طرح آج بھی پاکستان اور دنیا بھر کے دینی مدارس اسلام دشمنوں کی نگاہوں میں خار بنے ہوئے ہیں‘ چنانچہ بے سروسامانی کے عالم میں دین حق کی شمع کو روشن کرنے والے مدارس کو دین دشمن اپنے لئے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں‘ اس لئے دین دشمن قوتیں اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ان مدارس کو ختم کرنے‘ انہیں کمزور کرنے‘ ۔مسلمانوں کا ان سے تعلق توڑنے اور ان کی حریت و آزادی کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں‘ ۔
 ان  لوگوں کا خیال ہے کہ جب تک یہ مدارس اور ان کا آزاد تعلیمی نظام حکومتی تحویل میں نہیں آجاتا‘ اس وقت تک اس سے فارغ ہونے والے علمأ کو نکیل نہیں ڈالی جاسکتی‘ اور نہ ہی ان سے اپنی منشا کے مطابق دین و مذہب میں تحریف اور کتروبیونت کرائی جاسکتی ہے۔ اس لیے امریکا‘ مغرب اور یہودی لابی نے  دینی مدارس  کے خلاف مذموم پراپیگنڈا مہم شروع  کی ہوئی ہے  اور انہیں بدنام کرنے اور دنیا کو ان سے متنفر کرنے کے لیے باقاعدہ مہم اور منصوبے کے تحت مختلف ہتھکنڈے اور حربے استعمال کیے جاتے  رہے ہیں ۔۔  ہر حکومت کو دینی مدارس کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ امریکی ہدایات پر ہر حکومت نے مدارس میں مداخلت کا کی ‘ ہر موقع پر اربابِ اقتدار نے مدارس کے خلاف زہر اگلا‘ رجسٹریشن کے نام پر مدارس کو اپنے جال میں پھنسانا چاہا‘ غیر ملکی طلبہ کے خلاف ملک بدری کا ظالمانہ فیصلہ کیا‘ مدارس کی اسناد کو بے وقعت کرنے کی کوششیں بھی  اسی ایجنڈے کا تسلسل تھیں‘۔
 اس مکروع پراپیگنڈے میں  صرف حکومتی ارکان ملوث نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا میں خصوصی طور پر منافقین کی ایک جماعت کو امریکن سفارتخانہ سے سور کے بدلے  ہائر کیا گیا ہے(میرے مخاطب اظہار الحق جیسے مصلح قوم صحافی نہیں) یہ بیروپیے کبھی کہتے ہیں   موجودہ دینی مدارس سے صرف علمأ پیدا ہورہے ہیں‘ جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ان سے جس طرح علمأ پیدا ہوتے ہیں‘ ویسے ہی ڈاکٹر‘ انجینئر اور وکلاء بھی پیدا ہوں اور ہماری خواہش و کوشش ہے کہ دینی مدارس سے نکلنے والے علمأ ہر شعبہٴ زندگی میں خدمات انجام دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں ‘ جب ان عقل بندوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے  کہ: اگر میڈیکل کالج اور یونیورسٹیوں سے انجینئر اور وکلاء پیدا کرنے کی فرمائش نہیں کی جاتی تو دینی مدارس سے یہ توقع کیوں کی جاتی ہے؟ پھر کہتے ہیں : دینی مدارس میں انگلش‘ سائنس اور دوسرے مضامین کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟  حالانکہ یہ خود بھی جانتے ہیں  کہ دینی مدارس میں پہلے سے ہی میٹرک کا نصاب زیر تعلیم ہے اور کسی دینی مدرسہ کا نظامِ تعلیم کسی بھی عصری اور سرکاری اسکول کے معیارِ تعلیم سے کم نہیں‘ بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔  اس کے علاوہ  پراپیگنڈہ بازی کی قسطیں چلاتے نظر آتے ہیں۔ کبھی  انہیں ملکی ترقی کی راہ میں حارج قراردیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گرد ، کبھی انہیں فسادی کہا جاتا ہے  تو کبھی  تشدد پسند ،  کبھی  کسی داڑھی والے کے  برے عمل کو اچھا ل کر اسے علما کا نمائندہ بناتے ہوئے  سارے علما پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے،  تو کبھی جعلی مولویوں، قاریوں اور پیرو ں کے مکروع اعمال اور حرکتوں   کی میڈیا کے ذریعہ تشہیر کرکے  علما او ر صوفیا سے نفرت عوام کے دلو ں میں بٹھائی جاتی ہے۔ غرض اس وقت طعن وتشنیع اور توہین وتضحیک کی تمام توپوں کا رخ ملا، مولوی، دینی مدارس اور طالبان ( طلبہ) کی طرف ہے ، صرف یہی نہیں ! بلکہ اب تو حکومتی امریکی ایجنٹ اور یہ منافق بیروپیے  پوری قوم کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کررہے ہیں  کہ اگر ملکی سلامتی اور امن وامان درکار ہے تو ان ” مولویوں“ سے جان چھڑانی ہو گی او ران کے خلاف منظم جدوجہد کرنی ہو گی ، چناں چہ اس ناپاک منصوبہ کو پروان چڑھانے کے لیے علمأ کی گرفتاریاں اور مدارس پر چھاپے مارے جاتے ہیں ، کسی مسجد، مدرسہ اور علمی مرکز پر بمباری کرکے ان معصوموں کو خاک وخون میں تڑپایا جاتا ہے اور اس کے بعد بیان جاری کر دیا جاتا ہے کہ : ” اس جگہ مظلوم انسانوں کو ذبح کیا جاتا تھا، یایہاں جہادی تربیت کا مرکز اور اسلحہ کا ذخیرہ تھا وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح کہیں دھماکا کرکے یہ کہانی گھڑ لی جاتی ہے کہ:  یہ طالبان کا اڈہ تھا اور یہاں بارود کا ذخیرہ تھا، جو قبل از وقت پھٹ گیا۔  اور ابھی چند دن پہلے رحمان ملک کا اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے تاریخی جھوٹ بولنا کہ بینظر کے قاتلین مدرسہ حقانیہ میں رہے تھے اسی گیم کا حصہ ہے۔



مکمل تحریر >>

جمعرات، 9 فروری، 2012

وحی غیر متلو اور مستشرقین و ملحدین کا جھوٹا پراپیگنڈہ

یہود ونصاری پہلے دن سے اسلام سے حسد کرتے آرہے ہیں،  دونوں قوموں کو شروع سے   "اہلِ کتاب" ہونے کا زعم تھا، یہود بنی اسرائیل میں آخری نبی کی آرزو لیے بیٹھے تھے؛ لیکن بنی اسماعیل میں آخری نبی کے  ظہور نے انہیں اسلام کا بدترین دشمن بنادیا ، مدینہ میں انہوں نے غزوہ خندق میں  معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئےمسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے نکال دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ نے  انکو انکی  سازشوں  کی وجہ سے آخر جزیرۃ العرب سےہی  نکال باہرکیا ۔ آپ   نے  ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم  کا جملہ اچھی طرح یاد ہے:
جزیرۃ العرب سے یہود ونصاریٰ کو نکال دو۔ (ابوداؤد، باب فی إخراج الیہود من جزیرۃ العرب، حدیث نمبر:۲۶۳۵)۔
ان  دونوں قوموں  نے بعد میں باہر سے بھی اپنی سازشیں جاریں رکھیں اور مسلمانوں کو بڑا نقصان پہچانے کی کوششوں میں رہے اورمسلمانوں کو  ان سے بعد میں   بہت سی جنگیں لڑنی پڑیں۔ ڈاکٹرحمیداللہ صلیبی جنگوں کے بارےمیں لکھتے ہیں:
“یورپ کی متحدہ عیسائی طاقتوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کیا، یسوع مسیح کے دین اور صلیب مقدس کی حفاظت کے نام پر یورپ کے ان وحشی اور غیرمہذب دیوانوں نے جس سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ کیا نصرانیت کی تاریخ میں اسے "مقدس لڑائی" کے نام سے پکارا جاتا ہے عیسائیوں اور مسلمانوں کی یہ المناک کشمکش جو تقریباً دوصدی تک جاری رہی، تاریخ میں صلیبی جنگوں کے نام سے مشہور ہے"۔  (تاریخِ اسلام: ۴۳۵، مؤلف: ڈاکٹر حمید اللہ)۔
انکے ان سب تخریبی کاموں کے باوجود  مسلم اقوام میں کبھی تذبذب، اضطراب اور جذبہ شکستگی کا احساس تک نہ پیدا ہوا؛ بلکہ انہوں نے ہر میدان میں ثابت قدمی کا ثبوت پیش کیا، جس کی وجہ سے اسلامی قوت ان علاقوں میں ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے لگی ۔اسلام نے  میدان جہاد کے علاوہ   یہودونصاری کے مسخ شدہ عقیدے پر بھی  ضرب کاری لگائی تھی جس  کی وجہ سے ان کے کمزور عقیدے والے ہی نہیں، راسخ العقیدہ حضرات بھی رفتہ رفتہ اسلام کو گلے لگاتے جارہے تھے، یہودونصاری نے ان حالات کو دیکھ کر  پالیسی بدلی  اور تیروتلوار پھینک کر اسلامی کے علمی ماخذ ین،   تہذیب وثقافت اور اقدار پر حملہ کرنے کا سوچا ، مقصد  یہ تھا کہ ناصرف اسلام کے فکری حملہ کی روک تھام کی جائے  بلکہ اپنے لوگوں کو  اسلام سے نکال کر اپنا ہم نوابنالیا جائے یا کم ازکم اپنے مذہب پر ثابت قدم رکھا جاسکے؛ اس کے لیے انہوں نے پوری جانفشانی سے اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا۔ ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ عربی زبان تھی ۔ چنانچہ ۱۳۱۲ء کو جینوا کی کلیسا نے عربی زبان کو مختلف یونیورسٹیوں میں داخلِ نصاب کرنے کا فیصلہ کیا اور ۱۷۸۳ء میں اس کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اصل مقصد کی یاد دہانی کرواکر اصل کام کا آغاز کیا گیا اوراس تحریک کا نام اورئینٹلزم ( استشراق) رکھا گیا ۔(ترات الاسلام:۱/۷۸، بحوالہ من افتراءات المستشرقین) ۔
احمد عبدالحمید غراب لکھتے ہیں 
"استشراق، یورپ کے اہل کتاب کفار کی ان تحقیقات کا نام ہے جو اسلام کی صورت بگاڑنے، مسلمانوں کے ذہن میں اس کی جانب سے شک پیدا کرنے اور اس سے برگشتہ کرنے کے لیے خاص طور پر اسلامی عقیدہ وشریعت، تہذیب وتمدن، تاریخ نیززبان وبیان اور نظم وانتظام کے تئیں کی جائیں"۔(رویۃ اسلامیہ للاستشراق:۷، مؤلف: احمد عبدالحمید غراب)۔

مستشرقین اور  حدیث:۔
ان دشمنانِ اسلام نے دین کے ہرشعبہ کو نشانہ بنایا اور ہرگوشے کو مشکوک کرنے کی کوشش کی ۔ حدیث پاک، قرآن پاک کے بعد سب سے اہم مصدر ہے اور دین کی صحیح فہم اور اسلام کی حقیقی تصویر کشی، حدیث کے بغیر نامکمل رہتی ہے، اس لیے  مستشرقین   نےاس اہم مصدر کی طرف کچھ زیادہ توجہ دی  اور آزاد تحقیق وریسرچ کے نام پر زہراگلی۔اس سلسلے میں انکی  سب سے نمایاں دو شخصیات نظر آتی ہیں،سب سے پہلی شخصیت گولڈزیہر   ہے، جس کو عربی کتابوں میں "جولدتسھر"سے جانا جاتا ہے یہ شخص جرمنی یہودی  تھا، اس نے تمام اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا اور ۱۸۹۰ء میں پہلی تحقیق شائع کی ۔دوسری شخصیت "جوزف شاخت" کی ہے (موسوعۃ المستشرقین، تالیف عبدالرحمن بدوی)۔
حدیث کے متعلق "گولڈزیہر" نے زیادہ توجہ متن پر مرکوز کی، جب کہ "شاخت" نے سند اور تاریخ سند کو مشکوک بنانے کی کوشش کی۔ انکے بعد   اس موضوع پر بڑی بڑی کتابیں لکھیں گئیں ۔ اسلامی دنیا میں روشن خیالی کے علمبردار ملحدین انہی  کی باتوں کو کاپی کرکے نت نئے انداز میں پیش کرتے ہیں  ،یہ  نام نہا د محقق  مغربی آ قاوٴں کے اسلوب واندازمیں حدیث وعلوم حدیث پر لمبے چوڑے مقالے اورتھیسز تیارکرتے ہیں ۔انہی لوگوں میں  ہمارے اردو بلاگر  بھی ہیں جو  بڑے عرصے سے اسلام کے خلاف محاذ سنبھالے ہوئے ہیں ، پہلے انہوں نے   دہریوں کا مواد چوری کرکے صفات باری تعالی اور قرآن  کے خلاف  جھوٹا پراپیگنڈہ کیا  ،   ہمارے دوستوں نے انکے ہر آرٹیکل کا مدلل و معقول جواب دیا، بجائے اسکے کہ وہ انکا جواب  الجواب دیتے انہوں نے اپنی ٹرٹراہٹ جاری رکھی،  آج کل مستشرقین اور  منکریں حدیث کا مواد  ان کے ہاتھ لگ گیا ہے۔یہ اعتراضات انہوں نے مستشرقین و ملحدین کی تحریروں سے چوری کیے ہیں   اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ  موصوف نے  ابھی  تک اسلام کے خلاف جو  آرٹیکل لکھے ان میں انکا لب ولہجہ، طرز واسلوب ، اثر وتاثیر اور  سوچنے کاانداز  انہی مستشرقین جیسا ہے ، ان کے مواد کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ   یہ  براہ راست مستشرقین کی کتابوں سے ، یا ایسے ثانوی مراجع سے لیا گیا  ہے، جن کے بنیادی مصادرومراجع مستشرقین کا تیار کردہ لٹریچرہیں ۔ میرے کئی دوست اسکا جواب دینے سے مجھے منع کرتے آرہے ہیں کہ  کہ  اس نے سمجھنا ہوتا تو ہمارے جوابی آرٹیکل  پڑھ کر ہی سمجھ جاتا ، اس لیے اس کی پوسٹ کے جواب لکھنے میں ٹائم ضائع نہ کرو۔ میں  صرف اپنے ان  بھائیوں جو کہ اسکی  کنفیوز کردینے والی  تحریروں سے وساوس کا شکار ہوسکتے ہیں’  کے لیے  اسکے ان  وساوس کا جواب لکھ  رہا ہوں۔ مکی کے اعترضات سرخ رنگ میں شو کیے ہیں ۔

احادیث کا انتخاب اور ان کی تدوین کس طرح کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ کیا دو سو سال بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے یا ان سے منسوب باتیں درست ہوسکتی ہیں؟؟ خاص طور سے جبکہ انہیں نقل کرنے والے لوگ جنہیں راوی کہا جاتا ہے عام انسان ہی تھے چنانچہ بھولنا، مختلف باتوں کا گڈمڈ ہونا، کسی بات کا اضافہ ہوجانا، اپنی مرضی کی بات کہنا یا سیاسی مفاد کی خاطر کوئی بات شامل کرنا یا گھڑنا سب ممکن ہے
احادیث 
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی وہ دوقسم کی تھی۔ ایک تو قرآنی آیات جن کو ”کلام الله“ کہا جاتا ہے، اس وحی کے الفاظ او رمعنی دونوں الله تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ اس وحی کو اہل علم کی اصطلاح میں ” وحی متلو“ کہتے ہیں، یعنی وہ وحی جس کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ دوسری قسم وحی کی وہ ہے جو قرآن مجید کا جز تو نہیں ہے لیکن اس کے ذریعہ بھی الله تعالیٰ نے حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو بہت سے احکام عطا فرمائے ہیں ، اس کو ” وحی غیر متلو“ کہا جاتا ہے، یعنی وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی یہ وحی صحیح احادیث کی شکل میں محفوظ ہے اور اس میں عموماً ایسا ہوا ہے کہ مضامین آں حضرت صلی الله علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے نازل کیے گئے، لیکن ان مضامین کی تعبیر کے لیے الفاظ کا انتخاب آپ نے خود فرمایا ہے۔ (الاتقان ج1 ص:45) ۔
حدیث کی حفاظت نے اور کتنے پیرائے اختیار کیئے اورعمل وقول  رسول کن کن راہوں سے امت کے لیے پکھڈ نڈی بنتا رہا اور امت کے قافلے کس طرح سے اس راہ پر چلتے آئے ،اس  کا  مکمل تذکرہ  تو یہاں ممکن نہیں، اس موضوع پر  علما کی کئی ضحیم کتابیں موجود ہیں، میں کوشش کروں گا کم سے کم الفاظ میں کچھ تفصیل بیان کرسکوں۔

حدیث کی حفا ظت و تدوین کا پہلا دور :۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، اعمال اور تقریرات واحوال، کامیابی کازینہ،بارگاہ الہی میں تقرب کاذریعہ ،شریعت مطہرة کابنیادی حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس عظیم امانت کی حفاظت ،نقل روایت میں احتیاط اور عمومی اشاعت وابلاغ کے لیے غیرمعمولی اہتمام کیاگیا، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اسی لیے احادیث نبوی کوخوب توجہ سے سننے، یاد کرنے ،لکھنے اور سمجھنے کے ساتھ دوسروں تک پہنچانے کا بھی اہتمام کیا ، جن صحابہ کرام علیہم الرضوان سے یہ حدیثیں سب سے زیادہ تعداد میں مل سکی ہیں ان میں حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر بن خطاب، انس بن مالک، ام المومنین حضرت عائشہ، عبداللہ بن عباس، جابر بن عبداللہ، ابوسعید خدری، عبداللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمرو بن عاص، علی المرتضی، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کی شخصیات بہت نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے صحابہ سے احادیث مروی ہیں ۔بعض صحابہ نے ذاتی طور پر احادیث کو لکھ کر محفوظ کرنے کا کام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں شروع کر دیا تھا۔اس سلسلہ میں  الصحیفہ الصادقہ، کتاب الصدقہ،صحیفہ علی،صحیفہ عمروبن حزم،صحیفہ جابر،صحیفہ سمرہ بن جندب، کتاب معاذ بن جبل، کتاب ابن عمر، کتاب ابن عباس، کتاب سعد بن عبادہ اور  ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہ،حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ اورحضرت انس بن مالک  رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مجموعے  پہلے دور کی حدیثی تحریرات ہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خود بھی احادیث لکھوائیں آپ نے عبداﷲ بن عمر سے فرمایا :’’احادیث لکھا کرو قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا کوئی بات نہیں نکلتی ‘‘۔(ابو داؤد جلد 1صفحہ 158
علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس کوئی چیز نہیں سوائے کتاب اﷲ کے اور اس صحیفہ کے جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں ۔(بخاری و مسلم کتاب الحج )

حدیث کی حفا ظت و تدوین کا دوسرا دور:۔
خلیفہ ثالث حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے تک کے اسلامی معاشرہ میں اس بات کا اندیشہ کرنے کی حاجت نہ تھی کہ کوئی بدبخت اپنی طرف سے باتیں بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب کرتارہے ، اور اس کی باتیں یوں ہی چلتی رہیں ۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات واعمال ، تقریرات واحوال، ذوق ومزاج ، طرزواداء اور اسلوب وانداز سے اچھی طرح باخبرجانثار صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین  کی ایک بڑی جماعت ہروقت موجودتھی ، اس دور کے بعد  اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی طرف منسوب کرنے کا فتنہ پیدا ہوا جو دین میں پیدا کئے جانے والے فتنوں میں سب سے زیادہ شدید تھا ، اسلام کے دشمنو                    ں نے پچھلے آسمانی مذاہب کی طرح مسلمانوں میں کچھ گمراہ کن افکار داخل کرنے کی کوشش میں تھے۔ 
اس موقع پر ہمارے  محدث صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین (اللہ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے) نے ایک نہایت ہی اعلیٰ نوعیت کا اہتمام فرمایا۔، امانت کا بارِعظیم أٹھانے والی اولین جماعت نے اس عمل ِبدکے سد باب کے لیے احادیث نبویہ ، اسلامی تاریخ وعلوم کی حفاظت کے لیے اس زمانہ کے اہل علم کے قول وفعل اور علمی وعملی رویوں کی سے راویان و روایات کی چھان بین ، تحقیق وتدقیق کے لیے ایک نئے فن اور بے نظیرعلمی کسوٹی کی داغ بیل ڈالی ،  انہوں نے اپنی دن رات کی محنت سے احادیث بیان کرنے والوں کی عمومی شہرت کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا۔ ان کی ان کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا وہ فن وجود میں آیا جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔

حدیث کی حفا ظت و تدوین کا تیسرا دور :۔
تیسرے دور میں جب صحاح ستہ جیسی گرانقدر تالیفات مرتب ہوگئیں،توحدیث اس وقت ایک ایسے دور حفاظت میں داخل ہوچکی تھی کہ اس پر قطعی حفاظت کا لفظ بغیر کسی تاویل کے پورا اترتا تھا۔ایک متواتر اور مشہور حدیث کے مطابق اگرکوئی آپ سے جھوٹی بات منسوب کر دے تو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا۔احادیث کے معاملے کی اسی حساسیت کی وجہ سے محدیثین نے یہ اہتمام کیا کہ ہر حدیث ان تک جس جس شخص سے گزر کر پہنچی، انہوں نے اس کا پورا ریکارڈ رکھا ۔محدیثین نے علم حدیث حاصل کرنے کے لئے دور دراز ممالک کے پا پیاہ سفر کئے ، بے پناہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھائیں ۔ پھر حاصل کرنے کے بعد تبلیغ میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ اسکے علاوہ  صحیح اور موضوع حدیث کو پرکھنےکے لئے محدثین نے اسماء الرجال کے فن ذریعے  اسناد کی پوری تنقیح اور تنقید کی ، حدیث کی صحت اور سقم کو پرکھنے کے لئے ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا ۔ جس حدیث میں ذرا بھی ضعف معلوم ہوا یا شک پیدا ہوا اس حدیث کو کتاب میں درج ہی نہیں کیا اگر کسی محدث نے کیا بھی تو اس ضعف کو واضح کردیا ۔ ان محدثین کے تقوی اور پرہیز گاری کی حالت اگر بیان کر دی جائے تو اس کے لئے دفاتر بھی کافی نہیں ہو سکتے ۔

امام بخاری کی مشقتیں اور  اہتمام :۔
چنانچہ امام بخاری نے علم حدیث کی خاطر مکہ ،مدینہ ، شام ، بخارہ ، مرو ،ہرات ، مصر ، بعداد ،کوفہ ،بصرہ ، بلخ نیشا پور اور دیگر بہت سے جزائر کا ایسے زمانہ میں سفر کیا جب کہ ریل ، موٹر وغیرہ سواری کا کوئی بندوبست نہ تھا ۔جہاں حدیث کا پتہ چلتا پا پیادہ وہاں پہنچ جاتے ۔ ایک ہزار اسی شیوخ سے علم حدیث حاصل کیا ۔ امام بخاری سے روبرو بلا واسطہ علم حدیث حاصل کرنے والے شاگردوں کی تعداد نوے ہزار ہے
امام بخاری رحمہ اللہ ہر حدیث لکھنے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنے کا التزام فرماتے تھے ۔ پھر اسناد میں یہاں تک اختیاط کی کہ روای اور مروی عنہ ایک ہی زمانہ میں گزرے ہوں ، ان کا اپس میں لقا بھی ممکن ہو ۔ جب تک ان کا لقا ثابت نہ ہوجائے امام بخاری اس کی روایت کو قبول نہیں کرتے ۔ اگر چہ یہ راوی کتنا ہی عادل اور ثقہ کیوں نہ ہو ۔

فنون حدیث فن اسماء الرجال و فن جرح وتعدیل کا اجمالی تذکرہ :۔
اسماء الرجال وہ علم ہے کہ جو راویانِ حدیث کے احوال اوراُن کے ثقہ اور غیر ثقہ ہونے اور سن پیدائش وسنِ وفات اور رحلات واسفار علمیہ او رعلم حدیث میں اُن کے مقام ومراتب اساتذہ، تلامذہ، عادات واخلاق وطبائع اور ہر اس وصف سے بحث کرنا ہے کہ جس کا ان کی ثقاہت یا مجروح وعادل ہونے سے تعلق ہو ۔ راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے.
ان فنون  کے ماہرین نے اپنی پوری زندگیاں وقف کر کے ان تمام معلومات کا کو جمع کیا۔ انہوں نے ان راویوں کے شہروں کا سفر کیا اور ان راویوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ چونکہ یہ راوی عموما حدیث بیان کرنے کی وجہ سے اپنے اپنے شہروں میں مشہور افراد تھے، اس لئے ان کے بارے میں معلومات نسبتاً آسانی سے مل گئیں۔ یہ تمام معلوما ت فن رجال کی کتابوں میں محفوظ کردی گئی ہیں۔ ان حضرات نے اپنی کتابوں میں  ہر راوی کے حالات کا ازاول تا آخر پورا احصاء کیا کہ کب پیدا ہوا تھا؟ کب اس نے طلب حدیث کی ابتدا کی کب سنا؟ کیسے سنا؟ کس کے ساتھ سنا؟ کب سفر کیا؟ اور کہاں کا سفر اختیار کیا ؟ اس طرح ان کے اساتذہ کا ذکر، ان کے علاقوں کا ذکر او رتاریخ وفات کا ذکر کیا اور بعض راویوں کے حالات میں تو ان کی زندگی کے جزئی حالات بھی خوب تحقیق وتدقیق سے تلاش کیے او ران کی زندگی کے تمام حوادث ذکر کر دیے ہیں۔ 
احادیث کو اتنی مقدس حیثیت حاصل رہی ہے کہ یہ قرآن کے احامات تک کو منسوخ کردیتی ہیں. 
منکرین قرآن وحدیث کی جانب کی طرف سے احادیث صحیحہ کو رد کرنے کے لیے کے عموما یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ بعض صحیح احادیث قرآن کے خلاف ہیں , جن میں سے انکے زعم کے مطابق کچھ متفق علیہ احادیث جو صحت کے اعلى ترین معیار پر ہیں وہ بھی قرآن کے خلاف ہیں ۔حالانکہ ایسا قطعا نہیں , کبھی بھی کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہوتی کیونکہ حدیث بھی وحی الہی اور کتاب اللہ ہی ہے جسطرح قرآن وحی الہی اور کتاب اللہ ہے  اور وحی الہی میں تضاد وتناقض قطعا نہیں ہوتا ہے ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگوں کی کوتاہ فہمی کی بناء پر ظاہرا انہیں احادیث اور آیات کے مابین تناقض وتضاد معلوم ہو ۔ وہ تناقض اور تضاد   بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے عقل وفہم میں پیدا ہوتا ہے۔،  

سارے قدیم وجدید علمائے حدیث جانتے ہیں کہ 99% احادیث “ظنیہ الثبوت” (قیاساً ثابت شدہ) ہیں ۔
لفظ ظن تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ 

. اٹکل یعنی بلا دلیل محض گمان اور تخمین
. شواہد وقرائن سے ظن غالب
 ظن بمعنی نظری و استدلالی علم جو دلیل و برہان سے حاصل ہوا ہو ۔ مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ میں لفظ ظن اسی علم یقینی کے معنی میں ہے ۔

الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( 2 ۔ 46 )۔ 
 وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ( 38 ۔۔
 كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ ( 75 ۔ 26،27، 28 ) ۔
قرآن نے ظن بمعنی محض اٹکل و تخمین کی پیروی سے منع کیا ہے ۔ احادیث کا سلسلہ نعوذ باللہ محض اٹکل اور تخمین نہیں ہے ۔ پس احادیث کو ظن کے معنی ثانی ( ظن غالب ) اور معنی ثالث ( علم یقینی استدلالی ) کے لحاظ سے ظنی کہا جاتا ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ 
علم یقینی استدلالی تو ظاہر ہے کہ واجب الاتباع ہے ۔ باقی رہیں وہ حدیثیں جو ظن غالب کا فائدہ دیتی ہیں ۔ سو شریعت مطہرہ نےظن غالب کویقین کا حکم دےکر واجب الاتباع قرار دیا ہے ۔ (شرح نخبۃ الفکر )۔
شرعی یقین کے لئے ثقہ عادل کی شہادت کافی ہوتی  ہے  سو وہ احادیث میں موجود ہے ۔ اس لحاظ سے احادیث سب یقینی ہیں ۔ ظنی اس لئے کہا جاتا ہےکہ احادیث میں عقلاً احتمالِ خطا موجود ہے لیکن شرعاً نہیں اور اکثر احادیث مفید ظن غالب ہیں اور دنیا میں  ظن غالب پر  عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ ہم رات دن اپنے جمیع معاملات میں ظن غالب ہی پر عمل کرتے ہیں ۔ دوا پیتےوقت شفا کا یقین نہیں ہوتا بلکہ زیادہ مضرت کا خدشہ موجود ہوتا ہے ۔ موٹر ، ریل ،طیارہ ، اور بحری جہاز وغیرہ پر سوار ہوتے وقت ہمیں ان کی مشنرری کےپرزہ جات کی درستی کا کوئی یقین نہیں ہوتا ۔ راستہ کے حوادث سے محفوظ رہنے کا یقین نہیں ، طیارہ کے گرنے ، ریل کے پٹری سے اتر جانے، بحری جہاز کے غرق ہوجانے کا احتمال موجود ہے ۔ پھر بھی ہم دن رات ان ذریعوں سے سفر کرتے ہیں ۔ بازار سے گوشت خریدتے وقت اس کی حلت کا ، دودھ ، گھی ، اناج، شکر وغیرہ کی پاکیزگی کا اور پانی پیتے اور غسل کرتے وقت اس کی طہارت کا ہر گز ہر گز کامل یقین نہیں ہوتا ۔ اور نہ ہی ہوسکتا ہے ۔. بات کو واضح کرنے کے لیے ایک اورآسان سی مثال ہے۔  حدیث یقینی شرعی ہے جیسا کہ ماں  اور باپ کا علم۔ ماں کے متعلق تو  قطعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص کی ماں ہے، مگر باپ کے بارےمیں اس یقین کے ساتھ حکم نہیں لگایا جاسکتا ۔ اسی لیے باپ کا علم یقینی شرعی ہے ۔ یہی باپ والا معاملہ حدیث کا ہے۔جب ہم شب وروز ہر معاملہ میں ظن غالب ہی پر عمل کرتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حدیث کو اسی ظن  کی وجہ سے ترک کردیا جائے۔

مختلف اسلامی فرقوں کی بنیاد اور ان کے آپس کے اختلافات بھی انہی احادیث کی وجہ سے ہیں

آئمہ و فقہا میں اختلاف   کی بڑی وجوہات 
اختلاف صحابہ :۔
 قرآن وحدیث کے اولین مخاطب حضرات صحابہ تھے، وہ براہِ راست حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم  سے فیض یافتہ تھے؛ اس لیے وہی حضرات قرآن وحدیث کی مراد کوصحیح طور پرسمجھ سکتے ہیں؛ لہٰذا ان حضرات نے جوسمجھا ہے وہ ہمارے لیے معیار اور مشعلِ راہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ  قرآن ورسول کے ایک ہوتے ہوئے حضراتِ صحابہ  رضی اللہ عنہ کے مابین بے شمار مسائل میں اختلاف تھا، ائمہ اربعہ  نے چونکہ ان ہی حضرات اور ان سے فیض یافتہ حضرات (تابعین) کی فہم وبصیرت پراعتماد کیا ہے اور ان ہی کے اقوال ومذاہب کواختیار کیا ہے؛ اس لیے ائمہ اربعہ  کے درمیان جن مسائل میں اختلاف واقع ہوا وہ دراصل صحابہ  رضی اللہ عنہ کے اختلاف کی وجہ سے ہوا ہے اور صحابہ  رضی اللہ عنہ کے باہمی اختلاف کے متعلق حدیث میں ہے  حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رب سے اپنے بعد صحابہ  رضی اللہ عنہ کے اختلاف کے متعلق پوچھا، اللہ نے بذریعہ وحی بتلایا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے صحابہ  رضی اللہ عنہ میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے آسمان کے ستارے کہ ان میں بعض کی روشنی بعض سے زیادہ ہے، جوشخص آپ کے صحابہ  رضی اللہ عنہ کے مسالکِ مختلفہ میں سے کسی مسلک کواختیار کرے گا وہ میرے نزدیک ہدایت پرہوگا۔
۔(کنز العمال، حدیث نمبر:۹۱۷۔)۔
فقہی مسائل میں پیدا ہونے والا  یہ اختلاف عہدِ صحابہ  سے ہے اور جواختلاف صحابہ کے دور میں رہا ہے اس کے باقی
رہنے میں خیر ہی ہے نہ کہ شر،
احادیث میں اختلاف :۔
احادیث کی روایت عموماً بالمعنی ہوتی ہے؛ نیزان میں ناسخ ومنسوخ بھی ہوتا ہے، بعض دفعہ کسی حدیث کا تعلق بعض اشخاص واوقات کے ساتھ ہوتا ہے؛ اسی طرح حدیث کے الفاظ بعض دفعہ مختلف معانی کے متحمل ہوتے ہیں، معانی کے اس اختلاف سے عمل کی مختلف شکلیں وجود میں آتی ہیں، چونکہ احکام ومسائل میں یہ اختلاف اجتہاد، اخلاص وللّٰہیت، تلاشِ حق، منشائے خداوندی کوسمجھنے اور مرادِ نبوی کی حقیقت کوجاننے کے لیے ہوا ہے اس لیے اس کومذموم اوربُرا نہیں کہا جاسکتا۔
اختلاف کو باقی رکھنا خود الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا منشا ہے
 یہ بات ادنیٰ غور وتامل سے معلوم ہو سکتی ہے، مثلاً الله تعالیٰ نے وضو میں سر کا مسح کرنے کا حکم ان الفاظ میں دیا ہے ﴿وامسحوا برؤسکم﴾ یہاں لفظ ”ب“ استعمال کیا گیا ہے، ”ب“ کے معنی عربی زبان میں بعض یعنی کچھ حصہ کے بھی ہوتے ہیں اور ”ب“ زائد بھی ہوتی ہے ، پہلی صورت میں معنی ہو گا سر کے بعض حصہ کا مسح کر لو اور دوسری صورت میں معنی ہو گا کہ پورے سرکا مسح کرو، چناں چہ بعض فقہاء پورے سر کے مسح کو ضروری قرارا دیتے ہیں اور دوسری رائے کے مطابق سر کے کچھ حصہ کا مسح کافی ہو گا، ظاہر ہے کہ الله تعالیٰ کے علم میں”ب“ کے یہ دونوں معنی پہلے سے موجود ہیں ، اگر الله چاہتے تو بعض کا لفظ استعمال فرماتے اورمتعین ہو جاتا کہ پورے سر کا مسح ضروری نہیں ، یا ”کل“ کا لفظ ارشاد فرماتے اور یہ بات پوری طرح بے غبار ہو جاتی کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے، لیکن خدائے علیم وخبیر نے اس صراحت کے بجائے اپنی کتاب میں ایک ایسا لفظ ذکر فرمایا جس میں دو معنوں کا احتمال ہے ، اس سے ظاہر ہے کہ ایسے مسائل میں اختلاف رائے کا باقی رہنا خود منشائے ربانی ہے۔
اسی طرح قرآن مجید میں عورت کی عدت کے لیے تین”قرء“ گزارنے کا حکم دیا گیا ہے ،” قرء“ کے معنی حیض کے بھی ہیں او رزمانہ پاکی کے بھی ، اسی لیے بعض فقہاء نے تین حیض مدت قراردی ہے او ربعض نے تین پاکی ، ظاہر ہے کہ ” قرء“ کے دونوں معانی الله تعالی کے علم محکم میں پہلے سے تھے ، اگر الله تعالیٰ کا یہ منشا ہوتا کہ احکام شرعیہ میں کوئی اختلاف رائے نہ ہو تو قرآن میں بجائے ” قرء“ کے صریحاً حیض یا طہر کا لفظ استعمال کیا جاتا، 
یہی صورت حال احادیث نبویہ میں بھی ہے ، مثلا آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حالت اغلاق کی طلاق واقع نہیں ہوتی ، اغلاق کے معنی جنون وپاگل پن کے بھی ہیں اور اکراہ ومجبور کے بھی ، چناں چہ اپنے اپنے فہم کے مطابق بعضوں نے ایک معنی کو ترجیح دی ہے او ربعضوں نے دوسرے معنی کو ، حالاں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم افصح العرب یعنی عرب کے سب سے زیادہ فصیح شخص تھے ، اگر آپ صلی الله علیہ وسلم چاہتے تو ایسی واضح تعبیر اختیار فرماتے کہ ایک ہی معنی متعین ہو جاتا، دوسرے معنی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اختلاف منشا خداوندی اور رحمت کیوں :۔
  ائمہ کے درمیان جزوی مسائل میں اسطرح کا اختلاف رونماہونا  رحمت ہے تاکہ  زمانے کے حالات وضروریات اوراس کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اس عمل کومختلف طریقے سے انجام دیا جاسکے، اور مختلف فقہی مسالک کی شکل میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی متفرق سنتیں اور طریقے زندہ ہوں اور سماج ومعاشرے میں رواج پائیں، تنگی کے وقت سہولت کا باعث بنیں۔اسی لیے شریعت نے اپنے ایک بڑے حصے میں جزوی اور متعینہ احکام دینے کے بجائے محض اصولی ہدایات دی ہیں تاکہ ہردور کے حالات اور ضروریات اور عرف ورواج کے مطابق عمل کی مختلف شکلیں وجود میں آسکیں اور اس نے اپنے احکام میں ایسی گنجائش اور کشائش رکھی ہے کہ ایک ہی عمل کومختلف شکل میں انجام دیا جاسکے۔
پتہ نہیں ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عباس کو راویوں کی فہرست میں کیوں شامل کیا گیا جبکہ حدیث کو قبول کرنے کی اولین شرط یہ ہے کہ راوی کی ساکھ اچھی ہونی چاہیے، تاریخ کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ابو ہریرہ نے بحرین کے مال میں کرپشن کی اور بن عباس نے بصرہ کے مال میں کرپشن کی (7) کیا عوام کا مال کھا کر بھی انسان کی ساکھ باقی رہتی ہے؟ کیا کرپٹ لوگوںسے حدیث لی جاسکتی ہے
 اعتراض کرنے والے کی دورخی دیکھیں ، جناب صحابہ پر اعتراض کرنے کے لیے   خود تاریخ سے استدلال کررہے ہیں  جس کی  کوئی سند موجود  ہی  نہیں ۔ جناب ایک طرف احادیث  جنکی سند اور متن کی درستگی کے یقینی ثبوت  موجود ہیں' کو چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہیں ، دوسری طرف اپنی بات کی دلیل میں تاریخ سے  ایک ایسی بات پیش کررہے ہیں جسکا ان کے  پاس  نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ اس  معیار کا حوالہ ہے جو وہ حدیث کے صحیح ہونے کے لیے مانگ رہے ہیں ،  جب سبب تنقید ضد اور تعصب ہو، پھر اعتراض گھڑنے کے لیے  اسی طرح کی منافقت کا سہار ا لینا پڑتا ہے۔یہی حال ان مغربی  معترضین ، مشر  قین ، پراپیگنڈہ بازوں کا  بھی ہے جنکی کتابوں ، سائیٹس سے جناب  میٹریل چوری کرتے ہیں ۔ وہ قرآن وحدیث کی حفاظت کے اتنے پائیدار اور  زبردست انتظام کے باوجود اس  پر برسوں سے اعتراض کرتے آرہے ہیں لیکن ان لوگوں کی اپنی  مذہبی کتابوں کا کیا حال ہے وہ سب کے سامنے ہیں ، انکی کتابیں کلام الہی کے بجائے کلام انسانی میں تبدیل ہوچکی ہیں  اور اپنے اندر  انتہائی تضادات کا شکار ہیں۔ خود انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مصنفین کے مطابق  توراۃ حضرت موسی علیہ السلام کے صد ہا سال کے بعد کتابی شکل میں مدون ہوئی ہے، عیسائی دنیا چار انجیلوں کو تسلیم کرتی ہے ، ان چار انجیلوں میں سے ایک کے لکھنے والے نے بھی عیسی علیہ السلام کو خود نہیں دیکھا ، بلکہ اب تو یہ بھی مشکوک سمجھا جا رہا ہے کہ جن چار آدمیوں کی طرف انکی نسبت کی جای ہے  (یعنی متی ،مرقس، یوحنا ، لوقا  )ان کی  طرف یہ نسبت صحیح بھی ہے یا نہیں ؟ مطلب یہ کہ ان  کے لیے جس درجہ کا علمی ثبوت ہونا چاہیے واقعتا وہ موجود نہیں ہے،   جبکہ  ہمارے ہاں تو ضعیف حدیثوں تک کی سند موجود ہے، اور اس سند کے ضعف اور عدم ضعف پر دلائل قائم ہیں۔
دھن رے دھنیے اپنی دھن، پرائی دھنی کا پاپ نہ پن
تیری روئی میں چار بنولےسب سے پہلے ان کو چن

 گریٹ بک آف ویسٹرن ورلڈ مغرب کی  ایک کتاب ہے  جسے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا  کمپنی نے  شائع کیا ہےیہ کتاب مغربی دنیا کے علمی و فکری خزانے کی مکمل تاریخ ہے جتنی اہم ترین کتب مختلف زمانوں میں‌ مغربی مورخین فلاسفہ ،ادبا اور سائنسدانوں وغیرہ نے لکھیں وہ مختلف عنوانات کے تحت یکجا کر کے شائع کردی گئیں۔ اس کتاب میں نہ حدیث کی طرح کا کوئی سند کا سلسلہ ہے اور نہ متن کے گواہوں کا کہیں تذکرہ  ہے  پھر بھی جد ید ترقی یافتہ مغربی دنیا اور  جنوبی ایشیا کے  خود کو پڑھا لکھا کہنے والے   دانشور، پروفیسر، ڈاکٹر  اسے تاریخی اقتباس اپنی کتابوں اور آرٹیکلز میں کاپی کرتے ہیں  ، کبھی کسی نے  ان کے حوالہ پر اعتراض نہیں کیا،  بخلاف حدیث کے  جس پر اعتراض ہے جسکا ہر جزسند اور دلیل سے ثابت ہے ۔ پھر سند کی بھی پوری تنقیح اور تنقید اور ہر ممکن ذریعہ سے جانچ پڑتال کی گئی ہے اور ٹھوس علمی شہادت کے بعد قبول کی گئی ہے۔۔۔اگر موازنہ کیا جائے تو احادیث سچائی اور اعتماد میں اہل مغرب کی ایسی کسی بھی علمی کاوش سے ہزار درجے بہتر ہیں۔ لیکن پھر بھی اس پر اعتراض ہے اور  اسکو چھوڑنے کی نصیحتیں ہیں ۔ ۔ 

ابو ہریرہ   محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت میں سب پر سبقت لے گئے اور کوئی 5374 احادیث روایت کیں، حالانکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محض تین سال رہے!! جبکہ عبد اللہ بن عباس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی 1660 احادیث روایت کیں حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر محض 13 سال تھی!! قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایک کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے رفاقت محض 3 سال رہی جبکہ دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت محض بچہ تھا تو کیا ان دونوں میں اتنی قدرت تھی کہ وہ ایک طویل عرصے تک اتنا سارا ڈیٹا اپنے دماغ میں لے کر گھومتے رہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسے محض یادداشت پر انحصار کرتے ہوئے “ری سٹور” کر سکیں؟؟
یہ حقیقت ہے کہ عربوں میں زبانی یاد داشتوں کاقدیم زمانے سے  رواج تھا، ان میں حفظ کی زبردست صلاحیت موجود تھی،صدیوں سے یہ لوگ اپنے قبائل کی تاریخ اوراپنے خاندانوں کے انساب  یاد رکھتے  آرہےتھے  اور راوی کا لفظ ان کے ہاں پہلے سے موجود تھا۔ عربوں میں حافظہ کی قوت میں بہت سے لوگ مشہور تھے ۔تابعی کبیر حضرت قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ  (۱۱۸ھ) کا حافظہ حیرت ناک تھا، جو بات ایک مرتبہ سن لیتے ہمیشہ کے لیے یاد ہوجاتی(تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۶۔تہذیب التہذیب:۴/۳۵۷) ،  امام زہری اورامام بخاری رحمہ اللہ  کے حافظے تاریخ اسلام میں شہرہ آفاق ہیں۔ہشام بن عبدالملک نے ایک موقع پر  اما م زہری کے حافظے کا امتحان لینا چاہا؛ چنانچہ آپ سے درخواست کی کہ ان کے بعض صاحبزادے کو حدیثیں املاء کروائیں؛ لہٰذا ابن شہاب نے ایک مجلس میں چار سو حدیثیں املاءکروائیں، ایک ماہ کے بعد ہشام نے کہا کہ وہ صحیفہ ضائع ہوگیا؛ اس لیے دوبارہ حدیثیں لکھوادیں؛ چنانچہ ابن شہاب نے دوبارہ چارسو حدیثیں لکھوائیں، جب مقابلہ کیا گیا توایک لفظ کا بھی فرق نہ تھا۔  (تہذیب الکمال:۶/۵۱۲)
حضرت ابو ہریرہ کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ آپ  نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنی یاداشت کی شکایت کی تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ، آپ نے باذن الہٰی اس میں روحانی توجہ فرمائی اور حضرت ابوہریرہ   رضی اللہ عنہ    بے نظیر حفظ کی دولت سے مالا مال ہوگئے؛ پھر اللہ تعالی نے آپ سے حدیث کی وہ خدمت لی کہ جو سنا پھر کبھی نہ بھولے اورجو دیکھا وہ ہمیشہ کی یاد بن گیا، خود فرماتے ہیں:
"فضممتہ فما نسیت شیئا بعدہ"۔  
ترجمہ: پس! میں نے وہ چادر سمیٹ لی،اس کے بعد میں کبھی کچھ نہ بھولا۔(صحیح بخاری: ۴۱)۔
اس کے علاوہ ایک سادہ سی بات ہے جب تلاوت وقرأت میں بھول چوک حفاظت قرآن کو مجروح نہیں کرتی تو نقل روایت کی کسی غلطی سے یا راوی کی بھول چوک سے حفاظت حدیث مجروح کیسے ہوسکتی ہے ، جس طرح غلط تلاوت پر ٹوکنے اور لقمہ دینے والے ہر جگہ اور ہر دور میں ملتے ہیں، ضعیف اورنامکمل روایات پر راویوں کی بھول چوک کو نمایاں کرنے والے محدثین بھی ہر دور میں اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے ہیں۔
خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں ایک زندیق کو قتل کے لیے لایا   گیا ، وہ کہنے لگا کہ تم مجھے تو قتل کردوں گے لیکن ان ایک ہزار حدیثوں کا کیا کرو گے جو میں نے وضع کرکے چالو کردی ہیں، ہارون الرشید نے فورا جواب دیا :
اے دشمن خدا    ! تو ابو اسحق فزاری اور ابن مبارک سے بچ کر کہا ں جاسکتا ہے  وہ ان کو چھلنی کی طرح چھان کر ایک ایک حروف نکال پھینکیں گے۔(علوم الحدیث 32)۔
 جو شخص ضعیف ومنکر روایات کے سہارے کل ذخیرہ احادیث کو مشکوک سمجھتا ہے،وہ اسی شخص کی طرح کا جاہل ہے  جو تلاوت اورقرات کی بعض عام غلطیوں کے باعث حفاظت قرآن ہی سے منکر ہو یا اس میں شک کرنے لگے۔


قابل افسوس ہیں یہ لوگ جو علوم حدیث کی ابجد تک نہیں جانتے ، ائمہ رحمہم اللہ کے وضع کردہ قوانین کی الف ، ب تک نہیں جانتے ، خود ان کی علم حدیث سے معرفت جہالت کے درجے سے بھی کم ہے  ،اپنی ذاتی سوچوں اور اِدھر اُدھر کی سنی سنائی حکاتیوں اور فلسفیانہ "نظریات "کو علم سمجھتے ہیں اور اس کی بنا پر علمی حقائق کو جُھٹلاتے ہیں اور محض سنت دشمنی کے لیے ، حدیث کا تحفظ کرنے والوں اور  علمی قوانین اور تحقیق کو غلط کہتے ہیں ۔۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ  جو  صرف اپنی عقل ، اپنی سوچ کے مطابق اور اپنے اختیار کردہ فلسفوں کے مطابق جو پسند نہ آئے  اسی کو  رد کرے ،  اپنی ضد اور تعصب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت کے خلاف صف آراء رہے، اپنی جانوں کو گلا گلا کر سُنّتء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جمع کرنے ، اور اس سے متعلق روایات کی تطہیر کرنے والے عُلماء  کے خلاف زہر افشانی کرتا رہے ، اس کو اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ  شخص شقی اور بدبخت    ہے۔  
  کس قدر لائقِ شرم ہے کہ یہ حرماں نصیب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کی بجائے اپنے گلے میں ان کفار و ملحد ین  کی غلامی کا پٹہ سجانے میں “فخر” محسوس کرتے ہیں۔ حیف ہے اس عقل و دانش اور دین و مذہب پر! جس کی بنیاد الحاد و زندقہ پر ہو، جس میں قرآن و سنت کی بجائے جاہلین  کے کفریہ نظریات و عقائد کو درجہ استناد حاصل ہو، سچ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں تو عقل و خرد چھین لیتے ہیں، جھوٹ سچ کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور ہدایت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔اللہ ہمیں بدبختی سے بچائے۔ 




مکمل تحریر >>

اتوار، 8 جنوری، 2012

زندگیاں بدلنے والی کتاب " الکیمسٹ اردوترجمہ کیمیا گری" ڈاؤنلوڈ کریں




اس کتاب کے عنوان سے لگتا ہے جیسے یہ کوئی مہماتی قسم کا ناول ہوگا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس میں یہ دونوں خوبیاں ہیں  مگر اس کے باوجود یہ اپنی طرز کی ایک بہت مختلف ، شاندار اور غیر معمولی کتاب ہے۔ یہ دنیا کی چالیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوکر کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہوچکی ہے۔ مصنف نے انسانی زندگی کے چند بہت ہی اہم امور سے متعلق پائی جانے والی کم علمی بلکہ غلط فہمی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہےاور وہ اس کوشش میں کس حد تک کامیاب بھی رہا ہے ۔ ان امور سے متعلق مصنف کا نقطہ نظر کم وپیش وہی ہے جو اسلام کا ہے، حقیقت میں  یہ بہت حد تک اسلام کے فلسفہ حیات سے ہی اخذ شدہ ہے۔ ہم بالعموم اپنے بارے میں احساس کمتری کا شکار ہیں۔ مغرب کی صنعتی ترقی کی چکا چوند چاندنی  ہماری نظر اپنے اسلاف کے کارناموں تک بھی نہیں جانے دیتی، یہ ایک حقیقت بن چکی ہے کہ  ہمارے ہاں تیار ہونے والی اشیا جب بین الاقوامی لیبل کے ساتھ واپس ہمارے ہاں فروخت ہوتی ہیں تو ہمارے اعتماد پر پوری اترتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے اپنے نظریات جب مغربی لبادہ اوڑھ کر ہمارے پاس آتے ہیں تو وہ ہمارے لیے معتبر اور قابل عمل بن جاتے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  :
  1. مغرب کی کامیابی کے پیچھے وہ نظریات اور اصول ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آج سے چودہ سو سال قبل لائے تھے۔
  2. کیا اس دنیا میں کامیاب زندگی کے لیے اس نظریہ حیات پر صرف ایمان لانا ہی کافی ہے یا ایمان کے بعد عمل بھی بنیادی شرط ہے۔
  3. اسلام کے فلسفہ حیات پر ایمان لائے بغیر اس کے اصولوں پر عمل اس دنیا میں  تو کامیابی کی ضمانت ہے، اس کی مثال ہمیں مغرب سے مل سکتی ہے ، جبکہ ان لازوال اصولوں پر محض ایمان جو کہ عمل سے خالی ہو ، ایمان لانے والے کو اس دنیا میں کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس کی گواہی ہماری بے سکون معاشرتی زندگی دیتی ہے۔

اس کاوش کا مقصد یہ ہے کہ ہم زندگی کی حقیقت کو جانیں اور ایک بامقصد زندگی گزارنے اور اس مقصد کے حصول کے لیے درکار محنت کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھیں۔ مطالعہ کا آغاز کتاب کے تعارف سے کریں اور اس میں اٹھائے جانے والے نقاط کو لیکر کتاب کا مطالعہ کریں اور ان کا جواب تلاش کریں۔
( کتاب کے متعلق نقطہ نظر سے اقتباس)

(right click + Save As)

مکمل تحریر >>

ہفتہ، 7 جنوری، 2012

اتنا تضاد اور دورخی کیوں ۔ ۔ ۔ ؟

 ہم برابر ناجائز کاموں میں مبتلا ہیں ، ہمیں اس کا اعتراف بھی ہے ، لیکن اپنے  مقابل ساتھی کا مکروہ عمل ہماری آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے سامنے والے کی ایک چھوٹی غلطی بھی  پہاڑ کے مانند نظر آنے لگتی ہے اور میں اس کا چرچا کرنے لگتا ہوں  ،  خود چاہے سو دفعہ وہی کام کرجا ؤں مجھے اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ 
مجھے زرداری سے تو شکوہ ہے کہ  وہ کرپٹ ہے لیکن میں اپنی کمائی کو  کتنا حلال کرکے کھاتا ہوں ، اسکا کبھی مجھے خیال بھی نہیں آیا۔۔۔۔۔۔  
میں اس بات پر گلی میں کھڑے ہوکر بحثین کرتا ہوں کہ پولیس، کچہری والے رشوت کے بغیر کام ہی نہیں کرتے ، لیکن کوئی مجھے اپنے کام کےلیے ایک پیٹی فروٹ کی بجھوا دے تو تحفہ سمجھ کر قبول کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ 
کہیں لائن  میں لگ کر بل جمع کرواتے ہوئے کسی اور بندے کا اندر کے آدمی  کی  سفارش سے  پہلے جا کر جمع کروا دینا تو  مجھے ناگوار گزرتا ہے ، لیکن اگر مجھے اس طرح موقع مل جائے تو دوڑ کر جا کر جمع کرواآتا ہوں اور بعد میں سب کے سامنے تذکرہ بھی کرتاہوں کہ میرا محکمہ میں دوست تھا جس کی وجہ سے جلد کام ہوگیا۔ ۔ ۔ ۔۔
 اشارے پر ٹریفک  پولیس والا کھڑا نہ ہوتو میں اشاروں کی پرواہ ہی نہیں کرتا ، کوئی میرے سامنے اشارہ توڑ جائے تو میں منہ میں بڑبڑانا شروع ہوجاتا ہوں ۔۔۔
مجھے اس بات پر تو شکوہ ہے کہ میرا فلاں رشتہ دار  اپنے والدین  کی عزت و خدمت نہیں کرتا، لیکن میں خود غصہ میں  اپنے ماں باپ کو کتنے سخت الفاظ بول جاتا ہوں اسکا کبھی مجھے خیال بھی نہیں آیا۔ ۔ ۔
 میرے گھر اور آفس میں پنکھا بھی نہیں صحیح چلتا اور آفس اور مسجد میں اے سی کے نہ چلنے پر چلانا شروع ہوجاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
میرے بچہ رو رہا ہو تو میرے دل میں درد ہوتا ہے ، دوسرے کا بچہ رو رہا ہو تو سر میں ۔ ۔ ۔ 
میں دن بھر غیر لڑکیوں کے ساتھ ہلڑ بازی کرتا اور گپیں لگاتا اور دوستوں کےساتھ مل کر بے حیا فلمیں دیکھتا ہوں لیکن اپنی بہنوں، بیٹیوں  سے مجھے یہ توقع رہتی ہے کہ وہ کسی غیر لڑکے سے بات نہیں کریں گی اور بے حیائی کے کاموں سے بچیں رہیں گی ۔ ۔ ۔ 
میں اپنی ساس اور سسر کی طبیعت وصحت  کا مہینوں نہیں  پوچھتا لیکن مجھے اپنی بیوی سے یہ شکوہ رہتا ہے کہ میری ماں کی ٹانگیں کیوں نہیں دباتی ۔ ۔ ۔ 
مجھے اس بات پر تو شکوہ ہے کہ میری  مسجد کا مولوی اپنے پیٹ کے لیے حق بات کہتے ہوئے ڈرتا ہے لیکن کبھی مجھے اسکی توفیق نہیں ہوئی کہ  اسکی تھوڑی مالی مدد ہی کرلو کہ وہ آزادی سے بات کرسکے۔۔۔ ۔ ۔
 میں  خود فرائض وواجبات میں کوتاہی کرتا ہوں،، کئی کئی وقت کی نمازیں قضا کرجاتا ہوں،، زکوۃ کبھی دی ہی نہیں،  ، لیکن اپنے حریف کو  نمازہ جنازہ میں شرکت نہ کرنے اور صدقہ نہ دینے پر بھی طعنہ دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے شکوہ رہتا ہے کہ میرے آفس میں سیاست بہت ہے  ایک دوسرے کی جڑیں کاٹی جاتیں ہیں  لیکن میرے علاوہ میرے کسی کولیگ کی پروموشن ہوجائے تو میرے دل میں جلن ہونے لگتی ہے اور میں اسکے پیٹ پیچھےاسکی غیبتیں شروع کردیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
  میں روزانہ بد زبانی کروں اس کی شدت کا مجھے کبھی احساس نہیں ہوتا، لیکن دوسرے  کی زبان سے خلاف مروت وخلاف ادب نکلنے والا  ایک جملہ بھی میرے لیے بھاری  ہوتاہے  ۔ ۔ ۔ ۔ 
  میں کسی کا دل دکھاؤں، کسی کو طعنہ دوں، کسی کو سب کے سامنے رسوا کروں، کسی  کو عار دلاؤں، جائز ہے ،  میرا والد یا میرا کوئی ساتھی اصلاح کی نیت سے ہی مجھے میری  غلطی پر ٹوک دے ، مجھے سمجھانے کی کوشش کرے تو میں چراغ پا ہو جاتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔۔
 میں فضول خرچی کروں تو یہ سخاوت ، میرا مقابل یہی کرے تو اسراف  ۔ ۔ ۔ ۔۔
 میں کسی کو سب کے سامنے ڈانٹوں تو یہ حق گوئی اور سامنے والا کرے تو یہ طعنہ زنی وتوہین۔۔ ۔ ۔

آخر اتنی  دورخی اور منافقت کیوں ہے  ۔۔۔ ؟

 ایک طرف  ہم لوگ اپنے دین کو ساری دنیا کے ادیان سے ہر لحاظ سے بہترین اور قابل عمل سمجھتے ہیں ،فخر سے نعرے لگاتے ہیں کہ اسلام از دی بیسٹ اور  یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ ساری دنیا کے لوگ اسلام قبول کرلیں دوسری طرف اس حقیقت سے نظریں چرائے بیٹھے ہیں  کہ کوئی دین اور اسکی دعوتی تحریک محض اپنے عقائد وافکار او ر مخصوص آئیڈیالوجی کی بنیاد پر دلوں کو نہیں جیت سکتی ، غیروں کے  دلوں  پر اثر اس دین کے ماننے والے  فرد  کا کردار، اخلاق، معاشرتی زندگی  کرے گی۔
ہمارے سامنے ہے کہ ہمارے اکابر ین  اور آبا  کے پاس اگرچہ اس قدر میڈیائی اسباب ووسائل نہ تھے لیکن پھر بھی لوگ انکے آگے بچھتے چلے گئے اور  اسلام پوری دنیا پر پھیلتا چلا گیا او راسلامی تعلیمات نے دلوں کو جیت لیا اسکی وجہ یہ تھی  کہ اس وقت  اسلامی دعوتی عمل کی بنیاد  مسلمان کی زندگی پر تھی جس میں اسلام اپنی تمام تعلیمات کے ساتھ جلوہ افروز نظر آتا تھا، اور انکی  انفرادی اور اجتماعی اصلاح پہلو بہ پہلو چل رہی ہوتی تھی ۔ مبلغ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک فرد سے محنت شروع کرکے  اپنے  نمائندوں کو اپنے عمل سے یہ  سمجھایا تھا  کہ  معاشرہ کی اصلاح فرد کی اصلاح کے بغیر مفید اور دیرپا نہیں ہوتی ، اس لیے انکے ہاں  اصلاح فرد سے شروع ہوتی اور پھر  انکا تربیت یافتہ ایک تنہا فرد  شہروں ،بستیوں میں انقلاب برپا کردیتا ۔ ۔ ۔ ماضی کا دنیاد ارمسلمان تاجر اور بکریاں چرانے والا بھی ہزاروں لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ۔
ہمارے ہاں  آج فرد کی اصلاح بے توجہی کا شکار ہے، لوگ کہتے ہیں میرے یا  ایک بندے کے ٹھیک ہونے سے کیا ہوجائے گا  اس لیے وسائل کی کثرت کے باوجود ہمارے معاشرے میں فساد ہے اور دعوتی عمل میں تاثیر نہیں، ہم لوگ غیر مسلموں کو دین کےقریب لانے کے  بجائے انکی  اس دین حق سے دوری کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ حقیقت میں ہم  نے کبھی اپنی اصلاح کی کوشش ہی  نہیں کی،  ہر آدمی   اچھے عمل کی ابتدا دوسرے سے کروانا چاہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔اگر آج ہم سے ہر بندہ  اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرلے اور یہ  عہد کرلے  کہ میرے سے  آئندہ انشااللہ  غلط اور  خلاف اصول و قانون کام نہیں ہو گا تو ایک ٹائم آئے گا کہ  ہمارا معاشرہ ایک  آئیڈیل معاشرہ بن جائےگا۔  ۔ ۔  فی الحال  ہم ہر دن میں  دسیوں گناہوں سے تو بچ جائیں گے یا  کم از کم معاشرے سے ایک غلط آدمی کی تو کمی ہوجائے گی۔
اللہ  ہمیں توفیق  عطا فرمادے۔
مکمل تحریر >>

ہفتہ، 3 دسمبر، 2011

سنت نبوی اور ہمارے مغرب پرست دانشوروں کی بیہودہ تاویلیں

لارڈ میکالے کے نظام تعلیم   اور جدید تہذیب  نے   مسلمانوں کے ذہنوں پر جو اثرات مرتب کیے ہیں ، اس کی عجیب عجیب مثالیں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں،  یہود ونصاری نے ہمارے جوانوں کی اس حد تک برین واشنگ کردی ہے کہ  یہ    نہ صرف جدید تہذیب و ثقافت  کو اپنی بنیادی ضرورت سمجھ چکے ہیں بلکہ کچھ   نے تو اس تہذیب و ثقافت کو اس حد تک مقدس جان لیا   کہ اس کو  انبیا   کے لیے بھی لازمی قرار دینے پر اتر آئے ہیں ۔ ایک صاحب لکھتے ہیں  
" اگر نبی پاک یورپ میں پیدا ہوتے تو کیا ان کا لباس اس ثقافت جیسا نہ ہوتا. . . . . . . . .جناب ثقافت سے بچنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ موجودہ بڑے بڑے مشاہیر اور علمائے پاک و ہند کو لے لیجئے کیا وہ نبی پاک والا لباس پہنتے ہیں؟ نہیں۔ یہی وجہ ہے مسلمانوں کے زوال کی۔ ہم نے اسلام کو موجودہ دور کے مطابق ڈھالا ہی نہیں۔ وہی پرانی باتیں اور پرانے قصے "
اپنی ثقافت و لباس کو شاید اتنا مقدس تو یورپ والوں نے خود نہیں جانا ہوگا جتنا یہ لوگ سمجھنے لگ گئے ہیں، صاحب  نے کس دیدہ دلیری سے  اس ننگ دھڑنگ اور بے حیا  ثقافت کوانبیا کے لیے واجب قراردے دیا (اللہ انہیں معاف فرمائے)،   ثقافت نہ ہوئی آسمانی شریعت ہوگئی۔  جب سے  مغرب  نے   مذہب کو سیاست و معاشرت سے علیحدہ کرکے ذاتی مسئلہ بنایا ، انکا دین عبادت گاہوں تک محدود ہوگیا ، ان کی دیکھا دیکھی ہمارے  کچھ لوگوں  نے بھی یہ سوچنا شروع کردیا ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس صرف عبادات میں اسوئہ حسنہ ہے‘ باقی حیات طیبہ کے احوال‘ عادات‘ معاملات‘ معاشرت اسوہ حسنہ نہیں ‘ یعنی ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمونہ عمل نہیں ہیں‘ اپنے باطل دعوے کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ معاشرتی امور میں‘ عادات و ماحول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے تابع تھے‘ عرب کا جو عرف و عادت اور رسم و رواج تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی رعایت کرتے تھے‘ مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی رکھی‘ چونکہ وہاں کا ماحول تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹوپی پہنتے تھے‘ چونکہ ٹوپی کا رواج تھا‘ یعنی یہ امور ماحول و رواج کے طور پر تھے‘ اس لئے ان امور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع باعث ِ ثواب نہیں۔ یہی بات ہمارے دوست   کے ذہن میں ہے انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ  اگر حضور یورپ میں پیدا ہوتے تو وہ بھی ان جیسا لباس نعوذبااللہ پینٹ شرٹ ، ٹائی  پہن کرپھرتے ان جیسے انہوں نے  بھی شیو کروائی ہوتی ۔ استغفراللہ۔ ایسے لوگوں کو اگر نظر صحیح اور نور بصیرت سے کچھ حصہ ملا ہوتا اور انہوں نے اخبار ، ناول ، پوئٹری کی کتابوں کے علاوہ کبھی اپنے نبی کی سیرت کی کتابوں کو کھول کر  بھی دیکھا ہوتاتو ان کو نظر آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اپنی زندگی میں ماحول اور رواج کی مخالفت کی ہے۔ آپ کا  ماحول تو کفر‘ شرک‘ ظلم‘ تشدد لوٹ مار کا تھا‘ زنا اور بے حیائی کا رواج تھا‘ شعروشاعری اور قمار بازی کا دور دورہ تھا‘ ننگے اور برہنہ طواف کرنے کا عام رواج تھا تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ماحول کی موافقت اور اسی جاہلیت کے طور طریقہ پر اپنے آپ کو اور صحابہ کرام رضوان اللہ کو ڈھالا؟ یا ان خرافات اور واہیات سے بچنے اور ان سے علیحدہ رہنے کی راہ دکھائی؟  کیا اس زمانے کی سپر پاور  قیصر وکسری کی سلطنتین  نہیں تھیں ، کیا آپ نے ان کے طور طریقوں کو اپنایا ؟
حقیقت میں ہمارا نظری‘بصری میڈیا‘ قومی اخبارات اور لادین رسائل و مجلات بھی نہایت عیاری‘ ہوشیاری اور غیر محسوس انداز میں نئی نسل کو الحاد‘ زندقہ‘ اور لادینیت و دہریت کے گہرے غاروں میں دھکیلنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں، بلکہ سادہ لوح عوام اور نئی نسل کے قلوب میں دین ومذہب سے نفرت وبیزاری کا بیچ بوکر انہیں قرآن وسنت اور دین وملت سے متنفر کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہیں،میں نے خود  ایک مشہور  دانشور کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ   اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں ہے‘ یہ مولویوں کی فکر تھی‘ اسلام صرف مکمل دین ہے‘ اسلام میں چہرے کا پردہ ہے نہ سرکا‘ یہ محض معاشرتی رواج ہے‘ حجاب صرف نبی کی ازواج کے لئے تھا‘اگرچہ داڑھی سنت ہے‘ لیکن حضور کے دور میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں داڑھی رکھتے تھے۔ حدود اللہ کا کوئی تصور قرآن میں موجود نہیں‘ یہ تصور فقہاء حضرات کا ہے “۔یہی باتیں بی اے ، ایم اے کرکے دینی مسائل پر بحثین کرنے والے تمام  نام نہاد  پروفیسر، ڈاکٹر، دانشور حضرات  کررہے ہیں۔ 
 اگر انکی بات کو مان لیا جائے کہ    بالفرض اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض نہ تھا کہ وہ اپنی امت کو بتلاتے کہ اسلام میں فلاں فلاں جگہ نقص اور کمی ہے، اور اس کی تکمیل کے لئے فلاں فلاں دین و مذہب اور قانون و دستور سے مدد لی جائے؟ مگر دنیائے اسلام جانتی ہے کہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کسی قسم کی کوئی نشاندہی نہیں فرمائی، تو کیا کہا جائے کہ نعوذباللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے ساتھ خیانت کی ہے؟ کیا ایسا کہنا سمجھنا یا سوچنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کے انکار کے مترادف نہیں؟ اور جو شخص اسلام، پیغمبرِ اسلام، قرآن اور سنت کے خلاف ایسی فکر و سوچ رکھتا ہو وہ کیا کہلانے کا مستحق ہے؟
 ایک طرف حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ  کی یہ گواہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو پیدائش سے موت اور مابعد الموت تک کے ہر ہر مرحلہ میں پیش آنے والے تمام معاملات کی نشاندہی فرمائی تھی، حتی کہ پیشاب ،پاخانہ استنجا اور وضو کا طریقہ بھی آپ نے سکھلایا اور بتلایا ہے، دوسری طرف ہمارے دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو ناقص و نامکمل ضابطہٴ حیات دے گئے۔ کیا کہا جائے کہ اسلام کی تکمیل کے سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثاروں کی گواہی معتبر ہے یا پندرھویں صدی کے ایک نام نہاد ملحد کی ثولیدہ فکری؟
دراصل  یہ لوگ زندگی بھر مغربی تعلیم گاہوں اور ملحد اساتذہ کے زیر تربیت رہے جن کے الحاد و زندقہ نے ان کے قلب و دماغ میں جگہ پکڑلی ہے، اس لئے اب  یہ ان کی اسی ملحدانہ فکر سے سوچتے، ان کی آنکھوں سے دیکھتے اور انہیں کی زبان سے بولتے ہیں۔ اس لیےان کو مسلمانوں کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی بلکہ ان کی مغربی عینک میں ہر چیز ناقص و نامکمل نظر آتی ہے، حتی کہ ان کو اسلام بھی نامکمل و ناقص دکھائی دیتا ہے، وہ نہیں چاہتے کہ کوئی مسلمان خالص قرآن و سنت پر عمل کرکے پکا سچا مسلمان کہلائے، بلکہ ان کے نزدیک اسلام اور اسلامی دستور اور قانون وہی معتبر ہے، جس پر مغرب اور مغربی آقاؤں کی مہر تصدیق ثبت ہو۔ اس کے برعکس جس دین، مذہب کی تکمیل و تتمیم پر اللہ، رسول، قرآن، حدیث ، صحابہ کرام رضوان اللہ، تابعین رحمہ اللہ، ائمہ مجتہدین رحمہہ اللہ، اجماع امت اور پوری امت مسلمہ کے عملی تواتر کی سند موجود ہو، وہ ان کے نزدیک ناقص و نامکمل ہے۔ 
  باطل کی یہ محنتیں رنگ لائیں  آج ہمارے معاشرے کے عام لوگوں  کی بھی یہی  سوچ بنتی جارہی ہے؟ اکثریت اپنے روزمرہ کے معمولات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے طریقے پر عمل نہیں کرتی‘ کھانا‘ پینا‘ اٹھنا‘ بیٹھنا‘ سونا‘ جاگنا‘ چلنا‘ پھرنا‘ شادی‘ بیاہ‘ خوشی‘ غمی‘ سیرت‘ صورت‘ وضع قطع ‘ لباس‘ پوشاک ہر چیز میں نفس اور خواہش کی اتباع ہوتی ہے۔ خود کو مسلمان کہنے والے حضرات    اسلامی تعلیم حاصل کرنے والوں کو بے وقوف ، گھٹیا  اور ڈانس سیکھنے والوں کو تعریف کے لائق ․ دھوکے باز کو ذہین ،    سنت پر چلنے والوں کو بے وقوف اور کم تر  اور خلافِ سنت کام کرنے والوں کو معزز  سمجھتے ہیں ،یہود و نصاریٰ کے طریقوں  اور  لباس کی مشابہت  کرنے والوں اور  داڑھی مونڈنے والوں کو معزز اور خوبصورت سمجھا جاتا ہے، باریک لباس تنگ یا چست لباس پہننے والیوں کو معاشرے کی معزز خواتین اور باپردہ اور سادہ باحیا لباس پہننے والیوں کو بے وقوف اور قدامت پسند  کہا  جاتا ہے۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
 سنت لباس 
 ہمارے نبی کا لباس کیا تھا ؟ کیا وہ اسی جاہلیت کے زمانے کی ثقافت کے مطابق تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص وضع قطع کے کپڑے کے پابند نہ تھے بلکہ ہر وہ کپڑا جو ستر کو پوری طرح ڈھانک سکے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے استعمال فرمایا ہے۔ آپ نے اچھے سے اچھے کپڑے بھی پہنے ہیں اور معمولی سے معمولی بھی ، یہاں تک کہ پیوند لگے کپڑے بھی پہنے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوپی، عمامہ، کرتا یا جبہ، اور تہبند ، پائجامہ کو پسند فرمایا ہے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر بدن پر بجائے جبہ وغیرہ کے ایک چادر استعمال فرماتے تھے اور کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کندھے پر ایک چادر مزید رکھتے تھے۔اس کے علاوہ کبھی ٹیک لگا کر کھانا نہیں تناول فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہ کھانے اور سونے کیلئے زمین ہی استعمال فرماتے تھے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ شریعت مطہرہ نے لباس کی کوئی خاص شکل یا ہیت متعین نہیں کی کہ فلاں لباس، فلاں ڈیزائن کا اور فلا چیز سے بنے ہوئے کپڑے کا استعمال کریں،بلکہ  ہر مقام، ماحول کی ضروریات، ثقافت اور روایات کے مطابق شرعی اصولوں کی روشنی میں تقویٰ کا لباس مسلمان خود اختیار کرلیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عرب وعجم میں مسلمانوں کا لباس مختلف ہے۔البتہ شرعیت نے  کچھ حدود ایسی ضرور مقرر کی ہیں جنکی پابندی ضروری ہے  اور ان حدود میں رہتے ہوئے آدمی جو وضع چاہے اختیار کرسکتا ہے۔ مثلا  اس میں کافروں اور فاسقوں کی مشابہت نہ کی جائے، لباس اتنا چھوٹا، باریک یا چست نہ ہو کہ وہ اعضاء ظاہر ہوجائیں جن کا چھپانا واجب ہے، مردوں کا لباس عورتوں کے، اور عورتوں کا مردوں کے مشابہ نہ ہو، فخر و تکبر اور دِکھلاوا مقصود نہ ہو،  مردوں اصلی ریشم نہ پہنیں وغیرہ ۔
 (مجبوری کی حالت کے علاوہ) اس بات میں شک نہیں  ہے  کہ آدمی کے دِل میں جس کی عظمت ہوتی ہے اس کی وضع قطع کو اپنانا پسند کرتا  ہے،   یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جو  اسلامی لباس کے بجائے انگریزی لباس اور وضع قطع کی پابندی  کی جاتی ہے وہ یہود و نصاریٰ رہن سہن، طور طریقوں کی عظمت  کی وجہ سے ہے۔ ہمارے اسلاف صحابہ کے جذبات  تو یہ تھے کہ جو چیزحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو  محبوب ہوتی وہ آپ کی محبت کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی محبوب ہوجاتی، کدو آپ کو نہایت مرغوب تھا، اس لئے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی اس کو نہایت پسند فرماتے تھے؛ چنانچہ ایک روز کدو کھارہے تھے تو بول اُٹھے،اے درخت اس بنا پر کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت تھی ،تو مجھے کس قدر محبوب ہے۔
            (ترمذی ،کتاب الاطعمہ ،بَاب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ،حدیث نمبر:۱۷۷۲)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک صحابی کو ایک رنگین چادر اوڑھے ہوئے دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے؟ وہ سمجھ گئے کہ آپ نے ناپسند فرمایا،فوراً گھر میں آئے اوراس کو چولہے میں ڈال دیا۔      
  (ابوداؤد، کتاب اللباس ،باب فی الحمرۃ)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سےایسی محبت تھی کہ اگر کسی وجہ سے آپ کو رنج ہوتا تو تمام صحابہ کو بھی رنج ہوتا، آپ کو خوشی ہوتی تو تمام صحابہ رضوان اللہ بھی اس میں شریک ہوتے، آپ نے ایک مہینے کے لئے ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار کرلی تو تمام صحابہ رضوان اللہ نے مسجد میں آکر گریہ وزاری شروع کردی۔          
  (مسلم، بَاب فِي الْإِيلَاءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ،حدیث نمبر:۲۷۰۴)
نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  پر عمل  کامیابی کا  زینہ 
 لوگوں کے ذہن میں یہ سوال بھی آسکتا ہے کہ حضور اور صحابہ کے پاس پیسہ ہے ہی نہیں تھا وہ  قیصر کسری جیسے مہنگے  لباس کیسے پہنتے ، اعلی کھانے کیسے کھاتے، اعلی سواریوں پر کیسے گھومتے ، جدید ٹیکنالوجی سے کیسے فاعدہ اٹھاتے۔؟ یہ کہنا بھی غلط ہےکیوں کہ الله تعالیٰ کی طرف سے تو  رسول پاک کو پیش کش تھی  کہ مکہ کے پہاڑ کو سونا چاندی اور ہیرے بنا دیں ، لیکن رسول پاک صلی الله علیہ وسلم نے یہ منظور نہیں کیا اور فرمایا کہ ایک دن کھانا ملے گا تو کھا کر شکر کروں گا دوسرے دن اگر کھانا نہ ملے تو صبر کر لوں گا ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ایک ایسا زمانہ بھی آیا جب اسلام اور مسلمانوں کو شوکت عطا ہوئی اور چہار اطراف سے مالِ غنیمت کے انبار چلے آنے لگے۔ اس حال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ لاکھوں دینار آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چند گھنٹوں میں ضرورت مندوں کو عطا کردیتے اور خود ہاتھ جھاڑ کر اٹھ جاتے۔ اس زمانے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں دو دو تین تین ماہ تک چولہا نہ جلتا۔ 
آپ عموماً فقر وفاقہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے، ایک بار حضرت عمررضی اللہ عنہ کا شانۂ نبوت میں تشریف لے گئے، تو دیکھا کہ آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں جس پر کوئی بستر نہیں ہے، جسم مبارک پر تہبند کے سوا کچھ نہیں پہلو میں بدھیاں پڑ گئی ہیں، توشہ ٔخانہ میں مٹھی بھر جو کے سوا اورکچھ نہیں، آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل آئے، ارشاد ہوا کہ عمررضی اللہ عنہ کیوں روتے ہو؟ عرض کیا  کیوں نہ رؤں آپ کی یہ حالت ہے، اور قیصروکسریٰ دنیا کے مزے اُڑارہے ہیں، فرمایا کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ہمارے لئے آخرت اوران کے لئے دنیا ہو۔                
   (مسلم، بَاب فِي الْإِيلَاءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ،حدیث نمبر:۲۷۰۴)
حضرت عمر کے زمانے میں باوجود کہ مال بے انتہا آیا لیکن حضرت عمر نے سادگی پر سب کچھ باقی رکھا۔ پیسہ کتنا ہی ہو، لیکن زندگی سادہ اور جب عمر نے انتقال فرمایا تو چھیاسی ہزار کا قرضہ ان پر تھا اور بیٹے کو ادا کرنے کی وصیت کی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ  کے سامنے ایک بچی آئی تو پوچھا یہ کس کی بچی ہے جو اتنی کمزور ہے ؟ صاحبزادوں نے کہا حضرت! آپ کی بچی ہے ۔ فرمایا کیوں اتنی کمزور ہو گئی؟ کہنے لگے آپ کی وجہ سے ، آپ زیادہ تنگی کرتے ہیں ۔ فرمایا اپنی کمائی سے اس کا علاج کرو۔ اس انتظار میں مت رہنا کہ اجتماعی مال سے دوں گا، منع کر دیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مکانات پکے بن گئے ، مسجد نبوی پکی بن گئی ۔ کھانا لوگوں کا بڑھیا بن گیا، مگر ان کی اپنی زندگی خود سیدھی سادی تھی۔ حضرت علی کوفے میں ہیں او رایک چادر میں ہیں اور سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں ۔ کسی نے کہا کہ حضرت بڑے بڑے کمبل آئے ہیں اوران میں سے ایک لے لیں۔ فرمایا جو چادرمیں نے لی ہے وہ مدینہ سے آئی ہے ۔ 
سلطان صلاح الدین ایوبی اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیت ہیں۔ وہ فاتح بیت المقدس ہیں۔ لیکن جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا۔ اورنگ زیب عالمگیر پورے جنوبی ایشیا کے حکمران تھے اور ان کا دورِ حکومت پچاس سال پر محیط ہی، لیکن وہ ذاتی گزربسر کے لیے ٹوپیاں سیتے تھے اور طغرے بناتے تھے۔
حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سادہ زندگی اور بے تکلف زندگی ان لوگوں کے سامنے تھی،  حقیقت میں جب تک یہ امت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن نقوش اور پاکیزہ سنتوں پر عمل کرتی رہی‘ کامیابیاں اور کامرانیاں اس کا مقدر بنیں اور جب سے آپ کی سنتوں کی اتباع اور پیروی میں سستی اور کاہلی در آئی‘ اس وقت سے امت فتنہ و فساد اور ظلم کی لپیٹ میں آگئی ، آج اگر کوئی  یہ کہے کہ مسلما ن تعلیم اور ٹیکنا لوجی  حاصل نہ کرنے کی وجہ سے یا مال ودولت کی کمی کی وجہ سے قیادت وسیادت سے ہاتھ کھو بیٹھا ہے تو یہ اس کی حماقت اور بے وقوفی ہے، کیا   جن مسلم ممالک  نے تعلیم وٹیکنالوجی حاصل کی وہ آج تک ترقی کو پہنچ سکے ہیں ؟، کیا ہم نے تر کی اور ایران، ملیشیا، ترکستان، پاکستان، لیبیا،شام کونہیں دیکھا، کیا انہوں نے ٹیکنالوجی حاصل کرکے دنیا میں اپنا مقام بنایا؟ کیا روشن خیالی اورمغربیت کے نعرے نے ترکی کو کسی بھی میدان میں عزت سے ہم کنار کیا 
امام مالک رحمہ اللہ کا ارشاد ہےاس  امت کے آخری دور کے افراد کی فلاح وصلاح اسی چیز سے ہو سکتی ہے، جس سے پہلے لوگو ں کی ہوئی ۔ ذراصحابہ اور اسلاف کی تاریخ کی ورق گردانی کرکے دیکھیں تو معلوم ہوجائے گا کہ ان کی کامیابی کاراز سنت نبوی کے علاوہ اوراسوہٴ نبوی کے علاوہ کوئی چیز تھی ؟کیا ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پاس کوئی ٹیکنالوجی تھی؟ نہیں نہیں! و ہ اس زمانے کے صحیح ہتھیاروں سے بھی عاری تھے، مگر سنت پر چل کر ا ن کی دو سو کی جماعت بھی ہزار کو، دس ہزارکی جماعت اس زمانہ کی سُپر پاور قیصر وکسریٰ کی مسلح فوجوں کو شکست وہزیمت سے دوچار کر دیتی تھی۔ 
فتح بیت المقدس کے بعد جب حضرت عمرضی اللہ عنہ شہر کے قریب  پہنچے اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور سرداران فوج استقبال کو نکلے تو دیکھا کہ مسلمانوں کا بادشاہ جن کے نام کے غلغلہ سے روم و شام کانپ رہے تھے، بالکل معمولی لباس پہنے یا پیادہ آرہے ہیں تو ان کو محض اس خیال سے شرم معلوم ہوئی کہ ہمارے بادشاہ کو دیکھ کر عیسائی اپنے دل میں کیا کہیں گے۔ چنانچہ ایک اعلیٰ ترکی گھوڑا اور قیمتی پوشاک حاضر کی گئی۔ آپ نے فرمایا:
’’خدا نے ہم کو جو عزت دی ہے، وہ صرف اسلام کی وجہ سے دی ہے اور وہی عزت ہمارے لئے کافی ہے۔‘‘

مکمل تحریر >>

بدھ، 30 نومبر، 2011

ایک تحقیقی و نادر کتاب "احکام اسلام عقل کی نظر میں"

( رائٹ کلک + سیو ایز)

یہود ونصاریٰ  اور روشن خیال و تجدد نواز طبقہ اسلامی احکام  کو سخت ، انسانی حقوق  اور عقل کے خلاف کہہ کر اسلام کو بدنام کرتے ہیں اور اسلام کو سختی اور تنگ نظری کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ مسلمانوں کا مغرب زدہ دیندار طبقہ بھی اس دھوکہ میں ہے کہ اسلام چند مخصوص عبادات کا نام ہے اور دنیا وی معلومات کے طے کرنے کے لئے ہمیں ایک عقلی طریقہ کار یا نظام کی ضرورت ہے، اس  کی وجہ سے یہ لوگ اسلام کو مسجد تک محدود رکھتے ہیں اور مسجد سے باہر اپنی عقل لڑاتے ہیں، گویا نعوذ باللہ! خدا صرف مسجد میں ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اسلام پوری زندگی پر محیط تو ہے مگر چودہ سوسال پرانا ہونے کی وجہ سے اس کے تقاضے بھی بدل گئے ہیں، آج کی دنیا سائنسی دنیا ہے، لہذا اسلام کی عام زندگی پر من وعن عمل کرنا ممکن نہیں رہا ہے، لہذااسلام کو انکی اور زمانے کی  خواہش کے مطابق ڈھالا جائے. حقیقت میں اسلام   ایک آفاقی وبین الاقوامی مذہب ہے، اس کے احکام وتصورات کی بنیاد نہ تو محض چند مشترک مادی اغراض پر ہے اور نہ ہنگامی اور عارضی حالات نے انہیں جنم دیا ہے اور نہ اس میں کسی خاص گروہ یا قوم ہی کی سیاسی برتری یا معاشی بہبود پوشیدہ ہے، بلکہ اس کے واضع اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت وساخت ہی ایسی بنائی ہے کہ وہ ہرانسان کے لئے، ہر وقت اور ہر زمانہ میں قابل عمل ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی دی ہے تو اسے زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے ۔شریعت کے احکام کا جائزہ لینے سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ مختلف نظاموں میں یہ بات تو مشترک ہے کہ وہ زندگی کے ایک شعبے یا ایک شعبے کے چند مسائل پر تو بحث کرسکتے ہیں اور وقتی حل نکال سکتے ہیں مگر مجموعی طور پر کوئی بھی انسانی نظام اس قابل نہیں کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں پر احاطہ کرسکے اور اس کے مسائل کو بخوبی حل کرسکے۔

زیر نظر کتاب میں   اسلامی شرعیت اور اسکے احکام کا جائزہ عقلی زاویہ سے پیش کیا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ  اسلام بلا مبالغہ  دین فطرت ہے ،اس کے احکام میں کوئی حکم ایسا نہیں جو فی نفسہ ناقابل برداشت ہو اور عقل اور فطرت کے خلاف ہو یا  اس سے انسان کو کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہو۔ عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں اسلامی احکام میں سے کچھ  کے متعلق سوالات رہتے ہیں کہ ان احکام کے پیچھے  کیا حکمت ہوگی ؟، اس کتاب میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے  شرعیت کے تمام بڑے  احکام  کی عقلی حکمتوں اور مصلحتوں اور اسرار و فلاسفی کو مدلل انداز میں بیا ن کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے  کہ تمام احکام شریعت عین عقل  کے مطابق ہیں۔ 


فہرست عنوانات







مکمل تحریر >>

بدھ، 9 نومبر، 2011

اسلامی ذخائر کتب میں باطل نظریات کی ملاوٹ پر ایک تحقیق

 قرآن پاک نے علمائے یہود کی ایک نشانی یہ بتلائی ہے کہ (من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ) یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کلام کو اس کے موقعوں سے پھیرتے رہتے ہیں۔ یہود نےاپنی اسی عادت پرنا صرف اپنی  مذہبی کتابوں کو بدل ڈالا، بلکہ اپنے ایجنٹ دوسرے مذاہب میں داخل کرکے ان کی مذہبی کتابوں کو بھی بدلنے کی کوشش کی ۔ چنانچہ  پولس جسے عیسائیت کا بانی کہا جاتا ہے حقیقت میں یہودی تھا، اس نےخود کو عیسائی مخلص باور کروا کر  بائبل اور عیسائی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا، عیسائیت  میں تثلیت کا عقیدہ ڈال کر اسے مشرک مذہب بنادیا ، اسی روش پر  یہودیوں نے اسلام کا تاروپودبھی  بکھیرنے کے لئے پہلی صدی ہجری میں ہی سازش کی ۔ اسلام جب اپنے محسنین تلامذہ نبوت (ص)، خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم کی وجہ سے بام عروج پر پہنچا اور معلوم کرہ ارضی کے چپہ چپہ پر چھا گیا۔ بڑی بڑی متمدن فارس و روم کی حکومتیں پیوند خاک ہوگئیں تو یہود و مجوس منافقانہ انداز میں  اسلام میں داخل ہوئے اور حسد و نفاق کی وجہ سے اسلام سے انتقام کی ٹھانی۔ ان کا سرغنہ صنعأ، یمن کا عبد اللہ بن سباء یہودی عالم تھا ۔عبداللہ بن سباء اور اس کی پیروکار ذریت کے اسلام سوز مسلم کش کارنامے تاریخ کی سب سے معتبر کتابوں کے علاوہ شیعہ کی علم اسماء الرجال کی کتابوں میں صراحت سے موجود ہیں۔ اس نے اپنی پرتقیہ ، خفیہ تحریک سے صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ کے قتل کا ہی کام نہ لیا بلکہ اسلام کے اساسی عقائد پر تیشہ چلایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رب باور کرایا۔ ۔ امامت کا عقیدہ ایجاد کرکے ختم نبوت کا صفایا کیا۔ قرآن میں تحریف اور کمی و بیشی کا نظریہ ایجاد کرکے اسلام کی جڑ کاٹ دی۔ سرمایہ نبوت ، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو معاذ اللہ منافق ، غاصب اور بے ایمان کہہ کر پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی ناکامی اور اسلام کے جھٹلانے کا برملا اعلان کیا۔ امہات المومنین رضوان اللہ علیہن اجمعات، بنات طاہرات رضوان اللہ علیہن اجمعات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سسرالی اور خاندانی رشتوں کی عظمت کا انکار کرکے ’’مقام اہل بیت‘‘ کے نظریہ کو بھی تہس نہس کردیا۔عبداللہ بن سباء نے عوام کو  وہی سبق پڑھایا جو پولوس نے عیسائیوں کو پڑھایا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس دنیا میں خدا کا روپ ہیں اور ان کے قالب میں خداوندی روح ہے اور گویا وہی خدا ہیں۔
شیعیت  حقیقت میں مجوسیت  تھی اس لیے  شیعیت کو مجوسیوں کے ملک  ایران میں جو عروج و ترقی حاصل ہوئی وہ انہیں کسی دوسرے ملک میں نہیں مل سکی اور وہ ابھی تک چلی آرہی ہے ۔
اسماعیلیہ قرامطہ
حضرت جعفر رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد شیعہ کے  دو گروہ پیدا ہوئے ۔جس نے ان کے چھوٹے بیٹے حضرت موسی کاظم کو ان کا جانشین تسلیم کیا وہ آگے چل کر امامیہ اثنا عشریہ کے نام سے مشہور ہوا۔جنہوں نے ان کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کو ان کا جانشین تسلیم کیا وہ آگے چل کر اسمعیلیہ کے نام سے مشہور ہوا ۔ یہ اگرچہ شیعت ہی کی شاخ تھی لیکن  بعد میں یہ تحریک اپنے معتقدات اور اعمال کے لحاظ سے شیعت سے بھی کوسوں دور نکل گئی ، تاریخ میں اسے ملاحدہ، باطنیہ، تعلیمیہ اور قرامطہ جیسے رسوائے عالم القاب سے یاد کیا گیا۔ حمدان قرمط ایک عراقی کاشتکار تھا ، چونکہ اس کی ٹانگیں چھوٹیں تھیں اس لیے اسے قرمط کہتےتھے۔ ا س نے اسمعیلی مذہب کو باطنی تحریک میں تبدیل کردیا، اسی کے نام سے اسماعیلی فرقہ قرامطہ کے نام سے موسوم ہوگیا۔
اس باطنیہ اسمٰعیلیہ فرقہ کے ذریعے یہود نے ملت اسلامیہ کے اندرجہاں بغض و عداوت اور نفاق و تفریق کے بیج بوئے ، وہیں شیعہ آئیڈیالوجی کو کو بالواسطہ طور پر بھی عامۃ المسلمین کے مختلف طبقات و عناصر میں پوری قوت کے ساتھ پیوست کرنے کی اپنی شیطانی کوشش  میں کوئی کسر نہ چھوڑی، چنانچہ انہوں نےمسلمانوں کے تہذیب، تمدن، معیشت، سیاست، معاشرت، عبادات، تفسیر، احادیث، اسلامی علوم و فنون غرض ہر شعبہ زندگی میں  اپنا اثر ڈالا ۔

اس فرقہ نے اپنی  عیاری اور معاندانہ سرگرمیوں  سے اسلامی کتابوں میں جو گمراہ کن تدسیس (اپنی باتوں کو دوسروں کی باتوں میں ملا کر چھپانا) کرنے کی کوشش  کی اگر ان سب  کو جمع کیا جائے تو اس موضوع پر ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے ، مگر ہم مضمون کو طوالت سے بچانے کے لیے صرف چند بڑی مثالوں پر اکتفا کریں گے۔

قرآن میں تدسیس کی کوششیں 
یہود نے بائبل  کی طرح قرآن میں  بھی تبدیلی کی بھرپور کوششیں کیں لیکن قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری چونکہ  اس کے اتارنے والے نے خود اٹھائی تھی اس لیے ان کو منہ کی کھانی پڑی، قرآن کی حفاظت کے لیے حضرات تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں یہ  سلسلہ رہا کہ ایک ہی شخص حافظ قرآن، مفسر قرآن اور علم قراء ت کا ماہر ہوتا تھا۔ پھر جیسے جیسے صلاحیتوں میں کمزوری آتی گئی ویسے ویسے حفاظت قرآن کی خدمت امت مسلمہ کے مختلف طبقوں میں تقسیم ہوتی رہی ، چناں چہ حضرات علمائے مفسرین نے قرآن کریم کے معانی ومطالب، تفسیر وتشریح او رمراد خداوندی کی حفاظت فرمائی۔ حضرات قراء ومجودین نے اس کی مختلف  قراءت ، ادائیگی حروف او رمخارج وصفات کی حفاظت کی او رحضرات حفاظ نے اس کے الفاظ کو اپنے سینوں میں محفوظ کرکے یہ خدمت انجام دی ۔ یوں متن کی حفاظت،  معنی ومفہوم کی حفاظت، زبان کی حفاظت،  الفاظ و معانی کی عملی صورت کی حفاظت، شانِ نزول کی حفاظت، سیرت نبوی کی حفاظت ، قرآن کے اولین مخاطب کے حالات کی حفاظت ، تابعین کے حالات کی حفاظت وغیرہ وہ چیزیں  ہیں جن کو قرآن کی حفاظت کی خاطر اللہ رب العزت نے حیرت انگیز انداز میں تحفظ بخشا، اوراپنی کامل قدرت کا مظاہرہ کیا۔
اسلام کے دشمنوں نے اپنے تمام وسائل استعمال کرنے کے بعد یہ جان لیا کہ اللہ کی اس کتاب میں وہ لوگ کسی طرح کی لفظی تبدیلی نہیں کر سکتے ، پھر انہوں نے قران کے فہم میں معنوی تحریف کا راستہ اپنایا اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے ، اور ہیں ، قران کو سمجھنے کے لیے اپنی عقل اور رائے ، منطق اور فلسفہ کا استعمال رائج کیا گیا  اوراُمت مسلمہ کے ہر کس و ناکس کو بظاہر قران کا محب اور قران پر عمل پیرا ہونے کےزعم میں مبتلا کرکے یہ کج روی سُجھائی جانےلگی کہ احادیث کو چھوڑ کر اپنی سوچ و فکر کی بنا پر قرآن کو سمجھے اور سمجھائے ،  چنانچہ آج ہم ایسے کئی لوگوں کو دیکھتے ہیں جو قران کریم میں مذکور اللہ تبارک و تعالی کے الفاظ مبارک میں سے چند ایک کے بھی لفظی و لغوی معانی نہیں جانتے چہ جائیکہ ان کے احکام اور اللہ کی مراد جانتے ہوں ، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو رد کرتے ہیں ، اور قران کی معنوی تحریف کرتے ہیں ۔

احادیث میں ملاوٹ کی کوششیں
قرآن کے بعد شیعہ نما یہود کا دوسرا بڑا وار  احادیث   میں تدسیس کی کوششیں تھیں، چنانچہ ملا علی قاری کے ایک قول کے مطابق  باطنیہ نے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں تین  لاکھ کے قریب روایات گھڑ کے پھیلائی ہیں۔ کچھ گھڑی گئی روایتوں کی مثالیں دیتا ہوں جنہیں قرامطہ نے ذخیرہ احادیث میں داخل کرنے کی کوشش کی اور علما  نے انکی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

روایت "انا مدینۃ العلم" یا " انا دادالحکمۃ وعلی بابھا"
قرامطہ اور ان کے ہم خیالوں نے  اس قدر جسارت کی کہ اپنے  مزعوماتِ باطلہ احادیث نبوی کے لباس میں  حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردیے، منجملہ  ان کے یہ حدیث ہے جو ترمذ ی میں بھی موجود ہے۔
 قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أنا دار الحكمة وعلي بابها " . رواه الترمذي 
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : میں حکمت ودانائی کا گھر ہوں اورعلی اس گھر کا دروازہ ہیں ''

شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ    اپنے مکتوب  میں  صفحہ ۷۵، ۱۷۹،۱۸۰ پر تحریر فرماتے ہیں۔
" یہ روایت  نہ تو صحیحین میں ہے اور نہ روایت کا ذکر کرنیوالے اس کی تصحیح فرماتے ہیں۔ تر مذی نے بھی روایت کے بعد کلام کیا ہے کہ بعض علما نے یہ حدیث  شریک تابعی سے روایت کی ہے مگر علمائے حدیث اس کو ثقات میں سے نہیں پہچانتے۔ سوائے شریک کے علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے موضوعات  میں اس کے جملہ طرق پر یقین کے ساتھ باطل ہونے کا حکم دیا ہے ۔ ایک جماعت محدثین کی اس کے موضوع ہونے کی قائل ہے۔امام الجرح والتعدیل یحیی بن معین رحمہ اللہ صاف فرماتے ہیں  کہ اس روایت کی سرے سے کوئی اصل نہیں ہے۔ طاہر پٹنی نے بھی اس کی صحت کا انکار کیا ہے۔ ۔ ۔ امام العصر علامہ انور شاہ  کشمیری  بھی روایت  کی صحت کو تسلیم نہیں  فرماتے"۔
( مکتوبات شیخ الاسلام حصہ اول، اردو بک سٹال لاہور) ( حاشیہ از مولانا نجم الدین صاحب اصلاحی مرتب مکتوبات شیخ الاسلام) ۔

ناد علی کی روایت :۔
قرامطہ کے سلسلے میں یہ روایت بہت مقبول ہے اور کم علم صوفیا کے ہاں بھی نقل ہوتی آرہی ہے ۔ جب جنگ احد میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم  زخمی ہوگئے اور جسم سے خون بہنے لگا تو جبریل نے آکر آپ سے کہا کہ نادِ علیاَ  والی دعا پڑھو یعنی علی کو پکارو، جب آپ نےیہ دعا پڑھی تو علی رضی اللہ عنہ فورا آپ کی مدد کے لئے آئے اور کفار کو قتل کرکے آپ کو اور تمام مسلمانوں کو قتل ہونے سے بچا لیا۔
( درویشوں کا بیکتاشی سلسلہ مصنفہ ڈاکٹر برج صفحہ ۱۳۸)
 اہل علم جانتے ہیں کہ حضور نے ایسی کوئی دعا نہیں پڑھی اور نہ  تاریخ یا سیرت کی کسی کتاب میں یہ دعا مرقوم ہے، پھر بھی یہ روایت اہل سنت کی کتابوں میں راہ پاگئی اور ایک سنی صوفی سید مظفر علی شاہ چشتی نے اپنی کتاب جواہر غیبی میں اسے ذکر کیا۔ 

 اس کے علاوہ بھی بہت سی گھڑی ہوئی احادیث ہے جن کی ہمارے علما نے تحقیق کے بعد نشاندہی کی ہے لیکن یہ روایات پھر بھی اس تحقیق سے لا علم لوگوں کی تحریرات میں نقل ہوتی آرہی ہیں۔ حدیث چونکہ وحی کی ایک قسم تھی  اس لیے اللہ نے اس کی حفاظت  کا ایک نظام بنایا ۔جھوٹی احادیث وضع کرنے کا سلسلہ   صحابہ کے دور سے سبائیوں نے شروع کردیا تھا اس لیے اہل علم صحابہ کرام نے روایت کو قبول کرنے کے لئے تحقیق کو لازم قرار دیا اور حدیث کے قبول کرنے کا ایک معیار مقرر کیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف من گھڑت بات منسوب نہ ہوجائے۔ بعد میں باقاعدہ علم حدیث میں اسناد و متن کی تحقیق کے اصول  مرتب  ہوئے اور  اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا وہ فن وجود میں آیا   جس سے ہر حدیث  کی سند اور متن کی تحقیق با آسانی ہوجاتی ہے۔

تاریخ اسلام میں ملاوٹ 

دشمنان اسلام نے قرآن و حدیث کے بعد تاریخ اسلام کو خصوصی طور پر تدسیس وتحریف کا ہدف بنایا اور اسکا خاص مقصد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کی تنقیص و توہین وتحقیر ہے۔  سیرۃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ مولفہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ سے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ مولانا لکھتے ہیں :۔

" بعض شیعہ مورخوں نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کچھ سپاہیوں کے ساتھ ایک سپید خچر پر سوار ہوکر  اما م حسن رضی اللہ عنہ کے جنازے کو روکنے کے لیے نکلیں، یہ روایت  تاریخ طبری کے ایک پرانے(نسخے) فارسی ترجمے میں، جو ہندوستان میں بھی چھپ گیا ہے،  میں نظر سے گذری، لیکن جب اصل متن عربی مطبوعہ یورپ کی طرف رجوع کیا تو جلد ہفتم کا ایک ایک لفظ پڑھنے کے بعد بھی یہ واقعہ نہ ملا، طبری کے اس فارسی ترجمہ میں درحقیقت بہت سے حذف و اضافے ہیں "۔

قرآنِ کریم کی نصوصِ قطعیہ‘ احادیثِ ثابتہ اور اہل حق کا اجماع صحابہ کی عیب چینی کی ممانعت پر متفق ہیں‘ ان قطعیات کے مقابلہ میں تاریخی قصہ کہانیوں کا سرے سے کوئی وزن ہی نہیں‘ تاریخ کا موضوع ہی ایسا ہے کہ اس میں تمام رطب ویابس اور صحیح وسقیم چیزیں جمع کی جاتی ہیں‘ اس لیے ہر کسی نے اپنی سمجھ  کے مطابق تاریخ کو بیان کیا۔ چنانچہ صحت کا جو معیار ”حدیث“ میں قائم رکھا گیا ہے‘ تاریخ میں وہ معیار نہ قائم رہ سکتا تھا‘ نہ اسے قائم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے‘ اس لئے حضرات محدثین نے ان کی صحت کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا ہے‘ حافظ عراقی فرماتے ہیں:
ولیعلم   الطالب   ان السیر
یجمع ما قد صح وما قد انکرا
یعنی علم تاریخ وسیر صحیح اور منکر سب کو جمع کرلیتا ہے۔ اب جو شخص کسی خاص مدعا کو ثابت کرنے کے لئے تاریخی مواد کو کھنگال کر تاریخی روایات  سے استدلال کرنا چاہتا ہے اسے عقل وشرع کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہ دیکھ لینا کافی نہیں ہے کہ یہ روایت فلاں فلاں تاریخ میں لکھی ہے‘ بلکہ جس طرح وہ یہ سوچتا ہے کہ یہ روایت اس کے مقصد ومدعا کے لئے مفید ہے یا نہیں؟ اسی طرح اسے اس پر بھی غور کرلینا چاہئے کہ کیا یہ روایت شریعت یا عقل سے متصادم تو نہیں؟  رسول اللہ کا یہ ارشاد یاد رکھیں۔
”اذا رایتم الذین یسبون اصحابی فقولوا لعنة اللہ علی شرکم“  (ترمذی)
ترجمہ:”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتے اور انہیں ہدفِ تنقید بناتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سے یعنی صحابہ اور ناقدین صحابہ میں سے جو برا ہے اس پر اللہ کی لعنت 

اکابر علما، اولیا سے منسوب کتابیں اور انکے ملفوظات میں تدسیس

امام عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ   الیواقیت والجواہر صفحہ ۷ میں لکھتے ہیں 
" باطنیہ ، ملاحطہ اور زنداقہ نے سب سے پہلے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ  پھر امام غزالی رحمہ اللہ کی تصانیف میں اپنی طرف سے تدسیس کی ، نیز اس فرقہ باطنیہ نے ایک کتاب جس میں اپنے عقائد کی تبلیغ  کی تھی، میری زندگی میں میری طرف منسوب  کردی اور میری انتہائی کوشش کے باوجود یہ کتاب تین سال تک متداول رہی"

امام غزالی سے منسوب  ایک کتاب :۔
مولانا سعید احمد جلالپوری شہید جو کہ روزنامہ جنگ کے اقرا صفحہ پر اسلامی سوالات کا جواب دیتے تھےْ  کو  ایک ڈاکٹر صاحب نے اپنے سوالہ نامہ میں یہ تحریر بھیجی جس میں  شیعی موقف کو امام غزالی  رحمة الله عليہ کی کتاب اور ان کی جانب منسوب کیا  گیا تھا۔

امام غزالی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”سر العالمین“ کے صفحہ :۹ پر لکھتے ہیں کہ:
” غدیر خم میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ”من کنت مولاہ“ فرمانے کے بعد اور اس موقع پر مبارک باد دینے کے بعد جب لوگوں پر خلافت کی ہوأ و ہوس غالب آگئی تو انہوں نے غدیر خم کی تمام باتیں بھلادیں۔“
اس پر مولانا  سعید احمد جلالپوری رحمہ اللہ نے ایک تحقیق،  تفصیلی و وقیع علمی مقالہ لکھا  جو ماہنامہ بینات میں چھپا۔ مولانا نے  تحقیق کے لئے اکابر متأخرین اور اربابِ تحقیق کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو پتا چلا کہ غدیر خم میں خلافت ِعلی رضى الله عنه (بلافصل) سے متعلق امام غزالی رحمہ اللہ کی جانب منسوب یہ کتاب”سر العالمین“  سرے سے امام صاحب کی ہیں ہی نہیں اور روافض نے خود لکھ کر بعد میں ان سے منسوب کی۔اور تحریر امام صاحب پر جھوٹ اور بہتانِ عظیم ہے اور  امام رحمہ اللہ کی دوسری کتابیں اس  تحریر کے موقف کو بری طرح رد کرتیں ہیں۔ مولانا  نے اس سلسلہ میں مسند الہندحضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی شہرئہ آفاق تصنیف ”تحفہ اثنا عشریہ“ کا حوالہ بھی دیا ۔شاہ صاحب لکھتے ہیں :۔
ترجمہ : روافض کوئی کتاب لکھ کر اس کو اکابر اہل سنت کی طرف منسوب کردیتے ہیں، اور اس میں حضرات صحابہ کرام کے خلاف مطاعن اور مذہب اہل سنت کے بطلان کو درج کرتے ہیں اور اس کے خطبہ یا دیباچہ میں اپنے بھید اور راز کے چھپانے اور امانت کی حفاظت کی وصیت کرتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ اس کتاب میں لکھا ہے، یہی ہمارا دلی اور پوشیدہ عقیدہ ہے، اور ہم نے اپنی دوسری کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے وہ محض پردہ داری اور زمانہ سازی تھا، جیسا کہ کتاب ”سرالعالمین“ خود سے لکھ کر انہوں نے اس کی نسبت حضرت امام غزالی رحمہ اللہ کی طرف کردی ہے، علیٰ ہذا القیاس انہوں ...اہل تشیع ... نے بھی بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں اور ان پر اکابر اہل سنت اور قابل اعتماد بزرگوں کا نام لکھ دیا ہے، ظاہر ہے کہ ایسے افراد بہت کم ہیں جو کسی بزرگ کے کلام سے واقف و آشنا ہوں اور اس کے مذاق سخن یا اس کے اور دوسروں کے کلام میں فرق وامتیاز کرسکتے ہوں، لہٰذا ناچار سیدھے سادے لوگ ان کے اس مکر سے متاثر ہوتے ہیں اور بہت سے حیران و پریشان ہوتے ہیں․․․․ بلکہ بہت سے لوگ اس کو ایک مستند بزرگ یا اہل سنت کے امام کا کلام سمجھ کر اس کو اپناکر اپنا ایمان و عقیدہ غارت کر تے ہیں․․․․۔“ (تحفہ اثنا عشریہ فارسی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی متوفیٰ ۱۲۳۹ھ)
مولانا جلالپوری شہید کا وہ مقالہ جامعہ العلوم الااسلامیہ، بنوری ٹاؤں ، کراچی کی سائیٹ پریہاں اب بھی موجود ہے۔
http://banuri.edu.pk/ur/node/971

 امام شعرانی کی تصنیف الطبقات الکبری :۔
اس کتاب کے اردو ترجمہ صفحہ 468 پر روایت ہے :

بضمن ظاہروباطن عارف۔ علی ابن ابی طالب اسی طرح اٹھائے گئے ہیں جس طرح عیسی اور عیسی کی طرح عنقریب نازل ہوں گے۔ میں کہتا ہوں  کہ سید علی خواص بھی اس کے قائل تھے ۔ چنانچہ میں نے  ان کو کہتے سنا کہ نوح نے کشتی میں سے ایک تختہ علی کے نام اٹھا کر رکھا، وہ تختہ محفوظ رہا، چنانچہ علی اسی تختہ پر اٹھائے گئے۔
اس روایت کا مضمون بتا  رہا ہےکہ یہ کسی ایسے شخص کی گھڑی ہوئی ہے جو حضرت علی رضی اللہ کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا عقیدہ رکھتا تھا اور تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ عقیدہ سب سے پہلے عبداللہ ابن سبا نے شائع  کیا تھا۔

رومی کے ملفوظات میں الحاق :۔
رومی کے ملفوظات فیہ مافیہ سے صفحہ نمبر ۹۹  پر یہ روایت رومی سے منسوب ہے، پڑھیے سر دھنیے :
" ایک شب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ  کے ساتھ کسی غزوے سے واپس آئے تو آپ نے فرمایا :ببانگ دہل اعلان کردو کہ آج کی رات ہم  ثہر کے دروازے کے پاس بسر کریں گے اور کل صبح شہر میں داخل ہوں گے، یہ سن کر صحابہ نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ہوسکتا ہے کہ تم اجنبی لوگوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ مباثرت میں مشغول پاؤ اور یہ دیکھ کر تمہیں بہت صدمہ ہوگا اور ایک ہنگامہ برپا ہوجائے گا، لیکن ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل نہ کیا اور گھر چلا گیا، چنانچہ  اس نے اپنی بیوی کو ایک غیر مرد کے ساتھ مشغول پایا"۔
اس لغوروایت پر تنقید کرنے کو دل نہیں چاہتا  تا ہم دل پر جبر کرکے اتنا لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ روایت کسی سبائی کے خبث باطنی کا مظہر ہے۔  غور کریں اس خبیث سبائی نے ایک تیر سے کتنے شکار کیے ہیں۔
1 -  حضور کو علم غیب سے  معلوم ہوچکا تھا کہ صحابہ  کی بیویا ں نعوذ بااللہ زنا کروارہی ہیں لیکن آپ نے جان بوجھ کر چشم پوشی کی، اور اس زنا کو روکنے سے صحابہ کو منع کیا۔ نعوذباللہ
2 - بعض صحابہ حضور کے نافرمان تھے ، حضور کے منع کرنے کے باجود نہیں سنی اور گھر چلے گئے۔ نعوذباللہ
3 -  صحابہ کی بیویاں زنا کار تھیں۔ نعوذباللہ
کیا مولانا روم یہ روایت بیان کرسکتے ہیں ؟

شیخ محی الدین ابن عربی کی فتوحات مکیہ :۔
شیخ جیسا کہ فتوحات مکیہ کے مطالعے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ نہایت راسخ العقیدہ اور متبع شریعت بزرگ تھے، اسی کتاب کی پہلی فصل میں انہوں نے اپنا عقیدہ بیان کیا ہے اسے غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ عقائد نسفی کی شرح پڑھ رہے ہیں۔ انکی  تصانیف میں بھی  سبائیہ قرامطہ نے تدسیس کی ۔ چنانچہ  امام شعرانی اپنی تصنیف الیواقیت والجواہر صفحہ 7 پر لکھتے ہیں :
" انکی تصنیف میں جو عبارتیں ظاہر شریعت سے متعارض(ٹکرانے والی) ہیں  وہ سب مدسوس(گھسائی ہوئی) ہیں۔ مجھے اس حقیقت سے  ابو طاہر المغربی نے آگاہ کیا جو اس وقت مکہ معظمہ میں مقیم تھے۔ انہوں نے مجھے فتوحات کا وہ نسخہ دکھایا جس کا مقابلہ انہوں نے قونیہ میں شیخ اکبر کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخے سے کیا تھا، اس نسخے میں وہ فقرے نہیں تھے جو میرے نسخے میں تھے اور میں نے ان فقروں کی صحت پر شک کیا تھا جب میں فتوحات کا اختصار کررہا تھا۔"
پھر لکھتے ہیں کہ زناوقہ نے امام احمد بن حنبل کے مرض الموت کے زمانے میں ایک کتاب جس میں اپنے باطنی عقائد بیان کیے تھے، پوشیدہ طور پر ( ان کا شاگرد بن کر) ان کے سرہانے تکیے کے نیچے رکھ دی تھی اور اگر امام مرحوم کے تلامذہ ان کے عقائد سے بخوبی واقف نہ ہوتے تو جو کچھ انہوں نے تکیے کے نیچے پایاتھا اسکی وجہ سے وہ لوگ بہت بڑے فتنے میں مبتلا ہوجاتے۔

حضرت فرید الدین عطار نیشاپوری رحمہ اللہ سےمنسوب کتابیں :۔
 شیخ عطار سنی عالم اور سلسلہ کبیرویہ سے متعلق تھے اور شیخ نجم الدین کبری کے متعقد  تھے، ان سے بائیس کتابیں منسوب ہیں حالانکہ وہ صرف  دس کتابوں کے مصنف تھے۔ ان سے منسوب کتابوں میں بڑی کتابین جواہرالذات، حلاج نامہ، لسان الغیب وغیرہ ہیں ، ان کتابوں میں مصنف نے جگہ جگہ اظہار تشیع کیا ہے۔ مشہور ایرانی محقق پروفیسر سعید نفیسی نے بھی فرید الدین عطار کی زندگی اور کتابوں پر تحقیق " جستجو دراحوال و آثار ِفریدالدین عطار نیشاپوری" میں پیش کی ہے۔ہم  نسخہ جواہر الذات سے دو شعر پیش کرتے ہیں جن سے پوری کتاب کا اندازہ ہوجائے گا اور یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ شعر شیخ فریدالدین عطار نیشاپوری رحمہ اللہ اپنے قلم سے ہرگز نہیں لکھ سکتے تھے۔

محمد راشناس ایں  جا خدا تو                          وگرنہ اوفتی     اندر بلا تو
علی      بامصطفی ہردو خدا  یند                        کہ دم دم راز برمامی کشانید

 ان شعروں کے مضمون  سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے کہنے والا عبد اللہ ابن سبا کا مخلص پیرو اور باطنیہ یا قرامطہ سے تعلق رکھتا تھا۔


اسلامی تصوف میں آمیزش کی کوششیں
جس زمانہ میں قرامطہ نے اپنی تبلیغی سرگرمیاں شروع کیں، مسلمانوں میں تصوف کا آغاز ہوچکا تھا اور مختلف سلسلے قائم ہوچکے تھے۔قرامطہ نے تقیہ کرتے ہوئے " جیسا دیس ویسا بھیس" کے اصول پر عمل کیا اور  صوفیوں کے حلقوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو صوفی ظاہر کیا اور تصوف کے لباس میں صوفیوں کو گمراہ کرنا شروع کیا اور اسلامی تصوف میں غیر اسلامی عقائد کی اس طرح آمیزش کی کہ اسلامی اور غیر اسلامی تصوف میں امتیاز عوام کے لیے ناممکن ہوگیا۔ جب یہ لوگ ہندوستان آئے تو انہوں نے ہندو صوفیوں اور جوگیوں  اور پیروں کے طور طریقے اختیار کیے اور ہندوؤں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وشنو کے دسویں اوتار کے روپ میں پیش کیا۔ عوام میں ہر دلعزیزی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اپنے ناموں سے پہلے " پیر" کے لقب کا اضافہ کیا۔
پیر صدرالدین نے گجرات اور پیر شمس الدین نے ملتان میں تصوف کے پردے میں اپنے عقائد کی تبلیغ کی۔ اس بات کی تصدیق ڈاکٹر جے این ہالسٹر کی تالیف " شیعان ہند" سے بھی بخوبی ہوسکتی ہے۔ مولف اسی کتاب کے صفحہ ۳۳۳ پر لکھتے ہیں۔
" اسمعیلی سیدوں کا قافلہ قاہرہ سے چل کر سبزوار آیا۔  پیر شمس الدین سبزواری یہیں سے ملتان آیا تھا، اور اس نے صوفیوں کے لباس میں اسمعیلیت کی تبلیغ کی۔ بعض لوگوں نے شمس الدین سبزواری کو غلطی سے شمس تبریز سمجھ لیاہے جو جلال الدین رومی کے مرشد تھے، جبکہ یہ ملتان کا پیر شمس الدین اسمعیلیہ نزار فرقہ کا داعی تھا"

رباعی ازخواجہ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ :۔
قرامطہ نے  فصوص الحکم، فتوحات مکیہ، مثنوی مولانا روم، احیا ءالعلوم اور دوسری بہت سی کتابوں میں عبارتیں اور اشعار داخل کیے  اور بہت سی کتابیں خود لکھ کر بعض سنی بزرگوں کے نام منسوب کیں، بہت سی رباعیات مختلف صوفیوں سے منسوب کردیں ، مثلا یہ مشہور رباعی خواجہ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ سے منسوب کی جو آج تک سنی اور کتابوں میں بھی نقل ہوتی چلی آرہی ہے۔
شاہ است حسین  بادشاہ  ہست حسین                                             دین است حسین         دیں پناہ ہست حسین
سردادنداو      دست  در دست یزید                                               حقا کہ بنائے       لا   الہ      ہست حسین

دیوان شمس تبریز :۔
 قرامطہ نے بہت سے اشعار مولانا رومی کی کتابوں میں داخل  کئے، دیوان شمس تبریز  میں داخل کی گئی ایک  پوری غزل سے چند اشعار پیش کرتا ہوں۔
ہم اول و ہم آخر وہم ظاہر وباطن                                  ہم موعد و ہم وعدہ   و موعود علی بود                                                     
جبریل کہ  آمد  زبرِ خالقِ    بیچوں                                درپیش محمد     شدوتابود  علی بود               
اور
اے رہنمائے مومناں، اللہ مولا علی                     اے عیب پوش و غیب دان اللہ مولانا علی

فارسی سمجھنے والے  باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ مولان روم جیسا سنی عالم   یہ مصرے نہیں لکھ سکتا۔ کیونکہ یہ اشعار تو واضح شیعہ ذہن کی عکاسی کررہے ہیں اور  نص قرآنی کے خلاف ہیں  جیسا کہ پہلے شعر  کےپہلے مصرع میں   قرآنی آیت میں مذکور اللہ کی صفات  " ہو  الاول والاخر والظاہر والباطن" کو علی رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت کیا گیا ہے۔ دیوان  شمس تبریز پر جلا ل ہمائی  نے جو مقدمہ لکھا اس میں  ان اشعار کو الحاقی قرار دیا۔

سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیا رحمہ اللہ کے ملفوظات:۔
سلطان المشائخ  نے اپنے مرشد شیخ فرید الدین گنج شکر کے ملفوظات کو راحتہ القلوب کے نام سے مرتب کیا تھا، اس کے صفحہ ۸۵  سے ایک واقعہ نقل کرتا ہوں :
" ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم باجمیع صحابہ کبار بیٹھے ہوئے تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  یزید پلید کو اپنے کاندھے پر بٹھائے سامنے سے گذرے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور کہا سبحان اللہ، ایک دوزخی ایک جنتی کے کاندھے پر سوار ہو کرجارہا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن کر کہا، یارسول اللہ یہ تو معاویہ کا بیٹا ہے۔ دوزخی کجا است ؟ حضور نے فرمایا:   یا علی یہ یزید بدبخت وہ ہے  جو حسن حسین اور میری تمام آل کو شہید کرے گا۔ یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے تلوار نیام سے نکالی کہ ایشاں را بُکُشَد مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مانع ہوئے کہ اے علی ایسا مت کر کہ اللہ کی تقدیر یہی فیصلہ کرچکی ہے، یہ سن کر علی رونے لگے۔"
حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بلاشک وشبہ گیارہ ہجری میں ہوگئی تھی جبکہ یزید کی ولادت پندرہ سال بعد  ۲۶ ہجری میں ہوئی تھی، ثابت ہوا کہ یہ افسانہ سراسر جھوٹا ہے اور کسی سبائی نے  یہ لغو اور من گھڑت داستان ملفوظات میں شامل کردی ہے۔

سوال :کوئی یہاں یہ  سوال کر سکتا ہے  کہ قرامطہ ، باطنیہ، روافض کو  اسکی جرات کیسے ہوتی تھی کہ وہ اپنی باتیں ان بزرگوں کی کتابوں میں ملا دیا کرتے تھے
 جواب :در اصل تمام صوفی سلسلے اور انکے افراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہایت مکرم اور لائق توقیر سمجھتے ہیں اور تین سلسلے تو حضرت علی رضی اللہ پر ختم ہوتے ہیں۔ صوفی شعرا نے جہا ں خلفائے ثلاثہ کی منقبت میں زور قلم صرف کیا ہے وہاں علی رضی اللہ عنہ کی منقبت میں  بھی اپنی عقیدت کا مظاہر ہ کیا ہے،اس لیے روافض اور قرامطہ کو مبالغہ آمیز اور شرکیہ اشعار کو شامل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔باطنیہ، قرامطہ اور اسمعیلیہ حضرات نے تصوف کا لبادہ اوڑھ کر اپنے عقائد مسلمانوں میں شائع کردیے ، بعد میں آنے والے  صوفیوں نے اسلاف پر تنقید کو سو ادب سمجھا اس لیے قرامطہ کے عقائد کو من وعن تسلیم کرلیا اور رفتہ رفتہ ان باطنیہ کے ہم عقیدہ بن گئے۔، یہ انہی روایات کا کرشمہ ہے کہ آج چودھویں صدی ہجری میں حیدرآباد دکن ،  بریلی، دہلی، اجمیر، داتا دربار، پاک پتن، ملتان، اچ، سیہون اور تمام بڑے بڑے مزارات سبائیت اور باطنیت کے فروغ و شیوع کے مرکز بن گئے ہیں۔
اسلامی تصوف جو دین اسلام کی روح اور جان ہے، میں غیر اسلامی عقائد کی آمیزش سے نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ نفس تصوف ہی سے بدظن ہوگیا دوسری طرف خود یہ غیر اسلامی تصوف اپنی ساری افادیت کھو بیٹھا بلکہ جہلا کے حق میں تو افیون بن گیا اور اہل خانقا کے حق میں بے عملی کا بہانہ بن گیا ۔ یہ اسی آمیزش کا نتیجہ ہے کہ وہ خانقائیں جہاں مسلمانوں کو ایزد پرستی کا درس دیا جاتا تھا ان کی روحانی اصلاح ہوتی تھی آج شخصیت پرستی بلکہ قبر پرستی کا مرکز بنی ہوئی ہیں اور جہاں ہر طرف اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوے نظر آتے تھے آج وہ خانقاہیں قوالی کی محفلوں میں تبدیل ہوگئی ہیں بلکہ شرک و بدعت کا مرکز بن گئیں شاید اقبال نے اسی حالت کو دیکھ کر فرمایا تھا
یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی
اس  غیر اسلامی نظریات کی آمیز ش سے تصوف کو نقصان ضرور پہنچا  ،    لیکن اسلامی تصوف بالکل ختم نہیں ہوا۔علمائے حق کےتصوف  کے ایسے مراکز اب بھی موجو د ہیں جہاں  صوفیا   بالکل اسلامی طریقہ پر لوگوں کو اصلاح فرمارہے ہیں۔

ان چند مثالوں سے یہ دکھلانا مقصود تھا   کہ زمانہ قدیم سے روافض اور اہل تشیع کی یہی عیاری، مکاری اوررَوِشِ بد رہی ہے کہ وہ اپنے فاسد و باطل عقائد اور نظریات کی ترویج کی خاطر اپنی جانب سے کوئی کتاب لکھ کر اہل سنت کے کسی نامی گرامی بزرگ، بڑے عالم دین اورمحقق کی وفات کے بعد اس کی طرف نسبت کرکے شائع کردیتے ہیں اور سیدھے سادے مسلمانوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ اہل سنت کا فلاں بڑا عالم اور محقق بھی وہی عقیدہ رکھتا تھا جو ہمارا ہے۔اللہ ہمارے  علما کو جزائے خیر دے انہوں  نے ہر دور میں انکے حملوں کو ناکام بنا کر امت کو گمراہی سے بچایا ہے۔
اوپر دی گئی مثالوں سے یہ بات واضح  ہے کہ کس مکاری کے ساتھ باطل نے ہماری دینی کتابوں میں اپنے گمراہ نظریات کو داخل کیا اور بڑے بڑے علما کی زندگی میں انکی کتابوں میں آمیزش کردی ، آج کل تو ا ن کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ کسی پرانے عالم کی کتاب کو اٹھا کر اس میں جگہ جگہ اپنے نظریات کو داخل کرکے خوبصورت سٹائل اور پرنٹ میں  چھاپ کر  مارکیٹ میں دے  دیں۔یہ حقیقت ہے کہ آج کل کئی ایسےگمنام  کتب خانے موجو د ہیں جو کہ مختلف اسلامی  موضوعات پرعلما کی  کتابیں چھاپ رہے ہیں انکی کتابیں اصل پبلشر کے مقابلے میں ذیادہ جاذب نظر ، کوالٹی پیپر لیکن   کم قیمت پر دستیاب ہوتیں ہیں۔  اب  اسلامی کتابوں باطل نظریات کی آمیزش کے شر سے وہی قاری بچ سکتا ہے جس کا علما ئے حق کے ساتھ تعلق ہو۔
ممتاز عالم دین مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” مطالعہ کووسیع کیجیے اور اس کے لیے اساتدہ سے ، خاص طور پر مربی اصلاح سے اور ان اساتذہ سے جن سے آپ کا رابطہ ہے ، ان سے مشورہ لیجیے۔“ مولانا ندوی مزید فرماتے ہیں :
 یہ ایک پل صراط ہے، اس پر سبک روی اور بہت احتیاط کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمررضی اللہ جیسے عظیم شخص کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے توریت جیسی عظیم المرتبت آسمانی کتاب کے مطالعہ سے منع فرما دیا تھا۔
استفادہ تحریر :اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات، پروفیسر سلیم چشتی 

مکمل تحریر >>