جمعہ، 29 نومبر، 2013

عقیدہ حیات و نزول عیسی علیہ السلام قرآن کی روشنی میں

قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے عیسی علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ 'اللہ نےانہیں اپنی طرف بلند کردیا 'وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ انکے درجات بلند کردیے گئے تھے ، اس جگہ پر درجات کے بلند ی کا یہ فیدہ ہوا کہ صلیب پر وہ زندہ رہے اور یہود کو شبہ لگ گیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے، عیسی پھر کسی اور علاقہ میں چلے گئے وہاں تقریبا نصف صدی حیات رہے پھر طبعی وفات پائی اور انکی قبر کشمیر میں ہے، اب ایک نیا مسیح پیدا ہونا تھا جو کہ ایک محبوط الحواس بھینگے میٹرک فیل دجال و کذاب مرزاقادیانی کی شکل میں پیدا ہوا ہے۔۔یہی عقیدہ تھوڑی سی کمی پیشی کیساتھ غامدی صاحب کا بھی ہے ، یہ بھی ان قادیانیوں کی طرح وفات عیسی کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن کہانی تھوڑی سی مختلف بیان کرتے ہیں۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کو صلیب کے قریب ہی موت دی گئی پھر انہیں کہیں دفن کرنے کے بجائے انکا جسم آسمان پر اٹھا لیا گیااور اب وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ غامدی اور قادیانی دونوں آیت ” إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ۔)اٰ ل عمران 55 پارہ 3( میں متوفیک“سے ”موت“مراد لیتے ہیں اور اس لفظ کو اپنے عقیدہ وفات مسیح کے لیے نص قطعی قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب اس آیت کی تشریح کرنے والی متواترصحیح احادیث اور جید صحابہ کےاقوال کو تسلیم نہیں کرتے جبکہ قادیانی انہی احادیث سے مسیح علیہ السلام کے دوبارہ پیدا ہونےکا عقیدہ گھڑ کر مرزا قادیانی کو مسیح قرار دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرز ا قادیانی نے تو محض عیسی علیہ السلام کی سیٹ خالی دیکھ کر خود کو مسیح کہلوانے کے لیے قرآن سے عیسی کی وفات کا عقیدہ اور اسکی قبر کے قصے گھڑے، اسکی کذب، چال بازیوں ، بیہودہ تاویلات پر سینکڑوں دفعہ بات چیت ہوچکی ہے، آج ہم غامدی صاحب کی  اس عقیدہ کے متعلق عبارات پر تبصرہ انکی پسند کے مطابق صرف قرآن سے پیش کریں گے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں ۔
" سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ میں قرآن مجید سے سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ انکی روح قبض کی گئی اور اسکے فورا بعد انکا جسد مبارک اٹھا لیا گیا تھا تاکہ یہود اسکی بے حرمتی نہ کریں۔ یہ میرے نزدیک انکے منصب رسالت کا ناگزیر تقاضا تھا، چنانچہ قرآن مجید نے اسے اسی طرح بیان کیا ہے۔ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ۔ اس میں دیکھ لیجیے تو فی وفات کے لئے اور "رفع" اسکے بعد رفع جسم کے لیے بالکل تصریح ہے "۔( ماہنامہ اشراق، اپریل 1995، صفحہ 45) ایک اور جگہ لکھتے ہیں :حضرت مسیح کو یہود نے صلیب پر چڑھانے کا فیصلہ کر لیا تو فرشتوں نے انکی روح ہی قبض نہیں کی انکا جسم بھی اٹھا کر لے گئے کہ مبادا یہ سر پھری قوم اسکی توہین کرے۔"(اشراق جولائی 1994، صفحہ 32) 

القرآن یفسّر بعضہ بعضاً :۔

 قرآن کی آیات کی تفسیر کے چند اصول ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی بھی آیت کی تفسیر کے لیے سب سے پہلے قرآن میں دیکھا جائے گاکہ آیا کوئی دوسری آیت اسکے مطلب کی وضاحت کررہی ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ، پھر اقوال صحابہ سے مدد لی جائے گی۔ اس عقیدہ رفع ، نزول و حیات عیسی کی تائید میں احادیث تو اتنی موجود ہیں کہ اتنی ارکان اسلام کے متعلق بھی نہیں، بیس سے زائدجید صحابہ روایت کررہے ہیں ، اسی طرح صحابہ، تابعین، تبع تابعین ، آئمہ اور تمام بڑے علمائے امت کے ان پر اتفاق و اجماع کیوجہ سے انکو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ غامدی صاحب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح اور انکے شاگردوں کی تفاسیر کو قبول کرنے کے لیے تو تیار نہیں ہم انکی پسند کے مطابق انکے اس عقیدہ کی بنیاد سورۃ ال عمران کی اس آیت کی ’’القرآن یفسّر بعضہ بعضاً (قرآن کے کچھ حصّوں کی قرآن کی دوسرے حصّے تفسیر کرتے ہیں) کےتحت قرآن سے ہی تحقیق پیش کرتے ہیں۔ سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ کیا قرآن کی دوسری آیات انکی (غامدی صاحب) اس آیت کی تشریح کی تائید کرتی ہیں؟ کیا واقعی احادیث اور صحابہ و علمائے امت کا اجماع قرآن کی اس آیت کے خلاف ہے؟
مسئلہ حیات عیسی اور قرآن:۔
 غامدی صاحب نے جو آیت پیش کی ہے اس سے پہلے آنے والی آیت میں ہے و مکرو ا و مکراللہ۔ واللہ خیر المکرین۔ اور ان کافروں نے (عیسی علیہ السلام) کے خلاف خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ اس تدبیر کی اور پھر اگلی آیت جس کے ایک لفظ کی بنیاد پر غامدی صاحب ساری امت سے عقیدہ میں اختلاف کیے بیٹھے ہیں ' کی وضاحت سورۃ النساء آیت 157 یوں کرتی ہے :

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾ بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٥٨﴾ (النساء157،159 پارہ 6)

ترجمہ: اور یہ کہا کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسی ابن مریم کو قتل کردیا تھا، حالانکہ نہ انہوں نے عیسی کو قتل کیا تھا ، نہ انہیں سولی دے پائے تھے بلکہ انہیں اشتباہ ہوگیا تھا۔اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے، وہ اس سلسلے میں شک کا شکار ہیں، انہیں گمان کے پیچھے چلنے کے سوا اس بات کا کوئی علم نہیں ہے، اور یہ بات بالکل یقینی ہے کہ وہ عیسی کو قتل نہیں کرپائے۔ بلکہ اللہ نے انہیں اپنے پاس اٹھا لیا تھا، اور اللہ بڑا صاحب اقتدار، بڑا حکمت والا ہے۔( آسان ترجمۃ القرآن، 157، 158)
 آیت سے دو باتیں بالکل واضح ہیں ۔ پہلی بات آیت میں وما قتلو“۔۔۔۔”وما صلبو“۔۔۔۔”وما قتلو یقینا کے الفاظ سے ان کے قتل/ موت کی مطلق نفی کی گئی ہے۔ دوسری قتل سے بچانے کا انتظام یہ کیا گیا کہ " بل رفعہ اللہ الیہ ، بلکہ اللہ نے اٹھا لیا اس کو اپنی طرف"۔ یہاں "بل "کے بعد بصیغہ ماضی" رفعہ" کو لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے قتل و صلب سے پہلے ہی ان کو ہم نے'الیہ' یعنی اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ وکان اللہ عزیزا حکیما ۔
 لفظ' توفی' کی قرآن سے وضاحت:.
منکر حدیث، قادیانی اور غامدی آیت ” إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ۔)اٰ ل عمران 55 پارہ 3( میں متوفیک“ سے مطلق ”موت“مراد لیتے ہیں، جبکہ اگر یہاں اس سے موت مراد لے لی جائے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کافروں نے جو عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی تدبیر کی تھی وہ اس میں کامیاب ہوگئےتھے۔ ۔ !! جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ بہتر تدبیر اللہ کی ہی رہی'۔ لفظ'توفی' کی وضاحت کے لیے بھی ہم قرآن سے رجوع کرتے ہیں ۔

1. اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ) الزمر 42 پارہ 24(

ترجمہ : اللہ تمام روحوں کو انکی موت کے وقت قبض کرلیتا ہے اور جن کو ابھی موت نہیں آئی ہوتی، انکو بھی انکی نیند کی حالت میں ، پھر جن کے بارے میں اس نے موت کا فیصلہ کرلیا، انہیں اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک معین وقت تک چھوڑ دیتا ہے۔
 اس آیت مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ ”توفی“بمعنی موت کے نہیں ہیں ،بلکہ ”توفی“موت کے علاوہ کوئی شے ہے جو کبھی موت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہےتو کبھی نیند کے ساتھ ۔ اور”حِينَ مَوْتِهَا “کی قید سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ”توفی“ موت کے وقت بھی ہوتی ہے عین موت نہیں ۔جس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کو رات کو "توفی" دیتا ہےاور صبح اٹھ کر لوگ ایک بار پھر زندہ ہوکر اپنے کاموں میں مشغول ہوجاتے ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام "توفی" کے بعد بھی حیات ہیں اور قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا، جسکی وضاحت احادیث میں موجود ہے۔

2. وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ الخ (الانعام 60 پارہ 7 )

ترجمہ:وہ ہی ہے جو رات کے وقت تمہاری روح قبض کرلیتا ہے ۔ اس مقام پر بھی ”توفی“موت کے بجائے نیند کے موقع پر استعمال کیا گیا ۔ 
اگر توفی سے مراد صرف موت ہی ہوتی تو یہاں اسکو استعمال نہ کیا جاتا۔

3. حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ الخ (النساء15 پارہ 4)

ترجمہ : یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا کر لے جائے۔
 اگر توفی کا معنی بھی موت تھا تو آگے لفظ 'موت' لانے کی کیا ضرورت تھی ؟حقیقت یہ ہے کہ جس جگہ ”توفی “ کے ساتھ موت اور اس کے لوازم کا ذکر ہوگا ۔اس جگہ ”توفی “سے مراد موت لی جائے گی ۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ الخ ( السجدة 11 پارہ 21)

ترجمہ : تو کہہ قبض کر لیتا ہے تم کو فرشتہ موت کا جو تم پر مقرر ہے پھر اپنے رب کی طرف پھر جاؤ گے۔
اس مقام پر ملک الموت کے قرینہ سے ”توفی “سے مرادموت لی جائے گی ۔
اسی طرح قرآن میں دوسرے انبیاء کی موت کا جہاں کہیں تذکرہ ہے وہاں موت کا لفظ استعمال فرمایا گیا ۔ نبی علیہ السلام کے لیے انک میت وانہم میتون، افائن مت فہم الخالدون اسی طرح سلیمان علیہ السلام فلما قضینا علیہ الموت ما دلھم علی موتہ ۔ ۔ جبکہ عیسی علیہ السلام کے لیے رفع اور توفی استعمال کیا ہے۔اور توفی جیسا کہ اوپر دی گئی آیات کی مثالوں سے ظاہر ہے جسمانی موت کے لیے وہاں استعمال ہوتا ہےجہاں اس کے ساتھ موت کے لوازمات کا بھی ذکر کیا جائے جبکہ غامدی صاحب کی پیش کی گئی آیت میں اس لفظ کے بعد موت کی کسی علامت کا تذکرہ کرنے کے بجائے قرآن کی دوسری آیت کی ہی تائید میں رافعک کا ذکر ہے، یہی بات فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ میں بھی ہے۔اس ساری تفصیل یہ واضح ہے کہ عیسی علیہ السلام کے متعلق غامدی صاحب کے عقیدہ کو قرآن بھی غلط قرار دے رہا ہے۔
 غامدی صاحب محض ایک ذومعنی لفظ کی بنیاد پر عیسی علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ گھڑتے ہیں پھر جسم اوپر اٹھائے جانے کا واضح قرآنی اشارہ نظر آتا ہے تو لاش کو بھی آسمانوں پر اٹھانے لینے کی وجہ گھڑ لیتے ہیں کہ جی سرپھری قوم کہیں اسکی توہین نہ کریں اور یہ منصب رسالت کا ناگزیر تقاضا بھی ہے۔ ۔ شاید انکے علم میں نہیں کہ یہود نے زکریا ، یحیی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے دوسرے ہزاروں نبی کس بے دردی سے شہید کیے تھے ، حیرت ہے اس اس سے منصب نبوت یا شان الہی میں کوئی فرق نہیں آیا ؟ آسان اور سادہ سی بات تھی کہ یہود نے مل کر عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی تدبیر کی ، اللہ نے اسکو ناکام بناتے ہوئے عیسی کو زندہ سلامت اپنی طرف اٹھالیا۔ غامدی صاحب نے اپنے تفرد میں اس واضح اور متفقہ عقیدہ کی بھی عجیب کھچڑی بنا کر رکھ دی۔
مسئلہ نزول عیسی اور قرآن:۔
غامدی صاحب لکھتے ہیں : " ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہوجانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ لیکن موقع بیان کے باوجود اس واقعہ کی طرف کوئی ادنی اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں ہے۔ علم و عقل اس خاموشی پر مطمئن ہوسکتے ہیں؟ اسے باور کرنا آسان نہیں ہے"۔ (میزان، ص 178، طبع سوئم ) غامدی صاحب نے لفظ توفی سے حیات عیسی کے انکار کا عقیدہ تیار کیا پھر اس عقیدہ کے دفاع میں نا صرف انہیں اس متعلق تمام احادیث کا انکار کرنا پڑا اور ساری امت کی مخالفت کرنی پڑی بلکہ نزول عیسی کا منکر بھی ہونا پڑا۔اپنے نزول عیسی کے انکار کے عقیدہ کی یہ دلیل دے رہے ہیں کہ اس متعلق قرآن میں کوئی تذکرہ موجود نہیں ۔ ۔ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ جب تمہاری تحقیق کے مطابق قرآن نزول عیسی کے حق یا خلاف میں کچھ نہیں بتا رہا تو پھر تم صحیح احادیث کو کیوں رد کررہے ہو؟۔ یہاں تمہارے پاس کونسی نص قطعی ہے جسکی ان احادیث کو صحیح مان لینے سے خلاف ورزی ہورہی ہے۔ ؟ پرویز ی تو چلیں حدیث کے صریح منکر ہیں وہ ایسا عقیدہ رکھ بھی سکتے ہیں تم تو اپنی کتابوں اور سائیٹس پر" قرآن و سنت کی روشنی میں " کے الفاظ سجا سجا کر لکھتے ہو ۔! اس سنت سے کس کی سنت مراد ہے؟ جب تمہیں اتنی متواتر اور صحیح احادیث قبول نہیں اور صرف قرآن ہی تمہاری ساری شریعت کا ماخذ ہے تو پھر اس سنت کے لفظ کوقرآن کے ساتھ سے ہٹا کیوں نہیں دیتے تاکہ لوگوں کا واضح پتا چل جائے کہ یہ بھی اہل قرآن ( منکر حدیث ) ہیں۔۔پھر تمہیں ان لوگوں پر اعتراض کیوں ہے جو یہ کہتے ہیں کہ غامدی مکتبہ فکر صرف اسی صحیح یا ضعیف حدیث کو مانتا ہے جو انکی بات کی تائید کرتی ہو یا جس سے انکو اپنے موقف کی دلیل مل سکتی ہو، اس کے علاوہ کسی مسئلہ میں بھی صحیح سے صحیح حدیث کو بھی خاطر میں نہیں لاتا ۔!! حقیقت یہ ہے کہ احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول عیسی کے متعلق ارشادات کے علاوہ قرآن میں بھی انکے نزول کے واضح اشارے موجود ہیں۔ مثلا قرآن میں دو جگہ انکے بچپن اور ادھیڑ عمر میں بات کرنے کے معجزے کا ذکر ہے۔

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔

اور وہ ماں کی گود میں بھی لوگوں سے باتیں کرے گا اور بڑی عمر میں بھی، اور راست باز لوگوں میں سے ہوگا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماں کی گود میں کلام کرنا تو ایک معجزہ تھا ادھیڑ عمرمیں تو مومن، کافر، جاہل ہر کوئی کلام کیا کرتا ہے اس کو ساتھ خصوصی طور پر ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی،؟ اسکا جواب یہ ہے کہ روایات عیسی علیہ السلام کے اٹھائے جانے کی عمر تیس اور پینتیس سال کے درمیان بتاتی ہیں ، اب ادھیڑ عمر میں جبھی کلام ہوسکتا ہے جب وہ دوبارہ تشریف لائیں ، یہی انکا معجزہ ہے۔ جو لوگ یہود کی طرح انکے بارے میں بدگمانی اور شبہ میں پڑ کران کے دوبارہ نزول کے منکر ہوجائیں گے اس اشارہ سے انہیں بھی بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت کے قریب دوبارہ ضرورتشریف لائیں گے اور بڑھاپے کی عمر پائیں گے ۔ اسی کی وضاحت ایک اور آیت سے ہورہی ہے۔

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ۔) سورۃ الزخرف آیت 61(

اور یقین رکھو کہ وہ (عیسی علیہ السلام) قیامت کی ایک نشانی ہیں ۔ اس لیے تم اس میں شک نہ کرو اور میری بات مانو۔ بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ انکی دوبارہ تشریف آوری اس بات کی نشانی ہوگی کہ قیامت قریب آگئی ہے ، اس بات کی تائید صحیح احادیث بھی کررہی ہیں۔قرآن اسکا بھی تذکرہ کرتا ہے کہ قیامت کے قریب اہل کتاب کا انکو دیکھ کر ردعمل کیا ہوگا ؟

’’وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ الخ النساء 158

اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے ضرور بالضرور عیسی پر ایمان نہ لائے،۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ و تابعین کی بڑی جماعت نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ جو اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے۔"(البحر المحیط ج 3 ص 392) (تفسیر بیضاوی ج 1 ص 255)
غامدی مکتبہ فکر عقیدہ حیات نزول مسیح کی قرآن و احادیث کی واضح تائید کو جھٹلا کر محض اپنے تفرد میں اپنے گھڑے ہوئے عقیدہ پر بضد ہے۔ اگر انکے اس عقیدہ کے عیسی علیہ السلام کو مردہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا کو صحیح بھی مان لیا جائے تو سوال یہ  ہے کہ اگر انکے عقیدہ کے مطابق واقعی عیسی علیہ اسلام کی لاش آسمانوں پر اٹھائی گئی ہے تو وہ دنیا میں کب آئے گی ؟ حشر کا میدان تو زمین پر لگے گا، اس دن خاتم الانبیاء سمیت سب انسان اپنی انہی قبروں سے اٹھیں گے، کیا عیسی آسماں پر زندہ کیے جائیں گے اور اللہ اور فرشتوں کیساتھ آسمان سے نازل ہوں گے ؟؟؟ قرآن میں اسکی تصریح یا اشارہ کہاں ہے؟ عقیدہ حیات و نزول عیسی کو عیسائیوں سے درآمد شدہ کہنے والے خود ناصرف حیات عیسی کے متعلق نصاری کے عقیدہ پر ایمان لائے ہوئے ہیں بلکہ انہیں الوہیت عیسی کےبھرپور دلائل بھی فراہم کررہے ہیں۔'سکالر اسلام 'کی دورخی کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف صاحب پرانے صحائف میں موسیقی کے تذکرے کی آیات کی تصدیق قرآن میں موجود داؤد علیہ السلام کے زبور پڑھنے کی آیات سے کرتے ہیں اور انہیں قرآن سے موسیقی کا اشارہ کہتے اور پرانے صحائف میں موجود موسیقی کے متعلق آیات کو انکی وضاحت کہہ کر موسیقی کو جائز قرار دیتے ہیں، دوسری طرف نزول عیسی علیہ السلام کے بارے میں انجیل اور قرآن میں موجود واضح دلائل کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں ۔ کتاب مقدس کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں :’’اورجب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا، اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آ کر کہاہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہو گا؟ یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار!کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے۔کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔‘‘ (متی۲۴ :۳۔۵)
 اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ۔
منکر حیات و نزول مسیح کے بارے میں علمائے امت کی رائے :۔
ہمارے ہاں قادیانی مسائل پر کی گئی پاکستان و ہندوستان کے جید علماء کی تحقیقات ہر دوسرے مذہب کے مسئلہ پر کی گئی تحقیقات سے ذیادہ ہیں، ہزاروں علماء نے جانی و مالی قربانیوں کے ساتھ نے قادیانی دلائل اور شبہات کے معقولی و منقولی انداز میں جوابات دے کر اپنے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا انتظام کیا ، ختم نبوت کے متعلق ایک ایک بات کو پرکھا ، تولا گیا، اس پر ہر رخ سے دلائل دیے گئے۔ ہزاروں صفحات کی سینکڑوں کتابیں موجود ہیں۔ مرزا قادیانی چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات و نزول کا بھی منکر تھا اس لیے اس مسئلہ پر بھی پہلے سے کافی تحقیق موجود ہے، جس سے یہ واضح ہے کہ عقیدہ حیات و نزول مسیح کا منکر ناصرف قرآنی دلائل کو جھٹلاتا ہے بلکہ متواتر احادیث کا بھی انکار کرتا ہے۔ برصغیر کے علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں عیسی علیہ السلام کےآسمانوں پر زندہ ہونے اور دوبارہ تشریف لانے کے منکر کو کافر قرار دیا، اس کے لیے عرب کے بڑے علماء سے بھی رائے لی گئی اور شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ جیسے عرب شیوخ نے بھی اس فتوی کی تائید کی ۔ خطرہ کی بات یہ ہے کہ غامدی صاحب قادیانیوں، پرویزیوں کی طرح اس مسئلہ میں بھی اپنی کم علمی، جدت پسندی اور تفرد کی وجہ سے نہ صرف خود کفر کی طرف جارہے ہیں بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی ایک بڑی اکثریت کو  بھی اپنے ساتھ لیے جارہے ہیں ۔ ۔ ۔

مکمل تحریر >>

بدھ، 6 نومبر، 2013

اجتہاد کی اجازت

’روشن خیال‘ لبرل اور سیکولر طبقہ کے   لوگ قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرنے میں  گھٹن محسوس کرتے اور اسےمذہبی  جمود کا نام دیتے ہیں، انکے خیال میں   امت مسلمہ کی  زبوں حالی، پس ماندگی  اور  ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہنے  کی وجہ  بھی  یہی  مذہبی جمود ہے  اوراس  كا ذمہ دار وه علمائے كرام كو ٹھہراتے ہیں کہ علمائے کرام  اجتہاد کے راستے میں رکاوٹ بن کر بیٹھ گئے  ہیں  اور اس  اجتہاد کے رک جانے کی وجہ سےمسلمان ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ان ترقی پسند بقراطوں  سے  کوئی پوچھے کہ  مسلم اسپین (اندلس) جسے یورپ سے بھی پہلے ترقی  نصیب ہوئی، کیا اس نے صرف علماء کے  اجتہادات کی بدولت ترقی کی تھی ؟ جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے  تو  کیا ہمیں یہ تحقیق کرنے اور پھر اس پر غور کرنے کی ضرورت نہیں کہ وہاں کے مسلمانوں نے  آخر وہ  کیا طریقہ اختیار کیا تھا کہ سپن' جیول آف دی ورلڈ' بنا اور  پھر وہ کیا  کمزوریاں تھیں جنکی وجہ سے اپنی تمام تر  سائنسی ومادی ترقی اپنی تمام تر شان وشوکت کے باوجود اندلس  زوال پذیر ہو گیا  تھا ؟ !!  تاریخ  سے سبق سیکھنے  کے بجائے  آج ان روشن خیالوں کے سامنے یورپ کے مذہب کو دفن کرنے کی واحد مثال ہی ترقی کی بنیاد ہے یہ اس بات کو بالکل نظر انداز کیے بیٹھے ہیں  کہ اس ترقی کی عمارت محکوم اقوام کے ریسورسز  ہتھیا کر تعمیر کی گئی  اور اس ترقی کی  پہلی سیڑھی نو آبادیاتی لوٹ مار اور  دو عالم گیر جنگیں  تھیں   جس میں کم از کم چار کروڑ افراد لقمہ اجل بنے اور  وہی نوآبادیاتی نظام  آج بھی سرمایہ دارانہ نظام  کی آڑ میں کام کرہا ہے، انکو یہ بھی بالکل نظر نہیں آرہا کہ آج مغربی ممالک کے عوام  مذہب کی  غلامی سے آزاد ہو کر سرمائے کے غلام بن کر رہ گئے ہیں، سرمایہ دارانہ نظام اور  ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منظم لوٹ مار اسی  ترقی کا ایک الم ناک باب ہے۔اقبال نے اسکی خوب منظر کشی کی تھی ۔
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی                 یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے                       ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو                  ہوس کی پنجہ خونیں میں تیغ کار زاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا جہاں میں جس تمدن کی بناءسرمایہ داری ہے
  جدیدیت پسندوں کے  منہ  سے  یہ دلیلیں  عام سننے کو ملتی   ہیں  کہ آج کی دنیا سائنسی دنیا ہے،تقاضے بدل گئے ہیں ، چودہ سو سال پرانے اسلام پر عمل کرنا ممکن نہیں رہا ،  لہذا   اجتہاد کیا جانا چاہیے۔عام لوگوں کو  بھی  یہ نعرے خوشنما لگتے ہیں کہ جی  ٹھیک ہی  کہہ رہے ہیں صحابہ کے دور کے مسائل اور آج کے دور کے مسائل میں فرق ہے ، اجتہاد کی اجازت ہے اس لیے  جدید دور کے مسائل کا قرآن و سنت  کی روشنی میں حل نکالا جانا چاہیے۔ جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہےیہ طبقہ ہرگز اس  قسم  کے اجتہاد کی  آواز نہیں لگارہا،اس  کو  اس اجتہاد کی  آواز لگانے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ  یہ اپنی ذاتی زندگی  میں  جدید معاملات تو درکنار  پرانے معاملات میں بھی نہ شرعی نقطہ نظردیکھتا ہے اور نہ  دیکھنا پسند کرتا ہے ، دوسری بات   یہ کام غیر محسوس طریقے سے ہر دور کے علماء کرتے آرہے ہیں،  تسلی بخش تحقیق اور فقہی ابحاث کے بعد   اس جدید دور کے بھی ہر مسئلہ میں  راہنمائی کردی گئی ہے۔ حقیقت میں  جدت پسندوں کی طرف سے جس اجتہاد پر اصرار کیا جاتا ہے  وہ ایسا اجتہاد ہے جو  انکے فکری و عملی انحرافات کو مذہبی جواز فراہم کردے ، اسلام کے جو احکام  انہیں 'اوکھے ' لگتے ہیں اور  جو عیاشی کے کام اسلام نے حرام قرار دیے  ہوئےہیں انہیں حلال نہیں تو کم از کم مستحب یا مکروہ ہی تسلیم کرلیاجائے، اجتہاد   ایسا  ہو جو انکے ساتھ  پورے معاشرے کو   بھی مغربی لوگوں کی طرح ہر مذہبی پابندی  سے آزاد کردے۔اسی لیے یہ  دین کی موجودہ شکل کی پیروی کو روایت پسندی کہتے ،  اسلامی حدود  کو سخت اور انسانی حقوق کے خلاف کہتے نظر آتے ہیں   ، مزید  گہرائی میں انکی   بات کو سنا  اور پرکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انکا مطالبہ اجتہاد کا نہیں بلکہ  تجدید  دین کا ہے  وہ بھی  اس طریق پر کہ اپنے تہذیبی اور علمی ورثے کوبالکل  چھوڑ کر  ہر مسئلہ کو از سر نو تحقیق و تجربہ کا موضوع بنایا جائے اور   دین کو سمجھنے کے لیے  نئے سرے سے قانون سازی کی جائے۔اس کا ایک طریقہ  جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب یہ  بیان کرتے ہیں کہ  ایک نئی فقہ پارلیمنٹ کے ذریعے بنائی جائے‘ جس میں امامیہ‘ حنفی ‘ مالکی وغیرہ سب مکاتب فکر شامل ہوں‘ جس میں ہر کوئی اپنی پسند کے مطابق اپنے مسئلے کاحل نکال لے۔ !! کچھ مفکرین  یہ دلیل دیتے نظر آتے ہیں کہ   عقائد ہوں یا نظریات سب وقت کے ساتھ expire ہو جاتے ہیں، اس لیے ان فرسودہ تعلیمات سے جان چھڑائی جائے ۔ اس کے لیے  کوئی  ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ      دین کا نام  تو اسلام ہی  رہے اور ہمیں بھی لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور مسلمان کہیں  بس (یہودیت او ر عیسائیت کی طرح) اسلام کی اصل  تعلیمات و تشریحات کو  کہیں دفن کرکے  اسلام کا ایک جدید ورژن متعارف کروایا جائے ۔ اس کا طریقہ جاوید   غامدی صاحب  یہ تجویز فرماتے ہیں  کہ  دین کی تشریح قرآن و سنت واجماع  صحابہ و امت  کے بجائے  عقل و اصول  فطرت  کی روشنی میں کی جانی  چاہیے،  جو چیز بندے کی فطر ت سے مناسبت رکھتی نظر آئے  اسے جائز ہونا چاہیے، جو عقل میں آئے اسے دین ہونا چاہیے  ۔۔  معروف و منکر،  حلال و حرام  کی پہچان اور تمیز کے  جو قوانین اسلام نے بتائے ہیں ان کو چھوڑ کر  انسانی  فطرت کو سامنے رکھ کر انکا  فیصلہ کیا جانا چاہیے ،  مغرب کی طرف سے اسلام کی جن جن باتوں پر اعتراض آرہے ہیں انکا جواب دینے میں ٹائم ضائع کرنے بجائے ان  باتوں کو   ہی بدل دیا جائے ،  دین  کو موم کی طرح ادھر ادھر مروڑتے  ہوئے  بالکل ایسے زاویے پر فٹ کردیا جائے  کہ یہ  نہ  کسی باطل  کو ہٹ کرے نہ کسی مخالف کو برا لگے۔ یہی  انکا نظریہ جہاد ،  نظریہ اتحاد و رواداری مذاہب  اور یہی انکے اسلامی حدود و قوانین پر اٹھائے گئے  اعتراضات کی بنیا د بھی ہے۔ جو سوچ ہمارے آج کے جدت پسندوں اور متجددین کی ہے وہی  سر سید اوران کے رفقاء  کی تھی کہ  انگریر سر کار   کو سجدہ کیے اور اسکی تہذیب کو اپنائے بغیر  مسلمانان ہند  کبھی ترقی نہیں کرسکتے،سرسید  ایک جگہ لکھتے ہیں:
”جو شخص قومی ہمدردی سے اور دور اندیشی سے غو رکرے گا وہ جانے گا کہ ہندوستان کی ترقی ، کیا عملی اور کیا اخلاقی، صرف مغربی علوم میں اعلیٰ درجہ کی ترقی حاصل کرنے پر منحصر ہے۔ اگر ہم اپنی اصلی ترقی چاہتے ہیں، ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان تک بھول جائیں، تمام مشرقی علوم کو نسیا منسیا کردیں، ہماری زبان یورپ کی اعلیٰ زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہوجائے ، یورپ ہی کے ترقی یافتہ علوم دن رات ہمارے دست وپاہوں، ہمارے دما غ یورپین خیالات سے (بجز مذہب کے) لبریز ہوں، ہم اپنی قدر ، اپنی عزت کی قدر خود آپ کرنی سیکھیں، ہم گورنمنٹ انگریزی کے ہمیشہ خیرخواہ رہیں اور اس کو اپنا محسن ومربی سمجھیں۔“ ( مقالات سرسید ج5، ص:66)
  یہ ایک حقیقت ہے کہ برصغیر پاک و ہند    میں    ان دو صدیوں میں جس  نے بھی  الحاد و  تجدید دین کی آواز لگائی اگر  اسکے کے علمی وفکری نسب کو دیکھا جائے تو اسکی کڑی کہیں نہ کہیں سرسید احمد خان سے جا ملتی ہے ۔ ان کی پیروی میں دوبڑے  فکری سلسلوں نے اس فتنے کو پروان چڑھایا۔ ایک سلسلہ عبداللہ چکڑالوی اور اسلم جیراج پوری سے ہوتا ہوا غلام احمد پرویز تک پہنچا ،  دوسرا سلسلہ حمید الدین فراہی اور امین احسن اصلاحی سے گزرتا ہوا جاوید احمد غامدی تک آیا۔ ان میں سے پرویزی سلسلہ نے اپنے عقائد و نظریات کی اشاعت میں تقیہ کرنے کے بجائے صاف گوئی اور   بے باکی  سے کام لیا ، اسی وجہ سے انکے نظریات کا  پوری طرح نقد بھی   ہوسکا  اور انکا کفر و اعتزال عوام کے سامنے واضح  ہوا۔ غامدی  مکتبہ  فکر نے اس  سلسلے کے لوگوں کیساتھ ہونے والے سلوک کو  دیکھتے ہوئے   بیچ کی راہ اختیار کی ہےوہ یہ کہ یہ      ”صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں“ ۔ یہ   دین   پر ہونے والی  چودہ سو سالہ تحقیقات،  تشریحات اور ان گہری تحقیقات کے نتیجے میں بننے والے اصول و قوانین    کے مقابلے میں اپنی تشریحات اور اصولوں کو اس طریقہ  سے متعارف کروانے کی کوشش میں  ہیں  کہ انکا  انکار شریعت واضح  نہ ہو جسکی بنیاد پر    کوئی  ان پرصریح  فتوی بھی نہ لگایا جاسکے جس طرح غلام قادیانی اور غلام پرویز پر لگا یا گیا۔!!  مثلا جناب غامدی صاحب  وحی، کتاب، سنت، تواتر، فطرت، اجماع، معروف، منکر اور عرف جیسی بہت سی اسلامی اصطلاحات  کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم انکو مانتے ہیں  لیکن  ان کے مفاہیم اپنی طرف سے بیان کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ  کوشش کرتے ہیں کہ  عام چھوٹے مسائل میں  سلف سے ہی رابطہ استوار رکھا جائے تا کہ کوئی بالکل یہ نہ سمجھ لے کہ یہ پرویزیوں کی طرح  بالکل کوئی نیا دین متعارف کروانے جارہے ہیں ۔   جن مسائل  میں   انکے لیے اسلاف کے دیے گئے قرآن و حدیث پر مبنی   دلائل  کا انکار ممکن نہیں ہوتا  ان مسائل  میں  اپنے قائم کیے گئے موقف کی   دلیل عموما   قرآن و حدیث کے  بجائے لغت، فطرت انسانی، پرانے صحائف وغیرہ سے لاتے  ہیں ، موقف پر کوئی اعتراض آجائے تو  پہلے پورا زور لگا کر اسکا دفاع کرتے ہیں، قرآن کی بات ہو تو کہہ دیتے ہیں یہ اس زمانہ کے ساتھ  مخصوص تھی، حدیث کی بات ہو تو  کسی دوسری حدیث کے ذومعنی لفظ  کو لے کر تاویل کرجاتے ہیں یا اسکے  قرآن کے خلاف ہونے کا دعوی کردیتے ہیں ،  ایک طرف  مسئلہ رجم، حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات و آمد ثانی، عورت  کے پردے، موسیقی، مجسمہ سازی، مرتد کی سزا،  قرات قرآنیہ کے بارے میں احادیث کے ساتھ   فقہاء کے فہم  کو بھی ٹھکراتے نظر ہیں  ،  دوسری طرف اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہیں پھنس جائیں  ہیں تو فقہاء کی ہی  شاذ آر اء کو  اپنے موقف کی تائید کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ اگر   پھر بھی بات نہ  بنے   تورسالہ یا  کتاب کے اگلے ایڈیشن میں اپنا موقف ہی بدل دیتے ہیں  اور اسکو اپنی  سوچ کے ارتقاء کا نام دیتے ہیں ، اسی 'ارتقاءئی' سفر میں جناب غامدی صا حب    78ء سے 2005ء تک  صرف سنت پر چودہ موقف بدل چکے ہیں۔ کبھی عورت کی ختنہ، ڈاڑھی ، طلاق ، تیمم، نماز عید، نماز جمعہ سنت تھی اب نہیں رہی، پہلے نماز، روزہ، زکوۃ سنت تھی پھر فرض بن گئی ، اسی طرح  پہلے جمہوریت نظام کفر و شرک تھا آج دنیا کا عظیم ترین بلکہ الہامی نظام ہوگیا۔ ۔ چلے تو تھے  چودہ سو سال سے اسلام پر ہونے والی تنقیدات اور پھر انکے ردعمل میں ہونے والی  تحقیقات اور   اصلاحات   کے بعد اپنی مچور سطح تک پہنچ جانے والے شرعی مسائل کے مقابلے میں نئے سرے سے  پورے  دین  کا  ایک نیا ایڈیشن متعارف کروانے ،  لیکن تیس  سال  سنت اعمال کا تعین کرنے میں ہی  لگ گئے۔   ایک طرف جناب کا  علم اور تحقیق  اتنی  نابالغ  ہے  کہ  بنیادی تصور دین  میں ہی  ہر نئے دور کے ساتھ  تبدیلی در آتی ہے  دوسری طرف ناصرف  ہر ترمیم پر  دعوائے  قطعیت کرتے ہیں  بلکہ  جید صحابہ  و فقہاء کے فہم پر اعتراض اور پھر   اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لیے انکے بارے میں توہین آمیز کلمات کہنے سے بھی نہیں ڈرتے۔
 شرعی اجتہاد کی تعریف اور  حدود:
اجتہاد کے بارے میں ہمارے ان  تجدد پسند سکالروں  نے کئی قسم کی غلط فہمیاں پھیلا رکھی ہیں ۔ ایک بنیادی غلط فہمی انکی طرف سے   اسکی تعریف  میں پھیلائی گئی  ہے۔  انکے نزدیک  لفظ ” اجتہاد“ کے معنی کوشش کرنا او ر مفہوم آزادرائے دینا ہے۔ یہیں سے غلطی کا آغاز ہوتا ہے ا وراس بنیاد پر جو عمارت کھڑی ہوتی ہے ، وہ بھی غلطیوں کا مجموعہ ہوتی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ شرعی اجتہاد محض کوشش کرنے اور رائے زنی کا نام نہیں، نہ اجتہاد کا مطلب کسی  پرانے حکم کو منسوخ کرکے نیا حکم گھڑناہے بلکہ  شریعت کے ایک حکم سے دوسرا  حکم نکالنا ہوتا ہے۔ کسی بھی  درپیش مسئلہ، جس کے بارے میں واضح حکم شرعی کتاب وسنت میں موجود نہیں، اس کا حل مآخذ شریعت کی چھان پھٹک کرکے، نظائر وامثال پر غور وفکر کے بعد پیش کرنا ” شرعی اجتہاد“ کہلاتا ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ پھیلائی گئی ہے  کہ شاید آزادانہ اجتہاد کی حدود میں تمام مسلمات شریعت بھی داخل ہیں  حالاں کہ جن مسائل میں نصوص قطعیہ موجود ہوں وہ ہر دور میں دائرہ اجتہاد سے خارج ہیں ، اجتہاد صرف ان مسائل تک محدود ہے جو نہ منصوص (وہ احکام جو  واضح طور پر قرآن یا حدیث میں بیان کیے  گئے ہوں)ہوں نہ اجماعی(جنکے ایک  حل اور تشریح پر ہر دور کے علمائے امت تحقیق کے بعد متفق چلے آرہے ہیں )۔ آسان لفظوں میں  قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں جو واضح اور  منصوص احکام شرعیہ آگئے ہیں ،وہ امت کے لئے ہرحالت میں واجب الاطاعت ہیں اور اجتہاد کے دائرے سے بالاتر ہیں۔ہاں  اگر احادیث میں کچھ تعارض ہے یا قرآن کریم کی دلالت قطعی موجود نہیں ہے ، نہ علمائے امت کا ایسے مسائل میں کوئی اجماع موجود ہے  جیسے وہ مسائل جو جدید تمدن نے پیدا کئے ہیں اور  سابقہ فقہ اسلامی کے ذخیرہ میں ان کا ذکر نہیں ہے، نہ نفیاً نہ اثباتاً، یا  وہ  مجتہد فیہ مسائل  ہیں  ( وہ عملی اور فروعی احکام جن میں کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو) ان میں اجتہاد کی اجازت ہے ۔ شریعت کی روشنی  میں ان مشکلات کو حل کرنا اور جدید تقاضوں کو پورا کرنا دور کے اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والے  علماء کا فریضہ ہوتا ہے اور وہ ان مسائل کا قیاس واجتہاد سے قدیم ذخیرہ کی روشنی میں فیصلہ کرتے ہیں۔
شرائط مجتہد  و اجتہاد:
عہدِ رسالت میں مسائل کا حل قرآن تھا یا فرمان نبوی ، دورنبوت کے بعد فتوحات اسلامیہ کے ساتھ نئے مسائل نے سر اُٹھایا تو ان کے حل کے لیے فقہاء نے قرآن و سنت کو سامنے رکھتے ہوئے قواعد وضوابط مرتب کیے اور نئے مسائل کے” اجتہادی“  حل تجویز کیے ، ان میں سے چار فقہی مذاہب مستقل  مدون ہوئے اور   فقہ حنفی، فقہ مالکی، فقہ شافعی اور  فقہ حنبلی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ تشریع اسلامی کی تاریخ،  فقہی دور کی تکمیل اور ہر زمانے میں جدید مسائل پر کتابوں کی تصنیف اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ جن مسائل میں کتاب سنت کے نصوص موجود نہیں ان میں اجتہاد کا دروازہ ہر وقت کھلاہےچنانچہ امت اسی اصول پر کار بند رہی اور یہی آج تک یہی روایت چلی آرہی ہے۔ ۔ دوسری بات جدیدیت پسندوں کی طرف سے جو اجتہاد پر اصرار کیا جاتا ہے اور جس طرح عام لوگوں کو اجتہاد کی رغبت دلائی جاتی ہے  اس  سےبعض  اوقات  یہ محسوس ہوتا ہےکہ شاید اجتہاد کوئی عبادت ہے  جسکا یہ لوگوں کو شوق دلارہے ہیں،  حالانکہ کہ اجتہاد ایک بڑی ذمہ داری ہے اور اسکی سخت شرائط ہیں ۔شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اپنی کتابوں میں اجتہاد کی چند  شرائط کا ذکر کیا ہے جنکاایک  مجتہد میں پایا جانا ضروری ہے ۔
1. عربی لغت سے اتنی واقفیت ہو کہ کسی بھی عربی کلام کے معنی بخوبی سمجھ سکے۔
2. قرآن وحدیث سے ماخوذ ان علوم سے واقفیت ہو جن کے بغیر عربی کلام کے معنی سمجھ نہیں آسکتے۔
3. قرآن ، حدیث ،  اجماع امت اور  امت کے اجماعی واجتہادی مسائل جو پہلے سے طے کیے جاچکے انکا مکمل علم  ہو۔
4. فقہ اسلامی کی کتابوں سے واقفیت اور فہم کتاب و سنت کے لیے جن علوم کی ضرورت ہے ،ان میں مہارت ہو خصوصاعلم اصول فقہ میں کامل بصیرت ہونی چاہیئے اس کے بغیر ایک قدم بھی  آگے نہیں چلا جاسکتا ۔
5. ان آیات و روایات کا علم ہو جن میں احکام کا بیان ہے، یہ تقریبا پانچ سو آیات اور تین ہزار احادیث ہیں۔
6. اجتہاد کے اصول وقواعد، احکام شرع کے مصالح ومقاصد،  ماحول ومعاشرے اور زمانے کے حالات وضروریات کا علم ہو۔
7. بالغ نظری اور دقیقہ رسی کے ساتھ تقوی،خشیت الہیہ اور دین خداوندی کے ساتھ کامل اخلاص موجود ہو ۔
8. دلائل پر غور وفکر کرکے احکام کے استنباط کا ملکہ بھی ہو، اسے ”فقہ النفس“ بھی کہا جاتا ہے۔
9. ایسے یکتا اشخاص کا وجود جو ان مجتہدانہ صفات میں کامل ہوں ، موجود دور میں  بیحد مشکل ہے ،اس لیے ”شخصی رائے “کی کمی کو جماعت کی آراء سے پورا  کرنے  کے لیے شورائی اجتہاد کا اہتمام ہو ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی  امت کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ جدید مسائل میں انفرادی رائے کی بجائے ”فقہاوعابدین“سے مشورہ کیا جائے ” (کنزالعمال حدیث نمبر: ۴۱۸۸)۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فقیہہ الامت ہونے کے باوجود ،انفرادی اجتہاد نہیں کیا بلکہ اس مقصد کے لیے ایسے چالیس افرا د کی جما عت تشکیل کی جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ یکتائے زمانہ تھا جیسا کے الموفق نے ”مناقب ابی حنیفہ رحمہ اللہ “میں ذکر کیا ہے ۔)حجۃاللہ البالغہ باب الفریق بین المصالح و الشرائع، عقد الجید ) 
یہ  چند شرائط  ہیں   جنکا ایک مجتہد میں پایا جانا ضروری ہے اب اگر انکو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ دور کے  ان سیلف میڈ عظیم  مجتہدین یا مجددین   کی  علمی حالت چیک کی جائے اور یہ دیکھا  جائے  کہ  کیا  ان میں  اجتہاد کی صلاحیت یا  مجتہد  کی کوئی شرط پائی جاتی ہے  تو  تحقیق کرنے کے بعد پتا چلتا ہے  کہ  علوم شریعہ  میں رسوخ تو دور کی بات  کسی نےدین کی باقائدہ تعلیم بھی  حاصل نہیں کی ہوئی،  اکثر  صرف بی اے ، ایم اے کرکے ڈاکٹر کا سابقہ  لگا کر عینک اور واسکٹ  پہن کر ٹی وی پر آبیٹھے ہیں  اور انکی تحقیق کیا ہیں بھان متی کا کنبہ ہیں،  سارے ماخذ دین   کو سامنے رکھتے ہوئے نئے مسائل کے حل کے بارے میں ایک رائے قائم  کرنے کی صلاحیت تو  درکنار اکثر اتنی قابلیت بھی نہیں رکھتے کہ  بغیر ترجمہ کے قرآن و حدیث کا مطالعہ کرسکیں، یا دو سطریں عربی میں صحیح لکھ سکیں پھر  بھی جرات اختلاف   اتنی ہے کہ   فقہائے امت اور صحابہ کے فہم  کو غلط قرار دے جاتے  ہیں ، اجتہادی کوششیں صرف   فروعی یا  اجتہادی مسائل  میں  بھی  نہیں کہ انکو کسی درجہ  میں  اختلاف کی اجازت دی جاسکے    بلکہ متفقہ و منصوص مسائل کو  اختلافی بنانے کے لیے  ہیں  ۔ سارے اختلاف کی وجہ کیا ہے ؟  محض جدت پسندی ، احساس کمتری اور تن آسانی۔ اس کے لیے مذاہب فقہا سے چھانٹ چھانٹ کر رخصتیں تلاش کرتے  اور قرآن و حدیث کی معنوی تحریف کرتے ہیں ۔ اجتہاد کی علمی بنیاد کیا ہے  ؟ دو ڈھائی سو  اردو میں لکھی ہوئی یا  اردو انگریزی میں   ترجمہ شدہ کتابیں، چار پانچ ڈکشنریاں  اور ایک بہکا ہوا نفس اور عقل ۔عموما ساری جرات اور اجتہاد  کا  انحصار صرف  عقل  پر ہوتا ہے۔ ہم مانتے ہیں   بلاشبہ عقل نور فروزاں ہے مگر اس کے لیے ایک خاص دائرہ ہے ۔ عقل ان امور کا ادراک نہیں کر سکتی جو وحی کی آنکھ سے نظر آتے ہیں۔ عقل کے لیے یہی فخر  کافی ہے کہ وہ وحی کےبیان کردہ حقائق کا ٹھیک ٹھیک ادراک کر لےاور ان حقائق کی بلندحکمتوں ،گہری مصلحتوں اور باریک اسرار و علل کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو جائے ۔ جس طرح  نصوص وحی کے نہ ہونے کی صورت میں بھی عقل  سےکا م نہ لینا نری حماقت اور کوتاہی ہے اسی  طرح منصوص وحی کے ہوتے ہوئے بھی عقل کو ہر چیز میں مقدم رکھنا بڑی گھناؤنی جسارت ہے۔ صحیح راستہ ان دونوں کے درمیان سے گزرتا ہےاور وہی صراط مستقیم ہے ۔
مکمل تحریر >>

اتوار، 22 ستمبر، 2013

غامدی صاحب کا علمی مقام

پچھلی تحریر میں غامدی صاحب کے پیش کیے گئے تعارف پر کچھ دوستوں نے اعتراض کیا کہ کسی مذہبی سکالر کے بارے میں ایسے القاب استعمال نہیں کرنے چاہیے, انکا اختلاف فقہی ہے اور فقہ میں اختلاف کی گنجائش ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تحریر میں غامدی صاحب کے متعلق ہم نے اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں لکھا تھا صرف ان کے اساتذہ، ان کے پرانے نام اور عرف کا تذکرہ کیا تھا، یہ سب باتیں غامدی صاحب کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اب اگر غامدی صاحب کے پرانےنام اور عرف کا تذکرہ انکے کسی عاشق کو برا لگتا ہے تو اس میں ہمارا قصور نہیں (ویسے غامدی صاحب نے اپنی کتاب 'برہان' میں علماء، مذہبی جماعتوں کے قائدین، فقہاء کے بارے میں تنقید کرتے وقت طنزو تضحیک کا جو اسلوب اختیار کیا ہے،کم از کم اسکی موجودگی میں ان کے قارئین وسامعین کو کسی کے غامدی صاحب کے خلاف لکھے گئے سخت الفاظ پر اخلاقیات کے درس نہیں دینے چاہیے)۔ دوسری بات کیا غامدی صاحب واقعی ایک جید عالم یا مذہبی سکالر ہیں یا انکو دینی علوم میں اتنا رسوخ حاصل ہے کہ انکو فقہاء امت کے ساتھ اختلاف کرنے ، انکی تحقیق کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کرنے ،انکو اصل حقیقت سے لاعلم اور جاہل قرار دینے، امت کے چودہ سوسالہ متفقہ مسائل کو رد کرنے کا حق حاصل ہے؟؟ انکے کئی قارئین ، سامعین اور تلامذین بھی یہ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ غامدی صاحب دینی و دنیاوی دونوں علوم پر مکمل عبوررکھتے ہیں، صاحب کو عربی خصوصا قرآنی علوم میں تو کمال حاصل ہے ، انگریزی ادب ہو یا جدید سائنسی علوم غامدی صاحب کا انکے متعلق علم پاکستان کے کسی بھی دوسرے عالم، مولوی، مذہبی سکالر سے ذیادہ ہے۔۔!!آیئے! تعصب اور جانبداری کو ایک طرف رکھتے ہوئے ''مجتہدعصر'' کے متعلق ان دعووں کا کھلے دل اور کھلی نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔ اگر ان باتوں کی حقیقت آشکارا ہوجائے تو ان کے بقیہ اُٹھائے ہوئے مباحث کی حقیقت سمجھنا کچھ مشکل نہ ہوگا۔ ہم نے اپنی اس تحریر میں کوشش کی ہے کہ صرف ضروری باتیں ہی کیں جائیں کیونکہ یہ کوئی مقالہ تو ہے نہیں، بات سمجھنے سمجھانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ جتنی صاف ستھری، براہ راست اور پیچیدگی سے پاک ہو اتنی ہی مفید رہے گی لیکن موضوع ایساہے کہ تحریر نہ چاہتے ہوئے بھی طویل ہوگئی ہے اس پر ہم معذرت خواہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اسے میری قوم کے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔
غامدی صاحب کی عربی دانی:.
 خود غامدی صاحب اور ان کے شاگردوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ''اسلامی دنیا میں ان کے پائے کا عربی دان اور عربی زبان وادب پر عبور رکھنے والا کوئی شخص نہیں نیز یہ کہ بڑے بڑے عرب علما ان سے استفادے کے لیے آتے ہیں اور جب غامدی صاحب عربی کے اسباق دیتے ہیں تو یہ علمائے عرب لغت کھول لیتے اور دانتوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں۔'' جب یہ تعلی اور تکبر اہل علم کے سامنے آیا تو انہوں نے اس کی حقیقت بیا ن کرنا اپنا فرض سمجھا۔چنانچہ چند سال پہلے کراچی سے شائع ہونے والے ایک ماہنامے ''ساحل'' (اپریل ومئی 2007) میں مشہور محقق ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی کا تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے۔ سچ پوچھیے تو بڑے خاصے کی چیز ہے ، پڑھا تو لطف آگیا۔ لکھنویوں کی اردو، ندویوں کا انداز تحریر اور پھر پچاس سال سے عربی لکھنے لکھانے، پڑھنے پڑھانے والے صاحب علم کی طرف سے محاسبہ ومحاکمہ۔ پڑھتے جایئے اور سر دھنتے جائیے۔غامدی صاحب کی عربی دانی پر تبصرے سے پہلے ماہنامے کے اداریے سے چند سطریں پڑھ لیجیے تاکہ پس منظر وپیش منظر سمجھنے میں آسانی ہو:
 ''اس دعوی کے جائزے کے لیے ہم نے جاوید غامدی صاحب کے مطبوعہ کام کا بالاستیعاب مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ اپنی ساٹھ سالہ علمی زندگی میں انہوں نے صرف ایک سو بائیس صفحات عربی میں لکھے تھے۔ ان میں سے صرف بائیس صفحات رسالہ ''الاعلام'' میں محفوظ ہیں جبکہ بقیہ سو صفحات جو عربی تفسیر ''الاشراق'' اور ''میراث'' پر ایک علمی رسالے کے لیے لکھے گئے تھے، غامدی صاحب نے ضائع کردیے کیونکہ ان کے قلم سے لکھی گئی عربی ان کے عجمی محض ہونے کی داستان، بڑے کروفر سے سنارہی تھی۔ اس کے باوجود ''المورد'' کی ویب سائٹ پر انہیں الاشراق، مثنوی، خیال و خامہ اور باقیات کا مصنف ظاہر کیا گیا ہے جبکہ یہ تصانیف آج تک شائع نہیں ہوئیں۔ بائیس صفحات کے ایک ایک سطر اور ایک ایک جملے میں عربی قواعد، املا، انشا، زبان، بیان، صرف نحو کی بے شمار غلطیاں اسی طرح در آئی ہیں جس طرح ان کے فکر و نظر اعتقادات اور ایمانیات میں اغلاط اور الحاد کا گردو غبار داخل ہوگیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ 1982ء میں لکھی گئی یہ غلط سلط عربی تحریر 5 اپریل 2007ء تک المورد کی ویب سائٹ پر جوں کی توں موجود تھی یعنی ستائیس سال میں بھی غامدی صاحب اور ان کے حلقے کی عربی دانی کا ارتقا نہ ہوسکا"۔
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)
 غامدی صاحب نے الاعلام میں عربی دانی کے جو جوہر دکھائے تھے ان پر ڈاکٹر رضوان علی ندوی کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے۔
''ان مختصر عربی مضامین کے بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے اندازبیان میں وہ عیب ہے جو عربی زبان میں ''عجمہ'' یعنی عجمیت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ان کی عربی تحریریں پڑھ کر یہ احساس ابھرتا ہے کہ مصنف عربی زبان کے عصری اسلوب سے بے خبر ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی طالب علم کے سامنے قدیم عربی کی کتابیں ہیں وہ ان کے جملے، تشبیہات و استعارات اپنی تحریر میں منتقل کررہا ہے۔ عربی نثرنحوی اغلاط سے پر ہے۔ ان کی تحریروں میں نحو یعنی قواعد زبان کی ایسی غلطیاں ہیں کہ کسی عربی کالج و اسکول کا لڑکا بھی نہیں کرے گا۔ بلکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے شائع ہونے والے عربی ماہنامے البعث الاسلامی میں لکھنے والے نوجوان ندوی بھی ایسی اغلاط نہیں کرتے۔ "

 اسالیب عربی سے لاعلم یہ عجمی جو ایک مختصر نثر پارہ درست عربی میں لکھنے پر قادر نہیں، اپنے غرور علم میں صحابہ کبار، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، ائمہ، مفسرین اور ماہرین لغت کی عربی دانی کو حقارت سے رد کرتا ہے۔منسکہ تصویر میں آخری لائن میں والسماء ذات الحبک پر تبصرہ گزر چکا ، اسی کے آگے موصوف لکھتے ہیں: واما الذین قالو ان المراد بہ نجوم السمائ، فانہم لم یتتبعوا کلام العرب حق التتبع، ولم یتأ ملوفیما یقتضی موقعہ ہنا، فلم یتبین لہم معناہ، فاخطاؤا وجہ الصواب.''اور جن لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد آسمان کے ستارے ہیں تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کلام عرب کی اچھی طرح چھان بین نہیں کی اور نہ اس پر غور کیا کہ یہاں کس بات کا موقع و محل ہے۔ اس لیے انہیں اس (ذات الحبک) کے معنی سمجھ میں نہیں آئے اور وہ غلطی کے مرتکب ہوئے"۔غامدی صاحب نے جن لوگوں کو کلام عرب سے جاہل کہا ہیں وہ نسلی عرب اور مشہور آئمہ تفسیر امام حسن بصری و سعید بن جبیر جیسے تابعین اور طبری و زمخشری جیسے ادیب و ماہرین لغت و مفسرین قرآن ہیں ۔ (ملاحظہ ہو: اس آیت قرآن کی تفسیر طبری اور زمخشری میں) ۔
غامدی صاحب کے سرپر ایک زمانے میں قرآن کریم کے مقابلے میں آیات سازی کا جنون بھی سوار تھا اور انہوں نے اپنے پاس سے چالیس مہمل، بے ربط اور رکیک جملے گھڑ کر انہیں آیات کا نام دے رکھا تھا اور اسے محفلوں میں سنایا کرتے تھے۔ اس روداد کے نقل کے لیے ہم ایک مرتبہ پھر ماہنامہ ''ساحل'' کے مشکور ہیں۔ صفحہ بہت پرانا تھا اس لیے صحیح سکین نہیں ہوسکا۔ ملاحظہ ہو:
 1975ء میں جناب غامدی صاحب ممتاز اہل حدیث عالم علامہ ساجد میر کے بھانجے ڈاکٹر مستنصر میر کی دعوت پر سیالکوٹ تشریف لائے۔ ایک محفل میں جناب غامدی نے قرآن کی وہ چالیس آیات پیش فرمائیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ قرآن کے چیلنج کا جواب ہے، چالیس فرضی آیات کی مجلس میں راقم بھی حاضر تھا۔ اس کے علاوہ اسد صدیقی، ڈاکٹر سہیل طفیل، برادر مستنصر میر، ڈاکٹر مستنصر میر، ڈاکٹر منصور الحمید، اسد صدیقی اور دیگر رفقائے خاص اس موقع پر موجود تھے۔ غامدی صاحب نے بعدازاں یہ آیتیں کتابی شکل میں اشاعت کے لیے منڈی مریدکے ایک کاتب سے کتابت بھی کرائی تھیں لیکن کتابت بہت ناقص تھی لہٰذا مسودہ روک دیا گیا۔ دریں اثنا ڈاکٹر مستنصر میر کی زجروتوبیخ کے باعث غامدی صاحب نے مسودہ ضائع کردیا ۔ راقم کے پاس اس مسودے کا ایک ٹکڑا محفوظ رہ گیا تھا۔ حاضر ہے۔ ترجمہ غامدی صاحب کے قلم سےہے:
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)

‘‘اقسم بخالق الخیل، والریح الھابة بلیل بین الشرط ومطالع سھیل،ان الکافرلطویل الویل ،وان العمر لمکفوف الذیل ،اقز مدارج السیل وطائع التوبة من قبیل ،تنج وما اخالک بناج’’

تصویری فائل میں غامدی صاحب کی عربی دانی کا حال آپ نے ملاحظہ فرمایا، اس ٹکڑہ اور اسکے ترجمہ کتنی غلطیاں ہیں مضمون کی طوالت کے ڈرسے اس پر ہم تبصرہ نہیں کرتے ۔ غلطیاں محض تعبیر واسلوب کی نہیں کہ کوئی کہہ سکے اس طرح کی اصلاح تو ہر ایک کے کلام پر ہوسکتی ہے۔۔۔ نہ حضور نہ۔۔۔۔ یہ غلطیاں اس قسم کی ہیں کہ درجہ اولیٰ کے طالب علم دیکھیں تو انگلیاں دانتوں تلے دبالیں اور منتہی طلبہ پڑھیں تو انہیں زمین آسمان کی نبضیں تھمتی محسوس ہوں۔ آزمائش شرط ہے اور ثبوت کے طورپر مزید ایک صفحہ پیش خدمت ہے جس پر محترم ڈاکٹر رضوان ندوی صاحب کی اصلاح موجود ہے۔ یوں تو پورا صفحہ پڑھنے کے بجائے ایک نظر ڈالنا کافی ہے کہ غلطیاں یوں بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کسی چیچک زدہ منہ پر پھیلے ہوئے مواد بھرے دانے۔ اتنی درخواست ہے کہ پہلے صفحہ کا آخری جملہ اور اس پر ڈاکٹر ندوی صاحب کا تبصرہ ضرور پڑھ لیجیے۔ طبیعت باغ باغ ہوجائے گی۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)

''فبھذا السبب کان عمل أعضاء ھذا النوع من الأحزاب أن یقضوا طیلۃ حیاتہم لحصول النجاۃ من سوء نتائج حسابھم ھذا.''

پڑھیے اور داد دیجیے کہ ایسی بے معنی، مہمل، بھونڈی، رکیک اور جملہ عیوب سے آراستہ عربیت اور اس پر متکبرانہ دعوی کہ غامدی مکتب فکر ہی عصر حاضر کا وہ طبقہ ہے جو قرآن کی روح سے واقف اور اس کے مزاج سے آشنا ہے۔ خودساختہ فتنہ انگیز مسائل پر دانش وری بگھارنا صرف اس کا حق ہے، آنے والا دور صرف ان کا ہے اور دبستان شبلی کا واحد اور حقیقی جانشین صرف وہی ہے۔اسلامی علوم اور عربیت میں غامدی صاحب اور ان کے لائق شاگردوں (جو 27 سال میں اپنے استاذ کی لکھی ہوئی چند سطریں پڑھ کر ان کی اصلاح نہ کرسکے) کی اہلیت ومہارت آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ اسی سے ان کے فتویٰ نما دعوؤں کی علمی حیثیت اور شرعی مسائل پر مجتہدانہ تبصروں کی حقیقت آپ پر واضح ہوگئی ہوگی۔

غامدی صاحب کی قرآن فہمی:.
 یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ علوم عربیت سے غامدی صاحب کی واقفیت کس قدر ہے؟ آیئے! آج ذرا قرآن فہمی کے حوالے سے ان کے کام کا جائزہ لیتے ہیں جو ان کی تمام کاوشوں کی بنیاد اور سہارا ہے۔ قرآن فہمی کے جھوٹے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے ان کا پہلا اور آخری سہارا عربیت دانی کا دعویٰ ہے کہ وہ عربی لغت اور ادب عربی کو اتنا اچھا سمجھتے ہیں کہ اس کے سہارے قرآن کے معنی و مفاہیم کو خود سے متعین کرسکتے ہیں۔ چاہے اس سے اجماع کا انکار ہو، اسلام کے مسلمہ احکام کی تردید کرنا پڑے یا پھر سرے سے خود قرآن ہی سے ہاتھ دھولیا جائے۔ آنجناب کو ''عربی معلی'' (بامحاورہ عربی) جاننے کا بڑا زعم ہے اور ان کا یہ فرمان مستند سمجھا جاتا ہے کہ خالص عربیت کو سامنے رکھ کر قرآن کا معنی متعین کرنے میں ان کا مدمقابل کوئی نہیں ہے۔ یہ دعوی اتنا ہی لچر اور بے اصل ہے جتنی آنجناب کی عربی سے واقفیت کا زعم۔ ہم اگر اپنے قارئین کو یہ حقیقت سمجھنے سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں کہ ان کی عربیت سے واقفیت اتنی ہی ہے جتنی ملعون رشدی کی انگریزی سے تو یہ سمجھنے میں مشکل نہ رہے گی کہ ملعون کو ''سر'' کا خطاب اور غامدی صاحب کو ''اسکالر'' کا اعزاز کس وجہ سے ملا ہے؟ 
 پہلی مثال :سورۃ اعلیٰ میں ہے:

''وَالَّذِیْ أَخْرَجَ الْمَرْعیٰ فَجَعَلَہ، غُثَائً اَحْوٰی.''

غامدی صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ''اور جس نے سبزہ نکالا پھر اسے گھنا سرسبز وشاداب بنادیا۔'' (البیان: صفحہ 165) اس کے علاوہ غامدی صاحب کے فکری ونظریاتی ''امام'' امین احسن اصلاحی بھی اس مقام کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ''اور جس نے نباتات اُگائیں، پھر ان کو گھنی سرسبز وشاداب بنایا۔'' (تدبر قرآن: 311\9)
 یہ دونوں ترجمے عربیت ،قرآن مجید کے نظائر ،احادیث کے شواہد ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے اقوال ، اجماع امت اور اُردو کے تمام مترجمین کے ترجموں کے خلاف ہےاس آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے: ''اور جس نے سبز چارہ نکالا اور پھر اسے سیاہ کوڑا بنادیا۔'' اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ہر چیز کی چمکتی دمکتی ابتدا وعروج اور پھر جلد ہی بھولا بسرا فنا وزوال سمجھانا چاہتے ہیں۔ خود تدبر قرآن میں غامدی صاحب کے ''امام'' امین احسن اصلاحی نے جہاں قرآن میں دوسرے مقام پر ''غثاء'' کا لفظ آیا ہے اس کا ترجمہ خس وخاشاک ہی کیا ہے: ''فأخذتھم الصیحۃ بالحق فجعلنھم غثاء'' (المؤمنون: 41) ''تو ان کو ایک سخت ڈانٹ نے شدت کے ساتھ آدبوچا۔ تو ہم نے ان کو خس وخاشاک کردیا۔'' (تدبر قرآن: جلد5، صفحہ 312)
ع جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی!
غامدی صاحب اور ان کے شیخ اجل کے ذوق اختلاف اور شوق اجتہاد نے یہاں ان سے وہ سنگین غلطی کروائی ہے، جس سے ان کی اہلیت کی قلعی بالکل اس طرح اتر گئی ہے جیسے نقلی زیور کی پالش ایک دھوپ کھاتے ہی پول کھول دیتی ہے۔
 دوسری مثال:

''وَالسَّمَاءَ بَنَیْنٰھَا بِأَیْدٍ وَّإِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ.'' (الذاریات: 47)

غامدی کے شیخ اور امام، اصلاحی صاحب اس آیت کا یہ ترجمہ کرتے ہیں: ''اور آسمان کو ہم نے بنایا قدرت کے ساتھ اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔'' پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''أیدٍ کے معروف معنی تو ہاتھ کے ہیں لیکن یہ قوت وقدرت کی تعبیر کے لیے بھی آتا ہے۔ '' (تدبر قرآن: 626\7)
 اس مقام پر مولانا اصلاحی صاحب کی سنگین غلطی یہ ہے کہ انہوں نے لفظ ''أید'' کو ''ید'' کی جمع سمجھ لیا جو کہ قطعاً غلط ہے۔ ''أید'' کے معنی طاقت اور قوت کے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے: ''واذکر عبدنا داؤد ذاالأید'' اور ہمارے بندے داؤد کا تذکرہ بیان کرو جو قوت والا تھا۔ جمہور مفسرین نے اس کی تصریح کی ہے۔ اب سوچنے کی یہ بات ہے کہ جو لوگ قرآنی الفاظ کے مادوں (Roots) ہی سے بے خبر ہوں اور اس کے دو مختلف الفاظ میں امتیاز نہ کرسکتے ہوں، ان کی عربیت پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ اور جب استاد کی عربیت کا یہ حال ہے تو شاگردوں کی تفسیر اور من مانے اجتہادات کا کیا حال ہوگا؟؟
 پورے فراہی مکتب فکر کامسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کے متد اول معانی کے بجائےغیر معروف و شاذ معانی اختیار کرتا ہے۔ اقوال صحابہ کرام اور تابعین پر اعتماد کرنے پیش کرنے کے بجائے کلام جاہلی سے مثالیں اٹھاتے ہیں۔ جیسے سورہ الزاریات کی آیت ’’المقِّسمٰت امراً‘‘کی تفسیر میں مولانا فراہی اور غامدی نے لغت سےمددلی ، جبکہ تمام مفسرین طبری ، قرطبی، ابن کثیر وغیرہ رحمہ اللہ جنہوں نے اس دو لفظی آیت کی تفسیر سیدنا علی، سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ ابن عباس رضوان اللہ اور ان شاگردوں سے روایت کی ہے 'نے ’’فالمقسمٰت أمراً‘‘ کے معنی فرشتے دیے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف امورِ دنیا پر مامور ہیں اور یہی معنی دوسری صدی ہجری کے دو قدیم ماہرین لغت قرآن الفراء اور ابو عبیدہ معمر بن المثنی نے بھی دیے ہیں۔حتی کہ مشہور عقلیت پسند (معتزلی) مفسر زمخشری نے بھی ان آیات کے وہی معنی بتائے ہیں۔چلیں فراہی اور غامدی قدیم مفسرین کو تو درخور اعتناء نہیں سمجھتے تھے لیکن یقین ہے کہ وہ لغت پسندی کی وجہ سے ان دونوں ماہرین لغت کے مرتبے سے تو واقف تھے پھر بھی یہ لکھ گئے ہیں.
 ’’جب یہ ثابت ہوگیا کہ سید نا عمراور سید نا علی ، حضرت عبداللہ بن عباس، اور دسیوں تابعین اور ان کے فوراً بعد دو قدیم ترین مشہور ماہرین لغت نے ان چار آیات کے معانی چار مختلف چیزیں بتائی ہیں تو ان کی اس رائے کی کوئی وقعت نہیں رہتی کہ یہ بات نظائر قرآن اور کلام عرب کے خلاف ہے‘‘۔
 کیا تیرہ سو سال بعد کا ایک عجمی مصنف ان لوگوں سے زیادہ کلام عرب کا راز داں ہوسکتا ہے۔؟ !! یہ ہے وہ غرور علمی جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور اسکو تحقیق اور فقہی اختلاف کا نام دیا جارہا ہے۔
تحریفِ قرآن کی چند مختصر مثالیں:
غامدی صاحب کے ہاں تحریف قرآن، تلعب بالقرآن اور مذموم تفسیر بالرائے کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ تفصیلی مثالوں کے بعد ذیل میں ہم ان کی کتاب ''البیان'' سے چند مختصر مثالیں پیش کرتے ہیں۔ (1)سورۃ اللہب میں

(1)''تَبَّتْ یَدَآ أبِیْ لَھَبٍ''

کا ترجمہ یہ کیا ہے: ''ابولہب کے بازو ٹوٹ گئے۔'' پھر اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ''یعنی اس کے اعوان وانصار ہلاک ہوئے۔'' (البیان ص: 260،) کوئی بتائے کہ جناب نے ''ید'' (ہاتھ) کا ترجمہ بازو کس قانون سے کیا ہے؟
 (2)سورۃ الاخلاص میں

''قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أحَدُ''

کا ترجمہ اس طرح کیا ہے: ''وہ اللہ سب سے الگ ہے۔'' (البیان، صفحہ: 261) ''أحد'' کا ترجمہ ''الگ'' کس قاعدے سے کیا گیا ہے۔ یہ تو ''أبداً، أحدٌ'' کی تختی پڑھنے والے بچے بھی جانتے ہیں کہ ''أحد'' کے معنی ایک ہیں۔
(3)سورۃ الفیل میں

''تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ''

کا ترجمہ کیا ہے: ''تو پکی ہوئی مٹی کے پتھر انہیں مار رہا تھا۔'' (البیان، صفحہ 240) آگے تفصیل میں غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ پتھر قریش کے لوگوں نے لشکر پر برسائے تھے اور پرندے صرف نعشیں نوچنے آئے تھے(شاید غامدی صاحب کے نزدیک یہ بھی اللہ کی طرف سےآنے والے عذاب کی ایک شکل ہے ) ۔ حالانکہ سلف سے خلف تک، تمام مفسرین کرام کا اتفاق اور اجماع ہے کہ اللہ نے پرندے بھیجے تھے جنہوں نے ابرہہ کے لشکر پر سنگ ریزوں اور کنکروں کی بارش کردی اس کے نتیجے میں ہاتھیوں سمیت پورا لشکر تباہ و برباد ہوگیا، آیت کے الفاظ(ارسل علیہم طیرا ابابیل) بھی اسی کی گواہی دے رہے ہیں۔ غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے تَرْمِیْھِمْ کا مطلب کسی چیز کو بازو یا فلاخن کے ذریعے پھینکنے کے معنی میں لیا ہے حالانکہ یہ بلندی سے نشانہ باندھ کر کوئی چیز نیچے گرانے کے معنی میں بھی ہیں ۔ قرآن کی دوسری آیات بھی گواہ ہیں کہ قرآن میں جہاں کہیں کسی قوم کی ہلاکت و بربادی کے سلسلے میں أَلَمْ تَرَ‌، اَرْسَلَ عَلَیْھِمْ کے الفاظ آئے ہیں، واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے عذاب کے لئے آئے ہیں اور حجَارَة مِّنْ سِجِّیْل کے الفاظ بھی ۔ جیسا کہ سورةالحجر کی آیت 74 میں آئے ہیں وہاں بھی کسی انسان کی طرف سے پتھر پھینکنے گئے پتھروں کے لیے نہیں آئے:جَعَلْنَا عَـٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْ‌نَا عَلَيْهَا حِجَارَ‌ةً مِّن سِجِّيلٍ...﴿ سورۃ ھود ٨٢﴾. ''پھر ہم نے اُس (بستی) کو زیر و زبر کردیا اور اُن لوگوں پر کھنگر کے پتھر برسا دیے۔''
 (4)سورۃ البروج میں

''قُتِلَ أصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ. النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدُ.''

کا یہ ترجمہ کیا ہے: ''مارے گئے ایندھن بھری آگ کی گھاٹی والے۔'' (البیان، صفحہ: 157) اور پھر اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے: ''یہ قریش کے ان فراعنہ کو جہنم کی وعید ہے جو مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے ظلم وستم کا بازار گرم کیے ہوئے تھے۔'' (البیان، صفحہ 157) غامدی صاحب سے پہلے دنیا کے کسی مفسر نے اس آیت کا مصداق قریش کو نہیں قرار دیا ۔ یہ تو پچھلی قوموں میں سے ''خندق والوں'' کے نام سے مشہور قصے کا ذکر ہے جو جمہور مفسرین کے مطابق یمن میں پیش آیا تھا۔
 قارئین محترم! یہ ہیں سابقہ محمد شفیق اور حالیہ جاوید احمد غامدی صاحب کی قرآن دانی اور قرآن فہمی کی حقیقت ۔لے دے کے آنجناب کی پونجی میں ایک چیز ایسی رہ جاتی ہے جس کی بنا پر وہ پاکستان کے سب سے بڑے اسکالر ہونے کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور وہ ہے جدید علوم سے واقفیت اور انگریزی دانی۔ آیئے! لگے ہاتھوں انکے اس دعوے کی حقیقت کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں ۔

 غامدی صاحب کی انگریزی دانی:.
(بڑے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کردیں)
دبستان غامدی سے وابستہ جدیدیت پسندوں کا دعوی ہے کہ حضرت الشیخ الغامدی کئی زبانوں کے ماہر ہیں۔ انگریزی میں مہارت کے ثبوت میں آنجناب کی انگریزی میں فرمائی گئی شاعری کو پیش کیا جاتا ہے۔ یہ شاعری 64 مصرعوں پر مشتمل چار نظموں کو ''محیط'' ہے اور قطع نظر اس کے کہ عربی نثر سے زیادہ بے تکی، مضحکہ خیز اور غنائیت، سلاست وشعریت سے محروم ہے، اسے سرقے کا عالمی شاہکار کہا جاسکتا ہے۔ غامدی صاحب کی یہ چار نظمیں انگریزی کے مشہور شعرا کے کلام سے 'سرقہ' کی گئی ہیں ۔ یقین نہ آئے تو منسلکہ موازنہ پڑھ لیجیے اور غامدی صاحب کے حوصلے کی داد دیجیے کہ کس بے باکی اور جی داری سے نامی گرامی شعرا کی مشہور زمانہ نظموں سے سرقہ کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمیں اس پر تعجب تو ہوا لیکن کچھ خاص نہیں اس لیے کہ حضرت غامدی صاحب جب صحابہ کرام وتابعین عظام رضی اللہ عنہم نیز ائمہ مجتہدین اور اُمت کے اکابرین کے علمی مقام ومرتبے کا لحاظ نہیں رکھتے تو انگریزی شعرا کی کیا حیثیت کہ ان کے کلام پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے انہیں کچھ جھجھک محسوس ہوئی ہوگی یا تکلف آڑے آیا ہوگا۔

غامدی صاحب کی جدید علوم سے واقفیت:.
اس بات کا پرچار بھی بڑے زوروشور سے کیا جاتا ہے: ''غامدی صاحب، مغربی فکر وفلسفے پر عبور رکھتے ہیں جبکہ علمائے کرام اگرچہ دینی علوم میں رسوخ رکھتے ہیں لیکن جدید علوم اور سائنس وفلسفہ سے آشنا نہیں اس لیے سکہ بند قول تو وہ ہے جو حضرت الغامدی صاحب کی زبان عالی سے ارشاد ہو۔ مانا کہ غامدی طبقہ کو عربی یا انگریزی نہیں آتی، اسلامی علوم میں عبور نہیں، لیکن یہ پڑھا لکھا روشن خیال طبقہ مغرب اور مغربی علوم سے تو واقف ہے۔'' واقعہ یہ ہے کہ قدیم یونانی منطق و فلسفہ (جس میں اہل مدارس محققانہ بصیرت رکھتے ہیں) کی طرح غامدی صاحب اور ان کے شاگردان رشید جدید مغربی فلسفہ اور جدید سائنس کی حقیقت سے بھی واقف نہیں۔ اس کی دو دلیلیں ہیں:
 (1)غامدی صاحب کے قائم کردہ اکیڈمی ''المورد'' کے نصاب میں جدید علوم، فلسفہ، سائنس، سوشل سائنسز شامل تھے نہ ہیں۔ یونانی فلسفہ تو ویسے ہی شامل نہیں۔ مغربی فکر وفلسفے پر پورے غامدی مکتب فکر کا کوئی کام نہیں۔ اور غامدی صاحب تو کیا ان کے استاذ محترم امین احسن اصلاحی صاحب اور استاذ الاستاذ حمید الدین فراہی صاحب دونوں حضرات بھی مغربی فکر وفلسفے سے قطعاً ناواقف تھے۔ جب بانیان مکتب کا یہ حال ہے تو وابستگان مکتب کی حالت جانچنا کچھ مشکل نہ ہونا چاہیے۔ مزیدان بیس پچیس سالوں کے ''دانش سرا'' کراچی سے لے کر ''المورد'' لاہور تک غامدی صاحب کے کام کو اگر دیکھا جائے تو آنجناب کی تمام تر قوت اسلامی اقدار اور روایات کو متنازعہ بنانے، مسلمانوں کو اسلام کی مبارک حدود وقیود سے آزادی دلانے اور اکابرین امت کی توہین وتردید پر صرف ہورہی ہے۔ ان کی تحریر وتقریر میں اسلام کے مسلمہ اُصولوں اور اجماعی مسائل کے خلاف تو آپ کو بہت کچھ ملے گا لیکن کسی ایک تحریر یا تقریر میں۔۔۔۔۔۔ میں دہراتا ہوں۔۔۔۔۔۔ کسی ایک تحریر یا تقریر میں مغربی استعماریت، صہیونیت، صلیبیت، جدیدیت، سرمایہ داریت، اشتراکیت او رمستشرقین کے اسلام پر رکیک حملوں اور نازیبا الزامات کے خلاف ایک لفظ نہیں ملے گا۔ ان کا سارا زور اس پر ہے کہ ٹوپی نہ پہنی جائے۔ شلوار گھسیٹ کر چلا جائے۔ عورت کے سرپر چادر نہ رہے، وہ مردوں سے بے حجابانہ ہاتھ ملائے اور بے باکانہ گفتگو کرے ، موسیقی سنی جائے تاکہ اسلام کی وہ حقیقی شکل لوگوں کے سامنے آئے جو ملاؤں نے ''چھپا'' رکھی ہے۔ جناب کا اس سے جو وقت بچ جائے وہ مولویوں کی برائی اور غیبت میں صرف ہوتا ہے کہ انہیں کچھ اتا پتا نہیں، یہ صرف فرقہ واریت پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ خود آنجناب کی بھی پاکستانی معاشرے میں رائج برائیوں، بدعنوانیوں اور بے دینی کے رجحانات ختم کرنے پر کوئی توجہ ہے نا دینی علوم یا مغربیت کی لادینیت، جدید فلسفہ، جدید فتنہ خیز نظریات، سائنس، ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ خبر ہے اور نہ ان کے حلقے میں ایسے افراد ہیں جو ان چیزوں کا ذوق رکھتے ہوں۔ البتہ ملا حضرات نہ صرف راسخ علم اور استعداد رکھتے ہیں بلکہ وہ اسلامی تحقیقات اور عصر حاضر کے بارے میں بدرجہا بہتر اور تازہ معلومات رکھتے ہیں اور ہرجدید مسائل پر دینی نقطہ نظر اور مدلل اور معقول تشریحات پیش کرچکے ہیں، فلسفہ کے موضوع پر علما کی پانچ کے قریب کتابیں تو ہمارے اس بلاگ پر بھی موجود ہیں۔
 (2) غامدی صاحب نے ساٹھ سال کی عمر تک کتابی شکل میں اُردو نثر کے نو سو صفحات تحریر فرمائے ہیں۔ ان تمام تحریروں میں ایک جگہ کے علاوہ کسی مغربی فلسفی یا مفکر کا کوئی حوالہ نہیں ملتا اور جو پہلا اور آخری حوالہ مغربی فلسفی ہیگل کا انہوں نے دیا ہے وہ مکمل طورپر غلط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم وجدید علوم کا جامع ہونے کی حقیقت کیا ہے؟ یہ حضرات جو جدید فلسفہ پر ایک سطر نہیں لکھ سکے جدید فلسفیانہ مباحث کو سمجھنے یا اس پر نقد کرنے کی کیا اہلیت رکھتے ہوں گے؟

 بھان متی کا کنبہ:.
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ غامدی صاحب نے اپنی اس لیول کی 'قابلیت 'کے باوجود اتنا علمی مواد کیسے لکھ لیا ہے، بہت سےلوگووں نے اس پر تحقیق کی، جو کچھ سامنے آیا وہ اندازے کے مطابق اور دلچسپ تھا، چند اشارے ملاحظہ فرمائیں : قانون میراث پر انکی تحقیق ابوالجلال ندوی کے مضمون میراث اور اسلم جیراج پوری کے الوارثت فی الاسلام کا "کامل سرقہ" ہے ۔ زکوۃ اور میراث پر غامدی صاحب کے سرقوں کی مزید حقیقت معلوم کرنے کے لیے ادارہ تحقیقات اسلامی کے سابق صدر ڈاکٹر فضل الرحمن کی تحریرات اور ابو الجلال ندوی کی کتاب ربوہ ،زکوۃ اور ٹیکس دیکھی جاسکتی ہے ۔قرآن سے مختلف فقہی مسائل کا استنباط عمر عثمانی اور طاہر مکی کی کتاب فقہ القرآن کے دلائل، آثاراور امثال کی "حسین نقل" ہے ۔ رجم پر غامدی صاحب کی تمام تحقیق اور تکبر، تملق وتفرد اور صرار درحقیقت فقہ القرآن کی ہی ا یک جلد " حقیقت رجم " کا سرقہ ہے ۔ رجم کا سورہ مائدہ سے اثبات و استدلال حمید الدین فراہی کے موقف کا اعادہ ہے ۔ میزان کے کئی صفحات امین احسن اصلاحی کا لفظ بلفظ سرقہ ہیں، البیان میں غامدی صاحب کا نقظہء نظر کہ یہود ونصارى جنتی ہیں ، جو بھی توحید کا اقرار کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے وہ جنتی ہے ۔ رسالت محمدی صلى اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں، وحدت ادیان قرآن سے ثابت ہے، جن یہودیوں اور نصرانیوں سے قرآن نے ترک موالات کا حکم دیا وہ خاص جزیرۃ العرب کے تھے آج کے نہیں وغیرہ' وحدت ادیان کے عالمی مکتبہ فکر روایت کے بانی " رینے گینوں" کا تتبع اور " مارٹن لنگز" کے مضمون "wtth all thy mind"کا ہو بہو سرقہ ہے ، سنت ابراہیمی کی روایت کا ملحدانہ استدلال " جواد علی" کی کتاب " المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام" کی معلومات سے سرقہ کیا گیا ہے ۔ بنو امیہ، بنوعباس کی تاریخ، واقعہ کربلا ، اور شہادت حسین کے واقعات پر مبنی تاریخ سے انکار کا غامدی نقطہ نظر انکا ذاتی نہیں بلکہ حکیم محمود عباسی ،حکیم علی احمد عباسی ،حبیب الرحمن کاندھلوی اور مفتی طاہر مکی کی فکر کا چربہ ہے ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے سلسلے میں غامدی صاحب کی تحقیق حکیم نیاز احمد کی کتاب کا حرف بحرف چربہ ہے ، غامدی صاحب کی انگریزی شاعری جو چار نظموں اور چونسٹھ مصرعوں پر محیط ہے " شکسپیئر" اور "کیٹس " کی شاعری سے چرائے گئے مصرعے ہیں۔ 

چند عاجزانہ گزارشات:. 
٭۔۔۔۔۔۔غامدی صاحب سے درخواست ہے کہ آپ نے آج تک اسلام کے دفاع اور مستشرقین کے اسلام پر حملوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا، نہ سہی، لیکن خدارا! امت کے اجتماعی اور متفقہ مسائل میں اختلاف کا رخنہ ڈال کر اپنا اور قوم کا ایمان برباد نہ کیجیے۔ ایک نئے فرقے کا اضافہ نہ کیجیے اور روز محشر کی حشر سامانیوں سے ڈریے! جہاں کوئی سایہ، کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی۔ آپ آج خلق خدا کے سامنے اپنے ایک دعوے کو درست ثابت نہیں کرسکتے، کل عالم الغیب کے سامنے امت کی بھنور میں پھنسی کشتی کو مزید ہچکولے دینے پر کیا جواب دیں گے؟
٭۔۔۔۔۔۔غامدی صاحب کے شاگردوں سے گزارش ہے کہ وہ ہر طرح کے تاثر اورتعصب سے پاک ہوکر پیش کیے گئے دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں سوچیں اور غور کریں کہ کہاں اجتہاد کا مقدس علمی منصب اور کہاں یہ ہفوات اور علمی سرقے؟ جو شخص عربی کی ابتدائی باتیں نہیں جانتا، اپنا نام صحیح نہیں لکھ سکتا، اسے اپنا امام، شیخ یا مقتدا ماننا اور اس کی تقلید کرتے ہوئے امت کے متفقہ موقف سے انحراف کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟
 ٭۔۔۔۔۔۔ چینل مالکان جو غامدی حضرات کو اہل علم ودانش سمجھ کر اپنے چینل پر وقت دیتے ہیں ' سے عرض ہے کہ وہ بلاوجہ دہرے گناہ بے لذت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ قوم کے نظریات میں بھی الحاد پیدا ہورہا ہے اور علم کے نام پر جہالت اور دین کے نام پر بے دینی بھی پھیل رہی ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔میرے جو ہم مذہب وہم وطن بھائی غامدی صاحب کی علمیت وصلاحیت اجتہاد کے معترف ہیں ازراہ کرم وہ اتنا کرلیں کہ کسی پروگرام کے سوال وجواب کے سیشن میں ان سے یا ان کے شاگردوں سے پوچھ لیجیے کہ آپ عربی ، انگلش كی چند سطریں درست طرح سے نہیں لکھ سکتے تو ضخیم تفاسیر اور ذخیرہ احادیث سے کیسے استفادہ کرلیتے ہیں؟ چلیں جانے دیجیے بائیس صفحات ضرب بائیس اغلاط کو، صرف مذکورہ بالا عربی جملے (جو مضمون کے شروع میں گزرے) کا مطلب بتادیجیے۔ اگر غامدی مکتب فکر کے دو تین مجتہدین اور پانچ دس مفکرین مل کر اپنے مجتہد اعظم کے ایک جملے کو درست ثابت نہیں کرسکتے تو میرے سادہ لوح ہم وطن بھائیوں کو مان لینا چاہیے کہ اصل ورثاءعلوم نبوت ، علمائے حق جو بات کررہے ہیں فی اللہ کہہ رہے ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔میرے جوجدید تعلیم یافتہ نوجوان دوست علمائے کرام کے بیانات میں دلچسپی نہیں لیتے کہ اس کے لیے ٹوپی پہن کر مسجد جانا پڑتا ہے اور چینلوں پر آنے والے ڈاکٹرز، اسکالرز کو پسند کرتے اور ان کی آزاد خیالی سے لطف اندوز ہوکر ان کو دین کا حقیقی ترجمان سمجھتے ہیں، ان سے التماس ہے کہ منسلکہ شاعری پڑھیے۔ یہ بے جا اور مضحکہ خیز کلام کیا اس قابل نہیں کہ Percy Wyndham Lewis کی مرتبہ کتاب The Stuffed owl میں شامل کیا جاسکے؟ آپ کو تو معلوم ہوگا کہ اس کتاب کے مرتب نے انگریزی کے بھونڈے اشعار سے نادر انتخاب کیا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے سوچیے! کیا آپ کا دل مانتا ہے جو شخص عالمی سطح کے معروف کلاسیکل لٹریچر پر اس دھڑلے کے ساتھ ہاتھ صاف کرسکتا ہے وہ آپ کو قرآن وحدیث کے حوالے دیتے وقت (جن کا پس منظر آپ قطعاً نہیں جانتے) انصاف ودیانت سے کام لیتا ہوگا؟نہیں میرے عزیز! ہرگز نہیں۔ غامدی صاحب توبہ کریں نہ کریں آپ کو ان کی عقیدت سے توبہ کرلینی چاہیے۔ جو لوگ حقیقت میں دین کی سمجھ رکھتے ہیں، دینی علوم کے شعبہ سے وابستہ ہیں ، وہ جیسے بھی ہوں کم ازکم دینی معلومات کی فراہمی میں بددیانتی سے کام نہیں لیتے۔ یہ وہ وصف ہے جو آپ کو نام نہاد ڈاکٹرز، اسکالرز کے ہاں نہ ملے گا۔ کسوٹی ہم نے آپ کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ حقیقت کو پرکھنا اور ہدایت کی تلاش کرنا آپ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرمائے اور ہر قسم کے فتنے سے میری اور آپ کی حفاظت فرمائے۔
مکمل تحریر >>

جمعرات، 4 اپریل، 2013

پاکستان بننے کی مخالفت كرنے والا علماء اور انکا موقف

 پاکستان میں الیکشن کا موسم ہے،  جگہ جگہ انتخابات پر بحثیں چل رہی ہیں ، طرح طرح کی باتیں پڑھنے،سننے کو مل رہی ہیں ۔ ۔ ۔ہرشخص  کے پاس اپنا ایک نجات دہندہ ہے اور اس کے خیال میں صرف اسی کو ووٹ دینے سے پاکستان بچ سکتا ہے۔۔    انتخابات پر  ہونے والی ابحاث ہر  گلی محلے کی  نکڑ پر، مساجد کے باہر، انٹرنیٹ فورم، سوشل میڈیا سائیٹس   اور دفاتر میں  تقریبا روز دیکھنے کو ملتی ہے ،  یہ دیکھ کر حیرت  بھی ہوتی ہے کہ لوگ ان منافق سیاست دانوں کے دفاع میں ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دینے سے بھی نہیں کتراتے، اس دفعہ  ایک اور  ٹرینڈ دیکھنے کو ملا ہے وہ یہ کہ  لوگ مولانا فضل الرحمان جیسے سیاستدانوں کی آڑ میں مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا سید حسین احمد مدنی،  مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور مفتی محمود جیسے  متقی اور نیک صفت علما کو  صرف اس وجہ سے گالی دیتے نظر آئے ہیں کہ انہوں نے  پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی،  کئی جگہ ہلکے پھلکے انداز میں اس پر بات کرنے کی کوشش کی  لیکن یہ غلط فہمی اتنی عام ہے کہ  صرف سوشل میڈیا پر  پانچ چھے جگہوں پر  یہ الفاظ دیکھ چکا ہوں کہ  یہ تو وہ علما ہیں جنہوں نے   پہلے اپنا پورا زور لگایا کہ پاکستان نہ بن سکے جب دال نہ گلی  اور پاکستان بن گیا تو    یہاں بھی پیسے کے لیے سیاست شروع کردی،  ایک صاحب نے لکھا کہ فضل الرحمان کا والد کہا کرتا تھا  کہ    شکر ہے  ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے، ایک اور  نے  دلیل پیش کی کہ یہ ملا    اتنا منافق  تھا کہ سوشلزم کا سورج چڑھتا دیکھا تو اسکو اسلام کہنا شروع کردیا۔ ایک دوست بلاگر نے لکھا کہ  قیام پاکستان کی بھر پور مخالفت کرنے والے اب مینار پاکستان کے سائے میں جلسے کرنے لگے,محو حیرت ہوں۔ ۔  اور بہت سے طعنے اور باتیں  ہیں جو گوگل پر یونی کوڈ میں سرچ کرنے سے کئی مشہور سائیٹس پر بھی نظر آئی ہیں ، ان سب کو پیش کرکے  ان پر بات کرنا شروع کی تو  تحریر بہت طویل ہوجائے گی، میں فی الحال ان  اعتراضات پر بات کرنے کی کوشش کروں گا۔اصل میں  المیہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کو موویز، گیمز، ڈراموں، فیس بک   جیسی قیمتی  چیزوں سے فرصت نہیں ، مطالعہ کرنے جیسے فضول کاموں کے لیے انکے پاس ٹائم ہی نہیں۔ ۔ ۔الا ماشاء اللہ بہت کم لوگ ہیں جن میں ابھی بھی مطالعہ کا ذوق و شوق باقی ہے۔ ۔ ۔   ذیادہ تر جوانوں کا  تاریخ ، دینیات  وغیرہ کے متعلق علم کا ماخذ كوئی مستند کتاب نہیں، چند باتیں ہیں جوانہوں نے کسی ایرے غیرے کے منہ سے سن لیں، کوئی اخباری کالم ہے جس پر کبھی نظر پڑ گئی یا کوئی  ناول، کہانی جو شوقیہ پڑھ لی۔ ۔یا  اب فیس بک ہے!!  ا س علم کا اظہار پھر ایسا ہی ہونا ہے جو دیکھنے کو ملتا ہے۔۔
پہلا اعتراض   کہ مولانا  ابوالکلام آزاد، حسین احمد مدنی اور ان کے رفقاء نے تحریک پاکستان کی مخالفت کیوں کی ؟  کے جواب میں میں اپنے طور پر کچھ بیان کرنے کے بجائے انہی   علماء کی  تقاریر میں سے کچھ اقتباس پیش کرتا ہوں، بات واضح ہوجائے گی کہ وہ اپنے  موقف میں کتنے سچے تھے اور انکی فراست کتنی مومنانہ تھی۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری  رحمہ اللہ نے  26 اپریل 1946 کو دہلی کے اردو پارک میں ایک بڑے مجمع سے خطاب فرمایا ،  اس کا ایک اقتباس  ملاحظہ فرمائیں۔
"اس وقت آئینی اور غیر آئینی بحث چل رہی ہے کہ آیا ہندوستان میں مسلم اکثریت کو ہندو اکثریت سے جدا کرکے دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے ۔ ۔ ؟   قطع نظر اس سے کہ اس کا انجام  کیا ہوگا ۔ ۔ ؟   مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق سے طلوع ہوگا لیکن یہ وہ پاکستان نہیں بنے گا جو دس کروڑ مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں  ہیں ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ کل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔۔؟  بات جھگڑے کی نہیں  سمجھنے  اور سمجھانے کی ہے، تحریک کی قیادت کرنے والوں کے قول وفعل میں بلا کا تضاد اور اور بنیادی فرق ہے اگرآج مجھے کوئی اس بات کا یقین دلادے کہ کل کو ہندوستان کے کسی قصبے کی گلی میں یا کسی شہر کے کسی کوچے میں حکومت الہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاد ہونے والا ہے تو رب کعبہ کی قسم میں آج ہی اپنا سب کچھ چھوڑ کا آپکا ساتھ دینے کیلئے تیار ہوں۔لیکن  یہ بات میری سمجھ س بالاتر ہے کہ جو لوگ اپنی اڑھائی من کی لاش اور چھ فٹ کے قد پر اسلامی قوانین نافد نہیں کرسکتے جن کا اٹھنا بیٹھنا، وضع قطع ، جن کا رہن سہن ، بول چال، زبان و تہذیب، کھانا پینا ، لباس وغیرہ غرض کوئی چیز بھی اسلام کے مطابق نہ ہو وہ دس کڑوڑ انسانی آبادی کے ایک قطع زمین پر اسلامی قوانین کیسے نافد کرسکتے ہیں؟ یہ ایک فریب ہے اور میں یہ فریب کھانے کے لیے تیار نہیں۔
 ہندو اپنی مکاری اور عیاری سے ہمیشہ پاکستان کو تنگ کرتا رہے گا، اسے کمزور بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، اس تقسیم کی بدولت آپ کے دریاؤں کا پانی روک دے گا، آپ کی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کرے گا، آپ کی یہ حالت ہوگی کہ بوقت ضرورت مشرقی پاکستان مغربی پاکستان کی اور مغربی پاکستان مشرقی پاکستان   کی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہوگا، اندرونی طور پر پاکستان میں چند خاندانوں کی حکومت ہوگی اور یہ خاندان زمینداروں، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے خاندان ہوگنگے، امیر دن بدن امیر ہوتا جائے گا اور غریب  غریب تر"۔
(روزنامہ الجمعیہ دہلی، 28 اپریل 1946)
اس  طرح مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا:
"اس زمان میں پاکستان کی تحریک زبان زد عوام ہے ، اگر اس کا مطلب اسلامی حکومت علی منہاج النبوۃ  مسلم اکثریت والے صوبوں میں قائم کرنا ہے تو ماشاء اللہ نہایت مبارک اسکیم ہے، کوئی بھی مسلمان اس میں گفتگو نہیں کرسکتا، مگر بحالت موجودہ یہ چیزیں متصور الوقوع نہیں۔ اور اس کا مقصد انگریز کی حکومت کے ماتحت کوئی ایسی حکومت کو قائم کرنا ہے جس کو مسلم حکومت کا نام  دیا جاسکے تو میرے نزدیک یہ اسکیم محض بزدلانہ اور سفیہانہ ہے اور ایک طرف برطانیہ کے لیے ڈیوائیڈ اینڈ رول  کا موقع بہم پہنچارہی ہے اور یہی عمل برطانیہ نے ہر جگہ جاری رکھا ہے"۔
( علمائے حق اور انکے مجاہدانہ کارنامے جلد 1 ص 462)
یہ موضوع بہت تفصیل مانگتا ہے، صرف ضروری باتیں لکھ رہا ہوں،  مولانا مدنی کے  مکتوبات  جو مکتوبات شیخ السلام کے نام سے مشہور ہیں  ان میں اس بات کا تذکرہ  موجود ہے کہ  1936 کے صوبائی الیکشن میں  جمعیت علمائے ہند   کی مسلم لیگ   کے ساتھ اتحاد کی بات چلی تھی اور جمعیت نے شرط یہ رکھی تھی کہ مسلم لیگ سے انگریز پرست، رجعت پسند اور خوشامدی ٹول کو نکالا جائے' قائداعظم  نے  وعدہ کیا  تھا کہ وہ  سرکارپرست ٹولے کو لیگ سے علیحدہ نہ کرسکے  تو خود لیگ سے علیحدہ ہوجائیں گے۔۔ ۔ یہ کبھی ممکن نہ ہوسکا۔
غرض  ان لوگوں کو پاکستان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ یہ سب باتیں سیاسی اختلاف کی حد تک تھیں جو کسی کو بھی ہوسکتا ہے ،  انکاموقف یہ تھا کہ انگریز کے زیر سایہ ہونے والی تقسیم کم ازکم مسلمانوں کے لیے کبھی فاعدہ مند نہیں ہوسکتی  ۔ !! پاکستان  بننے کے بعد ان میں سے کسی نے بھی پاکستان کی مخالفت نہیں کی بلکہ مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا ابو الکلام آزاد  رحمہ اللہ  نے پاکستان بننے کے بعد جو کچھ کہا اور جیسی دعائیں دیں اور متعلقین کو جس طرح اس فرض کی یاد دہانی  کرائی وہ ان کے ہم عصر لوگوں کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ اس کا  ذکر چھیڑ دیا  تو مضمون بہت طویل ہوجائے گا۔ صرف اتنا لکھنا  کافی  سمجھتا ہوں کہ  حضرت مدنی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے  کہ " پاکستان کے قیام کے بعد اب اس کا حکم مسجد کا سا ہے، اس کے بنانے میں اختلاف ہوسکتا ہے، بننے کے بعد اسکی تقدیس فرض ہے" مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ "پاکستان وجود میں آگیا ہے تو اب اسے باقی رکھنا چاہیے، اس کا بگڑ جانا  سارے عالم اسلام کے لیے شکست کے برابر ہوگا"۔
(بحث ونظر  نوائے وقت۔ 23 مارچ 1973)
مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ بھی چونکہ انہی کی جماعت اور  تحریک کے ایک فرد تھے ، اس لیے انہوں نے بھی پاکستان بننے کے بعد یہاں رہ کر اس کی بہتری کے لیے مسلم لیگیوں سے بڑھ کر کوششیں کیں اور مرتے دم تک  اسلام اور پاکستان کا رشتہ جوڑے رکھنے کے لیے کوشاں رہے۔ مفتی صاحب  پر یہ الزام کہ   "  شکر ہے  ہم پاکستان کے گناہ میں شریک نہیں تھے 'کس حد تک درست ہے؟  اس کا جواب خود مفتی صاحب نے ہفتہ روزہ افریشیا  کو دیے گئے انٹرویو  میں دیا تھا :
" "جو بات یہ لوگ کہتے ہوئے نہیں شرماتے میں سنتے ہوئے بھی شرماتا ہوں، اس بات کی حقیقت اس قدر ہے کہ محاذ کی میٹنگ میں  بعض دوست آپس میں باتیں کرتے ہوئے مسلم لیگ کو کوس رہے تھے، چوہدری ظہور الہی بھی وہاں موجود تھے ، بات خالصتا مذاق میں ہورہی تھی، خود مسلم  لیگ کے دوست کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ ہماری ماں تھی لیکن یہ ماں بھی بدکار ہوگئی اور اس کے گناہوں کی ہوئی حد نہیں۔ اس پر میں نے ہنستے ہوئے کہا  کہ خدا کا شکر ہے ہم اس گناہ میں شریک نہیں تھے، یہ صرف مذاق کی بات تھی۔"
 (ہفت روزہ ترجمان اسلام" مفتی محمود نمبر) (4 جون1973، تحفظ ختم نبوت کانفرس لاہور)
مفتی صاحب پر سوشلزم کی حمایت کی حمایت بھی محض ایک  الزام تھا۔ یہ محض مفتی صاحب کی سرمایہ دارانہ نظام کی مخالف  کرنے کی وجہ سے سرمایہ داروں نے گھڑا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ   اس دور میں جب ان دونوں (سوشلرزم اور کیپٹل ازم )کا اختلاف پاکستان میں عروج پر تھا، مولانا  نے کپیٹل ازم اور سوشلزم  کے درمیان ایک معتدل موقف اپنایا تھا، وہ سرمایہ داری  اور ان بائیس خاندانوں کو پاکستان کی غربت و افلاس کی اصل وجہ سمجھتے تھے۔ اس دور میں جب سرمایہ داروں کے تحفظ کی تحریک چلی تھی مولانا نے ملک کے پسے ہوئے طبقہ غریبوں، مزدوروں کے حقوق کی آواز اٹھائی تھی اور اسکو اسلامی نقطہ نظر سے پیش کیا تھا،      تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہی آواز سوشلسٹ لوگوں کی بھی تھی، اس  کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ داروں نے آپ کو سوشلزم کا حامی مشہور کردیا اور پھر اپنے حامی علما کے ذریعے  آپ پر کفر کے فتوے بھی   لگوائے گئے۔ حالانکہ مفتی صاحب کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ وہ سوشلزم کو بھی کفر کا ہی نظام کہتے تھے، ایک انٹرویو میں  فرمایا۔
"اگر کوئی  شخص  مارکس اور لینن کے نظریہ کو اسلامی سوشلزم تعبیر کرتا ہے وہ اسلامی تعلیمات کی تکذیب کرتا ہے"۔ میں مفتی صاحب کے کئی  بیانات حوالے کے ساتھ پیش کرسکتا ہوں، فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں، کسی کو مزید تفصیل درکار ہوتو مہیا کرسکتا ہوں۔۔۔ مفتی صاحب  کا پی ٹی وی کو دیا گئے انٹرویو كا ایک کلپ ملاحظہ فرمائیں۔۔




مکمل تحریر >>

اتوار، 17 فروری، 2013

کافر اور حقیقی کافر

قادیانی اپنے کفر  سے توجہ ہٹانے کے لیے مغالطہ دینے کی کوشش کرتے  ہیں کہ  جو علماء ہم پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں وہ خود آپس میں بھی اک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں لہذا ان کے فتوؤں کا اعتبار نہیں۔ اس مغالطے کے جواب میں چند باتیں ملاحظہ فرمائیں۔

پہلی  بات مسلمان (سنی) مکاتب فکر  کا باہمی اختلاف واقعات کا اختلاف ہے قانون کا نہیں۔ جسکا واضح ثبوت یہ ہے جب کبھی اسلام کے خلاف کوئی بات سامنے آئی یا مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ پیدا ہوا تو ان تمام مکاتب فکر کے مل  بیٹھنے میں ان چند متشدد ین کے باہمی نزاعی فتوے کبھی رکاوٹ نہیں بنے۔1951 کے اسلامی  دستور کے بائیس نکات ہوں یا 1956 میں پاکستان کے مجوزہ دستور میں متعین اسلامی ترجیحات طے کرنے کا مرحلہ،  1953 کی تحریک ختم نبوت ہو یا 1977 کی تحریک نظام مصطفی، 1973 کے آئین میں اسلامی شقوں کو درج کرانے کا مسئلہ ہو یا  موجودہ دور میں تحفظ ناموس مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ تمام مکاتب فکر یک جان و یک زبان متفق و متحد نظر آتے ہیں۔

دوسری  بات چند متشددین، عجلت پسند اور غیر محتاط افراد کے انفرادی بنیاد پر دیے گئے چند فتاوی کو پیش کرکے یہ تاثر دینا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے  کہ سارے مکاتب فکر اک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ  ہر مکتبہ فکر  میں اک ایسا عنصر رہا ہے جس نے دوسرے مکتبہ فکر کی مخالفت میں اتنا تشدد روا رکھا ہے کہ وہ تکفیر تک پہنچ جائے، لیکن اسی  مکتبہ فکر  میں محقق اور اعتدال پسند علما ء نے ہمیشہ اس بے احتیاطی سے شدید اختلاف کیا ہےاورہر مسلک میں بڑی تعداد ایسے علماء کی ہی ہے جنہوں نے ان اختلافات کوناصرف  ہمیشہ اپنی حدود میں رکھا بلکہ اس رویے کی مذمت بھی کی جو اس قسم کے فتوؤں میں روا رکھا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ  امت  کے باہمی  تکفیر کے یہ تمام فتوی اپنے اپنے مکاتب فکر کی مکمل نمائندگی  نہیں کرتے ۔ 

تیسری بات  اگر کچھ حضرات نے تکفیر کے سلسلہ میں غلو اور تشدد کی روش اختیار کی تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی شخص کافر ہو ہی نہیں سکتا ؟  اور اگر  یہ سب علما  ملکر بھی کسی کو کافر کہیں تو وہ کافر نہیں ہوگا ؟ کیا  کبھی عطائی ڈاکٹروں کی وجہ سے کسی نے سندیافتہ ماہر ڈاکٹر  وں کو برا کہا   ؟ یا کوئی یہ کہہ سکتا ہے  کہ ان کی انفرادی غلطیوں کی وجہ سے  مستند ڈاکٹروں کی بھی کوئی بات قابل قبول نہیں ہونی چاہیے ؟  کیا کبھی کسی عدالتی فیصلہ میں  جج کی انفرادی غلطی کی وجہ سےدوسرے تمام ججوں کے بھی   تمام فیصلوں کے غلط  اور ناقابل اعتبار ہونے کی کسی نے بات کی ؟  کیا کبھی کسی  تعمیراتی کام میں کسی انجنئیر کی غلطی کی وجہ سے  کسی ذی ہوش نے یہ تجویز پیش کی کہ ان غلطیوں کی بناء پر تعمیر کا ٹھیکہ انجینئروں کے بجائے گورکنوں کو دے دیا جائے ؟؟؟  اگر  دینی لوگوں سے بھی چند جزوی نوعیت کے فتوؤں میں بے احتیاطیاں ہوئیں  تو اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ قادیانی بھی کافر نہیں۔ ۔  جن کا کفر تو اتنا واضح ہے کہ ان کو صرف علماء نے نہیں بلکہ غیر عالم لوگوں ذوالفقار علی بھٹو اور قومی اسمبلی نے  بھی کافر قرار دیا۔ آخر میں  علامہ اقبال  کا اک قول پیش کرتا ہوں۔
" مسلمانوں کے بے شمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی  مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا  جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں اگرچہ وہ دوسرے پر الحاد کے فتوے ہی دیتے ہوں "
( حرف اقبال صفحہ 127)


مکمل تحریر >>

بدھ، 12 ستمبر، 2012

مسٹر غلام احمد پرویز- پرانی شراب نئی بوتلوں میں

ہمارے اردگرد منکرین حدیث بنام اہل قرآن  کے فتنے سے  نوتعلیم یافتہ جدید و ماڈرن طبقہ ذیاده متاثر نظرآتا ہے  اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ  لوگ پڑھنے ،  سننے میں خود کو  کسی حد کے پابند نہیں سمجھتے 'مطالعہ کرنے کا ذوق ہوتا ہے، جس کسی کی کتاب بھی ہاتھ لگ جاتی ہے مطالعہ کرلیتے ہیں۔ اہل باطل کی دینی موضوعات پر بھی کتابیں پڑھنے سے دریغ نہیں کرتے، پھر چونکہ انہوں نے نہ  خود دین کو گہرائی میں کسی استاذ سے پڑھا ہوتا   ہے اور نہ مستند علما اور انکی کتابوں سے انکا کوئی تعلق ہوتا   ہے اس لیے  اہل باطل کے مکر کو سمجھ نہیں سکتے اور  ان کی تحریروں سے متاثر ہوجاتے اور آہستہ آہستہ ان کے حامی بن کر انہی کے گروہ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔
اس   فتنہ انکار حدیث کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ اس کے  اصل بانی اور محرک کچھ زنادقہ و ملاحده ، شیعہ و روافض تهے اور کچھ عقل پرست مُعتزلہ ، اسکی تفصیل  ہم پہلے بھی ایک تحریر میں یہاں ذکر کر چکے ہیں ۔ ہندوستان میں اس فتنہ کو پهیلانے اور ابتداء کرنے والے لوگوں میں سرفہرست  سرسید احمد خان ، مولوی چراغ ، عبدالله چکڑالوی ، احمدالدین خواجہ امرتسری ، مولوی اسلم جیراج پوری اور پهر آخر میں اس مشن کا جھنڈا برٹش گورنمنٹ کے محکمہٴ انفارمیشن کے ملازم چوہدری غلام احمد پرویز نے اٹهایا اور کفر وگمراہی کے انتہائ درجات تک اس شیطانی تحریک کو پہنچایا ۔
 غلام احمد پرویز  ایک اعلی پائے کا انشاء پرداز تھا اس  نے بجائے اپنے اس فن سے  اردو ادب کی خدمت کرنے کے  قرآن و حدیث  پر زور آزمائی شروع کی ۔ پہلے حدیث کو عجمی سازش اورتفرقہ کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کا انکار کیا ، خود کو اہل قرآن قرار دے کر لوگوں کو قرآن کی  طرف دعوت دی  اور ولا تفرقو ولا تفرقو کے خوشنما نعرے لگائے  پھر اپنے فن سے قرآن کے ترجمہ کو افسانوی رنگ میں پیش کرنا شروع کیا  ۔ اسکی یہی  ادبی افسانوی زبان میں لکھی گئی اسلامی تحریریں اور نعرے  دین سے دور دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ کی کمزوری بن گئے، ان لوگوں نے قرآن و حدیث کو  خود  گہرائی میں پڑھا نہیں تھااس کے علوم سے واقف نہیں تھے  اس لیے آسانی سے انکے انکار میں اسکے ہم خیال بن گئے  ۔ اس پرویزی مشن کو ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعہ پهیلانے کا ذمہ آج کے دور میں جاوید غامدی اور اس کے ہمنواوں نے اٹهایا ہوا ہے اور بدقسمتی سے دین سے بے خبر ناواقف وجاہل لوگ انہیں بھی دینی واسلامی سکالر کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
پرویزی دین پر ایک نظر
 پرویز اینڈ کمپنی چونکہ اپنے آپ کو اہلِ قرآن کہتے ہیں جس سے یہ تأثر ملتا ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات پر سختی سے کار بند ہیں‘ لہذا عوام الناس کے ذہنوں میں یہ ایک عام تأثر پیدا ہوتا ہے کہ پرویز صرف منکرِ حدیث ہے لیکن وہ قرآنی تعلیمات پر سختی سے کار بند ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے، پرویز جس طرح منکرِ حدیث ہے‘ اسی طرح وہ منکرِ قرآن بھی ہے‘اس نے قرآنی آیات کے اصل ،متعین اور متوارث معانی ومفاہیم کو بدل کر اپنی مرضی کے معانی نکالے ہیں ' اس کے نزدیک اللہ، رسول ،  کلمہ‘ نماز‘ زکوٰة‘ روزہ‘ حج‘قربانی وغیرہ کے بھی وہ معنی نہیں ہیں جوکہ  لغت عرب  اور مسلمانوں میں عہد نبوی سے لے کر تاحال مشہور ومتعارف ہیں ‘  بلکہ اصل معانی وہ ہیں جو تیرہ سو برس بعد صرف اس ایک عجمی مفکر کو سمجھنا  نصیب ہوئے ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں۔

۱- اللہ اور رسول کامطلب :
پرویز صاحب  'لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ' کا ترجمہ کرتے ہیں
 "  قانون صرف خدا کا ہے‘ کسی اور کا نہیں۔ محمد کی پوزیشن اتنی ہے کہ وہ اس قانون کا انسانوں تک پہنچانے والا ہے‘ اسے بھی یہ کوئی حق نہیں کہ وہ کسی پر اپنا حکم چلائے“(سلیم کے نام خط ج:۲‘ص:۳۴)
پرویز کے مطابق عبادت کے لائق تو کسی ہستی کا وجود ہی نہیں‘ ہاں خدا کے نام سے کوئی ہستی ہے جس کا قانون ماننا چاہئے ۔دوسری طرف جناب نبی صلى الله عليہ وسلم سے قرآن کا بیان کردہ ”حق اطاعت وتشریح “ چھین کر ”مرکز ملت“ کے نام سے حکومت وقت کو دے ڈالتے ہیں۔
”قرآن کریم میں جہاں اللہ ورسول کا ذکر آیا ہے‘اس سے مراد مرکز نظامِ حکومت ہے“۔) معارف القرآن جلد 4 صفحہ 263 )
”مرکزِ ملت کو اختیار ہے کہ وہ عبادات ‘نماز‘روزہ‘معاملات‘اخلاق ‘غرض جس چیز میں چاہے رد وبدل کردے“۔ (قرآنی فیصلے ص: ۴۲۴)
پرویز صاحب کا   اصرار ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں ”اللہ ورسول“ کا لفظ دیکھو اس سے مراد صدر مملکت سمجھو، اور سچے خدا اور رسول صلى الله عليہ وسلم کو چھوڑ کر ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرو۔ اسکندر مرزا ہو یا غلام محمد، ناظم الدین ہو یا ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو صدر ضیاء الحق، جونیجو یا بینظیر، جو بھی کرسی نشین اقتدار ہو، اسی کو اللہ اور رسول سمجھو! اسی کے سامنے ڈنڈوت بجالاؤ اور چند ٹکے سیدھے کرنے کے لئے اللہ ورسول سے اطاعت چھین کر برسراقتدار قوت کو دے ڈالوکہ مائی باپ آپ ہی  ہمارے دین کا فیصلہ کریں۔ لا حَولَ ولا قُوة الا باللّٰہِ
ستم یہ کہ اگرایسا نہ کروگے تو نہ ”اسلام طلوع“ ہوگا، نہ قرآنی ربوبیت منظر عام پر آئے گی بلکہ اسلام عجمی سازش کا شکار رہے گا۔ خدا کا غضب ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ و رسول سے مراد ”مرکز ملت“ ہے لیکن ان میں کسی کو بھی اس کے سننے سے قے نہیں آتی۔
پرویز صاحب بڑی چالاکی سے  اطاعت اور تشریح کا حق  رسول سے چھین کر نظام  حکومت یا مرکز ملت کے حوالے کرتے ہیں پھر خود ہی   مرکز ملت یعنی اللہ ورسول   بن بیٹھتے ہیں  اور قرآن کا  اپنی مرضی کے مطابق  ترجمہ و تشریح کرتے جاتے اور اس کی پیروی  نہ کرنے کوقرآن سے دوری،  فرقہ واریت  اور  ظلالت بتلاتے ہیں۔ایک اور جگہ فرماتے ہیں
”رسول کی اطاعت نہیں کیونکہ وہ زندہ نہیں“(اسلامی نظام صفحہ 112)
کوئی اس کے پیروکاروں  سے پوچھے  اگر منتخب رسول کے انتقال کرجانے کے بعد اسکی تعلیمات کی پیروی  نہیں تو پرویز کے مرنے کے بعد اسکی  بکواسات کی پیروی کیوں کرتے ہو ؟

2- دور نبوی  دور وحشت  ہے:
مسلمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام کا سب سے زرین دور عہد مآب  تھا ‘اس زمانہ میں جاہلیت کے اندھیرے چھٹے اور اسلام کا نور چار سو پھیلا‘ خود آنحضرت  نے اپنے زمانہ کو خیر القرون کا لقب دیاہے‘مگر پرویز اس تیرہ سو سال قبل کے زرین عہدکو وحشت کا دور کہتا ہے‘ وہ لکھتاہے:
”آپ (علمأ) اپنی قوم کے دامن پکڑ کر آج سے تیرہ سو سال پہلے کے دورِ وحشت کی طرف گھسیٹ رہے ہیں“(قرآنی فیصلے)

3- انکا ر حدیث
"مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھنے کے لیے جو سازش کی گئی اس کی پہلی کڑی یہ عقیدہ پیدا کرنا تھا کہ رسول اللہ کو اس وحی کے علاوہ جو قرآن میں محفوظ ہے ایک اور وحی بھی دی گئی تھی جو قرآن کے ساتھ بالکل قرآن کے ہم پلہ ہے ۔ یہ وحی روایات میں ملتی ہے"(مقام حدیث جلد 1 صفحہ 421)
" یہ جھوٹ مسلمانوں کا مذہب بن گیا ۔ وحی غیر متلو اس کا نام رکھ کر اسے قرآن کے ساتھ مثل قرآن ٹھہرایا گیا " (مقام  حدیث جلد 2، صفحہ 122)
حالانکہ جس قرآن کی طرف یہ پرویزی اپنی  نسبت کرتے ہیں اسی قرآن میں ہی اتباع اور اطیعوالرسول کے الفاظ پندرہ سے زائد دفعہ آئے ہیں  اور آپ کی اطاعت آپکی  حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ مزید قرآن ہی   حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں  کو وحی(غیر متلو)  قرار دیتا ہے۔
وما ینطق عن الهوی، ان ھو الا وحی یوحی
 آپ صلى الله عليہ وسلم اپنی خواہش سے کوئی بهی بات نہیں کرتے ، یہ (آپ کی باتیں)  تو وحی ہیں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے [53، 3]

4- قرآن  موقف کے خلاف نظریہ ارتقا ء کی تبلیغ اور حضرت آدم علیہ السلام کی ذات کا  انکار
”واذ قال ربک للملائکة انی جاعل فی الارض خلیفة“(البقرہ: ۳۰)
ترجمہ: اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں بنانیوالا ہوں زمین میں ایک نائب۔
پرویزی ترجمہ:․․․” جب زندگی اپنی ارتقائی مناظر طے کرتی ہوئی پیکر انسانی میں پہنچی اور مشیئت کے پروگرام کے مطابق وہ وقت آیا کہ اپنے سے پہلی آبادیوں کی جگہ زمین میں آباد ہو“۔ (مفہوم القرآن ص:۱۲)
یہاں پرویز نے  ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو زبردستی ٹھونسا ہے،پرویز کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کا وجود ہی نہیں تھا‘ انسان مختلف ارتقائی مراحل طے کرکے  بندر سے موجودہ شکل انسانی تک پہنچا ہے۔ایک جگہ لکھتا ہے
”آدم کوئی خاص فرد نہیں تھا‘ بلکہ انسانیت کا تمثیلی نمائندہ تھا‘قصہ آدم کسی خاص فرد کا قصہ نہیں ‘ بلکہ خود آدمی کی داستان ہے‘ جسے قرآن نے تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے الخ“۔(لغات القرآن  جلد 1 صفحہ 214)

5- ملائکہ اور ابلیس کا انکار
”واذ قلنا للملائکة اسجدوا لآدم فسجدو الا ابلیس“ (البقرہ:۳۴)
ترجمہ:․․ اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان۔
پرویزی ترجمہ: ․”اس پر کائناتی قوتیں سب انسان کے آگے جھک گئیں‘ لیکن ایک چیز ایسی بھی تھی جس نے اس کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا‘ اس نے سرکشی اختیار کی‘ یہ تھے انسان کے خود اپنے جذبات‘ جس کے غالب آجانے سے اس کی عقل وفکر ماؤف ہوجاتی ہے“۔ (مفہوم القرآن ص:۱۳)
اگر ابلیس انسان کے اندر کے سرکش جذبات کا نام ہے تو ملائکہ کے سجدہ کے وقت پھر انکار کس نے کیا تھا؟؟؟؟ پرویز نے ملائکہ کا ترجمہ” کائناتی قوتوں“ سے کرکے فرشتوں کے وجود کا انکار کیا ۔دوسری جگہ انہیں نفسیاتی محرکات قرار دیتا ہے۔
”ملائکہ سے مراد وہ نفسیاتی محرکات ہیں جو انسانی قلوب میں اثرات مرتب کرتے ہیں الخ“ (لغات القرآن  جلد 1 صفحہ 244)

6- آخرت، جنت اور دوزخ  کا انکار :
”قرآن ماضی کی طرف نگاہ رکھنے کے بجائے ہمیشہ مستقبل کو سامنے رکھنے کی تاکید کرتا ہے‘ اسی کا نام ایمان بالآخرت ہے“۔(سلیم کے نام اکیسواں خط، جلد 2 صفحہ 124 )
”بہرحال مرنے کے بعد کی جنت اور جہنم مقامات نہیں‘انسانی ذات کی کیفیات ہیں“۔(لغات القرآن جلد1 صفحہ 449 )

7- انکار واقعہ معراج:
جس طرح  مرزا قادیانی کی شیطانی وحی والہام میں عجیب وغریب خرافات وکفریات ہیں اس طرح  پرویز کی تفسیری نکات میں بھی آپ کو اسی طرح کے  لطیفے نظر آئیں گے۔ سورۃ البقرہ کی آیت ( ویسألوُنکَ عن المَحیض )(ترجمہ  :اور تجھ سے پوچھتے ہیں حکم حیض کا) )   پرویز اسکا ترجمہ کرتا ہے'اس کا مطلب ہے سرمایہ دارانہ معاشی نظام جیسے خرافات وضلالات نظرآئیں گے' ۔ اس طرح  سورۃ  بنی اسرائیل  کی پہلی آیت کے حوالے سے لکھتا ہے۔
 ”واقعہٴ اسراء“اگر یہ خواب کا نہیں تو یہ حضور کی شب ہجرت کا بیان ہے‘اس طرح مسجد اقصیٰ سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہوگی‘جسے آپ نے وہاں جاکر تعمیر فرمایا“۔(معارف القرآن جلد 4 صفحہ  732)
دوسروں کو ”ملائیت اور دقیانوسیت کا طعنہ دینے والے پیران نابالغ   بتلاتے ہیں کہ 'مسجد اقصی' سے مراد' مسجد نبوی' ہے۔

8-پرویزی شریعت اور حلا ل حرام
قرآن کی رو سے صرف مردار، بہتا خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام  کی طرف منسوب چیزیں حرام ہیں  ان کے علاوہ کچھ حرام نہیں۔۔ ہمارے مروجہ اسلام میں حرام و حلال کی جو طولانی فہرستیں ہیں وہ سب انسانوں کی خود ساختہ ہیں" (حلال و حرام کی تحقیق ، ماہنامہ طلوع اسلام مئی 1952)
یوں شریعت پرویز میں کتے، بلے،  گدھے،  سانپ، کچھوے، مینڈک، کیڑے سب حلال ہیں۔

9-  نماز کی حقیقت
”وارکعوا مع الراکعین“۔ (البقرة :۴۳)
ترجمہ:․․ ”نماز پڑھو نماز والوں کے ساتھ“   (آیت میں  نماز باجماعت کی تاکید ہے)
پرویزی ترجمہ: ․”اور اسی طرح تم بھی اب ان کے ساتھی بن جاؤ جو قوانینِ خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں“۔ (مفہوم القرآن ص:۱۶)
نماز اور دیگر عبادات کے بارے میں پرویز کی   مزید تعلیمات ملاحظہ فرمائیے۔
”ہماری صلوٰة وہی ہے جو (ہندو) مذہب میں پوجاپاٹ کہلاتی ہے‘ ہمارے روزے وہی ہیں جنہیں مذہب میں برت‘ ہماری زکوٰة وہی شئے ہے جیسے خیرات‘ ہمارا حج مذہب کی یاترا ہے‘ ہمارے ہاں یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے ثواب ہوتا ہے‘ یہ تمام عبادات اس لئے سر انجام دی جاتی ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے‘ ان امور کو نہ افادیت سے کچھ تعلق ہے‘ نہ عقل وبصیرت سے کچھ واسطہ‘ آج ہم اسی مقام پر ہیں جہاں اسلام سے پہلے دنیا تھی“۔ (قرآنی فیصلے ص:۳۰۱ تا ۳۰۲)

10- انکار  زکوٰة
پرویز نے”اقیموا الصلوٰة“ کی باطل اور من گھڑت تشریح کیساتھ اسلام کے دوسرے عظیم الشان حکم ”واتوا الزکوٰة“ کی بھی باطل تاویل کی ہے، زکوٰة کو سرے سے  فرض ہی  نہیں سمجھتا ،اسے ایک ٹیکس قرار دیتاہے:
”زکوٰة اس ٹیکس کے علاوہ کچھ نہیں جو اسلامی حکومت مسلمانوں پر عائد کرے‘اس ٹیکس کی کوئی شرح مقرر نہیں کی گئی“۔ (قرآنی فیصلے ص: ۳۵)

11- انکار معجزات  :
 ”رسول اکرم کو قرآن کے سوا کوئی معجزہ نہیں دیا گیا“۔(معارف القرآن جلد 4 صفحہ  731)

12- قربانی پیسے کا ضیاع ہے:
”قربانی کے لئے مقام ِحج کے علاوہ اور کہیں حکم نہیں اور حج میں بھی اس کی حیثیت شرکائے کانفرنس کے لئے راشن مہیا کرنے سے زیادہ نہیں ہے‘ (پرویز کے ہاں حج کا مفہوم ایک بین الاقوامی کانفرنس ہے)  مقامِ حج کے علاوہ کسی دوسری جگہ قربانی کے لئے کوئی حکم نہیں ہے‘ یہ ساری دنیا میں اپنے اپنے طور پر قربانیاں ایک رسم ہے‘ ذرا حساب لگایئے‘ اس رسم کو پورا کرنے میں اس غریب قوم کا کس قدر روپیہ ہرسال ضائع ہوجاتاہے“۔ (قرآنی فیصلے ص:۶۹)

یہ چند کفریات ”مشتے نمونہ از خروارے“ کے طور پر ذکر کئے گئے، ان میں ہی واضح ہے کہ  پرویز  نے سارا اسلام قرآن ، حدیث، تمام عبادات، تمام احکامِ شرعیہ بیک جنبش قلم ختم کردیئےہیں پھر بھی اصرار ہے کہ اسے اور اسکے ماننے والوں کو مسلمان اور اہل حق کہا جائے ۔تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ  ”ضروریات ِ دین" (جن کا دینِ اسلام سے ہونا قطعی ہے) کا  صریح انکار کرنے والا، ان میں چودہ  سوسال سےراجح  تعبیر کے خلاف تاویل کرنے والایا انکا مذاق اڑانے والا کافر ہوجاتا  ہےجیسے  مرزا غلام احمد قادیانی اپنے  سینکڑوں کفریات کے علاوہ  ختمِ نبوت اور نزولِ مسیح علیہ السلام کے معنی میں تاویل کرنے کی وجہ سے  باتفاق امت کافر ہے اسی  طرح  غلام احمد پرویز  بھی اپنی تحریرات وتالیفات میں کلمہ، نماز، روزہ، حج،   زکوٰة، قربانی ، آخرت وغیرہ کے انکار اور مفہومات بدلنے کی وجہ سے کافر ہوگیااور پاکستان ، سعودی عرب ،کویت‘ بھارت ، جنوبی افریقہ، شام ومصر وغیرہ کے اکابر علماء  پرویزیوں کے عقائد ونظریات کا مطالعہ اور تحقیق کرنے کے بعد ان کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کرچکے ہیں۔

منکرین حدیث دوستوں سے کچھ سوالات :
  1.  آپ احادیث کے ذخیرہ کو عجمی افراد کی کارستانی بتاتے ہوئے آپ امام بخاری  کو ایرانی بتاتے ہیں ،حالاں کہ وہ ایرانی نہیں، بخارا کے باشندے تھے، اگر عجمی ہونا جرم ہے تو آپ کے پرویز سمیت تمام ہندوستانی اکابر بھی ما شا ء الله عجمی ہی ہیں ، پرویز کی تو 'پ' پکار پکار کر ان کے عجمی ہونے کااعلان کر رہی ہے یہ حرف تو عربی حروف میں موجود ہی نہیں۔۔ اب یہ بتائیے کہ عجمی بخاری کی بات ماننا گمراہی کیوں ہے  اور آپ جیسے عجمیوں کی بات ماننا اسلام کیوں  ؟
  2.   آپ ہی بتائیے جن محدثین کی مادری زبان عربی تھی اور ان کی زندگیاں عربوں ہی کے درمیان گزریں، وہ تو بقول آپ کے حدیثیں اکٹھا کرنے کے جرم میں عجمی سارش کے آلہ کار ٹھہرے، لیکن ایک عجمی غلام احمد پرویز جو ساری زندگی زبان عرب سے بھی محروم رہا او رماحول عرب سے بھی محروم رہا ،وہ کیسے مقتدا اور پیشوا بنا دیا گیا؟ کہیں اس کا ظہور اور دعویٰ ہی عجمی سازش تو نہیں؟
  3.  عجیب بات یہ ہے کہ صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے مسلمانوں کا اجماع اور عمل تو آپ کے نزدیک حجت اور درست نہیں اور نہ ہی ان کی اطاعت جائز ہے، چودہویں صدی کے منکرین فقہ وحدیث کی تقلید آپ کے لیے کس وحی کی رو سے جائز ہو گئی؟
  4.  نماز کے طریقہ،  رکعتوں، فرائض و واجبات  کی تعداد کا ذکر قرآن مجید میں نہیں، ان کی تعداد کون اور کیسے مقرر کریں گا؟
  5.  یہ تو انصاف نہیں کہ زکوٰة کی شرح میں تو کمی بیشی کی جاتی رہے اور بے چاری نماز اپنے پرانے طریقے پر رہ جائے۔ کیا آپ یہ حکم دیں گے کہ فارغ مولوی یا صوفی تو فجر کی نماز بیس رکعت فرض پڑھا کریں اور ملازم پیشہ لوگ سائیکل چلاتے ہوئے ہی اشارے سے رکوع سجدہ کر لیا کریں تو ان کی نماز ہو جائے گی؟
  6. آپ کہتے ہیں کہ زکوٰة صرف اسلامی حکومت کو ہی ادا کی جاسکتی ہے، موجودہ حکومتوں کو آپ اسلامی حکومتیں نہیں مانتے۔ اس صورت میں زکوٰة کس کو ادا کی جائے ؟

آخر میں حدیث وسنّت کے بارے میں قرآن مجید سے صرف دو چار آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔
    ﴿وانزل الله علیک الکتب والحکمة﴾
      ترجمہ: اورالله تعالیٰ نے آپ صلی الله علیہ وسلم پر قرآن اورحکمت نازل فرمائی'
     بتائیے حکمت کو کتاب( قرآن) سے الگ کیوں بیان کیا گیا؟ حکمت سے سنت یا حدیث مراد لینا کیوں درست نہیں  ؟
      ﴿یا ایھا الذین آمنوا لا تقدموا بین یدی الله ورسولہ﴾
    'اے مومنوا الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے حکم سے سرتابی نہ کرو'
      رسول صلی الله علیہ وسلم کے حکم کو حدیث کہنا کون سا گناہ ہے؟
منکرین حدیث کے متعلق نبی علیہ السلام کی پیشن گوہی
ترجمہ: ”مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا۔ سن رکھو! مجھے قرآن بھی دیاگیا اور قرآن کے ساتھ اس کے مثل بھی، سن رکھو! قریب ہے کہ کوئی پیٹ بھرا تکیہ لگائے ہوئے یہ کہنے لگے کہ لوگوں! تمہیں یہ قرآن کافی ہے بس جو چیز اس میں حلال ملے اسی کو حلال سمجھو! حالانکہ اللہ کے رسول کی حرام بتلائی ہوئی چیزیں بھی ویسی ہیں جیسی اللہ تعالیٰ کی حرام بتلائی ہوئی۔“
الحدیث. (رواہ ابوداود، دارمی، ابن ماجہ، مشکوٰة ص:۲۹)

اس شہادت کے بعد اہل ایمان کے لئے شک اور تردد کی گنجائش ظاہر باقی نہیں رہتی البتہ جن سے ایمان کی دولت ہی کو سلب کرلیا گیا ہو، کس کے اختیار میں ہے کہ ان کو تشکیک کے روگ سے نجات دلاسکے اور کونسا سامان ہدایت ہے جو ان کیلئے سود مند ہوسکے۔جیسا کہ قرآن خود بتا رہا ہے: ”فَمَا تغنِ الآیات والنُذر عن قومٍ لا یوٴمِنون“ (جن کو ایمان نہیں لانا ہے ان کیلئے نہ کوئی آیت سود مند ہوسکتی ہے نہ کوئی ڈرسنانے والے)۔
الله تعالیٰ ہی سمجھ اور ہدایت نصیب فرمائیں ۔

مکمل تحریر >>