اتوار، 9 ستمبر، 2012

تاریخ اسلام میں صحابہ کے کردار کو مجروح کرنے والی روایات پر ایک تحقیق

ہم نے یہاں اپنی تحریر میں  محققین  کی تحقیق اور اسم و رجال کے حوالہ سے لکھا کہ   صحابہ کے اختلافی واقعات کی ایسی تمام روایات  جن سے صحابہ کا کردار مجروح ہوتا نظر آتا ہے اور وہ واضح قرآن وحدیث کی صحابہ کے متعلق گواہی اور تفصیل کا بھی  خلاف ہیں '  سبائی راویوں اور دشمنان صحابہ کی اپنی وضع کردہ ہیں ۔ اس کے  ثبوت  میں ہم  ابو مخنف لوط کی تین روایات پر تجزیہ   پیش کررہے ہیں، جس سے ان لوگوں کا مکر اور طریقہ واردات بھی کھل کر سامنے آجائے گا۔

جنگ صفین اور  واقعہ تحکیم کےمتعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ
واقعہ تحکیم کاپس منظر :۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے کے مسئلے پر  امت دو حصوں میں بٹ گئی  تھی ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان  کے ساتھ صحابہ  کی جماعت کا  یہ موقف تھا کہ  ہم علی رضی اللہ عنہ کی بیعت اس وقت کر یں گے جب  تک عثمان رضی اللہ  عنہ کے خون ناحق کا قصاص  لیا جائے گا ، جب کہ علی رضی اللہ  عنہ کا مطالبہ تھا کہ یہ لوگ بیعت کرلیں پھر بعد میں جب حالات سازگار ہوجائیں گے تو قصاص لے لیا جائے گا۔معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کا موقف یہ تھا  کہ  چونکہ قاتلین عثمان  ہی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت قبول کرنے پر مجبور کرکے سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ملک کے انتظام و تدبیر  اور حضرت علی رضی اللہ  عنہ کے تمام فیصلوں میں وہ پوری طرح دخیل ہیں اسی لئے  حضرت علی رضی اللہ نہ خون عثمان کا قصاص لے پارہے ہیں اور نہ ہی اس صورتحال کے برقرار رہتے ہوئے وہ قصاص لے سکیں گے ، لہذا فتنہ کے سدباب  کی بس یہی صورت ہے کہ یا تو وہ خود قصاص لیکر ان قاتل سبائیوں سے اپنی گلو خلاصی کریں یا پھر ان قاتلوں کو ہمارے حوالہ کردیں تاکہ ہم انکو کیفرکردار تک پہنچا کر پوری ملت اسلامیہ کے زخمی دلوں کو سکون پہنچا سکیں، یہ مطالبات ان بلوائیوں/ سبائیوں/قاتلان عثمان کے لیے انتہائی تباہ کن تھے اس لیے  ان کی ریشہ دوانیوں اور کوششوں سے ان دونوں گروہوں میں اختلاف بڑھتے گئے اور  نہ چاہتے ہوئے بھی ان میں  دو جنگیں  جنگ جمل اور جنگ صفین  ہوگئیں ۔ صفین میں جب جنگ زوروں پر تھی  تو  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نےدونوں طرف ہونے والے مسلمانوں کے اس جانی نقصان سے بچنے  کے لیے  حضرت علی کو قرآن پر مصالحت کی دعوت دی جس کو انہوں نے فورا منظور کرلیا اور دونوں طرف جنگ بندی کا اعلان ہوگیا۔
 اس جگہ ہم نے  تاریخ کی ان مکذوبہ سبائی تفصیلات کو بیان کرنے سے قصدا گریز کیا ہے جن میں بیان کیا گیا ہے  اپنی شکست کو قریب دیکھ کر معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے قرآن  کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے  نیزوں پر بلند کردیا  تاکہ علی کی فوج منتشر ہوجائے اورہم شکست سے بچ جائیں اور یہ کہ علی رضی اللہ عنہ  اس جنگ بندی پر راضی    نہیں تھے ، باربار  اپنی تقریروں   (جن میں معاویہ اور مخالف صحابہ کو منافق اور دھوکے باز کہنے اور   گالیاں دینے کا ذکر ہے )  کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو  جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے اور ابھارتےرہے ، لیکن آپ  رضی اللہ عنہ  کی اپنی جماعت کے سامنے ایک نہ چلی اور آخر بادل  نخواستہ تحکیم  پر رضا مند ہوئے۔ ان روایات  میں  راویوں کا جھوٹ اور بہتان  کئی باتوں سے ظاہر ہے، اسکی تفصیل ان روایات پر تبصرہ میں آگے  آئے گی۔

واقعہ تحکیم :۔
جنگ بندی کے بعد تحکیم ہوئی یعنی کتاب اللہ کے حکم کےمطابق حضرت علی رضی اللہ کی طرف سے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ثالث مقرر ہوئے کہ یہ دونوں کتاب وسنت کے مطابق  نزاعی معاملہ کا جو فیصلہ کریں گے وہ فریقین کے لئے قابل قبول ہوگا۔اس فیصلہ کی شرائط کے متعلق جو ابتدائی دستاویز تیار ہوئیں وہ تاریخ کی سب بڑی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں ہم طوالت سے بچنے کے لیے اس کے بنیادی نکات کو بیان کرتے ہیں۔
1. حضرت علی رضی اللہ اور انکے تمام ساتھیوں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے تمام ساتھیوں کو مساویہ طور پر اہل ایمان تسلیم کیا گیا۔
2. دونوں ثالثوں کی عدالت اور انصاف پر فریقین نے اپنے کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ ایسا فیصلہ کریں  جس سے یہ عارضی جنگ بندی مستقل  اور پائیدار امن کی صورت اختیار کرے اور دوبارہ اختلاف و جنگ کی صورت  پیدا نہ ہونے پائے۔
3. ثالثوں پر  ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ اپنا فیصلہ تحریری طور پر پیش کریں۔
4. شہادت و مشاورت اور دوسرے تمام ضروری مراحل سے گذرنے کے بعد ثالثوں کے فیصلہ سنانے کے لیے  رمضان کا مہینہ مقرر کیا گیا۔

ثالثوں کا فیصلہ :۔
یہ معاہدہ چونکہ خیر القرون  میں نبی کامل کے  تربیت یافتہ   جید اصحاب  کی ان دو جماعتوں کے درمیان ہوا تھا  جن سے پاکیزہ اور لائق تقلید انسانی گروہ کا روئے زمین پر تصور نہیں کیا جاسکتا ،  اس لیے اس  تحکیم کے لیے جس طرح کی بہترین شرائط رکھی گئی  تھیں فیصلہ بھی انہی کے مطابق  آنا یقینی تھا ۔ جبکہ تاریخی روایتوں میں یہاں بات کو بڑے طریقے سے ایک  الگ رخ پر موڑ کر فتنہ کا دروازہ کھول دیا گیا،۔تاریخ اس فیصلہ کی تفصیلات میں ان سبائی راویوں کی روایتوں کی بنیاد پر  کچھ اور ہی کہانیاں سناتی ہے ۔ معاہدہ کی شرائط پرغور کیجیے ان میں کن باتون کو اہمیت دی گئی اور  تاریخ فیصلہ کیا  بتاتی ہے ۔ جنگیں  اور پھرمعاہدہ قاتلان عثمان سے قصاص کےمتعلق ہوا اور  تاریخ میں یہ سبائی روای انتہائی مکاری سے  فیصلہ میں  بالکل الٹ خلافت کا تنازعہ بتاتے ہیں اور پھراپنے غیظ القلب کی تسکین کے لیے اصحاب کا ایک دوسرے کو گالیاں دینا،  برا بھلا کہنا  بتلاتے ہیں   ۔  تاریخ طبری، ان اثیر اور ابن خلدون وغیرہ نے فیصلہ کی جو تفصیلات دیں  ہیں انکا خلاصہ یہ ہے۔
"دونوں ثالث مجمع میں آئےجہاں دونوں طرف چار چار سو اصحاب کرام رضوان اللہ اور  ان کے علاوہ کچھ غیر جانبدار جید صحابہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ  موجود تھے۔حضرت  ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ  تقریر کرنے کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم دونوں اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کو خلافت سے معزول کرلیں، پھر لوگ باہمی مشورہ سے جس کو پسند کریں خلیفہ کی حیثیت سے منتخب کرلیں، لہذا میں علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرکے معاملہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہوں کہ اب آپ جسے چاہیں اپنا نیا امیر بنالیں، اس کے بعد حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ جو کچھ میرے ساتھی نے ابھی کہا اسے آپ لوگوں نے سن لیا کہ انہوں نے اپنے آدمی علی رضی اللہ کو معزول کردیا میں بھی انکی طرح علی رضی اللہ عنہ کو معزول کرتا ہوں اور اپنے آدمی معاویہ رضی اللہ کو خلاف پر قائم رکھتا ہوں۔ یہ سنکر حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو سے کہا  تم نے یہ کیا کیا ؟ خدا تمہیں توفیق نہ دے ، تم نے تو ہمیں دھوکہ دیا ہے  اور گنہگار بنے ، تمہاری مثال تو اس کتے کی ہے جس پر بوجھ لادو تو بھی ہانپے ، اس کے جواب میں حضرت عمرو نے کہا کہ تمہاری مثال اس گدھے کی ہے جو بوجھ ڈھوئے پھرتا ہے۔ دوسرے صحابہ نے حضرت ابوموسی کو طعنے دینے شروع کیے ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ نے کہا کہ ابو موسی تمہارے حال پر افسوس ہے کہ تم عمرو کی چالوں کے مقابلے میں بہت کمزور نکلے، حضرت  عبد الرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابو موسی اگر اس سے پہلے مر گئے ہوتے تو ان کے حق میں ذیادہ اچھا ہوتا "۔ پھر حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ مجمع سے اٹھ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انکو خلافت کی مبارکباد پیش کی ، دوسری طرف حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ اتنے شرمندہ تھے کہ وہ پھر حضرت علی رضی کو منہ بھی نہ دکھا سکے اور سیدھے مکہ چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے کوفہ پہنچ کر  اپنی تقریروں میں مخالف صحابہ کو برا بھلا کہا اور دوبارہ جنگ کی تیاریاں شروع  کردیں۔ لیکن ان کے لوگوں نے انکا ساتھ نہ دیااور خوارج کے فتنے نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے مزید ایک درد سر پیدا کردیا تھا۔

وضا حت طلب امور :۔
1. فیصلہ کی تقریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ  دونوں خلیفہ تھے، پھر حضرت ابو موسی  رضی اللہ عنہ نے دونوں کو معزول کردیا اور عمر و رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو برقرار رکھا،حالانکہ یہ کسی گری پڑی تاریخی روایت سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  نے اس واقعہ سے پہلے یا بعد میں اپنی خلافت کا اعلان کرکے اسکے لیے کسی  ایک شخص  سے بھی  بیعت لی ہو ،  اس کے مقابلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بیعت ہوچکی تھی اور انہیں امیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے تسلیم کیا جا چکا تھا، صرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھ اصحابہ نے فی الحال بیعت نہیں کی تھی ،  وہ بھی اس لیے نہیں کہ وہ خود خلافت کے مدعی تھے بلکہ اس لیے کہ انکا مطالبہ تھا کہ پہلے  قاتلان عثمان غنی سے  قصاص لے لیا جائے پھر ہم بیعت کریں گے،  پھر   معاویہ   رضی اللہ عنہ کو خلافت پر قائم رکھنے اور علی رضی اللہ عنہ کو معزول  کرنے کی داستانیں کس بنیاد پر ؟
2. تحکیم کی دستاویز میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ ثالثوں کا فیصلہ تحریری ہوگا، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ثالثوں نے محض تقریریں کیں ،اگر فیصلہ تحریری شکل میں نہیں تھا تو فریقین کی طرف سے شریک مجلس چار چار سو اصحاب اور ان کے علاوہ دوسرے غیر جانبدار بزرگ  حضرات میں سے کسی نے تحریری فیصلہ کا مطالبہ کیوں نہیں کیا  ؟ روایت   دونوں کا مناظرہ دکھاتی ہے جبکہ  یہاں تحریری فیصلہ پڑھ کر سنایا جانا تھا۔
3.   اس روایت  کے مطابق حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ  کی  (معاذ اللہ) ناسمجھی ،  بیوقوفی  اور  حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی چالاکی  کے باوجود دونوں کا کوئی متفقہ فیصلہ سامنے  نہیں آیا ،  دونوں نے بس ایک دوسرے کو ملامت کی اور کتا گدھا بنایا،   نہ مجمع نے  دونوں کی تقریروں کے بعد  متفقہ طور پر کسی کو منتخب  کیا ۔ پھر وہ کون سا فیصلہ  ہے جس پر حضرت عمرو  رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ کو خلافت کی مبارکباد دی اور حضرت علی رضی اللہ نے اس پر اپنی ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اسے رد کیا ؟
4. اس نام نہاد فیصلہ کے بعد حضرت معاویہ رضی  اللہ نے  اپنی خلافت کی  عام بیعت کیوں نہیں لی ؟ کیا انہوں نے بھی فیصلہ کو رد کردیا تھا ؟۔
5. راوی کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے فیصلہ  کی علی الاعلان مخالفت اور دونوں ثالثوں کو مجرم گردانے کے بعد  شام پر دوبارہ چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع ہوئیں  لیکن خارجیوں کے فتنے نے اپنی طرف متوجہ کردیا۔پھر   حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس کمزوری سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فاعدہ اٹھا کر  کوفہ پر چڑھائی کیوں نہ  کی، اگر وہ خلافت چاہتے تھے تو یہ تو علی رضی اللہ عنہ کو راستے سے ہٹانے کا بہترین موقع تھا، اس ناکام فیصلہ کے بعد جنگ بندی مستقل کیسے ہوگئی،  دوبارہ دونوں میں اختلاف کیوں نہ سامنے آیا ؟
یہ چند امور وضاحت طلب ہیں جو اس وقت تک وضاحت طلب ہی رہیں گے جب تک ان روایتوں کے راوی ابو مخنف لوط بن یحیی کی ان دروغ بافیوں کو صحیح تسلیم کیا جاتا رہے گا  ۔

فیصلہ پر ایک نظر :۔
ان وضاحت طلب امور کے علاوہ  فیصلہ سے پہلے اور فیصلہ کے بعد کے حالات و واقعات کو بنیاد بنا کر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ  اس واقعہ کے متعلق تاریخی کتابوں میں مذکور  ثالثوں کے فیصلے کی یہ تمام تفصیلات قطعا غلط ، گھڑی ہوئی  اور محض اصحاب سے بدظن کرنے کی ایک رافضی سازش ہیں۔اصل فیصلہ مجموعی طور پر انتہائی کامیاب اور فریقین کے لیے قابل قبول اور عام مسلمانوں کے بہترین مفاد میں تھا کیونکہ :
1. دونوں ثالث ناصرف  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  بلکہ بعد کے بھی سارے خلفائے راشدین اور صحابہ کے  قابل اعتماد لوگ تھے اور ان کی فہم فراست، تدبر و سیاست اور فقہ و دیانت  کو دیکھتے ہوئے ان کو ہر دور میں بڑی بڑی ذمہ داریاں اور عہدے عطا کیے گئے تھے ۔یہ بات ناممکن تھی کہ وہ صرف اس ایک مسئلہ میں  فتنہ کا  دروازہ  کھولنے والا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ کرتے ۔
2. اگر ثالثوں  نے اپنی ذمہ داریوں کو قطعا فراموش کرکے اور خدانخواستہ دین و دیانت کو بالائے طاق رکھ کر  یہ غلط فیصلہ دیا ہوتا تو مجلس میں موجود آٹھ سو سے زائد  چیدہ و نمائندہ اصحاب کرام رضوان اللہ  خاموش تماشائی نہ بنے رہتے۔  ایسا تو آج کے گئے گذرے دور میں بھی نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ عہد صحابہ رضی اللہ میں جہاں منبر پر  کھڑے خلیفہ  کو دو چادریں پہننے پر   پوچھ لیا جاتا تھا کہ سب کو  مال غنیمت سے ایک چادر ملی اس نے دو کہاں سے لائیں۔
3. ثالثوں کے تقرر کا مقصد یہی تھا کہ نزاعی مسئلہ ' جنگ کے بجائے امن کے ماحول میں طے ہوجائے اور امت خون خرابہ سے محفوظ ہوجائے، یہ بات واضح ہے کہ ثالثوں کے فیصلہ کے بعد  رفتہ رفتہ کشیدگی کم ہوتی گئی اور پھر  دوبارہ جنگ کی نوبت نہیں آئی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ثالثوں  کے اصل فیصلے (جس کو تاریخ  سے غائب کردیا گیا ) سے فریقین  مطمئن ہوگئے  تھے۔.
4. مزید ابو مخنف لوط  مردود کی ان وضعی داستانوں پر یقین کرنے سے صحابہ کرام جیسی مقدس جماعت کی جو گھناؤنی تصویر ابھرتی ہے وہ تو اپنی جگہ  اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ہوگاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (نعوذ باللہ) وہ بد قسمت انسان تھے  جن کا نہ کوئی سچا ہمدرد اور خیرخواہ تھا  اور نہ   انکی بات کو کوئی تسلیم کرتا تھا  اور  خود  آپ  اس قدر کمزور  قوت فیصلہ  کے مالک تھے  کہ ہر دفعہ  آپ  کو دوسروں کی رائے تسلیم کرنی پڑتی تھی۔آپ  ابو موسی کے بجائے مالک بن اشتر کو ثالث بنانا چاہتے تھے لیکن آپکی  مرضی نہ چلی ، آپ  قرآن کو نیزوں پر اٹھانے کے بعد بھی جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے،  آپ  نے اس کے لیے جوش آور تقریریں کیں اور دین کا واسطہ دیکر بھی جنگ کا حکم دیا اس کے علاوہ تحکیم کے فیصلہ کے   بعد عراق جاکر بھی دوبارہ شام پر چڑھائی کرنے کے لیے اپنے حواریوں کو حکم دیا   لیکن آپ  ایسے کمزور اور مجبور خلیفہ تھے کہ آپ   کے واسطے دینے پر بھی کسی نے آپکی بات نہ ما نی۔
نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات الباطلہ۔

ثالثوں  کی شخصیت
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ  :۔
 واقعہ تحکیم کی بنیاد پر  حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ پر  دو بہتان لگائے جاتے ہیں کہ اول یہ کہ  آپ نہایت مغفل، بیوقوف  اور سفینہ قسم کے آدمی تھے   ، اس لیے  عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آپ کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوگئے ، دوئم حضرت  علی رضی اللہ عنہ کو آپ پر پہلے سے ہی اعتماد نہیں تھا وہ  کسی اور کو ثالث بنانا چاہتے تھے۔
 یہ دونوں باتیں حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کے زندگی کے ریکارڈ کے خلاف ہیں حقیقت میں آپ  وہ شخص تھے جنکی زیرکی ودانائی، تدبر وسیاست، فہم فراست اور فقہ و دیانت داری پر نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ بعد کے سارے خلفا  ئے راشدین نے  بھرپور اعتماد کرتے ہوئے ان کو اہم  علمی ، سیاسی  عہدوں کی ذمہ داری دی تھی ، (انکی تفصیلات تاریخ  اور انکی زندگی پر لکھی گئی کسی کتاب میں پڑھی جاسکتی ہے)۔  پھر  حضرت ابو موسی سے منسوب کوئی ایسا جھوٹا واقعہ  بھی کسی تاریخی کتاب تک میں تحکیم سے پہلے کا نہیں ملتا جس سے انکی سفاہت  پر کچھ روشنی پڑتی ہو بلکہ اس کے برعکس ان کے عبقری صفت ہونے کے ایسے حالات ملتے ہیں  جن سے ان کے صحابہ میں امتیازی مقام کا پتا چلتا ہے۔ پھر اچانک ان  کی بے عقلی اور سفاہت کی باتیں اور ان پر یہ بے اعتمادی  کیسے سامنے آگئی ۔ ؟
سچائی یہ ہے کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ثالثوں کی دستاویز وں میں درج شرائط کی پوری پابندی کرتے ہوئے کتاب وسنت کی ہدایت میں جنگ صفین کے اسباب کا پتا لگایا اور فریقین کے موقف کی خوبیوں  و خامیوں کا جائزہ لیا اور پوری غیر جانبداری کے ساتھ غوروخوض کرنے ، نیز استصواب رائے کےبعد انہوں نے جو فیصلہ دیا   وہ فیصلہ نہ صرف فریقین بلکہ بلا اختلاف تمام مسلمانوں نے تسلیم کیا  ، فیصلہ کی تحریر کا متن تو سبائیوں کی ہاتھ کی صفائی  کی وجہ سے تاریخ میں نہ آسکا ، لیکن فیصلہ کی برکات کو سبائی چھپانے پر قدرت نہیں رکھتے تھے کہ فیصلہ کے بعد نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی  اللہ عنہ کے درمیان کوئی جنگ ہوئی اور نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے خون عثمان کے قصاص کا مطالبہ ہوا اور نہ ہی  حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے انہیں شام کی گورنری سے معزولی کے لیے اصرار  ہوا ۔ اس فتنہ کا پوری طرح سدباب ہوگیا  جس کے لیے ثالثوں کا تقرر ہوا تھا۔
اس شاندار کامیابی کے ہوتے بھلا حضرت ابو موسی کیوں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منہ چھپا کر مکہ جاتے ؟ بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ حضرت ابو موسی کی  یہ بے لوث و مخلصانہ خدمت  اور انکی شاندار کامیابی انکی نسلوں تک  کیلئے سرمایہ افتخار بنی رہی ، چنانچہ   مشہور شاعر ذی الرمہ نے ان کے پوتے  حضرت بلال بن برید بن ابی موسی رضی اللہ عنہ  کی شان میں قصیدہ کہتے ہوئے اس شاندار کارنامہ کا ذکر اس طرح کیا ہے۔
ابوک تلافی الدین و الناس بعد ما
تشاءوا و بیت الدین منقطع الکسر
ترجمہ ؛ آپ کے باپ تو وہ تھے جنہوں نے دین اور اہل دین کی اس وقت شیرازہ بندی کی جب دین کا قصر گرنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔
فشداصارالدین ایام اذرح
وردحروباقد لقحن الی عقرٖ
 انہوں نے اذرح والے دنوں میں دین کے خیمہ کی طنابیں کس دیں اور ان جنگوں کو روک دیا جو اسلام کی نسل منقطع کرنے کا سبب بن رہی تھیں۔

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی ، اسلام کے مایہ ناز جرنیل فاتح مصر اور 'دہاۃ عرب'  میں شمار ہونے والے حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ بھی سبائیوں کی دو طرفہ سازشوں سے تاریخ کی مظلوم شخصیتوں میں شامل ہوگئے۔   جب خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں مصر کی گورنری سے معزول کرکے انکی جگہ حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تو انکے اس فیصلہ پر عمرو رضی اللہ عنہ کی ناراضگی  کولے کر خلیفہ ثالث پر اقرباپروری کا الزام لگانے کے لیے  سبائیوں نے  ان ( حضرت عمرو) کے خوب خوب فضائل بیان کیے، جب یہی  عمر و مسلمانوں کے اختلاف سے پریشان ہو کر افہام تفہیم اور اصلاح کے لیے حضر ت معاویہ  کے پاس شام  گئے اور  انکے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان مصالحت  کے ذریعے  سبائی قاتلان عثمان  سے قصاص لینے کے لیے راہیں ہموار کرنے  کرنے لگئے تو یہی سبائی ان کے دشمن بن گئے ان پر   ناصرف  میدان جنگ میں قرآن نیزوں پر بلند کرانے ، ثالثی کے فیصلے میں عیاری دکھلانے  وغیرہ جیسے بڑے الزام لگا دیے بلکہ ان کواپنی روایتوں میں دوسروں کی زبان سے خوب گالیاں بھی دلوائیں۔ غرضیکہ وہی شخصیت جسے عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہمہ صفات موصوف قرار دیا گیا  اسے ہی  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلاف میں ہمہ عیوب قرار دیدیا گیا۔ یہ ہے سبائیت کا دوہرا معیار  جسے صحیح تاریخی اسلام قرار دیکر جلیل القدر اصحاب رسول کی کردار کشی کی جارہی ہے۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر ثالثی کے فیصلہ میں عیاری دکھلانے کے الزام کی حقیقت اوپر تحکیم اور حضرت موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں بیان کی جاچکی ہے  کہ اس فیصلہ کی دی گئی تفصیلات سب گھڑی ہوئی ہیں۔ آپ  پر سب سے بڑے اعتراض  کا سبب ابو مخنف کی وہ روایت ہے جس میں بتایا گیا ہے  کہ آپ کے مشورہ کے مطابق  ایک جنگی چال کے طور پر جنگ صفین میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  نے لشکر سے قرآن کو نیزوں پر بلند کروایا تاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں پھوٹ پڑ جائے ۔ ابو مخنف کی اس روایت کو لے کر رافضیوں اور نام نہاد سنیوں نے عمر و رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنے دل کی کالک سےکئی کئی صفحے کالے کیے ہیں۔حالانکہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ ابن کثیر میں اس روایت کے ساتھ  اسی واقعہ کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی بھی ایک باسند روایت نقل کی ہے، ان ناقدین اصحاب کواس سبائی کی روایت تو نظر آگئی اسی صفحہ پر یہ روایت نظر نہیں آئی جسے ایک صحابی روایت کررہے ہیں۔
" حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں ہم صفین میں تھے تو جب اہل شام کے ساتھ جنگ خوب زور پکڑ گئی ، شامی ایک ٹیلے پر چڑھ گئے ، پھر حضرت عمر بن العاص  رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ علی رضی اللہ عنہ کی طرف قرآن بھیج کر ان کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دیں، وہ ہرگز انکار نہ کریں  گے، تب قرآن لیکر ایک آدمی  معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے آیا پھر اس نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان  یہ اللہ کی کتاب فیصلہ کرنے والی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں تو اس کا ذیادہ حقدار ہوں ، ٹھیک ہے ہمارے اور تمہارے درمیان یہ کتاب اللہ ہے جو فیصلہ کرے "۔
 حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے جنگ صفین میں شرکت کرنے والے صحابی حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ  کی اس روایت سے پتا چلتا ہے کہ عمر و بن العاص رضی اللہ کے مشورے سے  نہ  تو قرآن کو نیزوں پر بلند  کرکے بے حرمتی کی گئی  ، نہ علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تفرقہ پھیلانے کے لیے اور  شکست سے بچنے کے لیے یہ   ایک جنگی چال تھی  ۔ حضرت عمر و رضی اللہ عنہ کو  اس بات کا احساس تھا کہ   سبائیوں اور قاتلان عثمان نے اپنی جان بچانے کے لیے یہ جنگ  ایک چال کے طور پر  مسلمانوں کے درمیان شروع کروا دی ہے جس سے دونوں طرف مسلمان شہید ہورہے ہیں ،  انہوں نے  مسلمانوں کو  اس بڑے جانی نقصان سے بچانے کے لیے  یہ مخلصانہ کوشش کی اور  ایک آدمی کو قرآن دے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر ان کو یہ پیش کش کی ہم اس فتنہ میں قرآن کو اپنا حکم  بنا لیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کرلیں، جسے  علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر منظور کرلیا کہ میں تو قرآن کے فیصلہ کی طرف دعوت دینے اور اس پر عمل کرنے  کا ذیادہ حقدار ہوں ، چنانچہ بعد میں اسی مشورہ  کے مطابق  واقعہ تحکیم ہوا اور اللہ نے مسلمانوں کو  حضرت عمرہ بن العاص رضی اللہ عنہ کے ذریعے ایک بڑے جانی نقصان اور فتنہ سے بچا لیا۔ 
غور کریں کہ اس واضح  اور ایک صحابی کی مستند روایت کی تاریخ ابن کثیر میں موجودگی کے باوجود  کس طرح ابو مخنف سبائی کی اس داستان  کا انتخاب کرکے گرما گرم سرخیوں کے ساتھ  اسلامی تاریخی کتابوں میں  پیش کیا گیا ہے۔ابو مخنف اپنی گھڑی ہوئی اس روایت میں آگے حضرت علی رضی  اللہ کی ایک تقریر بھی پیش کرتا ہے جو انہوں  حضرت عمر و بن العاص کی اس ' جنگی چال ' کو سمجھ کر  عراق والوں کے  سامنے کی ۔ پڑھیے اور سردھنیے
" یہ معاویہ، یہ عمرو بن العاص، یہ ابن ابی معیط اور حبیب بن مسلمہ اور یہ ابن ابی سرح اور ضحاک بن قیس  نہ اصحاب دین ہیں نہ اصحاب قرآن ، میں انہیں تم سے ذیادہ جانتا ہوں، بچپن سے ان کا میرا ساتھ رہا ہے، یہ بدترین بچے تھے اور بدترین مرد ہیں، انہوں نے قرآن بلند کرنے کی یہ حرکت محض دھوکہ دینے کے لیے کی ہے ، خود انہیں قرآن سے کچھ تعلق نہیں ہے"۔
کیا اس پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ داماد رسول حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے ان جلیل القدر اصحاب  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن ابی معیط رضی اللہ عنہ حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ اور حضرت ضحاک بن قیس  رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتنی بازاری زبان استعمال کی ہو  ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعتماد  یافتہ صحابیوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ دین وایمان سے خارج گردان سکتے تھے ؟ بدترین  بچے اور بدترین مرد کون ہیں   ؟ وہ  کاتب وحی حضرت معاویہ رضی اللہ جن کے لیے حضور نے ھادی ومہدی کی دعا کی ، وہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جنکو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نے غزوہ ذات السلاسل کا کمانڈر مقر ر فرمایا اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ  جیسے اجلہ صحابہ  کو انکی ماتحتی میں جہاد کرنے کے لیے بھیجا اور اپنی وفات تک انہیں عمان کا والی مقرر کیے رکھا  ؟    کیا یہ لوگ اپنے مقصد کے لیے قرآن پھاڑ کر ان کے اوراق نیزوں پر بلند کراسکتے ہیں، کیا ان  کے ساتھ پانچ سو  لوگ اور صحابہ قرآن کی اس طرح بے حرمتی کرسکتے ہیں اور پھر خود حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کے نیزوں پر بلند ہونے کے بعد بھی  ایسی جنگ جاری رکھنے کے لیے تقریر کرسکتے ہیں   جس کے نتیجے میں قرآن کا لوگوں کے پاؤں تلے روندھے جانے کا خدشہ ہو ؟        غور فرمائیں  کہ  یہ سبائی رافضی دروغ گو راوی  صحابہ و اہلبیت کے کردار کو مجروع کرنے کے لیے  کس حد تک گئے ہیں  کہ انہوں نے  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ بھی ایک ایسی تقریر لگادی جو بالکل ان کے شایان شان نہیں۔ اور  پھر حیرت ہے ان سنی مورخین پر جنہوں نے بغیر تحقیق کے ان کہانیوں کو  اسلامی تاریخ کے نام پر اپنی کتابوں میں ذکر کردیا ۔ مزید  حضرت علی رضی اللہ عنہ کیسے  حضرت معاویہ کے خلاف یہ زبان درازی کرسکتے ہیں   حالانکہ تاریخ بتاتی ہے  کہ وہ خودلوگوں کو اس سے روکتے تھے ۔ 
"جنگ صفین کے سلسلے میں جو لوگ حضرت معاویہ کے متعلق زبان درازی کرتے تھے، تو آپ نے انہیں اس سے روک دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے  کہ امارت معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا نہ سمجھو، کیونکہ وہ جس وقت نہ ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے اڑتے ہوئے دیکھو گے ۔
( تاریخ ابن کثیر جلد8 صفحہ 131)
حقیقت میں جنگ صفین کو ختم کروا کر ثالثی کے ذریعے مستقل جنگ بندی کروادینا ہی حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کا وہ کارنامہ تھا جس نے سبائیوں کی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے کی جانے والی ساری محنتوں اور تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا ، اس لیے انہوں نے انہی واقعات کو لے کر انکی کردار کشی کی مہم چلائی ۔افسوس یہ ہے کہ ابو مخنف کے بیانات کو تاریخ طبری کے صفحات میں دیکھ کر بلا تحقیق اسے نقل کرنے والوں نے سبائیوں کے ہاتھ اتنے مضبوط کردیئے ہیں کہ آج یہ روایتیں  ہماری ایف اے ، بی اے، ایم اے کی تاریخ اسلام کی درسی کتابوں میں  بھی بغیر کسی تحقیق و تبصرہ کے اسی طر ح نقل ہوتی آرہی ہیں اور امت کا ایک اچھا خاصہ طبقہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعمد صحابہ حضرت معاویہ، حضرت عمرو بن العاص، حضرت ابو موسی اشعری  رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے سوء ظنی کا شکار ہے۔
اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ یہ ساری داستانیں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ کے کردار کو مجروح کرنے کے لیے وضع کی گئیں ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ہماری اس تفصیل کا مطلب یہ نہیں کہ صحابہ میں اختلاف ہو ا ہی نہیں یا  ان سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی ، ہم اس بات کے  قائل ہیں کہ  صحابہ  معصوم عن الخطا نہیں ہیں ، بعض احادیث   میں بھی انکے اختلاف اور غلطیوں کا ذکر ہے ، ہمارا اختلاف  ان تاریخی روایات پر ہے جن میں  تمام صحابہ  پر کرپشن، اقربا پروری، منافقت،  سیاسی جوڑ توڑ اور کھینچا تانی کے الزامات ہیں۔ قرآن و حدیث تو  تمام صحابہ کے   عادل ہونے پر شاہد ہیں ہی ، تاریخ سے  بھی سیکڑوں مثالیں دیں جاسکتیں ہیں جن سے  یہ واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کا اختلاف شرعیت کے مطابق ہوتا تھا اور ان کا دامن ان گالیوں اور غیر اخلاقی  زبان کے استعمال سے پاک  ہوتا تھاجو  انکے اختلاف کے واقعات میں  سبائیوں راویوں کی  ان روایتوں میں ان کے ذمہ تھونپی گئی ہیں۔ ہمارا یہ موقف ہے کہ   وہ   اختلاف کے اصولوں جو انہیں دین نے سکھائے تھے' کے پوری طرح پابند تھے انکے اختلاف میں بھی امت کے لیے نمونہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ  ہم دیکھتے ہیں  کہ حضرت علی اور معاویہ کے درمیان قاتلان عثمان کے مسئلہ پر اختلاف کے باوجود ادب و احترام کا تعلق تھا ،چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ دینی مسئلے پر فتوی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہی لیتے تھے ۔ مزید شیعہ کی اپنی کتابیں گواہ ہیں کہ حضرت علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہ ، حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ  حضرت معاویہ کا احترام کرتے اور انکے اختلاف کو دینی اختلاف سمجھتے تھے۔ مضمون کی طوالت کے ڈر سے ہم صرف علی رضی  اللہ عنہ کا حوالہ دیتے ہیں۔ شیعہ کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے تمام شہریوں کی طرف گشتی مراسلہ جاری کیا کہ صفین میں ہمارے اور اہل شام کے درمیان جو جنگ ہوئی اس سے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو، ہمارا رب، نبی  اوردعوت ایک ہے ۔ ہم شامیوں  کے مقابلے میں اللہ و رسول  پر ایمان و یقین میں ذیادہ نہیں اور نہ وہ ہم سے ذیادہ ہیں ۔ ہمارا اختلاف صرف قتل عثمان میں ہے ۔( نہج البلاغہ جلد2، صفحہ 114)
اللھم ثبت قلبی علی دینک
مکمل تحریر >>

بدھ، 5 ستمبر، 2012

تاریخ اسلام میں سبائی روایات کی ملاوٹ کیسے

اسلامی تاریخ  پر لکھی گئی کوئی کتاب  جب کسی مسلمان قاری کے مطالعہ میں آتی ہے تو وہ  قرون اولی اور صحابہ کی زندگی  کے واقعات  کو اسی حسن ظن اور عقیدت کے ساتھ پڑھنا شروع کرتا ہے جو قرآن و حدیث کے ذریعے اس کے ذہن میں  بیٹھی ہوتی ہے، لیکن   آہستہ آہستہ جب تاریخ اپنا رنگ دکھانا شروع کرتی ہے  اور وہ صحابہ کے کردار کو مجروح کرنے والی روایات پڑھتا ہے تو پریشان ہو جاتا کہ   یہ کیسے خیرالقرون کا تذکرہ ہے؟ قرآن نے تو ہمیں بتاتا ہے کہ تم نے   ایمان لانا ہے  تو اس طرح ایمان لاؤ جس طرح یہ صحابہ لائے  تب تمہار ا ایمان قابل قبول ہوگا، اور تاریخ  انہیں بے ایمان ثابت کررہی ہے ۔ ۔ قرآن وحدیث انکی صداقت، شجاعت،  اخلاص، سچاہی،  ہدایت یافتہ ہونے کے سرٹیفکیٹ دیتے نظر  آتے ہیں  (اولئک ھم  الراشدون، مفلحون،  صدیقون  وغیرہ)اور تاریخ ( نعوذ بااللہ)  انہیں چور ، ڈاکو ، مکار،  منافق   اور بد اخلاق ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔  یہ باتیں  اسکے لیے بہت عجیب اوراسکی توقعات کے بالکل برعکس ہوتی ہیں۔ شاید  اس میں قصور  کتاب کے فرنٹ پیج  پرتاریخ کے ساتھ  استعمال کیے گئے لفظ  'اسلام' کا بھی  ہوتا ہے جو قاری کو شروع میں ہی  اعتماد دلا  دیتا ہے اور وہ اسے ایک اسلامی کتاب کے جذبے سے پڑھنا شروع کرتا ہے لیکن پھر سبائی  دروغ گواور کہانی نگاروں  کی تدسیس، واقعہ نگاری اور جذبات نگاری اسے کنفیوز کردیتی  ہے۔ 

تاریخ اسلام کا  گہرائی میں مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ   عبداللہ بن سبا یہودی اور اس کے بد باطن حمایتیوں نےمذہب  عیسائیت کی طرح اسلام کو  بھی ریزہ ریزہ  کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی عقیدت  کے نام پر اتنی خفیہ اور جذباتی تحریک چلائی تھی  کہ اگر اسلام نے قیامت تک قائم نہ رہنا ہوتا اور اس کے ساتھ اللہ کی خاص مدد نہ ہوتی تو یہ بھی اسی اپنے شروع دور میں ختم ہوجاتا۔ ان لوگوں نے خفیہ رہ کر پراپیگنڈہ مہم اس طرز پر چلائی تھی کہ محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے شخص بھی کچھ ہی دیر کے لیے سہی بہرحال ان کے دام میں اس طرح آگئے کہ خلیفۃ المسلمین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قتل کے درپے ہوگئے،  یہ الگ بات ہے کہ توفیق خداوندی انکے معاون رہی اور جلد ہی ان کو اپنے اس شرمناک فعل پر ندامت ہوگئی۔ انہی   افواؤں ،  پراپیگنڈہ  اور مختلف چالوں کے ذریعے مسلمانوں کو بعد  میں   آپس میں لڑوا بھی دیا گیا۔

تاریخ اسلام کی کتابوں میں سبائیوں کی گھڑی ہوئی ان  داستانوں کو کیسے جگہ ملی  ؟
اس اختلافی دور کے واقعات جب بعد میں قلم بندہوئے تو  چونکہ تاریخ اسلامی  میں حدیث کی طرح سند  اور متن کی تحقیق  کا کوئی سلسلہ نا تھا یا جرح و تعدیل کے  کوئی اصول و قوانین لاگو نہ ہوتے  تھے اس لیے  ہر دور اور ہر فرقہ کے لوگوں نے اپنی سمجھ بوجھ اور پسند ناپسند کے معیاروں پر تاریخی  واقعات کو قلم بند کیا جن میں انکی اپنی مرضی و منشا اور حسب دلخواہ تحریف و تبدل کو عمل دخل حاصل تھا،   خصوصا دشمنان اصحاب رسول سبائیوں رافضیوں کو تاریخ میں  انکے بارے میں اپنی  خبث باطنی شو کرنے کابھرپور موقع ملا ، انہوں نے ان ادوار کے بارے  میں اپنی طرف سے کہانیاں ، روایتیں گھڑی کرکے  اور اصل روایتوں میں اپنی پسند کے مطابق  ملاوٹ کرکے اسکی اشاعت کی  ،  انہوں نے   بڑی صفائی کے ساتھ یا تو اصل تاریخی  روایات کو  ہی غائب کردیا   یاان میں  اپنی  مرضی کی باتوں اور خیالات کو اس طرح مکس کیا کہ وہ اصل واقعہ ہی نظر آنے لگیں، پھر جب تاریخ کی بڑی کتابیں مرتب ہوئیں تو مورخین کو  متعلقہ موضوع کے متعلق کوئی روایت کہیں سے ملی انہوں نے مکمل تحقیق کیے بغیر ان کو  اپنی کتابوں میں ذکر کردیا (کیونکہ تاریخ مرتب کرنے میں حدیث کی طرح  راوی اور روایت کی چھان بین  اور تحقیق کی پابندی لازمی نہیں تھی)۔ صحابہ  کےا ختلاف کے متعلق اس قسم کی  روایتیں محمد بن عمر الواقدی ،محمد بن اسحاق،    ابو مخنف لوط بن یحیی، ، محمد بن سائب الکلبی اور اسکے بیٹا ہشام کی وساطت سے تاریخ اسلام کے تمام بڑے مورخین اور مصنفین تک  پہنچی ہیں، پہلے دو کی کتابوں میں کچھ ضعیف روایات موجود ہیں اور باقی تین پرلے درجے کی جھوٹی روایتیں قبول کرنے والے تھے، اسماء و رجال کی  کتابوں میں بھی   ان پر سخت بے اعتمادی کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ لوگ خود روایتیں گھڑتے ہیں ۔ ان راویوں کی تمام روایتوں کو جنکو سب سے پہلے طبری نے اپنی تاریخ میں جگہ دی اور پھر طبری سے نقل در نقل ہو کر تقریبا تما م متداول تاریخی کتابوں میں درج ہوگئیں۔  مطلب صحابہ کے اختلافات کے واقعات کے متعلق تاریخ کی بڑی کتابوں میں موجود ذیادہ تر روایتوں کا ماخذ تاریخ طبری ہے   اور طبری نے  ان واقعات کے متعلق تفصیل خود  ان   پانچ   راویوں  کی کتابوں سے کاپی کی  ہے ۔ آخری تین راویوں نے اپنی کتابوں میں ان واقعات کے سلسلے میں صحابہ کے خلاف مزیدغیر اخلاقی کہانیاں بھی  گھڑ ی ہوئیں  تھیں، خود  طبری  بھی اپنی کتاب میں کئی جگہ لکھتے ہیں  کہ  ابومخنف لوط اور محمد بن عمر  کی کتاب میں اس واقعہ  کے متعلق اور بھی باتیں اور تفصیل  موجود ہیں جو ذکر کے قابل نہیں   ہے۔

ہم  یہ نہیں کہتے  کہ ساری تاریخ اسلام ہی کرپٹ  اور گمراہ کن ہے بلکہ  یہ کہ تاریخ  اسلام میں صحابہ کے واقعات میں جگہ جگہ ذہن کو پراگندہ کرنے والی سبائی  روایات کی ملاوٹ موجودہے جن کو پڑھ کر عام لوگ صحابہ کے بارے میں وساوس کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ان کو پڑھ کربعد کے دور کے کئی سنی محقق بھی سبائیت کی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے حضرت عثمان ،  علی ، معاویہ،  ابوموسی اشعری  اور عمروبن العاص جیسے جلیل قدر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قد ناپنے لگ گئے  ہیں  انہیں اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ محض جھوٹے  سبائی تاریخی حوالوں کی بنیاد پر  وہ کس پر تنقید   کررہے ہیں اور یہ تنقید کتنی خطرناک ہے، اگرصحابہ  کے بارے میں صرف  تاریخ کی بات کو مان لیا جائے توپھر   خمینی کی بات کو بھی ماننا پڑے گا  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن رسالت میں ناکام رہے اانہوں نے تیئس سالہ محنت میں جو لوگوں کی جماعت تیار کی وہ کرپٹ،  منافق، عیار تھے، پھر تو اسلام کے اصلی ماخذ قرآن و حدیث  بھی مشکوک ٹھہریں گے  کیونکہ وہ بھی انہی صحابہ کی وساطت سے ہم تک پہنچے ہیں۔ حقیقت میں سبائیت  ایک ایسا ' معصوم زہر' ہے جو عقیدت کے پردوں سے چھن کر جب ذہن  و دماغ میں سرایت کرتا ہے تو فکرونظر کی تمام صلاحیتوں کو مضمحل بلکہ مفلوج کردیتا ہے اور پھر گل کاریوں کے وہ وہ نمونے سامنے آتے ہیں کہ  حق کے ایک متلاشی کو قدم قدم پر بکھرے  ہوئے کانٹوں سے اپنا دامن  بچانا مشکل ہوجاتا ہے....۔اس قسم کی روایتوں سے پرانی اور نئی ساری تاریخی کتابیں بھری پڑی ہیں،    مثال کے طور پر تاریخ کے موضوع پر سب سے مشہور، مستند اور عام فہم کتاب  اکبر شاہ خان نجیب آبادی کی تاریخ اسلام ہے   ۔وہ بھی اپنی اس کتاب میں     چند ایسی روایتوں کو  بغیر تحقیق  کے نقل  کرگئے ہیں  گو کہ انہوں نے  بعد میں مشاجرات صحابہ پر  جاندار تبصرہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ تاریخ  اسلامی میں سبائی روایات کو جگہ ملنے کی ایک اور وجہ تدسیس بھی ہوسکتی ہے جس پر ایک تفصیلی مضمون ہم پہلے لکھ چکے ہیں ،   جب ان لوگوں نے ہمارے بزرگان دین کی بڑی اسلامی کتابوں میں انکی زندگی میں  اپنے نظریات کی  ملاوٹ کرنے کی جرات کی ہے  تو تاریخ کی کتابوں میں تحریف  و تدسیس کرنا ان کے لیے ذیادہ مشکل کام نہیں تھا۔

سبائی تاریخی روایتوں کی پہچان اور معیار ردوقبول 
  1. جیسا کہ اوپر ذکر کیا کہ   ایسی تمام روایتیں جن سے صحابہ کا کردار مجروح ہورہا ہو وہ ذیادہ تر کذاب راویوں کی روایت کردہ ہوتی ہیں اور  یہ تمام راوی خود روایتیں وضع کرنے اور گھڑی ہوئی روایتوں کو قبول کرنے کے لیے مشہور ہیں اور ابو مخنف لوط بن یحیی کی  تین روایتوں کے تجزیے میں بھی یہ بات بھی   ثابت   ہوچکی کہ اس میں  صحابہ  کے ذمے لگائے جانے والے بہتان اور بد اخلاقیاں، زبان درازیاں اس کی اپنی وضع کردہ ہیں انکی کوئی حقیقت نہیں ، اس لیے ان راویوں کی  کسی روایت پر یقین نہیں کرنا چاہیے
  2.  تاریخ کی   بڑی کتابوں کے اردو تراجم میں عام طور پر راوی کا تذکرہ نہیں کیا گیا   اس لیے ان راویوں  کی روایتوں کو مضمون سے بھی پہچانا جا سکتا ہے۔ ہر تاریخی روایت جس میں صحابہ کی طرف کرپشن، منافقت،  زبان درازی، مکاری  منسوب کی گئی  ہو، وہ ذیادہ تر انہی سبائیوں کی گھڑی ہوئی ہیں  ۔ اس لیے ایسی روایت کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے جس سے صحابہ کرام  کا کردار مجروح ہو رہا ہو کیونکہ یہ لوگ خود مجروح  اور کرپٹ ہیں ۔  
  3.  راوی اور روایت کی  پہچان کےعلاوہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے بیٹے  عطاء المحسن بخاری صاحب   نے روایات کے معیار ردو قبول کا عوام کے لیے   ایک اور بالکل آسان طریقہ لکھا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:۔
" تاریخ کو قبول کرنے کے لیے مجھے قرآن  وحدیث کی طرف رجوع کرنا پڑے گا، اسکی جو روایتیں قرآن وحدیث  کی تعلیم کے مطابق ہونگی میں انہیں بڑی محبت سے قبول کروں گا  اور جو روایتیں، حکایتیں، رذالتیں، قباحتیں قرآن وحدیث سے ٹکرائیں گی میں انہیں نہ صرف رد کروں گا بلکہ اپنے پاؤں میں مسلوں گا ، کیونکہ وہ تاریخ نہیں جھوٹ ہے ، تہمت ہے ، بہتان اور دشنام ہے اور انسانیت سے گری ہوئی باتیں ہیں، تاریخ کے حوالے دے کر صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم پر تبراہ کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بھی محفوظ نہیں ہے  کیا اس سے بہتر نہیں کہ تاریخ کی اندھی (رافضی) عینک سے اصحاب مصطفی کی عیب چینیوں کی بجائے قرآن وحدیث سے انکی فضیلتوں اور قدرومنزلت پر نگاہ کی جائے ۔ (اگر یہ لوگ قرآن وحدیث کی اصحاب کے بارے میں دی گئی شہادتوں کو پس پشت ڈال کر  محض تاریخی روایتوں کے ذریعے ان  پر نکتہ چینی جاری رکھتے ہیں  تو ) ایسے نام نہاد 'تاریخ دان' ہمارے نزدیک 'تھوک دان' کے برابر بھی اہمیت نہیں رکھتے"۔
اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔

مکمل تحریر >>

منگل، 31 جولائی، 2012

ڈاکٹر عافیہ کی ایک عجیب تقریر



 مغربی ملک میں جاکر جدید تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی کے  ایسے خیالات  ۔ ۔
 اسلامی تاریخ کا اتنا مطالعہ  ۔ ۔
 نیورو سائنس میں (PhD) کی سند حاصل کرنے والی لڑکی کی  قرآن پر اتنی گہری نظر ۔ ۔
 دین اور صحابہ صحابیات  کے ساتھ اتنی محبت  ۔ ۔ ۔
اپنے دین کے اوپر اور اپنی انفارمیشن کے اوپر  اتنا اعتماد۔۔
 ایسے نپے تلے الفاظ میں  فی البدیع تقریر۔ ۔
عجیب صفات کی مالک تھی یہ بہن۔۔ ۔
 یہ حقوق نسوان پر ہی تقریر نہیں، اسلامی خاندانی زندگی پر ایک بہترین مقالہ ہے۔ ۔

  کیبل کے  فلموں، ڈراموں  کے ماحول میں ایسی پاک بیٹیاں  اب کہاں مائیں جنیں گی ۔۔ ؟
اللہ ہمیں معاف فرمائے ہم بحثیت مجموعی اس عورت کے مجرم ہیں۔

مکمل تحریر >>

جمعرات، 12 جولائی، 2012

ایک قادیانی لطیفہ

سورۃ الاحزاب کی آیت  ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبین میں لفظ خاتم النبین  کے  مطلب کے متعلق قادیانی جماعت کا موقف ہے
"خاتم النبین کا معنی "نبیوں کی مہر" یعنی پہلے اللہ تعالی نبوت عنایت فرماتے تھے۔ اب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع سے نبوت ملے گی۔ جو شخص رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مہر لگا دیں گے تو وہ نبی بن جائے گا"۔
(حقیقت الوحی صفحہ 97 حاشیہ صفحہ 28،   خزائن جلد 22 صفحہ 100،30  )

جبکہ قرآن وسنت ، صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم، تابعین رحمہم اللہ اور تمام اسلاف امت  کی تفاسیر کے علاوہ  لغت عرب کی تمام کتابوں کا خاتم النبین کے مطلب   آخری نبی ہونے پر اجماع ہے۔ یہ ایک بہت پرانا چیلنج بھی  ہے کہ قادیانی جماعت  اپنی ایجاد کردہ اس تفسیر کا شاہد اوپر گنائے گئے ماخذین میں سے کہیں سے بھی پیش نہیں کرسکی نہ  کرسکتی ہے۔ 
بلکہ خود مرزا قادیانی کی اپنی کتابیں اس تفسیر کو جھٹلاتی ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب تریاق القلوب میں صفحہ 157، خزائن جلد 15، صفحہ 479 پر اپنے متعلق تحریر کرتا ہے۔

"میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی ، جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا  اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا"۔

جب مرزا قادیانی اور خود اسکی جماعت بھی خاتم الاولاد کا ترجمہ آخری ولد کرتے ہیں اور مرزا کو اپنے والدین کا آخری بیٹا مانتے ہیں کہ اس بعد کسی قسم کا کوئی جھوٹا، بڑا، بہرہ، گونگا بیٹا پیدا نہیں ہوا تو پھر خاتم النبین کا بھی یہی ترجمہ انہیں ماننا پڑے کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد کسی قسم کا کوئی ظلی، بروزی، مستقل، غیر مستقل نبی آنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ورنہ ان کے بنائے گئے  خاتم النبین کے معنی "حضور کی مہر سے نبی بنیں گے" کے مطابق خاتم الاولاد کا ترجمہ بھی مرزائیوں کو یہی کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں اب مرزا قادیانی مہر لگاتے جائیں گے اور مرزا قادیانی  کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔
 ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ۔

دوسری بات قادیانیوں نے لکھا ہے کہ یہ مہر اتباع کرنے کے بعد لگے گی۔ جبکہ مرزا قادیانی لکھتا ہے۔

"خدا تعالی نے مجھے اس تیسرے درجے میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میرے کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے " (حقیقت الوحی صفحہ 67، خزائن جلد 22 صفحہ 70 )

لیجیے مرزا نے خود کہہ دیا کہ میں حضور کی اتباع سے نبی نہیں بنا بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔
 جب خاتم النبین کی مہر سے کوئی بھی یہاں تک کہ خود مرزا بھی نبی نہیں بنا تو یہ ترجمہ کرنے کا فاعدہ ؟۔
ان لوگوں نے جہالت اور بے وقوفی کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ حقیقت یہ   ہے کہ والضحی چہرے کے مالک نبی کامل سردار الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ایک کانے دجال کو نبی ماننے کی سزا میں ان لوگوں کی عقلیں ضبط ہوچکی ہیں۔
مکمل تحریر >>

اتوار، 27 مئی، 2012

نورانی جال

 ڈاکٹر سرفراز صاحب  ہمارے کالج میں کے سینئر ٹیچر ہیں ، ان  کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کو کسی بھی موضوع پر گفتگو کرنے کا  سلیقہ  آتا ہے اور انکے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے،عام سی بات بھی اپنی مخصوص انداز میں اس طرح کرتے ہیں کہ سننے والے کو مزا آتا ہے۔  اکثر سٹوڈنٹ فارغ اوقات میں ان کے گرد ہجوم لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور انکی مکس قسم کی  باتوں سے معزوز ہوتے رہتے ہیں ،   ڈاکٹر صاحب   امیر فیملی  سے ہیں اور امریکہ میں ساری تعلیم مکمل کی ہے  اس لیےانکی  تہذیب کا بھی بہت اثر ہے، موسیقی کے بہت شوقین ہیں ،  شراب بھی پیتے ہیں  اور نماز روزے کی پراہ نہیں کرتے. . ایک دن بریک ٹائم ہم بھی ان کے ٹھیے پر جا پہنچے،  وہ  مسلمانوں کی معاشرتی خرابیوں پر گفتگو فرما تے ہوئے کافروں کو مسلمانوں سےہر لحاظ سے  بہترقرار دیتے ہوئے اپنے موقف پر دلیلیں دے رہے تھے کہ انگریز  کتنے انصاف پسند اور سلجھے ہوئے ہیں اور یہ  مسلمان  کس طرح ہر  لحاظ سے تباہی کا شکار ہیں، مسلمانوں کی  ہر برائی کا تذکرہ کیا، مسلمانوں کی مختلف  کمزوریوں پر دل سوز انداز میں تبصرہ کرنے کے بعد انہوں نے سیاست کی طرف رخ کیا اور سب بڑے سیاستدانوں کی مٹی پلید کرنی شروع کردی اور پاکستان کی اسلامی  سیاسی جماعتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے چہرے سے غصہ عیاں تھا۔ ایک باریش  لڑکے نے کہہ دیا کہ ڈاکٹر صاحب یہ سب تو اللہ کا عذاب ہے جو ہمارے اوپر ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ہم  میں سے ہر بندہ اس کا ذمہ دار ہے، ہم لوگ خود سوچیں ہم اللہ کی کتنی اطاعت کرتے ہیں اور اسکے کتنے حقوق پورے کرتے ہیں،    ڈاکٹر صاحب نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکی  بات کو کاٹا  اور بولے   بھئ  اللہ نے اپنے حقوق کے بارے میں فرما دیا ہے کہ میں انہیں  معاف کردو گا ،حقوق العباد  معاف نہیں کرو نگا،  ایک تو  تم مولوی لوگ حقوق اللہ کی ہر جگہ بات کرتے رہتے ہو ، حقوق العباد کے بارے میں بولتے ہی نہیں، بھئی حقوق العباد پورے کرو جنت میں کوئی بھی اپنے  نماز روزے  کی وجہ سے نہیں جائے گا  بلکہ اللہ کی رحمت سے جائے ، پھر  (مشکوۃ کی )حدیث کی طرف اشارہ کیا کہ  کہ  ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو بھی محض اس کا عمل جنت میں نہیں  پہنچا ئے گا۔غرض کیا گیا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے؟ فرمایا  ہاں، میں بھی محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ چلا جاؤں گا جب تک  اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے نہ ڈھانک لے۔۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ذاتی 'اعمال' کا بھی بڑے فخریہ انداز سے تذکرہ کیا  کہ میں یہ یہ گناہ کرتا ہوں لیکن  کسی کا حق نہیں مارتا، کسی کے ساتھ ظلم نہیں  کرتا۔ یہ بات کرکے ڈاکٹر صاحب اٹھ کر کلاس میں چلے گئے  اور مجھے عجیب     حیرانگی کی کیفیت میں  مبتلا کر گئے،   مجھے سارا دن افسوس رہا  کہ مجھے وہاں اس پر بات کرنے کا موقع نہیں ملا ،دن اسی بے چینی میں کٹ گیا کہ کیسے ان لوگوں کو سمجھاؤں ۔ ۔ ۔ ان سے تو بات کرنے کا موقع نہیں ملا  ،  گھر آکر اپنے دل  کا  غبار  بلاگ پر نکال دیا کہ 

نغمہ ہائے غم کو بھی اےدل غنیمت جانئے
بےصد ا ہوجائےگا یہ ساز ہستی ایک دن

   اللہ  یہ باتیں  اپنے فضل سے ان لوگوں تک پہنچا دے جو  اپنے خالق  کی  عفو وکرم  کے وعدوں کو سامنے رکھ کر  ناصرف اس کے  ہر حق کو ترک کیے بیٹھے ہیں بلکہ میری طرح  جرت سے    اس کی نافرمانیاں اور گناہ  بھی   کرتے ہیں،  وہ اس بات  کو بھولے بیٹھے ہیں کہ جہاں  اللہ   کی صفت رحمان  اور رحیم بھی ہے وہاں  قہار و جبار بھی ہے، اس  نے جنت مسلمانوں کے لیے بنائی ہوئی ہے ، ایک مخصوص جہنم ایمان والے گناہگاروں کے لیے  بھی بنائی  ہوئی ہے ۔ جن اعمال    نماز روزہ ، حج ، زکواۃ کو لوگ  حقوق العباد کا نعرہ لگا کر بھول چکے ہیں اگر انہیں   اسلامی شریعت سے نکال دیا جائے  تو باقی  کچھ بھی نہیں بچے گا،  اعمال کے تذکرے اور  جزا و سزا پر قرآن کی ہزاروں آیات   اور  حضور کی ہزاروں حدیثوں کو بھی نکالنا پڑے گا،  یہی نہیں مسلم معاشرے کا وصف،  امتیاز اور پہچان بھی بالکل ختم ہوجائے گی ، کیونکہ حقوق العباد تو کافر بھی پورے کررہے ہیں, ، مسلمانوں کی پوری دنیا میں ظاہری  شناخت  تو  یہی اعمال ہیں ۔  ڈاکٹر صاحب نے  اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے حدیث  کے اس حصے   کو بیان ہی نہیں کیا  کہ اللہ چاہےگا تو اپنا حق معاف کردے  اور یہاں یہ تاثر دے گئے  کہ نعوذ بااللہ اللہ  پابند  ہے کہ  وہ  لازمی اپنے حقوق معاف کردے گا  ،   میری ان باتوں کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ حقوق العباد کی کوئی حیثیت نہیں  یا اللہ مسلمانوں کی   بد اعمالیوں کوکسی صورت  معاف نہیں کرے گا، مسئلہ اعتدال اور ضابطے کا ہے۔ حقیقت میں جو  لوگ حقوق العباد  کو چھوڑ کر صرف حقوق اللہ کے کی ادائیگی پر زور دے رہے  ہیں وہ   بھی   اتنی   ہی  گمراہی اور  افراط وتفریط کا شکار ہیں جتنی حقوق اللہ کو چھوڑ کر حقوق العباد میں لگےہوے لوگ۔۔اسلام نے حقوق العباد کو  اہمیت دی ہے لیکن حقوق اللہ کی قربانی پر نہیں ،   حضور صلی للہ علیہ و علی آلہ وسلم  کی ایک حدیث ہے  کہ  لا طاعة لمخلوق في معصية . (متفق عليه) ،جہاں خالق کی نافرمانی کرنی پڑے، وہاں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ 
اللہ کی عبادت کرنا اللہ  کا سب  سے بڑا حق ہے جو کوئی اللہ کے  علاوہ کسی اور کو معبود بنا لے   اللہ اسے کبھی معاف نہیں فرمائے گا (ِانَّ اللّٰہَ لَا یَغفِرَ اَن یُشرِکَ بِہِ۔۔۔) ۔ ہم لوگ اسی شرک خفی میں پڑے ہوئے ہیں، کسی دوکاندار کو نماز کا کہین تو کہتا ہے بچوں کے لیے رزق کمانا بھی عبادت ہے نہ جی، کسی نوجوان کو داڑھی کا کہیں تو کہتا ہے والدین، بیوی ناراض ہوجائے گی ۔ ۔اسی طرح ہر کسی نے  اپنے ہزاروں خدا بنائے ہوئے ہیں جن  کے حکم کو وہ اپنے اصلی خالق و مالک کے حکم پر فوقیت دیتا ہے ، حالانکہ قرآن میں  عبادت  کے اس حق کو ماں باپ کے حق پر بھی فوقیت دیتے ہوئے پہلے لایا گیا  ہے۔ وقضى ربك الا تعبدوا الا اياه وبالوالدين احسانا
 ڈاکٹر صاحب نے  اللہ کی رحمت پر بھی حدیث پیش کی  کہ حضور نے فرمایا کہ سب لوگ اللہ کی رحمت  سے جنت میں جائیں گے۔  اس  پر ایک آیت پیش کرتا ہوں ۔
  والمؤمنون والمؤمنات بعضهم أولياء بعض يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر ويقيمون الصلاة ويؤتون الزكاة ويطيعون الله ۔ورسوله أولئك سيرحمهم الله إن الله عزيز حكيم ۔(9:71 )۔
 اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحمت نازل کرے گا۔ بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔
اللہ نے اس آیت  میں  رحمت کے حقدار   امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والوں، نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے اور سنت پر چلنے والوں کو ہی  ٹھہرا یا ہے ،سوچنے کی بات ہے  جو لوگ ان اعمال کو چھوڑ کر صرف اپنی مرضی کے حقوق العباد پورے کرنے میں لگے بیٹھے ہیں وہ کیسے اللہ کی اس رحمت سے مستفید ہوں گے جس کا تذکرہ اس حدیث میں ہے ۔ بزرگوں سے سنا کرتے تھے  کہ شیطان کےشیطانی جالوں کے علاوہ  نورانی جال بھی ہوتے  ہیں جن کے ذریعے وہ لوگوں کو عبادت کے رنگ میں  گمراہ کرتا ہے آج ان کا تجربہ ہوا کہ کس طرح لوگوں کو شیطان نے اپنے  ان نوارنی جالوں  میں پھنسایا ہوا ہے اور  وہ اپنی بد اعمالیوں کا حدیث کے ذریعے  دفاع کررہے ہیں  ۔ اللہ ہمیں افراط و تفریط سے بچائے۔     

مکمل تحریر >>

ہفتہ، 12 مئی، 2012

کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

آج  سائنس و ٹیکنا لوجی نے جس تیزی سے ترقی کی ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں بے شمار ایجادات کا جس طرح نفوذ ہو گیا ہے، اس بنا پر کچھ ایسی فضا بن گئی ہے کہ  یہ  محسوس ہوتا ہے کہ  آپ کو اگر زندگی گزارنی ہے اور کام کرنا ہے تو آپ کے چاروں جانب  یہ چیزیں لازمی موجود ہوں ۔ جدیدایجادات  میں سے بہت سی کے معاشرتی اور معاشی اثرات اتنے  قبیح ہیں کہ مسلم معاشرے تو کجاغیر مسلم معاشرے کے شریف النفس لوگ بھی پریشان ہیں۔ ان میں سے ایک  کیبل  اور موبائل فون ہے ، کیبل  کا حقیقی فاعدہ تو کچھ نہیں، لیکن موبائل  کے فواعد سے سب  واقف ہیں،  اس نے ہمارے  زندگی میں بہت سی جگہوں پر آسانیاں پیدا کیں ہیں۔ لیکن ان  کے رائج  غیر معتدل استعمال نے ہمارے معاشرے کو گندگی کے جس راستے  پر ڈال دیا ہے اس کا انجام ایٹم بم سے بھی تباہ کن ہے۔ اہل نظر دیکھ رہے ہیں کہ یہ  کیبل ٹی وی چینل اور موبائل  نے آہستہ آہستہ خیر وشر کے پیمانےکس طرح بدل ڈالے ہیں،  موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے ایک نئی زبان ، نئی تہذیب ، خبیث رویے ،گناہ گار طرزِ گفتگو، بے ہودہ اشارے، کنارے اور جملے ایجاد کیے گئے ہیں اور  زبان، وبیان کی نزاکت اور لطافت کو اور طرز گفتگو سے نفاست ، طہارت ، شرافت کو بالکل رخصت کر دیا  گیاہے اور  سہولت کے نام پر زبان کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے ۔ ان  ایجادات نے ہر شخص کو بخوشی آمادہ کر دیا کہ وہ ہمہ وقت دنیا کے آفات وآلام سے پُرہنگاموں، شوں شور، شور وشغب، سازشوں، دنیا پرستی، لذت طلبی، موج مستی، زرپرستی، شہوت انگیزی سے اپنی زندگی کا رشتہ خلوت وجلوت میں مسلسل جوڑے رکھے،  موبائل کی گھنٹیوں اور موسیقی نے تو  خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مساجد، خانقاہوں کی پر سکون فضا کو بھی نہیں چھوڑا ۔اب تو  اس کے لغو اثرات مذہبی لوگوں پر بھی اس قدر حاوی ہو گئے ہیں کہ وہ ان مقدس مقامات کی طرف باربار  آنے کے باوجود اپنے فون کی گھنٹی بندکرنا بھو ل جاتے ہیں، جب لوگ دنیا جہاں کے بکھیڑوں سے خود کو نکال کر  رب کے ساتھ ہم کلام ہوئے  ہوتے ہیں فون کی گھنٹی ان مقدس لمحات کو پرزہ پرزہ کر دیتی ہے اور اب تو لوگ فون آجائے تو  مسجد چھوڑ کر   باہر آ کر  گپیں لگانے لگ جاتے ہیں، پھر ہنستے مسکراتے مسجد میں دوبارہ داخل ہوتے نظر ہیں اور   ان کے چہرے پر   خانہ خدا میں گانے بجنے پر ندامت  کے آثار تک نہیں ہوتے  ۔ ۔

اہم بات یہ ہے کہ اس حادثے کا اثر صرف  عوام پر ہی نہیں ہوا  بلکہ  ان  خبیث شیطانوں نے   بڑے بڑے مذہبی لوگوں کو بھی  خاموشی سے بدل کر رکھ دیا ہے ۔ پہلے دور میں شریف گھرانوں کی لڑکیاں گھروں سے کم باہر نکلتی تھیں اس لیے ان کا کسی شر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہی نہیں ہوتا تھا آج ان  موبائل کی کال، ایس ایم ایس کے ذریعےاور فلموں ڈراموں کے ذریعے  غیر لوگ ان کے کمروں میں داخل ہوگئے ہیں،   موبائل  نے انکی  خلوت تک گناہ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔یہ لوگ جب چاہیں ان سے ہر طرح کی باتیں کرسکتے اور انہیں ڈسٹرب کرسکتے ہیں،  اچھے اچھے شریف گھرانوں کے لڑکیاں، لڑکے خلوت جلوت میں  غیر محرموں سے فون پر باتیں اور  میسج کرتے  نظر آتے ہیں۔ وہ لمحات جو ان کے عبادت ، خدمت، آرام میں گزرتے تھے آج  ان  خرافات اور گناہوں کی نظر ہیں  ،  ماں باپ موبائل فون کی آفتوں سے ناواقف ہیں یا بہت سادہ لوح ہیں، اس کے نتیجے میں ایک عجیب نسل پروان چڑھ رہی ہے ،لڑکے لڑکیوں کو آوارگی، آبروباختگی سکھانے کے لیے راتوں کو سستے سے سستے پیکج فراہم کیے گئے  ہیں اور  سونے جاگنے کے اوقات کو زیر وزبر کر دیا گیا  ہے ،  کم عمر لڑکے اور لڑکیاں اسکول، کالج، یونیورسٹی میں ہمہ وقت موبائل فون پر گفتگو کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، اور انکے   یہ محض انجوائے کرنے کے سلسلے رفتہ رفتہ ناجائز جنسی تعلق میں تبدیل ہو کر  بہت جگہوں پر حرامی نسلوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، اس وجہ سے  نجی ہسپتالوں  میں ناجائز حمل کو گرانے کا وسیع کاروبار  بھی عروج پر ہے، جہاں کالجوں کی لڑکیاں اپنے کالج کے لباس میں اسقاط حمل کے لیے قطار لگاتی ہیں اور اپنے زیورات بُندے چوڑیاں دے کر اس گناہ کی قیمت ادا کرتی ہیں او رپھر گھر جاکر والدین سے تھانوں میں ان چیزوں کی  چوری کی رپورٹ لکھواتی ہیں، دوسری  طرف  اس نشے کی خاطر بچیاں ، بچے ماں باپ کے پیسے چراتے ہیں، امیر رشتہ داروں کے گھر میں چوریاں کرتے ہیں، دوستوں کا مال چوری کرتے ہیں اوراگر یہ راستے بند ہو جائیں تو اپنی عزت کا سودا کرنے پر بخوبی آمادہ ہو جاتے ہیں ۔۔

حقیقت میں  یہ محض اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ پوری پلاننگ کے ساتھ تہذیبی  گندگی کے اس  طوفان کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا  ہے جو خاموشی کیساتھ  شیطانیت کو ہر طرف  غالب کرتا جارہا ہے۔شاید یہی وجہ ان  کے کم قیمت اور آسان حصول کی بھی ہے ،  چند سال پہلے کیبل ٹی وی چینل چند شہروں تک محدود تھے اور ‘شوقین’ لوگ ڈش انٹینا استعمال کرتے تھے ، اب اس کے جال کو دوردراز کے دیہاتوں تک پھیلا دیا گیا ہے اور انتہائی غریب آدمی  بھی روز ایک فلم دیکھ کر سوتا ہے۔ یہی حال موبائل کا بھی ہے  کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے شہر سے امریکا چند منٹ کا فون چھ سو روپے میں ہوتاتھا ،اب صرف دس روپے میں ہو رہا ہے، چند برس پہلے کراچی چند منٹ کی کال چالیس روپے میں ہوتی تھی، اب دو سو روپے میں آپ پانچ ہزار منٹ بات کرسکتے ہیں ۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں آٹھ کروڑ موبائل فون زیر استعمال ہیں۔ پاکستان  اس وقت موبائل فون  کی  دنیا کی  بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے ، قیمتی قومی زر مبادلہ کو صرف بولو، بولتے رہو، جوچاہے بولو، کہو اور خوب کہو ، دل کھول کر بولو جیسے احمقانہ فلسفے کے فروغ کی خاطر تباہ کیا جارہا ہے ، وہ لوگ جن کے گھروں میں پیٹ بھر کر کھانامیسر نہیں ہے وہ بھی مسابقت کی دوڑ میں شرکت کے لیے اشتہارات سے  متاثر ہو کر موبائل فون خرید رہے ہیں اوراپنے پاؤں اپنی چادر سے باہر نکال رہے ہیں ۔موبائل اور کیبل کمپنیوں نے نے صرف چند  ہزار افراد کو روز گار فراہم کیا ، لیکن اربوں روپے کا زر مبادلہ بیرون ملک منتقل کیا اور پاکستان کی مذہبی، تہذیبی ،اخلاقی ،اسلامی اقدار کو چند سالوں میں اس طرح تہس نہس کر دیا کہ اب کھربوں روپے خرچ کرکے بھی ان اقدار روایات رویوں کی بحالی ممکن نہیں۔
سب سے  بڑا المیہ  اور نقصان یہ ہورہا ہے کہ  ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ابھی تک ان  کی تباہی کو سمجھ ہی نہیں رہا کہ ان دونوں چیزوں  نے فرد، معیشت، معاشرت، اخلاقیات، ایمانیات کو کس طرح خاموشی سے تباہ کردیا ہے اور تباہی کے دہانے پر لے کر جارہا ہے ، ، ہم اس بارے  سوچنے، اسکو محسوس کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کررہے۔ ہم  نے بخوشی موبائل  اور کیبل کمپنیوں کو اپنی متاع ، معیشت، اوقات، خلوت، جلوت، غیرت آبرو لوٹنے کی غیر مشروط اجازت دے رکھی ہے ۔

میری اس ساری بحث کا مقصد  ہرگزیہ نہیں کہ میں جدید ٹیکنالوجی کے خلاف ہوں اور اسکو چھوڑنے کا کہہ رہا ہوں ،  میں تو اس کے رائج استعمال کی حدود پر بات کررہا ہوں، ضرورت بلکہ اشد ضرورت اس کی ہے کہ ہم  اس معاملے کو سنجیدگی سے  لیں اور اپنی نسل کو بچانے کے لیے کچھ سنجیدہ ایکشن لیں ۔ یہ بات بظاہر مشکل لگتی ہے لیکن  ان چیزوں  کے نتائج ایسے تباہ کن ہیں کہ  اگر ہمیں اس  آگ  سے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانا ہے تو ہمیں لازمی کچھ نہ کچھ قربانی دینی پڑے گی۔ کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں۔
1.    بیس سال سے کم عمر لڑکے ، لڑکیوں  کو موبائل کی مکمل سہولت نہ دی جائے بلکہ اشد ضرورت (مثلا کہیں  سفر پر جائیں  وغیرہ ) کے وقت  مہیا کیا جائے۔ بڑے  بچے ،بچیوں کی مصروفیت ، سوسائٹی  کو چیک کیا جائے اور ان چیزوں کے استعمال میں انہیں حدود کا پابند بنایا جائے  ،مثلا رات   کو سونے کے متعین ٹائم کے بعد ان کے فون بند ہونے چاہیے  وغیرہ وغیرہ۔
2.    گھر میں عورتوں کی ضرورت کے لیے شیئرڈ موبائل رکھا جائے جسے ضرورت کے ٹائم سب استعمال کریں، اس سے وہ غیر معلوم کالوں کی چھیڑ خانی سے بھی بچی رہیں گیں اور ان کا ٹائم بھی فاعدہ مند کاموں میں لگے گا۔
3.    گھر  میں  اگر ٹی وی رکھنا ضروری ہے تو اس کو ایسے کمرے میں رکھا جائے  جہاں سب کا آنا جانا لگا رہتا ہو۔ انٹرنیٹ کے استعمال کے غلط استعمال کو بھی اسی طریقے سے روکا جاسکتا ہے۔
4.    اگر آپ بھائی ہیں تو اپنی بہنوں پر،، اگر بہن ہیں تو  چھوٹے بھائیوں پر، اگر ماں یا باپ ہیں تو اولاد پر نظررکھیں ، اپنا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے انکی  تربیت کریں اور اپنی اگلی نسلوں کو ذہنی اور فکری سطح پر اس قدر مضبوط سوچ دیں کہ وہ اپنے ارد گرد موجوداعتقاد، فکر او رعمل کے فتنوں اور حربوں کو نہ صرف سمجھ سکیں بلکہ خود کو ان سے بچاتے ہوئے اپنے ارد گرد موجود لوگوں میں بھی اس حقیقی اور مضبوط فکر کو منتقل کر سکیں۔ جو چیزیں شریعتِ مطہّرہ نے حرام قرار دی ہیں، ان کی حرمت کودل و جان سے حرام سمجھیں، ان سے نہ صرف اجتناب برتیں بلکہ ان کے اثرات و رذائل سے نئی نسل کو بھی آگاہ کریں۔

امام شاطبی نے الموافقات میں لکھا ہے کہ شریعت کو دین، عقل، نفس، مال اور نسل کی حفاظت مطلوب ہے۔ ہمارا موبائل فون  اور ٹی وی ان سب کا دشمن ہے، اس کے کچھ فوری فائدے اپنی جگہ ہیں ، مزے کی بات یہ ہے کہ فوائد  اگر نہ بتائیں جائیں  تو انہیں خریدے  کون ؟ ، مزید فائدے تو شراب اورسود میں بھی ہیں، اس کا ذکر قرآن نے واضح الفاظ میں کیا ہے او رکہا ہے کہ اس کے نقصانات اس کے فوائد سے بہت زیادہ ہیں، ؟ شر میں بھی بہت سے فائدے ہوتے ہیں لیکن اسلام میں کسی چیز کو قبول یارد کرنے کا اصول فائدہ نہیں، مقاصد شریعہ کا حصول ہے۔ جو شے اس مقصد سے مطابقت رکھے وہ ٹھیک ہے۔
 کیا کیبل ، ڈش اور  موبائل فون مقاصد شریعت کے لیے ساز گار ماحول فراہم کر رہا ہے؟
 کیا اس کے استعمال سے ہمارے دین، عقل ، نفس ، مال اور نسل کی حفاظت ممکن ہے؟
 اگر مقاصد شریعت کی حفاظت اس فون اور کیبل  کے استعمال سے ممکن نہیں ہے تو  ہم  کیوں محض چند غیر ضروری فواعد کے لیے اپنی نسلوں کی تباہی کی قربانی دینے پر تلے بیٹھے ہیں  ؟
 ہمیں اپنی اولاد  بھائیوں اور بہنوں پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے  انہی کی بہتری کے لیے انہیں  چیک کرنا  اور پابند بنانا ہوگا ورنہ ٹیکنا لوجی اور ترقی کے اس سیلاب میں وہ  یونہی بہتے چلے گے اور ہم نے اس کے آگے مضبوط فکر اور یقین کا بند نہ باندھا  تو ہم انکی تباہی کے بڑے ذمہ دار ہونگے اور پھر  ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

مکمل تحریر >>

منگل، 24 اپریل، 2012

عقلیات اور فلسفہ کےموضوع پر چند مشہورترین کتابوں کی کولیکشن

اسلام کا پہلا دور وحی کا تھا اور لوگوں نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا،  ان کے سامنے دن رات قرآن نازل ہوتا تھا  اس لیے وہ  لوگ عقلی  دلائل و براہین کا مطالبہ کے بغیر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو  بغیر چوں و چراں  کیے  پورے یقین سے قبول کرلیتے تھے، دوسرا  دور  تبلیغ کا آیا پوری دنیا میں اسلام پہنچا ، تیسرا دور قرآن و حدیث سے مسائل فقہ اخذ کرنے کا آیا، حدیث اور فقہ پر نا صرف مکمل تحقیق کی گئی بلکہ ان کی  تدوین بھی کی گئی،  چوتھا دور تقریبا ہارون رشید کے زمانے میں شروع ہوا جب یونانی اور دوسرے غیر عربی  علوم کا  عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا گیا، یونانی علوم، منطق وفلسفہ وغیرہ کو عربی زبان میں منتقل کیا گیا، اس دوران یونانی فلاسفروں کی عقلی بحثیں اور شکوک و شبہات سامنے آئے،  انکی عقلی  بحثوں کے سامنے کچھ مسلمان علما بھی پھسلتے گئے ، اس عقلی فتنہ نے کس طرح تباہی مچائے رکھی اس پر کچھ بات میں اپنے بلاگ پر یہاں  تھریڈ کے شروع میں  کرچکا ہوں۔ ان علم الکلام کی بحثوں کے نتیجے میں اسلام میں کئی قسم کے عقلی تشریحی  بنیاد پراعتزالی فرقے بھی بنے، ہر چیز اور مسئلہ  میں عقل کے گھوڑے دوڑائے گئے اور  اس وسیع موضوع  پر کافی کچھ لکھا گیا، جب فتنہ کا زور بڑھا تو   مسلمان علما نے اس موضوع کی طرف بھی  بھر پور توجہ دی اور معتزلہ کے ہرعقلی اشکال کا جواب دیتے گئے، جس کے نتیجے میں  یہ معدود ہوتے گئے، بعد میں انکے اشکالات مغربی فلاسفروں نے اپنی کتابوں میں کاپی کیے اوراب  مسلمان ملکوں میں انکے شاگرد  نام نہاد روشن خیال پروفیسر، ڈاکٹر، ضمیر فروش خود ساختہ علما اور  مکی جیسے بلاگر عوام کو الجھانے کے لیےجاٹ رہے ہیں، ہمارے  لوگ اس یک طرفہ بحث کو سنتے پڑھنے کے بعد اس کا اسی طرز میں عقلی جواب نہ پاکر  کنفیوز رہتے ہیں، اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگوں کو اچھے علما میسر ہی نہیں جو انکی راہنمائی کریں اور بہت سے لوگ سستی کی وجہ سے علما سے نہیں پوچھتے اور بہت سے لوگوں کی اس موضوع پر علما سے تحقیق نہ کرانے کی  وجہ ایک یہ بھی ہے کہ اس دور میں علما سوء کو سامنے رکھ کر  علما کے خلاف ایک مسلسل پراپیگنڈے کے بعد سارے اسلامی علوم اور تحقیق کو ہی مشکوک بنا دیا گیا ہے، آج  اپنے طور پر تحقیق کرنے والا نوخیزمحقق  معتزلہ کی  اس بحث کو پڑھ کر سوچتا ہے کہ  یہ اتنی عقلی، سائنسی باتیں ہیں ان  کا جواب یہ دو ٹکے کے جاہل مولوی  کیسے دے سکتے ہیں ، ان کو تو فرقہ واریت اور فتوے لگانے سے ہی فرصت نہیں ملتی ،  یہی  بے اعتمادی بہت سے لوگوں کو  ان  بحثوں میں نہ صرف الجھائے رکھتی ہے بلکہ وہ ایمان و اعمال کو چھوڑ کر دہریت کی  لائن کی طرف چل پڑھتے ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ  دینی اور دنیاوی احکام اور انکی حکمتوں پر اٹھائے گئے ہر قسم کے اشکالات کا ہر دور کے مسلم علما  نےنا صرف جواب دیا بلکہ   حجت تمام کی ہے۔ آج انکی اس موضوع  پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں ،  میں ان  چند اہم کتابوں کے لنک دوں گا  جن  میں عوام کی  سمجھنے کی صلاحیت  کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف طریقے سے اہم موضوعات پر بات کی گئی ہے ۔

مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ  جنہوں نے تدوین فقہ، تدوین حدیث  اور دوسرے  اہم موضوعات پر  مشہور تحقیقی مقالے اور کتابیں لکھی  ہیں'  کی الدین القیم کے نام سے اس موضوع پر بہترین کتا ب ہے ۔ یہ دراصل مولانا کے عثمانیہ یونیورسٹی  میں دیے گئے لیکچروں کا مجمومہ ہے ، اس میں   مولانا نے ابتدائے کتاب میں فلسفے کے چار مشہور سکولوں کے افکار علمی کا تجزیہ فرمایا، پھر ان حقائق غیبی کی گرہ کشائی میں فلسفہ کےعجز ونارسائی اور درماندگی و بیچارگی کی دل نشین الفاظ میں تفصیل بیان کی اور بتایا کہ مغرب کے وہ فلسفی جو  اب سے تین ہزار سال پیشتر کے حکیم دیم قراطیس کے تھوکے ہوئے لقموں کو پھر سے چبا رہے ہیں اور ان مسائل میں اس کے پیدا کردہ شک وارتیاب اور انکار و بے اطمینانی کے مقلد محض ہیں ، کن کن راہوں اور کتنی چال بازی سے دین و ایمان کی سنگین عمارت میں نقب لگانے کی کوشش کرتے ہیں ، مولانا نے ان تمام تمہیدی امور کو بیان کیا ہے جو اصل مسائل کو سمجھنے اور ان مسائل میں دین و ایمان کے فیصلے  کی اہمیت وعظمت کے آگے سر تسلیم خم کردینے میں پڑھنے والوں کی پوری مدد کرتے ہیں  اور ان ہی صفحات میں علم ووہم کے فرق، انسان کے علمی ذرایع، عقل کا حواس سے تعلق، روح و مادہ کی حقیقت ، ان کے متعلق مختلف ارباب فکر کے اختلافات اور آخر میں اس سلسلے میں اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان الجھے ہوئے مسائل کے حل کی  فطری اور بہترین راہ کیا ہے۔


Read Online  /   Download
  ڈاؤنلوڈ کرنے کیلئے رائیٹ کلک کرکے سیو ایز کردیں


علم الکلام اور فلسفہ  پر  مولانا ادریس کاندھلوی صاحب کی کتاب 'علم الکلام' بہت مدلل اور عام فہم ہے ۔ اس میں  مذہب اسلام،  توحید، حدوث عالم، حدوث مادہ و روح، صفات باری تعالی اور مسئلہ تقدیر پر معتزلہ  کے عقلی  اشکالات، جبر اور اختیار،  رسالت، قیامت ، حیات آخرت، ملائکہ وشیاطین ،  مسئلہ نجات وغیرہ کے متعلق پیدا کیے گئے وساوس اور اشکالات کے عقلی ،  مدلل اور عام فہم جواب دیے ہیں اور سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔


Read Online  /   Download


اسلام کی تعلیمات کی عقلی وجہ اور حکمت کے موضوع پر  مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے بھی ایک  کتاب " احکام اسلام عقل کی نظرمیں " لکھی  ہے،  جو میں پہلے بھی   اپنے بلاگ پر یہاں دے چکا ہوں۔

Read Online  /   Download




مولانا کی ایک اور کتاب اشرف الجواب ہے جس میں مستشرقین ، مغرب زدہ  مسلمان طبقہ اور فرقہ باطلہ کے اسلام کے متعلق سات سو سے زائد  اعتراضات و شبہات کے عقلی و نقلی ، جامع اور دلچسپ جوابات دے گئے ہیں۔

Read Online  /   Download


پچھلے چند صدیوں میں  عقل،  فلسفہ اور اسراردین  کے  موضوع پر سب سے بہترین کتاب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حجتہ اللہ البالغہ ہے ۔ مولانا ابو الحسن علی صاحب ندوی رحمہ اللہ اس کتاب کے متعلق تحریر فرماتے ہیں
۔'' شاہ صاحب کی یہ مایہ ناز تصنیف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان معجزات میں سے ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے امتیوں کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے، اور جن سے اپنے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعجاز نمایاں اور اللہ کی حجت تمام ہوئی''۔

کتاب کے مقدمہ میں بھی  اس طرف اشارہ ہے کہ  شاہ صاحب رحمہ اللہ کو ادراک ہوگیا تھا کہ آگے عقلیت پسندی کا دور شروع ہونے والا ہے، جس میں احکام شریعت کے متعلق اوہام وشکوک کی گرم بازاری ہوگی۔ اسی خطرہ کا سد باب کرنے کے لئے آپ نے یہ بے نظیر کتاب لکھی ہے۔ اس میں آپ نے تعلیمات اسلام کو مطابق فطرت اور احکام دینی کو مبنی برحکمت ثابت کیا ہے۔ ہر حکم الٰہی اور امر شریعت کے اسرار ومصالح نہایت بلیغ اور مدلل انداز میں بیان فرمائے ہیں۔ جس سے ایک طرف تو متشککین اور مترددین کے شکوک وشبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے اور دوسری طرف معترضین کے اسلام پر معاندانہ اعتراضات کا منہ توڑ جواب مل جاتا ہے۔ مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ اپنی سرگذشت میں فرماتے ہیں:
 ۔ '' میں اپنی زندگی میں کسی بشر کی کتاب سے اتنا مستفید نہیں ہوا، جس قدر کہ اس کتاب سے خدا نے مجھے فائدہ پہنچایا۔ میں نے اسلام کو ایک مکمل اور مرتبط الاجزاء نظام حیات کی حیثیت سے اس کتاب ہی سے جانا ہے۔ دین مقدس کی ایسی بہت سی باتیں جن کوپہلے میں صرف تقلیداً مانتا تھا، اس جلیل القدر کتاب کے مطالعہ کے بعد الحمد للہ میں ان پر تحقیقاً اور علی وجہ البصیرت یقین رکھتا ہوں ''۔

 علاوہ ازیں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ  اپنی کتاب 'احکام اسلام: عقل کی روشنی'  جس کا اوپر میں نے لنک دیا  ہے'  میں  شاہ صاحب کی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: 
۔'' اس مبحث میں ( یعنی مصالح عقلیہ کے بیان میں) ہمارے زمانہ سے کسی قدر پہلے زمانہ میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب حجة اللہ البالغہ لکھ چکے ہیں ۔ سنا ہے کہ ترجمہ اس کا بھی ہوچکا ہے۔ مگر عوام کو اس کا مطالعہ مناسب نہیں کہ (اصل کتاب) غامض زیادہ ہے( یعنی صرف ترجمہ سے کتاب سمجھ میں نہیں آسکتی )۔

 اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے  مولانا سعید احمد پالنپوری صاحب  نے اس کتاب کی شرح لکھی ، انہوں نے پہلے  یہ کتاب  دارالعلوم دیوبند میں کئی  سال پڑھائی پھر اس کو سمجھنے سمجھانے میں جو جو نکات انکے سامنے آتے گئے  اسکو جمع کرکے انہوں نے اس کی شرح پر مستقل ایک کتاب ترتیب دی ، اب  یہ عوام کے پڑھنے اور سمجھنے کے قابل ہے اور  بہت مزے دار اور سلیس زبان میں ہے۔ہمارے ایک دوست نے اس کتاب کا مکمل تعارف اور شرح کے  انداز پر  لکھا ہے، انکی تحریر یہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

Read Online  /   Download



مکمل تحریر >>

جمعرات، 22 مارچ، 2012

بچوں کی دینی تعلیم کیلئے تحقیق کی ضرورت

دینی تعلیم اور پھر اس کے لیے مدارس کا قیام ،معاشرے کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں ؟ اس سے ہر باشعور انسان آگاہ ہے ۔حقیقت میں مدرسہ ہی  وہ سب سے بڑی کار گاہ ہے،جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے ،جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتےہیں ،مدرسہ عالم اسلام کا بجلی گھر(پاؤر ہاؤس)ہے،جہاں سے اسلامی آبادی بلکہ انسانی آبادی میں ایمانی بجلی تقسیم ہوتی ہے، یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہےکہ اگر یہ مدرسے نہ رہے تو ہماری نسلوں کا دین بدل جائے گا، ان اداروں نے کام چھوڑ دیا  تو ہماری آنے والی نسلوں کا دین کیا ہوگا وہ کس مذہب سے وابستہ ہونگی اس بارے میں کچھ نہیں  کہا جاسکتا، ہندوپاک میں موجودہ دینی فضا اور دیانت داری کی ساری شکلیں انہی مدارس اور علمأ کی مرہونِ منت ہیں۔بحمداللہ! مدارس کی اس کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہاں دینی مراکز قائم ہیں‘مساجد و مدارس آباد ہیں‘ لوگوں کے چہروں پر سنت رسول کی شادابی ہے‘ خواتین ستروحجاب سے مزین ہیں‘ دینی اسکول اور حفظِ قرآن کے مدارس میں لاکھوں مسلمان بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔اسی کو دیکھتے ہوئے  شروع سے  ہمارے  دین کے دشمنوں کی یہی کوشش  رہی ہے کہ  ہر طرف سے پراپیگنڈہ کرکے مسلمانوں کوانکی دینی درسگاہوں ایسے دور کرددیا جائے کہ جس کے بعد ان پر اپنی تعلیم و تہذیب مسلط کرنا آسان ہوجائے گا۔عالمی اور ملکی سطح پردین ِ اسلام ،قرآن کریم اورمدارس دینیہ کے خلاف جس قدر طوفان بدتمیزی برپا ہوتا چلا گیا  ہے یہ شاید اسی کا ردعمل  ہے  کہ اسی  تیزی سے دین سے وابستگی ،مدارس کی طرف رجوع اور حفظ قرآن کریم کے رجحان میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔ صرف بی بی سی کے مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان مدارس میں مجموعی طور پر رواں سال کے لیے ایک لاکھ پچپن ہزار سے زائد طلباء و طالبات کا اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے ہاں پہلے پہل یہ تاثر تھاکہ جو بچے بالکل غریب وناد ار ہوتے ہیں ،جسمانی طور پر کمزور یا معذور ہوتے ہیں انہیں ہی مدارس میں بھیجا جاتا ہے،لیکن اب ایک عرصے سے یہ ”ٹرینڈ“ بالکل تبدیل ہوتا چلا جا رہا ہے اور اب الحمد للہ بہت باصلاحیت ،ذہین وفطین اورکھاتے پیتے گھرانوں کے بچوں کی بڑی تعداد حفظ قرآن کی سعادت حاصل کر رہی ہے  ۔اب تو فكر آخرت ركھنے والے باشعورلوگوں كى اكثريت اپنے بچوں كو دونوں طرح كى تعليم خود دلا رہی ہے ۔ ایک دو نسلیں  پہلے   قوم سے کوتاہی ہوئی کہ اچھے اور ذہین گھرانوں کے لوگوں نے اپنے بچے اتنی تعداد میں مدارس میں نہیں بھیجے جتنی تعداد میں بھیجنے چاہیے تھے، لوگوں کا رویہ کچھ ایسا رہا کہ  جو بچہ سکول میں پڑھ نہیں پاتاتھا  یا کسی طرح سے جسمانی نقص والا ہوتا ، اسے حافظ قران بنانے کے لیے مدرسہ میں ڈال دیتے ،  یوں ہمارے ملک کی کریم یعنی بہترین ذہن رکھنے والے طلبا انگلش میڈیم سکولوں میں چلے جاتے ہے۔بحرحال اس کے نتیجے میں   مدارس میں پھر ہر طبقہ کے لوگ آئے، ہر نوعیت کے ادارے بن گئے، پھر اس میں ہر قسم کی   تربیت  لے کر  لوگ فارغ بھی ہوگئے،  اس نتیجے میں کہیں نہ کہیں تھوڑی بہت کمی  رہ گئی اور جب یہ لوگ گلی محلوں میں اساتذہ کی شکل میں سامنے آئے تو انہوں نے اپنی نفسیات کے مطابق کارنامے بھی کیے۔ اورکچھ  تلخ  حوصلہ شکن واقعات بھی سامنے آئے۔ یہ واقعات مدارس کے ساتھ خاص نہیں سکولوں  میں بھی ایسے واقعات کی بازگشت عام سنائی دیتی رہتی ہے، چند دن پہلے اسی طرح کی  ایک خبر نظر سے گزری جس میں نویں جماعت کی  طالبہ کے ساتھ سکول کے پرنسپل کی جنسی  ذیادتی کرنے کی کوشش  کا تذکرہ تھا ، اس طرح کے اور کئی واقعات اخباروں میں آتے رہتے ہیں۔ یہ آج میرا موضوع نہیں۔ میں  آج مدرسے سے  متعلق  اپنے  ایک دوست کے سنائے گئے ایک اسی طرح کے واقعہ کو بطور مثال  پیش کرکے اس پر بات کروں گا۔

ایک پاکستانی بھائی چھ ماہ پہلے بچوں کی "اسلامی تربیت" کی خاطر جاپانی بیوی بچوں کو لیکر پاکستان چلے گئے ،چند دن بعد معلوم پڑا واپس جاپان آگئے ہیں ، ہم نے ان سے وجہ پوچھی تو بولے ہم نے  یہیں مرنے کا ارادہ کر لیا،ہم لوگ تو چھ ماہ  پاکستان  رہے  کافی تنگ تھے لیکن بچوں کیلئے ہم میاں بیوی نے یہی سوچا کہ برداشت کرتے ہیں،اور جیسا بھی ہے پاکستان میں رہتے ہیں،آٹھ سالہ بچے کو قریبی مسجد میں قرآن پڑھانے بھیجنا شروع کردیا۔بچہ بنچ پر سپارہ رکھ کر پڑھتا تھا اور قاری صاحب نیچے سے بچے   کی پیشاب والی جگہ  کو ہاتھ میں لے لیتے ۔جاپا نی بچہ تھا، اس نے گھر میں آکر بتا دیا کہ مولوی صاحب ایسا کرتے ہیں اس لئے میں یہاں نہیں پڑھوں گا۔بچے کے باپ کو غصہ آیا قاری صاحب سے دست گریبان ہوئے لیکن قاری صاحب نے قرآن ہاتھ میں اٹھا لیا اور بچے کو جھوٹا کہہ دیا۔جاپانی آٹھ سالہ بچہ اور جھوٹا۔۔ یہ تو ناممکن تھا۔بحر حال لوگوں کو جمع کیا گیا اور جب دوسرے بچوں سے تصدیق کی گئی تو کچھ نے شرماتے شرماتے بتا دیا کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔جتنی دیر میں بچوں سے تصدیق کی جارہی تھی قاری صاحب اتنی دیر میں رفو چکر ہو گئے۔ان میاں بیوی کو ایسا شاک لگا کہ یہ بھی بوریا بسترا گول کرکے جاپان واپس آگئے۔

یہ واقعہ سن کر مجھے بھی بہت افسوس ہوا۔ واقعہ ہے ہی قابل افسوس۔ اس کو تحریر کرتے ہوئے بھی شرم  آئی لیکن جس مقصد کے لیے اس کو لکھا اسکو میں بہت ضروری سمجھتا ہوں   اس لیے تحریر کررہا ہوں۔
یہ سب ہمارے سامنے ہے کہ آج کل جس طرح گلى گلى جعلى يونيورسٹیاں ،سكول، كالج ،نرسريز اور آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ بنے ہوئے ہيں اسی طرح گلی محلوں میں  کچھ ایسی  مساجد بھی ہیں جہاں مسجد کے ساتھ مدرسہ کے نام پر  چندہ اکٹھا کرنے کے لیے دو تین ہزار تنخواہ پر ایک قاری نما  آدمی  کو بٹھا دیا جاتا ہے،اور اس بات کی تحقیق نہ مسجد کی انتظامیہ کرتی ہے اور نہ  اپنے بچوں کو اس مولوی کے پاس بھیجنے والے والدیں کرتے ہیں  کہ آیا یہ بندہ مکمل قاری بھی ہے؟  کسی اچھے مدرسے سے فارغ التحصیل  بھی ہے،؟اسکا کریکٹر کیسا ہے؟کہیں جرائم پیشہ تو نہیں؟کہاں سے تعلق رکھتا ہے؟کدھر سے آیا ہے؟۔ مسجد کمیٹی  والوں کو ایک داڑھی والا آدمی چاہیے ہوتا ہے جو کچھ صورتیں اچھے لہجے میں پڑھ سکے اور اس بندے کو شہر میں ٹھکانہ ۔ دونوں کا کام چل جاتا ہے ۔ یہاں سے پھر بدبختی ان لوگوں کی آجاتی ہے جو اپنے بچوں کو نیک نیتی کے ساتھ قرآن پڑھانے کے لیے اس کے پاس بٹھا دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اپنے پہلے ایک تھریڈ میں لکھا کہ محلے کی مسجد کی کمیٹیوں کے صدر اور ذمہ دار ذیادہ تر گورنمنٹ اداروں کے منشی ،  آفسر ریٹائرڈ ہوتے ہیں ،   وہ عام طور پر     اس قابل  ہی نہیں ہوتے   کہ محلے کی دینی ضروریات  کو سمجھ سکیں اور پھر  اسکے مطابق  انتظا م کرسکیں ، انکی اپنی نمازیں ، قرآن تک ٹھیک نہیں ہوتا،    انکا کام بس یہی ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد جمع شدہ چندے کے پیسے گننا یا   مسجد کے خادم کے پیچھے لگے رہنا کہ تم نے موٹر کیوں نہیں چلائی،  مسجد کی صفائی صحیح کیوں نہیں کی ، اذان وقت پر کیوں نہیں دی،   وہ     مدرسے اور تعلیم و تربیت کے کاموں میں دلچسپی لیتے ہی نہیں   ۔  اکثروبیشتر تمام تر ذمہ داری اپنی مرضی سے منتخب کردہ اسی    نیم مولوی ،حافظ پر ڈال دیتے ہیں۔  پھر جب اس  ایک آدمی کے ہاتھ میں سارا انتظام و انصرام آ جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے اپنی خواہش سے سپیکر کو بھی استعمال کرتا ہے ،  اسی انداز میں اپنے طالب علموں کی تربیت بھی کرتا ہے اور اسکی ساری تقریریں بھی اسکی ذاتی  سائیکی کے گرد گھوم رہی ہوتی ہیں ، یہاں پھر  خرابیوں کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محلے داروں اوراچھے مدارس کے  معلمین کے کمبی نیشن سے ادارے چلائے جائیں اور مدرسے کے کام کو دینی فریضہ سمجھ کر باہمی مشاورت سےسرانجام دیا جائے۔ مساجد میں موجود مدارس کے آئمہ کی تنخواہیں اچھی  رکھی جائیں  ۔ دینی تعلیم کے لیے  اچھے سے اچھے عالم ، قاری کو  رکھا جائے ، اس کےلیے اچھے مدارس سے رجوع کیا جائے وہ  اپنی ذمہ داری پر ایسے بندے کو بھیجیں جس کی زبان پر ہی نہیں دل میں بھی قرآن ہو اور وہ خوف خدا بھی رکھتا اور بچوں کی  دینی تربیت کا طریقہ بھی جانتا ہو۔مساجد کے آئمہ کے لیے عالم یا مفتی ہونا لازم قرار پانا چاہیے ، صرف حافظ کو امام بنا دینا جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے بلکل بھی درست نہیں ۔محلے کی مسجد کے امام اور مدرس کے لیے شادی شدہ ہونا بھی ایک شرط ہونا چاہیے ، کیونکہ اُنکو زیادہ تر امرد بچوں کی تربیت کرنی ہوتی ہے اور شیطان سے کوئی بھی بچا ہوا نہیں ۔امام کے لیے ضروری ہو کہ وہ نہ صرف کسی شیخ سے بیعت ہو بلکہ خود بھی مسجد میں ہفتہ وار اصلاحی بیانات کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔
 دوسری طرف والدین کی بھی یہ ذمہ داری  بنتی ہے کہ وہ  کم ازکم  بچہ   کو مدرسے میں داخل كروانے سے پہلے اس بات کی  تحقیق  كر لیں  کہ آیا   ادارہ رجسٹرڈ بھی  ہے يا مدرسے کے  كسى بورڈ سے الحاق شدہ بھی  ہے یا نہیں۔ اس کے اساتذہ  کا اخلاق کیسا ہے  ؟ وہ کہاں سے پڑھ کر آئے ہیں  ؟ ان کا رکھ رکھاؤ کیسا ہے ۔؟ یہ فتنہ کا دور ہے  ہمیں اس  اندھے اعتماد کی روش کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمارے لوگ اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم کے لیے تو  اپنے دوستوں سے ارد گرد کے لوگوں سے شہر کے سکولوں کے متعلق  مشورے کرتے ہیں کہ بچہ بڑا ہورہا ہے اسکو کس سکول میں داخل کرایا جائے  ؟ پھر پوری تحقیق کے بعد  شہر کے اچھے سے اچھے  سکول کا انتخاب کرتے ہیں ،فیسیں بھی دیتے ہیں، ٹیوشن کے لیے بھی اچھے سے اچھا ٹیوٹر ڈھونڈ کر گھر ٹیوشن لگا کردیتے ہیں  اور  دینی تعلیم کے لیے اتنی لاپرواہی برتے ہیں کہ  اپنی گلی کی مسجد کے مفت پڑھانے والے نیم  مولوی کے پاس بٹھا دیتے ہیں اور پھر بعد میں شکوہ بھی کرتے ہیں ۔ ۔    ضروری ہے کہ دینی تعلیم کے لیےبھی   مدرسہ اور استاد کے انتخاب  میں    مناسب تحقیق کی جائے۔جس طرح اوپر بیان کیے گئے واقعہ میں   ہم نے یہ دیکھا ان جاپان سے آنے والے صاحب نے  اپنے  بچوں کی دینی تربیت کے لیے ملک ، نوکری، آسائش  سب کچھ چھوڑ دیا  اور پاکستان جیسے غیر ترقی یافتہ ملک میں آبسے  ۔ اب جس چیز کے لیے اتنی قربانی دی اس کے حصول میں بعد میں اتنے لاپرواہ ہوگئے کہ بغیر کسی تحقیق کے اندھا اعتبار کرتے ہوئے اپنے بچے کو کسی مولوی نما بھیڑے کے پاس پڑھنے بٹھا دیا ۔ پھر اسی لاپرواہی کے نتیجے میں جو واقعہ ہوا ، اسکے بعد بھی کسی سے کوئی مشورہ نہیں کیا ، بلکہ سارے مدارس کو  بھی اس طرح کا سمجھ کر جذبات میں دوبارہ     واپس چلے گئے۔  ایک اچھی بات  جو اس واقعہ میں نظر آئی وہ یہ کہ  والدین  کو اپنے بچوں کی   اپنے طور  پربھی  تربیت اس طرح  کرنی چاہیے  کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو بھی تو بچے شرما کر بات چھپائیں نہیں بلکہ اس بچے کی طرح والدین کو بتائیں تاکہ بڑے نقصان سے بچا جاسکے۔
 جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہماری اجتماعی کوتاہیوں کی وجہ سے ایسے واقعات شاذوناذر  ہوجاتے ہیں،  لیکن ہمارے میڈیا کا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ ایسا کوئی  واقعہ کہیں پیش آجائے اس کو اچھالا اس طرح جاتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہی مدارس کا روزمرہ کا معمول ہے،  ہمارے روشن خیال مبصرین ، کالم نگار حضرات ان کالی  بھیڑیوں کی مثالیں دیتے ہوئے سارے مدارس کو ہی قصور وار ٹھہرا دیتے ہیں ، جب  ہمارے  ہاں جعلى كلينكوں اور عطائى ڈاكٹروں كا نام لے كر ميڈيكل پروفيشن كو لعن طعن كرنا درست نہيں  سمجھا جاتا  پھر   ان چند  واقعات  كو لے كر سب دينى مدارس و جامعات كى محنت پر پانى پھيرنا  کہاں کا انصاف ہے ۔؟ہمارے ہاں جعلی ڈاکٹروں نے کیا کیا کارنامے کیے ہیں وہ سب جانتے ہیں لیکن پھر بھی آج تک   ان عطائی  ڈاکٹروں کی وجہ سے کسی نے سپیشلسٹ ڈاکٹر کو برا نہیں کہا، کسی فٹ پاتھ بیٹھے جراح کے  غلط ہڈی جوڑنے کی وجہ سے آج تک کسی نے یہ نںجا کہا کہ میڈیکل کالج بند کردیئے جائیں۔ کچھ کمی ہمارے  لوگوں میں اس سلسلے میں بھی   ہے کہ وہ دیندار لوگوں پر اندھا اعتماد رکھتے ہوئے ہر مولوی نما آدمی کو ولی اللہ  سمجھ لیتے  ہیں،  حالانکہ  دین کے نام پر دو نمبریوں کے واقعات  بھی ہمارے اسی معاشرے میں  عام ہیں ، کئی لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں جو  صرف  اپنی کسی ذاتی غرض یا سیاست کے لیے نیک نامی حاصل کرنے کے لیے داڑھی رکھ لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد ان کا شمار بھی دینی لحاظ سے اچھے ناموں میں ہونے لگتا ہے، اس طرح کئی  بد عورتیں  برقعہ پہن کر  اپنا دھندا  کرتی دکھائی دیتی ہیں  ۔ اب انکو دیکھ کر کوئی   سارے دیندار لوگوں اور برقعہ پہننے والی عورتوں کو غلط سمجھنےلگ جائے   ، یہ ایسے ہی جیسے ایک بندہ  کسی  ڈاکٹر   جیسا حلیہ بنا لے  اورلوگوں کا علاج کرتا   پھرے  پھر بعد میں ہم  اسکے گناہ یہ کہہ کر اس  سپیشلسٹ ڈاکٹر  پر ڈال دیں  کہ اسکی شکل تم سے ملتی ہے وہ جو کچھ کرے گا تم بھی اس کے ذمہ دار ہوگے۔ یہ   کہاں انصاف کی  بات ہوگی ۔
مکمل تحریر >>

جمعرات، 8 مارچ، 2012

آسکر ایوارڈ برائے تذلیل مسلماں

پچھلے دو ہفتوں سے ہر طرف ایک  ہی شور سن رہے ہیں کہ ایک  پاکستانی عورت نے آسکر ایوارڈ جیت  کر پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا ہے، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آسکر ایوارڈ جیتنے پر شرمین عبید چنائے کو اس کارنامے کی وجہ سے سو ل ایوارڈ دینے کا کہا ہے، سارا میڈیا رٹے لگا رہا ہے  کہ یہ اعزاز ہمارے ملک و قوم کے لئے  ایک بہت ہی فخر کی بات ہے ،  اخبارات میں رنگین سپلیمنٹس شائع ہورہے ہیں ، میگزین اس کی تصویریں اپنے  فرنٹ پیج پر لگارہے کہ  اس عورت نے اپنی محنت سے پاکستان  کو ایک بہت بڑے اعزاز سے نوازا ہے.۔
ہم  انگشت بدنداں ہے کہ یاالہی اس عورت نے  آخر ایسا کیا   ہمالیائی کارنامہ سرانجام دے دیا ہے  جسکی اتنی تعریف کی جارہی ہے ؟ کیا  دنیا میں دو عورتوں کے چہرے پر تیزاب  گرانے سے  بڑا ظلم عورتوں کے ساتھ کہیں نہیں ہوا  اورکیا  اس ظلم پر کوئی ڈاکومینڑی موجود نہیں۔۔؟ کیا اس موضوع پر  شرمین سے بڑا  کارنامہ کوئی  اور فلمساز آج تک نہیں سرانجام دے سکا۔ ۔  ؟  ہمارے ناقص علم کے مطابق صرف امریکہ محکمہ انصا ف کی رپورٹ  ہے کہ  امریکہ میں ہر پانچ منٹ میں  ایک عورت کے ساتھ ریپ کی واردات ہوتی ہے، یورپ میں ہزاروں لڑکیاں ریپ کے بعد قتل کردی جاتیں ہیں، یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ  فلسطین میں اسرائیلی ، کشمیر میں انڈین ، عراق  اور  افغانستان  نیٹو فوجوں نے  عورتوں کے ساتھ کیا  سلوک کیا اور کررہے ہیں    ؟  امریکی حکومت نے پندرہ لاکھ سے ذیادہ عراقی اور افغانی معصوم شہریوں کے خون میں ہاتھ رنگے ،   افغانستان اور عراق  کی  ہزاروں  جوان لڑکیاں انہی یورپ ، امریکہ کے بازار حسن میں بک گئیں ،   بھائیوں کی آنکھوں کے سامنے ان کی بہنوں کے ساتھ ریپ کیے گئے، بمباری سے   لاکھوں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم اور معذور   ہوگئے اور ہورہے ہیں، خود  اسی پاکستان میں ہزاروں بچے، عورتیں ،بوڑھے ڈرون حملوں میں جل کر راکھ ہوگئے ہیں ،  'انسانوں کا غم رکھنے والے ان منافقوں نے یہود  کے ایک ہولوکاسٹ کے واقعے پر کئی سو ڈاکو منٹریاں  تو بنا لیں  ان  پر کوئی فلم کیوں نہیں بنائی،  ویت نام پر امریکہ  نے  تاریخی مظالم  کیے  تھے اس پر کوئی ڈاکو مینٹری نہیں بنی۔ اس آسکر  ایوارڈ دینے والی تنظیم کی منافقت اور  تعصب سے خود انکے اپنے لوگ آگاہ ہیں   ۔یہی وجہ تھی کہ فلم دی گاڈ فادر  کے ہیرو مارلن برانڈو نے  اپنا آسکر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا وہ جانتا تھا کہ یورپ اور امریکہ کے لوگوں نے  یہاں کے اصلی باشندوں ریڈ اندین پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں    اور  ہالی وڈ کی فلمیں  الٹا انہی مظلوموں کو  ظالم شو کررہی  ہیں   ۔ ادارکار جارج سکاٹ  نے اپنی فلم پر یہ کہہ کر آسکر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا کہ یہ انتہائی بدیانت تنظیم ہے۔دنیا کے کئی اہم موضوعات اور مظالم پر  کئی  حساس دل لوگوں نے  دستاویزی فلمیں بنائیں ہیں   ان کو آسکر ایوارڈ دینا تو دور کی بات ان کو فلموں کی لسٹ میں ہی نہیں رکھا جاتا۔خود شرمین کی فلموں پر نظرڈالیں تو  کئی فلمیں ایسی ہیں جن میں  انسانی کرائسز دو عورتوں کے چہرے پر تیزاب گرائے جانے کے واقعہ سے بھی ذیادہ شدید ہیں ۔  اسکی ایک فلم ‘ عراق دی لاسٹ جنریشن  ہے  جس  میں انہی  آسکر ایوارڈ دینے والوں کے ملک اور انکی   اتحادی فوجوں کے   محض عراق کے ذخائر  پر قبضہ کے لیے کئے گئے حملوں سے عراق میں آنے والے تباہی  اور ساری عوام خصوصا مہاجرین کی  افسوسناک حالت کو دکھایا گیا ہے  , شرمین نے تو اس  مغربی دہشت گردی پر ایک لفظ نہیں بولا بلکہ الٹا دفاع کرتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ فسادا ت کانتیجہ قرار دیا ۔ یہ چیز  دیکھنے والا اپنے طور پر  محسوس کرسکتا ہے کہ مغربی  اتحادی  فوجوں نے اس قدر درندگی کا مظاہر ہ کیا ہے  کہ نہتی عوام کو بھی نہیں بخشا ۔  ایک اور فلم جس کا نام ہائی وے آف ٹئیررز ہے۔ اس میں کینڈا  میں گمشدہ ہونے والی درجنوں عورتوں اور انکے گھرانوں کا تذکرہ ہے۔ آسکر ایوارڈ والوں کو دوپاکستانی مسلم عورتوں کے چہروں پر گرائےگئے   تیزاب  پر بننے والی ڈاکومینڑی اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اسے آسکر ایوارڈ کا حق دار سمجھ لیا،      انہیں  اسی ڈائریکٹر کی عراق میں بننے والی فلم نظر کیوں نہیں آرہی جس میں  انہی کی فوجوں کی بمباری سے بچوں  ، عورتوں،  بوڑھوں  کے صرف چہرے نہیں پورے پورے جسم  جلے  ،  مسخ  اور معذور  ہوئے دکھائی دیتے  ہیں    اور وہ  مہاجر کیمپوں میں سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہےجہاں سیونگ فیس کا نہیں سیونگ لائف کا مسئلہ ہے۔  ؟ اگر ان لوگوں کو دنیا کی عورتوں کا اتنا ہی احساس ہے تو یہ   کینیڈا میں  اغوا ہونے والی درجنوں عورتوں پر بننے والی ڈاکومینڑی کو کیوں اگنور کررہے ہیں ۔ ۔ ۔ ؟  دنیا میں مختلف انتہائی اہم ٹاپک پر ہزاروں فلمیں بن چکیں ہیں  ، آخر وہ فلمیں آسکر ایوارڈ کی حق دار کیوں نہیں ٹھہرتیں ۔ ۔ ؟ شرمین کی  اس سیونگ فیس  فلم سے پہلے 2002میں اس  کی فلم ٹیررز چلڈرن پر اسے  کئی بین الاقوامی ایوارڈ دیے گئے۔۔ 2003 میں اس کی دستاویزی فلم   ری انوینٹنگ  دی طالبان کو  چار مختلف بین الاقوامی ایوارڈز ملے ۔  2010  میں پاکستانی طالبان/ جنریشن  چلڈرن آف دی طالبان پر  اسے  ایمی ایوارڈ  دیا گیا ۔ ان تین فلموں  میں کیا دکھایا گیا ہوگا وہ ان کے نام سے ہی ظاہر  ہورہا ہے ۔ ۔ ۔؟  آخر کیا وجہ ہے کہ ایوار ڈ کے لیے ہمیشہ  مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ فلمز  اور  مسلم معاشرے کے منفی پہلو کو اجاگر کرنے والی ڈاکومینڑی  ہی منتخب ہوتیں ہیں۔ ۔ ؟اسکا جواب یہی ہے  کہ یہ لوگ اپنے ہی لوگوں کے کیے گئے  ان انسانیت کش کارناموں پر  بننے والی فلموں پر ایوارڈ   دے کر دنیا کے سامنے اپنے لوگوں کو ذلیل کیوں کروائیں  ۔ ۔ ؟ ان  فلسطین ، عراق، افغانستان میں  پر بننے والی فلموں  میں تو ان  مسیحاؤں کی اپنی فوجیں یہ  سب  کارنامے کررہی ہیں ۔ ۔۔ ؟  اس  سے تو  خود ان   انسانی حقوق کے عالمی چیمپئنوں کے چہروں سےخوشنما نقاب اتر جائیں گے ۔ ۔ ۔  ان منافقوں کی اپنی  حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ ۔ ۔  اس ایوارڈ کی ذیادہ حقدار تو  وہ فلمیں ہیں جن میں ظالم مسلمانوں کو شو کیا گیا ہے ۔  ۔ ۔ یہ   ایوارڈ تو  انہوں نے  مسلمانوں کے معاشرے کے منفی پہلو اجاگر کرنے والے اپنے پسندید ہ فلمسازوں کو دینا ہے   ، جیسے انہوں نے شرمین کی چند عورتوں کے تیزاب سے جلنے والی فلم پر ایوارڈ دیا، تاکہ دنیا کو پتا چلے کہ  انہیں مسلمان عورتوں کی کتنی  فکر ہے۔ ۔ ۔ ? وہ ظالموں کے خلاف اور  ان مظلوم عورتوں کے ساتھ ہیں۔ ۔ ۔  اس سے ان کے  چہرے پر شرمندگی بھی نہیں ہوگی  اور انہیں دنیا میں انسانوں کا خیر خواہ بھی کہا جائے گا۔ 
آسکر ایوار ڈ والوں کی  طرح کی یہی منافقت مغرب کے ہر شعبہ میں نظر آتی ہے۔   انکا میڈیا  اپنے  مسلمان ملکوں پر حملہ آور ظالم فوجیوں کو  مظلوم اور شہید ہونے والے معصوم مسلمانوں کو دہشت گرد اور ظالم بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ۔ ۔ انکے نيشنل چينل پر نشر ہونے والي  اسلام اور مسلمانوں كے متعلق ۸۵ فيصد خبريں مسلمانوں كے خلاف اور منفي ہوتي ہيں۔فلسطين و عراق ميں ناجائز قبضہ ، وحشيانہ حملوں اور مسلمانوں كے اپني سر زمين كے حق دفاع سے چشم پوشي كرتے ہوئے ، حملہ آور  دشمنوں كے مقابلہ میں مسلمانوں كي طرف سے ہونے والي مزاحمت كے مناظر كو دہشت گردی كے عنوان سے نشر كيا جاتا ہے
 غیر وں سے متعلق تو ہماری مذہبی کتابوں نے بھی پہلے سے  گواہی دے رکھی تھی  کہ یہ یہود ونصاری مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے، ہماری  انسانی حقوق کی ملکی تنظیموں کا کردار بھی ان یہودیوں سے مختلف نہیں ہے، ہماری اس  نام نہاد معمار پاکستان، دخترپاکستان ، بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ  عورت  شرمین  نے  تین  سے زائد فلمیں  طالبان کے حملوں اور انکے بچوں پر  تو بنا دیں ، جن  میں  دکھایا گیا ہے کہ اس نے  وہاں کےمہاجر کیمپوں  کے  دورے کیے ، وہاں کے بچوں سے انٹرویو لیے اور  ایک پلاننگ کے تحت مدارس کو خود کش حملہ آوروں کی ٹریننگ کے مراکز شو کیا  اور  طالبان کے حملوں سے چند تباہ شدہ سکولوں کی ویڈیو دکھائیں( ملکی اخبارات میں شایع شدہ رپورٹس کے مطابق کئی جگہوں پر ٹھیکیداروں نے خود سکول تباہ کروائے تاکہ بعد میں انہیں تعمیرات کیلئے ٹینڈر مل سکیں) ۔  اسکو  انہی علاقوں میں ڈرون اٹیک سے زخمی ہونے والے بچوں ، عورتوں کا انٹرویو کرنے کا خیال کیوں نہیں آیا،  ڈرون حملوں سے تباہ شدہ گھروں کی ویڈیو بنانے سے اسے کس نے روکا۔ ہماری نظر میں ایک  مستند رپورٹ کے مطابق ان  ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والوں کی تعداد 2711 ہے۔ ہلاک شدگان میں سیکڑوں عورتیں ہیں اور 178 معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔ ان  جل کر راکھ ہونے والے ان ہزاروں بچوں، عورتوں کے متعلق   اس عورت نے یا کسی اور نے کوئی فلم کیوں نہیں بنائی ۔ ?? یہاں ان  معماروں ، پاکستان کا درد رکھنے والوں کی زبانیں، قلم ، کیمرے کیوں رک جاتے ہیں ؟
جنگ کے معروف کالم نگار عرفان صدیقی صاحب    مغرب اور انکے پسند یدہ لوگوں  کی اسی مخصوص مکروہ ذہنیت اور کام کے طریقہ کار  کے  متعلق تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں  لکھتے ہیں۔
ایک تاثر تو یہ ہے کہ آسکر ہو یا کوئی اور عالمی اعزاز صرف اسی صورت میں کسی پاکستانی شخصیت، ادارے، تنظیم یا این جی او کا مقدر بنتا ہے جب زیر نظر فلم، تخلیق، کارنامے یا ادب پارے میں پاکستانی معاشرے کی کوئی گھناؤنی، متعفن اور نفرت انگیز تصویر پیش کی گئی ہو۔ یوں پاکستان کی کسی شخصیت ادارے، تنظیم یا این جی او کے سینے پر ایک تمغہ سجا کر بظاہر پاکستان کو شاباش دی جاتی ہے لیکن درحقیقت پاکستان کا تیزاب زدہ مسخ چہرہ ساری دنیا کو دکھا کر ، یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان، درندوں کی کمین گاہ ہے جہاں اس نوع کے بھیانک جرائم معمولات حیات کا درجہ رکھتے ہیں۔ عزتیں بانٹنے والے یہ بڑے بڑے ادارے، کسی تخلیق کو جانچنے کی اپنی کسوٹی رکھتے ہیں۔ ان کے کچھ من پسند موضوعات اور پرکشش نعرے بھی ہیں۔ لازم ہے کہ تخلیق کا نفس مضمون ان موضوعات اور ان نعروں سے ہم آہنگ ہو اور اُن وسیع تر مقاصد کی آبیاری کرتا ہو جو اعزازت کے عالمی تقسیم کاروں کے پیش نظر ہوتے ہیں۔


مکمل تحریر >>

ہفتہ، 3 مارچ، 2012

کیا مسلمانوں کی علمی پسماندگی کے ذمہ دار امام غزالی ہی ہیں؟

چند ہی دن پہلے ایک جگہ کسی کا اعتراض پڑھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے علمی زوال میں امام غزالی کا اہم کردار ہے۔

دو وجوہات نے مجھے اس معاملے کی تہہ میں جانے پر اکسایا۔ ایک تو یہ کہ اس طرح مجھے تاریخ کے متعلق کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ دوم یہ کہ اتنی بڑی بات کو بغیر تحقیق قبول کر لینا کوئی علم دوست رویہ نہیں۔

پہلا مرحلہ تھا دعوے کا تجزیہ کرنا جس کے نتیجے میں اپنی آسانی کے لیے میں نے اسے ان دو حصوں میں تقسیم کیا۔
اول یہ کہ امام غزالی نے ریاضی کو ایک شیطانی کھیل قرار دیا۔
دوم یہ کہ امام غزالی کی وجہ سے مسلمان سائنس سے دور ہو گئے۔
مکمل تحریر پڑھنے کے لیے  اس لنک پر کلک کریں 
مکمل تحریر >>

اتوار، 19 فروری، 2012

مُلا ہی ہر برائی اور فتنہ کا ذمہ دار کیوں ؟

اظہار الحق صاحب ہمارے بلاگستان کے ایک قابل اور عوام کا درد رکھنے والے قلم کار ہیں، انکی باتیں  چونکہ دل سے نکلتیں ہیں اس لیے جو جو پڑھتا ہے اس کے دل پر اثر کرتیں جاتیں ہیں، ، ہر ٹاپک پر بڑی سنجیدگی اور وقار سے بات کرتے ہیں ۔   چند دن پہلے انہوں نے  ایک کالم لکھا " اسے مسجد کے دروازے پر جوتے مارے جائینگے" کالم کیا ہے عوام کا درد رکھنے والے ایک حساس آدمی کی پکار ہے، اس کالم میں انہوں نے   ان (عوامی بیماریوں منافقت، جھوٹ، کرپشن  )  کا تذکرہ کیا جنکی وجہ سے  ہمارا معاشرہ اور ملک  تنزل کا شکار ہے ۔  ہمارے معاشرے میں واعظین اور ناصح چونکہ علما ہیں ا س لیے انہوں نے علما سے بھی شکوہ کیا  اور  انکے اس طبقہ  میں شامل کالی بھیڑوں کا ذکر بھی کیا۔  کالم ہر لحاظ سے مکمل تھا لیکن ایک صاحب جنہیں علماء دشمنی کا فوبیا ہے    انہیں  شاک گزار کہ اظہار صاحب نے  علما کے متعلق اتنی کم بات کیوں کی۔اس پر انہوں نے اپنے طور پر " اظہار الحق سے اظہار یکجہتی "کے نام پر علما و مدارس کے خلاف پورا ایک  آرٹیکل لکھ مارا اور  جی  بھر  کرمدارس اور علمائے کرام پر طعن وتشنیع کے نشتر برسائے  اور  گالیاں دیں ۔  ایسی معاشرتی برائیاں جن کے علما ذمہ دار نہیں انہیں  بھی  علما کے  سر تھونپ کر  اپنے قلب و جگر کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔ 
اظہار صاحب میرے  بزرگ ہیں اور میرے اساتذہ کی جگہ ہیں، میں یہ تو نہیں لکھ سکتا کہ انہوں نے غلط لکھا ہے، نہ ان کے کوٹ کیے گئے ایک   مولوی کی کرپشن کے واقعہ کا انکار کرتا ہوں  ۔  میں تو ایک ادنی  ، نا  تجربہ کار طالب  علم ہوں جسے  اردو بھی صحیح نہیں لکھنی آتی ،  میں بس اس مسئلہ کو ایک الگ  زاویہ سے دیکھتا ہوں  اس کے متعلق سوال و جواب کی شکل میں  کچھ بات کروں گا.

کیا مسجد کا  مولوی حقیقی معنوں میں عالم بھی ہے ؟
میرے خیال میں اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں اور مسئلے کی تحت تک پہنچنا چاہتے ہیں  تو  سب سے پہلے ہمیں  یہ تحقیق کرنا  ہوگی  کہ جن لوگوں  کو ہم مولوی کہہ رہے ہیں کیا وہ حقیقت میں   عالم بھی   ہیں   ۔؟ 
 حدیث میں آتا  ہے  العلماء و رثۃ الانبیاء ۔ علما انبیا  کے وارث ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ جو انبیا کے حقیقی وارث ہیں وہ کرپٹ نہیں ہوسکتےاورجہاں کرپشن ہوئی  وہاں حقیقت میں  علم کو منبر تک پہنچنے ہی نہیں دیا گیا ۔  منبر رسول جب  نااہل لوگوں کے حوالے کردیا  گیا، تو پھر  وہ ان مقاصد کے لیے استعمال ہوا جن کے لیے نہیں ہونا چاہیے تھا ، لازم ہے اس کے ذمہ دار  علما اور دینی مدارس قطعا نہیں.

اگر مسجد کا ملا  ٹھیک نہیں تو اسکا ذمہ دار کون ہے ؟
 مساجد میں محض چندہ کی باتوں، کافر کافر کے  کھیل، فرقہ پرستی کی باتوں، کرپشن،   غیر ضروری مسائل پر تقریروں کے  ذمہ دار  اگر علما  و مدارس بھی نہیں تو پھر کون  ذمہ داراہے؟ 
  اس  کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ  ان مولویوں کا انتخاب  کون کرتا ہے  ؟ کون یہ طے  کرتا ہے کہ اس منبر پر کون بیٹھے گا ؟
 ہم میں سے ہر بندہ جانتا ہے کہ یہ انتخاب  اس علاقے کی مسجد کے وہ ریٹائرڈ سرکاری بابو  کرتے ہیں ، جنکو سرکاری دفتروں سےیہ کہہ کر فارغ کردیا جاتا ہے کہ آپ  اب ایکسپائر ہوگئے اور مزید کام کے نہیں رہے ،وہ  پھر مسجد کی کمیٹیوں کی صدارت پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ہمارے ایک دوست کے  مطابق انکے علاقہ کی ایک  مسجد  میں  امام وخطیب کے لیے   تین مہینے تک  اماموں کے انٹرویو ہوتے رہے ۔ پانچ چھے ریٹائرڈ حضرات بیٹھ کر ایک امام کو بلاتے  دوسرے  کو بلاتے،تین مہینہ بعد  آخر میں  امامت و خطابت کے لیے ایک بائیس  سال کے لڑکے کا انتخاب کیا گیا   اور  وجہ انتخاب یہ بتائی  گئی کہ اس کی آواز بہت اچھی ہے ۔ اب  ہمیں  اس نوعمر سے کیا توقع رکھنی چاہیے کہ جب وہ  ممبر  پر بیٹھے گا تو کیا  گفتگو کرے گا ؟
 ہمارے لوگوں کا   معیار انتخاب  ہی یہی ہے کہ انہیں  صرف   اچھی آواز سننی ہے، انہیں وہ  مولوی چاہیے جو  نعتیں اچھی پڑھ سکتا ہوں،   تھوڑے سر لگا سکتا ہو ۔ ۔ ۔  جب یہ  اچھے سر لگانے والے گویے    مولوی بن کر  منبرپر بیٹھیں گے تو  پھر منبر  ومحراب کا تقدس اسی طرح ہی پامال ہوگا جس طرح ہمارے  گلی  محلے کی مسجد میں ہوتا نظر آتا ہے۔
طریقہ کار یہ ہونا چاہیے  کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ جو لوگ انتخاب کررہے ہیں    ا ن کے اندر انتخاب کرنے کی  اہلیت  بھی ہے یا نہیں۔ ؟  جب ایک پرائمری پاس آدمی یونیورسٹیوں کے پروفیسر منتخب کرنا شروع کردے گا تو اس یونیورسٹی کی  تعلیم کا کیا  حال ہوگا ؟  جب  ایک کمپوڈر ڈاکٹروں کا انتخاب کرنا شروع کردے گا  کہ کس آپریشن کے لیے کونسا ڈاکٹر مناسب ہے  اس ہسپتال کے مریض کا حال کیا ہوگا ؟  جب  کچہریوں کے اندر بیٹھے ہوئے منشی سپریم کورٹ کے ججوں کا انتخاب کرنا شروع کردیں گے تو   مقدمات کا حال کیا ہوگا ؟
جہاں پر انتخاب ٹھیک ہوا ، منبر اہل افراد کو سپرد کیا گیا ان کی برکت سے  بہتری بھی آئی  ہے  ،  وہاں  کے نمازی سلجھے ہوے اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، معاشرے میں ہمیں جو تھوڑی بہت دین کی جھلک نظر آتی ہے یہ انہی کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔ اس کےلیے ہمیں اپنی  قوم  میں شعور  پیدا کرنا ہوگا کہ وہ اس فیلڈ کے ماہر حضرات کی نگرانی میں  اپنے منبر و محراب کیلئے   واعظ امام  کا انتخاب کریں۔

حقیقی عالم کی موجودگی اور وعظ و نصیحت کے باوجود  معاشرے میں برائی کیوں ہے  ؟
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاشرے میں ہمیں جو برائیاں نظر آرہی  ہیں  ان کے ذمہ دار علما اور واعظین ہیں  ۔ دلیل میں مسلمانو ں کے پہلے دور کی مثالیں دیتے ہیں   کہ اس دور میں مساجد  سے حکومتیں چلائی جاتیں تھیں، عوام کے فیصلے مساجد میں ہوتے تھے  ، اظہار صاحب نے  بھی اپنی تحریر کے  آخر میں کچھ تجاویز دیں ۔
میں اس متعلق یہ کہو ں گا کہ  علما کا  منصب صرف تلقین کا ہے وہ صرف  نصیحت  کرسکتے ہیں ، نصیحت پر  عمل درآمد کرانے  کے ادارے دوسرے ہیں۔    اسلامی نظام نہ ہونے کی وجہ سے آج ایک اچھے سے اچھے عالم  کی اتھارٹی  بھی صرف اتنی ہے کہ وہ صرف اپنی مسجد میں آنے والے چند بندوں کے سامنے  وعظ کرسکتا ہے ۔  بعض مساجد میں تو  اسے کھل کر بات کرنے پر مساجد سے ہی نکال دیا جاتا ہے۔گستاخی معاف جب اسکی اتھارٹی کا یہ حال ہے تو   پھر ہم  کیسے توقع رکھتے  ہیں کہ  وہ  ٹیکس چوری کرنے والوں کو ذلیل کرے گا،  تجاوزات  قائم کرنے والوں کو جوتے مارے گا۔
 رہی یہ بات  کہ اسے عوام سے مخاطب ہونے کا سب سے ذیادہ موقع ملتا ہے  پھر اس کی وعظ ونصیحت کے باوجود معاشرے میں برائی کیوں ہے ؟  اس سوال کے جواب میں میں بھی ایک سوال پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں  کہ  اقبال  ہمارا قومی شاعر  ہیں  ، انکی شاعری ہمارے سکولوں کالجوں میں ایک لازمی مضمون  اردو میں  باقاعدہ پڑھائی جاتی ہے، اقبال نے خودی کی تعلیم سب سے ذیادہ دی ، آپ مجھے بتائیں  ہمارے ملک میں خودی کتنے لوگوں میں ہے۔؟  اگر پیغام کے اتنے  ویلڈ طریقے سے پہنچنے کے باوجود  خودی لوگوں میں موجود نہیں ہے تو  اس میں اقبال کا کیا قصور ہے ؟   قائد اعظم کے اقوال ہمارے سامنے ہیں، آئین  کی دفعات ہمارے سامنے ہیں ،  ہمارے سیاست دانوں اور قوم نے ان پر کتنا عمل کیا ؟ 
   نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سوسال تبلیغ کی صرف اسی لوگ ایمان لے کر آئے ، کیوں  ؟ کیا انہوں نے وعظ و نصیحت میں کوئی کمی کی ؟کیا وہ فرقہ واریت کی تعلیم دیتے تھے ؟   نبی سے ذیادہ اچھے طریقہ سے وعظ کون کرسکتا ہے ؟کیا  وہ باقی لوگوں کی گمراہی کے ذمہ دار ہیں؟
میں اپنی بات پھر دہراؤں گا کہ  جو صحیح معنوں  میں عالم اور مولوی   ہیں انہوں نے بات پہنچانے میں  کوئی کوتاہی نہیں کی،  جو وراثت نبوت  ان تک نسل درنسل چلتی ہوئی پہنچی تھی اس وراثت کا پورا خیال رکھتے ہوئے کمال ایمانداری کے ساتھ اسے مزید آسان کرکے  عوام تک پہنچایا ہے۔  پچھلے سو سالوں میں  قرآن وحدیث کے مسائل  پر جو تحقیق ہوئی ہے اسکی مثال پچھلی تین صدیوں میں نہیں ملتی ۔

فکر پاکستان صاحب  کی تحریر پر تبصرہ کرنے کا دل تو نہیں کررہا کیوں کہ وہ محض ضد اور تعصب میں علما کے خلاف لکھتے  ہیں ۔ ملاحظہ کریں
یہ (مولوی)بیچارے کبھی یہ تک نہیں بتانے کے صفائی نصف ایمان ہے، کیوں کے وہ خود جانتے ہیں کے وہ خود گندگی کے ڈھیر پر چوری کی جگہ پر قبضے کی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ خود مسجد کے بیت الخلا میں ناک پر ہاتھہ رکھے بغیر نہیں جاسکتے تو وہ کس منہ سے لوگوں کے بتائیں گے کے صفائی نصف ایمان ہےِ؟۔۔۔ ۔ ۔ تمام لوگ اپنے اپنے علاقے کی مساجد کا جائزہ لیں انہیں خود اندازہ ہوجائے گا کے پاکستان میں ستر فیصد مساجد چوری اور قبضے کی زمین پر بنی ہوئی ہیں، اب چوری کی مسجد میں نماز ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اسکا فیصلہ قاری خود کرلیں۔۔۔۔۔۔ 
حد ہوگئی  مبالغہ آرائی اور نفرت  کی ۔ انکی  بددیانتی اور جھوٹ کا یہ عالم ہے اور اظہار یکجہتی کس کے ساتھ کرنے  نکلے ہیں ۔ پنجابی میں کہتے ہیں ذات دی کرکلی تے شہتیراں نال جپھے۔جناب آپ کا اظہار الحق صاحب کے ساتھ کسی قسم کا  کوئی جوڑ نہیں  ہے ۔ آپ کا  مسئلہ ہی کچھ اور ہے۔  انکے دل میں درد ہے اور   آپ کے دل میں علما اور مدارس کے خلاف سخت نفرت اور غصہ ہے اس لیے جب بھی  آپ کو موقع ملتا ہے آپ  علما اور مدارس کے بارے میں اپنے اندر  جمع کیا  گند اور زہر باہر نکال پھینکتے ہیں ۔ اظہار صاحب  نے تو لکھا ہے 
" اچھے بُرے عناصر ہر شعبے میں ہیں۔ مدارس چلانے والے بھی اسی معاشرے سے ہیں۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور خراب بھی‘ جو بات یہاں سمجھ میں آتی ہے یہ ہے کہ ناظم مدرسہ‘ سابق کونسلر اور پولیس.... کوئی بھی جھوٹ اور فریب دہی کو برا نہیں سمجھ رہا۔ "
انہوں نے اس واقعہ میں تینوں کو قصور وار ٹھہرایا  اور آپ  صرف  علما کے پیچھے ڈنڈا لے کر دوڑ پڑے  اور  ایسی برائیوں کا ذمہ دار بھی علما کو ٹھہرا دیا جنکے وہ ذمہ دار نہیں  ۔ جناب مجھے بتائیں۔کیا مسجد کے باتھ روموں میں گند مولوی مچاتا ہے؟ مساجد سے جوتیاں اور  باتھ روموں سے ٹوٹیاں علما چوری کرتے ہیں ؟ کس بندے سے اسکی زمین زبردستی چھین کر یا چوری کرکے ستر فیصد مساجد بنائی گئی ہیں ؟

ہم مانتے ہیں کہ  عوام اور انتظامیہ کی اجتماعی غفلت سے پیدا ہونے والی اس فرقہ پرستی کی نحوست نے  کچھ شہروں میں  یہ پھول بھی کھلائے ہیں  کہ کچھ جگہ مساجد پر قبضہ بھی کیا گیا  لیکن جس کو آپ غیر قانونی  اور چوری کی زمین کہہ رہے ہیں وہ  جگہ   شملات دہ تھی  ۔  وہ بھی  اکا دکا کیس ہیں  ستر فیصد مساجد نہیں ۔۔ 
جہاں  مساجد پر قبضے ہوئے ہیں وہ بھی عوام کی سپورٹ سے ہوتے ہیں۔ جہاں تک بات شملات دہ رقبہ پر مسجد کی تعمیر کی ہے  اس کے لیے عرض ہے کہ   ایک مسلم ملک میں عوام  کی جہاں  مسلمانوں کی جسمانی  ضرورت کے لیے  سکول کالج ،سرائے، روڈ ، ہسپتال ، پارک بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے وہیں انکی روحانی اور دینی ضرورت کے لیے  مسجد  و مدرسہ بنا نا بھی حکومت کے ہی ذمہ ہوتا ہے،  عوام کو دینی معاملات میں سہولت دینے کے متعلق آئین  پاکستان میں بھی لکھا ہے ۔ اب جہاں حکومت نے  عوام کی دینی ضرورت پوری کرنے میں غفلت کی  وہاں چند دین دار مسلمانوں نے عوام کی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے  اپنے طور پر شملات دے جگہوں پرمساجد بنادیں ۔  آپ کو ان  جگہوں پر بننے والی مساجد و مدارس پر اعتراض ہے سکولوں ، کالجوں  اور سراؤں پر اعتراض کیوں نہیں ؟
 ہم کیا سمجھیں آپ کو اصل میں تکلیف  کس سے ہے ؟

آگے  فرماتے ہیں
پہلی بات تو یہ ہے کے ان بیچاروں کے خود کچھ نہیں پتہ ہوتا، جو کچھ انہیں درس نظامی میں پڑھایا جاتا ہے اس کے باہر انہیں ایک لفظ کی بھی معلومات نہیں ہوتیں۔ ۔ کبھی کسی بڑے سے بڑے مولوی مفتی عالم کے منہ سے نہیں سنا کے قرآن میں سینکڑوں آیات مبارکہ کا تعلق تسخیر کائینات سے ہے، غور و فکر کرنے سے ہے، اللہ کی اس کائینات کے اسرار و رموز جاننے سے ہے، زمین کے اوپر زمین کے اندر سمندر کی تہہ میں چھپی اللہ کی نشانیوں سے ہے ان سب میں چھپے قدرت کے خزانوں سے ہے،۔۔یہ اسلئیے نہیں بتاتے کے انکی خود کوئی اوقات نہیں کے یہ سب کر سکیں اسکے لئیے پڑھنا پڑتا ہے یہ سب سینکڑوں سال پرانے درس نظامی پڑھنے سے نہیں ملنے والا۔

فَکر پاکستان کچھ تو خدا کا خوف کیجئے! کچھ تو عقل و شعور کے ناخن لیجئے! درس نظامی میں قرآن و حدیث پڑھایا جاتا ہے یا
 فزکس، کیمسٹری کی کتابیں پڑھائی جاتیں ہیں ؟ آپ کے کہنے کا مطلب یہی ہے کہ جو قرآن و حدیث پڑھائے جاتے ہیں وہ محض ٹائم کا ضیاع ہے اور ان میں کام کی کوئی چیز نہیں ۔!! جناب  سے میں پہلے  بھی  ایک دفعہ درس نظامی میں شامل کتابوں پر کافی لمبی بات کرچکا ہوں کہ درس نظامی میں کیا اور کیوں پڑھایا جاتا ہے  ۔ ابھی دینی مدارس کے نظام تعلیم  کے معیار  کی دلیل  کے  متعلق صرف ایک  بات  کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ ہم دیکھتے ہیں  کہ آج ہمارے پاکستان میں   ایک  گلی محلے کے پرائمری سکول سے لے کر شہر کی بڑی یونیورسٹی تک کو چلانے کے  لیے فنڈ ، اساتذہ کی تنخواہیں ، کرسیاں، میزیں   تک حکومت دیتی ہے لیکن پھر بھی انکی کیا حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے ،  دوسری طرف  مدارس کے متعلق حکومتی رویہ کیا ہے وہ  بھی ہم جانتے ہیں ، انکی مدد کے بجائے ان کے خلاف  بیانات روز اخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں ۔  لیکن پھر بھی   اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والے ان    مدارس  کے تعلیمی نظام کا معیار دیکھیں  کہ   دوسرے ممالک سے طلبا یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں ۔ حکومت کی  سخت شرائط اور پابندیوں کے باوجود اس وقت صرف  کراچی کے چار مدارس کے اندر چالیس کے قریب ممالک کے  طلبا  دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اگر مدارس کا تعلیمی نظام  (درس نظامی)اتنا ہی خراب اور بے فاعدہ اور فرسودہ ہوتا تو    دوسرے  اسلامی ممالک  کو چھوڑ کر  غیر ملکی طلبا پاکستان کے مدارس میں   آکر  فرش پر بیٹھ کر  اور  دال روٹی کھا کر  گزارہ کرکے اسکی   تعلیم حاصل  نہ  کرتے  ۔  دوسری طرف ہماری یونیورسٹیوں کی کیا حالت ہے یہاں  باہر سے کسی نہ آکر کیا پڑھنا ، ہمارے اپنے طلبا یہاں پڑھنا نہیں چاہتے اور  باہر کی یونیورسٹیوں کی طرف سفر کرتے ہیں۔ آخری بات  اظہار صاحب نے  بھی اپنے کالم میں یہ بات کی آج یونیورسٹیوں ، کالجوں میں بھی جو باریش نوجوان اور  باپردہ لڑکیاں نظر آتیں ہیں وہ درس نظامی پڑھنے والے انہی  علما کی اسی وعظ ونصیحت کا اثر  ہیں ۔   

قدرت اللہ شہاب کی زبان میں 
  بقول  قدرت اللہ شہاب یہ مولوی  ہی ہے جس نے  گاؤں کی ٹوٹی مسجد میں بیٹھ کر چند ٹکڑوں کے حوض عوام کا رشتہ اسلام سے جوڑا ہوا ہے۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم ہے، نہ کوئی فنڈ ہے اور  نہ کوئی تحریک ۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔۔ دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد،ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد ہیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا رہتا ہے اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھاہے۔ کوئی شخص وفات پا جاتا ہے ، تو یہ  اسکا جنازہ پڑھا دیتا ہے ، نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دے دیتا ہے ، کوئی شادی طے ہوتی ہے تو نکاح پڑھوا دیتا ہے۔اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی اسے جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درودی  کہتاہے،  یہ ملّا ہی کا فیض ہے  کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار ہیں  ،برصغیر کے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔
اعتراض کرنے والے یہ کیوں نہیں سوچنے کہ   لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں محلے کی تنگ  مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟
کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟

:علما اور  دینی مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ کی اصل  وجہ
دینی مدارس کا سلسلہ صدیوں سے قائم ہے اور گزشتہ صدی میں ہندوستان میں انہی دینی مدارس کے دم سے علوم نبوت زندہ و تابندہ ہیں‘ انہی کی وجہ سے استعمار کے جبر و استبداد کا خاتمہ ہوا‘ یہی وہ قلعے تھے جن سے دین اسلام کا دفاع ہوا‘ یہی وہ نظریاتی چھاؤنیاں تھیں‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ کی حفاظت کی‘ دینی مدارس ہی آب حیات کے وہ پاکیزہ چشمے تھے‘ جنہوں نے مسلمانوں میں دینی زندگی باقی رکھی۔اسلام دشمن اور عالمی دہشت گرد امریکا کے خلاف دنیا بھر میں جہاں کہیں امت مسلمہ نے مزاحمت کی‘ اس کی قیادت و سیادت دینی مدارس سے وابستہ علمأ کرام کے حصہ میں آئی‘ اسی لیے  گزشتہ کئی دہائیوں سے دینی مدارس کا خالص علمی‘ تحقیقی ماحول اور آزاد نظامِ تعلیم اربابِ اقتدار کی نگاہوں میں بُری طرح کھٹک رہا ہے ۔ جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے قائم ہونے والا مدرسہ کفر کی نگاہ میں کھٹکتا تھا‘ اسی طرح آج بھی پاکستان اور دنیا بھر کے دینی مدارس اسلام دشمنوں کی نگاہوں میں خار بنے ہوئے ہیں‘ چنانچہ بے سروسامانی کے عالم میں دین حق کی شمع کو روشن کرنے والے مدارس کو دین دشمن اپنے لئے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں‘ اس لئے دین دشمن قوتیں اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ان مدارس کو ختم کرنے‘ انہیں کمزور کرنے‘ ۔مسلمانوں کا ان سے تعلق توڑنے اور ان کی حریت و آزادی کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں‘ ۔
 ان  لوگوں کا خیال ہے کہ جب تک یہ مدارس اور ان کا آزاد تعلیمی نظام حکومتی تحویل میں نہیں آجاتا‘ اس وقت تک اس سے فارغ ہونے والے علمأ کو نکیل نہیں ڈالی جاسکتی‘ اور نہ ہی ان سے اپنی منشا کے مطابق دین و مذہب میں تحریف اور کتروبیونت کرائی جاسکتی ہے۔ اس لیے امریکا‘ مغرب اور یہودی لابی نے  دینی مدارس  کے خلاف مذموم پراپیگنڈا مہم شروع  کی ہوئی ہے  اور انہیں بدنام کرنے اور دنیا کو ان سے متنفر کرنے کے لیے باقاعدہ مہم اور منصوبے کے تحت مختلف ہتھکنڈے اور حربے استعمال کیے جاتے  رہے ہیں ۔۔  ہر حکومت کو دینی مدارس کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ امریکی ہدایات پر ہر حکومت نے مدارس میں مداخلت کا کی ‘ ہر موقع پر اربابِ اقتدار نے مدارس کے خلاف زہر اگلا‘ رجسٹریشن کے نام پر مدارس کو اپنے جال میں پھنسانا چاہا‘ غیر ملکی طلبہ کے خلاف ملک بدری کا ظالمانہ فیصلہ کیا‘ مدارس کی اسناد کو بے وقعت کرنے کی کوششیں بھی  اسی ایجنڈے کا تسلسل تھیں‘۔
 اس مکروع پراپیگنڈے میں  صرف حکومتی ارکان ملوث نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا میں خصوصی طور پر منافقین کی ایک جماعت کو امریکن سفارتخانہ سے سور کے بدلے  ہائر کیا گیا ہے(میرے مخاطب اظہار الحق جیسے مصلح قوم صحافی نہیں) یہ بیروپیے کبھی کہتے ہیں   موجودہ دینی مدارس سے صرف علمأ پیدا ہورہے ہیں‘ جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ان سے جس طرح علمأ پیدا ہوتے ہیں‘ ویسے ہی ڈاکٹر‘ انجینئر اور وکلاء بھی پیدا ہوں اور ہماری خواہش و کوشش ہے کہ دینی مدارس سے نکلنے والے علمأ ہر شعبہٴ زندگی میں خدمات انجام دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں ‘ جب ان عقل بندوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے  کہ: اگر میڈیکل کالج اور یونیورسٹیوں سے انجینئر اور وکلاء پیدا کرنے کی فرمائش نہیں کی جاتی تو دینی مدارس سے یہ توقع کیوں کی جاتی ہے؟ پھر کہتے ہیں : دینی مدارس میں انگلش‘ سائنس اور دوسرے مضامین کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟  حالانکہ یہ خود بھی جانتے ہیں  کہ دینی مدارس میں پہلے سے ہی میٹرک کا نصاب زیر تعلیم ہے اور کسی دینی مدرسہ کا نظامِ تعلیم کسی بھی عصری اور سرکاری اسکول کے معیارِ تعلیم سے کم نہیں‘ بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔  اس کے علاوہ  پراپیگنڈہ بازی کی قسطیں چلاتے نظر آتے ہیں۔ کبھی  انہیں ملکی ترقی کی راہ میں حارج قراردیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گرد ، کبھی انہیں فسادی کہا جاتا ہے  تو کبھی  تشدد پسند ،  کبھی  کسی داڑھی والے کے  برے عمل کو اچھا ل کر اسے علما کا نمائندہ بناتے ہوئے  سارے علما پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے،  تو کبھی جعلی مولویوں، قاریوں اور پیرو ں کے مکروع اعمال اور حرکتوں   کی میڈیا کے ذریعہ تشہیر کرکے  علما او ر صوفیا سے نفرت عوام کے دلو ں میں بٹھائی جاتی ہے۔ غرض اس وقت طعن وتشنیع اور توہین وتضحیک کی تمام توپوں کا رخ ملا، مولوی، دینی مدارس اور طالبان ( طلبہ) کی طرف ہے ، صرف یہی نہیں ! بلکہ اب تو حکومتی امریکی ایجنٹ اور یہ منافق بیروپیے  پوری قوم کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کررہے ہیں  کہ اگر ملکی سلامتی اور امن وامان درکار ہے تو ان ” مولویوں“ سے جان چھڑانی ہو گی او ران کے خلاف منظم جدوجہد کرنی ہو گی ، چناں چہ اس ناپاک منصوبہ کو پروان چڑھانے کے لیے علمأ کی گرفتاریاں اور مدارس پر چھاپے مارے جاتے ہیں ، کسی مسجد، مدرسہ اور علمی مرکز پر بمباری کرکے ان معصوموں کو خاک وخون میں تڑپایا جاتا ہے اور اس کے بعد بیان جاری کر دیا جاتا ہے کہ : ” اس جگہ مظلوم انسانوں کو ذبح کیا جاتا تھا، یایہاں جہادی تربیت کا مرکز اور اسلحہ کا ذخیرہ تھا وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح کہیں دھماکا کرکے یہ کہانی گھڑ لی جاتی ہے کہ:  یہ طالبان کا اڈہ تھا اور یہاں بارود کا ذخیرہ تھا، جو قبل از وقت پھٹ گیا۔  اور ابھی چند دن پہلے رحمان ملک کا اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے تاریخی جھوٹ بولنا کہ بینظر کے قاتلین مدرسہ حقانیہ میں رہے تھے اسی گیم کا حصہ ہے۔



مکمل تحریر >>